Mahengai
•مَہنگائی•
اب تو مَہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں
┄┅════❁﷽❁════┅┄
══════•❁ا۩۩ا❁•══════
•مَہنگائی•
اب تو مَہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں
══════•○ ا۩۩ا ○•══════
🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
✿ مَہنگائی کا تاریخی پس منظر
✿ مَہنگائی بڑھنے کے اسباب
✿ مَہنگائی میں ہندوستان کی صورتحال
✿ مَہنگائی اور عالمی صورتحال
✿ سیاست و معیشت باطل پرستوں کے نرغے میں
✿ سیاست اور مَہنگائی
✿ مَہنگائی اور میڈیا
✿ اسلامی معاشی و اقتصادی نظام
✿ اسلام کی نظر میں مَہنگائی کے اسباب
✿ مَہنگائی کے دیو ہیکل بت کا سدِّ باب
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
✿ مَہنگائی کا تاریخی پس منظر:
عصرِ حاضر میں معیشت و تجارت اور مالیات کے مسائل نے وہی مقام حاصل کرلیا ہے، جو 70/سال قبل سیاست اور ریاست کے مسائل کو حاصل رہا ہے۔ بیسویں صدی کے آغازسے تقریبا نصف صدی تک کا زمانہ سیاست و ریاست کے نظریات و تصورات اور مسائل کی بحث کا زمانہ رہا ہے۔ دنیا بھر میں مختلف قسم کے سیاسی تصورات، ریاست کے بارے میں مختلف نظریات اور انسانی زندگی میں ریاست کے کردار پر گفتگو زیر بحث رہیں۔ شاید اسی وجہ سے اس دور میں ابھرنے والے مسلم مفکرین کی توجہ کا خاصہ بڑا حصّہ سیاست و ریاست کے مسائل کے ارد گرد مرکوز رہا۔
بیسویں صدی کے وسط سے صورت حال تبدیل ہونا شروع ہوئی اور سیاست و ریاست کی جگہ اِقْتِصادیات و مَعِیشَت (economic) نے لینا شروع کر دی۔ بیسویں صدی کے اواخر تک افکار کی دنیا میں اِقْتِصادیات و مَعِیشَت کے مسائل اہل علم کی توجہ کا مرکز رہے۔ اب گذشتہ چند عشروں سے عالمگیریت(Globalization) اور بین الاقوامی تجارت (International trade) کے مسائل کی اہمیت روز افزوں محسوس ہوتی ہے۔ گلوبلائزیشن کے اس دور میں بھی بین الاقوامی تجارت اور عالمی اقتصادی نظام کے مسائل بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ معاشیات کیا ہے کہ معاشیات سماجی سائنس کا ایک حصّہ ہے جو خدمات اور اچھی چیزوں کی پیداوار، تقسیم اور استعمال سے وابستہ ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ قوانین بنانے والے لین دین اور دولت کی منتقلی پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ یہ مضمون اس بات کا مطالعہ کرتا ہے کہ کس طرح قومیں، حکومتیں، کاروبار اور افراد اپنی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرنے کے لئے مختص وسائل پر انتخاب کرتے ہیں۔
دوسری جانب ہمارا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم آج بھی معاشیات کے نصاب میں ایڈم اسمتھ (سکاٹش ماہر معاشیات اور فلسفی) کی 1776ء میں لکھی ہوئی کتاب The Wealth of Nations (دی ویلتھ آف نیشنز) کا حوالہ پیش کرتے ہیں۔ ''دی ویلتھ آف نیشنز'' نے سیاستدانوں، رہنماؤں اور مفکرین کی نسلوں کو متاثر کیا۔ ناقدوں کا کہنا یہ ہے کہ اس نے معیشت دانوں میں کنفوژن پھیلایا۔ اس نے بینک نوٹ، کریڈٹ، ڈیبٹ اور بل آف ایکسچینج وغیرہ کو زیر گردش سرمایہ کہا، اس سے عام عوام کو کوئی سرکار ہی ہوتا، یہ تو بینکوں کو عطاء شدہ حقوق ہوتے ہیں۔ ایڈم اسمتھ نے محنت و مزدوری اور مہارت کومقررہ سرمایہ (Fixed Capital) بتایا جب کہ یہ تجارتی دولت میں شمار ہوتے ہیں۔ مقررہ سرمایہ اور فلوٹنگ کے بارے میں بھی اس نے ایسی ہی غلطیاں کیں۔ یہ وہی کتاب ہے جس سے سائنسی اشتراکیت (Marxism) کی تحریک نے جنم لیا۔ ایڈم سمتھ کو جدید معاشیات کا باپ بھی تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن جو لوگ اس کے کام سے واقف ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ وہ بنیادی طور پر اخلاقی فلسفے کا پروفیسر تھا۔ اس بارے میں مختلف کام موجود ہیں کہ ابن خلدون درحقیقت اخلاقیات کی عینک سے معاشیات کو سمجھنے میں ایڈم سمتھ سے آگے نکلے، جو کہ اسلامی فریم ورک کے اندر اچھی طرح بیٹھتا ہے۔ روایتی اقتصادی نظام اور اسلامی اقتصادی نظام دونوں میں، قیمتوں کے تعین میں طلب اور رسد دونوں کے کردار پر زور دیا جاتا ہے۔ درحقیقت اسلامی علماء صدیوں سے آگاہ ہیں کہ طلب اور رسد کی اہمیت مہنگائی کا سبب بنی۔ الجاحز (869)، امام تیمیہ (متوفی 1328) اور ابن خلدون (وفات 1406) کسی نہ کسی طریقے سے وضاحت کرتے ہیں کہ کس طرح طلب اور رسد کی حرکت قیمت کی سطح میں اضافے اور گرنے کا سبب بنتی ہے۔
یہودی نسل کارل مارکس کی 1867ء میں 4جلدوں میں لکھی گئی کتاب Das Capital (سرمایہ) میں آپ کو اسی کتاب کی جھلک نظر آئے گی۔ آپ سونچ رہے ہوں کہ مَہنگائی کا ان باتوں سے کیا تعلق۔ مگر یہ وہی بنیادی وجوہات ہیں موجودہ نظام معشیات کے، جنہوں نے عالم انسانیت کو سرمایہ داروں کا غلام بنا کر رکھ دیا ہے۔ بظاہر یہ منطقی (logical) طور پربہت خوشنما اور لبھاؤنے نظریات معلوم ہوتے ہیں مگر حقیقی دنیا سے ان کا کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ اس مضمون میں اس باتوں کا ذکر کرنا اس لئے مناسب لگا کہ ہمارے کالج کے دور میں economics subject میں ہمارے استاد ہمیشہ ایڈم اسمتھ کی فلاسفی کا ذکر کرتے رہتے، نصابی کتابوں میں بھی ایڈم اسمتھ کے ہی حوالے دیے جاتے، آج اس بات کا انکشاف ہورہا ہے کہ نئی نسل کو کیوں ایڈم اسمتھ کی تھیوری پڑھائی جارہی تھی۔
مَہنگائی وہ موضوع بحث ہے جس پر ہر امیر و غریب بات کرنا چاہتا ہے۔قتیل شفائی نے بھی کسی زمانے میں عجیب انداز سے مَہنگائی کا ذکر کیا تھا ؎
حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا
اب تو مَہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں
اس مَہنگائی نے ہر سفید پوش کی عزت نفس کو مجروح کیا ہے۔ دنیا بھر میں اس وقت مَہنگائی کی ایک بڑی لہر چل رہی ہے، اشیائے خورد و نوش اور انرجی کی قیمتیں کئی فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔مَہنگائی کی حالیہ لہر نے عوام کی زندگی مشکل سے مشکل تر بنا دی ہے۔ مَہنگائی کی انتہاء یہ ہوگئی ہے کہ بعض ممالک معاشی ایمرجنسی کے خطرات سے بھی خوف زدہ ہیں۔ جب ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ موجودہ معاشی نظام کام کیسے کرتا ہے تو ہمیں مَہنگائی اور اس سرمایہ دارانہ نظام کے درمیان ایک مضبوط و گہرا اور لازمی رشتہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جمہوریت نواز حکومتوں کا مطمع نظر کبھی بھی معاشی و اقتصادی (economic) استحکام نہیں رہا۔ مَہنگائی کی وجہ وسائل کی کمی نہیں، بلکہ سب سے بنیادی وجہ حکومت کی بدانتظامی، بیڈگورننس، کرپشن اور سودی نظام ہے۔ جس کے نتیجے میں آج مَہنگائی کی شرح بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ مگر حکمراں طبقہ ہے کہ ڈوبتے ہوئے سفینے کو دیکھ کر بھی بندر کی پھرتیاں دکھا رہے ہیں۔ عہدِ قدیم میں تجارتی اور سودی قرضے اس بات سے ہر سلیم الفطرت شخص واقف ہے کہ سود کی بنیاد ظلم پر ہے کہ مالدار شخص غریب کی حاجت سے فائدہ اٹھاتا ہے، اور اپنے لئے مقررہ نفع کی ضمانت ہر حال میں مشروط کر لیتا ہے، چاہے معاملہ کی ابتداء میں ہو یا وقت ادائیگی میں مزید مہلت دیتے وقت ہو۔
اگر حکومتوں کے نزدیک واقعی مَعاشَی اِسْتِحْکام کا معاملہ ہوتا تو وہ اسلامی نظامِ معیشت کی جانب رجوع ہوتے۔ کیونکہ قرآن مجید نے Micro Economics کے مسائل کا بھی تذکرہ کیا ہے اور Macro Economics کے مسائل کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ قرآن مجید نے یہ بھی بتایا ہے کہ ایک فرد کا معاشی رویہ کیا ہونا چاہیے، معاشرے اور ریاست کی ذمہ داریاں کیا ہونی چاہئیں۔
ملک میں ایک طرف مَہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، دوسری طرف روپے کی قدر کم ہونے سے فی کس آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ جس کے نتیجے میں اس وقت مَہنگائی اپنے عروج کو چھو رہی ہے اور اشیاء خورد و نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی نظر آرہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس وقت ''اِفْراطِ زَر'' (inflation) اپنی بلند ترین سطح کو چھو رہا ہے یعنی Hyper Inflation اس وقت دیکھنے میں آرہی ہے۔ اِفْراطِ زَر کے مزید مطالعہ کے لئے نومبر 2021ء کو لکھے گئے میرے مضمون ''نظامِ زَر اور عالَم اسلام'' کا مطالعہ کریں۔
معیشت میں موجود اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی شرح کو ''اِفْراطِ زَر'' (inflation) کہتے ہیں۔ اِفْراطِ زَر کرنسی کی قوتِ خرید کم ہونے کو کہا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور آپ کو پہلے کے مقابلے میں انہیں خریدنے پر زیادہ رقم صرف کرنا پڑتی ہے۔ اِفْراطِ زَر میں مسلسل اضافہ کا رجحان مَہنگائی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ جب آمدنی کے مقابلے میں ضروریات زندگی کی قیمتیں بڑھ جائیں تو مَہنگائیdearness فروغ پاجاتی ہے۔ عام زبان میں زیادہ پیسوں میں تھوڑی چیز میسر ہونے کو بھی معاشیات کی اصطلاح میں ''مَہنگائی'' (Cost pull inflation) کہا جاتا ہے۔پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ نے سب سے پہلے معاشی اِفْراطِ زَر کی پیشین گوئی کی تھی۔
اسلامی معاشیات میں مَہنگائی کا نظریہ، مقبول اسلامی ماہر اقتصادیات تقی الدین احمد ابن المقریزی (1364ء - 1442ء) نے بھی پیش کیا، جو عبدالرحمٰن بن خلدون (ابن خلدون) کے شاگرد تھے۔ المقریزی کے نزدیک اِفْراطِ زَر ایک قدرتی واقعہ ہے، جو ماضی سے لے کر اب تک پوری دنیا میں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کرتا آرہا ہے۔ اس نے مَہنگائی کو اس کے عوامل کی بنیاد پر دو گروہوں میں واضح کیا، اول قدرتی عوامل سے ہونے والی اشیاء کی رسد میں کمی ''اِفْراطِ زَر'' اور دوم انسانی غلطی کی وجہ سے مَہنگائی۔
قدرتی اِفْراطِ زَر مختلف قدرتی عوامل کی وجہ سے ہوتا ہے جن سے انسانیت بچ نہیں سکتی۔ قدرتی اِفْراط وہی ہے جو رسول اللّٰہﷺ اور خلفائے راشدینؓ کے زمانے میں ہوئی تھی۔ اس زمانے میں قدرتی اِفْراطِ خشک سالی یا جنگ کی وجہ سے ہوتی رہیں ہیں۔
المقریزی نے اِفْراطِ زَر یا مَہنگائی کی دوسری وجہ انسانی غلطیاں بتائی ہیں۔ دوسری قسم کی اِفْراطِ تین چیزوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ سب سے پہلے بدعنوانیاں (کرپشن) اور ناقص انتظامیہ۔ دوسرا، ضرورت سے زیادہ ٹیکس جو کسانوں پر بوجھ ڈالتے ہیں۔ تیسرا، رقم کی مقدار ضرورت سے زیادہ ہو جاتی ہے، یعنی کرنسی کی بڑھتی ہوئی گردش۔ المقریزی نے تین چیزوں کی نشاندہی کی ہے جو انفرادی طور پر اور مل کر اس اِفْراطِ زَر کا باعث بنتی ہیں۔
نتیجہ اِفْراطِ زَر ایک ایسی حالت ہے جب کسی اقتصادی علاقے میں قیمتوں میں ایک وقفہ کے دوران عمومی اور مسلسل اضافہ ہوتا ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر میں اِفْراطِ زَر کو ایک شے کے مقابلے میں رقم کی اکائی کی قدر میں کمی کی وجہ سے ایک مالیاتی رجحان سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ موجودہ قیمتوں میں اضافے کے ذریعہ یا وجہ کی بنیاد پر، اِفْراطِ زَر کو عام طور پر تین شکلوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، یعنی ڈیمانڈ پل انفلیشن، لاگت کو بڑھانے والی اِفْراطِ زَر، مخلوط اِفْراطِ زَر۔ جب کہ اسلامی نقطۂ نظر میں، وجہ کی بنیاد پر اِفْراطِ زَر کو دو حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے، یعنی قدرتی اِفْراطِ زَر اور انسانی غلطی کی اِفْراطِ۔
ملٹن فریڈمین کی قیادت میں مالیاتی ماہرین کے مطابق، اِفْراطِ زَر صرف ایک مالیاتی رجحان ہی بتایا ہے۔ جب پیسے کی فراہمی میں اضافہ ہوتا ہے، تو لوگوں کے پاس ان کی خواہش سے زیادہ پیسہ ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ اضافی رقم خرچ کرتے ہیں۔ چونکہ سامان اور خدمات مستقل ہیں قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ صارفین مالیاتی توسیع اور اِفْراطِ زَر کے ذمّہ دار ہوں۔
اس وقت بعض ممالک کو اِفْراطِ زَر اور اس کے باعث بڑھتی ہوئی مَہنگائی کے چیلنج سے سابقہ ہے۔ مالیاتی امور کے ماہرین کے مطابق اپنے اخراجات سے متعلق بہتر منصوبہ بندی کرکے اِفْراطِ زَر سے پیدا ہونے والی مَہنگائی کے اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ مشکل صورت حال بنیادی طور پر اجناس کی سپر سائیکل، روس، یوکرین جنگ، عالمی کساد بازاری، پالیسی ریٹ میں اضافے اور سیلاب سے تباہی جیسے خارجی عوامل کا بھی نتیجہ ہے۔ مَہنگائی کے دلدل میں پھنسے ممالک اس کی وجہ، عالمی وباء کووڈ- 19 کے باعث پیدا ہونے والے اس عالمی مسئلے کو یوکرین پر روس کے حملے سے جوڑتے نظر آتے ہیں۔ ان کے نزدیک بگاڑ کی اہم وجہ یہی ہے۔
موجودہ حالات میں حکومتی سطح پر مَہنگائی اور بے روزگاری بڑے چیلنجز ہیں، جن کے خاتمے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات نہ کیے گئے تو معاشرے میں بگاڑ مزید بڑھ جائے گا، جس کو سنبھالنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عالمی وباء کووڈ- 19 کے دوران پوری دنیا میں اخراجات اور قرض لینے میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے ٹیکس میں اضافہ ہوا جس نے زندگی کے روزمرہ اخراجات کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، اس کے برعکس زیادہ تر لوگوں کی اجرت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
اس میں اب کوئی شبہ نہیں رہا کہ اس کووڈ- 19 کے لاک ڈاؤن کے بعد ابھرنے والے عہد نو میں دنیا کا معاشی نظام مختلف شکل اختیار کر گیا ہے اور مصنوعی طریقوں سے پھیلی ہوئی معیشتیں اپنی حقیقی اساس کی طرف سمٹ آ رہی ہیں۔ سودی قرضوں کے اجراء اور غریب مملکتوں کو مالی امداد فراہم کرنے کی روایت ختم ہوئی تو دنیا کی کمزور مملکتوں کو مالی معاونت کے سہارے وینٹی لیٹر پر زندہ رکھنے کا رواج بھی ختم ہوجائے گا۔ عالمی تجارت اپنے علاقائی دائروں میں سمٹ آئے گا۔ دور دراز کے ممالک کی بجائے سب کو اپنے پڑوسی ملکوں سے تجارتی تعلقات استوار کرنے کے مواقع میسر ہوں گے، جس سے ہر ملک کی تَزْوِیری حِکْمَتِ عَمَلی بھی از خود بدل جائے گی۔
مَہنگائی پر سید نصیر شاہ کا شعر دیکھئے ؎
اب کبھی بازار جانے پر بضد ہوتا نہیں
میری غربت نے مرے بچے کو دانا کردیا
واقعی تنخواہ دار طبقہ اس چیز سے شدید پریشان ہے کہ مہینے کا بجٹ کیسے بنائے۔ ویسے بھی ایک عام غریب کی زیست بہ مشکل سے کچھ ہی ہوتی ہیں، لاک ڈاؤن کی مار کے بعد اب تو وہ مظلوم گھر سے ملازمت کی جگہ جانے کے بھی قابل نہ رہا کہ جو کچھ کماتا ہے، وہ کرائے بھاڑے میں خرچ ہو جاتا ہے۔ حقیقتاً آج سب سے زیادہ مَہنگائی کی مار جھیلتا نچلہ طبقہ ہے، جس کی زندگی کا ایک بڑا حصّہ کئی سالوں سے کرایہ بھرتے بھرتے ختم ہوگیا ہے۔ گذشتہ کئی سالوں سے مکانوں اور دکانوں کے بڑھتے ہوئے کرائے بھی مَہنگائی میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں جن کو کسی بھی حکومت نے کنٹرول کرنے کی کبھی نہ تو کوشش کی نہ ہی اس ضمن میں کبھی کوئی قانون سازی عمل میں آئی۔ بلکہ نئے بجٹ میں کرایہ داروں کے کرایے پر بھی ٹیکس ادا کرنے کا ایک بوجھ ڈال کر مزید ان کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔
دولت کی غیر مساوی تقسیم بھی مَہنگائی کو بڑھاوا دیتی ہے کیونکہ دولت مند افراد کم وسائل کے حامل لوگوں کو لوٹنے لگ جاتے ہیں جو مَہنگائی کا باعث بنتے ہیں۔ حکومت جب تک ذاتی مفادات کے برعکس اقتصادی استحکام کو ترجیح نہیں دیتی معاشی عدم استحکام ختم نہیں ہو سکتا۔ لوگوں کے ذرائع آمدن پہلے ہی عالمی وباء کووڈ- 19 کے منفی اثرات کے باعث نصف سے بھی کم ہوچکے ہیں۔
مَہنگائی بڑھنے کے اسباب:
اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ سرمایہ دارانہ نظام کا طرہئ امتیاز ہے، لہٰذا اس نظام میں ہر ملک اِفْراطِ زَر کے پیمانے کا حساب رکھتا ہے کہ وہ کس قدر تیزی سے بڑھ رہا ہے۔کَساد بازاری یا مندی (recession) میں قیمتیں گرتی ہیں، اس لیے منافع کی شرح گر جاتی ہے۔ کیوں کہ کسادبازاری Market Decline میں طلب کم ہونے کی وجہ سے کارخانے اپنی پیداوار میں کمی کر دیتے ہیں اور مزدوروں کی چھانٹی ہوجاتی ہے اور آخر کار اخراجات پورے نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے کارخانے بند کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
مصنوعی کاغذی کرنسی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والا اِفْراطِ زَر، مَہنگائی پیدا کرنے والی بنیادی وجوہات میں سے بھی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ مَہنگائی میں اضافے کی وجوہات میں سے ایک بنیادی وجہ سرمایہ دارانہ معیشت میں ٹیکس کا نظام ہے جو بلواسطہ اور بلا واسطہ ٹیکسوں پر مشتمل ہے، یہ بے شمار ٹیکس بھی قیمتوں میں اضافے کا موجب بن رہے ہیں۔ حکومت کے ہاتھ بے بس و کمزور عوام کی جیبوں میں ہیں وہ عوام کی کمائی کا بڑا حصّہ بجلی، گیس، سیوریج اور ٹیکس کے نام پر لے لیتے ہیں اور عوام خاموشی کے ساتھ ان واجبات کو ادا کرتی ہے جس کی وہ اہل نہیں ہوتی۔
ذخیرہ اندوزی، ناجائزکالا بازاری (illegal black marketing) اور رسد (logistics) میں رکاوٹ بھی مَہنگائی کا باعث ہوتی ہے۔ سیاسی غیر ضروری مفادات کے پیش نظر، بے دریغ غیر ملکی قرضۂ جات بھی معاشیات کو کمزور کرتے ہیں، حکومتی اخراجات اور معاشی خسارہ پورا کرنے کے لئے بے تحاشہ نوٹ چھاپنے سے بھی اِفْراطِ زَر پھیلتا ہے۔عالمی بازار میں ملکی کرنسی یعنی 'روپیہ' ڈالر کی محکومیت کا شکار ہے، اس معاشی افراتفری میں اشیاء کی قیمتوں کا کنٹرول میں رہنا ممکن نظر نہیں آرہا۔ مَہنگائی یا قیمتیں بڑھنے کی ایک بڑی وجہ مارکیٹ کے اندر اجارہ داری اور مانیٹرنگ کے طریقہ کار متحرک نہ ہونا بھی ہے۔
مَہنگائی کی وجوہات میں سے ایک وجہ حکومت کی جانب سے ڈیمانڈ سپلائی کے میکانزم کی نگہداشت میں نااہلی اور کرپٹ حکومتی عہدیداروں کا اس عمل کی نگہداشت میں بڑے بڑے سرمایہ داروں کو سپورٹ کرنا ہے، جس سے مارکیٹ میں اشیائے ضرورت کی کمی کی وجہ سے ان کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے جمہوری حکمران عالمی طاقتوں اور مقامی سرمایہ داروں کے فرنٹ مین بن کر سپلائی چین کو ہائی جیک کرنے کی کوششوں میں کوئی مداخلت نہیں کرتے بلکہ الٹا ان کی بلیک میلنگ میں آکر ان کے سامنے سر جھکاتے ہیں۔ یہ سرمایہ دار ذخیرہ اندوزی کرکے اور ''کارٹیل'' Cartel بنا کر سپلائی کی قلت پیدا کرتے ہیں تاکہ اشیاء کی قیمت بڑھا کر دن دوگنا، رات چوگنا منافع کما سکیں۔
جب کسی بھی شعبے یا صنعت میں کچھ مخصوص افراد یا کمپنیاں ضرورت سے زیادہ منافع یا اجارہ داری قائم کرنے کے لیے گٹھ جوڑ کرلیتی ہیں تو اسے ''کارٹیلائزیشن'' cartelization کہتے ہیں۔ کارٹل بنانے کا مقصد زائد منافع حاصل کرنا اور قیمتوں کو ایک سطح سے نیچے آنے سے روکنا ہوتا ہے۔ اس کو کاروبار میں غیر مسابقتی رجحان تصور کیا جاتا ہے۔
نجکاری:
مَہنگائی میں اضافے کی ایک اور بڑی وجہ توانائی کی قیمت میں ہوش ربا اضافہ ہے جس سے کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ بجلی بنانے کے کارخانوں کی نجکاری سے انرجی انفراسٹرکچر (Infra structure) عوامی اور ملکی کنٹرول سے نکل کر چند ملٹی نیشنل سرمایہ داروں کے قابو میں آ جاتا ہے جو توانائی کی فراہمی اور اس کی قیمتوں پر بڑی حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔ پورے ملک کے بجلی نظام کو منافع (Monetization) کے نام پر نجی کمپنیوں کو سونپا جارہا ہے۔ نجی کمپنیوں کے طرزِ امور اور من مانی سے عوام بہت پریشان ہیں۔
بجلی محکمہ کی نجکاری کسانوں کے لیے بجلی مَہنگی اور غریب دیہاتیوں پر ظلم اور معاشی استحصال کا باعث بنے گی جب کہ عام آدمی کا اس سے معاشی نقصان ہوگا۔ میٹر ریڈنگ کی نجکاری سے عوام پہلے ہی پریشان ہیں جو جان بوجھ کر غلط ریڈنگ کو بھرتے ہیں اور کسانوں اور دیہاتیوں کو ہراساں کرکے ان کا استحصال کرتے ہیں۔
نجکاری (privatization) کو مغربی نظام معیشت خصوصا سرمایہ دارانہ نظام میں خصوصی اہمیت حاصل ہیں لیکن اسلامی اقتصادی نظام میں اس کو محدود کیا گیا ہے۔ اسلامی اقتصادی نظام میں سرکاری اور عوامی ذرائع اور اداروں کی نجکاری نہیں کی جاسکتی۔ حکومتی اداروں کا نجی سرمایہ داروں کے ہاتھ منتقلی کا نام نج کاری ہے، نجکاری کا براہِ راست تعلق سرمایہ داری ہے۔ Capitalist ممالک میں نجکاری کا رواج عام ہے، اس طریقہ ہائے تجارت میں حکومتی افراد beaurocrats، سرمایہ دار (capitalist)، عوام کا ایک تکون بنتا ہے۔ جس میں پہلے دو افراد تیسرے کا استحصال کرنے کے لئے سمجھوتہ کر لیتے ہیں۔ نجکاری کے ضمن میں اسلامی نقطۂ نظر مختلف ہے۔ سنن ابوداؤد اور ابنِ ماجہ میں ابنِ عبّاسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا، ''سارے مسلمان تین چیزوں میں شریک ہیں، پانی، چراگاہ اور آگ''۔
آڑھت:
مَہنگائی کی بڑی وجہ ''آڑھت'' بھی ہے۔ مَہنگائی کی وجہ دریافت کریں تو بازار میں ایک ہی جواب ہے کہ مال نہیں آرہا ہے؟ مال فیکٹری سے آڑھتیوں کے پاس جاتا ہے۔ آڑھتیوں سے دکانداروں کے پاس آتا ہے۔ جیسے ہی مارکیٹ میں کسی چیز کی طلب بڑھتی ہے، آڑھتی مال روک لیتا ہے، اس لیے اس جنس کی قیمت اگر دس روپے بڑھنی چاہیے تو وہ 20 روپے بڑھ جاتی ہے۔ اناج، سبزیوں اور پھلوں پر تو آڑھتیوں کی اجارہ داری کے نتیجے میں ہی مَہنگائی آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔ مال صارف تک پہنچتے پہنچتے کئی ہاتھوں سے گزرتا ہے۔ مثلاً جو سبزی کسان سے پانچ روپے کلو خریدی جاتی ہے وہ منڈی سے ہوتی ہوئی محلے کی دکان تک آتے آتے 10 گنا مہنگی ہو جاتی ہے۔علامہ اقبالؒ نے کسانوں کے بارے میں کہا تھا ؎
دہقاں ہے کسی قبر کا اُگلا ہوا مُردہ
بوسیدہ کفن جس کا ابھی زیرِ زمیں ہے
کسان فصل اگانے کے لئے جاں توڑ محنت کرتا ہے، لیکن اس فصل کا بڑا فائدہ آڑھتی، سپلائر اور دکاندار حرام خوری کرکے اچک لے جاتے ہیں۔ اس طرح کسان سے صارف کے درمیان دلال نما نظام ایک بڑا منافع مارجن ہڑپ کر جاتے ہیں۔ ان کی اس حرام خوری کا بار بھی کسان و صارف کو ہی برداشت کرنا پڑھتا ہے۔ جس کے نتیجے میں مَہنگائی بھی اپنے عروج کو پہنچ جاتی ہیں۔ اس کا نقصان عوام کے ساتھ ساتھ حکومت کا بھی ہوتا ہے، اس گورکھ دھندے میں حکومت کو بھی ٹیکس نہیں مل پاتا۔ شاید اسی لئے علامہ اقبالؒ نے جارحانہ انداز میں کہا تھا ؎
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کا جلا دو
کیونکہ مَہنگائی و مفلسی اور بھوک کا جن بادب نہیں رہ سکتا،ساحر لدھیانویؔ نے بھی کیا خوب کہا تھا ؎
مفلسی حس لطافت کو مٹا دیتی ہے
بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی
آج جدید دنیا نے کھلا بازار open market چھوڑ کر اس میں مسابقت کا رجحان trend of competition پیدا کیا ہے، ایسے ہی تجربے کرکے مارکیٹس کا نظام ترتیب دینا چاہیے جو براہ راست کسانوں سے مال خریدیں اور سیدھے صارفین تک پہنچائیں۔ اس کا سیدھا و بڑا فائدہ عوام کو تو ہوگا ہی ساتھ ہی حکومت کے محصول آمدنی tax revenue میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
حکومت یہ سکیم انڈسٹری کو بھی دے سکتی ہے تاکہ ملک میں manufacturing میں اضافہ ہو جس سے بیروزگاری کا خاتمہ ہو اور ہمارا درآمدی بل کم ہو اور برآمدات بھی بڑھیں مگر حکومت ہر بار کالا دھن سفید کرنے کی جو سکیم پراپرٹی کے لیے لانچ کرتی ہے اس سے پراپرٹی کی قیمتیں غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہیں جس کی وجہ سے دکانوں کی کرائے بھی بڑھتے ہیں جو مَہنگائی کی وجہ بنتے ہیں۔
دنیا کے کئی حصّوں میں موسم کی شدت نے بھی اِفْراطِ زَر میں اضافہ کیا ہے۔ عالمی سطح پر نظریں دوڑایں تو معلوم ہوگا کہ گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، گھروں کو گرم رکھنے کا بل بھی بہت زیادہ آ رہا ہے۔ گذشتہ سال یورپ میں شدید سردی سے بھی گیس کے ذخائر کافی کم ہوگئے۔ ایشیاء میں بہت سے صنعتکاروں کو کووڈ-19 پابندیوں کی وجہ سے کاروبار بند کرنا پڑا۔زیادہ مَہنگی درآمدات بھی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ مجموعی طور پر، سب سے زیادہ متاثر ہونے والی معیشتیں وہ ہیں جو کھانے کی اشیاء پر مبنی ہیں خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتیں بڑھی ہیں، آگے بھی توانائی کی قیمتیں نسبتاً زیادہ رہنے کی توقع ہے۔ اشیائے خورد و نوش میں بے انتہاء اضافہ بھی مَہنگائی کی شرح میں اضافے کی اہم وجہ ہے۔ اب یا تو ان اشیاء کو جنرل سیلز ٹیکس کی لسٹ سے نکال دیا جائے یا پھر اس ٹیکس کی شرح میں کمی کردی جائے گی۔
کچھ شعراء ایسے ہیں جنہوں نے مہنگائی کے فوائد پر بھی اشعار لکھ لئے۔ ایک بار دمشق میں مَہنگائی پڑی تھی اور لوگ عشق کرنا بھول گئے تھے، اسے شاعر نے کیسے شعر کی زبان میں بیان کیا ؎
چنیں قحط افتاد اندر دمشق
کہ یاراں فراموش کردند عشق
شاعر انور شعور نے مَہنگائی سے نیکی کی بات نکال کر مہنگائی کے فائدے بتاتے ہوئے کہا ؎
مَہنگائی راہ راست پہ لے آئی کھینچ کر بچتی نہیں رقم بری عادات کے لئے
مَہنگائی میں ہندوستان کی صورتحال:
بھوک و افلاس اورمَہنگائی کی عالمی درجہ بندی میں ہندوستان کی تنزلی یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے کہ اس وقت ملک میں اشیائے خور و نوش کی مَہنگائی، بیروزگاری اور افلاس کا کیا عالم ہے۔ مجھے تو یوں محسوس ہو رہا ہے کہ ملک میں عزت سستی اور روٹی مَہنگی ہوتی جارہی ہے۔ہندوستان میں روپئے کی اتنی بے قدری کبھی نہیں ہوئی جتنی اب ہے، روپئے کے مقابلے میں ڈالر بہت اونچی اُڑان بھر رہا ہے۔ اس کے باوجود حکومت اور اہل اقتدار یہ راگ الاپ رہے ہے کہ معیشت مستحکم ہو چکی ہے۔ زَرِ مُبادَلَہ (foreign exchange) کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔
مَہنگائی اب ہندوستان کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ ہندوستان کے ایوانوں میں مَہنگائی پر گرما گرم بحثیں ہورہی ہیں۔ لیکن یہ بحثیں صرف دکھاوا ہے، اس کا حاصل کچھ بھی نہیں۔ رولینگ اور اپوزیشن پارٹیوں کی انڈر اسٹینڈنگ ہوتی ہیں۔ نظام باطل میں غریب آدمی پہلے بھی مَہنگائی کی بھٹی میں جھلس رہا تھا اور اب بھی اس کا مقدر یہی ہے۔اب مَہنگائی کی مشکلیں اس سے آگے بڑھ کر مڈل کلاس طبقے سے وابسطہ ہوگئی ہیں۔ حالانکہ اس وقت اہل اقتدار کا اہم ترین مقصد عام آدمی کی مشکلات کو کم کرنا اور مَہنگائی کے دباؤ میں کمی لانے کے لیے ریلیف اور سبسیڈی فراہم کرنا ہے، مگر اس مسئلہ کا ٹھوس لائحہ عمل ابھی تک نہیں ترتیب دیا گیا ہے۔ لیکن اس کے برعکس حکمراں طبقہ عوام کو مَہنگائی کے عفریت سے نجات دلانے کی بجائے خود مَہنگائی کے عفریت سے عوام کو ڈنس رہا ہیں۔
ابھی ہر چور صادق اور امیں ہے
کوئی تبدیلی آئی ہی نہیں ہے
موجودہ مودی حکومت جب برسرِ اقتدار آئی تو کرنسی کی قدر 58.66 روپے فی امریکی ڈالر تھی اور آج۔ گذشتہ کچھ سالوں کے دوران روپے کی قدر میں 26.25% فیصد کمی 2017ء میں دیکھی گئی۔ اور آج 2022ء میں روپئے کی قدر 79.30 تک پہنچ گئی ہیں۔ معیشت پہلے بھی مستحکم بنیادوں پر استوار نہیں تھی۔ اس وقت کئی اشیا پر 18 فیصد تک جی ایس ٹی نافذ ہے۔ صارف کی جیب سے یہ پیسے وصول کر لیے جاتے ہیں مگر سرکاری خزانے تک اس 18 فیصد میں سے چار فیصد ہی پہنچتا ہے، باقی انڈر انوائسنگ اور مانیٹرنگ نہ ہونے کہ وجہ سے دیش بھکتی کا پاٹ پڑھانے والے ہضم کرجاتے ہیں۔ حکومت کی تبدیلی کے بعد سے ملکی معیشت جس بدحالی کا شکار ہے وہ محتاج وضاحت نہیں۔ ہماری ریاست، حکومت اور اداروں میں موجود فیصلہ ساز یا طاقتور قوتوں کو مذہبی عصبیتوں کو بالائے طاق رکھ کر عوام کے حق میں سوچنا ہوگا، اور کسی اچھے اور بہتر معاشی نظام کی سمت پیش رفت کرنی ہوگی، ورنہ عنقریب ہندوستان کی صورتحال بھی قریبی پڑوسی ممالک جیسی ہو جائے گی۔ حکمران عالمی مالیاتی ساہو کاروں کے دباؤ، مذہبی عصبیتوں، اپنی ذہنی غلامی اور بلاوجہ کے خوف سے نکل کر ایک بار اپنے ربّ کے وعدے پر اعتماد کرتے ہوئے اسلامی سیاسی و معاشی نظام اور غیر سودی بنکاری کو آزما کر تو دیکھیں …!!!
ہندوستان ایک زرعی ملک ہے، باوجود اس کے کہ یہاں کا کسانوں کو پیکیج دیا جاتا یا شتکاری پر توجہ دے کر چیزوں کو سستا کیا جاتااس کے برعکس کاشتکاروں کوبھی پریشان کیا جاتارہاہے۔اس حقیقت سے ہر کوئی واقف ہے کہ توانائی اور خوراک کی قیمتیں ہمارے ملک میں مَہنگائی کے دو بڑے محرک ہیں۔ اگر اس پیکیج کے نتیجے میں مقامی خوراک کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے اور اس وجہ سے قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اس کے فوائد لامحالہ عام عوام کو حاصل ہوں گے۔ حکومت کو توانائی، بیجوں اور کھادوں کے ساتھ ساتھ ٹریکٹر جیسے زرعی آلات پر بھی سبسڈی دینا ہوگی۔
حقیقت یہ ہے کہ سیاسی لیڈران چاہے وہ رولنگ پارٹی کے ہوں یا اپوزیشن پارٹی کے یہ تمام لوگ اپنے ذاتی و خاندانی مفادات کو تقویت پہنچانے کے لئے عوام کو معاشی بحران کی ڈگر پر ڈھکیل کر بہران پیدا کر رہے ہیں۔ بعض سیاسی لیڈر اور بڑے بڑے تاجر حکومت کی شئے پر خود راہ فرار اختیار کرکے اپنے عالمی سیاسی راہنماؤں کی مدد سے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ ملک چھوڑ دیتے ہیں یا ''ڈھونڈھتے رہے جاؤ گے'' کی مثال قائم کرتے ہوئے غریب عوام کا محنت سے کمایا ہوا پیسہ لے کر انڈر گراؤنڈ ہو جاتے ہیں۔ دوسرے ملکوں میں جا کر ان کی عیاشی کی خبریں آئے دن اخباروں کی زینت بنتی ہیں۔
اس طرح کی مثالیں اخلاقی تہذیبی گراوٹ کا نمونہ ہیں۔ ویسے بھی جمہوری نظام میں کہاں اخلاق و کردار، کہاں اقدار و اصول نظر آتا ہے؟ کرپٹ، نااہل اور نالائق حکمرانوں کے ذاتی مفادات کی جنگ میں مظلوم عوام جل رہے ہیں اور ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں عام آدمی کی مالی مشکلات میں زبردست اضافہ ہوگا بلکہ ملک کی معیشت پر بھی اس کے ناقابل برداشت منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ کرپٹ، نااہل اور نالائق حکمرانوں ہر عمل میں ایک سازشی تھیوری تلاش کرتے ہیں اور اسی بیانیہ پر احتساب کے نظام کو متنازع بناکر پیش کرکے صرف اور صرف اپنے ذاتی و خاندانی مفادات کو تقویت پہنچاتے ہیں۔
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تو مَہنگائی کی شرح میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا۔ پٹرول کی قیمت مسلسل اوپر جا رہی ہیں، یہ بھی ایک نیا ریکارڈ ہے، اس کے بعد مَہنگائی مزید بڑھے گی۔ مَہنگائی کی حالیہ لہر نے ملکی معیشت کے لیے غیر معمولی چیلنج پیدا کر دیے ہیں۔ جنوری 2014 ء میں سبسڈی والے 14.2 کلو گرام کے کوکنگ گیس سلنڈر کی قیمت گھریلو صارفین کے لیے 546.02 روپئے سے 1,241روپئے فی سلنڈر بڑھ گئیں۔ حکومتوں کو چاہئے کہ عوام کو بنیادی ضرورت کی اشیاء سستے داموں فراہم کرانے کا اہتمام بھی کرے۔ تمام ممالک کے اہلِ اقتدار کو چاہئے کہ پیٹرول اور انرجی پر عائد ٹیکسوں میں کمی کروائے۔ جو لوگ خط غربت سے نیچے ہیں انہیں ''سیفٹی نیٹ'' کے ذریعے مدد کی جائے۔
حقیقت میں یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بِنا پر ہمارا ملک شدید معاشی مسائل کا شکار ہے، مَہنگائی کی شرح بلند ترین سطح پر ہے، ترسیلات زر کا حجم گھٹتا جا رہا ہے اور ڈالر کی قدر میں ایک بار پھر اضافے کا رجحان ہے۔ ڈالر کی قدر گرنے سے اشیائے ضروریہ اور توانائی کی قیمتوں پر بھی اثر پڑے گا۔ ضرورت اپنے زورِ بازو پر بھروسا کرتے ہوئے اس بحران کا سامنا کرنے کی ہے۔ اگر ہم زراعت کو اپنی ترجیحات میں اولین جگہ دیں تو بھوک کے علاوہ بیروزگاری کا بھی بہتر انداز میں مقابلہ کر سکتے ہیں۔ بھیک کا کشکول پھیلانے سے بہتر ہے کہ انسان حلال رزق کو تلاش کرے۔ حبیب جالب کا شعر پیش خدمت ہے ؎
چُپ کر مُنڈیا نہ منگ روٹیاں
کھائیں گا زمانے دے ہتھوں سوٹیاں
چُپ کر، دَڑھ وَٹ، کَڈھ دیہاڑے
چار صدیاں تُون بھُکے لوکی کھاندے آئے مار
مَہنگائی اور عالمی صورتحال:
ڈالر کی قیمت میں اضافہ اور روپے کی قدر میں بدترین کمی کی رفتار تیز ہوگئی ہے۔ حالیہ کچھ دنوں سے کرنسی کی منڈی میں ایک دن میں ڈالر کی قیمت میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا جاتا رہا ہے۔ دنیا بھر کے مقروض ممالک میں زَرِمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے جس کی وجہ سے معاشی بحران کی سنگینی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ مالیاتی منڈی میں افراتفری کی صورتحال ہے۔ کرنسی کی مارکیٹ کے ساتھ اسٹاک مارکیٹ بھی ہل گئی ہے۔
ماہر معاشیات کے نزدیک اسٹاک مارکیٹ میں ہونے والی مندی خوفناک ہے۔ ڈالر کی رسد کے مقابلے میں طلب بڑھنے اور زَرِمبادلہ کے ذخائر مزید گھٹنے کے خدشات نے اسٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کو مایوس کیا ہے۔ ڈالر کی قیمت میں غیر معمولی اضافے اور اسٹاک مارکیٹ میں مندی کے رجحان میں اضافے کے ساتھ امریکی عالمی ریٹنگ ایجنسی کی رپورٹ کی اشاعت نے اقتصادی بحران کی سنگینی میں اضافہ کردیا ہے۔ ایک طرف داخلی اقتصادی بحران کی سنگینی ہے دوسری طرف عالمی اقتصادی بحران کے اثرات بھی پڑ رہے ہیں۔
سرد جنگ خاتمے کے بعد جو نیا عالمی معاشی نظام قائم ہوا اس کے بعد عالمی مالیاتی اداروں کی مداخلت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے ساتھ کلیدی معاہدے ہوئے جس کے بعد روپے کی قدر میں تیزی سے کمی اور ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا، جس نے زراعتی، تجارتی، صنعتی اور مالیاتی سرگرمیوں میں عدم توازن پیدا کردیا۔ تاجر پریشان ہیں صنعتیں بند ہورہی ہیں، برآمدی آرڈر منسوخ ہورہے ہیں۔ یہ صورت حال موجودہ معاشی ماہرین کی اہلیت، صلاحیت اور نیت کی حقیقت بتا رہی ہے۔
عالمی بینک کے مطابق دنیا بھر میں اشیاء خورد و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں کروڑوں غریب افراد کو مزید غریبی کی گہرائیوں میں ڈھکیل رہی ہیں۔ان چند برسوں میں روزمرہ کے استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں 200 فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ مَہنگائی بڑھتی ہے تو ساتھ ہی کئی خرابیوں کی پرورش ہوتی ہے۔ لوگ ضروریات پوری کرنے کے لیے ذرائع آمدن کو محدود دیکھتے ہیں تو بدعنوانی اور غیر قانونی سرگرمیاں انھیں متوجہ کرتی ہیں۔ معاشرے کا معاشی سکون ایک ہیجان میں ڈھلنے لگتا ہے اور سماج کے تانے بانے کو خطرات لاحق ہونے لگتے ہیں، درمیانے طبقات ختم ہوتے ہیں، دو انتہاؤں پر طبقاتی تقسیم ہو جاتی ہے۔ بہت غریب اور بہت امیر۔ توازن رخصت ہوتا ہے تو سماج کی ثقافت، معیشت اور روحانی اقدار بھی بری طرح سے متاثر ہونے لگتی ہیں۔
سیاست و معیشت باطل پرستوں کے نرغے میں:
مختلف ممالک میں رائج معاشیاتی نظام کا دار و مدار عالمی مالیاتی نظام یا گلوبل معاشی نظام سے جوڑ کر رکھ دیا گیا ہے۔ جس کی باگ ڈور یا اجارہ داری (oligopoly) صہیونی مقدرہ کے قبضہئ میں ہے۔ صہیونی مقدرہ کا یہ عالمی نظام دنیا پر بوجھ بنتا جارہا ہے، اس نظام میں انہوں نے دوسروں کے اختیارات محدود کرکے انہیں سلب کر لئے ہیں۔یہودی پروٹوکولز پر نظر دوڑائیں تو موجودہ بحرانی کیفیت کی سازشیں عیاں ہوجاتی ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں کو کیسے ہمیشہ کے لیے غربت اور مشقت کی دلدل میں دھکیلنا چاہئے، دنیا کی ساری دولت خصوصاً سونا چاندی کو اپنی ملکیت بنانا،سونے کو عالمی منڈی میں انتشار کے لیے استعمال کرنا،دولت اور جائیداد پر بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کا نفاذ، قابلِ اعتماد سرمایہ کاری کی بجائے ناقابل اعتماد سرمایہ کاری کی ترغیب، اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے غریب اور ترقی پذیر ممالک کو بھاری سودی قرضوں کی فراہمی جس کے نتیجے میں صہیونی مقتدرہ کا تسخیر عالم کا عالمی یہودی منصونہ پایہئ تکمیل تک پہنچ جائے۔
دنیا کی تمام جمہوری طرزِ فکر پر قائم ہونے والی حکومتوں کا بھی جائزہ لیں تو وہاں، معاشی و اقتصادی، سیاسی و اخلاقی بحران اور عدم استحکام کے علاؤہ ان کے کوئی نمایاں خد و خال نظر نہیں آئے گی۔ دنیا میں موجودہ بے چینی و اضطرابی کیفیت کا ذمہ دار یہ نظام جمہوریت ہی ہے۔ امیر روز بہ روز امیر اور غریب روز بہ روز غریب ہوتا ہے۔ جب تک اس نظام کو تبدیل کرکے کوئی بہترین نظام نہیں لایا جاتا، اس وقت تک دنیا میں امن و انصاف قائم ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ کھوکھلا نظام عوام کو حکمراں طبقے کی داشتہ بنائے رکھتا ہے۔
نظام جمہوریت میں ہر حکومت جاتے وقت معاشی مشکلات کا دیو ہیکل نما پہاڑ کھڑا کرکے جاتی ہے، اور بے ہودہ اور بے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ سابقہ حکومت کی جھولیوں میں ڈال کر اپنی نااہلی اور ناقص کارکردگی سے بری الزمہ ہوجاتی ہے۔ مَہنگائی کے طوفان کا ٹھیکرا بھی سابقہ حکومت پر ڈالتی ہیں، نظام جمہوریت کے آلۂ کار اتنے بے حس، ناکارہ اور ضمیر فروش ہوتے ہیں کہ اپنے سر کوئی الزام لینے کو تیار ہی نہیں ہوتے۔ ان کی نااہلی و ناقابلیت کا سارا بوجھ غریب و کمزور اور بے بس عوام پر ڈال کر ملک کی معاشی صورتحال کو تباہی کے دہانے پر لاکر کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ حکومت کسی بھی پارٹی کی ہو اس کا بیانیہ یہی ہوتا ہے کہ مَہنگائی کا بوجھ غریب عوام پر نہیں پڑے گا، اللّٰہ جانے کہ یہ غریب عوام ملک کے کس خطے یا علاقے میں پائے جاتے ہیں، جن پر مَہنگائی کا بوجھ نہیں پڑتا۔ حالانکہ اس حقیقت کا ادراک سبھی کو ہے کہ مَہنگائی کا بوجھ صرف اور صرف عوام کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔
یہودیوں کے بنائے ہوئے عالمی مالیاتی نظام نے پورے اقتصادی نظام کو اَکٹوپس کے جیسے جکڑ رکھا ہوا ہے۔ اس بوسیدہ نظام میں صرف زَرِمبادلہ اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی وجہ سے مضبوط زراعتی اور صنعتی بنیادوں پر قائم معیشت تباہ ہو سکتی ہے۔ زَرِمبادلہ کے ذخائر بہت کم رہ گئے ہیں۔حالات ایسے بنا کر رکھ دیئے گئے ہیں کہ اگر حکومتوں کو آئی ایم ایف سے قسط نہیں ملی تو دیگر مالیاتی ادارے اور ممالک جنہوں نے قرض اور سرمایہ کاری کا معاہدہ کیا ہوا ہے، وہ بھی اپنے وعدے کو پورا نہیں کریں گے، اگر زَرِمبادلہ کے ذخائر بحال نہیں ہوئے تو ایندھن اور غذائی اجناس کی درآمد بھی مشکلات میں پڑ جائے گی، لیکن ہماری نام نہاد سیاسی قیادت نفرت و تعصب کی عینک لگا کر مسلمانوں کو مٹانے میں مصروف ہے، جو کے ایک خواب ہے اور ان شاء اللّٰہ! خواب ہی رہ جائے گا۔
کسی کو اپنے میراثی اقتدار بچانے کی فکر ہے، کوئی اپنی سیاسی جاگیر کی حفاظت کے ساتھ مزید اختیارات کے مزے لینے کے لیے فکر مند ہے، ملکی معیشت دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اقتصادی بحران سنگین قومی سلامتی کا مسئلہ بھی بنتا جارہا ہے۔ عالمی سطح پر حالات مسلسل تبدیل ہورہے ہیں، دنیا کورونا کی وباء سے متاثر ہوئی جس نے عالمی معیشت کو متاثر کیا، اب یوکرین کی جنگ عالمی جنگ میں بدلتی جارہی ہے، ہندوستان کی پوزیشن ایسی نہیں ہے کہ وہ روس اور ایران کی طرح اقتصادی پابندیوں کا مقابلہ کرسکے۔ قریب میں صرف زَرِمبادلہ کے بحران کی وجہ سے سری لنکا کا حشر سب کے سامنے ہے۔
سیاست اور مَہنگائی:
جھکی کمر مَہنگائی سے جب اور جھکے گی مشکل سے یہ آتی جاتی سانس رکے گی
بھوکی ننگی لاشوں پر کیا راج کرو گے پچھتاؤ گے ہمیں اگر تاراج کرو گے
جمہوری طرزِ حکومت میں جتنے بھی حکمران عوام پر مسلط ہوتے ہیں ان کا المیہ ہے کہ وہ اپنی کمزور گورننس، کمزور مالی نظم و نسق، غیر ضروری بے جا اخراجات اور کرپشن پر قابو پانے میں کبھی سنجیدہ نظر نہیں آتے ہیں۔ انہیں غرض ہوتی ہے تو بس اپنے سیاسی مستقبل کی جس کی بنیاد پر وہ اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ جس کے تحت ایسی تمام حکومت کو مالیاتی و معاشی خسارے کا سامنا ہوتا ہے۔ جس کے لئے وہ گدائی کا کشکول لے کر معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہوکر سخت شرائط پر قرضے لے تو لیتی ہیں لیکن قرضے کے بہترین استعمال اور قرض خواہ کی شرائط کو پورا نہیں کرتی۔ عالمی اداروں سے ملنے والے قرضے عوام کی بہبود پر خرچ ہونے کے بجائے اصل زر اور اس پر سْود کی ادائیگی، نااہل حکمرانوں کی کرپشن، خراب طرزِ حکمرانی، بدترین مالیاتی نظم و نسق اور کاہل نوکر شاہی کی نذر ہو جاتے ہیں اور بالآخر ہر حکومت قرضوں کا بوجھ ٹیکسوں اور مَہنگائی کی شکل میں عوام کو منتقل کر دیتی ہے۔
یہ پالیسی ساز اور سیاسی ٹولہ آئے دن نت نئے ٹیکسوں میں اضافے کررہے ہیں اور خود ٹیکس چرا رہے ہیں۔ ایسے سیاسی اور ذہنی دیوالیہ سیاسی ٹولے سے عوام کو چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔یہ پورا سیاسی ٹولہ ذہنی دیوالیہ پن اور سیاسی دیوالیہ پن کا شکار ہے۔ آئے دن یہ لوگ قوم کو کسی اَن دیکھے مسئلے اور غیر متعلق مسائل کے شور میں دبا دیتے ہیں، اصل حقائق کہیں اور جا پڑتے ہیں اور سنگین نوعیت کے اقدامات پر سے نظر ہٹا کر خیالی دعوؤں اور ان پر بحثوں میں لگا دیا جاتا ہے۔اگر موٹے موٹے ڈاکے دیکھے جائیں تو سامنے کی بات ہے کہ عالمی سطح پر پٹرول کی قیمتوں میں کمی ہوتی جارہی ہے لیکن ملکی سطح پر عوام کو اس کا فائدہ نہیں دیا جارہا۔ اصل مسئلہ ڈالر، پٹرول کی عالمی قیمتیں اور عالمی سطح پر سیاسی تنازعات نہیں ہیں یہ ساری چیزیں مسلسل اور مستقل عمل ہیں۔ حکومتوں کی ذمّہ داری ہوتی ہے ان ہی حالات میں اپنے عوام کو سہولتیں فراہم کرنا اور ان کو مشکل سے نکالنا۔ لیکن ہماری حکومتیں باہر سے آنے والے دباؤ کو عوام کی طرف منتقل کرتی ہیں اور اپنے اوپر اپنی ہی پالیسیوں کی وجہ سے آنے والے دباؤ کو بھی عوام ہی کی جانب منتقل کرتی ہیں۔
ملک میں سیاسی انتشار کے موجودہ مرحلے کے اسباب میں سے سب سے اہم سبب مَہنگائی اور بے روزگاری کا ایسا طوفان ہے جس نے عوام اور شہریوں کے اعصاب کو شدید اذیت میں مبتلا کردیا ہے۔ سیاسی خمیازہ یوں بھگتنا پڑتا ہے کہ عوام کا ریاست، حکومت اور انتظامی اداروں پر سے اعتماد اٹھنے لگتا ہے۔
مندرجہ بالا یہ تمام مناظر اس بات کی تصدیق کررہی ہے کہ ملک کے حقیقی مسائل پر گفتگو صرف نعرے بازی ایک دوسرے سے سیاسی مقابلے اور دعووں تک محدود رہ گئی ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کی نظر میں ان کے مفادات غالب ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی جنگِ اقتدار تیز سے تیز تر ہوتی جارہی ہے، جس کی وجہ سے سیاسی انتشار ملک کو عدم استحکام کا شکار کررہا ہے۔ ضرورت یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں ملک کی تباہی کا ازسرنو تجزیہ کریں اور دعووں سے بڑھ کر عملی اقدامات کی طرف توجہ دیں۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا 2030ء تک بھوک، غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت کو اپنی تمام شکلوں میں ختم کرنے کے اپنے ہدف سے مزید پیچھے ہوتی جا رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک کے لئے اقوام متحدہ نے عالمی فنڈ مختص کر دیا ہے۔ مصر کے شہر شرم الشیخ میں اقوام متحدہ کی کلائمیٹ چینج کانفرنس کوپ 27 میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ کانفرنس کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ڈیمیج اینڈ لاس، یعنی جن علاقوں میں شدید موسمی واقعات جیسے کہ خشک سالی، طوفان اور سیلاب کے خطرے سے دوچار ہوئے ہیں، وہاں تباہ کاریوں اور نقصانات سے متعلق فنڈ کے ذریعے سیلاب اور دیگر موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات کا شکار ممالک کو مالی معاونت مل سکے گی۔
اہلِ اقتدار اور سیاسی جماعتوں کے قائدوں ؎
جلتی آگ پہ مَہنگا پٹرول نہ چھڑکو
بڑھتے ہوئے مَہنگائی کے طوفان کو روکو
پانی ہے گر فتح تو اب مَہنگائی کر لو
صرف اسے کم کرنے پر دانائی کر لو
مَہنگائی اور میڈیا:
اس بڑھتی ہوئی مَہنگائی میں میڈیا کے منفی کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا، جہاں پانچ روپے کے بسکٹس پیکٹس و شیمپو پیک اور دس روپے کی کیڈبری کے لیے بھی لاکھوں کے اشتہارات مختلف چینلوں پر 24گھنٹے تک مسلسل دکھائے جاتے، ہزاروں اور لاکھوں والی اشیاء کی بات تو سمجھ میں آتی ہے مگر ان اشتہارات کی بھرمار سے لاگت میں تو اضافہ ہوتا ہے جو عوام ہی سے وصول کیا جاتا ہے اور فائدہ چینل مالکان اٹھا رہے ہیں ایسے ہی تو صرف ایک نیوز چینل سے ابتدا کرنے والے پانچ پانچ چینلوں کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔ سب کوئی اپنے مفادات کی فکر ہے عوام کا خیر خواہ کوئی نہیں پھر عوام کو تو پریشان ہونا ہی ہے مَہنگائی عوام کی پریشانی نہیں مَہنگائی کو قابو میں کرنے کی کوئی تدبیر نہیں؟ غیر ضروری اشتہار بازی (Advertisemint) سے بھی بچا جائے اور خصوصاََ ان خرافات سے جو کہ شریعت سے بھی متصادم ہیں اور لاکھوں کروڑوں کی رقم منٹوں میں ضائع کرنے کا سبب بنتی ہیں۔
اسلامی معاشی و اقتصادی نظام:
''ہم نے تم کو زمین میں رہنے کی جگہ دی اور اس میں تمہارے لئے سامان معیشت پیدا کیا''۔(سورۃ الاعراف: 10)
اسلامی مالیاتی و اقتصادی نظام ہی افراط زر کو شکست دینے والا نظام ہے۔ اسلامی اقتصادی نظام (Islamic economic system) دراصل اسلام کا ایک مکمّل اقتصادی نظام ہے، جس کی بنیاد قرآن، حدیث اور فقہی اصولوں پر رکھی گئی ہے۔ یہ سرمایہ داری نظام (Capitalism system)، اشتراکیت (communism) اور اشتمالیت (Inclusion) سے الگ ایک مکمّل اقتصادی نظام ہے۔ اس نظام میں باقی نظاموں کی طرح کوئی خامی نہیں۔ ان کی بنیادی ستونوں میں سود کی ممانعت، زکوٰۃ، طلائی دینار اور نقرئی درہم بطورِ زر (پیسہ)، وادیعہ (بینک کا متبادل مخزن کا ادارہ)، قمار، غرر وغیرہ کی ممانعت، آزاد بازار (سوق) وغیرہ شامل ہیں۔
اسلامی اقتصادی نظام سرمایہ داری نظام اور اشتراکیت وغیرہ سے یکسر مختلف ہے۔ اسلامی معاشی نظام کو مختصراً یوں بیان کیا جا سکتا ہیں کہ اس نظام کا ''دِل'' تجارت ہے۔ لہٰذا اسلامی اقتصادی نظام میں ''زر'' یعنی پیسہ حقیقی دولت پر مبنی جنس ہوتا ہے جیسے طلائی دینار اورنقرئی درہم، گندم، چاول وغیرہ۔ یہ سود، قمار، غرر سے پاک ہوتیں ہیں۔ یہ آزاد بازاروں پر مبنی ہوتی ہے جہاں پر ہر شخص اپنی تجارتی اشیاء کی فروخت کر سکتا ہے۔ جہاں تھوک فروشی تک ہر شخص کی یکساں رسائی ہوتی ہے۔ ہر چھوٹا کاری گر و صنعت کار اپنا کارخانہ خود بنا سکے گا۔ ان اوقاف میں شرکت،مضاربت، مرابحہ وغیرہ کے طریقوں سے تجارت ہوتی ہے۔
اسلام کا اپنا نظامِ معیشت ہے اور اپنے اقتصادی اصول ہیں۔ اسلام کا نظامِ معیشت موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اور اس کے نقائص و مفاسد سے بالکلیہ پاک ہے۔ اسلام کے نزدیک تمام مسائل جن پر انسان کا معاشی انحصار ہے، سب اللّٰہ تعالیٰ کی ملکیت اور اس کی تخلیق ہیں۔ خالق کائنات، رازقِ کائنات بھی وہی ہے جو تمام مخلوقات کو رزق دیتا ہے۔ اسلام نے کسبِ حلال کو اہم ترین فریضہ قرار دیا ہے اور تجارت، زراعت، صنعت اور ملازمت وغیرہ کے ذریعہ اپنی روزی خود کمانے کی تاکید کی ہے۔ اسلام کا معاشی نظام انفرادی حق ملکیت تسلیم کرتا ہے۔ اس میں کچھ حدود و قیود لگائی گئی ہیں لیکن انسان کو اس کے حق سے محروم نہیں کیا گیا۔ اسلام حق معیشت میں مساوات کا قائل ہے۔ اسباب معیشت میں ہر انسان کو فائدہ اٹھانے کا مساوی حق فراہم کرتا ہے۔
اسلامی معاشی پالیسی کا یہ بنیادی اصول ہے کہ زر کی گردش پورے معاشرے میں عام ہونی چاہیے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ مال صرف مال داروں میں ہی گھومتا رہے، مال دار کا مال دن بدن بڑھتا رہے اور غریب روز بروز فقر و فاقہ کا شکار رہے۔ معاش کے سلسلے میں جو چیز سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے وہ سرمایہ کی گردش ہے۔ سرمایہ کی گردش اگر اس طرح ہو کہ وہ ہر طبقہ کے لوگوں تک پہنچتا رہے تو سب لوگ خوش حال ہوں گے اور اگر وہ صرف چند لوگوں کے درمیان گھومے تو خوش حالی بھی چند لوگوں کے حصے میں آئے گی اور بقیہ لوگ بدحالی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے۔ سرمایہ کی گردش معاشرہ کے جتنے زیادہ افراد کے درمیان ہوگی، اتنی ہی زیادہ اس کی قیمت بڑھتی چلی جائے گی۔ اسلام نے ایسا معاشی نظام برپا کیا کہ دولت پر با اثر لوگوں کی اجارہ داری قائم نہ رہے اور دولت کا بہاؤ امیروں کے ساتھ ساتھ غریبوں کی طرف بھی رہے، "تاکہ وہ تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے"۔ (سورۃ الحشر)۔ یہ اجارہ داریاں بھی سبب بنتی ہیں افراطِ زر کے اضافہ کا۔ کیونکہ اجارہ داریاں، اپنی فطرت کے مطابق، جدت اور معیار کو روکنے کے ذریعے مسابقت کی کمی کا باعث بنتی ہیں، عام طور پر سپلائی کو محدود کرنے اور ناانصافی کا باعث بن کر قیمتوں کو اوپر کی طرف لے کر نقصان پہنچاتی ہیں۔
وادیعہ (بینک کا متبادل) کے ذریعے حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ان کی حسابوں میں منتقل کرے گی اور وہاں ان کی دولت امانت کے طور پر محفوظ رکھی جائے گی۔ ''شرعی زر'' کا معیار حکومت مہیا کرتی ہے۔ ملکی خزانہ بیت المال میں جمع ہوتا ہے۔ ان سب اداروں کی نگرانی حسبۃ کرتی ہے۔ غریب عوام سے کوئی محصول وصول نہیں کیا جائے گا بلکہ حکومت امیروں سے محصول (Tax)، زکوٰۃ، عُشر، خراج، جزیہ وغیرہ کی صورت میں لے کر غریبوں میں بانٹے گی۔
آج کی دنیا میں رائج معاشی نظام درحقیقت ایک مکمل سودی نظام ہے، جس کے تانے بانے زمانہ جاہلیت کے سودی معاملات سے ملے ہوئے ہیں۔ وادیعہ کے مراکز قائم کرنے سے بینکوں کا کام ختم ہو جائے گا۔ اوقاف کی بحالی سے بازاروں، تھوک فروشی اور صنعتی مراکز کی اجارہ داری ختم ہو جائے گی۔ بین الاقوامی تجارت کے لیے مال کے بدلے مال کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اور جہاں کہی یہ طریقہ ممکن نہ ہو تو وہ وہاں پر سونے کو بطور زر استعمال کیا جائے گا۔ ''شرعی زر'' کو بنانے کے لیے حکومت ضرب خانے (ٹکسال) بناتی ہے اور ملکی خزانہ بیت المال میں جمع ہوتا ہے۔
جس سے مرکزی بینک کا خاتمہ ہو جائے گا اور نفع کمانے کے لیے لوگ اوقاف کا رُخ کریں گے جہاں حقیقی معنوں میں تجارت اور کاروبار ہوگی۔ لہٰذا بازار حصص (Stock Exchange) کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ اور شرعی زر کے دوسرے ممالک کی کرنسیوں سے باہم مبادلے کے لیے وکالہ کے آزاد مراکز قائم کیے جائے نگے۔ لہٰذا اجارہ داری پر مبنی صرافہ بازاروں (Foreign Exchange Markets) کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اور ملکی بجٹ ملکی آمدنی کو دیکھ کر بنایا جائے گا۔
جس کی وجہ سے قومی اور گردشی قرضوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اور نہ ہی ورلڈ بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ (بین الاقوامی مالیاتی فنڈ) کے قرضوں کی ضرورت ہوگی۔ مسلم ممالک کے مابین آزاد تجارت ہو گی اور ان ممالک کے اموال تجارت پر کوئی محصول نہیں لگایا جائے گا جو مسلمان ممالک کے اموال پر ٹیکس نہیں لگاتے۔ جس کی وجہ سے ملکی اور بین الاقوامی تجارت میں انتہائی اضافہ ہو جائے گا۔ لہٰذا اسلامی معاشی نظام کی مکمل بحالی سے ہمارے سارے کام بطریق اَحسن انجام پائیں گے اور ہمیں مغربی نظام سے کوئی چیز لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
قومی سطح پر ہماری ترجیحات کا تعین اور غیر ترقیاتی اخراجات پر زیادہ زور دینے کی پالیسی سمیت وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، کرپشن، بدعنوانی کا غیر مؤثر نظام اور ملک میں روزگار کے محدود مواقع یا ملکی یا غیر ملکی سرمایہ میں کمی جیسے مسائل سمیت حکمرانی کے مؤثر اور جدید نظام سے عدم توجہی ہمارے سنگین مسائل ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ہمیں اپنی حکمرانی کے نظام میں ایک بڑی سرجری درکار ہے اور اس کے بغیر کچھ تبدیل نہیں ہوگا۔
اسلامی اقتصادی نظام میں نجکاری کو محدود کیا جاتا ہے اور سرکاری اداروں کی نجکاری پر مکمل پابندی ہوتی ہے۔ دریاؤں، ڈیموں، نہروں، تیل، گیس، کوئلے، بجلی، جنگلات، چراگاہوں وغیرہ کی نجکاری نہیں کی جا سکتیں۔ روٹی، کپڑا، مکان اور پانی کی حکو مت کی جانب سے مفت فراہمی کی جائے گی۔ بیمہ کمپنیوں پر مکمل پابندی لگائی جائے گی۔ لہٰذا سونے کے دینار اور چاندی کے درہم موجودہ کاغذی نوٹوں کی جگہ لے گی۔
اسلام کی نظر میں مَہنگائی کے اسباب:
اسلامی نقطہئ نظر سے احادیث مبارکہ سے مَہنگائی کا ہو جانا، قحط سالی (drought)، بارشوں کا بروقت نہ ہونا اور رزق میں کمی ہو جانے کے اسباب یہ معلوم ہوئے: 1: ناپ تول میں کمی، 2: زکوٰۃ ادا نہ کرنا، 3: زنا کرنا، 4: مطلق اللّٰہ کی نافرمانی اور گناہ کرنا، 5: قرآن و سنّت کے خلاف فیصلے کرنا۔ مہنگائی کے راست اثرات انسانی غذا یعنی رزق پر بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: ''نیکی ہی عمر کو بڑھاتی ہے، اور تقدیر کو دعاء کے علاوہ کوئی چیز نہیں ٹال سکتی، اور کبھی آدمی اپنے گناہ کی وجہ سے ملنے والے رزق سے محروم ہو جاتا ہے''۔ (سنن ابن ماجہ: 2204)
''حضرت عبد اللّٰہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللّٰہﷺنے ہماری طرف متوجہ ہوکر فرمایا: اے مہاجرین کی جماعت! پانچ باتیں ہیں جب تم ان میں مبتلا ہوجاؤ گے، اور میں اللّٰہ کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ تم اس میں مبتلا ہو، وہ پانچ باتیں یہ ہیں: پہلی یہ کہ جب کسی قوم میں علانیہ فحش (فسق و فجور اور زناکاری) ہونے لگ جائے، تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں جو ان سے پہلے کے لوگوں میں نہ تھیں۔ دوسری یہ کہ جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگ جاتے ہیں تو وہ قحط، معاشی تنگی اور اپنے حکمرانوں کی ظلم و زیادتی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تیسری یہ کہ جب لوگ اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ہیں تو اللّٰہ تعالیٰ آسمان سے بارش کو روک دیتا ہے، اور اگر زمین پر چوپائے نہ ہوتے تو آسمان سے پانی کا ایک قطرہ بھی نہ گرتا۔ چوتھی یہ کہ جب لوگ اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کے عہد و پیمان کو توڑ دیتے ہیں تو اللّٰہ تعالیٰ ان پر ان کے علاوہ لوگوں میں سے کسی دشمن کو مسلط کر دیتا ہے، وہ جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے چھین لیتا ہے۔ پانچویں یہ کہ جب ان کے حکمران اللّٰہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلے نہیں کرتے، اور اللّٰہ نے جو نازل کیا ہے اس کو اختیار نہیں کرتے، تو اللّٰہ تعالیٰ ان میں پھوٹ اور اختلاف ڈال دیتا ہے''۔ (سنن ابن ماجہ: ۴۰۱۹)
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے ارشاد فرمایا: ''نہیں روکا کسی قوم نے زکوٰۃ کو، مگر روک لیا اللّٰہ تعالیٰ نے ان سے بارش کو''۔ (المعجم الکبیر للطبرانی: ۱۰۹۹۲)۔ معاشی و مَہنگائی کے بحران کی واحد وجہ حکمرانوں کا سْودی معیشت اور عالمی سْودی ساہوکاری یعنی سْودی بینکاری پر انحصار ہے۔ تمام حکومتوں اور اْن کے ماتحت مالیاتی اداروں نے مالیاتی خسارہ کی اصل وجہ ''سود'' کا خاتمہ نہیں کیا گیا بلکہ پورے سْودی نظامِ معیشت کی حفاظت کی اور معاشی بحران سے نکلنے کے لیے طویل المدت منصوبہ بندی اور مؤثر و انقلابی فیصلوں سے گریز کرکے مزید قرضے لیے اورمَہنگائی کا عذاب عوام پر مسلط کردیا۔
نرخ مقرر کرنا:
حدیث میں اشارہ ہے کہ نرخ مقرر کرنا یعنی قیمتوں پر کنٹرول کرنا بیوپاریوں پر اور غلّہ کے تاجروں پر ایک مالی ظلم ہے، یہی وجہ ہے کہ رسول اکرمﷺ نے اس سے بچنے کی آرزو کی اور فرمایا ''نہ مالی نہ جانی کسی طرح کا ظلم میں نے کسی پر نہ کیا ہو''۔
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ: ''لوگوں نے عرض کیا: اے اللّٰہ کے رسول! گرانی (مَہنگائی) بڑھ گئی ہے، لہٰذا آپ (کوئی مناسب) نرخ مقرر فرما دیجیے، تو رسول اللّٰہ نے فرمایا: ''نرخ مقرر کرنے والا تو اللّٰہ ہی ہے، (میں نہیں) وہی روزی تنگ کرنے والا اور روزی میں اضافہ کرنے والا، روزی مہیا کرنے والا ہے، اور میری خواہش ہے کہ جب اللّٰہ سے ملوں، تو مجھ سے کسی جانی و مالی ظلم و زیادتی کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہ ہو (اس لیے میں بھاؤ مقرر کرنے کے حق میں نہیں ہوں)''۔ (سنن ابی داود: ۳۴۵۱، سنن الترمذی/ سنن ابن ماجہ/ مسند احمد)۔اسی طرح کی ایک حدیث حضرت ابوہریرہؓ سے بھی مروی ہے۔
جب کہ قیمتیں مقرر کرنے کے باوجود منڈی میں ان پر عمل نہیں ہوتا۔ اور چیزوں کی چور بازاری شروع ہوجاتی ہے۔ جن سے لوگوں کی اذیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔قیمتوں کے تقرر سے کسی نہ کسی کا حق سلب ضرور کیا جاتاہے، اسی لئے اس عمل سے اجتناب کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے۔
اشیاء کی قیمتوں پر سرکاری کنٹرول ممنوع ہے۔ اس سے ایک طرف اگر تجارت پیشہ حضرات کو نقصان پہنچتا ہے تو دوسری جانب تاجروں کا اشیاء کو روک لینا قحط کا سبب بن جاتا ہے۔ عوام ضروریات زندگی کی فراہمی سے مجبور ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں بلیک مارکیٹنگ کا بازار گرم ہوتا ہے۔ عوام معاشی بدحالی کا شکار ہو جاتے ہیں جس سے معاشرے میں بے چینی‘ اضطراب اور بدامنی جنم لیتی ہے۔
'سپلائی اور ڈیمانڈ' کے نظریہ کا فروغ اگر معتدل اور بہتر انداز میں ہو تو مَہنگائی پر قدغن بھی لگایا جاسکتا ہے۔ اسلامی معیشت کے تحت، اشیا اور خدمات فطری منڈی کے حالات کے تابع ہوں گی، جو ان کے خالص ترین معنوں میں سپلائی اور ڈیمانڈ سے چلتی ہیں، بغیر سود پر مبنی کریڈٹ سپلائی چین کی ہر سطح کو بگاڑتے ہیں۔ جب کہ اسلام مارکیٹ ریگولیشن کے لیے ایک غیر معمولی نقطہ نظر کو فروغ دیتا ہے، ترقی یا قیمت کے کنٹرول پر کوئی ممانعت نہیں رکھتا، یہ صارفین کے تحفظ کے لیے انتہائی حالات میں زندگی گزارنے کے لیے درکار بنیادی اصولوں (جیسے اہم خوراک اور توسیعی افادیت کے ذریعے) کی حفاظت کے ذریعے مداخلت کے ساتھ توازن رکھتا ہے۔
مَہنگائی کے دیو ہیکل بت کا سدِّ باب کیسے ہو؟:
بازار بوسہ تیز سے ہے تیز تر ظفرؔ
امید تو نہیں کہ یہ مَہنگائی ختم ہو
(ظفرؔ اقبال)
مَہنگائی تو ایک عالمی مسئلہ ہے!!! لیکن اس کے سدّ باب کے لئے ہر باشعور انسان کو اپنا حق ادا کرنا ہوگا، چاہے یہ حق انفرادی یا اجتماعی طور پر ادا ہو۔ چاہے یہ مسئلہ حکومتی یا مذہبی طور پر حل ہو، حل کرنے کے لئے پیش قدمی ضرور کرنی ہوگی، ورنہ یہ عفریت بنی نوعِ انسانی کو تباہ و برباد کر دے گی۔مَہنگائی کے اس عفریت کو بھی ہم شکست دینے میں اس وقت کامیاب ہونگے جب مَہنگائی کے دیو ہیکل جن کو فوراً سے پیشتر بوتل میں بندکرنے کے لئے کسی ٹھوس لائحہ عمل کو مرتب کریں گے، اور و ہ لائحہ عمل صرف اور صرف اسلام کے پاس ہی ہے۔ ہمیں اسلام کے نظام معیشت کا گہرائی و بینائی سے مطالعہ کرنا ہوگا، کیونکہ موجودہ مسائل کا حل اسلام ہی پیش کرسکتا ہے، کوئی اور نظام نہیں۔ دنیا کے تمام باطل نظام اپنی سانسیں گن رہے ہیں۔
مَہنگائی کے عفریت سے نجات کی راہوں میں سے ایک راہ یہ ہے کہ نظام و قیادت کی تبدیلی لازمً کی جائے۔موجودہ خون چوسنے والے نظاموں سے الگ ایک آفاقی، صالح و خدائی نظام لاگو کیا جائے۔یہ نظام دنیا پر ایک صالح قیادت ہی قائم کر سکتی ہے، لہٰذا موجودہ قیادت کی تبدیلی دنیا سے فتنہ و فساد ختم کرنے کے لئے ناگُزیر ہے۔ یہاں اب ذہن میں سوال ابھرتا ہے کہ قیادت میں تبدیلی آخر کون لائے گا؟ اس کا ایک ہی جواب ہے یہ تبدیلی عوام اور صرف عوام! ہی لاسکتی ہے۔ اس ساری بحث کا لب لباب یہ ہے کہ مور اگر نا چنا بھی چاہے تو پیروں کو دیکھ کر رو دیتا ہے۔
مَہنگائی کا علاج یہ بھی ہے کہ اشیاء کی رسد میں برکت ہو۔ حکومت کو یہی کرنا چاہیے کہ وہ مَہنگائی توڑنے کیلئے رسد میں اضافے کی کوشش کرے اور متبادل طریقے تلاش کرے۔ یہ مَہنگائی کا کامیاب علاج کرے۔
رسول اللّٰہﷺ نے قیمتوں کو مارکیٹ فورسز خصوصاً رسد و طلب کے فطری توازن کے مطابق رکھنے پر زور دیا اور مَہنگائی کے باوجود قیمتیں مقرر کرنے سے انکار کر دیا۔آپﷺ کا یہ فرمان کے اللّٰہ ہی (چیزوں کی رسد) گھٹانے بڑھانے والا ہے۔ موجودہ اکنامکس کے تصورات سے صدیوں پہلے علم کی بات ہے۔آپﷺ نے اس کے ذریعے معیشت کا ایک بنیادی اصول بیان فرمایا ہے اور منڈی کے عوامل کے آزاد رہنے کو انصاف اور عدل قرار دیا۔
بیرون ملک سے پیسہ بہت زیادہ آتا ہے کیونکہ درآمدات کی قدر کے مقابلے برآمدات میں اضافہ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں مجموعی طلب میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ صورت حال حضرت عمر بن خطابؓ کے زمانے میں پیش آئی تھی، اس وقت جو برآمد کنندگان اپنا سامان بیرون ملک فروخت کرتے تھے ان کی فروخت کی جانے والی مال کی مقدار (مثبت خالص برآمد) سے زیادہ تھی۔ اس واقعہ سے منافع بڑھے ہوئے مال کی صورت میں ملتا ہے جو مدینہ لایا جائے گا تاکہ لوگوں کی آمدنی اور قوت خرید میں اضافہ ہو۔ مجموعی مانگ میں اضافے کے نتیجے میں قیمت کی مجموعی سطح میں اضافہ ہوگا۔ اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے حضرت عمر بن خطابؓ نے مدینہ کے لوگوں کو مسلسل دو دن تک اشیاء یا اجناس کی خریداری سے منع کیا، جس کے نتیجے میں مجموعی طلب میں کمی واقع ہوئی اور قیمتیں معمول پر آ گئیں۔
ایک مرتبہ مکّہ مکرّمہ میں کشمش کی قیمت میں اضافہ ہوگیا، جس کی شکایت حضرت علی المرتضیٰؓ کے سامنے پیش کی گئی، آپؓ نے فرمایا: تم لوگ کشمش کے بدلے کَھجور استعِمال کرو (کیونکہ جب ایسا کروگے تو مانگ کی کمی کی وجہ سے) کشمش کی قیمت گِر جائے گی۔ مَہنگائی کا بہترین و عام فہم حل پیش کیا گیا۔ اس واقعے میں طلب و رسد کے فارمولہ کو بھی بہت عمدہ انداز میں سمجھایا گیا ہے۔
اسی نوعیت کا واقعہ حضرتِ ابراہیم بن اَدْھَمؒ کے دور میں ملتا ہے، کسی نے آپؒ سے کہا: گوشت مَہنگا ہوچکا ہے (کیا کرنا چاہئے؟) آپؒ نے فرمایا: اِسے سستا کردو یعنی اسے خریدنا چھوڑ دو۔ (رسالہ قشیریہ: ص22)
روایتی اور اسلامی معاشی نظام دونوں میں، قیمتوں کے تعین میں طلب اور رسد دونوں کے کردار پر زور دیا جاتا ہے۔ درحقیقت اسلامی اسکالرز کو کئی صدیاں پہلے مَہنگائی کے باعث طلب اور رسد کی اہمیت کا اندازہ ہو گیا تھا۔
حضرت ابو حازمؒ کے پاس کچھ لوگ آئے اور عرض کیا: ''اے ابو حازم! تم دیکھتے نہیں کہ مَہنگائی کس قدر بڑھ گئی ہے؟ (ہمیں اِن حالات میں کیا کرنا چاہیے؟) ابو حازمؒ نے جواب دیا کہ تمہیں غم میں ڈالنے والی چیز کیا ہے؟ (اس بات پر یقین رکھو کہ) بے شک وہ ذات جو ہمیں کشادگی والے حالات میں رزق دیتی تھی وہی ذات اب تنگی اور مَہنگائی والے حالات میں رزق دے گی (اس لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، بس اس کی نافرمانی سے بچتے ہوئے اس کی فرمانبرداری میں لگے رہو)''۔ (حلیۃ الاولیاء، ج: ۳، ص:۲۳۹)
حضرت ابو العباس سلمیؒ کہتے ہیں کہ میں حضرت بشر بن حارث کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ''جب تمہیں مَہنگائی کا حد سے بڑھ جانا فکر میں ڈالے تو تم اپنی موت کو یاد کر لیا کرو، یہ (موت کا غم اور فکر) تم سے مَہنگائی کا غم دور کر دے گا''۔ (حلیۃ الاولیاء، ج: ۸، ص:۳۴۷)
صاحب قرآن رسول اللّٰہﷺ کا فرمان ہے:"لا یدخل الجنۃ صاحب المکس" جو ٹیکس لے وہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔ (احمد، ابو داؤد، حاکم)۔ یوں اسلام میں اشیاء اور خدمات کی قیمتیں اپنی اصل پر قائم رہتی ہیں۔
رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا،" مَنْ احْتَکَرَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ طَعَامًا ضَرَبَہُ اللَّہُ بِالْجُذَامِ وَالْإِفْلَاسِ" جو کوئی اشیائے خوراک ذخیرہ کرکے مسلمانوں کو اس سے محروم کرے گا تو اللّٰہ اسے جذام اور افلاس کا شکار کر دے گا۔ (احمد و ابن ماجہ، بروایت عمرؓ، حدیث صحیح)۔ یعنی جس نے کھانے کی اشیاء کو روکا اس کی قیمت بڑھانے کے لیے یقیناً اس نے خطا کی! خطا و گناہ کی سزا اللّٰہ دنیا میں بھی دے گا آخرت میں بھی وہ بچ نہیں سکتا۔ ”جو شخص مسلمانوں کے لیے مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کی کوشش کرے گا، اللّٰہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن آگ کے مرکز میں جگہ دے گا۔“
مَہنگائی کے سدّ باب کے لئے یک حل یہ بھی ہے کہ یہ بات اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ اپنی مملوکہ (Owned) چیز کو کسی بھی قیمت پر بیچا جاسکتا ہے، لیکن مَہنگائی کی نیت سے غیر ضروری اور نامناسب نفع (Abnormal profit) اخلاقاً اور شرعاً صحیح نہیں ہے۔ اتنا پرافٹ اور مارجن نہیں رکھنا چاہیے کہ جس سے اشیائے خورد و نوش غریب کی پہنچ اور رسائی سے دور ہو جائیں۔ یہی اسلامی تعلیمات کا نچوڑ اور اصل روح ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت بلیک مارکیٹنگ کو قابو میں کرے اور منافع خوری پر کنٹرول حاصل کرے، عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹھوس حکمت عملی تشکیل دے۔ درآمدات کے مقابلے میں برآمدات کا حجم بڑھایا جائے۔ عوام کو روزگار کے نئے نئے مواقع فراہم کئے جائیں۔ مصنوعی مَہنگائی پر قابو پاتے ہوئے معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔ عوام کی قوتِ خرید بڑھائے بغیر قیمتوں میں کمی کے اعلانات محض زبانی جمع خرچ ثابت ہوتے ہیں۔ حکومتی سطح پر ایسی کوشش کی جائے کہ عوام اپنی سیونگ نکالیں، جو جی ڈی پی کا ایک اہم حصّہ ہے۔ جب عوام زیورات و پراپرٹیز کو نقد میں بدلیں گے، اسی وقت پیسہ مارکیٹ میں سرکیولیٹ ہوگا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں غیر یقینی حالات ختم ہوں گے۔
موجودہ معاشی بحران سے نکلنے کاایک حل یہ بھی ہے کہ حکومت نیک نیتی کے ساتھ آئی ایم ایف سمیت دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے سْودی قرضوں سے نجات کا منصوبہ، لائحہ عمل اور روڈ میپ تیار کرے اور غیرسْودی نظام معیشت کے لیے دْور رس منصوبہ بندی کرنے کے لیے اندرون اور بیرونِ ملک مقیم درد مند ماہرینِ معاشیات سے رہنمائی حاصل کرے۔کمرشل بینکوں کے سْودی قرضوں کے بجائے کاروباری سرمایہ فنڈ (Capital venture fund) قائم کرے جس کے تحت پبلک اور نجی سرمایہ کار افراد یا کمپنیاں کاروبار شروع کرنے کے لیے نئے کاروباری افراد کو فنڈز فراہم کریں اور اس کا منافع سرمایہ کار اور کاروبار کرنے والے افراد میں برابر تقسیم ہو اور اس میں کسی قسم کا سْود شامل نہ ہو۔ جب تک حکمرانوں نے اللّٰہ کے ساتھ معاشی جنگ بند نہ کی تب تک معاشی بحران بھی جاری رہے گا اور سیاسی بحران بھی۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے اور اسٹاک مارکیٹ میں مندی اسی قیاس آرائی کا نتیجہ ہے جو آئی ایم ایف کے قرض کی بحالی سے متعلق پائی جاتی ہے۔ ان قیاس آرائیوں کا سبب سیاسی عدم استحکام ہے۔
مَہنگائی کے جن کو بوتل میں بندکرنے کے لئے غیر سودی ذرائع یعنی مشارکہ اور مضاربہ کے طریقوں سے کاروبار کیا جائے۔ اس طریقۂ کار میں فریق ثانی کو کچھ نہ کچھ نفع حاصل ہوسکتا ہے۔ اسی وقت کچھ مل سکتا ہے جب نفع ہو اور اس سے قیمتوں پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔ جب کہ اس کے برعکس سودی ذرائع سے تمویل (Financing) میں نفع ہو یا نہ ہو، بہرصورت سود ادا کرنا ہے جو کہ Prices میں اضافہ کرتا ہے۔ اسلامی قوانین محنت اور سرمائے کے بہاؤ کی ضمانت دیتے ہیں۔ لہٰذا، لاگت میں اضافے کا امکان صفر یا بہت کم ہے۔ اسلامی نظام میں صفر کی پہلے سے طے شدہ شرح سود، روایتی نظام میں مثبت شرح سود کے برعکس، مہنگائی کی شرح کو طویل مدت تک کم رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
مذکورہ مندرجہ بالاافراط زر کے اسباب یا وجوہات میں ایک وجہ معیشت میں مجموعی سپلائی میں کمی ہے۔ ٹکنالوجی کے پیش نظر، مزدور کی فراہمی میں کمی، پیداواری زمین کی عدم دستیابی اور سرمائے کی فراہمی میں کمی کی وجہ سے ایسی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اسلامی قوانین کے تحت مستقل محنت اور سرمائے کی فراہمی کے ساتھ ساتھ پیداواری زمین کا حصول ممکن ہے۔ ان قوانین کو دو گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: وہ قوانین جن کی حوصلہ افزائی اسلامی اصولوں کی تعلیم کے ذریعے کی جاتی ہے اور ایسے قوانین جو حکومت کے ذریعے نافذ کیے جاتے ہیں۔ اسلام لوگوں کو کام کرنے کی سختی سے ترغیب دیتا ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے پیداواری زمین بھی افراطِ زر یا مَہنگائی کو کم کرنے میں ایک بڑا رول ادا کرتی ہیں۔ (i) اگر کوئی زمیندار اپنی جگہ کو ناقابل استعمال چھوڑ دے اور زمین کو اس کے معیار میں خراب ہونے دے تو اسلامی حکومت اس سے زمین چھین سکتی ہے۔ اس قانون کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ زمین پیداوار کا ایک اہم اور محدود عنصر ہے۔ (ii) کوئی شخص غیر استعمال شدہ اراضی کا مالک نہیں بن سکتا اسے ترقی دیے بغیر۔ (iii) جو لوگ قدرتی وسائل دریافت کرتے ہیں (مثلاً کانیں) ان وسائل کو غیر استعمال شدہ چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے۔ (iv) حکومت کسی شخص کو استعمال کے لیے اس سے زیادہ وسائل نہیں دے سکتی جتنا وہ شخص سنبھال سکتا ہے۔ (v) اسلام میں کسی شخص کے لیے کسی پراپرٹی کو لیز پر دینے کی ممانعت ہے اور پھر وہ شخص اس پراپرٹی کو زیادہ قیمت پر کرائے پر یا لیز پر دیتا ہے۔ اس طرح مہنگائی کا باعث بننے والا درمیانی آدمی عملاً ختم ہو جاتا ہے۔
چونکہ پہلے سے طے شدہ شرح سود ممنوع ہے، اس لیے نفع نقصان کے معاہدوں کے تحت رقوم کو پیداواری سرگرمیوں میں استعمال کیا جانا چاہیے۔مزید برآں، پہلے سے طے شدہ شرح سود لاگت کے شیڈول کو بڑھا دے گی اور اس لیے اس کا رسد پر منفی اثر پڑتا ہے۔ تاہم، منافع نقصان کے معاہدے کے تحت، یہ سپلائی اثر موجود نہیں ہے کیونکہ منافع یا نقصان کل آمدنی اور لاگت کا بقایا ہے۔ نتیجتاً، یہ آؤٹ پٹ کے فیصلے کو متاثر نہیں کر سکتا۔ (vii) جوا، قیاس آرائی اور جادو ٹونے کی سرگرمیاں جنہیں وسائل کا ضیاع سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ کسی پیداوار میں اضافہ نہیں کرتے۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اسلامی قوانین محنت، پیداواری زمین اور سرمائے کے بہاؤ کی واضح ضمانت دیتے ہیں۔ لہٰذا، لاگت میں اضافے کا امکان صفر یا بہت کم ہے۔
عصرِ حاضر میں کوئی حکومت اپنے قرض کی مالی اعانت اسلامی طریقے سے کرتی ہے، یعنی قرض کی ادائیگی کسی پیداواری سرگرمی میں فنڈ کی واپسی یا معیشت کی شرح نمو پر مبنی ہوتی ہے، تو ایسے قرض کے نتیجے میں اِفْراطِ زَر میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اگر حکومت اسلامی طریقوں سے اپنے قرض کی مالی اعانت کرتی ہے، یعنی قرض کی ادائیگی پیداواری سرگرمیوں یا اقتصادی ترقی کی شرح میں واپسی پر مبنی ہوتی ہے، تو قرض کے نتیجے میں اِفْراطِ زَر کی شرح میں کمی واقع ہوتی ہے۔
جب تک مینو فیکچرنگ نہیں بڑھے گی اور مارکیٹ میں مسابقت کا رجحان پیدا نہیں ہو گا مَہنگائی کم نہیں ہوگی۔ آمدنی و پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے مْلکی/علاقائی وسائل کو قابلِ عمل بنا کر عوامی ضروریات پورا کرے۔ غیر ضروری حکومتی اخراجات سے اجتناب کرے۔ ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرے۔ امیروں پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرے اور اْن کو حاصل اربوں روپے کی ٹیکس چھوٹ واپس لے۔ بالواسطہ ٹیکسوں کو کم کرے۔ کاروباری طبقے کو بلا امتیاز سہولتیں دے۔ زراعت کو ترقی کا محور بنا کر کسان کو خوشحال بنائے اور صنعت کاری کو فروغ دے کر عالمی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات بیچ کر زَرِ مبادلہ کمائے۔ کرپشن کو جڑ سے اْکھاڑنے اور بلا امتیاز احتساب کا نظام قائم کرے۔ معاشی مشکلات عارضی ہیں۔ آمدنی اور روزگار میں اضافہ مَہنگائی کا توڑ ہے۔
افراط زر کو کنٹرول کرنا ارباب اقتدار کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ مگر حقیقتاً تمام ہی حکومتوں کی کارکردگی اس بات کی شاہد ہے کہ بلا تفریق سبھی اہل اقتدار و پالیسی سازوں نے عوامی مسائل خصوصاً مَہنگائی کو چند مہینوں، چند ہفتوں میں حل کرنے کا خواب دکھایا، مگر جب زمامِ کار تھام لی تو یہ باور کرایا جانے لگا کہ مسائل بہت زیادہ ہیں اور حکومت کی استعداد اور وسائل محدود ہیں۔
سوال یہ بھی ہے کہ اس سسٹم کو ٹھیک کرنا اور دور رس پالیسیاں بنانا کس کا کام ہے؟ مَہنگائی کا نزول نہ تو اچانک ہوتا ہے اور نہ ہی فورا چلی جاتی ہے۔ ملکی سطح پر چارٹر آف اکانومی ترتیب دینا ہوگا، عوام کی ترقی کے لیے چارٹر آف اکانومی پر اتفاق رائے کا اظہار کرنا ہوگا۔
دوسری صورت یہ کہ cost کو Manage کیا جائے۔ کاسٹ (لاگت، اخراجات) Management کا مطلب یہ ہے کہ کاروبار کو چلانے کے لیے کاسٹ کی منصوبہ بندی کرنا اور اس کو کنٹرول میں رکھنا۔ کاسٹ دو طرح کی ہوتی ہے:
1 مقررہ لاگت (Fixed cost) 2 متغیر لاگت (Variable cost)
فکسڈ کاسٹ وہ ہوتی ہے کہ جو نارمل Capicity میں پیدوار (Production) بڑھانے سے متاثر نہیں ہوتی اور اپنی حالت پر باقی رہتی ہے۔ متغیر لاگت (Variable cost) وہ ہوتی ہے جو فی یونٹ پروڈکشن بڑھانے سے بڑھتی رہتی ہے۔ ان دونوں کاسٹ کا مجموعہ کل لاگت (Total cost) کہلاتا ہے۔ اب اگر پیداوار کا عمل (production process) چھوٹے پیمانے پر ہو تو ٹوٹل کاسٹ بہت زیادہ آئے گی، کیونکہ فکسڈ کاسٹ متعین ہے کہ جتنی بھی پروڈکشن کریں، اس میں تبدیلی نہیں آئے گی۔ اس کے برعکس اگر بڑے پیمانے پر پروڈکشن کی جائے تو ٹوٹل کاسٹ کم ہو جائے گی، کیونکہ Variable Cost فی یونٹ کے لحاظ سے بڑھے گی، جب کہ فکسڈ کاسٹ وہی رہے گی۔ پھر یہ فکسڈ کاسٹ پیداوار پر تقسیم ہو کر کم ہوجائے گی اور ٹوٹل کاسٹ میں کمی کا سبب بنے گی جس کی وجہ سے قیمتوں پر بھی اچھا خاصا اثر پڑے گا۔ قیمتیں کم ہوگئی تو لازمً مَہنگائی کم ہوگی۔
انتہاء ہوگئی تعصب و عصبیت زدہ سیاسی ماحول کی، اب ختم کی جائے یہ سیاسی نورا کشی، بنچ فکسنگ، الزامی سیاست، کروڑوں عوام کے جذبات و احساسات سے کھلواڑ تو نہ کرو۔ یہ بات سہی ہے کہ جنگلوں کا بھی کوئی طے شدہ دستور ہوتا ہے جہاں سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ بھی کبھی حملہ نہیں کرتا۔ مگر یہ انسان کا پیٹ ہے کہ بھرنے کا نام ہی نہیں لیتا۔یہ مادہ پرست و لالچی انسان اپنا مفاد و پیٹ بھرنے کے لئے لاتعداد بے بس و کمزور انسانوں کو بھوک و افلاس اور مَہنگائی کے عفریت کا شکار بنا دیتا ہے۔
مادہ پرست اور سرمایہ دارانسانوں کی مثال ایک مردار کھانے والے پرندے کی مانند ہوگئی ہے۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ گدھ ایک مردار گوشت کھانے والا پرندہ ہے۔ ایک ایسا پرندہ جس کا کھاتے ہوئے پیٹ تو بھر جاتا ہے، لیکن بھوک ختم نہیں ہوتی۔ تو بھاگنا شروع کر دیتا ہے اور بھاگتے بھاگتے کھایا ہوا الٹ دیتا ہے۔ الٹی کے بعد پھر کھانے لگ جاتا ہے۔ پھر بھی پیٹ تو بھر جاتا ہے لیکن بھوک ختم نہیں ہوتی۔ اسی طرح وہ بار بار یہی عمل دھراتا ہے۔ لیکن بھوک نہیں ختم ہوتی کیونکہ وہ حرام اور مردار کھاتا ہے۔ بلکل اسی طرح حرام کھانے سے انسان کا پیٹ تو بھر جاتا ہے لیکن بھوک ختم نہیں ہوتی۔ واقعی مَہنگائی، ذخیرہ اندوزی، بدعنوانی، اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، کرپشن کی بھوک ایسی ہی ہے۔
اپنے ذاتی اخراجات کے حوالے سے، ہمیں اپنی فکر و نظر کا جائزہ لینے کی کوشش کرنی چاہیے کہ ''ضرورت'' کیا ہے اور "خواہشات" کیا ہیں۔ "ضرورت" کو ''خواہشات'' سے الگ کرنا ہوگا۔ جسے ہم عام طور پر چاہتے ہیں، لیکن اس کی ضرورت نہیں ہے۔ایسی خواہشات کو ترک کرنا ہوگا، جس کے نتیجے میں معاشرے سے مَہنگائی کا جن بوتل میں بند ہوسکتا ہے۔
ایک بات تو طئے ہے کہ اللّٰہ نے ہر انسان کا رزق اس کی تخلیق سے پہلے محفوظ کرلیا ہے۔ جب کہ رزق کے حصول کے لیے اسباب اختیار کرنا ہم پر فرض ہے، یہ بنیادی طور پر ضروری ہے کہ ہم کبھی نہ بھولیں کہ ہمارے رزق کی مقدار زمین و آسمان کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے لکھی گئی تھی۔ ہمارے اعمال ہی اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ آیا ہماری تقدیر کی فراہمی جائز ہے یا ناجائز طریقے سے۔ امام مسلمؒ نے عبداللّٰہ بن عمرو بن العاصؓ کا قول نقل کیا ہے۔ جس میں وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللّٰہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے مخلوقات کے لیے پیمانہ مقرر کر دیا تھا۔ (صحیح مسلم: 2653)
ابو نعیمؒ نے الحلیہ میں ابو امامہؓ کی حدیث سے روایت کی ہے۔ البانی نے صحیح الجامع، 2085 میں اس کی درجہ بندی کی ہے۔ ''نبی کریمﷺ نے فرمایا: روح القدس (جبرائیل) نے مجھ پر وحی کی ہے کہ کوئی جان اس وقت تک نہیں مرے گی جب تک کہ وہ اپنی مقررہ مدت پوری نہ کر لے اور اسے پورا رزق نہ مل جائے، لہٰذا اللّٰہ سے ڈرو اور مایوس نہ ہو۔ رزق کا طالب ہو، اور تم میں سے کوئی شخص گناہ کے ذریعہ رزق کے حصول کے لیے آمادہ نہ ہو اگر اس کے پاس آنے میں سستی ہو، کیونکہ جو کچھ اللّٰہ کے پاس ہے وہ اس کی اطاعت سے ہی حاصل ہو سکتا ہے''۔
اللّٰہ ربّ العالمین! نے ہمیں ہماری ماؤں کے پیٹ میں رکھا، وہاں ہمیں رزق دیا جہاں انسانی عقل آج تک تصور ہی نہیں کرسکتی، ہماری پرورش اور پرورش ایسے وقت میں کی جب ہمارے والدین ہماری صحت مند نشوونما کے لیے صرف دعا ہی کر سکتے تھے۔ جب ہم دنیا میں داخل ہوتے ہیں اور اپنی ملازمتوں اور ذمہ داریوں کے ساتھ بالغ ہوتے ہیں، ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ اللّٰہ کے ساتھ اس ابتدائی تعلق میں کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ وہ صرف فراہم کرنے والا نہیں ہے، بلکہ وہ ہے جو ہمیشہ کامل اور حالات سے قطع نظر فراہم کرتا ہے۔ جس طرح وہ جب ہم اپنی ماؤں کے پیٹ میں تھے تو ہمیں فراہم کر رہا تھا، وہ اس وقت اور اس کے بعد ہر لمحہ ایسا ہی کرتا ہے۔ بحیثیت مسلمان، اس خوبصورت نام کے ذریعے اللّٰہ تعالیٰ سے جڑنا اور دوبارہ جوڑنا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارا رب قدرت اور غالب ہے۔ وجود میں کوئی بھی چیز اس کی مرضی کو ہونے سے نہیں روک سکتی!
قرآن مجید کی رو سے ہر چیز کا اصل مالک اللّٰہ تعالی ہے، اور اس نے انسانوں کو تمام چیزوں کے استعمال کرنے کی اجازت بطور امین اور اپنے جانشین کے دی ہے، اس لیے تمام انسان اللّٰہ کے پیدا کیے ہوئے تمام وسائل رزق پر یکساں حق رکھتے ہیں۔ اس اعتبار سے کسی شخص کو نہ ذخیرہ اندوزی کی اجازت ہے، نہ عامۃ الناس کو ناجائز طریقے سے کسی روزی سے محروم کرنے کی اجازت ہے، نہ وسائل رزق پر پابندی لگانے کی اجازت ہے، نہ وسائل رزق کو جو سب کے لیے اللّٰہ نے پیدا کیے ہیں ایک طبقے کے لیے محدود کر دینے کی اجازت ہے۔
اللّٰہ کریم ہم مسلمانوں کو اپنے در کے علاؤہ کسی کا محتاج نہ بنائے اور ہمیں بقدرِ کفایت آسان رزقِ حلال عطاء فرمائے۔ رسول اللّٰہﷺ نے ہمیں یہ دعاء بھی سکھائی ہے، اے اللّٰہ! دنیاوی کر وسائل اور اسباب کے ذریعے میرے دین کی مدد فرما۔
(11.12.2022)
مسعود محبوب خان (ممبئی)
(masood.media4040@gmail.com)
04/07, Al Afshan, Shailesh Nagar, Mumbra- 400612, (M.S.), India
Comments
Post a Comment