سوم: •مُطالَعہ کا فقدان، علمی و فکری تَنَزُّلی اور حل•
سوم: •مُطالَعہ کا فقدان، علمی و فکری تَنَزُّلی اور حل•
┄┅════❁﷽❁════┅┄
══════•❁ا۩۩ا❁•══════
مُطالَعہ کا فقدان، علمی و فکری تَنَزُّلی اور حل
══════•○ ا۩۩ا ○•══════
🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
✿ ''مُطالَعہ'' ایک تعارف
✿ مُطالَعہ کی اہمیت و افادیت
✿ مُطالَعہ برائے کُتُب بینی
✿ مُسلم اُمّہ کا تصنیفی و غلبہ کا زرّیں دور
✿ اسلاف کا شوق مُطالَعہ
✿ مُطالَعہ کا فقدان
✿ مُسلم اُمّہ کی علمی و فکری تَنَزُّلی کا دور
✿ عدم مُطالَعہ کے اسباب
✿ مُطالَعے کے طبی فوائد
✿ "مُطالَعہ" ذہنی تناؤ کو دور کرنے کا ذریعہ
✿ کتب بینی دماغی انحطاط کو روکتی ہے ✿ حل ✿ ترغیبِ مُطالَعہ اور نئی نسل
✿ فعال نظام لائبریری
✿ تحائف اور کتب
✿ مقررہ اوقات برائے مُطالَعہ
✿ بہت مہنگی ہوئی کتاب تو
✿ انفرادی تجربے
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
تجزیہ کار مسلم معاشرے میں کُتُب بینی کے فروغ نہ پانے کی وجوہات میں کم شرح خواندگی، صارفین کی کم قوت خرید، حصول معلومات کے لئے موبائل، انٹرنیٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال، ڈیجیٹل انفارمیشن کی ترویج، کمرشلائزیشن، تیز رفتار طرز زندگی، اچھی کتابوں کا کم ہوتا ہوا رجحان، حکومتی عدم سرپرستی اور لائبریریوں کے لئے مناسب وسائل کی عدم فراہمی کے علاؤہ خاندان اور تعلیمی اداروں کی طرف سے کُتُب بینی کے فروغ کی کوششوں کا نہ ہونا بھی شامل ہے۔
علامہ اقبالؒ نے شکایت کا انداز اختیار کرتے ہوئے، امت مسلمہ سے فرمایا تھا:۔ ؎
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں
مُسلم اُمّہ کی علمی و فکری تَنَزُّلی کا دور:
تاریخ شاہد ہے کہ جس قوم نے مُطالَعے و مشاہدے، علم و تحقیق، تالیف و تصنیف کا دامن چھوڑا وہ دنیا میں ذلیل و رسوا ہوئیں۔ اُمّت مسلمہ کا زوال اس کی زندہ مثال ہے، چشمِ فلک نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ 7/ ویں صدی سے 13/ ویں صدی تک بغداد علم و ادب اور تحقیق و تصنیف کا گہوارہ رہا۔ سقوطِ بغداد کے وقت مسلمانوں کے عظیم کتب خانے دریائے فرات میں بہا دیئے گئے۔ یہ اس قدر ضخیم ذخیرہ تھا کہ دریا کا پانی اس کی سیاہی سے سیاہ ہو گیا۔ جب اندلس میں پندرہویں صدی عیسوی کے آخر میں اسلامی حکومت ختم ہوئی تو غرناطہ کی بڑی لائبریری کو بھی ملکہ ازابیلا نے جلوا دیا۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ صلیبی جنگجوں میں صرف طرابلس میں 30/ لاکھ کتابیں تباہ کی گئیں اور غرناطہ کے ایک میدان میں ایک دن میں 10 /لاکھ کتابیں جلائی گئیں۔
حکم ثانی کے دورِ خلافت میں قرطبہ کتابوں کی دنیا میں "عالمی علمی مارکیٹ" کی حیثیت سے دنیا بھر میں سرِ فہرست شمار کیا جاتا تھا۔ وہاں کُتُب فروشوں کی دکانیں 20/ ہزار تک جا پہنچی تھیں۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمان کتابوں کا مُطالَعہ کرتے اور اسے محفوظ کرکے اس کی عزت و احترام کرتے تھے۔ مگر رفتہ رفتہ علم و مُطالَعے کے فقدان نے مسلمانوں کو رسوائی کی سمت ڈھکیل دیا۔ مسلم اُمہ کے لئے آج افسوس کا مقام ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ کتابیں فروخت ہونے والے 28 /ممالک کی فہرست میں ایک بھی مسلم ملک نہیں ہے۔
افسوس صد افسوس! ایک جانب مسلمانوں نے اپنی علمی شان و شوکت کو خود ہی مسخ کردیا اور دوسری جانب اہل یورپ نے مسلمانوں کے علمی مراکز، بالخصوص ہسپانوی مراکز سے استفادہ کر کے علم و تحقیق کی دنیا میں قدم رکھا۔ ہمارے آباء و اجداد کے تقریباً 6/ لاکھ کُتُب کے انمول علمی خزانے آج بھی لندن کی ”انڈیا آفس لائبریری“ کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ ان میں عربی، فارسی، ترکی اور اردو میں علمی و تحریری کتابوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ اہل مغرب نے ہماری کُتُب سے فائدہ اٹھا کر ترقی کی راہیں طے کی ہیں۔ ہم کتابوں سے دور ہوئے تو علم سے دور ہوگئے۔ اسی درد کو حکیم الامّت علامہ اقبالؒ نے محسوس کیا اور اس کا اظہار اپنے شعر سے کر دیا: ؎
مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آباء کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا
عدمِ مُطالَعہ کے اسباب:
لوگوں کی اکثریت کتابیں تفریح کے لیے پڑھتی ہیں، جب کے کتابوں کا مُطالَعہ حصولِ علم کی خاطر زیادہ ہونا چاہیے۔ کتابیں جو کہ تفریح کے ساتھ ساتھ مقصد حیات کو بھی متاثر کرتی ہے اس کو پڑھنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کے لئے اپنے دماغ اور قلب و نظر کو مُطالَعہ یکسو کیا جائے اور اس کی لذت کو محسوس کیا جائے۔ ہم ٹھہرے سَہْل پَسَنْد لوگ ہمیں اتنی فرصت کہاں کہ ہم یہ سب کچھ کریں پھر ہم بآسانی ٹکنالوجی کے تفریحی مواد کا غیر متوازن استعمال کرنے لگ جاتے ہیں۔
کتابوں سے عدمِ دلچسپی کی بہت بڑی وجہ یہ کہ ہماری قوم میں سَہْل پَسَنْدی (easiness) اور تفریحاتی رجحانات بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ لوگ خشک اور کم دلچسپ موضوعات سے گھبراتے ہیں۔ اس کے برعکس اُن کا رجحان تفریحاتی سرگرمیوں میں بہت زیادہ ہے۔
عدمِ مُطالَعہ کے اسباب مندرجہ ذیل بھی ہیں۔ اہل علم کی ناقدری، علماء مُطالَعے سے غافل، ذہنی عیاشی پر مبنی واعظ و نصیحت، جدید موضوعات پر کتب کا فقدان، اساتذہ میں مُطالَعہ کا فقدان ہے، اساتذہ کا زبان پر عبور شاذ و نادر ہی اس پر کریلا نظر آتا ہے، طلباء کی غربت، خطباء و مقررین کی جانب سے مُطالَعے کی فکر نہ دینا، کُتُب خانوں میں مخصوص کتب کا ہونا اور لائبریری کا اپڈیٹ نہ ہونا، نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کا فقدان اور اپنی مسند کے زوال کا توہم، محرر کا انداز اسلوب' غیر ضروری طوالت، طلبہ کا غیر محفوظ مستقبل جو انہیں مُطالَعے سے دور رکھتا ہے۔
ناقص تعلیمی نظام کی وجہ سے طالب علم صرف ٹیکسٹ بکس اور نوٹس تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔ ملک میں جو کتابیں چھپ رہی ہیں، وہ اس قدر مہنگی ہیں کہ عام آدمی اسے خرید نہیں سکتا۔ لوگ لائبریریوں میں جانے کے بجائے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ آج عالمی معیار کی لائبریریوں کا فقدان ہے۔ جو لائبریریاں موجود ہیں ان میں جدید ٹیکنالوجی کا فقدان ہے۔ تعلیمی نظام کو ابھی کافی سفر طے کرنا ہے۔ پھر کہیں جا کر ایسی پختہ ذہنی بلوغت کی حامل تہذیب پیدا ہوگی جو اپنے معاشرے میں کتاب کو اس کا صحیح مقام دے سکے۔
کتابوں سے دوری کی ایک بڑی وجہ طرزِ زندگی (life style) کا تبدیل ہو جانا ہے۔ ہم لوگوں کی زندگیاں بہت مصروف ہوگئی ہیں۔ اپنے لئے معیاری وقت (quality time) نکالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے لوگوں میں مثبت مشاغل اپنانے یا ان کو جاری رکھنے کا ٹرینڈ ختم ہوتا جا رہا ہے۔
الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا پر غیر ضروری مصروفیات اور ضرورت سے زیادہ انحصار بھی کُتُب بینی سے دوری کا سبب ہے۔ موجودہ دور کی سب سے بڑی تبدیلی ٹیکنالوجی ہے جس نے زندگی کا سارا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ آج کی نسل اس کے غیر متوازن استعمال کی وجہ سے اسکرین ایڈکشن کا شکار ہوتی جارہی ہے جس کا تناسب وقت کے ساتھ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔
کتاب انسان کے حاصل کردہ علم کی منظم و مرتب صورت، اس کے افکار وخیالات کا مجسمہ، اسے فروغ دینے کا لاثانی وسیلہ ہے۔ جدید ٹیکنالوجی یا انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مقبولیت سے قبل طلباء و طالبات میں کتابوں کے مُطالَعہ کا بے حد رجحان پایا جاتا تھا۔ انٹرنیٹ، آن لائن، الیکٹرانک ڈیوائسز یا الیکٹرانک گیجٹس کے ذریعے مُطالَعہ کے باعث، کُتُب بینی یا کتاب کلچر تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے یہ تمام آلات کسی کتاب کے مُطالَعہ کا نعم البدل نہیں بن سکتے۔
اپنی پسند کی کتابوں کو انٹرنیٹ پر ڈھونڈنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، انٹرنیٹ پر اپنے منتخب کردہ موضوع پر کتاب ڈھونڈنا از حد مشکل ہے، اس لئے نہیں کہ کتابیں موجود نہیں بلکہ معیاری کتابیں حاصل کرنا مشکل و مہنگا ہے۔
کچھ افراد نے کتابوں کے مُطالَعے کو شاید روٹی روزی کمانے کا ذریعہ بنا دیا ہے، جسے شاعر نظیر باقریؔ نے اپنے شعر میں یوں بیان کرتے ہیں:۔ ؎
کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے سوال یہ ہے کتابوں نے کیا دیا مجھ کو!
انسانوں کی پستی یہاں تک پہنچ گئی ہیں کہ اب کتابیں فٹ پاتھ پر رکھ کر ردّی کی قیمت میں تول کر فروخت کی جا رہی ہیں، جب کہ جوتے مہنگی دکانوں میں سجا کر قیمتی داموں میں بیچے جارہے ہیں۔ بقول شاہ محمد مری "کتابوں کی دکانوں کو جوتے کے کاروبار نے دھکا دے کر خودکو میز پر سجا لیا"۔ ممبئی میں کئی علاقے نظر آئیں گے جہاں کتاب فروخت ہونے کے لئے فٹ پاتھ پر پڑی اپنی بے بسی اور تربت پر مرثیہ پڑتی نظر آتی ہیں، کتابوں کی یہ حالت دیکھ کر واقعی دل خون کے آنسو روتا ہے۔
واقعی یہ ہماری بدقسمتی اور ہمارے لیے لمحہئ فکریہ ہے کہ اس وقت ہمارے معاشرے میں کتاب کی بجائے جوتوں کو ترجیح دی جا رہی ہے اور کتابیں فٹ پاتھ پر جب کہ جوتے قیمتی الماریوں میں پڑے نظر آتے ہیں۔کتابوں کی داستان بھی عجب ہے۔ کبھی انہیں آگ لگائی گئی تو کبھی دریا برد کیاگیا، کبھی چرا لیا تو کبھی دفنا دیا گیا۔ کبھی یہ شاہی دربار کی زینت بنیں تو کبھی فٹ پاتھ پر کوڑیوں کے دام فروخت ہوئیں۔ واہ رے انسان علم و حکمت کے ذریعے کو کیسے کیسے ذلیل و رسوا کیا!!!
اس مضمون کو تحریر کرتے وقت ایک پرانا واقعہ یاد آگیا، اس واقعہ سے اندازہ ہوجائے گا کہ ہمارے معاشرے میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کے پاس علم، کتاب اور مُطالَعے کی کتنی قدر و منزلت ہے۔ واقعہ یوں ہے، میرے ایک قریبی دوست، اپنی محترمہ کے ساتھ میرے گھر تشریف لائے۔ ان کی محترمہ پی ایچ ڈی ہیں اور شہر اورنگ آباد کے ایک بڑے کالج میں پرنسپل ہیں، انہوں نے میری ذاتی لائبریری سے اچھی خاصی کتابیں مُطالَعے کی گرز سے لئے لیں۔ دراصل میری ہر کتابوں پر میرے نام و پتہ کی مہر لگی ہوتی ہے۔ اسی لئے ایک لمبے عرصے کے بعد مجھے مرزا ورلڈ بک ڈپو، اورنگ آباد سے فون آتا ہے کہ آپ کی کتابیں ردّی والا فروخت کرنے کے لئے لے آیا ہے۔ کتابیں زیادہ تھیں اس لئے انہوں نے ساری کتابیں ردّی والے خرید لی اور میری کتابیں انہوں نے مجھے لوٹا دیں۔ لیکن مجھے شدّت سے ان محترمہ پر بے حد غصّہ آیا جنہوں نے پہلے تو امانت میں خیانت کی، دوسرے یہ کہ کتابوں کی بے ادبی کی، جب کہ محترمہ خود اپنے نام کے ساتھ ادیبہ فلاں فلاں لکھتی ہیں۔ ان کے تو تعلیم یافتہ ہونے پر ہی افسوس ہورہا ہے۔
جب مندرجہ بالا حقیقی مناظر کو نظروں کے سامنے سے گذرتے دیکھا تو اس دن محسوس ہوا کہ ہماری اخلاقی پستی،علمی پسماندگی اور دیگر اقوام کی نسبت فکر و فن کے میدان میں پیچھے رہ جانے کی ایک بہت بڑی وجہ کتاب سے لاتعلقی اور اس عظیم ثقافتی ورثے کی قدر نہ کرنا بھی ہے۔
(جاری)
5/3
•┅┄┈•※✤م✿خ✤※┅┄┈•
(01.01.2023)
🍁 مسعود محبوب خان 🍁
Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
○○○○○○○○○
Comments
Post a Comment