مکمل: •مُطالَعہ کا فقدان، علمی و فکری تَنَزُّلی اور حل•
•مُطالَعہ کا فقدان، علمی و فکری تَنَزُّلی اور حل•
┄┅════❁﷽❁════┅┄
══════•❁ا۩۩ا❁•══════
مُطالَعہ کا فقدان، علمی و فکری تَنَزُّلی اور حل
══════•○ ا۩۩ا ○•══════
🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
✿ ''مُطالَعہ'' ایک تعارف
✿ مُطالَعہ کی اہمیت و افادیت
✿ مُطالَعہ برائے کُتُب بینی
✿ مُسلم اُمّہ کا تصنیفی و غلبہ کا زرّیں دور
✿ اسلاف کا شوق مُطالَعہ
✿ مُطالَعہ کا فقدان
✿ مُسلم اُمّہ کی علمی و فکری تَنَزُّلی کا دور
✿ عدم مُطالَعہ کے اسباب
✿ مُطالَعے کے طبی فوائد
✿ "مُطالَعہ" ذہنی تناؤ کو دور کرنے کا ذریعہ
✿ کتب بینی دماغی انحطاط کو روکتی ہے ✿ حل ✿ ترغیبِ مُطالَعہ اور نئی نسل
✿ فعال نظام لائبریری
✿ تحائف اور کتب
✿ مقررہ اوقات برائے مُطالَعہ
✿ بہت مہنگی ہوئی کتاب تو
✿ انفرادی تجربے ✿ مُطالَعہ کیسے ہو؟
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
''مُطالَعہ'' ایک تعارف:
عربی زبان کے لفظ ''مُطالَعہ'' کے معنی پڑھنے اور جائزہ لینے کے ہیں۔ لغت میں مُطالَعہ کے معنیٰ یہ ہے کہ کسی چیز کو اس سے واقفیت حاصل کرنے کی غرض سے دیکھنا۔ مُطالَعہ کے اصطلاحی مفہوم ہیں، بذریعہ تحریر مصنف و مؤلف کی مراد سمجھنا ہے۔
یہاں ایک چیز سمجھنے کی ہے کہ مُطالَعہ اور مُشاہَدَہ دونوں کے مفہوم علیحدہ علیحدہ ہیں۔ مُطالَعہ کا اطلاق عرفِ عام میں کتب بینی اور ورق گردانی پر ہوتا ہے۔ مُشاہَدَہ یہ ہے کہ ہم کائنات کی تمام اشیاء، حالات، کیفیات، صفات اور جذبات وغیرہ کا غور و خوض کریں، اس کا عینی تجربہ یا معائنہ کریں؛ جب کہ مُطالَعہ یہ ہے کہ اچھا مُشاہَدَہ کرنے والوں نے جو کچھ لکھا ہے اسے پڑھا جائے اور اس میں غور کیا جائے۔ یہ حقیقت ہے کہ انسان کتاب کے مُطالَعے سے آغاز کرتا ہے پھر کائنات کے مُطالَعہ مُشاہَدَہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
کتاب کے مُطالَعے سے انسان نیا علم سیکھتا ہے، نئے راستے نکالتا ہے، تاریخ کا علم حاصل کرکے موجودہ دور کا مُشاہَدَہ کرتا ہے، اپنی پریشانیوں کا حل نکالتا ہے اور انہی کتابوں سے وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک کتاب ہی انسان کے ذہن کو کشادہ کرتی ہے اور انسان کو ذہنی غلامی کا شکار ہونے سے بچاتی ہے۔ مُطالَعہ کبھی باضابطہ بھی ہوسکتا ہے اور اتفاقی اور گزر وقت کا شوق بھی ہوسکتا ہے۔ مُطالَعہ کو روح کی غذا بھی کہا گیا ہے۔ مُطالَعہ تحصیل علوم و معارف کے لیے تفصیلی، تحقیقی، تجزیاتی اور فکری عمل کا نام بھی ہے۔ مُطالَعہ ذہنی و علمی ترقی کا باعث اور انسانی شخصیت کی تکمیل کا سبب بھی ہے۔ زندگی، جسم اور روح کے مجموعے کا نام ہے۔ مُطالَعہ جسم کی نشوونما اور روح کی تسکین کا ذریعہ ہے۔
مُطالَعہ کی اہمیت و افادیت:
اللّٰہ کے رسولﷺ پر بھی علم و قلم کے ذریعے نزولِ کتاب ہوا، کیونکہ آپﷺ نے غار میں جاکر فہم و ادراک کے ذریعے اس کا مُطالَعہ و مشاہدہ کیا۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جو "ریڈر" ہوتے ہیں وہی "لیڈرز" ہوتے ہیں۔مُطالَعۂ کتب کی اہمیت و افادیت مسلمانوں کے نزدیک ایک تسلیم شدہ، مقبول و مصدق امر ہے، جس کا انکار کسی سطح پر ناممکن ہے۔
ہم اس بات سے واقف ہیں کہ خطابِ الٰہی کا پہلا لفظ ہی اقراء (پڑھو) ہے، اسی لفظ سے اللّٰہ ربّ العزّت! نے اپنے رسول، معلّمِ انسانیت ﷺ کی نبوت و رسالت کا پیغام دنیائے انسانیت کو دیا اور یہی پہلا حکم ہے جو اللّٰہ تعالیٰ نے خاتم النبینﷺ کو عطاء فرمایا۔ دنیا کے مختلف علوم و معارف اور اسرار و رموز اگر ہمیں کسی جگہ سے دستیاب ہو سکتے ہیں،تو وہ کتاب ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ علم و حکمت کو کتاب کی صورت میں جمع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
امام حاکمؒ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”علم کو کتاب میں قید کرو یعنی لکھا کرو“۔ اسی بنا پر علماء و مفکرین ''کتاب'' کو کنز اور خزانہ قرار دیتے تھے۔فرمانِ نبیﷺ ہے: علم حاصل کرو کیونکہ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے سبب قوموں کو بلندیوں سے نوازتا ہے اور انہیں نیکی و بھلائی کے کاموں میں ایسا رہنما اور ہادی بنا دیتا ہے کہ ان کی پیروی کی جاتی ہے۔ اور حصولِ علم کے لیے چار چیزوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔(1) پڑھنا (2) لکھنا (3) سننا (4) دیکھنا۔ ان سب میں بہترین ذریعہ حصولِ علم، پڑھنا (مُطالَعہ کرنا) ہے۔ مشہور مقولہ ہے: مُطالَعہ کرنے والی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں۔
امام ابو عبداللّٰہ محمد بن اسماعیل بخاریؒ سے پوچھا گیا حافظے کی دوا کیا ہے؟ آپؒ نے ارشاد فرمایا کتب کا مُطالَعہ کرتے رہنا حافظے کی مضبوطی کے لیے بہترین دوا ہے''۔ لہٰذا جس قدر کتابوں کا مُطالَعہ کیا جائے گا اس قدر علم زیادہ اور پختہ ہوگا۔ مُطالَعہ کسی سے اختلاف کرنے یا فصیح زبان میں گفتگو کرنے کی غرض سے نہ کرو بلکہ اپنے ذاتی حصولِ علم اور فہم و ادراک کی خاطر کیا کرو، اس کے نتیجے میں ملّت فتنہ و فساد اور انتشار کا شکار نہیں ہوگی۔ بقول مفکر ''مُطالَعے سے خلوت میں خوشی، تقریر میں زیبائش، ترتیب و تدوین میں استعداد اور تجربے میں وسعت پیدا ہوتی ہے''۔ مُطالَعہ کی بنیاد پر انسان کی شخصیت کی تعمیر و عکاسی ہوتی ہے۔ انسان کی گفتگو، فہم و ادراک اس کے مُطالَعہ کا آئینہ دار ہوتے ہیں۔ مُطالَعہ کے نتیجے میں دماغی انحطاط اور تَنَزُّلی کا تدارک ہوتا ہے۔ مُطالَعہ انسان کو مختلف قوموں کے حالات اور ان کے تہذیب و ثقافت وغیرہ سے آگاہی بخشتا ہے۔
مُطالَعے سے انسان کے اندر تحقیقی اور تجزیاتی سوچ پروان چڑھتی ہے، جس کے نتیجے میں انسان مذہبی و دینی، علمی و عملی، ذہنی و فکری، قومی اور بین الاقوامی امور پر ایک واضح سوچ رکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ ایک کثیر المُطالَعہ شخص کو کسی جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے متاثر نہیں کیا جاسکتا ہے، ایسا شخص بڑی تیزی سے کسی بھی معاملے کی تہ تک پہنچنے کی صلاحیت حاصل کرلیتا ہے۔
مُطالَعہ برائے کُتُب بینی:
سُرورِ علم ہے کیفِ شراب سے بہتر
کوئی رفیق نہیں کتاب سے بہتر
اس بندۂ خدا کی نظر میں ''کتاب تنہائی کی ہمنشین اور سفر میں بہترین ہم سفر اور زاد راہ ہے''۔ ہمیں کتابوں کی عزّت و توقیر اور احترام لازمً کرنا چاہئے۔ اپنے اسلاف کے مخزنِ فکر و فن تک رسائی حاصل کرنے کیلئے کتاب سے عشق اور احترامِ کتاب ہم پر لازم ہے۔
گر خواہش ہے رمز تحقیق و علم کی
غزالیؒ کے مخزنِ فکر و فن کی
پھر لازم ہے تم پر احترام ِ کتاب
پھر لازم ہے تم پر احترامِ کتاب
انگریزی کا ایک مشہور مقولہ ہے: When you open a book, you open a new world.
(یعنی جب آپ کتاب کو پڑھنے کے لیے کھولتے ہیں تو آپ ایک نئی دنیا میں داخل ہوجاتے ہیں۔)
اگر واقعی یہ صلاحیت کسی کتاب میں موجود ہے تو وہ ہے اللّٰہ ربّ العالمین کی جانب سے نازل کردہ کتاب قرآن کریم، یہ بڑی و راہنما کتاب ہمارے ایمان کا حصّہ بھی ہے۔ بحیثیتِ مسلمان ہمارے نزدیک یہ عظیم و نایاب، عقیدے و ایمان کی حیثیت میں دنیا کی تمام کتابوں میں سب اوّل و مقدس کتاب ہے۔ اللّٰہ کی یہ کتاب سارے عالم کے لئے نعمتِ عظمٰی ہے۔ جس کے مُطالَعے میں نیکیاں اور ثواب بھی ہیں اور دنیا و آخرت دونوں جہان میں کامرانی و کامیابی بھی ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جو انسان کو ظلمات کی تاریکیوں سے نکال کر نور سے منور کرتی ہے۔ ہمیں سب سے پہلے اپنی اس کتابِ مقدس کے مُطالَعے کا حق ادا کرنا چاہیے۔
عالمی یوم کتاب (World Book Day) 1995ء سے ہر سال دنیا بھر میں 23/ اپریل کو یونیسکو کے تحت منایا جاتا ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر عوام میں مُطالَعہ و کُتُب بینی کو فروغ دینا، اشاعتِ کُتُب اور اس کے حقوق کے سلسلے میں شعور بیدار کرنا اور مختلف انداز سے کتاب کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرنا ہے۔
کتاب انسان کی سب سے بے مثال دوست ہے، انسان کتاب کے ساتھ کبھی تنہا نہیں رہ سکتا، دنیا میں کتابوں سے دلچسپی رکھنے والوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔کسی مفکر کے خیال میں ''مہذب افراد کی پہچان یہ ہے کہ ان کے مُطالَعہ میں ہر وقت کوئی اچھی کتاب رہتی ہے''۔ کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا میں مُطالَعے کے بہت سے طریقہ کار موجود ہیں مگر کتاب کی دائمی اہمیت اپنی جگہ قائم و دائم ہے۔ آج بھی کتابوں کے بغیر پڑھائی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
کتاب اور علم دوستی معاشی خوشحالی اور معاشرتی امن کی ضامن ہے۔ کتابیں بلند خیالات اور سنہری جذبات کی دستاویزی یادگار ہوتی ہیں۔ کُتُب بینی کے نتیجے میں انسان اپنے مقصد حیات کو متعین کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، جو ایک بامقصد زندگی گزارنے کیلئے از حد ضروری ہے۔
جذبات انسان کے دل کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔کتب بینی جذباتی ذہانت کو بڑھانے اور اسے کنٹرول کرنے کا باعث بھی بنتی ہیں۔ مُطالَعے سے انسان میں بردباری کی صفات پیدا ہوجاتی ہیں۔ کتاب قوم کو تہذیب و ثقافت، دینی و معاشی اور سائنسی علوم سے روشناس کروانے کے ساتھ ساتھ انسان کی بہترین دوست بھی ہے۔
کُتُب بینی کے کئی فوائد ہیں، کتب بینی سے علم اور ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ ہوتا ہے۔ کتب بینی سے انسان کے اندر تحقیقی اور تجزیاتی سوچ پروان چڑھتی ہے۔ مُطالَعۂ کُتُب سے فصاحت و بلاغت کی صفت پیدا ہوتی ہے۔ جذبات انسان کے دل کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔کتب بینی جذباتی ذہانت کو بڑھانے اور اسے کنٹرول کرنے کا باعث بھی بنتی ہیں۔ مُطالَعے سے انسان میں بردباری کی صفات پیدا ہوجاتی ہیں۔
ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی کا کہنا ہے کہ کتاب کا مُطالَعہ قدیم زمانے ہی سے انسان کی ذہنی تربیت اور نشوونما کا اہم ترین ذریعہ رہا ہے۔ بری صحبت سے تنہائی بہتر ہے، لیکن تنہائی سے پریشان ہو جانے کا اندیشہ ہے، اس لئے اچھی کتابوں کے مُطالَعے کی ضرورت ہے۔ (امام غزالیؒ)
امریکی ناول نگار جارج مارٹن کتابوں کے مُطالَعے کے بارے میں لکھتے ہیں: ”جو شخص کتابیں پڑھتا ہے وہ ہزاروں زندگیاں جیتا ہے جب کہ نہ پڑھنے والا شخص صرف ایک زندگی جیتا ہے“-
مُسلم اُمّہ کا تصنیفی و غلبہ کا زرّیں دور:
آج سے کئی سو سال قبل اپنے اسلاف، علمائے کرام، مسلم مفکرین اور دانشوران کی زندگیوں کا جب ہم بغور مطالعہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے شب و روز کا بیشتر حصہ مُطالَعہ کُتُب اور تصنیف و تالیف میں گزرتا تھا۔
عالم اسلام مُطالَعے اور کُتُب نویسی کا ایسا قدر دان تھا کہ مسلم اہل اقتداروں نے غیر عربی تصنیفات کو عربی میں منتقل کرنے والے مترجمین کی اس حد تک قدر کی انہیں اس کتاب کے برابر سونا تول دیا گیا۔ خلیفہ ہارون الرشید اور کاتب ”ابنِ اسحاق“ کا واقع بھی اس فہرست میں شامل ہے۔ اسلامی تاریخ میں کتابوں کا وجود‘ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونے کا سبب بن گیا تھا، یعنی لڑکیوں کو جہیز میں کُتُب خانے دیئے جاتے تھے۔ تاریخ اس بات کی بھی شاہد ہے کہ جنگوں میں صلح کی شرطوں میں کتابوں کے تراجم کی شرط رکھی گئی۔ خلیفہ مامون الرشید اور روم کے بادشاہ کے درمیان اس شرط پر صلح ہوئی کہ وہ اپنی تمام کتابوں کے تراجم کرنے کی اجازت دینگے۔
اسلاف کی تصانیف کا جائزہ لیں تو ہمیں رشک ہوتا ہے کہ ہم بھی اسی اُمّت کے فرد ہیں جنہوں نے علم و تصانیف کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں۔ ابن رشدؒ، کی تصانیف کم سے کم تعداد 67 /ہے، جن میں سے 28/ فلسفے، 20 /طِب، 8 /قانون، 6 /الٰہیات اور 4 /کتابیں زبان و بیان پر لکھیں گئی ہے۔ امام غزالیؒ، نے 70 /سے زائد کتابیں تصوف، قانون، فقہ اور فلسفے کے موضوعات پر لکھیں۔ بُوعلی سِیناؒ، وہ فلسفی، طبیب، عالم، اسلام کے عظیم تر مفکر ہیں جنہوں نے 450 /کتابیں لکھیں ہیں۔ ابو علی الحسن بن الہیثمؒ، نے طِب، فلسفہ، الٰہیات، فلکیات، ریاضی، طبیعات وغیرہم پر 45 /کتابیں لکھیں ہیں۔ احمد بن محمد الریحان البیرونیؒ، تاریخ دان، ماہر لسانیات طبیعات، ریاضی اور فلکیات ہیں، 14 /ضخیم کتابیں لکھیں۔ ابن ماجہؒ الربعی القزوینی، منطق، فلسفہ، ریاضی، مابعد الطبیعات اور اخلاقیات پر درجن بھر سے زائد کُتُب لکھیں۔ یعقوب الکندیؒ، 200/ سے زائد کتابیں فلسفہ، نجوم، فلکیات، موسیقی، ریاضی، سیاست اور طبیعات پر لکھیں۔ لکھنا چاہوں تو اور بھی بے شمار شخصیات ہیں جنہوں نے کتابوں اور علم کے میدان میں انمول خدمات انجام دی ہیں، مگر آپ لوگوں کا زیادہ وقت نہ لوں گا۔
(جاری)
5/1
•┅┄┈•※✤م✿خ✤※┅┄┈•
(30.12.2022)
🍁 مسعود محبوب خان 🍁
Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
○○○○○○○○○
دوم: •مُطالَعہ کا فقدان، علمی و فکری تَنَزُّلی اور حل•
┄┅════❁﷽❁════┅┄
══════•❁ا۩۩ا❁•══════
مُطالَعہ کا فقدان، علمی و فکری تَنَزُّلی اور حل
══════•○ ا۩۩ا ○•══════
اسلاف کا شوق مُطالَعہ:
اسلامی تہذیب کے ہر دور میں مُطالَعہ اور کُتُب بینی کو بلند مقام رہا ہے۔ ہمارے اسلاف کی کتابوں سے والہانہ محبت کی بے شمار مثالیں موجود ہیں، صرف اس موضوع پر ہی لکھنا شروع کردیں تو بے شمار ضخیم کتابیں مرتب کی جاسکتی ہیں۔ ایک دانا بزرگ رقم طراز ہیں، ''مسلمانوں نے کُتُب اور کُتُب خانے سے تطہیر قلب و نظر اور تزکیۂ ذہن و فکر کے علاؤہ آرائشِ مکین و مکان کا بھی کام لیا تھا''۔
• عبداللّٰہ بن عمرؓ کے پوتے عبداللّٰہ بن عبدالعزیزؒ کا یہ حال تھا کہ وہ لوگوں کی صحبت سے بھاگتے تھے۔ ہمیشہ ہاتھ میں کوئی کتاب لے کر قبرستان میں چلے جاتے تھے اور اس کے مُطالَعہ میں مصروف رہتے تھے۔ لوگوں نے جب اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا: گورستان سے بڑھ کر کوئی ناصح، کتاب سے بڑھ کر کوئی مونس، اور تنہائی سے بڑھ کر کوئی محافظ ہم کو نظر نہیں آتا۔
• حضرت امام زہریؒ کے مُطالَعہ کا یہ عالم تھا کہ اِدھر اُدھر کتابیں ہوتیں اور آپ مُطالَعے میں ایسے مصروف ہوتے کہ دنیا و مافیہا کی کی خبر نہ رہتی۔ بیوی کو کب گوارا ہوسکتا تھا کہ اس کے سوا کسی اور کی اس قدر گنجائش شوہر کے دل میں ہو، چنانچہ ایک مرتبہ حضرت امام زہریؒ کی بیوی نے بگڑ کر کہا: اللّٰہ کی قسم یہ کتابیں مجھ پر ۳/ سوکنوں سے زیادہ بھاری ہیں۔
• عرب مورّخ علّامہ ابنُ الجوزیؒ فرماتے ہیں کہ: ''میری طبیعت کتابوں کے مُطالَعہ سے کسی بھی طرح بھی سیر نہیں ہوتی، جب بھی کوئی نئی کتاب نظر آجاتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا ہے۔ میں نے مدرسہ نظامیہ کے پورے کتابوں کا مُطالَعہ کیا، جس میں چھ ہزار کتابیں ہیں۔ زمانہ طالب علمی میں بیس ہزار کتابوں کا مُطالَعہ کیا ہے''۔
• ابنُ الجوزیؒ نصیحت کرتے ہیں کہ ''تمہارے گھر میں ایک ایسی جگہ ہونی چاہیے جہاں تم تنہائی میں اپنی کتابوں کی سطور سے گفتگو کر سکو اور اپنے تخیلات کی پگڈنڈیوں پہ بھاگ سکو۔
• ایک عربی کہاوت ہے کہ ''کتاب جیب میں رکھا ہوا ایک گلستان ہے''۔ خلیفہ عباسی المتوکل کے وزیر فتح بن خاقان اپنی آستین میں کوئی نہ کوئی کتاب رکھتے تھے اور جب سرکاری کاموں سے ذرا فرصت انہیں ملتی تو آستین سے کتاب نکال کر پڑھنے لگ جاتے۔
• حضرت خطیب بغدادیؒ کے مُطالَعہ کا عالم یہ تھا کہ آپؒ راہ میں چلتے بھی مُطالَعہ کرتے اس لیے کہ آنے جانے کا وقت ضائع نہ ہو۔ چینی کہاوت ہے کہ جب انسان 10/ کتابیں پڑھتا ہے تو وہ 10/ ہزار میل کا سفر طے کرلیتا ہے۔ اسی لئے شاید کسی دانا شخص نے فرمایا کہ ''جس کی بغل میں ہر وقت کتاب نہ ہو اس کے دل میں حکمت و دانائی راسخ نہیں ہوسکتی''۔
یہ عمل ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں بحسن و خوبی انجام دے سکتے ہیں۔ ہم اسلاف کی برابری تو نہیں کرسکتے مگر ان کے نقشِ قدم پر ضرور عمل کرسکتے ہیں۔ اس طرح کی مُطالَعاتی مشق کا شرف اللّٰہ ربّ العالمین! نے ذاتی زندگی میں بھی عملاً کروایا۔ واقعتاً کتاب سفر و حضر کی بہترین رفیق ہے۔ دورانِ طالب علمی اسکول کے لئے مجھے لوکل ٹرین میں وکھرولی سے CSMT (وی ٹی) کا سفر کرنا ہوتا تھا، دورانِ سفر عصری نصابی کتب کے ہمراہ اسکول کی لائبریری سے اسلامی لٹریچر یا اسلامی ناول یا کبھی کبھار ادب و تاریخ کی کتاب اپنے ہمراہ رکھتا تھا، الحمد اللّٰہ! ہمارے اسکول کی لائبریری کافی معیاری اور وسیع تھی۔ جہاں وقت میسر ہوتا، وہیں کتاب کا مُطالَعہ کرلیتا۔ نتیجتاً جب کبھی کسی کا انتظار یا کوئی سفر در پیش ہوتا تو پتہ ہی نہیں چلتا کہ وقت اتنی آسانی سے کہاں گذرا۔ اس وقت خواہش یہ ہوتی کہ کاش ٹرین یا بس تھوڑی تاخیر کا شکار ہو جائے اور چند اوراق یا سطریں مزید پڑھ سکوں۔ اس طرح کتاب بھی لائبریری میں مقید رہنے سے بچ جاتی اور عقل و فہم بھی علم کے دریا کی روانی میں موجزن ہوتی رہی۔
• فنِ حدیث کے بہت بڑے عالم امام احمد بن محمد المقریؒ کے متعلق ”تذکرۃ الحفّاظ“ میں امام ذہبیؒ نے نقل کیا ہے کہ آپ کو ایک کتاب سے حوالہ نقل کرنے کیلئے 70 دن کا سفر کرنا پڑا۔ وہ کتاب اس حالت میں تھی کہ اگر کسی نان بائی کو دیکر ایک روٹی بھی خریدنا چاہتے تو شاید وہ اس پر بھی تیار نہ ہو“۔
• علامہ ابن رشدؒ کے بارے میں ہے کہ ''وہ اپنی شعوری زندگی میں صرف دو راتوں کو مُطالَعہ نہیں کرسکے''۔
• کتاب ''شاہراہِ زندگی پر کامیابی کا سفر'' صفحہ91 میں 350 کتابوں کے مصنف، عربی، فارسی، یونانی اور سنسکرت زبانوں پر عبور رکھنے والے جلیل القدر ادیب، نثر نگار، دانشور اور صاحبِ اسلوب انشاء پرداز ابو عثمان الجاحظ (عمرو بن بحرین بن محبوب) کے متعلق پڑھا کہ وہ کتاب فروشوں کی دکانیں کرایہ پر لے لیتے اور ساری رات کتابیں پڑھتے رہتے۔
• شمس الآئمہ امام سرخسی ؒ کو جب قید کردیا گیا تو انہوں نے جیل کے کنویں میں میں بیٹھ کر اپنی ایک معرکۃ الآرا ء کتاب ”المبسوط“ لکھی جس کی30 جلدیں ہیں۔
• علامہ انور شاہ کشمیریؒ جب بیماری کے ایام میں تھے، اور غلط خبر افواہ بھی انتقال کی اڑ گئی تھی، اس موقع پر آپ کے شاگرد علامہ شبیر عثمانی وغیرہ کا ایک وفد ملاقات کے لئے آیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ نماز کی چوکی پر بیٹھے سامنے تکئے پر رکھی ہوئی کتاب کے مُطالَعہ میں مصروف ہیں اور اندھیرے کی وجہ سے کتاب کی طرف جھکے ہوئے ہیں، یہ منظر دیکھ سب حیران رہ گئے شاگردوں نے اس وقت مشقت نہ اٹھانے کی درخواست کی تو انہیں جواب دیا؛ بھائی ٹھیک کہتے، لیکن کتاب بھی ایک روگ ہے، اس روگ کا کیا کروں؟
• بقول پروفیسر محسن عثمانی ندوی کے ''انسان کا دانشورانہ مزاج کبھی، کسی ماحول میں کتاب پڑھ لینے سے نہیں بنتا ہے، علمی ذوق کا مطلب یہ ہے کہ ہر حالت میں، صحت اور بیماری میں، حالتِ اقامت میں اور حالتِ مسافرت میں کتابوں کا سفر جاری رہے''۔
سلف صالحین کا مطالعہ ذوقِ تالیف و تصنیف ہمارے سامنے ہے، جن سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات کا مقصد حیات بس ایک ہی تھا وہ ہے، علم میں درجہ کمال حاصل کرنا، یہ مطالعہ کے ساتھ ہوگا۔
مُطالَعہ کا فقدان:
مُطالَعے کا فقدان ایک عام مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اس کا اندازہ ہمیں روزمرّہ زندگی میں لوگوں کی گفتگو کے موضوعات اور ان کی آراء کی سطحیت دیکھ کر ہوتا ہے۔ اخلاقی گراوٹ اور معاشرتی پسماندگی کی بنیادی وجہ بھی کُتُب بینی کا فقدان ہی ہے۔ ''ورقی کتابیں اور برقی کتابیں''، ''پیپر پرنٹ اور ای پرنٹ'' مسئلہ دونوں کے درمیان مسابقت کا نہیں، بلکہ ذوقِ مُطالَعہ کے فقدان کا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ زندگی کی رنگین رعنائیوں کو ترک کرکے بھلا کون عقلمند انسان ان دقیق خشک کتابوں کا مُطالَعہ کرکے کیوں اپنا وقت ضائع کرے گا۔ اس بات کو سوچنے کی زحمت کی گوارہ نہیں کرتے کہ مُصنّف یا محرر کتنی پریشانیوں کا سامنا کرتے ہوئے اپنے تجربات و مشاہدات قلم بند کررہا ہے۔ بعض اوقات تو مجھے بے شمار کتاب کے مصنف ایک مسیحا سے کم نظر نہیں آتے، جو خود تو چلے جاتے ہیں مگر اپنا علم آنے والی نسلوں کیلئے چھوڑ جاتے ہیں۔ اب تو ہمارا حال یہ ہوگیا ہے کہ کتابیں تو بہت دور اب تو چند صفحات پر مشتمل طویل مضامین پڑھنا بھی مشکل سے مشکل تر ہوگیا ہے۔ بعض اوقات رفقاء اس بات کا اظہار کر دیتے ہیں کہ آپ کے مضامین معیاری ہوتے ہیں مگر مضامین کافی طوالت کا شکار ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں مکمل مضمون پڑھنا ہمارے بس کی بات نہیں۔ کچھ لوگ جملے بازیوں سے کام لیتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مُطالَعے سے جان چھڑانے کے یہ سب حیلے بہانے ہیں۔ ہمارے پاس دنیا بھر کی ذہنی عیاشی کا وقت ہے، مگر وقت نہیں ہے تو مُطالَعے کا!!!
کتاب کا اپنا ایک لطف ہے اور ای بکس کا بھی اپنا لطف ہے، تاہم ہم اور ہمارے جیسے بہت سے لوگوں کے لئے پہلی شناسائی کاغذ پر شائع شدہ کتابوں سے ہی ہوئی سو ہمارے لئے وہی مقدم ہے تاہم ای بکس بھی کسی حد تک نعم البدل کا کام تو کرتی ہیں۔ ایک تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ 2011ء کے مقابلے میں 2020ء میں مصنفین اور ادیبوں کی تعداد میں 32/ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2019ء کے اعدادو شمار کے مطابق سب سے زیادہ کتابیں امریکہ کے طلبہ لکھتے ہیں۔ اسی طرح گزشتہ 3/ برسوں میں ای بک پڑھنے کا رجحان بھی کم ہوا ہے۔ لوگ آن لائن سے زیادہ آف لائن کتابیں پڑھ رہے ہیں۔
سعود عثمانی کا شعر جس کے اندر ایک تلخ حقیقت کو انوکھے اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔ ؎
کاغذ کی یہ مہک، یہ نشہ روٹھنے کو ہے
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی
نجی سروے کے مطابق عالم عرب میں فرد کے مُطالَعہ کی سالانہ شرح محض ''ربع صفحہ'' ہے۔ مزید ایک رپورٹ کے مطابق عربوں میں سالانہ 80/ افراد مل کر ایک چھوٹی سی کتاب کے برابر مُطالَعہ کرتے ہیں؛ جب کہ تنہاء ایک یورپی شخص سال میں 35/ کتابیں پڑھتا ہے، اسی طرح اسرائیلی شخص سال بھر میں 40/ کتابوں کا مُطالَعہ کرلیا کرتا ہے۔
کتابوں اور مُطالَعہ سے اجتناب نے مسلمانوں کی نئی نسل کو دینی و عصری علوم سے محروم کر دیا ہے۔ یہی وہ محرومی ہے جس کی وجہ سے ہم سطحیت، لا اُبالی پن اور ناعاقبت اندیشی کے گرداب میں من حیث القوم دھنستے چلے جارہے ہیں۔ ملت اسلامیہ ہند کی تَنَزُّلی کے اسباب میں سے ایک بنیادی سبب کتاب کلچر کا ناپید ہوجانا ہے۔ مُطالَعہ کا فقدان، کُتُب بینی کا کم ہوتا ہوا رحجان ہمیں پستی کی عمیق گہری کھائی میں پھینک رہا ہے۔ نئی نسل کو کُتُب بینی کی ترغیب کے نتیجے میں ہی کُتُب شناسی کی طرف راغب کیا جاسکتا ہے۔
(جاری)
5/2
•┅┄┈•※✤م✿خ✤※┅┄┈•
(31.12.2022)
🍁 مسعود محبوب خان 🍁
Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
○○○○○○○○○
سوم: •مُطالَعہ کا فقدان، علمی و فکری تَنَزُّلی اور حل•
┄┅════❁﷽❁════┅┄
══════•❁ا۩۩ا❁•══════
مُطالَعہ کا فقدان، علمی و فکری تَنَزُّلی اور حل
══════•○ ا۩۩ا ○•══════
تجزیہ کار مسلم معاشرے میں کُتُب بینی کے فروغ نہ پانے کی وجوہات میں کم شرح خواندگی، صارفین کی کم قوت خرید، حصول معلومات کے لئے موبائل، انٹرنیٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال، ڈیجیٹل انفارمیشن کی ترویج، کمرشلائزیشن، تیز رفتار طرز زندگی، اچھی کتابوں کا کم ہوتا ہوا رجحان، حکومتی عدم سرپرستی اور لائبریریوں کے لئے مناسب وسائل کی عدم فراہمی کے علاؤہ خاندان اور تعلیمی اداروں کی طرف سے کُتُب بینی کے فروغ کی کوششوں کا نہ ہونا بھی شامل ہے۔
علامہ اقبالؒ نے شکایت کا انداز اختیار کرتے ہوئے، امت مسلمہ سے فرمایا تھا:۔ ؎
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں
مُسلم اُمّہ کی علمی و فکری تَنَزُّلی کا دور:
تاریخ شاہد ہے کہ جس قوم نے مُطالَعے و مشاہدے، علم و تحقیق، تالیف و تصنیف کا دامن چھوڑا وہ دنیا میں ذلیل و رسوا ہوئیں۔ اُمّت مسلمہ کا زوال اس کی زندہ مثال ہے، چشمِ فلک نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ 7/ ویں صدی سے 13/ ویں صدی تک بغداد علم و ادب اور تحقیق و تصنیف کا گہوارہ رہا۔ سقوطِ بغداد کے وقت مسلمانوں کے عظیم کتب خانے دریائے فرات میں بہا دیئے گئے۔ یہ اس قدر ضخیم ذخیرہ تھا کہ دریا کا پانی اس کی سیاہی سے سیاہ ہو گیا۔ جب اندلس میں پندرہویں صدی عیسوی کے آخر میں اسلامی حکومت ختم ہوئی تو غرناطہ کی بڑی لائبریری کو بھی ملکہ ازابیلا نے جلوا دیا۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ صلیبی جنگجوں میں صرف طرابلس میں 30/ لاکھ کتابیں تباہ کی گئیں اور غرناطہ کے ایک میدان میں ایک دن میں 10 /لاکھ کتابیں جلائی گئیں۔
حکم ثانی کے دورِ خلافت میں قرطبہ کتابوں کی دنیا میں "عالمی علمی مارکیٹ" کی حیثیت سے دنیا بھر میں سرِ فہرست شمار کیا جاتا تھا۔ وہاں کُتُب فروشوں کی دکانیں 20/ ہزار تک جا پہنچی تھیں۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمان کتابوں کا مُطالَعہ کرتے اور اسے محفوظ کرکے اس کی عزت و احترام کرتے تھے۔ مگر رفتہ رفتہ علم و مُطالَعے کے فقدان نے مسلمانوں کو رسوائی کی سمت ڈھکیل دیا۔ مسلم اُمہ کے لئے آج افسوس کا مقام ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ کتابیں فروخت ہونے والے 28 /ممالک کی فہرست میں ایک بھی مسلم ملک نہیں ہے۔
افسوس صد افسوس! ایک جانب مسلمانوں نے اپنی علمی شان و شوکت کو خود ہی مسخ کردیا اور دوسری جانب اہل یورپ نے مسلمانوں کے علمی مراکز، بالخصوص ہسپانوی مراکز سے استفادہ کر کے علم و تحقیق کی دنیا میں قدم رکھا۔ ہمارے آباء و اجداد کے تقریباً 6/ لاکھ کُتُب کے انمول علمی خزانے آج بھی لندن کی ”انڈیا آفس لائبریری“ کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ ان میں عربی، فارسی، ترکی اور اردو میں علمی و تحریری کتابوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ اہل مغرب نے ہماری کُتُب سے فائدہ اٹھا کر ترقی کی راہیں طے کی ہیں۔ ہم کتابوں سے دور ہوئے تو علم سے دور ہوگئے۔ اسی درد کو حکیم الامّت علامہ اقبالؒ نے محسوس کیا اور اس کا اظہار اپنے شعر سے کر دیا: ؎
مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آباء کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا
عدمِ مُطالَعہ کے اسباب:
لوگوں کی اکثریت کتابیں تفریح کے لیے پڑھتی ہیں، جب کے کتابوں کا مُطالَعہ حصولِ علم کی خاطر زیادہ ہونا چاہیے۔ کتابیں جو کہ تفریح کے ساتھ ساتھ مقصد حیات کو بھی متاثر کرتی ہے اس کو پڑھنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کے لئے اپنے دماغ اور قلب و نظر کو مُطالَعہ یکسو کیا جائے اور اس کی لذت کو محسوس کیا جائے۔ ہم ٹھہرے سَہْل پَسَنْد لوگ ہمیں اتنی فرصت کہاں کہ ہم یہ سب کچھ کریں پھر ہم بآسانی ٹکنالوجی کے تفریحی مواد کا غیر متوازن استعمال کرنے لگ جاتے ہیں۔
کتابوں سے عدمِ دلچسپی کی بہت بڑی وجہ یہ کہ ہماری قوم میں سَہْل پَسَنْدی (easiness) اور تفریحاتی رجحانات بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ لوگ خشک اور کم دلچسپ موضوعات سے گھبراتے ہیں۔ اس کے برعکس اُن کا رجحان تفریحاتی سرگرمیوں میں بہت زیادہ ہے۔
عدمِ مُطالَعہ کے اسباب مندرجہ ذیل بھی ہیں۔ اہل علم کی ناقدری، علماء مُطالَعے سے غافل، ذہنی عیاشی پر مبنی واعظ و نصیحت، جدید موضوعات پر کتب کا فقدان، اساتذہ میں مُطالَعہ کا فقدان ہے، اساتذہ کا زبان پر عبور شاذ و نادر ہی اس پر کریلا نظر آتا ہے، طلباء کی غربت، خطباء و مقررین کی جانب سے مُطالَعے کی فکر نہ دینا، کُتُب خانوں میں مخصوص کتب کا ہونا اور لائبریری کا اپڈیٹ نہ ہونا، نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کا فقدان اور اپنی مسند کے زوال کا توہم، محرر کا انداز اسلوب' غیر ضروری طوالت، طلبہ کا غیر محفوظ مستقبل جو انہیں مُطالَعے سے دور رکھتا ہے۔
ناقص تعلیمی نظام کی وجہ سے طالب علم صرف ٹیکسٹ بکس اور نوٹس تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔ ملک میں جو کتابیں چھپ رہی ہیں، وہ اس قدر مہنگی ہیں کہ عام آدمی اسے خرید نہیں سکتا۔ لوگ لائبریریوں میں جانے کے بجائے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ آج عالمی معیار کی لائبریریوں کا فقدان ہے۔ جو لائبریریاں موجود ہیں ان میں جدید ٹیکنالوجی کا فقدان ہے۔ تعلیمی نظام کو ابھی کافی سفر طے کرنا ہے۔ پھر کہیں جا کر ایسی پختہ ذہنی بلوغت کی حامل تہذیب پیدا ہوگی جو اپنے معاشرے میں کتاب کو اس کا صحیح مقام دے سکے۔
کتابوں سے دوری کی ایک بڑی وجہ طرزِ زندگی (life style) کا تبدیل ہو جانا ہے۔ ہم لوگوں کی زندگیاں بہت مصروف ہوگئی ہیں۔ اپنے لئے معیاری وقت (quality time) نکالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے لوگوں میں مثبت مشاغل اپنانے یا ان کو جاری رکھنے کا ٹرینڈ ختم ہوتا جا رہا ہے۔
الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا پر غیر ضروری مصروفیات اور ضرورت سے زیادہ انحصار بھی کُتُب بینی سے دوری کا سبب ہے۔ موجودہ دور کی سب سے بڑی تبدیلی ٹیکنالوجی ہے جس نے زندگی کا سارا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ آج کی نسل اس کے غیر متوازن استعمال کی وجہ سے اسکرین ایڈکشن کا شکار ہوتی جارہی ہے جس کا تناسب وقت کے ساتھ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔
کتاب انسان کے حاصل کردہ علم کی منظم و مرتب صورت، اس کے افکار وخیالات کا مجسمہ، اسے فروغ دینے کا لاثانی وسیلہ ہے۔ جدید ٹیکنالوجی یا انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مقبولیت سے قبل طلباء و طالبات میں کتابوں کے مُطالَعہ کا بے حد رجحان پایا جاتا تھا۔ انٹرنیٹ، آن لائن، الیکٹرانک ڈیوائسز یا الیکٹرانک گیجٹس کے ذریعے مُطالَعہ کے باعث، کُتُب بینی یا کتاب کلچر تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے یہ تمام آلات کسی کتاب کے مُطالَعہ کا نعم البدل نہیں بن سکتے۔
اپنی پسند کی کتابوں کو انٹرنیٹ پر ڈھونڈنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، انٹرنیٹ پر اپنے منتخب کردہ موضوع پر کتاب ڈھونڈنا از حد مشکل ہے، اس لئے نہیں کہ کتابیں موجود نہیں بلکہ معیاری کتابیں حاصل کرنا مشکل و مہنگا ہے۔
کچھ افراد نے کتابوں کے مُطالَعے کو شاید روٹی روزی کمانے کا ذریعہ بنا دیا ہے، جسے شاعر نظیر باقریؔ نے اپنے شعر میں یوں بیان کرتے ہیں:۔ ؎
کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے سوال یہ ہے کتابوں نے کیا دیا مجھ کو!
انسانوں کی پستی یہاں تک پہنچ گئی ہیں کہ اب کتابیں فٹ پاتھ پر رکھ کر ردّی کی قیمت میں تول کر فروخت کی جا رہی ہیں، جب کہ جوتے مہنگی دکانوں میں سجا کر قیمتی داموں میں بیچے جارہے ہیں۔ بقول شاہ محمد مری "کتابوں کی دکانوں کو جوتے کے کاروبار نے دھکا دے کر خودکو میز پر سجا لیا"۔ ممبئی میں کئی علاقے نظر آئیں گے جہاں کتاب فروخت ہونے کے لئے فٹ پاتھ پر پڑی اپنی بے بسی اور تربت پر مرثیہ پڑتی نظر آتی ہیں، کتابوں کی یہ حالت دیکھ کر واقعی دل خون کے آنسو روتا ہے۔
واقعی یہ ہماری بدقسمتی اور ہمارے لیے لمحہئ فکریہ ہے کہ اس وقت ہمارے معاشرے میں کتاب کی بجائے جوتوں کو ترجیح دی جا رہی ہے اور کتابیں فٹ پاتھ پر جب کہ جوتے قیمتی الماریوں میں پڑے نظر آتے ہیں۔کتابوں کی داستان بھی عجب ہے۔ کبھی انہیں آگ لگائی گئی تو کبھی دریا برد کیاگیا، کبھی چرا لیا تو کبھی دفنا دیا گیا۔ کبھی یہ شاہی دربار کی زینت بنیں تو کبھی فٹ پاتھ پر کوڑیوں کے دام فروخت ہوئیں۔ واہ رے انسان علم و حکمت کے ذریعے کو کیسے کیسے ذلیل و رسوا کیا!!!
اس مضمون کو تحریر کرتے وقت ایک پرانا واقعہ یاد آگیا، اس واقعہ سے اندازہ ہوجائے گا کہ ہمارے معاشرے میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کے پاس علم، کتاب اور مُطالَعے کی کتنی قدر و منزلت ہے۔ واقعہ یوں ہے، میرے ایک قریبی دوست، اپنی محترمہ کے ساتھ میرے گھر تشریف لائے۔ ان کی محترمہ پی ایچ ڈی ہیں اور شہر اورنگ آباد کے ایک بڑے کالج میں پرنسپل ہیں، انہوں نے میری ذاتی لائبریری سے اچھی خاصی کتابیں مُطالَعے کی گرز سے لئے لیں۔ دراصل میری ہر کتابوں پر میرے نام و پتہ کی مہر لگی ہوتی ہے۔ اسی لئے ایک لمبے عرصے کے بعد مجھے مرزا ورلڈ بک ڈپو، اورنگ آباد سے فون آتا ہے کہ آپ کی کتابیں ردّی والا فروخت کرنے کے لئے لے آیا ہے۔ کتابیں زیادہ تھیں اس لئے انہوں نے ساری کتابیں ردّی والے خرید لی اور میری کتابیں انہوں نے مجھے لوٹا دیں۔ لیکن مجھے شدّت سے ان محترمہ پر بے حد غصّہ آیا جنہوں نے پہلے تو امانت میں خیانت کی، دوسرے یہ کہ کتابوں کی بے ادبی کی، جب کہ محترمہ خود اپنے نام کے ساتھ ادیبہ فلاں فلاں لکھتی ہیں۔ ان کے تو تعلیم یافتہ ہونے پر ہی افسوس ہورہا ہے۔
جب مندرجہ بالا حقیقی مناظر کو نظروں کے سامنے سے گذرتے دیکھا تو اس دن محسوس ہوا کہ ہماری اخلاقی پستی،علمی پسماندگی اور دیگر اقوام کی نسبت فکر و فن کے میدان میں پیچھے رہ جانے کی ایک بہت بڑی وجہ کتاب سے لاتعلقی اور اس عظیم ثقافتی ورثے کی قدر نہ کرنا بھی ہے۔
(جاری)
5/3
•┅┄┈•※✤م✿خ✤※┅┄┈•
(01.01.2023)
🍁 مسعود محبوب خان 🍁
Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
○○○○○○○○○
چہارم: •مُطالَعہ کا فقدان، علمی و فکری تَنَزُّلی اور حل•
┄┅════❁﷽❁════┅┄
══════•❁ا۩۩ا❁•══════
مُطالَعہ کا فقدان، علمی و فکری تَنَزُّلی اور حل
══════•○ ا۩۩ا ○•══════
مُطالَعے کے طبی فوائد:
کتابیں پڑھنا آپ کی جسمانی اور ذہنی صحت دونوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ سوتے وقت معیاری، اچھی کتاب کا مُطالَعہ نیند کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ سوتے وقت ہم معمول بنالیں کے اسمارٹ فون کے استعمال کو ترک کرکے کتابوں کے مُطالَعہ کا آغاز کردیں۔ ماہرینِ طِب اس پر متفق ہیں کہ کتاب پڑھنے سے ذہنی سکون ملتا ہے اور نیند جلدی آتی ہے۔ محققین نے ایم آر آئی اسکینگ کی مدد سے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پڑھنے میں دماغ میں سرکٹس اور سگنلز کا ایک پیچیدہ نیٹ ورک شامل ہوتا ہے، جیسے جیسے آپ کی پڑھنے کی صلاحیت پختہ ہوتی جاتی ہے، وہ نیٹ ورک بھی مضبوط اور زیادہ نفیس ہوتے جاتے ہیں۔
"مُطالَعہ" ذہنی تناؤ کو دور کرنے کا ذریعہ:
ایک طبی تحقیق جو کہ 12/سال کے تجربات پر منحصر ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ کیسے ذہنی تناؤ اور تشویش کو کم کرنے کے لئے "مُطالَعہ" کیسے مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ کتب بینی یا مُطالَعے کی عادت کے نتیجے میں جسم کے اعصابی نظام کو سکون میسر ہوتا ہے۔ اس حوالے سے یہ کھلی ہوا میں گھومنے سے زیادہ بہتر نتائج دے سکتی ہے۔ 2009ء میں برطانیہ کی یونیورسٹی میں کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مُطالَعے کی عادت ذہنی تناؤ اور پریشانی کو 68% فیصد کم کرتی ہے۔ بعض اوقات اس کا فائدہ موسیقی سننے اور چہل قدمی سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے لیے ماہرین نے 6/ منٹ تک مختلف لوگوں کو اخبار، کتاب یا کوئی اور تحریر پڑھنے کے لیے دی اور اس دوران ان کے دل کی دھڑکن اور پٹھوں میں تناؤ کو نوٹ کیا گیا۔
ڈاکٹر کے مطابق مُطالَعہ انسان کو پریشانیوں اور فکروں سے آزاد کراتا ہے۔ اس کے علاؤہ شعور اور سوچ کو بھی تبدیل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ مُطالَعے کی عادت انسان کو کئی بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ ان میں مرکزی اعصابی نظام، امراض قلب اور فالج کے علاؤہ خون کی شریانوں سے متعلق بیماریاں شامل ہیں۔
کُتُب بینی دماغی انحطاط کو روکتی ہے:
وقت کے ساتھ ساتھ ذہنی اور دماغی صلاحیتیں کم ہوتی جاتی ہیں۔ مُطالَعہ کرنے سے دماغ کی سوچنے کی صلاحیت کو جلا ملتی ہے۔ اس عمل کو دماغی انحطاط یا کوگنیٹوو ڈیکلائن بھی کہا جاتا ہے۔ ان میں نام اور اشیا کو یاد رکھنے میں دقت، بھولنے کی عادت، نئے علوم سیکھنے میں مشکل اور ذہنی مسائل حل کرنے میں سست روی وغیرہ شامل ہیں۔ لہٰذا تحقیق کے مطابق مُطالَعہ کرنے والے عمر رسیدہ افراد اُن لوگوں کے مقابلے میں فکری صلاحیت اور قدرت کو زیادہ عرصے تک برقرار رکھتے ہیں جو مُطالَعے کو نظر انداز کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ روزانہ نصف گھنٹہ یا ہفتے میں 210 /منٹ کا دورانیہ مُطالَعہ کرنے میں صرف کرتے ہیں ان میں قبل از وقت موت کا تناسب 23% تک کم ہوجاتا ہے۔
حل:
مُطالَعے کی اہم شرط یہ ہے کہ طالب علم کو اطمینانِ قلب و نظر ہو کہ جس چیز کا مُطالَعہ کر رہا ہے وہ مفید و مؤثر اور کارآمد ہو۔ اگر یہ یقین پیدا ہوجائے تو مُطالَعے میں اس کی دلچسپی بڑھے گی اور اس کی طبیعت اس مضمون سے اُکتائے گی نہیں۔ بصورت دیگر طبیعت بوجھل محسوس ہوگی اور جو کچھ وہ پڑھے گا‘ وہ بھی اس کے ذہن میں نہیں رہ سکے گا۔
عصرِ حاضر میں والدین و اساتذہ کی اکثریت بھی مُطالَعہ یا کتب بینی سے محروم ہوگئیں ہیں۔ ان میں مُطالَعے یا کتب بینی کا شوق و ذوق بالکل ماؤف ہوگیا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ ان کی زیرِ تربیت رہنے والی نئی نسل میں بھی کہاں مُطالَعے کا جذبہ پروان چڑھے گا۔ یہ واقعی ایک بہت سنگین مسئلہ ہے اس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ترغیبِ مُطالَعہ اور نئی نسل:
عصرِ حاضر میں کم عمروں کے بچوں میں مُطالَعے کے نام سے جاسوسی، رومانی و عشقیہ، سنسنی خیز، حیجان انگیز، فکشن ناولز یا محض تخیلاتی مضامین پر مشتمل ناولز وغیرہ حتیٰ کہ جنسی موضوعات جیسے مواد کا مُطالَعہ کرکے اپنا دماغ خراب کرتے ہیں۔ مُطالَعہ کا یہ غیر متعلقہ مواد بھی نئی نسل کے طلبہ اور نوجوانوں کو تباہ و برباد ہے۔ جرمن مصنف فلاسفر گٹھولڈ لیسنگ کا کہنا ہے کہ ''دنیا اکیلے کسی کو مکمل انسان نہیں بنا سکتی، اگر مکمل انسان بننا ہے تو پھر اچھے مصنفین کی تصانیف پڑھنا ہوں گی''۔
بچوں میں کسی بھی قسم کا شوق والدین کی مرہون منّت ہی آتا ہے۔ چھوٹے بچوں میں مُطالَعے یا کُتُب بینی کے فروغ کے لئے والدین و اساتذہ کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ والدین رات کو بچوں کو اخلاقی و کردار ساز کہانیاں کتاب سے پڑھ کر سنائیں۔ ایک تو بڑوں سے کہانی سننے کا لطف تو بچے کو ملتا ہی ہے ساتھ ہی ساتھ اس کے طفیل کتاب سے بھی اس کا ایک تعلق جڑ جاتا ہے اور اگر یہ تعلق ایک بار قائم ہو جائے تو تا عمر برقرار رہتا ہے۔
چائلڈ ڈویلپمنٹ نامی جرنل میں 2014ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جن بچوں کو 7/ سال کی عمر میں پڑھنے کی تیز عادت ہوتی ہے، آگے چل کا ان کا آئی کیو بلند ہوتا جاتا ہے جو ذہانت ناپنے کا ایک پیمانہ بھی ہے۔
بچے لاشعوری طور پر اپنے والدین کی نقل کرتے ہیں، انہیں جو کچھ کرتے یا کہتے دیکھتے ہیں اسی کو نقل کرتے ہیں، اگر والدین گھر میں خود کُتُب بینی کریں اور بچوں کے ساتھ کتابوں پر بحث و تَمْحِیص کریں تو ضرور بچوں میں بھی کُتُب بینی کی یہ عادت آئے گی اور جب کچھ ان کا دھیان اس طرف آئے تو ان کو دلچسپ کتابیں دے کر اس شوق کو بڑھایا جاسکتا ہے۔ جب آپ دیکھیں کہ بچّوں کی کتابوں سے دوستی ہوگئی ہے تو ان کیلئے مُطالَعے کا خاص وقت اور ممکن ہو تو خاص جگہ بھی متعیّن کردیں۔ جب تک تعلیمی اداروں میں فرائض انجام دینے والے اساتذہ بچوں کو غیر نصابی کتابوں سے روشناس نہیں کرائیں گے تب تک بچوں میں علم کی پیاس پیدا نہیں ہوگی۔ اساتذہ کو اپنے مُطالَعے میں وسعت پیدا کرنی ہوگی، تب ہی ہم خیر کی امید وابستہ کرسکتے ہیں۔
ان کے مُطالَعے کے لیے اخلاقی اور سبق آموز کہانیاں کی فہرست ضرور بنائیں۔ گائیڈنس پبلی کیشنز کی مطبوعہ سیریز ''شاہین سیریز'' اس کے لئے کارگر ثابت ہوگی۔ اور بھی کئی لوگوں کی اس جانب کافی کوششیں ہیں، انہیں بھی عمل میں لایا جاسکتا ہے۔
نوجوان نسل اور بچوں میں کُتُب بینی یا مُطالَعہ سے لا تعلقی اور غیر سنجیدہ رؤیہ پایا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں طالب علموں، نوجوان نسل اور بچوں میں مُطالَعہ کا شوق اجاگر کرنا اشد ضروری ہوگیا ہے۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو مُطالَعے کی طرف راغب کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ اگر طالب علموں میں پرائمری اسکولوں سے ہی مُطالَعہ کا شوق پیدا کیا جائے تو وہ تا عمر کتابوں سے محبت رکھیں گے اس طرح ان کے علم میں زندگی کے ہر لمحے میں اضافہ ہوتا رہے گا۔
فعال نظام لائبریری:
کُتُب خانے ذہنی تفریح کا ایک تعمیری ذریعہ ہوسکتے ہیں۔ کُتُب خانہ یا دارُالکُتُب یا مکتبہ (Library)، ایک ایسی جگہ یا مقام جہاں کتابیں مہیّا کی جاتی ہیں۔ آسان زبان میں لائبریری اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کتابوں، رسالوں، اخباروں اور معلوماتی مواد کو جمع کیا جاتا ہے۔ علم کی ذخیرہ کاری، علمی مواد کی ترتیب و تنظیم اور زمانے کی دست برد سے ان کا تحفّظ نیز موقع و محل کی مناسبت سے ان کی فراہمی، قوموں کی تہذیبی پیش رفت میں ان سب کا بہت اہم مقام ہے۔ قوموں کے تہذیبی ورثے آئندہ نسلوں تک کُتُب خانوں کے واسطے سے ہی منتقل ہوتے ہیں۔ افراد کی تربیت اور ترقی میں لائبریریاں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
کُتُب خانوں کی تاریخ غالباً 4/ ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ موجودہ دور میں بھی دنیا کی معلومات کا صرف 24/ فیصد حصہ انٹرنیٹ پر موجود ہے جب کہ 76/ فیصد حصّہ اب بھی کتابوں میں درج ہے۔ ان معلومات کو حاصل کرنے کا واحد ذریعہ کُتُب خانے ہیں۔
دورِ خلافت میں عالمِ اسلام میں کوئی شہر، کوئی گاؤں ایسا نہ تھا، جس میں لائبریری کا نظام نہ تھا۔ " مامون الرشید بن ہارون الرشید کُتُب خانوں کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ خلیفہ مامون الرشید نے بیت الحکمت کے نام سے ایک عظیم کُتُب خانہ قائم کیا، جس کا فیض ہلاکو خان کے حملۂ بغداد (13/ویں صدی) تک جاری رہا۔ یہ پہلا عوامی کُتُب خانہ (Public Library) تھا، جو اعلیٰ پیمانے پر قائم کیا گیا تھا۔ اس بے نظیر کُتُب خانے میں عربی، فارسی، سریانی، قبطی اور سنسکرت زبانوں کی 10/ لاکھ کتابیں تھیں "۔
دارالحکمت قاہرہ جسے حاکم بامر اللّٰہ نے قائم کیا تھا۔ اس لائبریری کے 40/ حصّے تھے اور ہر حصّہ 18/ ہزار کتابوں پر مشتمل تھا۔
کتابوں کی دنیا سے متعارف کرانے کے لیے بچوں و نئی نسل کو لائبریری کی سیر کروائی جائے۔ ذاتی طور پر ہفتے میں ایک دن لائبریری کے لئے مختص کریں۔ اسکول کی سطح پر لائبریریوں کو فعال کرنا چاہیے اور بچوں کے لیے ایک پیریڈ لائبریری میں کتابوں کے مُطالَعہ کا بھی ہونا چاہیے اور اساتذہ کو بھی مُطالَعہ کی افادیت کے بارے میں طلبہ کو آگاہی دینی چاہیے۔ کُتُب خانے جتنے فعال ہوں گے تعلیمی ادارے بھی اسی قدر تعلیم و تحقیق میں فعال ہونگے۔
بحیثیتِ اُمّت مسلمہ ہمیں اجتماعی طور پر کُتُب دوستی اور مُطالَعے کی ترغیب کے ماحول کو ساز گار بنانے کے لئے نئی جدید لائبریریاں متعارف کروانی ہوگی۔ لائبریری میں وقفے وقفے سے کتابوں کی نمائش، مختلف موضوعات پر ماہرین کے لیکچر، سیمینار اور ورکشاپس کا انعقاد کرکے مُطالَعے کا شوق پیدا کیا جاسکتا ہے۔ تاکہ ہر شخص مُطالَعہ کی راہ پر گامزن ہوسکے اور ہر کسی کے لیے مُطالَعہ آسان ہو جائے۔ کم از کم بڑے شہروں میں ایک ماڈل لائبریری قائم کی جائے اور پھر اس کی تشہیر کرکے لوگوں کو اس طرف راغب کیا جائے۔ کُتُب بینی کے شوق کو تسکین دینے کے لئے لائبریریز کے استعمال کو فروغ دینا بہت ضروری ہے تاکہ کُتُب بینی کے شائقین کو مہنگی اور نایاب کتابوں تک با آسانی رسائی حاصل ہو۔
(جاری)
5/4
•┅┄┈•※✤م✿خ✤※┅┄┈•
(02.12.2022)
🍁 مسعود محبوب خان 🍁
Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
○○○○○○○○○
پنجم: •مُطالَعہ کا فقدان، علمی و فکری تَنَزُّلی اور حل•
┄┅════❁﷽❁════┅┄
══════•❁ا۩۩ا❁•══════
مُطالَعہ کا فقدان، علمی و فکری تَنَزُّلی اور حل
══════•○ ا۩۩ا ○•══════
🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
✿ ''مُطالَعہ'' ایک تعارف
✿ مُطالَعہ کی اہمیت و افادیت
✿ مُطالَعہ برائے کُتُب بینی
✿ مُسلم اُمّہ کا تصنیفی و غلبہ کا زرّیں دور
✿ اسلاف کا شوق مُطالَعہ
✿ مُطالَعہ کا فقدان
✿ مُسلم اُمّہ کی علمی و فکری تَنَزُّلی کا دور
✿ عدم مُطالَعہ کے اسباب
✿ مُطالَعے کے طبی فوائد
✿ "مُطالَعہ" ذہنی تناؤ کو دور کرنے کا ذریعہ
✿ کتب بینی دماغی انحطاط کو روکتی ہے ✿ حل ✿ ترغیبِ مُطالَعہ اور نئی نسل
✿ فعال نظام لائبریری
✿ تحائف اور کتب
✿ مقررہ اوقات برائے مُطالَعہ
✿ بہت مہنگی ہوئی کتاب تو
✿ انفرادی تجربے
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
تحائف اور کُتُب:
مُطالَعہ کے ذوق کو پروان چڑھانے کے لئے کتابوں کو بطور تحائف دوستوں اور بچوں کو دینا بھی کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔ خوشی و غم کی تقریبات میں اپنے عزیز و اقرباء اور بچوں کو کتاب کے ذریعے مُطالَعے کی ترغیب دلانے کے لئے کردار ساز کتابیں پیش کریں۔ ان شاء اللّٰہ! اس عمل سے بھی ایک صالح و پاکیزہ معاشرہ عمل میں آئے گا۔
مقررہ اوقات برائے مُطالَعہ:
ابنِ سینا ایامِ طالب علمی میں ایک کامل رات اس کی آنکھوں نے نیند کا لطف نہیں اٹھایا۔ ایک ایک کتاب کو کوئی بار پڑھا۔ اہم بات یہ ہے کہ مُطالَعے کے لئے ایک متعین لائحہ عمل ہونا چاہئے کیونکہ یہ فطری اصول ہے کہ جو کام نظم و ضبط کے ساتھ کئے جائیں‘ وہ اس کام کی نسبت جس میں نظم و ضبط کا فقدان ہو زیادہ بہتر ہوگا۔ کسی کام کو نظم و ضبط سے سر انجام دینے کے لئے سب سے اوّلین شرط پابندی وقت اور باقاعدگی کی ہوتی ہے۔ علّامہ مجدد الدین فرماتے ہیں کہ "میں ہر روز جب تک دو سطریں حفظ نہ کر لیتا رات کو آرام نہ کرتا۔ مُطالَعہ کا یہ شوق سفر میں بھی کم نہ ہوتا تھا۔ آپ جب سفر کے لیے باقی سامان ساتھ لیتے تو چند اونٹوں پر صرف کتابیں لدی ہوتیں "۔ ؎
جب کتابوں سے میری بات نہیں ہوتی ہے
تب میری رات، میری رات نہیں ہوتی ہے
مُطالَعہ خواہ کتابوں کو ہو یا اچھی تحریروں کا ایک مفید مشغلہ ہے اسی لئے روزانہ کے معمول میں مقررہ اوقات مُطالَعہ کے لئے متعین یا مختص کرلیں، جس کے نتیجے میں مُطالَعے کی عادت کو زندگی میں بحال کیا جاسکتا ہے، ویسے تو زیادہ سے زیادہ اوقات مُطالَعہ کے لئے وقف کر دینا چاہیے۔ایسی عادت ڈالئے کہ جس دن مُطالَعہ نہ ہو اس دن طبیعت میں اضطراب پیدا ہو۔ مُطالَعہ کی عادت انسان کو بہت ساری منفی اور بے فائدہ مصروفیات سے بچا لیتی ہے۔ وقت کو قیمتی بناتی ہے۔ مُطالَعہ سے انسان کو تعلیم اورشعور و آگہی ملتی ہے جو کہ دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ مُطالَعہ انسان کے حافظہ کو تیز کرتا ہے اور دماغ کو وسعت بخشتا ہے' مُطالَعہ حصول علم کا ایک مؤثر ذریعہ ہے اورعلم بڑی دولت ہے۔
دنیا کے کئی ممالک میں طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی کتاب ایک ہفتہ میں مکمل کرے۔ انگلستان میں 15/ گھنٹے روزانہ مُطالَعہ کیا جاتا ہے۔ جاپان اور کینیڈا میں ہر طالب علم کے لیے لازمی ہے کہ وہ کم از کم ایک کتاب کے پندرہ صفحات کا روزانہ مُطالَعہ کرے۔
بہت مہنگی ہوئی کتاب تو:
مہنگائی کی وجہ سے لوگوں میں کسی بھی چیز کی قوتِ خرید باقی نہیں رہی۔ کچھ ماحول اور کُتُب کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث بہت سی کتابوں تک رسائی بھی نہیں ہو پاتی۔ دو شعبے ہیں جہاں کتاب سستی ہونی چاہئے، ایک تعلیم اور نصاب اور دوسرے ادب۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ انہی دونوں شعبوں میں کتاب کی قیمت غیر معمولی طور پر بلند ہے۔ نہ جانے کیوں؟ طلباء بھی اپنے طے شدہ نصاب کی کُتُب کے علاؤہ کوئی کتاب نہیں پڑھتے۔
ہمارے معاشرے پر نظر ڈالی جائے تو مایوسی کے ساتھ یہ معلوم ہوگا کہ بہت محدود تعداد میں لوگ کتابوں میں پوشیدہ اصولوں کو اپناتے ہیں۔ عصری تعلیمی اداروں میں ایک محدود نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ نصابی کتابوں کے علاؤہ بھی علم کی ایک وسیع و عریض دنیا ہے۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ مُطالَعہ میں وسعت پیدا کی جائے، غیر نصابی تحریروں کا مُطالَعہ بھی لازماً کیا جائے، کیونکہ یہی انسانی شعور میں گہرائی کا سبب بنتا ہے اور انسان کی فکر و نظر کو محدود رکھنے کے بجائے اس میں وسعت پیدا کرتا ہے۔
بات ترجیحات کی ہے قیمت کی نہیں۔ ہم سب کا مقصد کُتُب بینی کو فروغ دینا ہی ہے جس میں کامیابی اسے اوّلین ترجیحات میں شامل کر سکتی ہے۔ ہم جسم زیب و آرائش کے لئے قیمتی سے قیمتی زیورات، مہنگے سے مہنگے لباس زیب تن کرتے ہیں، لیکن اصلاحِ ذات کے لئے کتاب مہنگی لگتی ہے۔کیبل اور وائی فائی کے کنیکشن کروا سکتے ہیں، مگر مہینے میں کم از کم ایک کتاب نہیں خرید سکتے۔ چھٹی صدی کے ایک عالم امام ابن الخشابؒ ایک واقعہ نظروں سے گذرا موصوف نے ایک دن ایک کتاب 500 /درہم میں خریدی، قیمت ادا کرنے کے لیے کوئی چیز نہ تھی، لہٰذا تین دن کی مہلت طلب کی اور مکان کی چھت پر کھڑے ہو کر مکان بیچنے کا اعلان کردیا اور اس طرح اپنے شوقِ مُطالَعہ کی تکمیل کی۔ یہ تو عزیمت کا مظاہرہ ہے مگر ہم بھی کوئی سبیل تو نکال ہی سکتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ خون کو منجمد کرنے والی مہنگائی کے اس دور میں کُتُب کی بہت زیادہ قیمتیں ایک بڑا سبب بن گئی ہیں کُتُب بینی یا مُطالَعہ کے کم ہونے کا۔ اس مسئلہ کا حل یہ نکالا جاسکتا ہے کہ مُطالَعہ کا ذوق و شوق رکھنے والوں کا ایک حلقہ بنایا جائے اور زیادہ قیمتوں والی کُتُب کو شراکت داری یا پھر باری باری کے حساب سے خرید کر استفادہ کیا جائے۔
اپنے ماہانہ خرچ (Monthly Expenses) میں استطاعت کے مطابق کُتُب و رسائل کی خریداری کے اخراجات کا حصّہ بھی شامل کرلیں۔ کتابوں کی دکان کا دورہ اپنی آل و اولاد کے ساتھ کرنے کی کوشش کریں، گنجائش کے مطابق اگر سب کے لئے کتابیں خرید سکتے ہیں، ضرور خریدیں۔ اگر معاشی تنگی کا شکار ہیں تو کتابچے ہی خرید لیں۔ اللّٰہ تعالیٰ آپ کی نیتوں کو دیکھ رہا، وہی مسبب الاسباب ہے، کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکالے گا۔
کتابوں کی دکان کا دورہ کریں:
اپنے شہر کے کُتُب خانوں پر چاہے وہ دینی یا عصری نوعیت کے ہی کیوں نہ ہو، وہاں کم از کم مہینے میں ایک بار ضرور جائیں۔ کُتُب فروش سے ذاتی تعلق کو استوار کریں، اس کا فائدہ آپ کو ضرور نظر آئیے گا۔ کُتُب خانوں پر مختلف ذہنوں کے افراد کے ساتھ آپ کے روابط قائم ہونگے، جس کے نتیجے میں آپ کی فہم و ادراک کو جلا ملے گی۔ مختلف عنوانات پر کتابوں کی ورق گردانی کی وجہ سے آپ کے ذوقِ مُطالَعہ میں اضافہ ہوگا۔
پُرسکون دارالمُطالَعہ کا قیام:
ہنگامہ آرائی و بے ہنگام شور شرابے سے بچتے ہوئے پُرسکون جگہ کو مُطالَعے کے لئے مختص کریں۔ گھر میں ایک کونہ ایسا رکھیں جہاں آپ یکسوئی سے اپنے مُطالَعے پر توجہ دے سکیں۔ اگر وہ میسّر نہ ہوں تواپنے مسکن کے قرب و جوار میں پہاڑوں کا دامن، سمندر و دریا کا کنارا، کچھ نہ ملے تو قبرستان بھی پرسکون جگہ ہیں، جہاں مُطالَعے کو مزید تقویت ملے گی کیونکہ ایک تو قبرستان کا روح پرور احتساب و جائزہ کا ماحول دوسراخوف ِ آخرت کا پرورش ہوتا ماحول۔
ہمارے اسلاف کی زندگی میں ہمارے لئے نمونے ہیں۔
• عبداللّٰہ بن عمرؓ کے پوتے عبداللّٰہ بن عبدالعزیزؒ کا یہ حال تھا کہ وہ لوگوں کی صحبت سے بھاگتے تھے۔ ہمیشہ ہاتھ میں کوئی کتاب لے کر قبرستان میں چلے جاتے تھے اور اس کے مُطالَعہ میں مصروف رہتے تھے۔ لوگوں نے جب اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا: گورستان سے بڑھ کر کوئی ناصح، کتاب سے بڑھ کر کوئی مونس، اور تنہائی سے بڑھ کر کوئی محافظ ہم کو نظر نہیں آتا۔
• شمس الآئمہ امام سرخسی ؒ کو جب قید کردیا گیا تو انہوں نے جیل کے شور شرابے سے اپنے کو آپ کو محفوظ کرتے ہوئے کنویں میں بیٹھ کر اپنی ایک معرکۃ الآرا ء کتاب ”المبسوط“ لکھی جس کی 30 جلدیں ہیں۔
انفرادی تجربے:
اس ضمن میں یہ بندہ چند قریبی احباب کو جانتا ہوں، جو نئی نسل میں مُطالَعے کے ذوق کو پروان چڑھانے کے لئے محلہ واری سطح پر بک بینک کلب کو متعارف کرا رہے ہیں اپنے طور پر یا یوں کہہ لیں اپنی مدد آپ کے طور پر۔ اورنگ آباد میں ہمارے عزیز و رفیق مولانا عبد القیوم ندوی اور ان کی بیٹی مریم اس نوعیت کی تحریک کے روحِ رواں ہیں۔ انہوں نے اس مائیکرو لائبریری کی تحریک کو کم وقت میں شہر کے بڑے محلّوں میں متعارف کروایا ہے۔ جس کی وجہ سے معصوم بچوں میں مُطالَعے کا رحجان پروان چڑھایا جارہا ہے۔ الحمد اللّٰہ! اس سعی و جہد کے نتیجے میں بیٹی مریم بنت عبدالقوم ندوی کو امیریکن فیڈریشن آف مسلم انڈین اوریجن (AFMI) کی جانب سے 31/ دسمبر 2022ء کو عالمی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس سعی و جہد کو شرفِ قبولیت بخشے۔
جب کہ بے دار و زندہ ذہنوں کو کتابوں کی ضرورت ہوتی ہے، جیسے تلوار کو پتھر کی ضرورت ہوتی ہے، اگر اسے اپنی دھار برقرار رکھنا ہے۔ ؎
بارود کے بدلے ہاتھوں میں آ جائے کتاب تو اچھا ہو
اے کاش ہماری آنکھوں کا اکیسواں خواب تو اچھا ہو
"دنیا میں سب سے عزّت والی جگہ گھوڑے کی زین ہے اور زمانے میں بہترین رفیق کتاب ہے"۔ نوبل انعام یافتہ جارج برنارڈ شوا کا کہنا تھا، ''خیالات کی جنگ میں کتابیں ہتھیار ہیں ''۔ لیکن آج ہم اس محاذ پر بھی شاید پیچھے رہ گئے ہیں۔ یونانیوں، رومیوں، مسلمانوں اور یورپیوں کا اس کرۂ حیات پر حکمرانی کے پیچھے واحد راز علم، سائنس اور ٹیکنالوجی ہی ہے۔جس سے بدقسمتی سے آج بحیثیت قوم ہم ناآشنا ہے۔ شائقینِ علم و دانش نے کتب بینی سے جِلا بخشی ہے، لیکن عصرِ حاضر میں اس قوم کے نوجوانوں میں کتاب پڑھنے کا ذوق و شوق عدم توجہی کا شکار ہوتا جارہا ہے۔
ہمارے نوجوانوں کا ارتکاز، علمی خزانے سے متضاد ہے، حالانکہ "مُطالَعہ" قوت ارتکاز کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جس معاشرے سے مُطالَعے کا ذوق اور عادت ختم ہو جائے وہاں علم کی پیداوار بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اسی لئے اصل چیز ہے ذوقِ مُطالَعہ، اگر یہ پیدا ہوجائے تو دماغ تھکتا ہے نہ دل بھرتا ہے۔ اس ذوقِ مُطالَعہ کو ہمیں اپنے نوجوانوں اور نئی نسل میں دوبارہ پروان چڑھانا ہوگا۔اس کے لئے ایک ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دینا ہوگا۔ میں اپنے اس مضمون کے توسط سے اپنے نوجوانوں اور نئی نسل کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اللّٰہ کے واسطے کتابوں سے اپنا مضبوط رشتہ استوار کریں اور سوشل میڈیا کے غیر ضروری استعمال سے گریز کریں ورنہ کتاب سے دور رہنے والے نوجوان نہ تو ماضی سے آشنا ہوتے ہیں اور نہ ہی مستقبل کے لئے کارآمد۔
اگر ہم نے اپنے نوخیز نسلوں میں ادبی و تحریری مقابلوں کو جاری رکھا، مکالمے‘ مذاکرے اور کتاب میلوں کا یہ سلسلہ تسلسل اور مقصد و نصب العین کے ساتھ جاری و ساری رکھا، تو اللّٰہ کی ذات سے قوی اُمید ہے کہ اُمّت میں مُطالَعے کا ذوق و شوق مزید بیدار ہوگا، کتابوں کو بھی نئی زندگی ملے گی اور اس سے کسبِ فیض کے نتیجے میں قاری، مصنف، محرر اور حاحبانِ ذوق کو بھی معیاری مُطالَعے کی ترغیب ملے گی اور دلچسپی میں اضافہ بھی ہوگا۔ کتابوں کے میلے یا بُک فیسٹیولز منعقد کرنے کا رواج تو کافی قدیم ہے، مگر موجودہ بُک فیسٹیول کا جائزہ لیں تو ہم اس نتیجے پر پہنچے گے ماشاء اللّٰہ! آج بھی کتابوں کو خریدنے رحجان زندہ ہے۔ Low profile ہی سہی مگر زندہ ہے۔
بقول امریکی شاعر اور انشائیہ نگار ہینری ڈیوڈ تھَرو ''تہذیب، کتابوں کے شانوں پر ہی سفر طے کرتی ہے۔ کتابیں نہ ہوتیں تو تاریخ خاموش، ادب بے زبان، سائنس معذور اور خیال و قیاس ساکت ہی رہتے۔ کتابوں کے بغیر تہذیب کا ارتقائص ناممکن تھا''۔
مُطالَعہ کیسے ہو؟:
مُطالَعہ کیسے ہو؟ اس نکتے پر میں تکنیکی اعتبار سے گفتگو نہ کرتے ہوئے اس کے اصولی پہلوؤں کو زیرِ بحث لانا چاہوں گا۔ مُطالَعے کے تکنیکی پہلو پر بہت کچھ مواد آپ کو مل ہی جائے گا۔ مُطالَعے کا اصولی پہلو ہمارے سامنے واضح طور پر عیاں رہنا چاہئے۔
شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلویؒ کا ایک مقولہ ہے: ''جب کسی کتاب کے مُطالَعہ کا ارادہ کرو تو پہلے اس کے نام کو دیکھو، اگر نام ہی اصل مضمون کے مناسب نہ ہو تو اس کو چھوڑ دو، پھر تمہید کو دیکھو، اگر وہ کتاب کے مضمون کے مناسب نہیں ہے تو چھوڑ دو، اس کے مُطالَعہ میں وقت ضائع نہ کرو، جب نام اور تمہید میں مناسبت دیکھ لو تب آگے بڑھو''۔
مولانا نعیم صدیقیؒ صاحب رقم طراز ہیں: ”بنیادی طور پر قرآن و حدیث اور ان سے متعلق علوم پر جس حد تک ممکن ہو نگاہ ہونی چاہئے،پھر حضور نبی اکرمﷺ کی سیرت اور صحابہ کرامؓ کے سیرت پر نظر ہونی چاہئے... ضروری ہے مُطالَعہ کا سفر کرنے والا ہر شخص کم از کم اپنے ملک اور اپنی قوم؛ بلکہ اپنی تہذیب کے ادبیات سے واقف ہو“۔ پروفیسر عبدالمغنی کہتے ہیں: ''مُطالَعہ کی غرض علم کا حصول اور راہ عمل کی تلاش ہے''۔
ہمارے ہاں کتب شناسی کا رحجان بہت کم ہوگیا ہے۔ معیاری کتابیں کم لکھی جارہی ہیں، جب کہ غیر معیاری کتابوں کی بھرمار ہے۔ جس کی وجہ سے پڑھنے اور مُطالَعے کرنے شرح بہت کم ہوگئی ہے۔ مولانا نور عالم خلیل امینیؒ نے ایک نقطہ کی جانب توجہ دلائی وہ یہ ہے کہ: ''آج لوگ لکھنے والے زیادہ اور پڑھنے والے کم ہوگئے جس کے نتیجے میں تحریر کی اثر آفرینی ختم ہوگئی؛ اس لیے تحریر کو مؤثر بنانے کے لیے ضرورت ہے کہ ایک صفحہ کو لکھنے کے لیے سو صفحات کا مُطالَعہ ہو''۔
بنیادی کتابوں کا مُطالَعہ لازماً کریں۔ ہمارے نزدیک کتابوں کے مُطالَعے کا انتخاب کا مرحلہ واقعی بہت نازک ہوتا ہے، مزید یہ کہ جس طرح کتابوں کے انتخاب کا مرحلہ بڑا نازک ہے، اسی طرح مُطالَعہ میں ترتیب کی رعایت بھی بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ اسی لئے کوئی بھی کام بدریج انجام دیں، اس لیے مُطالَعہ کے معیار کو بتدریج بڑھایا جائے، کہیں ہم سے یہ عمل نہ سرزد ہوجائے کہ نورانی قاعدہ اور ناظرہ و تجوید کے بغیر ہی قرآن کے حفّاظ بننے کی خواہش موجزن ہونے لگ جائے۔ اسی لئے مُطالَعے کے لئے بنیادی و فکری کتابوں کا مُطالَعہ ہو، جس کتاب کا بھی مطالعہ کریں‘ اس کتاب کا حاصلِ مُطالَعہ ہم ذہن یا کسی ذاتی نوٹ بک میں محفوظ کرلیں۔ مُطالَعہ کے بعد حاصل مُطالَعہ کی بھی بڑی اہمیت ہے۔
مولانا نعیم صدیقیؒ ایک جگہ کتابوں کے مواد کو یاد کرنے ضمن میں فرماتے ہیں کہ: ”میری ذہنی ساخت یوں بنی کہ میں حاصل مُطالَعہ کو دماغ میں ڈال دیتا اور میرے اندر اس پر غور و بحث کا ایک سلسلہ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، کھانا کھاتے جاری رہتا یہاں تک کہ اس کا مثبت یا منفی اثر میرے عالم خیال پر رہ جاتا“۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ مُطالَعے کی نوعیت کسی بھی قسم کی ہو، اس مُطالَعے کو کثیر المقاصد، کثیر الفوائد اور جامع بنانے کی کوشش کریں۔ کسی بھی تحریر کا انتہائی گہرائی سے اور تجزیاتی طریقے سے مُطالَعہ کریں۔ اس میں استعمال کئے گئے نئے اور عمدہ الفاظ، خوبصورت تراکیب، محاورات، ضرب الامثال، مصرعے و اشعار، الفاظ کی مختلف قسمیں، یعنی مترادف، متضاد، ذومعنی وغیرہ اور تشبیہات و استعارات کو الگ الگ سمجھیں اور پھر انہیں اپنے پاس نوٹ کریں۔ دورانِ مُطالَعہ کارآمد مقامات کو تین درجوں یعنی اہم، زیادہ اہم اور اہم ترین میں تقسیم کرتے ہوئے ہر ایک کو الگ انداز سے محفوظ کریں۔ ان نقاط کو مدنظر رکھتے ہوئے مُطالَعہ کے طریقہ کار کو بہتر بناکر نہ فقط ذوق مُطالَعہ پیدا ہوگا، ساتھ ہی مُطالَعہ فائدہ مند اور ثمر بخش بھی ثابت ہوگا۔
دنیا کی سب سے اہم آخری الہامی کتاب قرآن پاک ہے، جو زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں راہنمائی دیتا ہے۔ یہ کتاب ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔قرآن کریم اور سیرتِ رسول اللّٰہﷺ نے مسلمانوں میں مُطالَعے، غور وفکر، مشاہدات اور لکھنے پڑھنے کا غیر معمولی ذوق پیدا کیا، یہ ذوق صرف مذہب تک محدود نہیں رہا، بلکہ علم کی تمام شاخوں تک پھیل گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہزار ہا ہزار برس تک مسلمانوں نے دنیا پر حکومت کی لیکن جیسے ہی مسلمانوں نے علم و مُطالَعے سے منہ موڑا، زوال ان کا مقدر بن گیا، اور غیر مسلم علم کی طلب کی وجہ سے دنیا کے حکمران بن گئے۔
ہمیں اپنے روشن ماضی سے سبق حاصل کرنا ہوگا، اور اس کی روشنی میں ایک نیا لائحہ عمل ترتیب دینا ہوگا۔ جب تک ہم کتابوں سے استفادہ نہیں کریں گے، تب تک ہم ایک مثبت تبدیلی کی محض خواہش ہی کرسکتے ہیں۔ اللّٰہ ہماری نسلوں میں مثبت تبدیلی جلد سے جلد لائے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہم بے عمل و ناقص المُطالَعہ بندوں کو مُطالَعہ کا ذوق اور کتابوں سے شغف عطاء فرمائے۔ (آمین)
ایک شعر کا مصرعہ پسند آیا سوچا اس مضمون کا اختتام اس پر کیا جائے۔ ؎
قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو
(ختم شدہ)
•┅┄┈•※✤م✿خ✤※┅┄┈•
(01.01.2023)
🍁 مسعود محبوب خان 🍁
Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
○○○○○○○○○
(masood.media4040@gmail.com)
04/07, Al Afshan, Shailesh Nagar, Mumbra- 400612, (M.S.), India.
Comments
Post a Comment