اول: •مُطالَعہ کا فقدان، علمی و فکری تَنَزُّلی اور حل•
اول: •مُطالَعہ کا فقدان، علمی و فکری تَنَزُّلی اور حل•
┄┅════❁﷽❁════┅┄
══════•❁ا۩۩ا❁•══════
مُطالَعہ کا فقدان، علمی و فکری تَنَزُّلی اور حل
══════•○ ا۩۩ا ○•══════
🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
✿ ''مُطالَعہ'' ایک تعارف
✿ مُطالَعہ کی اہمیت و افادیت
✿ مُطالَعہ برائے کُتُب بینی
✿ مُسلم اُمّہ کا تصنیفی و غلبہ کا زرّیں دور
✿ مُطالَعہ کا فقدان
✿ اسلاف کا شوق مُطالَعہ
✿ مُسلم اُمّہ کی علمی و فکری تَنَزُّلی کا دور
✿ عدم مُطالَعہ کے اسباب
✿ مُطالَعے کے طبی فوائد
✿ "مُطالَعہ" ذہنی تناؤ کو دور کرنے کا ذریعہ
✿ کتب بینی دماغی انحطاط کو روکتی ہے ✿ حل ✿ ترغیبِ مُطالَعہ اور نئی نسل
✿ فعال نظام لائبریری
✿ تحائف اور کتب
✿ مقررہ اوقات برائے مُطالَعہ
✿ بہت مہنگی ہوئی کتاب تو
✿ انفرادی تجربے
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
''مُطالَعہ'' ایک تعارف:
عربی زبان کے لفظ ''مُطالَعہ'' کے معنی پڑھنے اور جائزہ لینے کے ہیں۔ لغت میں مُطالَعہ کے معنیٰ یہ ہے کہ کسی چیز کو اس سے واقفیت حاصل کرنے کی غرض سے دیکھنا۔ مُطالَعہ کے اصطلاحی مفہوم ہیں، بذریعہ تحریر مصنف و مؤلف کی مراد سمجھنا ہے۔
یہاں ایک چیز سمجھنے کی ہے کہ مُطالَعہ اور مُشاہَدَہ دونوں کے مفہوم علیحدہ علیحدہ ہیں۔ مُطالَعہ کا اطلاق عرفِ عام میں کتب بینی اور ورق گردانی پر ہوتا ہے۔ مُشاہَدَہ یہ ہے کہ ہم کائنات کی تمام اشیاء، حالات، کیفیات، صفات اور جذبات وغیرہ کا غور و خوض کریں، اس کا عینی تجربہ یا معائنہ کریں؛ جب کہ مُطالَعہ یہ ہے کہ اچھا مُشاہَدَہ کرنے والوں نے جو کچھ لکھا ہے اسے پڑھا جائے اور اس میں غور کیا جائے۔ یہ حقیقت ہے کہ انسان کتاب کے مُطالَعے سے آغاز کرتا ہے پھر کائنات کے مُطالَعہ مُشاہَدَہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
کتاب کے مُطالَعے سے انسان نیا علم سیکھتا ہے، نئے راستے نکالتا ہے، تاریخ کا علم حاصل کرکے موجودہ دور کا مُشاہَدَہ کرتا ہے، اپنی پریشانیوں کا حل نکالتا ہے اور انہی کتابوں سے وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک کتاب ہی انسان کے ذہن کو کشادہ کرتی ہے اور انسان کو ذہنی غلامی کا شکار ہونے سے بچاتی ہے۔ مُطالَعہ کبھی باضابطہ بھی ہوسکتا ہے اور اتفاقی اور گزر وقت کا شوق بھی ہوسکتا ہے۔ مُطالَعہ کو روح کی غذا بھی کہا گیا ہے۔ مُطالَعہ تحصیل علوم و معارف کے لیے تفصیلی، تحقیقی، تجزیاتی اور فکری عمل کا نام بھی ہے۔ مُطالَعہ ذہنی و علمی ترقی کا باعث اور انسانی شخصیت کی تکمیل کا سبب بھی ہے۔ زندگی، جسم اور روح کے مجموعے کا نام ہے۔ مُطالَعہ جسم کی نشوونما اور روح کی تسکین کا ذریعہ ہے۔
مُطالَعہ کی اہمیت و افادیت:
اللّٰہ کے رسولﷺ پر بھی علم و قلم کے ذریعے نزولِ کتاب ہوا، کیونکہ آپﷺ نے غار میں جاکر فہم و ادراک کے ذریعے اس کا مُطالَعہ و مشاہدہ کیا۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جو "ریڈر" ہوتے ہیں وہی "لیڈرز" ہوتے ہیں۔مُطالَعۂ کتب کی اہمیت و افادیت مسلمانوں کے نزدیک ایک تسلیم شدہ، مقبول و مصدق امر ہے، جس کا انکار کسی سطح پر ناممکن ہے۔
ہم اس بات سے واقف ہیں کہ خطابِ الٰہی کا پہلا لفظ ہی اقراء (پڑھو) ہے، اسی لفظ سے اللّٰہ ربّ العزّت! نے اپنے رسول، معلّمِ انسانیت ﷺ کی نبوت و رسالت کا پیغام دنیائے انسانیت کو دیا اور یہی پہلا حکم ہے جو اللّٰہ تعالیٰ نے خاتم النبینﷺ کو عطاء فرمایا۔ دنیا کے مختلف علوم و معارف اور اسرار و رموز اگر ہمیں کسی جگہ سے دستیاب ہو سکتے ہیں،تو وہ کتاب ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ علم و حکمت کو کتاب کی صورت میں جمع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
امام حاکمؒ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”علم کو کتاب میں قید کرو یعنی لکھا کرو“۔ اسی بنا پر علماء و مفکرین ''کتاب'' کو کنز اور خزانہ قرار دیتے تھے۔فرمانِ نبیﷺ ہے: علم حاصل کرو کیونکہ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے سبب قوموں کو بلندیوں سے نوازتا ہے اور انہیں نیکی و بھلائی کے کاموں میں ایسا رہنما اور ہادی بنا دیتا ہے کہ ان کی پیروی کی جاتی ہے۔ اور حصولِ علم کے لیے چار چیزوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔(1) پڑھنا (2) لکھنا (3) سننا (4) دیکھنا۔ ان سب میں بہترین ذریعہ حصولِ علم، پڑھنا (مُطالَعہ کرنا) ہے۔ مشہور مقولہ ہے: مُطالَعہ کرنے والی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں۔
امام ابو عبداللّٰہ محمد بن اسماعیل بخاریؒ سے پوچھا گیا حافظے کی دوا کیا ہے؟ آپؒ نے ارشاد فرمایا کتب کا مُطالَعہ کرتے رہنا حافظے کی مضبوطی کے لیے بہترین دوا ہے''۔ لہٰذا جس قدر کتابوں کا مُطالَعہ کیا جائے گا اس قدر علم زیادہ اور پختہ ہوگا۔ مُطالَعہ کسی سے اختلاف کرنے یا فصیح زبان میں گفتگو کرنے کی غرض سے نہ کرو بلکہ اپنے ذاتی حصولِ علم اور فہم و ادراک کی خاطر کیا کرو، اس کے نتیجے میں ملّت فتنہ و فساد اور انتشار کا شکار نہیں ہوگی۔ بقول مفکر ''مُطالَعے سے خلوت میں خوشی، تقریر میں زیبائش، ترتیب و تدوین میں استعداد اور تجربے میں وسعت پیدا ہوتی ہے''۔ مُطالَعہ کی بنیاد پر انسان کی شخصیت کی تعمیر و عکاسی ہوتی ہے۔ انسان کی گفتگو، فہم و ادراک اس کے مُطالَعہ کا آئینہ دار ہوتے ہیں۔ مُطالَعہ کے نتیجے میں دماغی انحطاط اور تَنَزُّلی کا تدارک ہوتا ہے۔ مُطالَعہ انسان کو مختلف قوموں کے حالات اور ان کے تہذیب و ثقافت وغیرہ سے آگاہی بخشتا ہے۔
مُطالَعے سے انسان کے اندر تحقیقی اور تجزیاتی سوچ پروان چڑھتی ہے، جس کے نتیجے میں انسان مذہبی و دینی، علمی و عملی، ذہنی و فکری، قومی اور بین الاقوامی امور پر ایک واضح سوچ رکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ ایک کثیر المُطالَعہ شخص کو کسی جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے متاثر نہیں کیا جاسکتا ہے، ایسا شخص بڑی تیزی سے کسی بھی معاملے کی تہ تک پہنچنے کی صلاحیت حاصل کرلیتا ہے۔
مُطالَعہ برائے کُتُب بینی:
سُرورِ علم ہے کیفِ شراب سے بہتر
کوئی رفیق نہیں کتاب سے بہتر
اس بندۂ خدا کی نظر میں ''کتاب تنہائی کی ہمنشین اور سفر میں بہترین ہم سفر اور زاد راہ ہے''۔ ہمیں کتابوں کی عزّت و توقیر اور احترام لازمً کرنا چاہئے۔ اپنے اسلاف کے مخزنِ فکر و فن تک رسائی حاصل کرنے کیلئے کتاب سے عشق اور احترامِ کتاب ہم پر لازم ہے۔
گر خواہش ہے رمز تحقیق و علم کی
غزالیؒ کے مخزنِ فکر و فن کی
پھر لازم ہے تم پر احترام ِ کتاب
پھر لازم ہے تم پر احترامِ کتاب
انگریزی کا ایک مشہور مقولہ ہے: When you open a book, you open a new world.
(یعنی جب آپ کتاب کو پڑھنے کے لیے کھولتے ہیں تو آپ ایک نئی دنیا میں داخل ہوجاتے ہیں۔)
اگر واقعی یہ صلاحیت کسی کتاب میں موجود ہے تو وہ ہے اللّٰہ ربّ العالمین کی جانب سے نازل کردہ کتاب قرآن کریم، یہ بڑی و راہنما کتاب ہمارے ایمان کا حصّہ بھی ہے۔ بحیثیتِ مسلمان ہمارے نزدیک یہ عظیم و نایاب، عقیدے و ایمان کی حیثیت میں دنیا کی تمام کتابوں میں سب اوّل و مقدس کتاب ہے۔ اللّٰہ کی یہ کتاب سارے عالم کے لئے نعمتِ عظمٰی ہے۔ جس کے مُطالَعے میں نیکیاں اور ثواب بھی ہیں اور دنیا و آخرت دونوں جہان میں کامرانی و کامیابی بھی ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جو انسان کو ظلمات کی تاریکیوں سے نکال کر نور سے منور کرتی ہے۔ ہمیں سب سے پہلے اپنی اس کتابِ مقدس کے مُطالَعے کا حق ادا کرنا چاہیے۔
عالمی یوم کتاب (World Book Day) 1995ء سے ہر سال دنیا بھر میں 23/ اپریل کو یونیسکو کے تحت منایا جاتا ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر عوام میں مُطالَعہ و کُتُب بینی کو فروغ دینا، اشاعتِ کتب اور اس کے حقوق کے سلسلے میں شعور بیدار کرنا اور مختلف انداز سے کتاب کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرنا ہے۔
کتاب انسان کی سب سے بے مثال دوست ہے، انسان کتاب کے ساتھ کبھی تنہا نہیں رہ سکتا، دنیا میں کتابوں سے دلچسپی رکھنے والوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔کسی مفکر کے خیال میں ''مہذب افراد کی پہچان یہ ہے کہ ان کے مُطالَعہ میں ہر وقت کوئی اچھی کتاب رہتی ہے''۔ کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا میں مُطالَعے کے بہت سے طریقہ کار موجود ہیں مگر کتاب کی دائمی اہمیت اپنی جگہ قائم و دائم ہے۔ آج بھی کتابوں کے بغیر پڑھائی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
کتاب اور علم دوستی معاشی خوشحالی اور معاشرتی امن کی ضامن ہے۔ کتابیں بلند خیالات اور سنہری جذبات کی دستاویزی یادگار ہوتی ہیں۔ کُتُب بینی کے نتیجے میں انسان اپنے مقصد حیات کو متعین کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، جو ایک بامقصد زندگی گزارنے کیلئے از حد ضروری ہے۔
جذبات انسان کے دل کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔کتب بینی جذباتی ذہانت کو بڑھانے اور اسے کنٹرول کرنے کا باعث بھی بنتی ہیں۔مطالعے سے انسان میں بردباری کی صفات پیدا ہوجاتی ہیں۔کتاب قوم کو تہذیب و ثقافت، دینی و معاشی اور سائنسی علوم سے روشناس کروانے کے ساتھ ساتھ انسان کی بہترین دوست بھی ہے۔
کُتُب بینی کے کئی فوائد ہیں، کتب بینی سے علم اور ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ ہوتا ہے۔ کتب بینی سے انسان کے اندر تحقیقی اور تجزیاتی سوچ پروان چڑھتی ہے۔ مُطالَعۂ کُتُب سے فصاحت و بلاغت کی صفت پیدا ہوتی ہے۔ جذبات انسان کے دل کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔کتب بینی جذباتی ذہانت کو بڑھانے اور اسے کنٹرول کرنے کا باعث بھی بنتی ہیں۔ مُطالَعے سے انسان میں بردباری کی صفات پیدا ہوجاتی ہیں۔
ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی کا کہنا ہے کہ کتاب کا مُطالَعہ قدیم زمانے ہی سے انسان کی ذہنی تربیت اور نشوونما کا اہم ترین ذریعہ رہا ہے۔ بری صحبت سے تنہائی بہتر ہے، لیکن تنہائی سے پریشان ہو جانے کا اندیشہ ہے، اس لئے اچھی کتابوں کے مُطالَعے کی ضرورت ہے۔ (امام غزالیؒ)
امریکی ناول نگار جارج مارٹن کتابوں کے مُطالَعے کے بارے میں لکھتے ہیں: ”جو شخص کتابیں پڑھتا ہے وہ ہزاروں زندگیاں جیتا ہے جب کہ نہ پڑھنے والا شخص صرف ایک زندگی جیتا ہے“-
مُسلم اُمّہ کا تصنیفی و غلبہ کا زرّیں دور:
آج سے کئی سو سال قبل اپنے اسلاف، علمائے کرام، مسلم مفکرین اور دانشوران کی زندگیوں کا جب ہم بغور مطالعہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے شب و روز کا بیشتر حصہ مُطالَعہ کُتُب اور تصنیف و تالیف میں گزرتا تھا۔
عالم اسلام مُطالَعے اور کتب نویسی کا ایسا قدر دان تھا کہ مسلم اہل اقتداروں نے غیر عربی تصنیفات کو عربی میں منتقل کرنے والے مترجمین کی اس حد تک قدر کی انہیں اس کتاب کے برابر سونا تول دیا گیا۔ خلیفہ ہارون الرشید اور کاتب ”ابنِ اسحاق“ کا واقع بھی اس فہرست میں شامل ہے۔ اسلامی تاریخ میں کتابوں کا وجود‘ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونے کا سبب بن گیا تھا، یعنی لڑکیوں کو جہیز میں کتب خانے دیئے جاتے تھے۔ تاریخ اس بات کی بھی شاہد ہے کہ جنگوں میں صلح کی شرطوں میں کتابوں کے تراجم کی شرط رکھی گئی۔ خلیفہ مامون الرشید اور روم کے بادشاہ کے درمیان اس شرط پر صلح ہوئی کہ وہ اپنی تمام کتابوں کے تراجم کرنے کی اجازت دینگے۔
اسلاف کی تصانیف کا جائزہ لیں تو ہمیں رشک ہوتا ہے کہ ہم بھی اسی اُمّت کے فرد ہیں جنہوں نے علم و تصانیف کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں۔ ابن رشدؒ، کی تصانیف کم سے کم تعداد 67 /ہے، جن میں سے 28/ فلسفے، 20 /طِب، 8 /قانون، 6 /الٰہیات اور 4 /کتابیں زبان و بیان پر لکھیں گئی ہے۔ امام غزالیؒ، نے 70 /سے زائد کتابیں تصوف، قانون، فقہ اور فلسفے کے موضوعات پر لکھیں۔ بُوعلی سِیناؒ، وہ فلسفی، طبیب، عالم، اسلام کے عظیم تر مفکر ہیں جنہوں نے 450 /کتابیں لکھیں ہیں۔ ابو علی الحسن بن الہیثمؒ، نے طِب، فلسفہ، الٰہیات، فلکیات، ریاضی، طبیعات وغیرہم پر 45 /کتابیں لکھیں ہیں۔ احمد بن محمد الریحان البیرونیؒ، تاریخ دان، ماہر لسانیات طبیعات، ریاضی اور فلکیات ہیں،14 /ضخیم کتابیں لکھیں۔ ابن ماجہؒ الربعی القزوینی، منطق، فلسفہ، ریاضی، مابعد الطبیعات اور اخلاقیات پر درجن بھر سے زائد کتب لکھیں۔ یعقوب الکندیؒ، 200/ سے زائد کتابیں فلسفہ، نجوم، فلکیات، موسیقی، ریاضی، سیاست اور طبیعات پر لکھیں۔لکھنا چاہوں تو اور بھی بے شمار شخصیات ہیں جنہوں نے کتابوں اور علم کے میدان میں انمول خدمات انجام دی ہیں، مگر آپ لوگوں کا زیادہ وقت نہ لوں گا۔
(جاری)
5/1
•┅┄┈•※✤م✿خ✤※┅┄┈•
(30.12.2022)
🍁 مسعود محبوب خان 🍁
Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
○○○○○○○○○
Comments
Post a Comment