باطل مدعیان نبوت اور ظہورِ عیسٰیؑ و مہدی

•باطل مدعیان نبوت اور ظہورِ عیسٰیؑ و مہدی•
        ┄┅════❁﷽❁════┅┄
     ══════•❁ا۩۝۩ا❁•══════
باطل مدعیان نبوت اور ظہورِ عیسٰیؑ و مہدی
     ══════•○ ا۩۝۩ا ○•══════
      🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
               📱09422724040
         •┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•

     حضرت محمدﷺ، خاتم النبیین ہیں۔ اسی حقیقت کو اعلانیہ طور سے اللّٰہ ربّ العالمین نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید میں بھی بیان کیا ہے۔ اور بحیثیت امت مسلمہ ہمارا یہ پختہ عقیدہ بھی ہے۔ قرآن کریم میں حکم ربانی ہے۔

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِكُمۡ وَلٰـكِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمًا۔
((لوگو) محمدؐ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، مگر وہ اللّٰہ کے رسولﷺ اور خاتم النبین ہیں، اور اللّٰہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ (سورۃ الأحزاب: 40))

خاتم النبیینﷺ نے ارشاد فرمایا:
اِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدْ انْقَطعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِيْ وَلَا نَبِيَ. (ترمذي، الجامع الصحيح، کتاب الرويا، 4: 163، باب: ذهبت النبوة، رقم: 2272)
(اب نبوت اور رسالت کا انقطاع عمل میں آچکا ہے لہٰذا میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔)

     قرآن مجید میں سورۃ النجم میں فرمایا گیا، جس مفہوم یہ ہے کہ محمد رسول اللّٰہﷺ اپنی مرضی و خواہش سے کوئی بات نہیں فرماتے، بلکہ آپ کے فرمودات وحی الٰہی کے تابع ہوتے ہیں۔

     رسول اللّٰہﷺ کی زبان مبارک سے یہاں تک کہا گیا کہ اگر نبوّت کے سلسلے کو جاری رکھنا ہوتا تو، حضرتِ عمرؓ فاروق کو نبی بنایا جاتا۔
حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا:
لَوْ کَانَ نَبِیٌّ بَعْدِیْ لَکَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ.
اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمرؓ بن خطاب ہوتے۔ (جامع ترمذی)

     چار پانچ روز قبل ممبرا میں واقع ہماری  کالونی میں فتنہ شکیلیت کا ایک تربیت یافتہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہمنوا جو وہاں کرایہ کے مکان میں سکونت اختیار کئے ہوئے تھا۔ ایسے لوگوں تربیت اسی بات کی دی جاتی ہے کہ وہ دینی تعلیم سے ناآشنا، کم فہم نوجوانوں کو بہکائے اور ان کے سادہ ذہنوں میں گمراہ کن عقائد و نظریات اور افکار کو منتقل کرے، اس نے کالونی کی تینوں مساجد کے متعلق ذہنوں میں انتشار پیدا کرنا شروع کر دیا تھا۔ جب اس خفیہ سازش کا پردہ چاک ہوا تو اس نے  عبس قسم کی بحث و مباحثہ کا سلسلہ شروع کیا۔ اور جب اطمینان بخش جواب نہ دے سکا، تو راہ فرار اختیار کرلی۔

     اس موقع سے ایک حدیث ذہن میں دستک دینے لگی، نبیٔ آخر محمدﷺ نے فرمایا، میں جو کچھ دیکھتا ہوں کیا تم بھی دیکھتے ہو؟ لوگوں نے کہا نہیں! تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں فتنوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ تمہارے گھروں کے درمیان اس طرح گر رہے ہیں جیسے بارش برستی ہے۔ (بخاری شریف)

     قرآن و احادیث میں اس قسم کے واضح احکامات و ہدایات ہونے کے بعد بھی آج ہمارے مسلم معاشرے میں مرزا غلام احمد قادیانی کذاب کی طرح اپنے پوشیدہ افکار و عقائد کا اظہار و اعلان کرکے اپنے آپ کو مسیح منتظر امام مہدی اور حضرت عیسٰیؑ بتا کر ایک بہاری بابو ملعون شکیل بن حنیف اپنے خباثت بھرے باطل نظریات کے سہارے سادہ لوح و کم علم سیدھے سادھے لوگوں کو اپنے دام فریب میں مبتلا کرنے کی ناکامیاب کوشش کر رہا ہے۔ اس گمراہ کن فتنہ سے وہ مسلمانوں کو مرتد بنانے کی کوشش کررہا ہے۔

     ملعون غلام احمد قادیانی تقابلی مُطالَعے کا بڑا عالم اور صاحب تصنیف تھا۔ حقائق و معارف بیان کرنے میں لاثانی اور لوگوں کے دل پر اس کی علمیت اور کمالات کا سکہ جما ہوا تھا۔ مگر اس کم ظرف پر شیطان کا پورا جادو چل گیا اور اپنی ریاضت و عبادت کے انوار و ثمرات سے بہک کر اپنے آپ کو عرش بریں پر خیال کرنے لگا۔

     اس میں کوئی شک نہیں کہ مرزا قادیانی انگریز کا خود کاشتہ پودا تھا۔ لیکن اس کو پروان چڑھانے میں انگریزوں کا سب سے بڑا مقصد مسلمانوں کے اندر سے روحِ محمدﷺ نکالنا اور ان میں شعلہ جوالہ کی طرح گرم جذبۂ جہاد کو سرد کرنا تھا۔ کیونکہ برصغیر پر انگریزوں کے مکمل تسلط کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قومِ رسول ؐکے اس جذبۂ جہاد نے کھڑی کی تھی۔

     عصر حاضر میں ایسے ہی جھوٹے مدعیان نبوت اور منکر ختم نبوّت کے فتنوں نے امت کو گھیرا ہوا ہے، جس کی آڑ میں سادہ لوح مسلمانوں کو مرتد بنایا جارہا ہے۔

     جو شخص بھوکا رہے، کم سوئے، کم بولے اور نفس کشی اختیار کرلے اس سے بعض دفعہ ایسے افعال صادر ہو جاتے ہیں جو دوسروں سے نہیں ہوسکتے، ایسے لوگ اہل اللّٰہ میں سے ہوں تو ان کے ایسے فعل کو کرامت کہتے ہیں اور اگر اہل کفر یا گمراہ ہوں تو ان کے ایسے فعل کو استدراج کہتے ہیں۔ باطل مدعیان مہدویت و مسیح موعود بھی اپنی ریاضت و مجاہدات اور نفس کشی کی بدولت ایسے افعال کرتا تھا۔ جس کم فہم و کم مطالعہ سادہ لوح انسان فتنۂ ارتداد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس قسم کی شعبدہ بازیوں اور نظر بندیوں کے نتیجے میں ہزاروں لوگ گمراہی کے راستے پر چل پڑتے ہیں۔

     اس طرح کی سرگرمیوں کو انجام دینے والے شعبدہ بازی اور کہانت میں مہارت حاصل کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کے ظاہر باطن سے متغائر اور ان کے افعال و اعمال تقویٰ سے عاری تھے۔ یہ لوگ اہل ہنود کی طرح تَناسُخ اور حلول کے قائل ہوتے ہیں۔ یہ خیال کہ مرنے کے بعد روح کسی دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے۔ ہندو آواگون کہتے ہیں یہ خیال بالکل ہی باطل اور اس کا ماننا کفر ہے۔

     ابتداء میں ایسے بدبخت گمراہ و بد عقیدہ لوگ جمہور مسلمین کے مذہب و عقائد پر عمل پیرا رہتے ہیں، لیکن بعد میں اغوائے شیطان سے ملعون مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح قرآنی آیات کی عجیب عجیب تاویلات بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں اور ملحدوں کی طرح نصوص پر اپنی نفسانی اور شیطانی خواہشات کا روغن قاز ملنے لگتے ہیں، پھر نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ اپنی جھوٹی نبوت کا دعویٰ بھی پیش کر دیتے ہیں۔

     اصولی طور پر یہ بات ذہن نشین رکھنے کی ہے کہ شکیل بن حنیف اُن شاطر مکاروں میں سے ہے، جس سے پہلے بہاء اللّٰہ ایرانی اور مرزا قادیانی وغیرہ کا فکر و فلسفہ جو آج گمراہ لوگوں میں پھیل چکا ہے۔ کوئی بعید نہیں کہ اس نے اُن سے اپنی دکان آرائی میں فائدہ اٹھایا ہو۔ اس لیے اس کے قریب اور مغالطے میں جہاں بہائیت و مرزائیت کی آمیزش ہوگی تو کچھ جدت اور نیا پن بھی ہوگا۔ چنانچہ اب تک خود اس کی تحریروں سے یا اس کے پیروکاروں کے بیانات و تحریرات سے جو کچھ سامنے آیا ہے اس سے ہمارے اس تجزیے کی بھر پور تائید ہوتی ہے۔ مثلا حضرت عیسٰیؑ ابن مریم اور محمد بن عبد اللّٰہ مہدی کے ایک ہونے کا فلسفہ اپنے پیروکاروں کو علماء اسلام سے دور رکھنے کا فلسفہ، مسلمانوں میں گھس کر مسلمانوں ہی کی شکل و شباہت میں مسلمانوں کو اسلام سے مرتد بنانے اور اپنی بات منوانے کا طرز عمل، قادیان کے طرز پر اپنے پیروکاروں کے لیے الگ بستی بسانے کی سیاست، اپنی شخصیت اور ماضی کی حرکات و سکنات کو پوشیدہ رکھ کر قرآن و حدیث کو موضوع بحث بنانے اور مسلمانوں کو اس میں الجھانے کا مکر وغیرہ بہت سی باتوں میں شکیل بن حنیف، مرزا قادیانی کا شاگرد نظر آتا ہے۔ اس کے تانے بانے بھی وہیں جڑتے نظر آتے ہیں۔ یہ تمام لوگ صہیونیت نواز فری میسن تحریک کے آلہ کار ہوتے ہیں۔ وہیں سے ان لوگوں کو سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے ہدایات، سرگرمیوں کا انجام دینے کے مالی امداد و افرادی قوت مہیاء کروائی جاتی ہیں۔

     یہ فتنہ نوجوانوں کو اپنا ہدف بناتا ہے ان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ تمام علامات قیامت پوری ہو چکی ہیں اور اب حضرت عیسٰیؑ ابن مریم اور حضرت مہدی کو بھی آجانا چاہئے اور وہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ مہدی و مسیح شکیل بن حنیف ہی ہے، شکیل بن حنیف کو حضرت عیسٰیؑ اور مہدی ثابت کرنے کے لیے وہ وہی مواد استعمال کرتے ہیں جو قادیانیوں نے قرآن و احادیث میں تحریف و تبدیل کرکے مرتب کیا ہے۔

     دین دار اور ظاہری طور پر متشرع و مسنون حُلیے میں یہ لوگ اسلامی تعلیمات سے ناواقف، نئے اور کورے طلبہ اور سادہ لوح ناقص المطالعہ افراد کو ہدف بناتے ہیں۔ اس کے ہمنوا، اپنے مخاطب سے علاماتِ قیامت کا تذکرہ کرکے اس پر بحث و مباحثہ کرتے ہیں اور ان کا مصداق نئے انکشافات، نئی ایجادات اور معاصر دنیا کے بعض حالات و واقعات کو قرار دیتے ہیں۔ اس درمیان یہ بہت ہوشیاری کے ساتھ یہ کوشش بھی کرتے ہیں کہ اپنے مخاطب کے ذہن میں مساجد و علماء کی تصویر ایسی بنا دیں کہ وہ ان کی کسی بات کی تصدیق علماء سے کرانے کی ضرورت نہ سمجھے۔

     دجال کی آمد کا ذکر اور غلط و بے بنیاد تعبیرات کرکے مسیح موعود و مہدی کے ظہور   کا نکتہ ذہن میں بیٹھا دیتے ہیں۔ داعیان شکیل، شکیل بن حنیف کی مہدویت و مسیحیت پر بیعت کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ متعدد شہروں میں شکیل بن حنیف نے اپنے خلفاء منتخب کئے ہیں۔

(قسط دوم)

     شکیل بن حنیف کی قرآن و حدیث کی تعلیمات سے اخذ کی گئی خودساختہ بے بنیاد تشریحات اور باطل نظریات، قرآن و احادیث سے متعارض نظر آتی ہیں۔ اس جھوٹے شخص نے اپنے بارے میں متعدد جھوٹے دعویٰ جو تعلیماتِ اسلامی کے بالکل برعکس ہیں، اسے بےشرمی سے اپنے ہمنواؤں میں پیش کئے ہیں۔ اس کی تالیف کردی فتنہ انگیز کتاب 'مہدی کی آمد کی پیشنگوئیاں' جس میں اس کے  متعدد جھوٹے دعویٰ ہی نظر آتے ہیں۔ شکیل ظہور مہدی اور نزول عیسٰیؑ والے عقیدہ کو مبہم باور کرانے اور اپنی جھوٹی مہدویت و مسیحیت کو ثابت کرنے کے لئے اپنے خود ساختہ اصولوں کی وضاحت نہیں کر پاتا ہے۔

※ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ مسیح موعود ہے۔
※ دوسرا دعویٰ یہ کہ وہ اپنے آپ کو مہدی بھی کہلواتا ہے۔
※ تیسرا دعویٰ یہ کرتا ہے کہ اللّٰہ نے اس کو ایک خصوصی نہج عطاء فرمایا ہے۔ (جس کا علم شاید اسے بھی نہیں ہے، اسی لئے اس نہج کی وضاحت اس کے لئے تکلیف دہ عمل ہے)۔
※ چوتھا دعویٰ یہ کہ مسلمانوں کے تمام فرقے اور ان کا طریقۂ عبادت گمراہ کن ہے۔
※ پانچواں بات یہ ہے کہ خروج دجال کی من مانی تاویلات۔

     احادیث سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مہدی اور حضرت عیسٰیؑ دو الگ الگ شخصیات ہیں، جب کہ ملعون شکیل، کذاب غلام احمد قادیانی کی طرح اس بات کا دعوے دار ہے کہ وہ بیک وقت مہدی بھی ہے اور مسیح بھی، ظاہر ہے کہ یہی پہلی بات ہی اس کے جھوٹے ہونے کے لیے کافی ہے۔

     قرآن کریم میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَاِنۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اِلَّا لَيُـؤۡمِنَنَّ بِهٖ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ‌ ۚ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يَكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا‌۔
(اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے گا اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہی دے گا۔ (سورۃ النساء: 159))
     یعنی حضرت عیسٰیؑ کی وفات سے پہلے تمام اہلِ کتاب (یہودی و عیسائی) دائرہ اسلام میں داخل ہوں گے۔ آخر کیوں شکیل بن حنیف جیسے چھوٹے شخص کے ہاتھ پر اب تک ایک بھی یہود و نصارٰی نے اسلام کا کلمہ نہیں پڑھا۔

     مولانا عبدالرشید طلحہ نعمانی ملت ٹائمز کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ "اس پورے معاملے میں چونکانے والی رپورٹ یہ ہے کہ مرتد ہونے والوں میں 80/ فیصد تعداد تبلیغی جماعت سے وابستہ رہ چکے افراد کی ہے"۔

     مفتی اسعد قاسم سنبھلی صاحب نے فتنہ شکیلیت پر کہا کہ شکیل بن حنیف کی پیدائش دربھنگہ بہار میں ہوئی، وہ ملازمت کی تلاش میں دہلی آیا اور وہیں پر تبلیغی جماعت سے وابستہ ہوا، لیکن ذہنی بگاڑ اور عہدہ کی ہوس کی وجہ سے اس نے بعض بھولے بھالے جماعت کے ساتھیوں کو اپنا ہمنوا بنانا شروع کیا اور پہلے مہدی پھر مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔

     اس طرح کے تلخ حقائق کا سامنا اپنی ذاتی سرگزشت یا روداد کی شکل میں بیان کرنا چاہوں، جس کا راست سابقہ فتنہ شکیلیت سے ہمیں ہوا۔ 2000ء میں گجرات میں زلزلوں کے جھٹکے شدت سے محسوس ہوئے، جس کا جانی و مالی نقصان بہت ہوا۔ چونکہ گجرات کے زلزلوں کے وقت بھوج، انجار، بھچاو اور بھوج کے اطراف کے علاقوں میں ریلیف کا کام کرنے کا موقع ملا، اس وقت وہاں قادیانی لوگ احمدیہ مسلم جماعت کے نام سے ریلیف کے کام کے ذریعے لوگوں کے دین و ایمان کا سودا کررہی تھیں۔ اس وقت ایک نصب العین و مقصد کے تحت قادیانیوں کے فتنوں سے عام سادہ لوح مسلمانوں کو بچانے کے لئے ہم لوگوں نے علمی و عملی سرگرمیوں کو تیز کردیا تھا۔ قادیانیوں کے ساتھ کئی علاقوں میں مناظرہ بھی ہوا۔ اس تجربے کی روشنی میں ہمارے ایک ساتھی رفیق بھائی نے ہمیں دھولیہ آنے کی دعوت دی۔

      2005ء میں پہلی بار فتنہ شکیلیت سے سابقہ دھولیہ شہر میں پڑا، جہاں اس نے دین دار لوگوں میں اپنی شعبدے بازی دکھائی، لوگوں کو متاثر کیا اور چکنی چپڑی باتوں سے ایک اچھی تعداد کو اپنا ہم نوا بنالیا۔ جہاں اس نے بعض معززان شہر، مسجد کے ذمّہ داران، جن کی وابستگی ایک بڑی جماعت سے تھی، جو شکیل بن حنیف کے دام فریب میں مبتلا ہوگئے تھے۔

     بعد ازاں اورنگ آباد میں سلوڑ تعلقہ کے غالباً گولے گاؤں میں متبعین شکیلیت جو کہ دھولیہ اور اطراف سے بازپرس کے نتیجے اور حقیقت کے عیاں ہونے پر وہاں سے فرار ہوکر اس نئے علاقے میں اپنا ڈیرہ ڈال چکے تھے۔ الحمداللّٰہ! وہاں بھی ہم نے ان کا تعاقب جاری رکھا۔ سلوڑ کے قرب و جوار میں ان لوگوں نے سادہ لوح ذہنوں کو ہدف بنا کر اپنی مکاری و گمراہی کا شکار بنانا جاری رکھا تھا۔ امت کے باشعور افراد کی سعی و جہد اور ہمارے ایک منظم طریقۂ کار کے نتیجے میں انہیں وہاں سے بھی راہ فرار اختیار کرنی پڑی۔ اس وقت جن لوگوں کے دلوں میں ایمان کی رمق بیدار تھی، جنہیں ہر عمل شریعت کی کسوٹی پر پرکھنا آتا تھا، ان مخلصین لوگوں نے، سحر بیانی سے مرعوب ہوکر مرتد ہوئے لوگوں کو بہت سمجھایا کہ ملعون شکیل بن حنیف کوئی نبی، مہدی یا حضرت عیسٰیؑ نہیں بلکہ جھوٹا، کذاب، شعبدہ باز اور رہزن دین و ایمان ہے، لیکن کچھ عقیدت مندوں کی خوش اعتقادی میں کوئی فرق نہیں آیا۔

     اس کے بعد معلوم ہوا کہ اس نے اورنگ آباد سے تقریباً پانچ کلومیٹر کی حد میں آنے والے پڑےگاؤں کے مقام کو اپنا مستقر بنایا۔ وہاں کسی ذریعے سے بڑی جگہ حاصل کرکے اس نے اپنے ہمنواؤں کی بستی قائم کردی۔ یہی طریقۂ کار کا استعمال قادیانیوں کا ٹولہ کرتا ہے۔ اورنگ آباد کے مذہبی و غیور مسلمانوں نے اس کے خلاف صدائے احتجاج بھی بلند کی، احتجاج کے نتیجے میں مسلمانوں کی بڑی تعداد کو پابند سلاسل بھی ہونا پڑا، لیکن شاید اہل اقتدار کی سرپرستی کے نتیجے میں صدائے احتجاج نقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہوئی۔

    مجھے یاد آتا ہے کہ اس دور میں ہمارے ایک بہت عزیز دوست الطاف خان کے ساتھ ہم نے ان کے کئی لوگوں سے ملاقات و مناظرے کئے۔ جس کے خاطر خواہ نتائج بھی ہمیں نظر آئے۔ اس وقت بھی ہمیں اس بات کا افسوس رہا کہ ان کے حلقے میں اچھی خاصی تعداد ہماری بڑی دینی جماعت سے وابستہ ساتھیوں کی ہی تھی۔ یہ واقعی ہمارے لئے اور ہماری دینی جماعتوں کے لئے، فہم و ادراک کے ذریعے ایک ٹھوس لائحہ عمل اختیار کرنے کا مقام ہے۔ ہم اپنی جماعتی عصبیتوں کو بالائے طاق رکھ کر ان گمراہ فتنوں کی سرکوبی کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ ان شاء اللّٰہ! ہمارا اتحاد انہیں کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گا۔

    جہاں تک امام مہدی کا تعلق ہے وہ تو بہرحال اپنے وقت متعینہ پر ہی دنیا میں تشریف لائیں گے۔ مگر ان کے نام پر اپنی روٹی روزی سیکھنے والے، اپنے اپنے خود ساختہ عقائد و نظریات اور افکار کی دکانیں چمکانے والوں کے کرتب بھی تاریخ کے ایک تاریک باب کا گمنام گوشہ ہے۔
(جاری)

(تیسری قسط)

      قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کے واضح احکامات ہونے کے باوجود آئمہ تلبیس ابلیس و باطلہ، نت نئے تجربات و طریقوں سے عالم اسلام کو ضرب لگانے کے لئے وقتاً فوقتاً منظر عام پر آتے رہے ہیں۔

     خاتم النبیینﷺ کی پیش گوئی کے مطابق تاریخ میں کئی جھوٹے مدعیان نبوت نے اپنی جھوٹی نبوت کا اظہار کیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ لوگ ذلّت و نکبت اور رسوائی و خواری کے ساتھ دنیا کے لئے نشان عبرت بن چکے ہیں۔ قیامت تک اسی طرح جھوٹے مدعیان نبوت و ظہورِ عیسٰیؑ و مہدی کی آمد کا سلسلہ جاری رہے گا، حتیٰ کہ وہ تعداد پوری ہو جائے گی جو صادق و مصدوق نبی کریمﷺ نے ہمیں خبر دی ہے۔

     عقیدۂ ختم نبوت مسلمانوں کے ایمان میں شہہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے، یوں سمجھ لیجئے کہ دین اسلام کی ساری عمارت عقیدۂ ختم نبوت پر کھڑی ہے، یہ اتنا نازک مسئلہ ہے اگر اس عقیدۂ ختم نبوت پر کوئی بھی مسلمان اسود العنسی کذاب سے کذاب مرزا غلام احمد قادیانی اور اس سے آگے اس قبیلے کی موجودہ نسل یوسف علی کذاب تک یا اُن کے پیروکاروں کیلئے ذرا سا بھی نرم گوشہ اور لچک کا مظاہرہ کرتا ہے تو وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

     آپﷺ کے بعد جو کوئی بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ملعون اور ابلیس کے ناپاک عزائم کا ترجمان ہوگا۔ نبیٔ کریمﷺ نے پشین گوئی فرمائی تھی کہ امت میں تیس چھوٹے دجال ظاہر ہوں گے جو دعویٰ نبوت کریں گے۔ آپﷺ نے نبوت کے جھوٹے دعویداروں کی نہ صرف نشاندہی کر دی بلکہ ان کی تعداد بھی بیان فرما دی تھی۔ حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا:

أنّه سَيَکُوْنُ فِيْ أُمَّتِيْ ثَلَاثُوْنَ کَذَّابُوْنَ، کُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنّه نَبِیٌّ وَ أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِيْنَ لَا نَبِيَ بَعْدِيْ.
حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا: "میری امت میں تیس (30) اشخاص کذاب ہوں گے ان میں سے ہر ایک کذاب کو گمان ہوگا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا"۔
(ترمذي، السنن، کتاب الفتن، باب: ماجاء لا تقوم الساعة حتی يخرج کذابون، 4: 499، رقم: 2219۔ ابوداؤد)

     اگر کوئی شخص حضور نبی اکرمﷺ کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے خواہ کسی معنی میں ہو۔ وہ کافر، کاذب، مرتد اور خارج اَز اسلام ہے۔ نیز جو شخص اس کے کفر و ارتداد میں شک کرے یا اسے مومن، مجتہد یا مجدد وغیرہ مانے وہ بھی کافر و مرتد اور جہنمی ہے۔

1- عبہلہ بن كعب بن غوث العنسی المعروف اسود العنسی، (دعویٰ نبوت کرنے والا پہلا شخص تھا)، 11ھ۔
2- مسیلمہ کذاب یمامہ، 12ھ
3- سجاح بنت حارث
4- مختار بن ابو عبید ثقفی، 27ھ
5- حارث کذاب دمشقی، 69ھ
6- مغیرہ بن سعید، 119ھ
7- بیان بن سمعان تمیمی، 119ھ
7- صالح بن طریف برغواطی، 127ھ،
9- اسحاق اخرس، 135ھ، عباسی دور خلافت، اصفہان
10- استاد سیس خراسانی، خلیفہ ابوجعفر منصور کے دور خلافت میں
11- علی بن محمد خارجی، 208ھ
12- حمدان بن اشعث قرمطی،
13- علی بن فضل یمنی، 303ھ
14- ابو طیب احمد بن حسنین متبنی، 303ھ
15- حامیم بن من اللّٰہ مجلسی، 329ھ
16- عبد العزیز باسندی، 332ھ
17- ابو القاسم احمد بن قسی، 550ھ
18- عبد الحق بن سبعین مرسی، 666ھ
19- بایزید روشن جالندھری، پورا نام بایزید ابن عبداللّٰہ انصاری 986ھ، بمقام جالندھر (پنجاب)
20- میر محمد حسین مشہدی المعروف نمود، اورنگ زیب عالمگیر کے آخری زمانے، ایران
21- سید علی محمد باب، 1198 ہجری، ایران
22- مرزا حسین‌ علی نوری (بہاء اللّٰہ)، 1863ء، ایران
23- مرزا غلام احمد قادیانی، 1890ء،
24- محمود پسیخانی گیلانی، 1397ء، گیلان صوبے کے پشیخان، ایران،
25- ریاض احمد گوہر شاہی، 1980ء، پاکستان
26- یوسف علی کذاب، 1997ء، فیصل آباد، پاکستان، زید حامد
27- احمد عیسی

     مسیلمہ کذاب کی پذیرائی کو دیکھ کر دوسرے مزید بدباطن لوگوں کو بھی دعویٰ نبوت کی جرأت ہوئی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فراست ایمانی سے آغاز خلافت ہی میں ان تمام فتنوں و شرانگیزیوں کی قوت کا پورا اندازہ لگا لیا تھا۔ چنانچہ منصب خلافت سنبھالتے ہی حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خالد بن ولیدؓ کا تقرر مدعی نبوت کے مقابلے میں کیا اور ساتھ ہی حضرت عدی بن حاتمؓ کو بھی اسی مقصد کے تحت روانہ کیا۔ امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیقؓ نے تمام فتنوں کی سرکوبی کے لیے مجموعی طور پر گیارہ لشکر ترتیب دیئے تھے۔

     ایک مرتبہ کسی نے حضرت عبداللّٰہ ابن عباسؓ سے کہا کہ مختار کہتا ہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے۔ انہوں نے فرمایا سچ کہتا ہے ایسی وحی کی اطلاع اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی اس آیت میں دی ہے:
"وان الشیاطین لیو حون الٰی اولیاہم" شیاطین اپنے مددگاروں پر وحی نازل کیا کرتے ہیں۔

حضرت امام مہدی کا ظہور کہاں ہوگا؟

     امام مہدی کے ظہور کو قرب قیامت کی علامات میں سے بیان کیا گیا ہے۔ ان کے ظہور کا وقت حضرت عیسٰیؑ کے نزول من السماء کے زمانہ سے کچھ پہلے ہوگا۔ امام مہدی کے نام، نسب، ظہور کا زمانہ اور خصوصی علامات احادیث متواترہ سے ثابت ہیں۔ امام ابوداؤدؒ نے سنن ابی داؤد میں امام مہدی کے حوالے سے متعدد روایات بیان کی ہیں، جس مفہوم یا خلاصہ کچھ اس طرح ہیں۔

     نیز احادیث مبارکہ میں آپ کے ظہور کی چند مخصوص علامات کا تذکرہ ہے جو حسب ذیل ہیں:

     جناب نبی اکرمﷺ نے فرمایا کہ قیامت سے قبل میری امت میں ایک شخص ایسا ضرور آئے گا جس کا نام میرے نام جیسا "محمد" ہوگا، ان کی والدہ کا نام میری والدہ کے نام جیسا "آمنہ" ہوگا اور ان کے والد کا نام میرے والد کے نام جیسا "عبداللّٰہ" ہوگا۔ وہ میرے خاندان سے ہوگا، حضرت فاطمہؓ کی اولاد میں سے ہوگا، مدینہ منورہ میں پیدا ہوں گے پھر مکہ تشریف لائیں گے۔ جناب نبی اکرمؐ نے مہدی کا نام، ان کی والدہ اور والد کا نام تک بتایا ہے اور نشانیاں بھی بیان فرمائی ہیں۔

     لیکن اس کے ساتھ یہ صراحت بھی کر دی ہے کہ وہ خود مہدی ہونے کا دعویٰ نہیں کریں گے بلکہ ایک حکمران کی موت پر اختلافات نمودار ہوں گے تو وہ مدینہ منورہ سے چھپ کر مکہ مکرمہ چلے جائیں گے، حتیٰ کہ لوگ علامات سے اسے پہچان کر اس کی مرضی کے خلاف مقام ابراہیم اور حجر اسود کے درمیان آپ کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت کریں گے۔ اس وقت غیب سے یہ آواز آئے گی:
ھذا خلیفة اللّٰہ المھدي فاسمعوا لہ وأطیعوا

     وہ خود مہدی ہونے کا دعوے دار نہیں ہوگا بلکہ لوگوں سے چھپتے پھریں گے اور لوگ انہیں تلاش کرکے ان کے ہاتھ پر زبردستی بیعت کریں گے۔ مگر موجودہ دور کے باطل نظریات کے خود ساختہ جھوٹے مہدی تو بےشرمی سے اپنے مہدی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ شکیل بن حنیف نہ وہ سچے مہدی کی طرح خاندان نبوت سے تعلق رکھتا ہے، نہ وہ مدینہ سے ہے، نہ اس کے ہاتھ پر عراق کے ابدال نے بیعت کی ہے، نہ اس نے قسطنطنیہ فتح کیا ہے، اور نہ ہی وہ شکل و صورت میں حدیث میں وارد علامتوں کا حامل ہے۔

     سات یا نو سال دنیا پر حکومت کریں گا اور دنیا کو جو اس سے قبل ظلم و جور سے پر ہوگی عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ حضرت عیسٰیؑ کا ظہور بھی اسی درمیان ہوگا اور وہ حضرتِ مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ امام مہدی دو سال تک حضرت عیسٰیؑ کی معیت میں رہیں گے۔ آپ کے دور میں خروج دجال ہوگا، آپ کی قیادت میں "بابِ لُدّ" (جو اس وقت اسرائیل کی فضائیہ کا ایئربیس ہے) پر دجال کو ہلاک کیا جائے گا اور بیت المقدس فتح ہوگا۔ حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ اصحابِ کہف حضرت مہدی کے مددگار ہوں گے۔

     امام مہدی ملک شام جاکر دجال کے لشکر سے جہاد و قتال کریں گے۔ آپ لشکر کو لے کر قسطنطنیہ کو فتح کریں گے۔ اس وقت دجال کے ساتھ اصفہان کے 70/ ہزار یہودیوں کا لشکر ہوگا۔ یہ سب علامات اور اس کے علاؤہ اور بھی علامات احادیث متواترہ سے ثابت ہیں۔ امام مہدی کا ظہور کوئی ڈھکے چھپے انداز پر نہیں ہوگا بلکہ برملا ان کا شہرہ ہوگا اور احادیث میں بتلائی ہوئی علامات ان پر من وعن صادق آئیں گے۔ یہاں تک بتایا گیا ہے کہ مدینہ طیبہ میں انتقال ہوگا۔ خاتم النبیین ﷺ، حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ کے ساتھ روضہ اطہر میں تدفین عمل میں لائی جائے گی۔ جہاں آج بھی چوتھی قبر کی جگہ ہے۔ "فیکون قبرہ رابعاً" ان کے علاؤہ اور بھی بہت سی نشانیاں احادیث مبارکہ میں حضرت امام مہدی کے ظہور سے متعلق وارد ہوئی ہیں۔

     مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس طرح کے نئے نئے دعوے کرنے والوں اور اسلاف و متقدمین کے نہج سے ہٹ کر قرآن و سنّت کی تشریح و تاویل کرنے والوں سے دور رہیں اور ان کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ اپنے دینی مُطالَعے کو پختا بنائے۔ دین کو سمجھنے کا ذریعہ قرآن و حدیث اور سیرتِ سرورِ کائنات محمد مصطفیٰ اور ان کے اصحاب کی سیرت پاک کو بنائے، میں دعوے سے کہتا ہوں زمانے کی فتنہ و شر انگیزیوں سے ہمیشہ محفوظ رہو گے۔

     حضرت عبداللّٰہ بن مسعودؓ سے ان انسان نما شياطين كے دجل و اضلال، فتنہ پرور سازشوں اور دجالى طريقہ كار كا تذكره كرتے ہوئے نقل فرمايا ہے: "حضرت عبداللّٰہ بن مسعودؓ سے مروى ہے کہ تم لوگ يہ دیکھ ليا كرو كہ كن لوگوں كے ساتھ بيٹهتے ہو؟ اور كن لوگوں سے دين حاصل كررہے ہو؟ كيوں کہ آخرى زمانہ ميں شياطين انسانوں كى شكل اختيار كركے انسانوں كو گمراه كرنے آئيں گے اور اپنى جهوٹى باتوں كو سچا باور كرانے كے ليے من گهڑت سنديں بيان كركے محدثين كى طرز پر کہیں گے: "حدثنا واخبرنا" (مجهے فلاں نے بيان كيا، مجهے فلاں نے خبر دى وغيره وغيره)۔ لهٰذا جب تم كسى آدمى كے پاس دين سيكهنے كے ليے بيٹها كرو، تو اس سے اس كا، اس كے باپ كا اور اس كے قبيلہ كا نام پوچھ ليا كرو، اس ليے كہ جب وه غائب ہوجائے گا تو تم اس كو تلاش كروگے"۔ (تاريخ مستدرك حاكم، مسند فردوس ديلمى، كنز العمال، ص:214، ج10)

     عقیدہ ختم نبوت ہر امتی کو جان سے بھی پیارا ہے۔ یہ اسلام کا ایسا لازم رکن ہے جس کے بغیر مسلمان کا ایمان کبھی مکمل نہیں ہو سکتا، یہ ایک ایسا نکتہ ہے جس پر صحابۂ کرامؓ سے لے کر آج تک کے تمام مسالک اور فرقے متفق ہیں کہ خاتم الانبیآء محمدﷺ آخری نبی ہیں اور آپﷺ کو آخری نبی نہ ماننے والا یقینی طور پر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

     خاتم النبیین حضرت محمدﷺ نے اپنی حیات مبارکہ میں جھوٹے مدعیان نبوت کے قتل اور انہیں منطقی انجام تک پہنچانے کے احکامات جاری کیے۔ "عقیدۂ ختم نبوت" اسلام کا وہ بنیادی عقیدہ ہے جس پر حضرات صحابہ کرامؓ کا سب سے پہلا اجماع ہوا۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے اپنے دور خلافت میں ترجیح بنیادوں پر ان بد بختوں کا قلع قمع کیا۔ خود ساختہ نبوت کا فتنہ کافی عرصے تک رہا جس کو بڑے بڑے صحابہؓ نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر جڑ سے اکھاڑ دیا۔ صحابۂ کرامؓ کے بعد بھی ہر دور میں اس طرح کے لوگ سامنے آئے اور عبرتناک انجام سے دوچار ہوئے۔ چشم فلک نے ایسے عبرتناک انجام بد نظروں کے سامنے پیش کیے، ایک جھوٹے مدعی بایزید روشن جالندھری کا باپ عبداللّٰہ جو ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھا، بیٹے کی اس گمراہی پر بہت غضب ناک ہوا اور غیرت دینی سے مجبور ہوکر بایزید پر چھری لے کر پل پڑا۔ اللّٰہ ایسے غیرت مند باپ بھی ان کذابوں کے گھروں میں پیدا کرے۔

ہمارے کرنے کے کام:

   ❁  مساجد سے اعلانات و جمعہ کے خطبات کے ذریعے اس مسئلہ کا حل تلاش کرنا چاہیے۔

   ❁  تحریر، تقاریر، تصنیف و تالیف اور گفتگو میں جب بھی اللّٰہ کے رسولﷺ کا اسم مبارک ہو تو "سید المرسلین و خاتم النبیاء یا خاتم النّبیین" جیسے اسم اعظم کو رائج کیا جائے۔  عوام و خواص کے ذھن میں خاتم النبیینﷺ کا عقیدہ پختہ و راسخ ہوجائے۔

   ❁  کالج کے طلباء و طالبات کو خصوصاً اس فتنہ کے بارے میں راہنمائی دینے کا نظم و نسق قائم کرنا چاہیے۔

   ❁ جماعتیں اور تنظیمیں اپنے کارکنان و ساتھیوں میں اس فتنے سے محفوظ رہنے کے لئے بیداری کی تحریک چلائیں۔

   ❁ گھر گھر، محلہ محلہ جاکر لوگوں کو ان فتنوں سے آگاہ کریں۔ گھروں کی خواتین کو بھی چوکنا رکھیں۔

   ❁  سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعہ بھی اس طرح کی گمراہیوں سے مسلمانوں کو آگاہ کرنے کے لئے منظم انداز میں مواد فراہم کیا جانا چاہیے۔

     علمائے اسلام نے قادیانی فتنے کے خلاف ہر میدان میں ناقابل فراموش خدمات سر انجام دی ہیں اور دے رہے ہیں۔ تحریری میدان میں بھی علماء کرام کی یادگار خدمات ہیں۔ کذابوں کی سازشوں کا پردہ فاش کرنے کے لئے مندرجہ ذیل کتابوں کا مُطالَعہ ضرور کریں، جو اسلامی کتابوں کی دکانوں پر آسانی سے مل جاتی ہیں۔

❁ فاتح قادیان شیخ الاسلام مولانا ثناء اللّٰہ امرتسریؒ نے رد قادیانیت پر کتب اور رسائل لکھے ہیں، مولانا امرتسریؒ اور ملعون غلام احمد قادیانی کے کئی مناظرہ ہوئے ہیں، اس کی بھی روداد موجود ہے، انہیں بھی دیکھنا چاہیے۔
قادیانیت  از: مولانا ثناء اللّٰہ امرتسریؒ
❁ "مسئلہ قادیانی"  از: مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ (اسی کتابچہ کی بیناد پر مولانا کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔
❁ قادیانیت، مطالعہ و جائزہ  از: مولانا ابوالحسن علی میاں ندویؒ
❁ فتنہ قادیانیت اور مولانا ثناء اللّٰہ امرتسریؒ  از: مولانا صفی الرحمن مبارکپوری
❁ قادیانیت اپنے آئینے میں  از: مولانا صفی الرحمن مبارکپوری۔
اور بھی اہل قلم کی کتابیں موجود ہیں اس کا مطالعہ کریں۔

اللّٰہ تعالیٰ ہم سب سے وہ کام لے جو اسے مطلوب ہے۔ ہمیں اپنے دین و ایمان کی حفاظت کرنے والا بنائے۔ (آمین)
                      (ختم شدہ)
           •┅┄┈•※‌✤م✿خ✤‌※┅┄┈•
                     (10.01.2023)
           🍁 مسعود محبوب خان 🍁
        Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
                      ○○○○○○○○○

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam