دوم: •مُطالَعہ کا فقدان، علمی و فکری تَنَزُّلی اور حل•

دوم:  •مُطالَعہ کا فقدان، علمی و فکری تَنَزُّلی اور حل•
        ┄┅════❁﷽❁════┅┄
     ══════•❁ا۩۝۩ا❁•══════
مُطالَعہ کا فقدان، علمی و فکری تَنَزُّلی اور حل
     ══════•○ ا۩۝۩ا ○•══════
      🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
               📱09422724040
         •┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
✿ ''مُطالَعہ'' ایک تعارف
✿ مُطالَعہ کی اہمیت و افادیت
✿   مُطالَعہ برائے کُتُب بینی
✿ مُسلم اُمّہ کا تصنیفی و غلبہ کا زرّیں دور
✿ اسلاف کا شوق مُطالَعہ
✿   مُطالَعہ کا فقدان
✿ مُسلم اُمّہ کی علمی و فکری تَنَزُّلی کا دور
✿ عدم مُطالَعہ کے اسباب
✿ مُطالَعے کے طبی فوائد
✿ "مُطالَعہ" ذہنی تناؤ کو دور کرنے کا ذریعہ
✿ کتب بینی دماغی انحطاط کو روکتی ہے ✿ حل ✿ ترغیبِ مُطالَعہ اور نئی نسل
✿ فعال نظام لائبریری
✿ تحائف اور کتب
✿ مقررہ اوقات برائے مُطالَعہ
✿ بہت مہنگی ہوئی کتاب تو
✿ انفرادی تجربے
         •┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
اسلاف کا شوق مُطالَعہ:

اسلامی تہذیب کے ہر دور میں مُطالَعہ اور کُتُب بینی کو بلند مقام رہا ہے۔ ہمارے اسلاف کی کتابوں سے والہانہ محبت کی بے شمار مثالیں موجود ہیں، صرف اس موضوع پر ہی لکھنا شروع کردیں تو بے شمار ضخیم کتابیں مرتب کی جاسکتی ہیں۔ ایک دانا بزرگ رقم طراز ہیں، ''مسلمانوں نے کُتُب اور کُتُب خانے سے تطہیر قلب و نظر اور تزکیۂ ذہن و فکر کے علاؤہ آرائشِ مکین و مکان کا بھی کام لیا تھا''۔

• عبداللّٰہ بن عمرؓ کے پوتے عبداللّٰہ بن عبدالعزیزؒ کا یہ حال تھا کہ وہ لوگوں کی صحبت سے بھاگتے تھے۔ ہمیشہ ہاتھ میں کوئی کتاب لے کر قبرستان میں چلے جاتے تھے اور اس کے مُطالَعہ میں مصروف رہتے تھے۔ لوگوں نے جب اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا: گورستان سے بڑھ کر کوئی ناصح، کتاب سے بڑھ کر کوئی مونس، اور تنہائی سے بڑھ کر کوئی محافظ ہم کو نظر نہیں آتا۔

• حضرت امام زہریؒ کے مُطالَعہ کا یہ عالم تھا کہ اِدھر اُدھر کتابیں ہوتیں اور آپ مُطالَعے میں ایسے مصروف ہوتے کہ دنیا و مافیہا کی کی خبر نہ رہتی۔ بیوی کو کب گوارا ہوسکتا تھا کہ اس کے سوا کسی اور کی اس قدر گنجائش شوہر کے دل میں ہو، چنانچہ ایک مرتبہ حضرت امام زہریؒ کی بیوی نے بگڑ کر کہا: اللّٰہ کی قسم یہ کتابیں مجھ پر ۳/ سوکنوں سے زیادہ بھاری ہیں۔

• عرب مورّخ علّامہ ابنُ الجوزیؒ فرماتے ہیں کہ: ''میری طبیعت کتابوں کے مُطالَعہ سے کسی بھی طرح بھی سیر نہیں ہوتی، جب بھی کوئی نئی کتاب نظر آجاتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا ہے۔ میں نے مدرسہ نظامیہ کے پورے کتابوں کا مُطالَعہ کیا، جس میں چھ ہزار کتابیں ہیں۔ زمانہ طالب علمی میں بیس ہزار کتابوں کا مُطالَعہ کیا ہے''۔

• ابنُ الجوزیؒ نصیحت کرتے ہیں کہ ''تمہارے گھر میں ایک ایسی جگہ ہونی چاہیے جہاں تم تنہائی میں اپنی کتابوں کی سطور سے گفتگو کر سکو اور اپنے تخیلات کی پگڈنڈیوں پہ بھاگ سکو۔

• ایک عربی کہاوت ہے کہ ''کتاب جیب میں رکھا ہوا ایک گلستان ہے''۔ خلیفہ عباسی المتوکل کے وزیر فتح بن خاقان اپنی آستین میں کوئی نہ کوئی کتاب رکھتے تھے اور جب سرکاری کاموں سے ذرا فرصت انہیں ملتی تو آستین سے کتاب نکال کر پڑھنے لگ جاتے۔

• حضرت خطیب بغدادیؒ کے مُطالَعہ کا عالم یہ تھا کہ آپؒ راہ میں چلتے بھی مُطالَعہ کرتے اس لیے کہ آنے جانے کا وقت ضائع نہ ہو۔ چینی کہاوت ہے کہ جب انسان 10/ کتابیں پڑھتا ہے تو وہ 10/ ہزار میل کا سفر طے کرلیتا ہے۔ اسی لئے شاید کسی دانا شخص نے فرمایا کہ ''جس کی بغل میں ہر وقت کتاب نہ ہو اس کے دل میں حکمت و دانائی راسخ نہیں ہوسکتی''۔

یہ عمل ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں بحسن و خوبی انجام دے سکتے ہیں۔ ہم اسلاف کی برابری تو نہیں کرسکتے مگر ان کے نقشِ قدم پر ضرور عمل کرسکتے ہیں۔ اس طرح کی مُطالَعاتی مشق کا شرف اللّٰہ ربّ العالمین! نے ذاتی زندگی میں بھی عملاً کروایا۔ واقعتاً کتاب سفر و حضر کی بہترین رفیق ہے۔ دورانِ طالب علمی اسکول کے لئے مجھے لوکل ٹرین میں وکھرولی سے CSMT (وی ٹی) کا سفر کرنا ہوتا تھا، دورانِ سفر عصری نصابی کتب کے ہمراہ اسکول کی لائبریری سے اسلامی لٹریچر یا اسلامی ناول یا کبھی کبھار ادب و تاریخ کی کتاب اپنے ہمراہ رکھتا تھا، الحمد اللّٰہ! ہمارے اسکول کی لائبریری کافی معیاری اور وسیع تھی۔ جہاں وقت میسر ہوتا، وہیں کتاب کا مُطالَعہ کرلیتا۔ نتیجتاً جب کبھی کسی کا انتظار یا کوئی سفر در پیش ہوتا تو پتہ ہی نہیں چلتا کہ وقت اتنی آسانی سے کہاں گذرا۔ اس وقت خواہش یہ ہوتی کہ کاش ٹرین یا بس تھوڑی تاخیر کا شکار ہو جائے اور چند اوراق یا سطریں مزید پڑھ سکوں۔ اس طرح کتاب بھی لائبریری میں مقید رہنے سے بچ جاتی اور عقل و فہم بھی علم کے دریا کی روانی میں موجزن ہوتی رہی۔

• فنِ حدیث کے بہت بڑے عالم امام احمد بن محمد المقریؒ کے متعلق ”تذکرۃ الحفّاظ“ میں امام ذہبیؒ نے نقل کیا ہے کہ آپ کو ایک کتاب سے حوالہ نقل کرنے کیلئے  70 دن کا سفر کرنا پڑا۔ وہ کتاب اس حالت میں تھی کہ اگر کسی نان بائی کو دیکر ایک روٹی بھی خریدنا چاہتے تو شاید وہ اس پر بھی تیار نہ ہو“۔

•     علامہ ابن رشدؒ کے بارے میں ہے کہ ''وہ اپنی شعوری زندگی میں صرف دو راتوں کو مُطالَعہ نہیں کرسکے''۔

•     کتاب ''شاہراہِ زندگی پر کامیابی کا سفر'' صفحہ91 میں 350  کتابوں کے مصنف، عربی، فارسی، یونانی اور سنسکرت زبانوں پر عبور رکھنے والے جلیل القدر ادیب، نثر نگار، دانشور اور صاحبِ اسلوب انشاء پرداز ابو عثمان الجاحظ (عمرو بن بحرین بن محبوب) کے متعلق پڑھا کہ وہ کتاب فروشوں کی دکانیں کرایہ پر لے لیتے اور ساری رات کتابیں پڑھتے رہتے۔

• شمس الآئمہ امام سرخسی ؒ کو جب قید کردیا گیا تو انہوں نے جیل کے کنویں میں میں بیٹھ کر اپنی ایک معرکۃ الآرا ء کتاب ”المبسوط“ لکھی جس کی30 جلدیں ہیں۔

• علامہ انور شاہ کشمیریؒ جب بیماری کے ایام میں تھے، اور غلط خبر افواہ بھی انتقال کی اڑ گئی تھی، اس موقع پر آپ کے شاگرد علامہ شبیر عثمانی وغیرہ کا ایک وفد ملاقات کے لئے آیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ نماز کی چوکی پر بیٹھے سامنے تکئے پر رکھی ہوئی کتاب کے مُطالَعہ میں مصروف ہیں اور اندھیرے کی وجہ سے کتاب کی طرف جھکے ہوئے ہیں، یہ منظر دیکھ سب حیران رہ گئے شاگردوں نے اس وقت مشقت نہ اٹھانے کی درخواست کی تو انہیں جواب دیا؛ بھائی ٹھیک کہتے، لیکن کتاب بھی ایک روگ ہے، اس روگ کا کیا کروں؟

•     بقول پروفیسر محسن عثمانی ندوی کے ''انسان کا دانشورانہ مزاج کبھی، کسی ماحول میں کتاب پڑھ لینے سے نہیں بنتا ہے، علمی ذوق کا مطلب یہ ہے کہ ہر حالت میں، صحت اور بیماری میں، حالتِ اقامت میں اور حالتِ مسافرت میں کتابوں کا سفر جاری رہے''۔

سلف صالحین کا مطالعہ ذوقِ تالیف و تصنیف ہمارے سامنے ہے، جن سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات کا مقصد حیات بس ایک ہی تھا وہ ہے، علم میں درجہ کمال حاصل کرنا، یہ مطالعہ کے ساتھ ہوگا۔

مُطالَعہ کا فقدان:

مُطالَعے کا فقدان ایک عام مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اس کا اندازہ ہمیں روزمرّہ زندگی میں لوگوں کی گفتگو کے موضوعات اور ان کی آراء کی سطحیت دیکھ کر ہوتا ہے۔ اخلاقی گراوٹ اور معاشرتی پسماندگی کی بنیادی وجہ بھی کُتُب بینی کا فقدان ہی ہے۔ ''ورقی کتابیں اور برقی کتابیں''، ''پیپر پرنٹ اور ای پرنٹ'' مسئلہ دونوں کے درمیان مسابقت کا نہیں، بلکہ ذوقِ مُطالَعہ کے فقدان کا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ زندگی کی رنگین رعنائیوں کو ترک کرکے بھلا کون عقلمند انسان ان دقیق خشک کتابوں کا مُطالَعہ کرکے کیوں اپنا وقت ضائع کرے گا۔ اس بات کو سوچنے کی زحمت کی گوارہ نہیں کرتے کہ مُصنّف یا محرر کتنی پریشانیوں کا سامنا کرتے ہوئے اپنے تجربات و مشاہدات قلم بند کررہا ہے۔ بعض اوقات تو مجھے بے شمار کتاب کے مصنف ایک مسیحا سے کم نظر نہیں آتے، جو خود تو چلے جاتے ہیں مگر اپنا علم آنے والی نسلوں کیلئے چھوڑ جاتے ہیں۔ اب تو ہمارا حال یہ ہوگیا ہے کہ کتابیں تو بہت دور اب تو چند صفحات پر مشتمل طویل مضامین پڑھنا بھی مشکل سے مشکل تر ہوگیا ہے۔ بعض اوقات رفقاء اس بات کا اظہار کر دیتے ہیں کہ آپ کے مضامین معیاری ہوتے ہیں مگر مضامین کافی طوالت کا شکار ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں مکمل مضمون پڑھنا ہمارے بس کی بات نہیں۔ کچھ لوگ جملے بازیوں سے کام لیتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مُطالَعے سے جان چھڑانے کے یہ سب حیلے بہانے ہیں۔ ہمارے پاس دنیا بھر کی ذہنی عیاشی کا وقت ہے، مگر وقت نہیں ہے تو مُطالَعے کا!!!

کتاب کا اپنا ایک لطف ہے اور ای بکس کا بھی اپنا لطف ہے، تاہم ہم اور ہمارے جیسے بہت سے لوگوں کے لئے پہلی شناسائی کاغذ پر شائع شدہ کتابوں سے ہی ہوئی سو ہمارے لئے وہی مقدم ہے تاہم ای بکس بھی کسی حد تک نعم البدل کا کام تو کرتی ہیں۔ ایک تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ 2011ء؁ کے مقابلے میں 2020ء؁ میں مصنفین اور ادیبوں کی تعداد میں 32/ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2019ء؁ کے اعدادو شمار کے مطابق سب سے زیادہ کتابیں امریکہ کے طلبہ لکھتے ہیں۔ اسی طرح گزشتہ 3/ برسوں میں ای بک پڑھنے کا رجحان بھی کم ہوا ہے۔ لوگ آن لائن سے زیادہ آف لائن کتابیں پڑھ رہے ہیں۔

سعود عثمانی کا شعر جس کے اندر ایک تلخ حقیقت کو انوکھے اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔    ؎
کاغذ کی یہ مہک، یہ نشہ روٹھنے کو ہے
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی

نجی سروے کے مطابق عالم عرب میں فرد کے مُطالَعہ کی سالانہ شرح محض ''ربع صفحہ'' ہے۔ مزید ایک رپورٹ کے مطابق عربوں میں سالانہ 80/ افراد مل کر ایک چھوٹی سی کتاب کے برابر مُطالَعہ کرتے ہیں؛ جب کہ تنہاء ایک یورپی شخص سال میں 35/ کتابیں پڑھتا ہے، اسی طرح اسرائیلی شخص سال بھر میں 40/ کتابوں کا مُطالَعہ کرلیا کرتا ہے۔

کتابوں اور مُطالَعہ سے اجتناب نے مسلمانوں کی نئی نسل کو دینی و عصری علوم سے محروم کر دیا ہے۔ یہی وہ محرومی ہے جس کی وجہ سے ہم سطحیت، لا اُبالی پن اور ناعاقبت اندیشی کے گرداب میں من حیث القوم دھنستے چلے جارہے ہیں۔ ملت اسلامیہ ہند کی تَنَزُّلی کے اسباب میں سے ایک بنیادی سبب کتاب کلچر کا ناپید ہوجانا ہے۔ مُطالَعہ کا فقدان، کُتُب بینی کا کم ہوتا ہوا رحجان ہمیں پستی کی عمیق گہری کھائی میں پھینک رہا ہے۔ نئی نسل کو کُتُب بینی کی ترغیب کے نتیجے میں ہی کُتُب شناسی کی طرف راغب کیا جاسکتا ہے۔
(جاری)
5/2
           •┅┄┈•※‌✤م✿خ✤‌※┅┄┈•
                     (31.12.2022)
           🍁 مسعود محبوب خان 🍁
        Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
                      ○○○○○○○○○


Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam