دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو!

•دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو!•
        ┄┅════❁﷽❁════┅┄
     ══════•❁ا۩۝۩ا❁•══════
     •دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو!•
     ══════•○ ا۩۝۩ا ○•══════
      🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
               📱09422724040
         •┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
● فن تعمیر کے اسلامی شاہکار
● مسلم ذوقِ تعمیر کا نادر اظہار - "چامپانیر"
● داہود (دو حد) اور اورنگزیب عالمگیرؒ
● "دھار" کا اسلامی پسِ منظر
● کمال مولانا کا تنازعہ
● عَہْدِ پارِینَہ کا آئینہ"منڈو" (شادی آباد)
● تاریخ منڈو ماضی کے جھروکوں میں
● قلعہ منڈو    ● جامع مسجد منڈو
● سلطان ہوشنگ شاہ غوری کا مقبرہ
● مدرسہ یا اشرفی محل ● چورکوٹ مسجد
● خراسانی املی اور کھرنی
● "نعمت نامہ" اور سلطان غیاث الدین
● باز بہادر محل     • جہاز محل
• جل محل    • ہنڈولہ محل   • ہاتھی محل
● چمپا کنواں (باؤڈی)  • اجالی باؤڈی
● حمام    ● دائی اور چھوٹی بہن کے محل (گور محل)     ● دریا خان کا مقبرہ 
● گدا شاہ کی دکان اور گھر  ● کاروان سرائے    ● دلاور خان مسجد     ● سونگڑھ کا قلعہ
         •┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•

فن تعمیر کے اسلامی شاہکار:

      اسلامی فنِ تعمیرات کی خصوصیات کی تشریح کرنا اپنے آپ میں ایک انوکھی خصوصیت اور فنی مہارت ہے۔ اسلامی فنِ تعمیرات اپنے سفرِ آغاز سے لے کر آج تک پوری دنیا میں معروف ہیں اور نہ صرف مسلم اُمّہ بلکہ دنیا بھر کے ماہرِ تعمیرات اس کے متاثر و متعرف ہیں۔ درحقیقت مسلمانوں کا قدیم دور بے حد تابناک رہا تھا، جس کے نقوش آج تک اسی طرح برقرار ہیں۔ زبان زدِ عام ہیں اسلامی فنِ تعمیرات کا حُسن دور دور سے سیاح دیکھنے اور سیکھنے آتے ہیں۔

      ہندوستان کے مسلم حکمرانوں کے دور اقتدار میں عظمت و حشمت کی حامل ایسی ایسی مسجدیں اور عمارتیں تعمیر کرائی گئی تھیں جو کہ نہ صرف اپنے طرز تعمیر کے اعتبار سے مثالی ہیں بلکہ اس دور کے ماہر معماروں نے اپنی غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کرکے پوری دنیا میں انہیں اپنے فن سے شاہکار بنا دیئے۔

     تاریخ شاہد ہے کہ تہذیبوں کا ستارہ جب بھی بام عروج پر رہا ہے، تو ان تہذیبوں نے دنیا کے سامنے نایاب و عظیم شاہکار، خوبصورت فن تعمیر پیش کئے ہیں جسے دیکھ کر آج بھی رشک کیا جاتا ہے۔ تہذیب و تمدن سے منسوب تعمیرات کے سلسلے میں ان تمام معماروں، سنگ تراشوں، مزدوروں، مستریوں اور فن کاروں کے ہاتھوں اور ذہنوں کو سلام ہے جن کی شبانہ روز محنت کے باعث ان عظیم الشان تعمیرات کے خواب پایۂ تکمیل تک پہنچے۔

     مسلمانوں نے جس نوعیت کے تعمیراتی شاہکار بنائے وہ آج بھی انسانی جمالیاتی حس کی تسکین کا باعث ہیں۔ فن تعمیر کے خصوصی اسلامی عناصر مثلاً گنبد، مینار، صحن، حوض، نماز کا وسیع ہال، محراب مقصورہ، معلق، چھوٹی سہارا دینے والی محرابیں، شہد کے چھتوں جیسی جالیاں، خوبصورت باغات اور نصف گنبد والے دروازے بھی شامل ہیں۔ آرائشی مضوعات عربی حروف کے نقوش، اقلیدی اشکال اور روایتی گل کاریوں پر مشتمل ہوتے تھے جن کے اندر قرآن حکیم کی خوبصورت انداز میں لکھی ہوئی یا کھدائی کی ہوئی قرآنی آیات بھی ہوا کرتی تھیں۔ اس طرح کی قرآنی و اسلامی خطاطی کے بے مثال نمونے ہمیں "منڈو" کی اسلامی عمارتوں میں نظر آئے۔

      ریاست مدھیہ پردیش کا "منڈو" علاقہ مسلم دور حکمرانی کے فنِ تعمیر کا ایک حسین شاہکار ہے بلکہ یہ آج کے دور کے فن تعمیر (architecture) کے طلباء کے لئے بھی فنِ تعمیر کو سیکھنے کی ایک بہترین مثال ہے۔ منڈو میں بھی ہمیں سلامی دَر و دِیوار، محراب اور لنٹل کی آمیزش اور دبے ہوئے گنبد ملتے ہیں۔ یہاں کی عمارتوں کی کرسی بہت اونچی ہے۔ اس کے علاؤہ یہاں کے فن تعمیر کے معماروں نے، زمینوں کو آرائش اور زینت اور عمارت کو قدرت کے قریب تر لانے کا ذریعہ بنایا ہے۔ منڈو کی نشیب و فراز پہاڑیاں، درختوں اور سبزے سے اس طرح ڈھکی ہوئی ہیں کہ حقیقتاً معمار کے دل میں نئے نئے طریقوں سے فن اور قدرت کو ہم آہنگ کرنے کے حوصلے پیدا ہونا لازمی ہوگا۔ منڈو میں بیشتر عمارتیں خاص طرز کی تزئین کاری کا نمونہ ہیں، جس کے لئے مختص کیا ہوا مقام بھی بہت حسین ہے۔ منڈو کی جامع مسجد جو پندرہویں صدی کے وسط میں بنی، جو پختہ یا کلاسیکی طرز کی پہلی اور شاید سب سے نفیس ہے۔ مقبرہ "سلطان ہوشنگ شاہ غوری" آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی خوبصورتی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور پٹھانوں کی تاریخی عظمت کا ثبوت ہے۔ منڈو کی آب و ہوا میں حسین و دلکش مناظر کی مہک محسوس ہوگی۔

      حقیقت میں یہ مضمون نہیں ہے 'سفر نامہ' ہے، یہ سفر نامہ ہے مسلم عہد وسطیٰ کی چند خوبصورت و نایاب مساجد و مقبروں کا! جو آج متعصب تاریخ کا بوسیدہ و کھنڈرات کا باب بن گئے ہیں۔ یہ سفر نامہ المیۂ سقوط مملکت مالوہ سے قاری کو چشم دید اور معاصر مناظر و حقائق کے ذریعے آگاہی دلانا ہے۔ ہمارے تاریخی ورثوں سے ہزاروں داستانیں جڑی ہیں، جن کے بارے میں معلومات حاصل کرنا نسلِ نو کا بنیادی حق ہے۔

      15/ جنوری 2023ء کو ہمارے رفیق محترم ڈاکٹر محمد فاروق لوکھنڈے (نیورو سرجن، ممبئی) نے فون پر کہا کہ ہمیں بڑودہ (وڈوڈرا) گجرات میں ایک تقریب میں شرکت فرمانے کی غرض سے 17/ جنوری دوپہر کو روانہ ہونا ہے۔ اس کے بعد وہاں سے آگے بڑھ کر کچھ مسلمانوں کے عہد زریں کے تاریخی مقامات کو دیدۂ عبرت اور نصیحت کے طور پر دیکھنے کا پروگرام بھی ہے۔ حامی بھرنے کے بعد ہم نے دوسرے روز منزل مقصود پر پہنچنے کے لئے اپنا رخت سفر باندھا شروع کیا اور بذریعہ کار ممبئی سے بڑودہ (وڈوڈرا) کے لئے روانہ ہوئے۔ اس سفر میں میرے اور ڈاکٹر صاحب کے ہمراہ مزید دو رفقاء جو کہ مختلف شعبہ جات کے ڈاکٹرز تھے اور ڈرائیونگ کے لئے ایک ساتھی کو لے کر روانہ ہوئے۔ وہاں دن بھر کی تقریبات نے ہمیں بے حد مصروف رکھا۔

      دوسرے روز ہمیں طے شدہ پروگرام کے تحت بڑودہ سے قریباً 320/کلومیٹر کا سفر کرکے سابق مالوہ کی دارالحکومت "منڈو" (موجودہ ضلع دھار، ریاست مدھیہ پردیش) کا سفر کرنا تھا۔ لیکن ہم نے روٹ کو تبدیل کرتے ہوئے پہلے 49/کلومیٹر پر واقع تاریخی علاقہ "چامپانیر" (محمد آباد) جانے کا فیصلہ کیا، وہاں سے 115/کلومیٹر دور گجرات و مدھیہ پردیش کی سرحد "داہود (دوحد)"، اس کے بعد 43/کلومیٹر پر واقع کھڑک ناتھ مرغی کے علاقے "جھابوا" پہنچنا تھا، بعد میں 91/کلومیٹر کا سفر جھابوا سے "دھار" کا طے کرنا تھا، جہاں اسلامی تاریخ سے وابستہ مقامات کی سیر کرنی تھی۔ اس کے بعد حتمی طور پر منزل مقصود "منڈو" کے مسلم عہد کے وسیع و عریض، خوبصورت و نایاب مساجد و مقبروں اور محلات کے دیدار کے لئے 36/کلومیٹر کا سفر کرنا تھا۔ منڈو میں دو روز قیام کرنے کا فیصلہ بھی لیا گیا، جس کے لئے کچھ ضروری سامان مثلاً گیس کا ٹریولنگ چولھا اور کچھ برتن بھی ساتھ لے لئے گئے۔

      سفر کی ابتداء صبح 3:30 بجے سے کی گئی۔ دوران سفر نماز فجر راستے میں ہی ہالول (گجرات) کے علاقے کی ایک مسجد میں ادا کی۔ نماز فجر کے فوراً بعد صبح 06:15 کے آس پاس چامپانیر ہم لوگ پہنچے۔

مسلم ذوقِ تعمیر کا نادر اظہار - "چامپانیر":

      چامپانیر (محمد آباد) کے قلعہ کا محاصرہ کرکے اس کے تاریخی اور تکنیکی پس منظر کا جائزہ لیا گیا۔ بعد ازاں اسلامی طرز تعمیر کی نادر مثال اور عالیشان و وسیع تاریخی "جامع مسجد" کو گیٹ کے قریب سے ہی دیکھنے کا موقع فراہم ہوا۔ چونکہ ہم صبح صبح جامع مسجد پہنچ گئے تھے، جب کہ جامع مسجد و اطراف کی تمام مساجد کے لئے 09:00 بجے کے بعد ٹکٹ جاری کیے جاتے ہیں۔ جامع مسجد اپنے حجم اور اپنے اونچے گنبدوں کی وجہ سے ایک انوکھے تعمیری کارنامے کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہاں کی مساجد مسلمانوں کے ذوقِ تعمیر کا نادر اظہار ہیں۔

     وہاں سے نکل کر آگے کچھ ہی دور "وڈا تالاب" (بڑا تالاب) کے کنارے پیارا سا کبوتر خانہ بنایا گیا ہے، اس کے بالمقابل "کھجوری مسجد" اپنی تربت و بے بسی کا نوحا سناتی ہوئی ہمیں مغموم کر گئی۔ اس وقت یکایک علامہ محمد اقبالؒ کا شعر یاد آگیا   ؎
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے ميراث پائی تھی
ثريا سے زميں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

قسط دوم

ایک عجیب بات وہاں دیکھی گئی کہ کھجوری مسجد اور کبوتر خانہ یہ دو الگ الگ عمارتیں ہیں، اب اسے شرارت سمجھیں یا سازش کبوتر خانہ کے نام کی تختی "کھجوری مسجد" کے گیٹ پر لگائی گئی ہے۔

      اسی شعر کے ساتھ پوری نظم نے ذہن کے دریچوں پر دستک دینا شروع کر دیا اور اپنا تابناک ماضی کھنڈرات اور ویرانوں میں نظروں کے سامنے دیکھ کر آنکھیں نم بھی ہوتی رہی۔

      "بہادر سالار چامپا" کے نام پر اس علاقے کا نام چامپانیر رکھا گیا ہے۔ 4/دسمبر 1482ء میں گجرات کے حکمراں سلطان محمود بیگڑھا نے اس قلعہ کو فتح کیا۔ نوجوانی میں ہی تخت نشیں ہوا۔ اس نے 1472ء میں گرنار کا جوناگڑھ اور 1484ء چامپانیر کا پاواگڑھ  کے قلعوں کو کامیابی کے ساتھ لڑائیوں میں فتح کر لیا جس کی وجہ سے اس کا نام بیگڑھا پڑ گیا۔ گجراتی زبان میں 'بے' لفظ کا شمار ہندسوں میں ہوتا ہے جس کے معنی دو کے ہوتے ہیں، دو گڑھوں کو فتح کرنے کی وجہ سے اس کا نام "بیگڑھا" پڑا۔

      محمود بیگڑھا نے چامپانیر کو دار الحکومت کے طور پر قائم کیا۔ اس نے 23/سال قصبے کی تعمیر و توسیع میں لگائے اور اس کا نام "محمد آباد" رکھا۔  اس کے بعد مغل حکمرانوں نے "پاواگڑھ پہاڑی" کے کھلے اور غیر محفوظ علاقے پر بھی قلعہ بنوایا۔ غالباً 2004ء میں یونیسکو نے یہاں کی قدیم عمارتوں کو عالمی وراثت قرار دیا۔

      سلطان محمود بیگڑھا نے یہاں 172/ستون اور دو 30/فٹ قد کے مینار والی عظیم الشان جامع مسجد بنوائی۔ اس کے علاؤہ یہاں پر شہر کی مسجد، ایک منارہ مسجد، نگینہ مسجد، ہرے گنبد والی مسجد، قلعہ کا کسٹم ہاؤز، وڈا تالاب کے کنارے کبوتر خانہ اور اس بالمقابل کھجوری مسجد، کیوڈا مسجد، باوامان مسجد، قلعہ کی فصیل پر واقع سات کمان، سلطان سکندر شاہ کا مقبرہ، وراست بن جنگل کے علاؤہ اور بھی خستہ حال بوسیدہ عمارتیں نظر آئیں گی۔

      بابر کے بیٹے ہمایوں نے چامپانیر واقع گجرات کے پہاڑی قلعے پر حملہ کیا۔ 4 ماہ تک اس کا محاصرہ جاری رکھا آخر ایک رات پہاڑ میں کہ مثل دیوار کے سیدھا کھڑا تھا۔ لوہے کی میخیں گاڑیں اور 300/ بہادر ساتھ لے کر خود ان میخوں کے زینے سے چڑھ کر قلعے میں داخل ہوا۔ کہا جاتا تھا کہ اس قلعے میں گجرات کے بادشاہوں نے زیر تالاب ایک تہہ خانے میں کہیں بڑا بھاری خزانہ دفن کیا تھا۔

داہود (دو حد) اور اورنگزیب عالمگیرؒ:

      چامپانیر سے دھار جاتے وقت راستہ میں داہود نام کا ایک بڑا شہر آتا ہے، جسے اسمارٹ سٹی کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ چامپانیر سے قریباً 115/کلومیٹر کے فاصلے پر۔ اس شہر کی بھی ایک تاریخی حیثیت رہی ہے۔ دوحد کا لفظی ترجمہ "دو سرحدیں" ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دہود کا سرحدی علاقہ تقریباً ایک ہزار سال پرانا ہے۔

      مغلیہ خاندان کا شہنشاہ، محی الدین محمد، اورنگ زیب عالمگیرؒ 24/اکتوبر، 1618ء میں مالوہ کی سرحد داہود میں پیدا ہوئے۔ آج اکھنڈ بھارت کا نعرہ لگانے والوں کو سوچنا چاہیے کہ اکھنڈ بھارت کی استھاپنا کرنے والے عظیم الشان شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیرؒ کے دور میں ہندوستان دنیا کا امیر ترین ملک تھا اور دنیا کی کل جی ڈی پی کا ایک چوتھائی حصّہ پیدا کرتا تھا۔ جب کہ اسی دوران انگلستان کا حصّہ صرف دو فیصد تھا۔

      داہود میں ایک دھرم شالہ (مفت سونے کی سہولت) جو مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیرؒ کے دور میں تعمیر کی گئی تھی، بعد میں اسے ایک چھوٹے سے قلعے یا گڑھی میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

      ضلع داہود میں ہندوستانی مسلمانوں کے "داؤدی بوہرہ" فرقے کی دوسری سب سے بڑی آبادی بستی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے بقول ممبئی کے سیفی ہاسپٹل کی اس وقت کی کل لاگت 150/کروڑ کی 60/فیصد رقم داہود کے امریکہ میں مقیم شخص نے ہی فی سبیل اللّٰہ ادا کیا تھا۔

      "داہود" سے "جھابوا" پہنچے، جہاں ڈاکٹر صاحب کے ایک سابق مریض برادر محترم جمیل حسین صاحب (الحمداللّٰہ! اب وہ شفاء یاب ہوچکے ہیں) نے ضیافت کا خصوصی اہتمام کیا۔ ماشاء اللّٰہ! انہوں نے مہمان نوازی و خاطر تواضع میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اللّٰہ تعالیٰ انہیں اس کا بہترین اجر عظیم عطاء فرمائے۔ انہیں شفاء کاملہ، دائمہ و عاجلہ اور مسفیضہ و مستمرّہ عطاء فرمائے۔

      جمیل حسین بھائی سے دورانِ گفتگو ہمارے علم میں یہ بات واضح ہوئی کہ داہود شہر کا نام داہود (دو حد) کیسے رکھا گیا۔ دراصل یہ شہر دو سرحدوں کو جوڑنے کا مقام بھی ہے، اسی مناسبت سے اس شہر کا نام دوحد رکھا گیا تھا، بعد میں ،دو حد سے داہود ہوگیا۔

"دھار" کا اسلامی پسِ منظر:

     "دھار" (دھارانگری) میں بھی ویسے تو کئی تاریخی مقامات ہیں جو سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں، قابل ذکر مقامات میں سے قدیم جامع مسجد، اس سے متصل مولانا کمال الدین کا مقبرہ اور ایک یادگار شاہ عبداللّٰہ چنگال کا مقبرہ بھی اپنی اہمیت منواتا نظر آتا ہے۔

     رسول اللّٰہﷺ کے معجزۂ شق القمر نے اپنے اثرات مالابار کا راجہ چیرآمین پیرومل کیرالا کے ساتھ ساتھ صوبۂ مالوہ کی راجدھانی دھار کے راجہ بھوجپال پر بھی چھوڑے ہیں۔ راجہ بھوجپال، اس کا شق القمر دیکھنے کی سعادت، اپنے بیٹے کو تحفۂ جات لے کر رسولﷺ کی خدمت میں بھیجنا، اس وفد کا مسلمان ہونا، پان کے پتوں کا رسولﷺ کا چکھنا اور فرمانا کہ یہ سبزی برص و جزام کے علاج کے لئے مفید ہے اور حضرت امیر خسرو کا اس واقعہ پر قطعہ لکھنا وغیرہ۔

     واقعہ یوں ہے کہ راجہ بھوج نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھا اس واقعہ کی تحقیق کے لئے لوگوں کو روانہ کیا، جو شخص عرب پہنچا اس نے آکر شق القمر کی تفصیل بتائی، راجہ نے کچھ تحائف جن میں پان کے پتے بھی شامل تھے، حضورﷺ کی خدمت میں ایک وفد اپنے بیٹے ماتادین کی قیادت میں بھیجا۔ جس پر آپﷺ نے پان کو دافع برص و جزام قرار دیا۔ جس کی اس لحاظ سے امیر خسرو نے تعریف کی۔ آنے والا شخص (غالباً شہزادہ مع اپنے وفد) مسلمان ہوگیا اور اس کا اسلامی نام "محی الدین" رکھا گیا۔ آپﷺ نے اس کے ساتھ عبداللّٰہ نامی صحابی کو راجہ بھوج کے پاس بھیج دیا اور وہ مسلمان ہوگیا۔ اس نے اپنا نام عبداللّٰہ رکھا۔

      سب سے مستند بیان نواب شاہجہان بیگم (بیگم بھوپال) کا ہے۔ انہوں نے بزرگ کا نام عبد اللّٰہ چنگال بتایا۔ انہوں نے 40/ اشعار کا ایک فلسفی قصیدے کو بھی اپنی کتاب میں لکھا جو عبداللّٰہ چنگال کے مقبرہ کی دیوار پر کندہ ہے اس قصیدے سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں کچھ مسلمان آئے۔

     شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے اپنی کتاب (شہادتیں معجزات) میں لکھا ہے کہ راجہ بھوج اور راجہ مالوہ (ایک ہی شخص تھے) شق القمر دیکھ کر مسلمان ہوگئے۔

(قسط سوم)

     اسلاف کے تذکرے اور کارنامے ہمیں جینے کا حوصلہ دیتے ہیں، جدوجہد اور مشقت کا درس دیتے ہیں۔ قومیں جب رو بہ زوال ہوتی ہیں تو یہی تذکرے ہمارے لیے مشعل راہ بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مؤرخین اور تذکرہ نگار اپنی کتابوں میں ان شخصیات کے کارناموں کو منظر عام پر لانے میں خصوصی توجہ دیتے ہیں جو تاریخ ساز ہوں، جنھوں نے تاریخ کے دھارے کو موڑنے کی کوشش کی ہو، معاشرے پر انھوں نے گہری چھاپ چھوڑی ہو، ان کا فیض رفاہی، سیاسی یا علمی کارنامہ نمایاں ہو، ان کی زندگی آئیڈیل اور مثالی ہو۔

     ہم لوگ بھی "دھار" میں سب سے پہلے حضرت عبداللّٰہ چنگال کے مقبرے کے قریب ہی پہنچے۔ یہ وہی صحابیٔ رسول بتائے جاتے ہیں جنہیں رسول اللّٰہﷺ نے راجا بھوج کے بیٹے کے ساتھ روانہ کیا تھا۔ حضرت عبداللّٰہ چنگال کی آمد سے قبل یہاں چالیس داعیان اسلام کی آمد کا بھی ذکر ملتا ہے، جنھیں یہاں کے مقامی لوگوں نے فجر کی اذان دینے کی پاداش میں انتہائی سفاکی سے قتل کردیا اور لاشیں کنوؤں میں ڈال دیں۔ اس واقعے کے بعد حضرت عبداللّٰہ چنگال کی دھار آمد کے بعد راجہ بھوج اور اس کے درباری ان کی فراست دیکھ کر حلقہ بگوش اسلام ہوگئے۔ راجہ بھوج (دؤم) کے قبول اسلام کی روایت کو تمام مؤرخین تسلیم کرتے ہیں۔

     وقت گزرنے کے ساتھ ان داعیان اسلام کی قبریں ٹوٹ پھوٹ کر ہموار ہوگئیں تو شہنشاہ خلیج محمود کے حکم سے ان کی مرمت کی گئی۔ قبہ دار مقبرہ، مسجد اور ساتھ لنگر خانہ بنایا گیا۔ یہ تعمیر 1859ء میں مکمل ہوئی۔

     محمد بن قاسم نے 93ھ مطابق 612ء میں سندھ پر حملہ کیا تھا۔ اس کے بعد والی سندھ جنید بن عبدالرحمٰن نے حبیب بن مرہ کی قیادت میں ایک دستہ مالوہ کی طرف بھیجا جو مشہور تاریخی شہر اذین {اجین} پہنچا اور صلح و فتح کے بعد واپس گیا۔ (فتوح البلدان)

     جب مشہور سیاح و مؤرخ علامہ مسعودی کی 306ھ مطابق 917ء میں مالوہ آمد ہوئی تو یہاں مسلمانوں کی آبادی موجود تھی۔

     سلطان ناصر الدین محمود خلجی یہاں کا بادشاہ ہوا اور اس نے 1455ء میں ان عمارتوں کو ازسر نو تعمیر کرایا اور دروازے پر 42/ اشعار پر مشتمل کتبہ لگوایا۔

کمال مولانا کا تنازعہ:

     دھار میں جامع مسجد کمال مولانا کی تعمیر عہد خلجی میں کی گئی تھی، لیکن آٹھ سو سال بعد اس معاملے کو لے کر مسجد و بھوج شالہ تنازعہ شروع کروایا ہے۔ ہندو تنظیمیں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ جامع مسجد کمال مولا اصل میں سرسوتی مندر ہے، جب کے یہ بات تاریخی شواہد سے ثابت ہی نہیں ہوتی۔

      یہ وہی مسجد ہے جسے علاء الدین خلجی کے سپہ سالار ملک کافور نے تعمیر کرایا تھا۔ جہاں تک مسجد کی دیوار میں بعض مورتیوں کے ہونے کی بات ہے تو تاریخ کا ایک معمولی طالبعلم بھی جانتا ہے کہ عہد قدیم میں پرانے مکانات کے ملبوں اور باقیات سے عمارتیں تعمیر کی جاتی تھیں۔ ظاہر ہے کہ اس مسجد کی تعمیر میں بھی اسی قسم کے ملبوں اور تعمیراتی ساز و سامان کا استعمال کیا گیا ہے۔ ممکن ہے کسی محل کا ملبہ اس میں استعمال ہوا ہو کیونکہ محلوں کی دیواروں میں مورتیوں کی شبیہیں عام طور پر ہوتی تھیں۔ یہاں مندر ہونے کی بات سب سے پہلے انگریزی عہد حکومت میں شروع کی گئی تھی۔    ؎

طوفانوں سے آنکھ ملاؤ، سیلابوں پر وار کرو
ملاحوں کا چکر چھوڑو، تیر کے دریا پار کرو

عَہْدِ پارِینَہ کا آئینہ"منڈو" (شادی آباد):

      وسطی ہند میں وندھیاچل کے پہاڑی سلسلے میں چھپا مالوہ ریاست کا دارالحکومت شہر منڈو اگر ایک طرف تاریخی اہمیت رکھتا ہے تو دوسری طرف دریائے نربدا کی لہروں میں پنہاں دلفریب حسیناؤں کے عشق و محبت کی داستان دہراتا ہے۔ شاید اسی عشق و محبت کی داستان رقم کرنے کی دھن میں مگن باز بہادُر خان نے مسلمانوں کی عظمت رفتہ کو داؤ پر لگا دیا۔

     منڈو ضلع دھار کے علاقے میں مسلمانوں کا ایک تباہ حال شہر ہے۔ یہ ہندوستان کے مغربی مدھیہ پردیش کے مالوہ علاقے میں دھار شہر سے 35/کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ قریب ترین بڑا شہر اندور سے تقریباً 95/کلومیٹر دور ایک چٹانی چوٹی پر واقع یہ قلعہ دار شہر اپنے تغلقوں، خلجیوں یا لودھیوں کی تاریخ پارِینَہ کے عمدہ و خوبصورت فن تعمیر کے لیے مشہور ہے۔ اسی علاقے سے قریب ایک طرف کھجوراہوں کی غیر مہذب تہذیب ہے، تو دوسری جانب پاکیزہ اور بلند معاشرے کی تہذیب ہے۔ منڈو کا قصبہ، جو 633/میٹر (تقریباً 2000 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے، وِندھیا رینج پر 13/کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے، جب کہ شمال میں مالوہ کے مرتفع اور جنوب میں دریائے نرمدا کی وادی کو نظر انداز کرتا ہے، جس نے قدرتی دفاع کے طور پر کام کیا۔

     "منڈو" جسے 'منڈوگڑھ' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس شہر کی بنیاد 11/ویں صدی میں پرمارا خاندان نے رکھی تھی اور اس نے پرمارا بادشاہی کے دارالحکومت کے طور پر کام کیا تھا۔ 1305ء میں خلجیوں نے کنٹرول اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ بعد میں اس پر دہلی سلطنت، خلجی خاندان اور مغل سلطنت کی حکومت رہی۔ 14/ویں صدی میں مالوہ کے سلطان محمد بن تغلق کے دور حکومت میں منڈو خوشحالی کے عروج پر پہنچا۔ سلاطین دہلی نے 15/ویں صدی کے آغاز میں دلاور خاں غوری کو مالوہ کا گورنر مقرر کیا تھا لیکن دلاور خان نے جلد ہی اپنی خود مختاری کا اعلان کر دیا اور منڈو کو اپنا دارالحکومت قرار دے کر اسے 'شادی آباد' کا نام دیا۔ "شادی آباد" یعنی "خوشی کا شہر"۔

      سلطان محمود خلجی جس کا دورِ حکمرانی 1436ء سے 1469ء تک رہا۔ سلطان نے اپنی مثالی و مضبوط سلطنت میں اسلامی عدالتی نظام قائم کر رکھا تھا، عدل و انصاف، علم پروری، بزرگوں کی نیاز مندی اس کا شیوہ رہا۔ رفاہی خدمات میں "شادی آباد" میں بہت بڑا شفاخانہ قائم کیا تھا، جس کا پورا خرچ اس وقت کی حکومت اٹھاتی تھی اور مریضوں کا مفت علاج ہوتا تھا، شفاخانے کی شہرت سن کر ملک و بیرون ہند کے بڑے بڑے حکماء و اطباء منڈو میں جمع ہوگئے تھے۔ زراعتی ترقیات کے لئے کنویں، باؤڈیاں، تالاب اور باندھ بنائے تھے۔ سلطان محمود خلجی علم و شجاعت کے افق پر اپنے عظیم کارنامے ہمیشہ کے لئے ثبت کرگیا۔

     منڈو، اپنی اسٹریٹجک پوزیشن اور قدرتی دفاع کی وجہ سے، ایک بھرپور اور متنوع تاریخ (Diverse history) کے ساتھ اہم مقام تھا۔ یہ ایک اہم فوجی چوکی تھی اور اس کے فوجی ماضی کا اندازہ جنگی دیوار کے سرکٹ سے لگایا جا سکتا ہے، جو تقریباً 37/کلومیٹر ہے اور اس میں 12/گیٹ ویز ہیں۔ یہ دیوار بڑی تعداد میں محلات، مساجد و دیگر عمارتوں کو گھیرے ہوئے ہے۔

     اس شہر کو 16/ویں صدی میں ترک کر دیا گیا تھا اور اب یہ ایک قدرتی دلکش و دلنشیں مناظر، جھیلوں اور تالابوں سے مزین مشہور سیاحتی مقام ہے، جو اپنے محفوظ عالی شان محلات، عظیم الشان مساجد و مقبرے، مدارس، شاہی صحن ایستادہ عمارتیں (Established Building)، شاندار پویلین، تالاب، کنوؤں، واٹر پیوریفکیشن اور کئی دیگر حیران کن یادگاروں کے لیے جانا جاتا ہے۔  محلات، شاندار کالونیڈز، مساجد اور مقبروں، اور کئی دیگر حیران کن یادگاروں سے بھرا ہوا ہے۔ یونیسکو (UNESCO) کی عالمی فہرست میں انہیں بھی درج کراکے عالمی ورثہ قرار دیا جانا چاہئے ہے۔ ہمارے ملک میں بھی کم و بیش 38/عمارتیں ایسی ہیں جو کہ عالمی سطح پر معروف ہیں اور محکمہ آثار قدیمہ ان کی نگرانی اور تحفظ کرتا ہے۔

     اس سفر کے دوران منڈو کی قدیم تہذیب، دوبارہ زندہ اور متحرک ہو کر ہماری نظروں کے سامنے گردش کرتی رہی!! تو کبھی تغلقوں، خلجیوں اور لودھیوں کے دربار کی ریشہ دوانیاں کہانی کا روپ دھار لیتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ کہیں نم ناک آنکھوں کا لہریں مارتا نربدا اور دوسرے دریاؤں کا جلترنگ ہمارے کانوں کو سنائی دیتا ہے۔ تو کہیں عشق و محبت کی راگ پر رقص و سرور کی محفلیں، ہماری میراث کو تباہی و بربادی کے ساتھ ویران جنگلات میں لاکھڑا کر دیتی ہے۔ واقعی منڈو علاؤہ مسلمانوں کے لئے نشانۂ عبرت بن چکا ہے۔ یہ شہر دین، تعلیم، علوم، فنون، تجارت، سیاسی تحریک، فلسفہ، ادب اور تاریخ کا سنہرا باب رہا ہے۔

(قسط چہارم)

     قلب ہندوستان میں واقع یہ مسلمانوں کی ویران آبادی کا شہر "منڈو" جغرافیائی لحاظ سے بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن اب یہاں مسلمانوں کی عظمت گم گزشتہ کے صرف کھنڈرات ہی باقی رہے گئے ہیں جو اپنی ماضی کی شان و شوکت کی خاموش روداد بیان کررہے ہیں۔ جہاں کی عالیشان مساجد آج اپنی ویرانی کا مرثیہ نگاری بیان کررہی ہیں۔

      منڈو کی قرون وسطی کی قلعہ بند بستی کو تحفظ فراہم کے لئے 12 بڑے دروازوں کو تعمیر کیا گیا ہے۔ دوارن سفر آپ کو سب سے پہلے تاریخی دروازہ "عالمگیر دروازہ" نظر آئے گا، "عالمگیر دروازہ" کے کچھ ہی فاصلے پر "بھنگی دروازہ" اس کے بعد "کمانی دروازہ" (محراب دار دروازہ ہے جو کمان کی شکل کا ہے)، کچھ آگے"گادی دروازہ"، پہاڑی کی چوٹی پر پہنچنے کے بعد "دہلی دروازہ" یہ دروازہ دلاور شاہ غوری کے زمانہ میں سلطان ہوشنگ شاہ غوری نے بنوایا تھا، مختلف زمانوں میں اس دروازہ پر محاصرین سے زبردست لڑائیاں ہوئیں ہیں، یہ دروازہ پندرہویں صدی کے فن تعمیر کا ایک نمونہ ہے۔ تریپولیا دروازہ، تاراپور دروازہ، بگوانیا دروازہ، جہانگیر پور دروازہ، رام پول دروازہ، لوہانی دروازہ وغیرہ منڈو شہر میں جابجا نظر آئیں گے۔ دہلی دروازہ سے متصل تاریخی ویران مسجد غیور سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔ پورے منڈو میں کئی بکھرے ہوئے آثار قدیمہ کے مقامات بھی ہیں۔

     یہاں ہر طرف تاریخ کے خوبصورت پہلو ہیں جو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں، ماضی کی تابناکی کو محسوس کرنے کے لیے "منڈو" مثالی جگہ ہے۔

تاریخ منڈو ماضی کے جھروکوں میں:

     16/ ویں صدی کے نصف آخر میں منڈو کو مغلوں کی سرپرستی حاصل ہوئی۔ یہاں کا خوبصورت نظارہ، چنچل ہوائيں، لہروں کے گیت، پرندوں کی چہچہاہٹ نے مغل حکمرانوں کو منڈو کا گرویدہ بنا دیا۔ اکبر نے اس کوہستانی ریاست کا چار بار دورہ کیا۔

      ہمایوں نے خانہ جنگیوں سے دور مانڈو کے خوشگوار ماحول میں مختصر قیام کیا۔ جہانگیر خود عیش پسند بادشاہ کہلاتا ہے وہ اپنی ملکہ نور جہاں کے ساتھ اکثر مانڈو میں اچھا وقت گزارتے تھے اور اس کا تذکرہ ان کی خودنوشت "جہانگیر نامہ" میں موجود ہے۔

     جہانگیر نے اپنی "تزک جہانگیری" میں چند مقامات پر منڈو کا ذکر کیا ہے۔ جہانگیر کہتے ہیں ماه اسفندار 1026هـ (1617ء) کو عبدالکریم نے منڈو کی عمارتوں کی نہایت حسن و خوبی کے ساتھ مرمت کروائی تھی۔ اس کو اصل و اضافے کے ساتھ ہشت صدی ذات و چهار صد سوار کے منصب سے سرفراز کیا اور معمور خان کے خطاب سے نوازا۔ عبدالکریم معموری فن تعمیر کا ماہر تھا اور اپنے زمانے کا بلند پایہ انجینئر تھا۔ جہانگیری اور شاہجہانی عہد کی بہت سی عمارتیں اسی کے زیرِ انتظام پایۂ تکمیل کو پہنچی ہیں۔

      1617ء میں شاہی لشکر منڈو کی حدود میں داخل ہونے سے قبل عبدالکریم معموری کو وہاں کے قدیم حکام کی بنائی ہوئی تاریخی عمارتوں کو درست کرنے اور ان کی تجدید کاری کا کام کروانے کے لیے منڈو بھیجا گیا تھا۔ اس نے اس کم مدت میں بعض قدیم عمارتوں کی مرمت کرائی اور بعض کو ازسرنو تعمیر کروایا اور اور بالکل نئی حالت میں کر دیا۔ جہانگیر نے اسے "معمور خان" کے اعزازی لقب سے نوازا۔

     شیر شاہ سوری نے بنگال سے قلعہ روہتاس ضلع جہلم یا روہتک (ہریانہ) تک شاہراہ بنائی۔ شیر شاہ سوری نے آگرہ سے منڈو تک ہر کوس پر ایک مسجد، سرائے اور پختہ کنواں تعمیر کرائے۔ مسجد میں ایک مؤذن اور امام کی بھی تقرری کی۔

قلعہ منڈو:

      "قلعہ منڈو" کوہ بندھیاچل کی ایک پہاڑی کی چوٹی پر واقع ہے، سطح سمندر سے اس کی اونچائی 2079 فٹ ہے، اس چوٹی اور مالوہ کی سطح مرتفع کے درمیان ایک قدرتی گہرا نالہ حائل ہے۔ جس پر گھنے جنگلات، گہری کھائی اور قدرتی حسین آبشاروں اور ان سے نکلنے والے لمبے لمبے نالے سے گھرا یہ قلعہ اپنے محل و وقوع کی بنا پر دنیا کے اہم ترین قلعوں میں شمار ہوتا ہے۔

     اپنے عجیب و غریب پیچ و خم کی بناپر "کوہ کیکڑا" کہلاتا ہے، جو بعد کو بگڑ کر" کانکڑا کھوہ"ہوگیا، پہاڑی کی چوٹی کےکنارے کنارے فصیل بنائی گئی ہے جس کی لمبائی 40 میل 64 کیلومیٹر ہے، اس طرح یہ قلعہ دنیا کا وسیع ترین اور محفوظ ترین قلعہ بن گیا ہے۔ (مالوہ کی کہانی تاریخ کی زبانی)

      فرشتہ کہتا ہے: اس قلعہ کو چاروں طرف سے محصور کر لینا انسانی طاقت سے باہر ہے۔ (تاریخ فرشتہ: 2/674)

جامع مسجد منڈو:

    دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
    میری سنو جو گوشِ نصیحت نیوش ہو

      مسلمانوں کی حکمرانی کے دور میں تقریباً ساڑھے تین سو برس پہلے تک عبادت گاہیں اور مقبرے تعمیرات میں سب سے زیادہ حیثیت رکھتے تھے۔ مقبرہ زندگی، موت اور ابدیت کا نقطۂ اتصال تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں کے فن تعمیر میں مسجد اور مقبرہ لا محالہ ہماری توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں، اگرچہ محلوں، میناروں، دروازوں اور دوسری تعمیرات میں حسن اور فنی کمال کی کمی نہیں ہے۔ مسلمانوں کے ہاں ابتدائی زمانہ ہی سے مسجدیں بنائی جانے لگیں۔ اس حوالے سے مساجد برصغیر کے مسلمانوں کے فن تعمیر کی مخصوص قدریں ہیں۔

     جامع مسجد منڈو جو سب سے بہترین و عظیم، اعلیٰ تخیل اور فنی حوصلہ مندی کے فن تعمیر کا ثبوت ہیں۔ بڑے صحنوں اور شاندار داخلی راستوں کے ساتھ مسجد کا فن تعمیر اپنی عظمت رفتہ کی یاد تازہ کرتا ہے۔ مانڈو علاقے آب و ہوا، قدرتی ماحول، تعمیر کے مسالے اور قدیم فنی روایات نے مسلمانوں کے فن تعمیر کو ایک خاص سانچے میں ڈھال دیا ہے۔ پٹھانوں نے یہاں بھی اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے تعمیر کا اپنا الگ طرز اختیار کیا۔ انہوں نے مسجدوں کی تعمیر بغیر میناروں پر کی، بڑے بڑے عالیشان گنبد کو اپنی فن تعمیر کا نشان بنایا۔ ایسی تعمیرات کی مثال ہمیں فلسطین میں قبلۂ اؤل مسجد اقصیٰ و قبۃ الصَخْرۃ (Dome of the Rock) اور اس کے اطراف میں نظر آتی ہے۔

     مسلمانوں کا فن تعمیرات بہت اعلیٰ اور معیاری تھا جو حقیقی محرابوں، قبہ دار چھتوں اور گنبدوں پر مشتمل تھا۔ محراب ایک تعمیراتی اسلوب ہے جس کی طاقت کا دارومدار پتھروں کی ایسی تراش میں ہے جس سے وہ اوپر کی طرف تو چوڑے ہوتے ہیں اور نچلی طرف تنگ۔ انہیں اس انداز سے نصب کیا جاتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ اوپر لگے ہوئے ایک کلیدی پتھر کے توسط سے ملتے جاتے ہیں۔ ایک قبہ دار چھت محراب کی توسیعی کئی صورتوں میں ہوتی ہیں جو اسی اصول پر بنائی جاتی ہے جب کہ گنبد قبہ دار چھت کی گولائی کو کہا جاتا ہے۔ اس طرزِ تعمیر کے فوائد یہ ہیں کہ بڑے بڑے فاصلوں کو رکاوٹ کے مُسَقَّف (وہ جگہ جس پر چھت ڈالی گئی ہو، چھت دار) کیا جاسکتا اور عمارتیں زیادہ مضبوط اور زیادہ پر شکوہ ہوتی ہیں۔

     دمشق میں اموی مسجد کی ڈیزائن کے طرز پر تعمیر کیا گیا یہ عظیم الشان ایک اونچے چبوترے پر بڑا ڈھانچہ اپنی سادگی اور تعمیراتی انداز دونوں میں حیرت انگیز ہے۔ جس میں ایک گنبد ہے، جس کی اونچائی 17/میٹر ہے۔

      مسجد کو اس فن سے تعمیر کیا گیا ہے کہ خطیب کی آواز بغیر کسی صوتی آلے کے ہر کونے میں سُنائی دیتی ہے۔ مسجد ایک مرکزی صحن کے ارد گرد ترتیب دی گئی ہے۔ صحن ایک مربع ہے جس کی پیمائش 50/میٹر (164/فٹ) مربع سے زیادہ ہے اور ایک آرکیڈ سے گھرا ہوا ہے، مشرق میں دو خلیجیں گہری ہیں، تین شمال اور جنوب میں، اور نماز کے ہال میں مغرب میں پانچ ہیں۔ صحن میں داخل ہونے پر ایک نمازی کا استقبال کالموں اور گنبدوں کے جنگل سے ہوتا ہے جو اسکائی لائن کو وقفے وقفے سے روکتا ہے۔ یہاں کوئی مینار نہیں ہیں۔ مسجد سب سے زیادہ متاثر کن ہے، جس میں 3/ بڑے گنبد اور 58/چھوٹے گنبد ہر اندرونی خلیج پر ہم آہنگی سے ترتیب دیئے گئے ہیں۔ بڑے گنبدوں میں سے دو مسجد کے دائیں اور بائیں سروں پر رکھے گئے ہیں، جب کہ تیسرا گنبد درمیانی مرکز میں ہے۔

      مسجد میں ہوا کی آمدورفت کا انتظام اس طرح کیا گیا ہے کہ کہیں بھی گھٹن کا احساس نہیں ہوتا۔ مسجد میں 17/محرابیں ہیں۔ جن میں محرابوں کے کنارے نازک کرینلیشنز ہیں۔ مرکزی محراب کو ایک ایپیگرافک بینڈ سے سجایا گیا ہے جس میں قرآن کی آیات کی نمائش کی گئی ہے۔ نماز گاہ کے ہر سرے پر، سائیڈ ڈومز کے نیچے، ایک اپارٹمنٹ ہے جس کی مدد سے نو بونے کالم ہیں۔ اپارٹمنٹس شاہی خواتین اور دیگر شاہی مہمانوں کے لیے مخصوص تھے۔ مسجد کے دائیں اور بائیں سروں کو خواتین کے لئے مختص کیا گیا تھا۔ باہر کی طرح اندرونی حصّے میں بھی، خلیجوں اور ستونوں کی آرائش بہت پر سکون ہے اور سخت نوک دار محرابوں کے ساتھ، مسجد تقریباً تزکیۂ نفس کے ماحول کو جنم دیتی ہے۔

      جامع مسجد، منڈو کی تعمیر کا آغاز سلطان ہوشنگ شاہ غوری (1405ء-1435ء) نے 1406ء میں کیا اور آخر کار اسے پایۂ تکمیل تک محمد خلجی (1436ء-1469ء) نے 1454ء میں پہنچایا۔ اس مسجد کی خصوصیت بڑے بڑے گنبدوں اور لمبے لمبے کوریڈورز سے ہے جو بڑے ستونوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ جامع مسجد منڈو پٹھانوں کی فن تعمیر کی ایک قابل ذکر مثال ہے۔ اسے افغان فن تعمیر کے سب سے بڑے نمونوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ پٹھانوں کی اس حکومت کے حکمراں کا سنگِ مرمر کا گنبد والا مقبرہ جو کہ مسجد سے متصل ہی تعمیر کیا گیا ہے، بہت شاندار آرکیٹیکچر ورک کا نمونہ ہے۔

      ڈاکٹر محمد فاروق صاحب نے ایک اہم بات کی طرف اشارہ دیا کہ عورتوں کو بھی مسجدوں میں آکر عبادت کرنے کی اجازت تھی۔ اس کے مکمل آثار منڈو کی اس جامع مسجد سے بھی نمایاں ہوتے ہیں۔

(قسط پنجم)

سلطان ہوشنگ شاہ غوری کا مقبرہ:

     سلطان ہوشنگ شاہ غوری (الپ خان) کا مقبرہ یہ فنِ تعمیر کا وہ شاہکار ہے جو آج اور رہتی دنیا تک دنیا کی نظروں کا محور رہے گا۔

      جامع مسجد کے ایک کونے میں ایک چھوٹا سا دروازہ ہے، جو دوسرے صحن یعنی سلطان ہوشنگ شاہ غوری (1405ء - 1435ء) کے مقبرے کی طرف جاتا ہے۔ ہندوستان کا پہلا سنگ مرمر کا ڈھانچہ، یہ افغان فن تعمیر کی بہترین مثالوں میں سے ایک ہے۔ اس کی انوکھی خصوصیات میں خوبصورتی سے 14.9میٹر × 14.9میٹر کا متناسب گنبد، سنگ مرمر کے پیچیدہ جالیوں کا کام اور درباری لوگوں کی پیش گاہ (portico court) اور ٹاورز شامل ہیں۔ مقبرہ سنگ مرمر کی عمارت ہے جو پہاڑی کی سنگین شاخ پر بنائی گئی۔

     اس مقبرے نے تاج محل کی تعمیر کے لیے ایک سانچے کے طور پر کام کیا۔ تاج محل کی تعمیر شاہ جہاں نے تاج پر کام شروع کرنے سے پہلے استاذ عیسیٰ یا استاذ حامد کے ساتھ دیگر معماروں کو اس عمارت کا مُطالَعہ کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ اس بندۂ خدا کے نزدیک تاج محل کو اس سنگ مرمر کے گنبد کا replica کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اس مقبرے کا مسلط سفید گنبد ایک کریسنٹ سے مزین ہے، جسے میسوپوٹیمیا سے درآمد کیا گیا تھا۔ اندرونی دیواریں دلچسپ ہندسی نمونوں میں پیچیدہ پتھر کی جالیوں سے مزین ہیں۔

     احاطہ قلعہ کی دیوار معلوم ہوتا ہے اور اس کے داخلے کے دروازے کو ایسا گھونگھٹ دیا گیا ہے، جس سے اندر جانے والوں کو محسوس ہو کہ وہ موت کے منہ میں اپنا سر دے رہا ہے، پھر بھی اس میں سادگی کا خاص حسن ہے۔ مقبرہ خود چوکور ہے اور اس کی پشت نما دیواریں 75 کا زاویہ بناتی ہیں۔ اس کی مخروطی بنیاد (Conical base) پر ایک بڑا سنگ مرمر کا گنبد قائم کیا گیا ہے۔

مدرسہ یا اشرفی محل:

     اشرفی محل کو ہوشنگ شاہ غوری نے 1405ء اور 1422ء کے درمیان تعمیر کیا تھا۔ ہوشنگ شاہ غوری نے اس مدرسہ کے ذریعے تعلیم کو فروغ دینا چاہا۔ اسے ابتدائی طور پر ایک مدرسہ (اسلامی اسکول) بنایا گیا تھا۔ اس مدرسے کو ہندوستان کا پہلا اور دنیا کا چوتھا فارسی یونیورسٹی ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔

      "جامع مسجد" کے بالکل بالمقابل "اشرفی محل" نظر آئے گا۔ دونوں عمارتوں کے درمیان بازار اور عوامی آمد و رفت کے ذرائع موجود ہیں۔ یہاں پر خراسانی املی بھی خریدی جاسکتی ہے۔ میں اور ڈاکٹر طارق صابری نے اشرفی محل کا باہر بستی کی جانب سے جاکر بھی معائنہ کیا، اطراف میں بھی گھومنے کا موقع ملا۔ اس عمارت کے نام پر ویسے تو بہت قصے اور کہانی وہاں کے گائیڈز کو سناتے ہوئے دیکھا گیا، مگر عقل اسے قبول کرنے سے قاصر ہے۔ کچھ لوگوں کے نزدیک اشرفی محل میں ’محل‘ کی اصطلاح غلط ہے، کیونکہ یہ محل نہیں بلکہ ایک مدرسہ تھا۔ یہ مدرسہ تاریخ کے صفحات میں مختلف ناموں سے درج ہے۔ "مدرسے" کی تعمیر ہوشنگ شاہ غوری نے اور "اشرفی محل" کی تعمیر محمد شاہ نے کروائی تھی۔ محمد شاہ اپنی موت سے پہلے ایک عظیم الشان مقبرہ بنانا چاہتا تھا۔ محمود شاہ نے مدرسے کے صحن میں مقبرہ تعمیر کروایا۔ اس مقبرے کا گنبد جامع مسجد منڈو اور ہوشنگ شاہ غوری کے مقبروں سے بڑا اور عظیم الشان تھا۔

      معماروں کی جلد بازی کے نتیجے میں اور حالات کی تبدیلیوں کے باعث، گنبد خستہ حال ہوکر ٹوٹ گیا ہے۔ اگر اس گنبد کا وجود باقی رہتا تو شاید منڈو کی عظیم الشان عمارتوں میں اونچا مقام ہوتا۔ پورے چاند کی رات میں چاند کی خوبصورتی اس محل کے برآمدے سے دیکھی جا سکتی ہے۔ محل کے نام کے پیچھے ایک اور کہانی ہے۔ ہر قدم کے ساتھ چاند اوپر آتا ہے اور آخری قدم سے چاند محراب والے فریم سے چاندی کے سکّے کی طرح دکھائی دیتا ہے اس لیے اس محل کا نام "اشرفی محل" رکھا گیا۔ اشرفی سونے کا سکّہ ہوتا تھا، جو 15/صدی میں مصر میں برجی مملوک حکمرانوں نے جاری کیا تھا۔ پہلی اشرفی غالباً 1407ء میں بنائی گئی۔

     سلطان غیاث الدین خلجی بیگمات کی صحت کو بہتر رکھنے کے لئے اشرفیوں والی کہانی بھی بیان ہوتی مگر یہ سب قصے کہانی کی دنیا میں اچھے لگتے ہیں، حقیقت کی دنیا سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس عمارت کے قریب محمود شاہ نے سات منزلہ فتح کالم بنانے کا حکم دیا۔ جس کے باقیات آج بھی ہمیں نظر آتے ہیں۔ اس کالم سے متعلق افسانہ گائیڈ حضرات حق گوئی سے کام نہیں لیتے۔

     اشرفی محل اونچائی پر بنایا گیا ہے اور اس کے نیچے فرش میں تہہ خانہ ہے۔ اسی مدرسے کے صحن میں آج محمد شاہ اور محمود خلجی کا مقبرہ ہے، جو اب مکمل تباہی کے کھنڈرات میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ اشرفی محل منڈو کے بہت سے کھنڈرات اور خستہ حال عمارتوں کے درمیان ایک منفرد عمارت ہے۔ یہاں محل کے ٹوٹے پھوٹے حصّے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ مقبرے کا پرشکوہ داخلی راستہ اپنی توجہ اپنی جانب مرکوز کرواتا ہے۔ اس عظیم تعمیراتی شاہکار کے مٹتے نقوش کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ترجیحی اقدامات کی بےحد ضرورت ہے۔

       ہمیں اب وہاں مدرسے کے اطراف میں محمد شاہ اور محمود خلجی کے مقبروں کے ساتھ سید میرا داتار گجراتی کے نام سے ایک ویران مسجد، فتح کا قطب، ساتھ ہی حضرت شیخ عبداللّٰہ شطاری (وصال 832ھ) کا مزار نظر آیا۔

چورکوٹ مسجد:

      منڈو سے سونگڑھ قلعہ کے راستے میں دائیں جانب ہم نے کھنڈرات میں تبدیل ہوتی ہوئی اس وقت کی ایک خوبصورت و وسیع مسجد کی بوسیدہ و خستہ حال عمارت دیکھی، واقعی یہ مسجد بہت وسیع و عریض رہی ہوگی۔ باہر صحن میں مسجد کے وضو خانہ کا بڑا حوض جو مسجد میں مقتدیوں کی تعداد کو پیش کرتا ہے۔

     اسلامی فنِ تعمیر سے تعلق رکھنے والی زیادہ تر مساجد اور محلات میں بڑے صحن ہوتے ہیں۔ جن میں تقریبات کے موقعوں اور نماز کے دوران لوگوں کے بڑے اجتماعات سما سکتے ہیں۔ اس کا عکس آپ کو منڈو عبادت گاہوں میں نظر آئے گا۔

     سڑک کے کنارے لگے ہوئے خراسانی املی کے تناور درخت، نظر کو خیرہ کرتے سبزہ زار بھی آنکھوں کے آنسوؤں اور مغموم دل کی کیفیت کو روک نہ سکے۔ اس وقت قرآن کریم کی آیات نے ڈھارس بندھائی۔

خراسانی املی' کھرنی اور صنعتی اشیاء:

     منڈو سفر کے دوران سڑکوں کے دونوں کناروں پر موٹے موٹے دیوقامت تناور درخت نظر آئے۔ یہ دیوقامت درخت سحر آفریں نظاروں کا باعث بھی رہے۔ خراسانی املی نامی اس درخت کے پھل کو مقامی اور سیاحوں کو یکساں طور پر پسند کے ساتھ کھاتے ہوئے دیکھا۔ ڈاکٹر فاروق صاحب نے بتایا اسے "خراسانی املی" کہا جاتا ہے۔ تاریخی کتابوں کا مطالعہ کیا تو معلوم یہ ہوا کہ "خراسانی املی" کو منڈو کا تحفہ اور "کھرنی" کو مانڈو کا میوہ کہا جاتا تھا۔

     سلطان محمود خلجی نے خراسانی املی (باؤباب) اور کھرنی کے کثیر تعداد میں درخت بیرونی ممالک افریقہ و خراسان سے منگوا کر منڈو اور دھار کے جنگلات اور آبادی والے علاقوں میں لگوائے تھے۔ بعض کا خیال ہے کہ مصر کے خلفاء نے چودھویں صدی میں کسی زمانے میں مالوا کی قدیم سلطنت پر حکمرانی کرنے والے منڈو کے سلطانوں کو باؤباب کا درخت تحفے میں دیا تھا۔ دوسروں کا خیال ہے کہ یہ درخت فارس سے یہاں آیا تھا، کیونکہ اس کے پھلوں کو عام طور پر خراسانی املی کہا جاتا ہے، جس کا لفظی ترجمہ 'خراسان (قدیم فارس) سے املی' ہے۔

    خراسانی املی کا استعمال زمانہ قدیم سے بطور غذا اور علاج کے لئے کیا جاتا رہا ہے۔ خراسانی املی کے بڑے سخت قسم کے لمبے اور موٹے پھل جسے دیکھ کر کچھ حد تک کووٹ یاد آگیا حالانکہ کووٹ چھوٹا اور گول ہوتا ہے۔ یہ پھل کا خول سخت ہوتا ہے اور اندرون میں بیج کے ساتھ کَھٹّا مِیٹھا، ترشی مائل میٹھا گودا ہوتا ہے۔

     فرحت بخش پھل خراسانی املی کے کَھٹّے مِیٹھے ذائقے سے ہم بھی محظوظ ہوئے۔ خراسانی املی کا استعمال متعدد بیماریوں کے علاج کے طور پر بھی کیا جاتا ہے۔ اسے یونانی دواساز بھی کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ مہنگا بھی ہوتا ہے۔ جس کے استعمال سے صحت ٹھیک رہتی ہے اور معدہ بھی بہتر طریقے سے کام کرتا ہے، اس کے استعمال سے میں نے خود کو پرسکون و ہلکا اور متحرک محسوس کیا۔

     وہاں مزید ایک اور عجیب قسم کے درختوں کو دیکھا جسے کھرنی کے درخت کہا جاتا ہے۔ ساگر تالاب کے مشرقی پشتہ کے ساتھ آگے چل کر کھرنی کے درختوں کا ایک جھنڈ ملتا ہے۔ مذکورہ بالا درخت کا پھل، جو پکی ہوئی حالت میں پیلے رنگ کا ہوتا ہے، مزہ شیریں لیکن کبھی کبھی ترش بھی ہوتا ہے، آلو بخارے کے برابر نِبولی سے مشابہ ہوتا ہے، اس کی ایک قسم بہت کمیاب ہوتی ہے، یہ پھل لیسدار اور چپچپا ہوتا ہے، اس کے درخت میں سے ایک قسم کا گوند نکلتا ہے، اس کے بیجوں میں سے تیل نکالا جاتا ہے، جس کو دھوکے باز لوگ گھی کی جگہ فروخت کر دیتے ہیں۔

     یہاں کے جنگلات سے مختلف اقسام کے پھلوں اور لکڑی کے علاؤہ شہد، موم، گوند وغیرہ ہوتا تھا، جن سے بہت سی چھوٹی گھریلو صنعتیں چلتی تھی۔ یہاں پر بہت سی کانیں بھی تھی کیونکہ یہ علاقہ پتھروں سے گھیرا ہوا تھا۔ تعمیرات کے لیے جو چونا پتھر استعمال ہوتا تھا وہ یہاں کی کانوں میں بہتات سے دستیاب ہوتا تھا۔ ہم نے جہاز محل میں بھی دیکھا کہ وہاں بیل کو گول دائرے میں پھرا کر تعمیراتی مسالۂ جات تیار کیا جارہا تھا۔ اس کے علاؤہ عمارتی پتھر، کالا، سرخ بھورے رنگ کا پتھر بہت آسانی سے دستیاب تھا یہاں سنگ مرمر کی کانیں تھی، جہاں سفید، پیلا اور سیاہ رنگ کا مرمر دستیاب ہوتا تھا۔

(قسط ششم)

"نعمت نامہ" اور سلطان غیاث الدین:

     خلجی حمکرانوں نے مانڈو کو ایک مستحکم ریاست کی شکل دی اور ایک خوشگوار اور پرسکون ماحول دیا۔ غیاث الدین خلجی نے مانڈو کو عیش و عشرت کا گہوراہ بنا دیا جہاں مختلف اقسام کی محفلیں، شاہی ضیافتوں کا دور دورہ، خواتین  کی انجمن سجتی رہتی تھی۔

     غیاث الدین کے دور حکومت میں نعمت نامہ جیسی کتاب لکھی گئی جو نہ صرف طرح طرح کے کھانوں پر مشتمل تھی بلکہ صحت مندی کے کئی راز اس کے اوراق میں پنہا تھے۔

     غیاث الدین بذات خود شاہی باورچی خانے میں تیار ہونے والے پکوانوں پر نظر رکھتے تھے۔ 'نعمت نامہ' اس دور کی پہلی کتاب ہے جس میں کھانا پکانے کی تصاویر شامل ہیں۔

      غیاث الدین عورتوں کی تعلیم و تربیت میں بھی دلچسپی رکھتا تھا اور سارنگ پور میں اس نے اپنے دربار سے منسلک عورتوں کی تعلیم کے لیے مدرسہ بھی قائم کیا تھا۔ اساتذہ شاہی شہزادیوں کو پڑھانے پر مامور تھے اور 70 سے زائد خواتین بہت اچھی حفاظ قرآن تھیں۔

      اس کے علاؤہ محل میں سیکڑوں خواتین تھیں جنھیں کُشتی اور کھانا پکانے کی تربیت دی گئی تھی۔ غیاث الدین نے 500/ حبشی کنیزوں پر مشتمل ایک خصوصی دستہ بھی بنایا تھا۔

     1401ء میں دہلی سلطنت کے مقرر کردہ گورنر دلاور خان نے صوبے مالوہ کو خود مختار سلطنت بنانے کا اعلان کیا اور بعد میں اس کا دارالحکومت ’منڈو‘ کو بنایا۔ ان کا پوتے غیاث الدین 1469ء میں متمکن ہوا اور 30/ سال تک مالوہ کے حکمران رہے۔

      کئی پکوان صدیوں کا سفر طے کرکے ہم تک پہنچے ہیں اور ان کی تاریخ دراصل کئی سلطنتوں کے عروج و زوال کی بھی ہوتی ہیں۔ انہی عروج و زوال کے پکوانوں کی تاریخ بیان کرتی ہوئی کتاب "نعمت نامہ" دنیا کی سب پہلے لکھی جانے والی نایاب کتاب ہے۔ ہندوستان میں پانچ سو سال قبل کھانے پکانے پر لکھی گئی کتاب "نعمت نامہ" کے مؤلف یا مرتب سلطان غیاث الدین تھے۔ اس کتاب کو 1495ء سے 1505ء کے درمیان مرتب کیا گیا۔

       یہ کتاب اس اعتبار سے بھی منفرد ہے کہ اس میں کھانے کی تراکیب کے ساتھ مختلف کھانوں کے تیاری کے مراحل کی ہاتھ سے بنائی گئی 50/تصاویر بھی شامل ہیں۔ آج اس کتاب کو ہندوستان میں پکوانوں کی تاریخ کے اہم ماخذ اور اس فن کی قدیم ترین کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

      کہا یہ جاتا کہ 1799ء میں 'نعمت نامہ' کا نسخہ برطانوی حکمرانوں نے ٹیپو سلطان کی لائبریری سے غائب کیا تھا۔ دوبارہ نعمت نامہ' کا تحریری نسخہ 1959ء میں منظر عام پر لایا گیا۔ 'نعمت نامہ' کا 2004ء میں انگریزی زبان میں ترجمہ کیا گیا۔ آج یہ کتاب برٹش لائبریری میں موجود ہے۔

باز بہادر محل:

     باز بہادر بھی خلجی تھا۔ وہ اپنے باپ شجاع خان کی وفات 1554ء کے بعد مالوہ کا حکمران بنا۔ باز بہادر کا شمار ہندوستان کے موسیقی کے چوٹی کے استادوں، گویوں اور موسیقاروں میں ہوتا تھا۔ ہندوستان کی موسیقی کی تاریخ میں کم ہی لوگ باز بہادر کے پائے کے ہوں گے۔ وہ 1554ء ۔1561ء مالوہ کا حکمراں رہا۔

     باز بہادر کا محل ایک خوبصورت پہاڑی کی ڈھلوان پر واقع ہے۔ مرکزی گیٹ وے محل تک 40/ چوڑے سیڑھیوں کے ساتھ وقفے وقفے سے لینڈنگ ہوتی ہے۔ یہ 16/ویں صدی کے اوائل میں تعمیر کیا گیا تھا اور اپنی وسیع و عریض کے لیے قابل ذکر ہے۔

      منڈو نہ صرف خوبصورت مناظر اور عمارتوں کا شہر ہے بلکہ عشق و محبت کا ہمراز بھی ہے۔ اس کی مٹی میں باز بہادر اور  روپ متی کے عشق کی داستان پوشیدہ ہے۔ باز بہادر منڈو کا آخری حکمراں تھا جب کہ روپ متی ایک چرواہن تھی اور منڈو کی آزاد فضا میں بکریاں چرایا کرتی تھی۔ خدا نے روپ متی کو بلا کا حسن اور سریلی آواز دی تھی۔

     باز بہادر کو ادھم خان کے ہاتھوں شکست ہوئی اور وہ فرار ہوگیا اور رانی روپ متی نے اپنے ناموس کی حفاظت اور باز بہادر کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے آپ کو زہر کھا کر موت کے حوالے کر دیا۔ حالانکہ میرے میں مُطالَعے یہ بھی آیا چند مورخین نے ادھم خان کے متعلق یہاں تک لکھا ہے کہ اس نے نکاح کا پیغام بھیجا تھا۔ محلات کی اندرونی دشمنی کے نتیجے میں باز بہادر کی محبت اس انجام تک پہنچی ہے۔

جہاز محل:

     منڈو کی دوسری مرکزی عمارت جہاز محل ہے، جو 121.9 میٹر لمبی، 15.2 میٹر چوڑی اور 9.7 میٹر اونچی، دو منزلہ تعمیراتی عجوبے والی یہ عمارت دو مصنوعی تالاب، مونج تالاب (کُنڈ) اور کپور تالاب (کُنڈ) کے درمیان زمین کی ایک تنگ پٹی پر واقع ہے، جس سے جہاز پانی کے اوپر تیرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ایک جھیل جو 15/ویں صدی کے آخر میں سلطان غیاث الدین خلجی نے بنائی تھی۔

      مسلم حکمرانوں نے بڑے بڑے محلات، باغات، قلعے، دروازے، مساجد و مقبرے وغیرہ تعمیر کرائے۔ ان کی تعمیرات میں ایسے باغات تھے جہاں جھرنوں، آبشاروں اور چشموں کا نظام قائم کیا گیا۔ انھوں نے محلوں اور دیگر عیش و آرام والی عمارتوں میں بہتے پانی کی نہریں جاری کیں جن کے نشانات آج بھی کئی تعمیرات کے ساتھ منڈو میں بھی نمایاں طور پر موجود ہیں۔

      یہ محل سلطان کے لیے ایک بڑے حرم کے طور پر کام کرتا تھا۔ جہاں حیرت انگیز طور پر پندرہ سو خواتین کی رہائش کا انتظام ہوا کرتا تھا۔ حرم کی خواتین کے لئے جہاز نما شاندار محل تعمیر کروایا جو آج بھی تاریخ میں اپنی مثال آپ اور سیاحوں کی دلچسپی کا باعث ہے۔ انھوں نے حرم میں مدرسے کی بنیاد رکھی اور تعلیمی معیار کو بلند کرنے کی کوشش کی۔ غیاث الدین کے حرم کی خواتین زندگی کے ہر شعبے میں مہارت رکھتی تھیں۔ مغل شہنشاہ جہانگیر نے اسے اپنی پسندیدہ ملکہ نور جہاں کی رہائش گاہ کے طور پر مختص کردیا تھا۔

      دو منزلہ عمارت کے جنوبی سرے میں سیڑھیاں ہیں جو براہ راست چھت کی طرف جاتی ہیں۔ چھت کے شمالی سرے میں پھولوں کے ڈیزائن کا ایک سوئمنگ پول ہے جس کے بالکل نیچے پہلی منزل پر ایک ایسا ہی پول ہے۔ لمبے جہاز محل کے جنوبی اور شمالی سرے پر چبوترے پر دو گنبد پویلین ہیں۔ شمالی پویلین چھت کے بالکل آخر میں نہیں ہے بلکہ سوئمنگ پول کے بالکل جنوب میں ہے۔ پویلین میں اب بھی نیلی اور پیلی ٹائلیں ہیں۔

     یہ منڈو میں شاہی محل کے احاطے کو بنانے والی سیٹ عمارتوں میں سے ایک ہے، جس میں جہاز محل، ہنڈولا محل، تاویلی محل اور نہر جھروکھا شامل ہیں۔ محل کے اردگرد بہت سی دوسری، غیر شناخت شدہ ڈھانچے موجود ہیں جو کہ شاندار ماضی کا ثبوت ہے۔

(قسط ہفتم)

جل محل:

      جہاز محل کے ساتھ ملحقہ جل محل یا پانی کا محل ہے، جس کے چاروں طرف پانی ہے مغل بادشاہ جہانگیر اپنی یادداشتوں جہانگیر نامہ میں لکھتے ہیں: "میرے کون سے الفاظ گھاس اور پھولوں کی خوبصورتی کو بیان کر سکتے ہیں؟ وہ ہر پہاڑی اور ڈیل، ہر ڈھلوان کو پہنتے ہیں۔ اور سادہ۔ مجھے موسم میں اتنی خوشگوار اور مناظر میں اتنی خوبصورت کوئی جگہ نہیں ہے جتنی بارش کے موسم میں جل محل۔"

ہنڈولہ محل:

      ہنڈولہ محل کو جھولتے ہوئے محل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کیونکہ اس کی دیواریں کافی حد تک ڈھلوان ہیں۔ یہ ٹی سائز کی دو منزلہ ٹھوس نظر آنے والی عمارت ہے۔  خیال کیا جاتا ہے کہ 1400/عیسوی کے اواخر میں غیاث الدین نے دیوان خاص (رائل اسمبلی ہال) کے طور پر تعمیر کیا تھا، اس کی بڑی دیواریں ہیں جو کہ بھاری چھت کو سہارا دینے کے لیے اندر کی طرف جھک کر تعمیر کی گئی تھیں۔ اس لیے یہ تاثر ہے کہ عمارت ہوا کے جھونکے میں جھومتی ہے۔ ایک کھڑی ریمپ نے سلطان اور اس کے ساتھیوں کو دوسری منزل تک ہاتھیوں پر سوار ہونے کی اجازت دی۔ بعد کی تاریخ میں ایک ٹی شکل والی عمارت شامل کی گئی اور اس میں ایک اوپری منزل تھی جسے عدالت کی خواتین استعمال کرتی تھیں۔ رسائی دو مختلف راستوں سے تھی۔

ہاتھی محل:

      ایسا لگتا ہے کہ ہاتھی محل کا نام اس کی عمارت کو اس کے غیر متناسب طور پر بڑے ستونوں کی وجہ سے دیا گیا ہے، جو ہاتھی کی ٹانگوں کی طرح نظر آتے ہیں، جو بلندی کو سہارا دیتے ہیں۔

     طویلی محل، جالی محل، لال محل یا لعل بنگلہ، چھپن محل، نیل کنٹھ محل، چشتی خاں کا محل وغیرہ وغیرہ

چمپا کنواں (باؤڈی):

     یہ منفرد ہے، یہ ایک معمول کا بڑا کنواں ہے، جو بارش کے پانی سے بھرا ہوا ہے۔ چمپا باؤڈی کا اندرونی حصّہ مربع ہے جب کہ اس کی دیوار گول ہے اور اس میں طاق ہیں۔  چمپا نام اس حقیقت سے آیا ہے کہ کنویں کی چوٹی چمپا کے پھول کی طرح دکھائی دیتی ہے۔

      اس گول کنویں کے آس پاس رہنے والے اپارٹمنٹس کی متعدد منزلہ تعمیر میں مضمر ہے۔ آپ یقین کریں یا نہ کریں، اس محل کے اردگرد چار منزلہ رہائشی کوارٹر ہیں۔ آخری سطح تقریباً منج تالاب کی سطح پر ہے۔  عمارتیں ان کے ساتھ والی باؤدی کی وجہ سے ٹھنڈی رہتی ہیں۔ طویل کوریڈورز ہوا کی گردش کی اجازت دیتے ہیں۔ پانی کو ذخیرہ کرنے اور اسے ماحول دوست ایئر کنڈیشنر کے طور پر کام کرنے کا کتنا ذہین طریقہ ہے۔

اجالی باؤڈی:

     اجالی باؤڈی (کنواں) خوبصورت ہے اور اس میں ہندسی مراحل ہیں۔ کھڑی سیڑھیاں باؤڈی کی بنیاد کی طرف لے جاتی ہیں۔ اس کے اطراف میں گیزبو نما (ایک چھت والا ڈھانچہ جو آس پاس کے علاقے کا کھلا منظر پیش کرتا ہے، عام طور پر آرام یا تفریح ​​کے لیے استعمال ہوتا ہے۔) پویلین سے یہ خوبصورت لگ رہا ہے۔

      شاہی احاطہ میں دو کنویں نظر آتے ہیں جو اجالی باؤڈی اور اندھیری باؤڈی کہلاتے ہیں، یہ کنواں بڑا اور بہت گہرا ہے، مشرق و مغرب دونوں طرف سے سطح آب تک زینے جاتے ہیں جو باؤڈی کی تہ تک چلے گئے ہیں، باوڈٹ کے شمالی سرے پر پانی نکالنے کی چرسی ہے، جنوب میں ایک شہ نشین بنا ہوا ہے، جس میں شاہی نگہبان رہتے تھے، ہر کشادہ سیڑھی پر پاسبانوں اور نگہبانوں کے لیے کمرے بنے ہوئے ہیں ۔

حمام:

     حمام شاہی محل کے اندر واقع ہے اور اس میں پانی کی بہت سی دلچسپ خصوصیات ہیں۔ بشمول سونا اور نہانے کے لیے گرم اور ٹھنڈے پانی کی فراہمی۔ کافی پیچیدہ پانی کے نظام کو اب بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

      یہ شاہی حمام یا گرم غسل ترک طرز کا ہے جسے شاہی افراد استعمال کرتے تھے۔ اس کی چھت کو خوبصورت ستاروں سے سجایا گیا ہے جو روشنی کے لیے کاٹ کر ایک ٹمٹماتے ستارے کی شکل دیتا ہے جو پورے چاند کی رات اور دن کے وقت بھی آسمان پر چمکتا ہے۔

(قسط ششم)

دائی اور چھوٹی بہن کے محلات (گور محل):

      محمود خلجی (اؤل) کی دایہ کا محل اور مقبرہ ہے، جو تہہ خانے پر واقع ہے۔ تہہ خانے میں مغربی سمت کی طرف محرابی سوراخ ہیں اور جنوب مشرقی اور شمال مشرقی کونوں پر سرکلر ٹاورز کی باقیات ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کبھی خوبصورت پویلین کو سہارا دیتے تھے جو مقبرے کے فرش کے برابر تھے۔

     اس مقبرے کی قابل ذکر خصوصیت گنبد کی لمبی آکٹونل گردن ہے جس کو سجاوٹی پیرپٹ سے "گلدستاس" یا ڈھول کو گھیرے ہوئے چھوٹے کھوکھے سے بند کیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی خصوصیت ہے جو منڈو میں شاذ و نادر ہی پائی جاتی ہے لیکن دکن کے فن تعمیر میں عام ہے۔ انہیں عمارتوں کے گنبدوں سے صدائے باز گشت (eco point) ہوتی ہے۔

      دائی کا محل کے علاؤہ، دائی کی چھوٹی بہن کا محل طاقت کے اس سماجی طبقے کو تقویت دیتا ہے۔

دریا خان کا مقبرہ:

      دریا خان کا منڈو پر اقتدار 1510ء سے 1526ء تک رہا۔ ہاتھی محل کے شمال میں دریا خان کا مقبرہ ہے۔ دریا خاں، سلطان محمود خلجی (دؤم) کے عہد میں منڈو کے دربار شاہی کا ایک اعلی حاکم تھا۔ اس نے اپنی قبر خود ہی بنوائی، آج جہاں وہ مدفن ہے۔ یہ مقبرہ مسلم فن اور فن تعمیر کا ایک عظیم نمونہ ہے۔ یہ ہوسائی گاؤں اور ریوا کُنڈ کے درمیان واقع ہے۔ مربع شکل میں اور بہت زیادہ محرابوں کی مدد سے اس کی دیواریں ٹائلوں کے عمدہ اور پیچیدہ انتظامات کی نمائش کرتی ہیں۔ دریا خان کا مقبرہ ایک بڑے حوض کے ارد گرد پھیلا ہوا ہے جسے اب سوم وتی کُنڈ کہا جاتا ہے۔

     مقابر کی فہرست بھی طویل ہے، طوالت سے بچتے ہوئے چند مقبروں کے صرف نام ہی بتاتا چلوں، مقبرہ محمد شاہ، مقبرہ محمود خلجی، مقبرہ سید نظام مانڈوی،

گدا شاہ کی دکان اور گھر:

      یہ لقب اس عمارت کے لیے غلط ہے کیونکہ یہ عمارت بجائے ایک دکان کے ایک دیوان خانہ ہے، جو ہنڈولہ محل کے طرز پر تعمیر ہوا تھا، لیکن اس سے کہیں زیادہ بڑے پیمانہ پر بنایا گیا تھا۔ ہال کے عظیم الشان طول و عرض سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بادشاہوں کا دربار عام تھا اور ہنڈولہ محل دربار خاص۔

      یہ ایک بہت بڑی عمارت ہے، جس میں اونچی دیواریں اور اونچی محرابیں ہیں۔ عمارت کے درمیانی حصّے کی چھت گر گئی ہے اور یہاں صرف ایک ڈھانچہ باقی رہ گیا ہے وہ محراب ہے۔

     گدا شاہ کو اکثر لوگ راجپوت سوداگر سمجھتے ہیں۔ جو منڈو کا ہی رہنے والا تھا۔ ہاتھی دانت، زعفران اور کستوری کی تجارت اس کا پیشہ تھا۔

کاروان سرائے:

      نام سے ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر مسافروں کی پناہ گاہیں رہی ہوں گی۔ ستونوں والے دالانوں اور ایک بہت بڑا صحن والا معمول کا مغل فن تعمیر۔ آپ اب بھی ان کمروں کو واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں جو اس کمپلیکس کا حصّہ تھے۔ یہ اب خستہ حال ہے اور ملک مغیث کی مسجد کی چند تصویروں کے لیے اچھا ہے۔

      مسجد کا مرکزی دروازہ مشرق کی طرف ایک پروجیکشن پورچ سے ہے۔ مضبوط ستونوں نے ایک بار ایک گنبد کو سہارا دیا جو وقت کی تباہ کاریوں سے بچ نہیں پایا۔ اگرچہ پورچ کا فلور پلان مربع ہے، یہ کونوں پر محرابوں کے ذریعے اوپر کی طرف ایک آکٹون میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ مغربی کالونیڈ، نماز کا ہال، دیوار میں پیچیدہ نقش و نگار والے طاقوں کے ساتھ سب سے زیادہ متاثر کن ہے جو نیلی ٹائلوں اور پھولوں کے ڈیزائنوں سے جڑے ہوئے ہیں۔

دلاور خان مسجد:

     دہلی سلطنت کے دور میں دلاور خان مالوہ کے گورنر تھے۔ دہلی دربار میں خدمات دینے کے بعد انہیں 1390ء میں دھار بھیج دیا گیا۔ دلاور خان نے عمید شاہ داؤد کا لقب اختیار کیا۔ اس کے بیٹے کا نام ہوشنگ شاہ غوری خان تھا۔

     دلاور خان کی مسجد سب سے قدیم عمارت ہے اور اسے 1405ء میں تعمیر کیا گیا تھا اور اس میں ہندو اور جین مندروں کے پتھر اور ستون استعمال کیے گئے تھے جو اس جگہ پر پہلے موجود تھے۔ معلوم ہوا کہ ملک مغیث کی مسجد بھی اپنی تاریخ بیان کرتی ہے مگر وہاں حاضری سے محرومی ہمارا مقدر رہی۔

     افسوس صد افسوس! منڈو میں آج اتنی تاریخی مساجد ہونے کے باوجود کسی بھی مسجد میں نماز کی اجازت نہیں ہے۔ مسلمانوں کو ہوش کے ناخن لینے کے لئے شاید یہی کافی ہوگا۔ ہمیں بھی نماز جمعہ ادا کرنے کے لئے منڈو جانے سے پہلے ہی فکریں ستاتی رہی۔ آخر کار مسلمانوں کی ایک غریب سی بستی میں، چھوٹی اور کچی مسجد میں نماز باجماعت ادا کرنے کا موقع فراہم ہوہی گیا۔

سونگڑھ کا قلعہ:

      دھار سے منڈو آتے ہوئے پہاڑی کی ابتداء میں ہمیں منڈو قلعہ ملا، منڈو سے دھرم پوری کے راستے ممبئی آتے ہوئے ہمیں چورکوٹ مسجد سے قریب کے فاصلہ پر سونگڑھ کی پہاڑی ہے، پہاڑی کی چوٹی اونٹ کے کوہان کی طرح ابھری ہوئی ہے، جو منڈو کی بلندی سے نہایت شاندار نظر آتی ہے، یہ پہاڑی منڈو کی سطح مرتفع سے تنگ غار سے جدا تھی، سلاطین مالوہ نے اس غار کو پر کرکے اس کو مانڈو کی پہاڑی سے ملا لیا اور اس پہاڑی کو قلعہ منڈو میں شامل کر لیا، تاکہ غنیم کی فوجیں سونگڑھ کی پہاڑی پر چڑھ کر منڈو میں داخل نہ ہو سکیں اس سے قلعہ محفوظ ہوگیا۔ پہاڑی پر کچھ قبریں، ایک ویران مسجد کے کھنڈر اور ایک حوض نظر آتا ہے۔

     روح کو زندہ رکھنا ہے تو انسان اپنی سماعت و بصارت کو ہمیشہ بیدار رکھے۔ دنیا کے نشیب و فراز کو دیدۂ عبرت کے ساتھ نصیحت اور سبق کا ذریعہ بنائے۔ ان کے طفیل اپنے عمل کی راہ نئے سِرے سے متعین کرتے ہوئے آگے کا لائحہ عمل تیار کریں۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ آنکھیں رکھنے والوں میں عبرت نگاہی کا فقدان ہے اور کان رکھنے والے حقیقت نیوشی سے محروم ہیں۔  ؎
جگہ دل لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جاہ ہے‘ تماشا نہیں ہے

فَاعتَبِرُوا یَا اُولِی الاَبصَارِ۔
           •┅┄┈•※‌✤م✿خ✤‌※┅┄┈•
                     (26.01.2023)
           🍁 مسعود محبوب خان 🍁
        Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
                      ○○○○○○○○○

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam