Selfie ek waba
•سیلفی! ایک وباء•
┄┅════❁﷽❁════┅┄
══════•❁ا۩۩ا❁•══════
•سیلفی! ایک وباء•
(ہمیں نہ پھنسا دے قیامت میں سیلفی)
══════•○ ا۩۩ا ○•══════
🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
وَلَا تُلۡقُوۡا بِاَيۡدِيۡكُمۡ اِلَى التَّهۡلُكَةِ۔ (سورۃ البقرة: 195)
(اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔)
اسلام کہتا ہے جان بوجھ کر اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالیں۔ بِلا مَصلَحتِ شرعی جان بوجھ کر اپنے آپ کو ہلاکت میں پیش کرنا گناہ و حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے، ان کاموں سے سختی کے ساتھ منع فرمایا گیا ہے۔ ایسے عمل کا ارتکاب جو منع کرنے کے بعد بھی انسان کرے تو وہ عمل اسے واصل جہنم بنا دیتا ہے۔ مندرجہ بالا واضح احکامات کے بعد بھی دیکھا یہ گیا ہے کہ اپنے آپ کو الگ قسم کی مخلوق پیش کرنے کے لئے بلا خوف و خطر صرف تصویر کشی کی خاطر انسان چلتی ٹرین، خونخوار جانوروں، بلند و بالا عمارات، سمندروں و دریاؤں کے کناروں وغیرہ مقامات پر اپنی سیلفی لے کر دوسروں کی تفریح کا سامان بنتا ہے۔ بعض اوقات ایسی سیلفی کے نتیجے میں حضرتِ انسان کو جان گنوانی پڑھ جاتی ہے۔
اپنے ہی ہاتھوں سے بنائی یا نکالی گئی 'اپنی تصویر و شبیہ' یا 'مَرقَعِ خُود و خُود مُصَوَّری' جسے سوشل میڈیا پر شیئر کے لئے ویب سائٹس اور آن لائن مختلف پلیٹ فارمز مثلاً Instagram، Facebook، Snapchat اور دیگر سوشل میڈیا سائٹس پر پوسٹ کیا جائے اور سبسکرائب یا لائک کروانے کے لئے لوگوں سے بھیک مانگنے کے انداز میں التجا کی جائے اسے "سیلفی" کہا جاتا ہے۔ عام مفہوم یہ ہوگا اپنی تصویر خود لینا۔ "سیلفی" ایسے self-portrait تصویر کو کہا جاتا ہے، جو ایک ڈیجیٹل کیمرہ یا اِسمارٹ فونز سے لی جائے۔
میں نے یہ تحریر پوری دنیا میں سیلفی سے ہونے والی المناک اموات اور اس کی لت کے نتیجے میں وبائی امراض کا جائزہ لینے کے لئے تحریر فرمائی ہے۔ دور حاضر میں المناک سیلفی اموات ایک ابھرتا ہوا مسئلہ بن گیا ہے اور اس سے مزید آگے سیلفی لینے کا مرض بہت بڑا بہران ثابت ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ افسوس صد افسوس! دین کا شعور و فہم اور فراست رکھنے والے، بڑی بڑی جماعتوں کے چھوٹے بڑے کارکنان و افراد کو بھی ماڈلنگ کے خود نمائی والے انداز میں نکالی گئی سیلفیز کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
عصر حاضر میں جہاں دیکھو وہاں سیلفی کا شوق عروج پر ہے۔ اپنے مداحوں کی تسکین کے لئے تصاویر کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کی بیماری اپنی انتہاء کو پہنچ گئی ہے۔ پتہ نہیں ہم اپنی کونسی چھپی ہوئی جَبلت کو تسکین پہنچانے کا سامان کر رہے ہیں۔ سیلفی کا یہ بڑھتا ہوا رجحان معاشرے میں اَنا پَرستی اور خود پرستی کو بھی فروغ دے رہا ہے! میں یہ سمجھتا ہوں غرور و تکبر، احساس برتری اور اَنا پَرستی ہمیشہ انسان کی ذلت و پستی کا سبب بنتی ہیں۔ میرے نزدیک زیادہ سیلفیاں لینا ایک نشہ کی عادت کے علاؤہ کچھ نہیں!! سیلفی کا بُخار اب لا علاج سَرطان بن چکا ہے!!! بار بار اپنی سیلفی لینا اور اسے سوشل میڈیا پر شیئر کرنا ایک باقاعدہ ذہنی خلل ہے!!!! انسان اگر کسی اداروں و انجمنوں، تنظیموں و تحریکوں اور کاروباری و تجارتی بنیادوں پر تصاویر لیتا ہے تو سمجھ میں آتا ہے کہ یہاں مجبوراً یہ کرنا اس کی وجہ بن سکتی ہے، مگر اس میں بھی شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے اعتدال کی راہ اختیار کی جائے تو زیادہ مناسب ہوتا ہے۔
دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ احساسِ برتری کا شکار ہی کثرت سے سیلفیز لیتا ہوا نظر آئے گا، ایسے لوگ کسی اصول و ضوابط کے پابند نہیں ہوتے۔ تنقید کو برداشت کرنے سے قاصر رہتے ہیں، وہ منفی تنقید سے جلد ہی مایوس ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف نہیں کرتے بلکہ اس کا الزام بھی دوسروں کے سر باندھتے ہیں۔ جواب دینے کے لیے سننے کے بجائے، وہ کسی اور کے خدشات کو مسترد کرنے، نفی کرنے، نظر انداز کرنے، کم کرنے یا بصورت دیگر کسی اور کے خدشات کو غیر متعلقہ بنانے کی باتیں سنتے ہیں، ذمّہ داریوں سے بری نظر آتے ہیں۔
حضرت انسان کی ایک اچھی تعداد ہمیشہ اپنے آپ کو دوسروں سے مختلف انداز میں ظاہر کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ خاندان اور معاشرے سے الگ تھلگ رہتے ہیں اور مسلسل اسمارٹ فونز کے چنگل میں رہتے ہیں وہی لوگ سیلفیز کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔
زیادہ سیلفیز کا استعمال 'سیلفی ٹِس' ( Selfitis) نامی دماغی عارضے کا باعث بنتا ہے۔ "سیلفی ٹِس" کی تعریف "خود کی تصاویر لینے اور انہیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کی جنونی خواہش کے طور پر کی جاتی ہے تاکہ خود اعتمادی کی کمی کو پورا کیا جا سکے اور قربت میں خلاء کو پُر کیا جا سکے"۔ امریکن سائیکیٹرک ایسوسی ایشن (APA) نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ 'سیلفیاں' لینا ایک ذہنی عارضہ ہے۔ سیلفی ٹِس کی درجہ بندی اس طرح کی جاتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے بغیر دن میں کم از کم تین بار خود سے تصاویر لینا اسے "بارڈر لائن سیلفی ٹِس" کہا جاتا ہے۔ دن میں کم از کم تین بار خود سے تصاویر لینا اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا اسے "شدید سیلفی ٹِس" کہا جاتا ہے۔ دن میں چھ سے زیادہ بار خود سے تصاویر لینا اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا اسے "دائمی سیلفی ٹِس" کہا جاتا ہے۔ دائمی سیلفی ٹِس میں مبتلا شخص عموماً شب و روز سوشل میڈیا کا استعمال کرتا ہے اور اس کا کام ہی ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر سیلفیز پوسٹ کرے۔
ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اکثر سیلفیز دیکھنے سے خود اعتمادی میں کمی اور زندگی کی تسکین میں کمی واقع ہوتی ہے۔خود اعتمادی اکثر اس وقت متاثر ہوتی ہے جب آپ اپنے آپ کا دوسرے لوگوں سے بہت زیادہ موازنہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
سیلفی کی وباء نے انسان کے وقار کو مجروح کر دیا ہے۔ آج اچھا خاصہ بظاہر سنجیدہ اور متاثر کن نظر آنے والا انسان سیلفی کے چکر میں دیوانہ وار عجیب عجیب بھدی قسم کی تصاویر بھیج کر اپنے آپ کو ذلیل و خوار کرتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس بندے کی شخصیت پر گہن لگا ہوا ہو۔ اس کے اصل اخلاق و کردار کے پوشیدہ چہرہ کا جیسے انکشاف ہوگیا ہو۔ ایسی حرکات و سکنات کا معائنہ کرنے والوں کے اذہان پر کوئی اچھا تاثر قائم نہیں ہوتا۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سیلفی لینے والوں میں اپنی ظاہری شخصیت کے بارے میں خوشی فہمی کا احساس پایا جاتا ہے جو انہیں مغرور بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ سوشل میڈیا پر اپنی سیلفی یا تصاویر شیئر کرنے پر لوگوں کو دوستوں کی طرف سے لائکس ملتے ہیں، جس سے ان کے مغرور ہونے کے احساس کو مزید تقویت ملتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ لائکس اور شیئرز کے حصول کے لیے خطرناک مقامات پر بھی سیلفی لینے کا رجحان بڑھ رہا ہے جو جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ انتہاء کی خود پسندی، خود سے بہت زیادہ پیار اور خوش فہمی انسان کو تباہ و برباد کر دیتی ہے۔ اس تناظر میں سیلفی بنانے کا رجحان مہلک بھی ہو سکتا ہے۔
ملک کے وزیر اعظم نے بھی اس میڈیم کو اتنا زیادہ اپنایا اور اسے فروغ دیا کہ بھارت میں سیلفی بنانے کا رواج وباء کی طرح پھیل گیا۔ مودی نے دنیا کے چند معروف ترین لیڈروں کے ساتھ سیلفی بنا کر تصویریں پوسٹ بھی کیں۔
ہد ہد الہ آبادی نے سیلفیز کے وباء میں مبتلا افراد کی منظر کشی کی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔
عبادت میں سیلفی تلاوت میں سیلفی
امامت میں سیلفی خطابت میں سیلفی
عجب مرض ہے عادت خود نمائی
عیادت میں سیلفی سخاوت میں سیلفی
بنا سیلفیوں کے گزارہ نہیں ہے
بشاشت میں سیلفی ندامت میں سیلفی
میرے دیس میں سیاسی لوگوں کی عادت حمایت میں سیلفی مذمت میں سیلفی
ریا کیا ہے ہم سے نہ پوچھے کوئی بھی
بنائیں گے ہم دیں کی خدمت میں سیلفی
میں علمائے دیں کو کہوں کیسے ہدہد
ہمیں نہ پھنسا دے قیامت میں سیلفی
سیلفی کا جنون اتنا ہے کہ لندن کی ایک کافی شاپ میں اگر گاہک چاہے تو حسب خواہش سیلفی بنوا کر اس کا عکس اپنی کافی میں بنوا سکتا ہے جس کے لئے اسے اضافی اجرت دینا پڑتی ہے۔
اب جانور بھی سیلفی لینے میں پیش پیش پائے جارہے ہیں، سونے پہ سہاگا انسان بھی جانوروں کے خصوصاً خونخوار جانوروں ساتھ سیلفی لینے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ کئی تصاویر آپ کو سوشل میڈیا پر مل جائے گی۔ کچھ عرصہ قبل ملک نامور ٹینس کھلاڑی کی گدھے کے ساتھ لی گئی سیلفی سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہوئی، جسے محترمہ نے خود شیئر کیا تھا۔ اس پر ایک سوشل میڈیا صارف نے تبصرہ بھی کیا تھا کہ "یہ خاص گدھا اپنی شہرت کا سفر شروع کر چکا ہے"۔
اپنی تصاویر بنانا یا سیلفی لینا نئی ایجاد نہیں ہے بلکہ دنیا میں پہلی سیلفی 1839ء میں ایک امریکی شہری روبرٹ کارنیلیئس نے بنائی تھی۔ سیلفی لفظ کو دوبارہ معنی و مفہوم دے کر 2013ء میں آکسفرڈ انگلش ڈکشنری میں متعارف کرایا گیا۔
روزانہ 92 ملین سیلفیز لی جاتی ہیں، جو روزانہ لی جانے والی تمام تصاویر (2.3 بلین) میں سے 4 فیصد بنتی ہیں۔ جولائی 2021ء تک سیلفی سے متعلق حادثات میں 379 افراد ہلاک ہوئے۔ یو ایس نیشنل لائبریری آف میڈیسن کی ایک تحقیق کے مطابق، 2011ء اور 2017ء کے درمیان، 259 اموات اس وقت ہوئیں ان میں سے نصف کا تعلق ہندوستان سے تھا۔
طبی ماہرین، حتٰی کہ سائنسدان بھی سیلفی کو ایک ایسی وباء تسلیم کرنے لگے ہیں، جو خود اعتمادی کے بجائے خود پسندی کے جراثیم تیزی سے بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔ سیلفی کا حد سے زیادہ جنون عوامی مقامات پر انسان کو ایسی حرکتیں کرنے اور خطرات قبول کرنے پر بھی مجبور کر دیتا ہے جس سے انہیں جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بچوں کی ہر دم و ہر لمحات تصویریں لینے کے عادی والدین، اپنے بچوں کو ایسی مضر لت میں مبتلا کرتے ہیں کہ بچہ بڑا ہونے تک خود کی تصویر کشی کا قائل ہو جاتا ہے۔ بچہ بھی بڑا ہوکر ہر وقت اپنی سلیفیاں لینے کے چکر میں اپنا قیمتی مستقبل داؤ پر لگاتا ہے۔ اس طرح کے خبط سے بچے جنونی اور انفرادیت کے قائل ہوجاتے ہیں۔ جب بچے حد سے زیادہ خود پر مرکوز ہوتے ہیں تو وہ خود پر بہت زیادہ تنقید کرتے ہیں اور بہت برا محسوس کرتے ہیں۔ بچوں کو اجتماعیت کے ساتھ مل کر رہنے کی عادت ڈالیں، تصویریں لینی ہی ضروری ہو تو اہل خاندان، دوست و احباب کے ساتھ لیں۔
بستر مرگ پر مریض ہوں، کسی کی وفات کا معاملہ، شادی بیاہ کی رسومات ہوں، سیر و تفریح کے مقامات ہوں، حد تو یہ ہوگئی ہے کہ کوئی انسان حادثہ کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہو وہاں اس کی مدد کرنے کی بجائے سیلفی۔ قبرستان میں تجہیز و تدفین سے سپردِ خاک تک سیلفیوں کے مریض سیلفیاں لیتے ہوئے نظر آئینگے۔ افسوس ہے ایسی ذہنیت پر۔ اگر یہی حال رہا تو بہت جلد معاشرے میں لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کیلئے احساس ختم ہو جائے گا۔ یوں انسانی قدریں جو پہلے ہی کم ہوتی جارہی ہیں، سرے سے ختم ہو جائیں گی۔
طارق اقبال صاحب کی ایک نظم جو سیلفی پر لکھی ہے، پیش خدمت ہے۔
کہیں آؤں یا پھر جاؤں، سیلفی لیتا ہوں
میں جو بھی گُل کھلاؤں، سیلفی لیتا ہوں
حصول ہے جنت کا، ماں باپ کی خدمت
پاؤں ان کے جب دباؤں، سیلفی لیتا ہوں
صفائی میں دانتوں کی، چاہے ہفتے گزار دوں
پیسٹ برش پہ جب لگاؤں، سیلفی لیتا ہوں
بیوی ہو مطمئن میری، پکے ثبوت سے
کھانا جو دوستوں میں کھاؤں، سیلفی لیتا ہوں
سلام لوں یا نہ لوں، عزیز و اقارب سے
مگر فنکشن میں جب بھی جاؤں، سیلفی لیتا ہوں
فکر آخرت کے لئے کرتا ہوں، ٹیگ سبھی دوست
جنازہ جب بھی کوئی اٹھاؤں، سیلفی لیتا ہوں
نوجوانوں میں سیلفی کا شوق جنون کی حد تک پہنچ چکا ہے اور مزید خوفناک صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔ اکثر سننے کو ملتا ہے کہ پہاڑیوں یا دیگر اونچے مقامات پر کھڑے ہوکر سیلفی بنانے کی کوشش میں کوئی اپنے جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ نت نئے طریقے تلاش کئے جاتے ہیں کہ ایسی سیلفی کس طرح لی جائے جو سماجی رابطوں کی سائٹس پر مقبولیت کا ریکارڈ توڑ دے۔
آج سیلفی کا مرض خود نمائی کا ذریعہ لگتا ہے۔ سیلفی کے ذریعے خودنمائی کا یہ خبط اس خطرناک سطح تک جا پہنچا ہے کہ بعض مواقع پر لوگ منفرد یا انوکھی سیلفی لینے کی کوشش میں اپنی قیمتی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ سیلفی لینے والے کا اپنی تصاویر لینے کا جنون انہیں اپنے اردگرد کے جان لیوا ماحول سے غافل کر دیتا ہے، مثلاً تیز رفتار ٹرین سے بےخبر ہوکر پورا دھیان سنسنی خیز و شاندار سیلفی لینے پر مرکوز ہوتی ہے۔ جدید طبی اصطلاح میں سیلفی کے اِس جنون کو "سیلفی سینڈروم" کے نام سے جانا جاتا ہے۔
تحقیق و مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ حد سے زیادہ اور غیر ضروری سیلفیاں لینے والے مندرجہ ذیل نفسیاتی اور جسمانی بیماریوں کے مریض ہوجاتے ہیں۔
سیلفی لینے کا تعلق دماغی عوارض جیسے کہ بزرگی، نرگسیت (narcissism) اور جسمانی ڈِسمافِک ڈِس آرڈر (Body dysmorphic disorder) سے ہے۔ ماہرین کے مطابق زیادہ سیلفی لینے والے ’باڈی ڈِسمافِک ڈِس آرڈر‘ کے ذہنی مرض میں مبتلا شخص کو لگتا ہے کہ اس کے جسم کا کوئی حصّہ نہایت بُرا یا بھدا ہے اور اس حصّے کو تبدیل کرنا یا دنیا سے چھپانا بہت ضروری ہے۔ اس طرح کی ذہنی بیماری میں سوشل میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔
"سیلفی کلائی" (selfie wrist) جو ایک بہترین تصویر لینے کے لیے کلائی کے بار بار اندر کی طرف موڑنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ کارپل ٹنل سنڈروم (CTS) کی ایک شکل ہے۔
نان سیلفی زون:
آپ دنیا کے حسین ترین مقام اور خطرناک مقام پر چلے جائیں، آپ کو لوگ وہاں غیر ضروری سیلفی بناتے دکھائی دیں گے۔ سیلفی کے جنون میں جان گنوانے والوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اب لوگ سیلفی کے مضر اثرات سے بیدار ہو رہے ہیں۔ ممبئی جیسے شہر میں 16 سے زائد "نان سیلفی زون" قائم کئے گئے ہیں۔ ریاست مہاراشٹر کی کئی ضلعی انتظامیہ نے مختلف سیاحتی مقامات پر ہورڈنگز اور بل بورڈز لگائے ہیں، جو وہاں آنے والوں کو سیلفی لینے کے خطرات سے خبردار کرتے ہیں۔
مہاراشٹر اسٹیٹ ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (MTDC) اور ممبئی پولیس نے بیداری کے پروگرام شروع کیے ہیں اور شہر میں نو سیلفی زونز کو نشان زد کیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر مقامات آبی ذخائر اور قلعوں کے قریب ہیں۔ پورے مہاراشٹر میں سیلفی لینے کے لیے 29 سے زیادہ مقامات کو خطرناک مقامات کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔
شاید اسی لئے بعض ممالک میں سیلفی لینے کے دوران بڑھتی شرح اموات پر اکثر پبلک مقامات اور سیاحتی جگہوں کو "نو سیلفی زون" قرار دیا گیا ہے۔ سیلفی سے جڑے حادثات میں اتنی تیزی سے اضافہ ہوا ہے کہ روس میں حکومت ’سیف سیلفی‘ مہم شروع کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔
سیلفی کے نشہ سے تدارک:
اؤل تو یہ ہے کہ اسلام کے احکامات و تعلیمات کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے، تصویر کشی یا تصویر سازی سے اجتناب کیا جائے۔ اگر تصویر کھینچنا ہی مقصود ہو تو حسبِ ضرورت اخلاقی و احتیاطی تدابیر کو ملحوظِ خاطر رکھیں۔ انفرادی تصاویر لینے کی بجائے اجتماعی تصاویر لینے کی کوشش کریں۔
ہمیں اسمارٹ فون کے استعمال کو محدود کرنا چاہیے۔ نوجوانوں میں اسمارٹ فون کے استعمال کی بلند شرح اور مفت انٹرنیٹ تک رسائی کو محدود کیا جانا چاہیے۔
طلباء کو سیلفیز کی وجہ سے ہونے والی موت اور زخمیوں کے سنگین نتائج اور شماریاتی معلومات سے آگاہ کرکے تعلیمی اداروں میں آگاہی پروگرام منعقد کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم ایسے لوگوں کو خاندانی، سماجی اور تعلیمی اداروں کے ذریعے کاؤنسلنگ کرکے معمول کی زندگی میں واپس لا سکتے ہیں۔
غیر ضروری تصاویر لینے سے پرہیز کریں، حسب ضرورت محفوظ سیلفی لینے کے لیے چند نکات کو ملحوظ خاطر رکھیں۔
زیادہ دور تک نہ جھکیں۔ ارد گرد بجلی کی تاروں سے ہوشیار رہیں۔ تیز رفتار گاڑیوں والی جگہوں سے پرہیز کریں۔ چلتے پھرتے، گاڑی چلاتے، چلتے پھرتے سیلفی نہ لیں۔ اونچی عمارت، چھت یا پل پر کسی قسم کے تجربات سے گریز کریں اور کنارے کے بہت قریب جانے سے گریز کریں۔ چڑیا گھر میں سمندری زندگی اور جانوروں سمیت جنگلی حیات کے ساتھ سیلفی نہ نکالیں۔ خونخوار جانوروں کے ساتھ سلیفی لینے سے گریز کرے۔
سیلفی بنانے کے شوق میں مبتلا افراد کو اخلاقی و احتیاطی تدابیر کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
اللّٰہ تعالیٰ! ہمیں دین کا سہی فہم و شعور اور فراست عطاء فرمائے۔ کبر و غرور، ریا کاری، تصنع، اَنا پَرستی و خود پسندی سے ہماری حفاظت فرمائے۔ (آمین)
•┅┄┈•※✤م✿خ✤※┅┄┈•
(04.02.2023)
🍁 مسعود محبوب خان 🍁
Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
○○○○○○○○○
Comments
Post a Comment