پنجم: •مُطالَعہ کا فقدان، علمی و فکری تَنَزُّلی اور حل•

پنجم:  •مُطالَعہ کا فقدان، علمی و فکری تَنَزُّلی اور حل•
        ┄┅════❁﷽❁════┅┄
     ══════•❁ا۩۝۩ا❁•══════
مُطالَعہ کا فقدان، علمی و فکری تَنَزُّلی اور حل
     ══════•○ ا۩۝۩ا ○•══════
      🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
               📱09422724040
         •┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
✿ ''مُطالَعہ'' ایک تعارف
✿ مُطالَعہ کی اہمیت و افادیت
✿   مُطالَعہ برائے کُتُب بینی
✿ مُسلم اُمّہ کا تصنیفی و غلبہ کا زرّیں دور
✿ اسلاف کا شوق مُطالَعہ
✿   مُطالَعہ کا فقدان
✿ مُسلم اُمّہ کی علمی و فکری تَنَزُّلی کا دور
✿ عدم مُطالَعہ کے اسباب
✿ مُطالَعے کے طبی فوائد
✿ "مُطالَعہ" ذہنی تناؤ کو دور کرنے کا ذریعہ
✿ کتب بینی دماغی انحطاط کو روکتی ہے ✿ حل ✿ ترغیبِ مُطالَعہ اور نئی نسل
✿ فعال نظام لائبریری
✿ تحائف اور کتب
✿ مقررہ اوقات برائے مُطالَعہ
✿ بہت مہنگی ہوئی کتاب تو
✿ انفرادی تجربے    ✿ مُطالَعہ کیسے ہو؟
         •┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
تحائف اور کُتُب:

مُطالَعہ کے ذوق کو پروان چڑھانے کے لئے کتابوں کو بطور تحائف دوستوں اور بچوں کو دینا بھی کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔ خوشی و غم کی تقریبات میں اپنے عزیز و اقرباء اور بچوں کو کتاب کے ذریعے مُطالَعے کی ترغیب دلانے کے لئے کردار ساز کتابیں پیش کریں۔ ان شاء اللّٰہ! اس عمل سے بھی ایک صالح و پاکیزہ معاشرہ عمل میں آئے گا۔

مقررہ اوقات برائے مُطالَعہ:

ابنِ سینا ایامِ طالب علمی میں ایک کامل رات اس کی آنکھوں نے نیند کا لطف نہیں اٹھایا۔ ایک ایک کتاب کو کوئی بار پڑھا۔ اہم بات یہ ہے کہ مُطالَعے کے لئے ایک متعین لائحہ عمل ہونا چاہئے کیونکہ یہ فطری اصول ہے کہ جو کام نظم و ضبط کے ساتھ کئے جائیں‘ وہ اس کام کی نسبت جس میں نظم و ضبط کا فقدان ہو زیادہ بہتر ہوگا۔ کسی کام کو نظم و ضبط سے سر انجام دینے کے لئے سب سے اوّلین شرط پابندی وقت اور باقاعدگی کی ہوتی ہے۔ علّامہ مجدد الدین فرماتے ہیں کہ "میں ہر روز جب تک دو سطریں حفظ نہ کر لیتا رات کو آرام نہ کرتا۔ مُطالَعہ کا یہ شوق سفر میں بھی کم نہ ہوتا تھا۔ آپ جب سفر کے لیے باقی سامان ساتھ لیتے تو چند اونٹوں پر صرف کتابیں لدی ہوتیں "۔ ؎
جب کتابوں سے میری بات نہیں ہوتی ہے
تب میری رات، میری رات نہیں ہوتی ہے

مُطالَعہ خواہ کتابوں کو ہو یا اچھی تحریروں کا ایک مفید مشغلہ ہے اسی لئے روزانہ کے معمول میں مقررہ اوقات مُطالَعہ کے لئے متعین یا مختص کرلیں، جس کے نتیجے میں مُطالَعے کی عادت کو زندگی میں بحال کیا جاسکتا ہے، ویسے تو زیادہ سے زیادہ اوقات مُطالَعہ کے لئے وقف کر دینا چاہیے۔ایسی عادت ڈالئے کہ جس دن مُطالَعہ نہ ہو اس دن طبیعت میں اضطراب پیدا ہو۔ مُطالَعہ کی عادت انسان کو بہت ساری منفی اور بے فائدہ مصروفیات سے بچا لیتی ہے۔ وقت کو قیمتی بناتی ہے۔ مُطالَعہ سے انسان کو تعلیم اورشعور و آگہی ملتی ہے جو کہ دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ مُطالَعہ انسان کے حافظہ کو تیز کرتا ہے اور دماغ کو وسعت بخشتا ہے' مُطالَعہ حصول علم کا ایک مؤثر ذریعہ ہے اورعلم بڑی دولت ہے۔

دنیا کے کئی ممالک میں طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی کتاب ایک ہفتہ میں مکمل کرے۔ انگلستان میں 15/ گھنٹے روزانہ مُطالَعہ کیا جاتا ہے۔ جاپان اور کینیڈا میں ہر طالب علم کے لیے لازمی ہے کہ وہ کم از کم ایک کتاب کے پندرہ صفحات کا روزانہ مُطالَعہ کرے۔

بہت مہنگی ہوئی کتاب تو:

مہنگائی کی وجہ سے لوگوں میں کسی بھی چیز کی قوتِ خرید باقی نہیں رہی۔ کچھ ماحول اور کُتُب کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث بہت سی کتابوں تک رسائی بھی نہیں ہو پاتی۔ دو شعبے ہیں جہاں کتاب سستی ہونی چاہئے، ایک تعلیم اور نصاب اور دوسرے ادب۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ انہی دونوں شعبوں میں کتاب کی قیمت غیر معمولی طور پر بلند ہے۔ نہ جانے کیوں؟ طلباء بھی اپنے طے شدہ نصاب کی کُتُب کے علاؤہ کوئی کتاب نہیں پڑھتے۔

ہمارے معاشرے پر نظر ڈالی جائے تو مایوسی کے ساتھ یہ معلوم ہوگا کہ بہت محدود تعداد میں لوگ کتابوں میں پوشیدہ اصولوں کو اپناتے ہیں۔ عصری تعلیمی اداروں میں ایک محدود نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ نصابی کتابوں کے علاؤہ بھی علم کی ایک وسیع و عریض دنیا ہے۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ مُطالَعہ میں وسعت پیدا کی جائے، غیر نصابی تحریروں کا مُطالَعہ بھی لازماً کیا جائے، کیونکہ یہی انسانی شعور میں گہرائی کا سبب بنتا ہے اور انسان کی فکر و نظر کو محدود رکھنے کے بجائے اس میں وسعت پیدا کرتا ہے۔

بات ترجیحات کی ہے قیمت کی نہیں۔ ہم سب کا مقصد کُتُب بینی کو فروغ دینا ہی ہے جس میں کامیابی اسے اوّلین ترجیحات میں شامل کر سکتی ہے۔ ہم جسم زیب و آرائش کے لئے قیمتی سے قیمتی زیورات، مہنگے سے مہنگے لباس زیب تن کرتے ہیں، لیکن اصلاحِ ذات کے لئے کتاب مہنگی لگتی ہے۔کیبل اور وائی فائی کے کنیکشن کروا سکتے ہیں، مگر مہینے میں کم از کم ایک کتاب نہیں خرید سکتے۔ چھٹی صدی کے ایک عالم امام ابن الخشابؒ ایک واقعہ نظروں سے گذرا موصوف نے ایک دن ایک کتاب 500 /درہم میں خریدی، قیمت ادا کرنے کے لیے کوئی چیز نہ تھی، لہٰذا تین دن کی مہلت طلب کی اور مکان کی چھت پر کھڑے ہو کر مکان بیچنے کا اعلان کردیا اور اس طرح اپنے شوقِ مُطالَعہ کی تکمیل کی۔ یہ تو عزیمت کا مظاہرہ ہے مگر ہم بھی کوئی سبیل تو نکال ہی سکتے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ خون کو منجمد کرنے والی مہنگائی کے اس دور میں کُتُب کی بہت زیادہ قیمتیں ایک بڑا سبب بن گئی ہیں کُتُب بینی یا مُطالَعہ کے کم ہونے کا۔ اس مسئلہ کا حل یہ نکالا جاسکتا ہے کہ مُطالَعہ کا ذوق و شوق رکھنے والوں کا ایک حلقہ بنایا جائے اور زیادہ قیمتوں والی کُتُب کو شراکت داری یا پھر باری باری کے حساب سے خرید کر استفادہ کیا جائے۔

اپنے ماہانہ خرچ (Monthly Expenses) میں استطاعت کے مطابق کُتُب و رسائل کی خریداری کے اخراجات کا حصّہ بھی شامل کرلیں۔ کتابوں کی دکان کا دورہ اپنی آل و اولاد کے ساتھ کرنے کی کوشش کریں، گنجائش کے مطابق اگر سب کے لئے کتابیں خرید سکتے ہیں، ضرور خریدیں۔ اگر معاشی تنگی کا شکار ہیں تو کتابچے ہی خرید لیں۔ اللّٰہ تعالیٰ آپ کی نیتوں کو دیکھ رہا، وہی مسبب الاسباب ہے، کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکالے گا۔

کتابوں کی دکان کا دورہ کریں:

اپنے شہر کے کُتُب خانوں پر چاہے وہ دینی یا عصری نوعیت کے ہی کیوں نہ ہو، وہاں کم از کم مہینے میں ایک بار ضرور جائیں۔ کُتُب فروش سے ذاتی تعلق کو استوار کریں، اس کا فائدہ آپ کو ضرور نظر آئیے گا۔ کُتُب خانوں پر مختلف ذہنوں کے افراد کے ساتھ آپ کے روابط قائم ہونگے، جس کے نتیجے میں آپ کی فہم و ادراک کو جلا ملے گی۔ مختلف عنوانات پر کتابوں کی ورق گردانی کی وجہ سے آپ کے ذوقِ مُطالَعہ میں اضافہ ہوگا۔

پُرسکون دارالمُطالَعہ کا قیام:

ہنگامہ آرائی و بے ہنگام شور شرابے سے بچتے ہوئے پُرسکون جگہ کو مُطالَعے کے لئے مختص کریں۔ گھر میں ایک کونہ ایسا رکھیں جہاں آپ یکسوئی سے اپنے مُطالَعے پر توجہ دے سکیں۔ اگر وہ میسّر نہ ہوں تواپنے مسکن کے قرب و جوار میں پہاڑوں کا دامن، سمندر و دریا کا کنارا، کچھ نہ ملے تو قبرستان بھی پرسکون جگہ ہیں، جہاں مُطالَعے کو مزید تقویت ملے گی کیونکہ ایک تو قبرستان کا روح پرور احتساب و جائزہ کا ماحول دوسراخوف ِ آخرت کا پرورش ہوتا ماحول۔

ہمارے اسلاف کی زندگی میں ہمارے لئے نمونے ہیں۔
• عبداللّٰہ بن عمرؓ کے پوتے عبداللّٰہ بن عبدالعزیزؒ کا یہ حال تھا کہ وہ لوگوں کی صحبت سے بھاگتے تھے۔ ہمیشہ ہاتھ میں کوئی کتاب لے کر قبرستان میں چلے جاتے تھے اور اس کے مُطالَعہ میں مصروف رہتے تھے۔ لوگوں نے جب اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا: گورستان سے بڑھ کر کوئی ناصح، کتاب سے بڑھ کر کوئی مونس، اور تنہائی سے بڑھ کر کوئی محافظ ہم کو نظر نہیں آتا۔

• شمس الآئمہ امام سرخسی ؒ کو جب قید کردیا گیا تو انہوں نے جیل کے شور شرابے سے اپنے کو آپ کو محفوظ کرتے ہوئے کنویں میں بیٹھ کر اپنی ایک معرکۃ الآرا ء کتاب ”المبسوط“ لکھی جس کی 30 جلدیں ہیں۔

انفرادی تجربے:
اس ضمن میں یہ بندہ چند قریبی احباب کو جانتا ہوں، جو نئی نسل میں مُطالَعے کے ذوق کو پروان چڑھانے کے لئے محلہ واری سطح پر بک بینک کلب کو متعارف کرا رہے ہیں اپنے طور پر یا یوں کہہ لیں اپنی مدد آپ کے طور پر۔ اورنگ آباد میں ہمارے عزیز و رفیق مولانا عبد القیوم ندوی اور ان کی بیٹی مریم اس نوعیت کی تحریک کے روحِ رواں ہیں۔  انہوں نے اس مائیکرو لائبریری کی تحریک کو کم وقت میں شہر کے بڑے محلّوں میں متعارف کروایا ہے۔ جس کی وجہ سے معصوم بچوں میں مُطالَعے کا رحجان پروان چڑھایا جارہا ہے۔ الحمد اللّٰہ! اس سعی و جہد کے نتیجے میں بیٹی مریم بنت عبدالقوم ندوی کو امیریکن فیڈریشن آف مسلم انڈین اوریجن (AFMI) کی جانب سے 31/ دسمبر 2022ء؁ کو عالمی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس سعی و جہد کو شرفِ قبولیت بخشے۔

جب کہ بے دار و زندہ ذہنوں کو کتابوں کی ضرورت ہوتی ہے، جیسے تلوار کو پتھر کی ضرورت ہوتی ہے، اگر اسے اپنی دھار برقرار رکھنا ہے۔    ؎
بارود کے بدلے ہاتھوں میں آ جائے کتاب تو اچھا ہو
اے کاش ہماری آنکھوں کا اکیسواں خواب تو اچھا ہو
"دنیا میں سب سے عزّت والی جگہ گھوڑے کی زین ہے اور زمانے میں بہترین رفیق کتاب ہے"۔ نوبل انعام یافتہ جارج برنارڈ شوا کا کہنا تھا، ''خیالات کی جنگ میں کتابیں ہتھیار ہیں ''۔ لیکن آج ہم اس محاذ پر بھی شاید پیچھے رہ گئے ہیں۔ یونانیوں، رومیوں، مسلمانوں اور یورپیوں کا اس کرہئ حیات پر حکمرانی کے پیچھے واحد راز علم، سائنس اور ٹیکنالوجی ہی ہے۔جس سے بدقسمتی سے آج بحیثیت قوم ہم ناآشنا ہے۔شائقینِ علم و دانش نے کتب بینی سے جِلا بخشی ہے، لیکن عصرِ حاضر میں اس قوم کے نوجوانوں میں کتاب پڑھنے کا ذوق و شوق عدم توجہی کا شکار ہوتا جارہا ہے۔

ہمارے نوجوانوں کا ارتکاز، علمی خزانے سے متضاد ہے، حالانکہ "مُطالَعہ" قوت ارتکاز کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جس معاشرے سے مُطالَعے کا ذوق اور عادت ختم ہو جائے وہاں علم کی پیداوار بھی ختم ہوجاتی ہے۔ اسی لئے اصل چیز ہے ذوقِ مُطالَعہ، اگر یہ پیدا ہوجائے تو دماغ تھکتا ہے نہ دل بھرتا ہے۔ اس ذوقِ مُطالَعہ کو ہمیں اپنے نوجوانوں اور نئی نسل میں دوبارہ پروان چڑھانا ہوگا۔اس کے لئے ایک ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دینا ہوگا۔ میں اپنے اس مضمون کے توسط سے اپنے نوجوانوں اور نئی نسل کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اللّٰہ کے واسطے کتابوں سے اپنا مضبوط رشتہ استوار کریں اور سوشل میڈیا کے غیر ضروری استعمال سے گریز کریں ورنہ کتاب سے دور رہنے والے نوجوان نہ تو ماضی سے آشنا ہوتے ہیں اور نہ ہی مستقبل کے لئے کارآمد۔

اگر ہم نے اپنے نوخیز نسلوں میں ادبی و تحریری مقابلوں کو جاری رکھا، مکالمے‘ مذاکرے اور کتاب میلوں کا یہ سلسلہ تسلسل اور مقصد و نصب العین کے ساتھ جاری و ساری رکھا، تو اللّٰہ کی ذات سے قوی اُمید ہے کہ اُمّت میں مُطالَعے کا ذوق و شوق مزید بیدار ہوگا، کتابوں کو بھی نئی زندگی ملے گی اور اس سے کسبِ فیض کے نتیجے میں قاری، مصنف، محرر اور حاحبانِ ذوق کو بھی معیاری مُطالَعے کی ترغیب ملے گی اور دلچسپی میں اضافہ بھی ہوگا۔ کتابوں کے میلے یا بُک فیسٹیولز منعقد کرنے کا رواج تو کافی قدیم ہے، مگر موجودہ بُک فیسٹیول کا جائزہ لیں تو ہم اس نتیجے پر پہنچے گے ماشاء اللّٰہ! آج بھی کتابوں کو خریدنے رحجان زندہ ہے۔ Low profile  ہی سہی مگر زندہ ہے۔

بقول امریکی شاعر اور انشائیہ نگار ہینری ڈیوڈ تھَرو ''تہذیب، کتابوں کے شانوں پر ہی سفر طے کرتی ہے۔ کتابیں نہ ہوتیں تو تاریخ خاموش، ادب بے زبان، سائنس معذور اور خیال و قیاس ساکت ہی رہتے۔ کتابوں کے بغیر تہذیب کا ارتقائص ناممکن تھا''۔

مُطالَعہ کیسے ہو؟:

مُطالَعہ کیسے ہو؟ اس نکتے پر میں تکنیکی اعتبار سے گفتگو نہ کرتے ہوئے اس کے اصولی پہلوؤں کو زیرِ بحث لانا چاہوں گا۔ مُطالَعے کے تکنیکی پہلو پر بہت کچھ مواد آپ کو مل ہی جائے گا۔ مُطالَعے کا اصولی پہلو ہمارے سامنے واضح طور پر عیاں رہنا چاہئے۔

شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلویؒ کا ایک مقولہ ہے: ''جب کسی کتاب کے مُطالَعہ کا ارادہ کرو تو پہلے اس کے نام کو دیکھو، اگر نام ہی اصل مضمون کے مناسب نہ ہو تو اس کو چھوڑ دو، پھر تمہید کو دیکھو، اگر وہ کتاب کے مضمون کے مناسب نہیں ہے تو چھوڑ دو، اس کے مُطالَعہ میں وقت ضائع نہ کرو، جب نام اور تمہید میں مناسبت دیکھ لو تب آگے بڑھو''۔

مولانا نعیم صدیقیؒ صاحب رقم طراز ہیں: ”بنیادی طور پر قرآن و حدیث اور ان سے متعلق علوم پر جس حد تک ممکن ہو نگاہ ہونی چاہئے،پھر حضور نبی اکرمﷺ کی سیرت اور صحابہ کرامؓ کے سیرت پر نظر ہونی چاہئے... ضروری ہے مُطالَعہ کا سفر کرنے والا ہر شخص کم از کم اپنے ملک اور اپنی قوم؛ بلکہ اپنی تہذیب کے ادبیات سے واقف ہو“۔ پروفیسر عبدالمغنی کہتے ہیں: ''مُطالَعہ کی غرض علم کا حصول اور راہ عمل کی تلاش ہے''۔

ہمارے ہاں کتب شناسی کا رحجان بہت کم ہوگیا ہے۔ معیاری کتابیں کم لکھی جارہی ہیں، جب کہ غیر معیاری کتابوں کی بھرمار ہے۔ جس کی وجہ سے پڑھنے اور مُطالَعے کرنے شرح بہت کم ہوگئی ہے۔ مولانا نور عالم خلیل امینیؒ نے ایک نقطہ کی جانب توجہ دلائی وہ یہ ہے کہ: ''آج لوگ لکھنے والے زیادہ اور پڑھنے والے کم ہوگئے جس کے نتیجے میں تحریر کی اثر آفرینی ختم ہوگئی؛ اس لیے تحریر کو مؤثر بنانے کے لیے ضرورت ہے کہ ایک صفحہ کو لکھنے کے لیے سو صفحات کا مُطالَعہ ہو''۔

بنیادی کتابوں کا مُطالَعہ لازماً کریں۔ ہمارے نزدیک کتابوں کے مُطالَعے کا انتخاب کا مرحلہ واقعی بہت نازک ہوتا ہے، مزید یہ کہ جس طرح کتابوں کے انتخاب کا مرحلہ بڑا نازک ہے، اسی طرح مُطالَعہ میں ترتیب کی رعایت بھی بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ اسی لئے کوئی بھی کام بدریج انجام دیں، اس لیے مُطالَعہ کے معیار کو بتدریج بڑھایا جائے، کہیں ہم سے یہ عمل نہ سرزد ہوجائے کہ نورانی قاعدہ اور ناظرہ و تجوید کے بغیر ہی قرآن کے حفّاظ بننے کی خواہش موجزن ہونے لگ جائے۔ اسی لئے مُطالَعے کے لئے بنیادی و فکری کتابوں کا مُطالَعہ ہو، جس کتاب کا بھی مطالعہ کریں‘ اس کتاب کا حاصلِ مُطالَعہ ہم ذہن یا کسی ذاتی نوٹ بک میں محفوظ کرلیں۔ مُطالَعہ کے بعد حاصل مُطالَعہ کی بھی بڑی اہمیت ہے۔

مولانا نعیم صدیقیؒ ایک جگہ کتابوں کے مواد کو یاد کرنے ضمن میں فرماتے ہیں کہ: ”میری ذہنی ساخت یوں بنی کہ میں حاصل مُطالَعہ کو دماغ میں ڈال دیتا اور میرے اندر اس پر غور و بحث کا ایک سلسلہ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، کھانا کھاتے جاری رہتا یہاں تک کہ اس کا مثبت یا منفی اثر میرے عالم خیال پر رہ جاتا“۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ مُطالَعے کی نوعیت کسی بھی قسم کی ہو، اس مُطالَعے کو کثیر المقاصد، کثیر الفوائد اور جامع بنانے کی کوشش کریں۔ کسی بھی تحریر کا انتہائی گہرائی سے اور تجزیاتی طریقے سے مُطالَعہ کریں۔ اس میں استعمال کئے گئے نئے اور عمدہ الفاظ، خوبصورت تراکیب، محاورات، ضرب الامثال، مصرعے و اشعار، الفاظ کی مختلف قسمیں، یعنی مترادف، متضاد، ذومعنی وغیرہ اور تشبیہات و استعارات کو الگ الگ سمجھیں اور پھر انہیں اپنے پاس نوٹ کریں۔ دورانِ مُطالَعہ کارآمد مقامات کو تین درجوں یعنی اہم، زیادہ اہم اور اہم ترین میں تقسیم کرتے ہوئے ہر ایک کو الگ انداز سے محفوظ کریں۔ ان نقاط کو مدنظر رکھتے ہوئے مُطالَعہ کے طریقہ کار کو بہتر بناکر نہ فقط ذوق مُطالَعہ پیدا ہوگا، ساتھ ہی مُطالَعہ فائدہ مند اور ثمر بخش بھی ثابت ہوگا۔

دنیا کی سب سے اہم آخری الہامی کتاب قرآن پاک ہے، جو زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں راہنمائی دیتا ہے۔ یہ کتاب ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔قرآن کریم اور سیرتِ رسول اللّٰہﷺ نے مسلمانوں میں مُطالَعے، غور وفکر، مشاہدات اور لکھنے پڑھنے کا غیر معمولی ذوق پیدا کیا، یہ ذوق صرف مذہب تک محدود نہیں رہا، بلکہ علم کی تمام شاخوں تک پھیل گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہزار ہا ہزار برس تک مسلمانوں نے دنیا پر حکومت کی لیکن جیسے ہی مسلمانوں نے علم و مُطالَعے سے منہ موڑا، زوال ان کا مقدر بن گیا، اور غیر مسلم علم کی طلب کی وجہ سے دنیا کے حکمران بن گئے۔

ہمیں اپنے روشن ماضی سے سبق حاصل کرنا ہوگا، اور اس کی روشنی میں ایک نیا لائحہ عمل ترتیب دینا ہوگا۔ جب تک ہم کتابوں سے استفادہ نہیں کریں گے، تب تک ہم ایک مثبت تبدیلی کی محض خواہش ہی کرسکتے ہیں۔ اللّٰہ ہماری نسلوں میں مثبت تبدیلی جلد سے جلد لائے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہم بے عمل و ناقص المُطالَعہ بندوں کو مُطالَعہ کا ذوق اور کتابوں سے شغف عطاء فرمائے۔ (آمین)
ایک شعر کا مصرعہ پسند آیا سوچا اس مضمون کا اختتام اس پر کیا جائے۔     ؎
قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو

                        (ختم شدہ)
           •┅┄┈•※‌✤م✿خ✤‌※┅┄┈•
                     (03.01.2023)
           🍁 مسعود محبوب خان 🍁
        Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
                      ○○○○○○○○○
(masood.media4040@gmail.com)
04/07, Al Afshan, Shailesh Nagar, Mumbra- 400612, (M.S.), India.

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam