چہارم: •مُطالَعہ کا فقدان، علمی و فکری تَنَزُّلی اور حل•

چہارم:  •مُطالَعہ کا فقدان، علمی و فکری تَنَزُّلی اور حل•
        ┄┅════❁﷽❁════┅┄
     ══════•❁ا۩۝۩ا❁•══════
مُطالَعہ کا فقدان، علمی و فکری تَنَزُّلی اور حل
     ══════•○ ا۩۝۩ا ○•══════
      🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
               📱09422724040
         •┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
✿ ''مُطالَعہ'' ایک تعارف
✿ مُطالَعہ کی اہمیت و افادیت
✿   مُطالَعہ برائے کُتُب بینی
✿ مُسلم اُمّہ کا تصنیفی و غلبہ کا زرّیں دور
✿ اسلاف کا شوق مُطالَعہ
✿   مُطالَعہ کا فقدان
✿ مُسلم اُمّہ کی علمی و فکری تَنَزُّلی کا دور
✿ عدم مُطالَعہ کے اسباب
✿ مُطالَعے کے طبی فوائد
✿ "مُطالَعہ" ذہنی تناؤ کو دور کرنے کا ذریعہ
✿ کتب بینی دماغی انحطاط کو روکتی ہے ✿ حل ✿ ترغیبِ مُطالَعہ اور نئی نسل
✿ فعال نظام لائبریری
✿ تحائف اور کتب
✿ مقررہ اوقات برائے مُطالَعہ
✿ بہت مہنگی ہوئی کتاب تو
✿ انفرادی تجربے
         •┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
مُطالَعے کے طبی فوائد:

کتابیں پڑھنا آپ کی جسمانی اور ذہنی صحت دونوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ سوتے وقت معیاری، اچھی کتاب کا مُطالَعہ نیند کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ سوتے وقت ہم معمول بنالیں کے اسمارٹ فون کے استعمال کو ترک کرکے کتابوں کے مُطالَعہ کا آغاز کردیں۔ ماہرینِ طِب اس پر متفق ہیں کہ کتاب پڑھنے سے ذہنی سکون ملتا ہے اور نیند جلدی آتی ہے۔ محققین نے ایم آر آئی اسکینگ کی مدد سے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پڑھنے میں دماغ میں سرکٹس اور سگنلز کا ایک پیچیدہ نیٹ ورک شامل ہوتا ہے، جیسے جیسے آپ کی پڑھنے کی صلاحیت پختہ ہوتی جاتی ہے، وہ نیٹ ورک بھی مضبوط اور زیادہ نفیس ہوتے جاتے ہیں۔

"مُطالَعہ"  ذہنی تناؤ کو دور کرنے کا ذریعہ:

ایک طبی تحقیق جو کہ 12/سال کے تجربات پر منحصر ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ کیسے ذہنی تناؤ اور تشویش کو کم کرنے کے لئے "مُطالَعہ" کیسے مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ کتب بینی یا  مُطالَعے کی عادت کے نتیجے میں جسم کے اعصابی نظام کو سکون میسر ہوتا ہے۔ اس حوالے سے یہ کھلی ہوا میں گھومنے سے زیادہ بہتر نتائج دے سکتی ہے۔ 2009ء؁ میں برطانیہ کی یونیورسٹی میں کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مُطالَعے کی عادت ذہنی تناؤ اور پریشانی کو 68% فیصد کم کرتی ہے۔ بعض اوقات اس کا فائدہ موسیقی سننے اور چہل قدمی سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے لیے ماہرین نے 6/ منٹ تک مختلف لوگوں کو اخبار، کتاب یا کوئی اور تحریر پڑھنے کے لیے دی اور اس دوران ان کے دل کی دھڑکن اور پٹھوں میں تناؤ کو نوٹ کیا گیا۔
ڈاکٹر کے مطابق مُطالَعہ انسان کو پریشانیوں اور فکروں سے آزاد کراتا ہے۔ اس کے علاؤہ شعور اور سوچ کو بھی تبدیل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ مُطالَعے کی عادت انسان کو کئی بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ ان میں مرکزی اعصابی نظام، امراض قلب اور فالج کے علاؤہ خون کی شریانوں سے متعلق بیماریاں شامل ہیں۔

کُتُب بینی دماغی انحطاط کو روکتی ہے:

وقت کے ساتھ ساتھ ذہنی اور دماغی صلاحیتیں کم ہوتی جاتی ہیں۔ مُطالَعہ کرنے سے دماغ کی سوچنے کی صلاحیت کو جلا ملتی ہے۔ اس عمل کو دماغی انحطاط یا کوگنیٹوو ڈیکلائن بھی کہا جاتا ہے۔ ان میں نام اور اشیا کو یاد رکھنے میں دقت، بھولنے کی عادت، نئے علوم سیکھنے میں مشکل اور ذہنی مسائل حل کرنے میں سست روی وغیرہ شامل ہیں۔ لہٰذا تحقیق کے مطابق مُطالَعہ کرنے والے عمر رسیدہ افراد اُن لوگوں کے مقابلے میں فکری صلاحیت اور قدرت کو زیادہ عرصے تک برقرار رکھتے ہیں جو مُطالَعے کو نظر انداز کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ روزانہ نصف گھنٹہ یا ہفتے میں 210 /منٹ کا دورانیہ مُطالَعہ کرنے میں صرف کرتے ہیں ان میں قبل از وقت موت کا تناسب 23% تک کم ہوجاتا ہے۔

حل:

مُطالَعے کی اہم شرط یہ ہے کہ طالب علم کو اطمینانِ قلب و نظر ہو کہ جس چیز کا مُطالَعہ کر رہا ہے وہ مفید و مؤثر اور کارآمد ہو۔ اگر یہ یقین پیدا ہوجائے تو  مُطالَعے میں اس کی دلچسپی بڑھے گی اور اس کی طبیعت اس مضمون سے اُکتائے گی نہیں۔ بصورت دیگر طبیعت بوجھل محسوس ہوگی اور جو کچھ وہ پڑھے گا‘ وہ بھی اس کے ذہن میں نہیں رہ سکے گا۔

عصرِ حاضر میں والدین و اساتذہ کی اکثریت بھی مُطالَعہ یا کتب بینی سے محروم ہوگئیں ہیں۔ ان میں مُطالَعے یا کتب بینی کا شوق و ذوق بالکل ماؤف ہوگیا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ ان کی زیرِ تربیت رہنے والی نئی نسل میں بھی کہاں مُطالَعے کا جذبہ پروان چڑھے گا۔ یہ واقعی ایک بہت سنگین مسئلہ ہے اس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ترغیبِ مُطالَعہ اور نئی نسل:

عصرِ حاضر میں کم عمروں کے بچوں میں مُطالَعے کے نام سے جاسوسی، رومانی و عشقیہ، سنسنی خیز، حیجان انگیز، فکشن ناولز یا محض تخیلاتی مضامین پر مشتمل ناولز وغیرہ حتیٰ کہ جنسی موضوعات جیسے مواد کا مُطالَعہ کرکے اپنا دماغ خراب کرتے ہیں۔ مُطالَعہ کا یہ غیر متعلقہ مواد بھی نئی نسل کے طلبہ اور نوجوانوں کو تباہ و برباد ہے۔ جرمن مصنف فلاسفر گٹھولڈ لیسنگ کا کہنا ہے کہ ''دنیا اکیلے کسی کو مکمل انسان نہیں بنا سکتی، اگر مکمل انسان بننا ہے تو پھر اچھے مصنفین کی تصانیف پڑھنا ہوں گی''۔

بچوں میں کسی بھی قسم کا شوق والدین کی مرہون منّت ہی آتا ہے۔ چھوٹے بچوں میں مُطالَعے یا کُتُب بینی کے فروغ کے لئے والدین و اساتذہ کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ والدین رات کو بچوں کو اخلاقی و کردار ساز کہانیاں کتاب سے پڑھ کر سنائیں۔ ایک تو بڑوں سے کہانی سننے کا لطف تو بچے کو ملتا ہی ہے ساتھ ہی ساتھ اس کے طفیل کتاب سے بھی اس کا ایک تعلق جڑ جاتا ہے اور اگر یہ تعلق ایک بار قائم ہو جائے تو تا عمر برقرار رہتا ہے۔

چائلڈ ڈویلپمنٹ نامی جرنل میں 2014ء؁ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جن بچوں کو 7/ سال کی عمر میں پڑھنے کی تیز عادت ہوتی ہے، آگے چل کا ان کا آئی کیو بلند ہوتا جاتا ہے جو ذہانت ناپنے کا ایک پیمانہ بھی ہے۔

بچے لاشعوری طور پر اپنے والدین کی نقل کرتے ہیں، انہیں جو کچھ کرتے یا کہتے دیکھتے ہیں اسی کو نقل کرتے ہیں، اگر والدین گھر میں خود کُتُب بینی کریں اور بچوں کے ساتھ کتابوں پر بحث و تَمْحِیص کریں تو ضرور بچوں میں بھی کُتُب بینی کی یہ عادت آئے گی اور جب کچھ ان کا دھیان اس طرف آئے تو ان کو دلچسپ کتابیں دے کر اس شوق کو بڑھایا جاسکتا ہے۔ جب آپ دیکھیں کہ بچّوں کی کتابوں سے دوستی ہوگئی ہے تو ان کیلئے مُطالَعے کا خاص وقت اور ممکن ہو تو خاص جگہ بھی متعیّن کردیں۔ جب تک تعلیمی اداروں میں فرائض انجام دینے والے اساتذہ بچوں کو غیر نصابی کتابوں سے روشناس نہیں کرائیں گے تب تک بچوں میں علم کی پیاس پیدا نہیں ہوگی۔ اساتذہ کو اپنے مُطالَعے میں وسعت پیدا کرنی ہوگی، تب ہی ہم خیر کی امید وابستہ کرسکتے ہیں۔

ان کے مُطالَعے کے لیے اخلاقی اور سبق آموز کہانیاں کی فہرست ضرور بنائیں۔ گائیڈنس پبلی کیشنز کی مطبوعہ سیریز ''شاہین سیریز'' اس کے لئے کارگر ثابت ہوگی۔ اور بھی کئی لوگوں کی اس جانب کافی کوششیں ہیں، انہیں بھی عمل میں لایا جاسکتا ہے۔

نوجوان نسل اور بچوں میں کُتُب بینی یا مُطالَعہ سے لا تعلقی اور غیر سنجیدہ رؤیہ پایا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں طالب علموں، نوجوان نسل اور بچوں میں مُطالَعہ کا شوق اجاگر کرنا اشد ضروری ہوگیا ہے۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو مُطالَعے کی طرف راغب کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ اگر طالب علموں میں پرائمری اسکولوں سے ہی مُطالَعہ کا شوق پیدا کیا جائے تو وہ تا عمر کتابوں سے محبت رکھیں گے اس طرح ان کے علم میں زندگی کے ہر لمحے میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

فعال نظام لائبریری:

کُتُب خانے ذہنی تفریح کا ایک تعمیری ذریعہ ہوسکتے ہیں۔ کُتُب خانہ یا دارُالکُتُب یا مکتبہ (Library)، ایک ایسی جگہ یا مقام جہاں کتابیں مہیّا کی جاتی ہیں۔ آسان زبان میں لائبریری اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کتابوں، رسالوں، اخباروں اور معلوماتی مواد کو جمع کیا جاتا ہے۔ علم کی ذخیرہ کاری، علمی مواد کی ترتیب و تنظیم اور زمانے کی دست برد سے ان کا تحفّظ نیز موقع و محل کی مناسبت سے ان کی فراہمی، قوموں کی تہذیبی پیش رفت میں ان سب کا بہت اہم مقام ہے۔ قوموں کے تہذیبی ورثے آئندہ نسلوں تک کُتُب خانوں کے واسطے سے ہی منتقل ہوتے ہیں۔ افراد کی تربیت اور ترقی میں لائبریریاں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔

کُتُب خانوں کی تاریخ غالباً  4/ ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ موجودہ دور میں بھی دنیا کی معلومات کا صرف 24/ فیصد حصہ انٹرنیٹ پر موجود ہے جب کہ 76/ فیصد حصّہ اب بھی کتابوں میں درج ہے۔ ان معلومات کو حاصل کرنے کا واحد ذریعہ کُتُب خانے ہیں۔

دورِ خلافت میں عالمِ اسلام میں کوئی شہر، کوئی گاؤں ایسا نہ تھا، جس میں لائبریری کا نظام نہ تھا۔ " مامون الرشید بن ہارون الرشید کُتُب خانوں کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ خلیفہ مامون الرشید نے بیت الحکمت کے نام سے ایک عظیم کُتُب خانہ قائم کیا، جس کا فیض ہلاکو خان کے حملۂ بغداد (13/ویں صدی) تک جاری رہا۔ یہ پہلا عوامی کُتُب خانہ (Public Library) تھا، جو اعلیٰ پیمانے پر قائم کیا گیا تھا۔ اس بے نظیر کُتُب خانے میں عربی، فارسی، سریانی، قبطی اور سنسکرت زبانوں کی 10/ لاکھ کتابیں تھیں "۔

دارالحکمت قاہرہ جسے حاکم بامر اللّٰہ نے قائم کیا تھا۔ اس لائبریری کے 40/ حصّے تھے اور ہر حصّہ 18/ ہزار کتابوں پر مشتمل تھا۔

کتابوں کی دنیا سے متعارف کرانے کے لیے بچوں و نئی نسل کو لائبریری کی سیر کروائی جائے۔ ذاتی طور پر ہفتے میں ایک دن لائبریری کے لئے مختص کریں۔ اسکول کی سطح پر لائبریریوں کو فعال کرنا چاہیے اور بچوں کے لیے ایک پیریڈ لائبریری میں کتابوں کے مُطالَعہ کا بھی ہونا چاہیے اور اساتذہ کو بھی مُطالَعہ کی افادیت کے بارے میں طلبہ کو آگاہی دینی چاہیے۔ کُتُب خانے جتنے فعال ہوں گے تعلیمی ادارے بھی اسی قدر تعلیم و تحقیق میں فعال ہونگے۔

بحیثیتِ اُمّت مسلمہ ہمیں اجتماعی طور پر کُتُب دوستی اور مُطالَعے کی ترغیب کے ماحول کو ساز گار بنانے کے لئے نئی جدید لائبریریاں متعارف کروانی ہوگی۔ لائبریری میں وقفے وقفے سے کتابوں کی نمائش، مختلف موضوعات پر ماہرین کے لیکچر، سیمینار اور ورکشاپس کا انعقاد کرکے مُطالَعے کا شوق پیدا کیا جاسکتا ہے۔ تاکہ ہر شخص مُطالَعہ کی راہ پر گامزن ہوسکے اور ہر کسی کے لیے مُطالَعہ آسان ہو جائے۔ کم از کم بڑے شہروں میں ایک ماڈل لائبریری قائم کی جائے اور پھر اس کی تشہیر کرکے لوگوں کو اس طرف راغب کیا جائے۔ کُتُب بینی کے شوق کو تسکین دینے کے لئے لائبریریز کے استعمال کو فروغ دینا بہت ضروری ہے تاکہ کُتُب بینی کے شائقین کو مہنگی اور نایاب کتابوں تک با آسانی رسائی حاصل ہو۔
(جاری)
5/4
           •┅┄┈•※‌✤م✿خ✤‌※┅┄┈•
                     (02.12.2022)
           🍁 مسعود محبوب خان 🍁
        Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
                      ○○○○○○○○○

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam