Maulana Abdul Aleem Islahi
•مولانا عبدالعلیم اصلاحیؒ: تحریکِ اسلامی کا نظریۂ ساز مینارۂ نور•
┄┅════❁﷽❁════┅┄
══════•❁ا۩۩ا❁•══════
•مولانا عبدالعلیم اصلاحیؒ:
تحریکِ اسلامی کا نظریۂ ساز مینارۂ نور•
══════•○ ا۩۩ا ○•══════
🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
09422724040
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
عالم اسلام ہند کے معتبر و معتمد محقق، معروف و مقبول عالم دین، علمی و تحقیقی دنیا میں مرجع کی حیثیت رکھنے والے قد آور مذہبی رہنما اور علمی و فکری نظریہ ساز جناب مولانا عبدالعلیم اصلاحیؒ صاحب کا علالت کے ساتھ اپنی عمر طبعی گزار کر اپنے ربّ حقیقی سے ملاقات کا رخت سفر باندھنا علمی و تحقیقی دنیا میں ایک عظیم خلاء پیدا کرگیا ہے۔
إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
حقیقت یہ ہے کہ مولانا محترم کا داغ مفارقت دے جانا اُمَّت مسلمہ ہند کے لیے ایک عظیم نقصان ہے۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا اور دوبارہ یہی بات دوہرا رہا ہوں کہ قلیل عرصے میں کثیر تعداد میں علماء حق کا ہم سے رخصت ہونا انتہائی سنگین حالات کا عندیہ دے رہا ہے۔
مولانا مرحوم خلوص و للہیت، روحانیت و عزیمت اور حق و صداقت کا پیکر جمیل تھے۔ وہ خاموش مزاج متواضع اور صاحب بصیرت شخص تھے۔ صبر و استقامت ان کی کتاب زندگی کے نمایاں ابواب رہے ہیں۔ مولانا محترم ابتداء سے ہی تحریکِ اسلامی ہند کا روشن مینارۂ نور رہے ہیں۔ مولانا سے مراسم و استفادہ کا سلسلہ طلبہ تنظیم کے زمانے ہی سے رہا ہے، طلبہ تنظیم سے انہیں بے انتہاء محبت رہی ہے۔ حضرت مولانا ایک عرصے تک جماعت اسلامی ہند سے وابستہ رہے، بعد میں فکری نظریہ کی بنیاد و اختلافات پر جماعت سے علیحدگی اختیار کی۔ اس کے بعد آپؒ نے مولانا عطاء الرحمٰن وجدی صاحب (امیر وحدتِ اسلامی ہند) کے ہاتھوں پر بیعت کرلی۔ دار بقاء کی طرف رحلت فرمانے تک وہ وحدتِ اسلامی ہند کے رفقاء کی تربیت و تزکیۂ میں ایک اہم رول ادا کرتے رہے۔ آپؒ وحدتِ اسلامی کی سرگرمیوں میں فعال بیعتی کی حیثیت سے شامل رہے۔
آپؒ نے کئی فکر ساز کتابیں اور کتابچے تحریر کئے ہیں۔ آپ کی تحریروں نے تحریکِ اسلامی کے ایک وسیع حصّہ پر اپنے دور رس اثرات مرتب کئے ہیں۔ مولانا کی تحریریں و تصانیف مندرجہ ذیل ہیں۔
(۱) مساجد اللّٰہ (۲) دارالاسلام اور دارالحرب
(۳) جاہلیت کے خلاف (۴) زکوۃ کی اہمیت
(۵) نماز باجماعت "احکام و مسائل"
(۶) نظام خلافت و امارت کی شرعی حیثیت
(۷) سیکولر جمہوری نظام، انتخابات اور اسلام (۸) راه سعادت (۹) بابری مسجد سے دستبرداری شرعاً جائز نہیں (۱۰) اسلامی فکر کیا ہے ؟ (۱۱) ہندوستان میں مسلم سیاست مولانا کی ان تصانیف کے علاؤہ بھی مزید عنواین پر تصانیف و تقاریر موجود ہیں۔
حیدرآباد کے وہ یقیناً بااثر مذہبی و فکری مسلم رہنما بھی تھے۔ ان کی ہمہ جہتی تحریری و تصنیفی قیادت سے ملت اسلامیہ ہند مستفیذ ہوتی رہی۔ اُمَّت کے مذہبی، فکری و علمی مسائل ہوں یا تعلیمی ہر شعبے میں وہ ایک دیدہ ور اور دور اندیش رہنما کا کردار ادا کرتے رہے اور اپنی پر عزیمت اور مخلصانہ جدوجہد سے معاملات کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی سعی و جہد کرتے رہے۔ ربّ کریم ان کی علمی و تحقیقی، دعوتی و اصلاحی، زبانی و قلمی خدمات اور جملہ نیک اعمال کو قبول فرمائے۔
مولانا محترم کا تعلق گرچہ یوپی کے علمی و دینی شہر اعظم گڑھ سے رہا ہے، لیکن طالبات کی تعلیم و تربیت کے ضمن میں اپنی زندگی کا ایک لمبا عرصہ حیدرآباد دکن میں گذارا۔ جہاں انہوں نے طالبات کے معیاری دینی و علمی مدرسے کی بنیاد رکھی۔ جہاں طالبات کو عصری علوم سے بھی آراستہ کیا جاتا رہا ہے۔ ان کے زیرِ سایۂ بڑے قیمتی طلباء و طالبات اور متحرک افراد تیار ہوئے ہیں۔
اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت مولانا کو "ابو شہید" کے عظیم منصب پر بھی فائز کیا۔ جی ہاں! مولانا! مجاہد شہید کے والد ہیں، جس نوجوان نے ملت اسلامیہ کے مرد مجاہد کی حفاظت میں اپنی جان کا نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ یہ مولانا مرحوم کی تربیت و پرورش کے ہی اثرات تھے جنہوں نے اپنے لخت جگر کو دین اسلام کے لئے شہادت جیسے اعلیٰ مقام کو حاصل کرنے کے فن سکھائے۔ شہید بیٹے کی نعش پر مولانا نے تاریخی سنہرے حرفوں سے لکھے جانے والے الفاظ کہے، آپ نے فرمایا اگر اللّٰہ کی راہ میں مزید بیٹوں کو قربان کرنے کا موقع ملا تو اس پیچھے نہیں ہٹوں گا۔
دو مختلف مواقع سے رکھے گئے سہ روزہ اجتماعات میں مہمان خانہ کے طور پر ہماری قیام گاہ کا انتخاب کیا گیا، جس کی وجہ سے مولانا محترم عبدالعلیم اصلاحی، مولانا محترم ابوظفر حسان ندوی اظہری، مولانا محترم عطاء الرحمٰن وجدی و دیگر علماء و مشائخ کا قیام ہمارے مسکن پر رہا۔ واقعی یہ ہمارے لئے بہت ہی عظیم شرف و سعادت کا مقام رہا ہے۔ تاہم اس لذیذ حکایت کو دہرانے کا یہ موقعہ نہیں ہے۔ بہت کم وقت میں بہت کچھ سیکھنے اور فیض پانے کا زریں موقع میّسر ہوا۔
ذہن میں گردش کرنے والے کئی سوالات میں سے چند سوالات پوچھنے کا زریں موقع بھی فراہم ہوا۔ مولانا سے ایک سوال کیا کہ تحریکِ اسلامی کی علمی و فکری تنزلی کے اسباب کیا ہیں؟ اور اس تنزلی کا تدارک کیسے ہو؟ الحمد اللّٰہ! آپؒ نے بہت ہی اطمینان بخش جواب سے نوازا۔
مولانا سے مزید سوال کیا گیا کہ، ایسا محسوس ہورہا ہے تحریکِ اسلامی کی انقلابی فکر کہیں نہ کہیں منحرف ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے؟ اصل مقصد و نصب العین کو چھوڑ کر کہیں ہم دوسری جانب تو نہیں بڑھ رہے ہیں۔ مولانا کا جواب تو کافی طویل تھا، مگر کچھ خاص باتیں آپ کے گوش گزار کرنا چاہوں گا، آپؒ نے کہا تھا کہ "انقلاب کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور نہ ہی کبھی ختم ہوگا، بلکہ ابھی تو تحریک اسلامی کے اصل کام کا آغاز ہو رہا ہے، لہٰذا اپنے اس سفینے کی لازماً حفاظت کرنا یہ آپ لوگوں کی ذمّہ داری ہے۔ اس کو ان نااہل و منافقانہ روش رکھنے والے ہاتھوں برباد نہ ہونے دینا، جنہوں نے اپنا مکروہ چہرہ چھپایا ہوا ہے۔ اللّٰہ کا دین غالب ہونے کے لئے ہی آیا ہے اور وہ تو غالب ہی ہوگا۔ مگر ہمیں بطورِ مومن یہ طئے کرنا ہوگا کہ غلبۂ دین کی اس سعی و جہد میں ہمارا کردار کیا ہوگا"۔
بابری مسجد کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ بابری مسجد سے دستبرداری شرعاً جائز نہیں ہے، بابری مسجد اللّٰہ کا گھر ہے، پوری اُمَّت مسلمہ کا مقدس مقام ہے اس کا دفاع اور حفاظت اُمَّت کی اجتماعی ذمے داری ہے۔
مولانا مسئلہ بابری مسجد کے ضمن میں کہتے تھے، "انسانی جسم میں دل کا جو مقام و مرتبہ ہے، دین اسلام میں مساجد کا وہی مقام ہے۔ مسجد اللّٰہ کے شعائر میں سے ہے۔ مسئلہ بابری مسجد اُمَّت مسلمہ ہند کے لئے زندگی اور موت کے مترادف ہے۔ مسجد کا مقام اللّٰہ ربّ العالمین کی ملکیت ہے، اس پر مسلم یا غیر مسلم کا کوئی تصرف و اختیار نہیں"۔
مولانا وحید الدین خان صاحب نے بابری مسجد کے متعلق سہ نکاتی فارمولہ پیش کیا تھا۔ اس پر جو موقف اُمَّت مسلمہ کا تھا وہی دوٹوک موقف مولانا عبدالعلیم اصلاحیؒ صاحب کا تھا۔
ایک بار کسی موقع سے جناب ضیاء الدین صدیقی صاحب، موجودہ امیر محترم وحدتِ اسلامی ہند نے کہا کی مولانا عبدالعلیم اصلاحیؒ اور مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی صاحبان سے ملاقات کی غرض سے حیدرآباد روانہ ہونا ہے۔ ضیاء صاحب جیسے بےلوث قائد کے ہمراہ سفر!! اور اس پر سونے پہ سہاگا اُمَّت کی قدآور علمی و ملی شخصیات سے ملاقات سبحان اللّٰہ! برسوں سے نہاں خانۂ دل میں پوشیدہ و خوابیدہ حسرت دفعۃً بیدار ہو اٹھی اور میں نے سفر کی طوالت، موسم کی خنکی، طبیعت کی تساہلی کے باوجود شرکت کے لئے آمادگی ظاہر کردی۔ یقیناً وہ میرے لئے ایک دلنشیں و یادگار سفر تھا۔
بہرحال حیدرآباد پہنچنے کے بعد میزبانی مرحوم مولانا نصیرالدینؒ صاحب کے اہل خانہ اور مولانا عبد العلیم اصلاحیؒ صاحب حصّے میں ہی آئی۔ مسلسل ڈرائیونگ کے نتیجے میں تھکان اپنا احساس دلا رہی تھی، لیکن مولانا محترم کی ملاقات نے سفر کی تھکان کو کوسوں دور کردیا۔ اپنا قیمتی وقت ہمارے ساتھ گذارا۔ زاد راہ کے طور پر آپ نے حوصلوں، عزائم و علمی و فکری اور عملی مشوروں سے ہمیں نوازا۔ حقیقتاً مولانا بے مثال فہم و فراست اور قوت عمل کی حامل جامع کمالات شخصیت رہی ہیں۔
بلاشبہ مولانا کی وفات اُمَّت مسلمہ کے لئے عمومی طور پر اور ملت اسلامیہ ہند اور ان کے تلامذہ کے لئے خصوصی طور پر ایک بہت بڑا خسارہ ہے۔ وفات سے جو زبردست خلاء پیدا ہوگیا ہے اس کا پر ہونا بیحد مشکل ہے۔ لیکن قضا و قدر کے فیصلے پر صبر و تحمل کے علاوہ چارہ کار نہیں۔
ہم حضرت مولانا عبدالعلیم اصلاحیؒ صاحب کے گھر والوں کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ آپؒ کی طالبات و تلامذہ کے ذریعے آپؒ کا فیض عام فرمائے اور اسی کی صدقہ طفیل میں آپؒ کی مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اہل خانہ، متعلقین و منتسبین اور طلبہ و طالبات سمیت تمام پسماندگان کو صبر جمیل عطاء فرمائے اور اُمَّت مسلمہ کو آپؒ کا نعم البدل عطاء فرمائے۔ اِنَّ لِلّٰہِ مَا اَخَذَ وَلَہٗ مَا اَعْطیٰ وَکُلُّ شَیْ ٍٔ عِنْدَہٗ بِاَجَلٍ مُّسَمًّی فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ۔ (آمین یا ربّ العالمین)
•┅┄┈•※✤م✿خ✤※┅┄┈•
(18.10.2022)
🍁 مسعود محبوب خان 🍁
Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
○○○○○○○○○
Comments
Post a Comment