چائلڈ پورنو گرافی
•چائلڈ پورنوگرافی: ایک تجزیہ•
┄┅════❁﷽❁════┅┄
══════•❁ا۩۩ا❁•══════
•چائلڈ پورنوگرافی: ایک تجزیہ•
══════•○ ا۩۩ا ○•══════
🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
✿ پورنوگرافی کی ابتداء
✿ پورنوگرافی ایک ناسور
✿ پورنوگرافی کی شرح
✿ معاشرے میں سرایت کرتا ناسور کلچر
✿ معاشرتی مضر اثرات
✿ ذہنی دباؤ کا شکار
✿ ایڈکشن
✿ دماغ و جنسی عادات پر اثرات
✿ معصوم بچپن قبیح فعل کے نرغے میں
✿ بچوں کے جنسی استحصال کا ذریعہ چائلڈ پورنوگرافی
✿ بچوں کا جنسی استحصال اور قانون سازی
✿ متعفن و بدبودار صنف "پیڈو فائلز"
✿ مذہبی پیشوا اور پیڈو فائلز
✿ ملکی معاشرہ پر غلیظ و قبیح فعل کے سائے
✿ گیمز کی ورچوئل دنیا اور بچوں کا شکار
✿ اسلامی احکامات و نقطۂ نظر
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
آپ سوچ رہے ہوں گے اس غیر مہذب عنوان پر تحریر قلم بند کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ مجھے بھی پہلے یہی محسوس ہوا کہ آخر اس عنوان پر کیوں لکھا جائے۔ مگر معاشرے پر اس متعفن زدہ ناسور کلچر نے بحرانی کیفیت پیدا کردی ہے۔ یہ بات یاد رہنا چاہیے کہ غلاظت کا انبار جب گھر کے باہر موجود ہو تو اسے فوراً ٹھکانے لگانے کی ضرورت ہوتی ہے، ورنہ شاید وہ غلاظت گھر میں تو داخل نہیں ہوگی، مگر اس کی گندی اور متعفن بدبو دار ہوا گھر کو بھی نہیں بخشے گی۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ معاشرہ اپنی نچلی ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے کو سدھارنے کے لئے ٹھوس اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے۔
آج سے کچھ سالوں پہلے پورنوگرافی کی صنعت انسدادِ ثقافت counter culture کا حصّہ ہونے کے نتیجے میں عام توجہ کا مرکز بن سکی۔ کیونکہ اس کی مخالفت زیادہ تر قدامت پسند و مذہب پسند طبقہ شدت سے کرتا رہا ہے۔ اور آج بھی دنیا کی آبادی کا بہت بڑا حصّہ اس قبیح و حرام عمل کی مخالفت کرتا ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ اسی عریاں و فحش کلچر نے طوائفوں و فحاشاؤں کے بے ہودہ ویڈیوز بناکر سماج میں پھیلایا، جسے آج کی دنیا "پورن ویڈیوز" کہتی ہے۔ دنیا میں پورن ویڈیوز اور چائلڈ پورنوگرافی کی وجہ سے ریپ کی شرح بڑھ رہی ہے۔
✿ پورنوگرافی کی ابتداء:
پورنوگرافی لفظ کی جڑیں، یونانی پورنوگرافی لفظوں سے جا ملتی ہیں۔ جس کے معنی طوائفوں کے بارے میں لکھنے کے ہیں۔ پورنوگرافی، جسے عربی میں کہا جائے گا "المواد الإباحية" اور اردو میں ترجمہ ہوگا "عریاں فحش نگاری"۔ اردو میں اسے ایک ایسی فحش و عریاں جنسی سرگرمی سے تعبیر کیا جائے گا، جو نقش شدہ، پرنٹ شدہ یا متحرک تصاویر اور ویڈیوز کی شکلوں میں دستیاب ہو۔ لفظ "Pornagraphie" پہلی بار فرانسیسی زبان میں 19؍ویں صدی کے اوائل میں استعمال ہوا۔ پورنوگرافی کے متعلق اکثریت کی یہی رائے ہے کہ اس غلیظ و قبیح عمل کا آغاز 1839ء میں کیمرے کی ایجاد کے ساتھ ہوا۔ لیکن اگر تاریخ کا مُطالَعہ باریک بینی کے ساتھ کریں تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ پورنوگرافی کا وجود پتھر کے زمانے (stone age) سے ہی نظر آتا ہے۔ پراچین کال یا پراچین سبھیتا میں آپ کو اس کے نمایاں طور پر اثرات ملیں گے۔
پتھر کے زمانے سے انسان اپنے جنسی عمل کو کسی نہ کسی طریقے سے ریکارڈ کرتا آیا ہے۔ غاروں کی دیواروں پر تصویر کشی کے ساتھ وجود میں آنے والی پورنوگرافی وقت کے ساتھ اظہار کے نئے نئے طریقے اپناتی گئی۔ جنسی اعضاء کی عبادت، غاروں کی دیواروں اور عبادت گاہوں کی در و دیوار پر نقش نگاری یہ تمام حرکات و سکنات کے ذریعے جنسی عمل کی نمائندگی، ایک غیر مہذب معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔ ہمارے ملک میں کھجوراہوں، ایلورا و اجنتا وغیرہ کی غاروں کا معائنہ کریں، جہاں سنگتراشی کے ذریعے عریاں اور فحش نازیبا کلچر کو کیسے فروغ دیا گیا ہے۔ گویا پورنوگرافی کسی نا کسی شکل میں انسانی غیر مہذب تہذیب و تمدن کا حصّہ رہی ہے۔
✿ پورنوگرافی کی شرح:
پورنوگرافی کی شرح کا جائزہ لیں تو یہ صنعت حیران کن اور خطرناک ترین ناسور بن کر معاشرے کو تباہ کررہی ہے۔ 20؍ سال پہلے، آن لائن تصاویر اور فحش مواد ایک مسئلہ تھا، 10؍ سال کے بعد ایک وباء کی شکل اختیار کرگیا۔ اب یہ مسئلہ، وباء کی شکل کے بعد عالمی معاشرتی بحران کی شکل میں، ایک اہم موڑ پر ہے۔ آج اس لعنت کو لگام لگانا مہذب معاشرے کی اہم ترین ذمّہ داری بن گئی ہے۔ پچھلے سال، ٹیک کمپنیوں نے 45؍ ملین سے زیادہ آن لائن تصاویر و ویڈیوز اور بچوں کی جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کی اطلاع دی تھی۔
فحش جنسی مواد کی تجارت تو اب ایک بہت بڑی منڈی بلکہ ایک پوری کاروباری صنعت بن چکی ہے۔ یہ صنعت اس وقت 100؍ بلین ڈالر سے زائد کا کاروبار کرنے والی سب سے بڑی انڈسٹری بن گئی ہے۔ سوشل نیٹ ورکس یا آن لائن نیٹ ورکس کے تمام پلیٹ فارمز کی سرچ انجن کا کل 5؍واں حصّہ ہے۔ مجموعی طور پر ٹاپ 3؍ پورن سائٹس پر ہر منٹ تقریباً 2.4؍ ملین لوگ ہوتے ہیں۔ سرچ انجنز کو روزانہ تقریباً 68؍ ملین درخواستیں فحش سائٹس تک رسائی کی موصول ہوتی ہیں۔ ان میں سے 25؍ فیصد لفظ "پورنوگرافی" سرچ کرتے ہیں۔ فحش عنوانات میں استعمال ہونے والا سب سے عام اور سر فہرست لفظ "ٹین" (Teen) ہوتا ہے۔ کم از کم پچھلے 6؍ سالوں سے سرچ انجن پر سب سے زیادہ تلاش کی جانے والی اصطلاحات کے طور پر "نوعمر"، "ماں"، "سوتیلی ماں"، "بہن" اور "سوتیلی بہن" سب سے اوپر ہے۔ مقدس رشتوں کی پامالی اور اخلاقی گراوٹ اور دِیوالا پَن کی انتہاء ہے۔
صرف 2019ء میں پورن ہب پر تقریباً 6؍ ارب گھنٹے سے زیادہ فحش مواد دیکھے گئے۔ یہ صرف ایک فحش سائٹ پر 1؍ سال میں استعمال ہونے والے تقریباً 665؍ صدیوں کے مواد کے برابر ہے۔
پورنوگرافی کا زیادہ تر مواد مشرقی یورپ میں فلمایا جاتا ہے اور برطانیہ میں ویب پر ڈالا جاتا ہے، جب کہ ویب سائٹس روس کی ہوتی ہیں اور اس کا ہوسٹ آسٹریا، امریکا یا روس کا کوئی سرور ہوتا ہے۔
ریاستہائے متحدہ امریکہ یقیناً فحش مواد سے منسلک سب سے بڑا ملک ہے۔ سب سے زیادہ فحش دیکھنے والے ممالک میں امریکہ سر فہرست ہے۔ امریکہ دنیا میں سب سے بڑی پورن انڈسٹری کا کاروبار کرتا ہے۔ 2019ء کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ہر روز 37؍ پورنو ویڈیوز بنائی جاتی ہیں، جب کہ فحش مواد والی 2.5؍ بلین ای میلز کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ تقریباً 40؍ ملین امریکی فحش سائٹس کو باقاعدگی سے دیکھتے ہیں۔ یہاں کا پورن کلچر دوسرے بَرِّاَعْظَموں کے مقابلے میں بہت زیادہ ترقی یافتہ ہے۔
2018ء میں، نسل انسانی نے مجموعی طور سے پورن سائٹس پر 33.5؍ بلین وزٹ کیے، جس میں سائٹ پر روزانہ اوسطاً 92؍ ملین وزٹ کیے گئے اور 4,791,799؍ فحش ویڈیوز اپ لوڈ کیے گئے۔ امریکہ دنیا میں پورن کا سب سے بڑا صارف رہا ہے، امریکیوں نے فی وزٹ سائٹ پر اوسطاً 10؍ منٹ اور 37؍ سیکنڈ خرچ کیے۔
مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر نوجوان 13؍ سال کی عمر میں فحش نگاری کا شکار ہو جاتے ہیں اور امریکی نوجوانوں کے قومی سطح پر نمائندہ سروے کے مطابق، 14-18 سال کے مردوں میں سے 84.4% اور 14-18 سال کی خواتین میں سے 57% نے فحش مواد دیکھا ہے۔ اور بالغوں کے لیے، ایک اندازے کے مطابق 91.5% مرد اور 60.2% خواتین نے رپورٹ کیا ہے کہ انھوں نے پچھلے مہینے فحش استعمال کیا ہے۔
پوری دنیا میں فحش مواد دیکھنے میں جو 10؍ ممالک سر فہرست ہیں، ان میں یونائیٹڈ کنگڈم (انگلینڈ) دوسرے نمبر پر اور ہندوستان کا تیسرا نمبر آتا ہے۔ اس کے بعد جاپان، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، آسٹریلیا اور فلپائن کا نمبر آتا ہے۔ لیکن یہاں بھی مجھے اسلاموفوبیا ہی نظر آیا۔
یہ حقائق ہونے کے باوجود اسلاموفوبیا کے شکار گوگل سرچ پر یہ بے بنیاد پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ دنیا کے سر فہرست 10/ ممالک میں سے 6 مسلم ممالک ہیں۔ جو کہ بڑا صاف جھوٹ ہے۔ حقائق کو اگر تحقیقی نگاہ سے دیکھا جائے تو اس جھوٹ کا پول کھل جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے اور زمانہ برق رفتاری سے عروج و ارتقاء کے مراحل طے کرتا نظر آتا ہے۔ نئی نئی ایجادات جہاں والوں کو محو حیرت میں ڈالتی نظر آرہی ہیں۔ مغربی تہذیب و تمدّن اہل جہاں کو اپنی جانب مائل کرنے میں کوشاں ہیں، عالم اسلام کو بدنام کرنے کی مسلسل کوششیں و سازشیں کی جارہی ہیں۔ ایسے ماحول میں اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنے مطالعے میں وسعت پیدا کریں۔
اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی ہوس کے پجاریوں کی آگ نہیں بجھ رہی ہے، ہوس کے ان پجاریوں نے اب تعلیم گاہوں میں بھی اس بے ہودگی کے کورسیز چلانے کا اعلان کیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق "ویسٹ منسٹر” نامی امریکی یونیورسٹی نے باضابطہ پورن کورس چلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب استاذ و شاگرد دونوں ساتھ میں یہ گندے ویڈیوز دیکھیں گے۔
➖➖➖➖➖➖➖
✿ معاشرے میں سرایت کرتا ناسور کلچر:
پورنوگرافی کی صنعت کی وسعت کا ٹیکنالوجی اور میڈیا کے ارتقاء سے گہرا تعلق ہے۔ انٹرنیٹ سے پہلے کے دور میں دنیا کے بیشتر حصّوں میں سب سے زیادہ وسیع پیمانے پر دستیاب جنسی مواد عریاں میگزین (زیادہ تر خواتین کے) اور ویڈیو اسٹورز سے کرائے پر لیے گئے VHS ٹیپس پر مشتمل ہوتے تھے، دونوں ہی میں 18؍ سال سے کم عمر افراد کے لیے کچھ پابندیاں تھیں۔
وہ دن گئے جب لوگ فحش و عریاں میگزینز کو چھپا کر رکھتے تھے۔ اب ہم ایک ایسے معاشرے میں ہیں جہاں فحاشیت و عریانیت، ثقافتی منظر نامے کا حصّہ بنا دیا گیا ہے۔ گھر گھر فائبر آپٹکس ویب براؤزرز، براڈ بینڈ سروسز اور سمارٹ فونز کے کلچر کے رائج ہونے کی وجہ سے پورنوگرافی کا گھناؤنا مرض بہت تیزی سے انسانی معاشرے میں سرایت کر گیا۔ علاؤہ ازیں اس ٹیکنالوجی نے اس گھٹیا مواد تک رسائی کو بھی آسان بنا دیا۔
✿ ذہنی دباؤ کا شکار:
پورنوگرافی دماغ کے اہم نیورو ٹرانسمیٹر کو متاثر کرتی ہے۔ اس کا استعمال کرنے والے بالغ و نابالغ ہمیشہ بے چینی و اضطرابی کیفیت میں نظر آئیں گے۔ کم عمری میں پورن سائٹس یا ویڈیوز دیکھنے سے ذہنی صلاحیت تباہ و برباد ہو جاتی ہے، خوفناک خوابوں کی بھرمار، سکون کی نیند کو غارت کر دیتے ہیں۔
دراصل اعصابی ڈائنیمکس ہر کسی میں وقوع پذیر ہوتی ہیں، لیکن کم عمر افراد پر اس کا اثر مختلف ہوتا ہے، کیونکہ انسانی دماغ 5؍ سال میں تشکیل کے مراحل سے گذر کر 25؍ سال کی عمر تک تیار ہوجاتا ہے۔ اگر اس دماغ کو پورنوگرافی کی لت لگ جائے تو اسے اس لت سے چھٹکارا حاصل کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ ڈیپریشن کے گھٹاتوپ بادل اس کے دماغ کو متاثر کرتے ہیں، اور آخر کار وہ خودکشی جیسا عمل کر بیٹھتا ہے۔
طبی تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ پورن مواد دیکھنے سے ٹیسٹوسٹیرون، ڈوپامائن اور آکسیٹوکسن ہارمونز کے ریگولیشن اور رطوبت کا قدرتی نمونہ بگڑ جاتا ہے اور غیر متناسب طور پر بڑھ جاتا ہے۔ اہم ہارمون آکسیٹوکسن کا باقاعدہ اخراج، جو لوگوں میں خود اعتمادی کے ساتھ ساتھ دوسروں پر اعتماد کا احساس پیدا کرتا ہے، لوگوں میں فحش مواد کے نقصاندہ استعمال سے جلد متاثر ہو سکتا ہے۔ جو لوگ فحش ذرائع کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں وہ وقت کے ساتھ غلط خود اعتمادی کے متضاد احساسات کا تجربہ کرتے ہیں اور پھر اس کے ساتھ انسانوں میں خود اعتمادی میں نمایاں کمی بھی واقع ہوتی ہے۔
فحش مواد کے عادی مردوں کی کثرتِ تعداد، خواتین اور بچوں کو جنسی تسکین کا سامان ہی سمجھتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کے نزدیک مقدس و پاکیزہ رشتوں کی اہمیت ختم ہو جاتی ہیں۔ ان کے جنسی جذبات، صبر، یادداشت اور توجہ وغیرہ میں کمزوری واقع ہو جاتی ہے اور اس کے ساتھ زنا، طلاق، تشدد اور خودکشی کے واقعات میں اضافے کا خدشہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔
✿ ایڈکشن:
پورن ایڈیکشن کو سمجھنے سے پہلے ایڈیکشن (Addiction) کو سمجھنا ضروری ہے کسی بھی چیز کی اس حد تک عادت پڑ جانا جس کی وجہ سے عام زندگی تتر بتر ہو جائے ایڈیکشن کے زمرے میں ہی آتا ہے۔
ایڈکشن یا کسی لت میں مبتلا ہونے کی دو اقسام ہیں پہلی قسم کیمیائی ہے جس میں ادویات اور شراب وغیرہ جب کہ دوسری قسم رؤیہ کی ہے جس میں فحش مواد دیکھنا اور جوا وغیرہ شامل ہیں۔
ماہرینِ نفسیات ڈیجیٹل آلات کے بے دریغ غلط استعمال کے متعلق اپنی رائے رکھتے ہیں کہ ’کسی بھی ڈرگ کی نشہ آور خصوصیات کو اس کی زیادہ مقدار، زیادہ رسائی، زیادہ طاقت اور زیادہ جدیدیت کے ساتھ بڑھایا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ اور پورٹیبل ڈیجیٹل ڈیوائسز ان تمام ڈومینز کو فروغ دیتی ہیں جس کی وجہ سے آج پورنوگرافی ماضی کے مقابلے کی پورنوگرافی سے زیادہ وافر مقدار میں، زیادہ قابل رسائی، زیادہ طاقتور اور جدید ہے اور اسی لیے وہ زیادہ نشہ آور ہے'۔
تحقیق کے مطابق بہت زیادہ پورن دیکھنے کے اثرات ویسے ہی ہوتے ہیں جو کسی نشہ آور چیز کے استعمال سے ہوتے ہیں۔ ایڈیکشن کے شکار لوگ ریپ سے لیکر قتل تک کر دیتے ہیں کبھی کبھی اتنے پریشان ہو جاتے ہیں وہ خود کو ختم بھی کر لیتے ہیں۔ جن گھروں میں بیوی اور بچوں کو معلوم ہو جاتا ہے کہ والد پورنوگرافی دیکھتا ہے، ان میں دس سے 15؍ فیصد یقیناً ایسے خاندان ہوتے ہیں جہاں میاں بیوی کے تعلقات متاثر ہو جاتے ہیں یا وہ خاندان ٹھیک سے اکھٹے رہنے کے قابل نہیں رہتا'۔
ریوینج پورن:
ریوینج پورن کی تشریح کے مطابق وہ عریاں تصاویر یا ویڈیوز جو پارٹنرز یا دوستوں نے اپنی رضامندی سے بنوائیں لیکن بعد میں کسی ایک کی مرضی یا معلومات کے بغیر شیئر کردی گئیں۔ دوسرے لفظوں میں جب دو فریقین میں بریک اپ ہوجائے یا شادی نہیں ہو پاتی یا دوستی نہ ہوسکے تو پھر وہ انتقام لیتے ہیں۔ اس طرح کی انتقامی کارروائی کے نتیجے میں مدمقابل کی تصاویر یا ویڈیوز اپ لوڈ کرکے وائرل کردی جاتی ہے، جسے "ریوینج پورن" کہا جاتا ہے۔ حالانکہ جب بریک اپ ہو جاتا ہے تو رضامندی وہیں ختم ہو جاتی ہے اس کے بعد اگر کوئی یہ پھیلاتا ہے تو پھر وہ ایک اور بڑا جرم ہے۔
اس کے علاؤہ اگر فوٹو شاپ تصاویر جس میں شکل ایک کی اور جسم کسی اور کا لگا دیں اور فیس بک یا کہیں اور اپ لوڈ کردیں تو یہ بھی انتقامی کارروائی کا ایک حصّہ ہے۔
ڈوپامائن:
چائلڈ پورنوگرافی میں مبتلا انسان نفسیاتی مریض بن جاتا ہے۔ اس شخص کا ڈوپامائن لیول بڑھ جاتا ہے جس کے بعد وہ جو سوچتا ہے جب تک اسے انجام تک نہ پہنچائے چین نہیں پاتا، اور افسوس کہ کچھ معاشرتی برائی کی وجہ سے ایسا شخص جنسی سکون کو پانے کی طرف زیادہ راغب ہوتا ہے۔ چونکہ وہ نفسیاتی مریض ہوتا ہے اور جسمانی طور پر کمزور ہو جاتا ہے تو اپنے لئے کوئی آسان ٹارگٹ چنتا ہے، جو کہ عام طور پر کم عمر بچے ہوتے ہیں۔
آخر حضرت انسان کا اس ناسور کے عادی ہونے کی وجوہات کیا ہیں۔ طبی نکتۂ نظر سے جائزہ لیں تو اس کی مجموعی وجہ، ڈوپامائن (دماغ میں پایا جانے والا مرکب جو اعصابی ترسیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے) کا متحرک رہنا۔ اکثر اوقات یہ فحش مواد ڈوپامائن کو اس حد تک متحرک کر دیتا ہے کہ اس سے احساس ہونے لگتا ہے کہ اس سے زیادہ نفسانی خوشی اور مزہ تو کہیں اور مل ہی نہیں سکتا۔
اس کے علاوۂ، فحش مواد کا استعمال کرتے وقت ڈوپامائن کا بہت زیادہ اخراج دماغ کے سامنے والے علاقوں میں فعال کمی کا سبب بنتا ہے۔ یہ مسئلہ رضاکارانہ فیصلہ سازی کی طاقت کو کم کرنے اور انسانی رویے پر قابو پانے میں براہ راست تعلق رکھتا ہے۔ ڈوپامائن انسانی خوشی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب لوگ فحش مواد کے کثرت سے استعمال کی طرف رجوع کرتے ہیں تو دماغ میں ڈوپامائن کی رطوبت کی مقدار بھی بڑھ جاتی ہے اور یہ مسئلہ ڈوپامائن بنانے والے خلیات میں کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ خلیات کے کام کرنے میں اس کمزوری کے نتیجے میں ڈوپامائن کا اخراج بتدریج کم ہو جاتا ہے اور خوشی کا تجربہ کم ہو جاتا ہے۔
’پورن دیکھنا والا ہمیشہ اپنا دفاع یہ کہہ کر کرتا ہے کہ اُس کی اس عادت سے کسی کو نقصان نہیں پہنچتا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں ہر کوئی متاثر ہوتا ہے، خاص طور پر اس کے گھر کے افراد ضرور متاثر ہوتے ہیں اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ معاشرہ بھی متاثر ہوتا ہے۔
متواتر پورن دیکھنے سے اس کی لت لگ جاتی ہے جو کہ اپنے آپ میں اخلاقی پسماندگی کی نشانی ہے۔ اس بدترین عادت سے جسمانی، ذہنی اور سماجی صحت پر بہت برا اثر دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ فقط کہی سنی بات نہیں ہے بلکہ سائنسدانوں نے یہ ثابت کیا ہے کے انسانی نسلی تسلسل Reproductive system میں بیماری پیدا ہو جاتی ہے یعنی صحت میں دیمک لگ جاتی ہیں۔
پورنوگرافی مافیا اور غلط قسم کے لوگ بچوں کو بہلا پھسلا کر نہ صرف چائلڈ پورنوگرافی اور غلط تصاویر لیتے ہیں، بلکہ بچوں سے ذاتی زندگی کی تفصیلات بھی جمع کرلیتے ہیں۔ چائلڈ پورنوگرافی کا شمار بھی سب سے گھناؤنے جرم میں ہونا چاہیے۔ اس گھناؤنے جرم کی سزا سخت سے سخت ہونی چاہیے۔ کیونکہ اس طرح کے جرم کا ارتکاب کرنے والے معصوم بچوں کی زندگی کو داؤ پر لگانے کے ساتھ ہمارے معاشرے کے مستقبل کو بھی تباہ و برباد کرتے ہیں۔
➖➖➖➖➖➖➖
✿ بچوں کے جنسی استحصال کا ذریعہ چائلڈ پورنوگرافی:
کسی بھی قسم کی جنسی زیادتی کے حوالے سے بچے مجرموں کا ایک آسان شکار ہوتے ہیں۔ بچوں کے جنسی استحصال کے نتیجے میں تیار کردہ مجرمانہ جنسی مواد، جسے "چائلڈ پورنوگرافی" کہتے ہیں، زیادہ تر ’ڈارک نیٹ‘ پر دستیاب ہوتا ہے، جس کی مانگ اس فحش و عریاں انڈسٹری میں بہت زیادہ ہے۔ اس طرح کے مواد میں تصویریں بھی ہوتی ہیں اور ویڈیوز بھی۔ عالمی سطح پر یہ کتنا بڑا مسئلہ ہے، اس کا ثبوت یہ ہے کہ سائبر کرائمز کے ماہرین کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں بچوں سے متعلق جنسی مواد کی تشہیر اور تقسیم کا کام کرنے والی 80؍ ہزار غیر قانونی چائلڈ پورنوگرافک ویب سائٹس موجود ہیں۔
چائلڈ پورنوگرافی بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کی بڑی وجہ ہے۔ چائلڈ پورنوگرافی معاشرے کا بڑا ناسور اور تباہی کا باعث بنتی جا رہی ہے۔ بچوں کے مستقبل اور اخلاقیات کے لیے چائلڈ پورنوگرافی سنگین خطرہ ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ چائلڈ پورنوگرافی بین الاقوامی، قومی اور مقامی سطحوں پر ایک اہم اور مجبور مسئلہ ہے۔
بچوں کی نازيبہ تصاوير و ويڈيوز بنانا، انہيں ديگر افراد کے ساتھ بانٹنا، ديکھنا اور محفوظ کرنا کتنی غیر اخلاقی، کمینگی اور گھناؤنی حرکت کا ثبوت ہے۔ حالانکہ یہ گھناؤنا جرم دنيا کے بيشتر ممالک ميں سنگين جرائم کی فہرست ميں شامل ہے۔ مگر سزائیں سخت نہ ہونے کی وجہ سے اس کی صنعت و تجارت میں آئے دن اضافہ ہی ہورہا ہے۔
چائلڈ پورنوگرافی بچوں کے فحش مواد کو الیکٹرانک شکل میں تصاویر و ویڈیوز کے ذریعے منتقل کرنا، اسے شائع کرنا اور اس کی تشہیر و ترسیل کرنا ہے۔ حالیہ برسوں میں انٹرنیٹ کی آسان رسائی اور انٹرنیٹ پر آسانی سے دستیاب ویڈیوز کی وجہ سے چائلڈ پورنوگرافی میں اضافہ ہوا ہے۔
✿ بچوں کا جنسی استحصال اور قانون سازی:
بچوں سے بدتمیزی کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد اب اپنے چائلڈ پورنوگرافی کے مجموعوں کو منظم کرنے، برقرار رکھنے اور ان کے ڈیٹا سائز کو بڑھانے کے لیے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہی ہے۔ بچوں کی ذاتی طور پر تیار کردہ غیر قانونی تصاویر و ویڈیوز انٹرنیٹ پر خاص طور پر قیمتی ہیں، اور اکثر اوقات بدکاری کرنے والے انسان نما درندے ان کے جنسی استحصال کی تصاویر کی تجارت کرتے ہیں۔ جب یہ تصاویر سائبر اسپیس تک پہنچتی ہیں، تو وہ ناقابل واپسی ہوتی ہیں اور ہمیشہ کے لیے وائرل ہوچکی ہوتی ہیں۔ اس طرح تصاویر کو بار بار دیکھا کر ان مظلوم معصوم بچوں کو اس فحش و عریاں جنسی دنیا میں بار بار زندہ کیا جاتا ہے! اور بار بار قتل کیا جاتا ہے!! یہ ان بچوں کا جنسی و اخلاقی قتل ہوتا ہے!!! جو سخت سے سخت سزا کسی قاتل کو سنائی جاتی ہے وہی سزا اور اس بھی سخت سزا ان زنا کا کاروبار کرنے والوں کو بھی سنائی جانی چاہیے!!!!
چائلڈ پورنوگرافی سب سے گھناؤنا جرم ہے جو آج بھی بےخوف و خطر دھڑلے کے ساتھ دوسرے بڑے جرائم جیسے جنسی سیاحت، بچوں کے ساتھ جبرا جنسی زیادتی وغیرہ کے ساتھ جاری ہے۔ اگرچہ بہت ساری قوموں میں انسداد چائلڈ پورنوگرافی کے کافی قوانین موجود ہیں، لیکن ان کا نفاذ کمزور ہے۔ قانون بنانا مگر اس کو نافذ نہ کرنا یہ مہذب معاشرے کو زیب نہیں دیتا۔ پورنوگرافی کی ترسیل کو روکنے کے لیے سخت سے سخت قوانین اور ذرائع کا استعمال کرنا پڑے گا۔ خاص طور پر چائلڈ پورنوگرافی جس میں بچوں کو جنسی زیادتی، جنسی ہراساں کرنے، فحش نگاری کے جرائم سے بچانے کے لئے سخت قوانین کی ضرورت کے ساتھ تجزیہ مراکز کا قیام بھی بہت ضروری ہے۔ انسان کو پورنوگرافی جیسے غلیظ و قبیح فعل کو دیکھنے کی طرف مائل کرنے والے اعمال کا تدارک بھی کیا جائے۔
چائلڈ پورنوگرافی معاشرے کا بڑا ناسور اور تباہی کا باعث بنتی جارہی ہے، اس بڑھتے ہوئے خطرے کو آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہوگا۔
جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ کا ایکٹ، 2012ء اس مقصد کے ساتھ نافذ کیا گیا تھا، تاکہ بچایا جا سکے اور ایسے جرائم اور اس سے منسلک یا واقعاتی معاملات کی سماعت کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام کی سہولت فراہم کی جائے۔ اب بھی اس قانون میں ایسی کمزوریاں موجود ہیں جن سے جرم کرنے والے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تیزی سے تبدیل ہوتی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ سائبر کرائم پر قانون سازی کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
بین الاقوامی سطح پر چائلڈ پورنوگرافی کے جو گروہ کام کررہے ہیں، ان کے رکن ہر ممالک میں موجود ہیں اور اپنی سرگرمیوں کو اہل اقتدار کے تعاون کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
آئی وی ایف مجموعی طور پر پوری دنیا میں انٹرنیٹ سے بچوں کے جنسی استحصال کے مواد کے ہزاروں واقعات کو ٹریک کرتا ہے، ان کی تحقیقات کرتا ہے اور اسے وہاں سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔
➖➖➖➖➖➖➖
✿ متعفن و بدبودار صنف "پیڈو فائلز":
مغرب کی آوارہ تہذبیں وہاں کی فحاشیت و عریانیت کو ایک عمدہ شکل میں پیش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ جہاں پیڈو فائلز لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔ چائیلڈ پورنوگرافی کو فروغ دینے کے لئے پیڈو فائلز جیسی غلیظ اور بدبودار صنف کا رول ہر جگہ کار فرما ہے۔ ’پیڈو فائل‘ ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو نابالغ بچوں سے جنسی رغبت رکھتا ہو۔ اس لفظ کے دو حصّے ہیں: پیڈو کا مطلب بچہ اور فیلیا کا مطلب رجحان یا رغبت۔ ایسے لوگ اپنی جنسی ہوس کی تسکین کے لیے ایک ہی (مخصوص) عمر کے بچوں اور بچیوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ ڈکشنری میں پیڈو فیلیا کا مطلب لکھا ہے: ایک ایسی ذہنی بیماری جس میں بالغ افراد کو بچوں کے ساتھ جنسی فعل سر انجام دینے کی جانب رغبت ہوتی ہے۔
ایسے افراد جنسی طور پر غیر فعال ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ آسان ٹارگٹ ڈھونڈتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی تکلیف دہ عمل ہوتا ہے اور پیڈو فائلز عموماً بچوں کی تکلیف سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ان ذہنی عیاشی کے مریضوں نے دنیا بھر میں یہ مرض عام کردیا ہے۔ ایسے کمینوں کو تکلیف دہ سزا دینی چاہیے جو بچوں کی تکلیف سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
ماہرِ نفسیات کے مطابق 'پیڈو فائلز اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ پاتے'۔ پیڈو فائلز زیادہ تر اپنے اردگرد موجود بچوں کو ہی اپنا نشانہ بناتے ہیں چاہے وہ ان کے چھوٹے بہن بھائی یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ سب عوامل اس بات کا ثبوت ہیں کہ پیڈو فائلز صنف کے ذریعے چائلڈ پورنوگرافی ایک ذہنی خلفشار کا باعث بن رہا اور رشتوں کے تقدس کو بہر حال پامال کر رہا ہے۔ ایسی غلاظت کو معاشرے سے جلد از جلد پاک کرنا ہوگا، ورنہ یہ بوبودار فضاء کہیں ہمارے صاف و پاکیزہ معاشرے کو تباہ نہ کردے۔ ایسے لوگ مہذب معاشرے کے چہرے پر ایک بدنماداغ ہے۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ایڈز کے بعد یہ دوسری بڑی بیماری ہے جس میں دنیا کے قریب تیس سے چالیس فیصد لوگ مبتلا ہو چکے ہیں۔ امریکہ میں ایک سروے کیا گیا جس میں حصّہ لینے والے لگ بھگ پینسٹھ فیصد مرد و خواتین نے بتایا کہ وہ بچپن میں جنسی زیادتی کا شکار ہو چکے ہیں۔
پیڈو فیلیا ایک ذہنی مرض ہے، اس کے ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں، لیکن سب سے اہم جو گردانی جاتی ہیں وہ جینیاتی اور انفیکشیئس ہیں۔ جینیاتی پیڈو فیلیا نسل در نسل انسانوں میں منتقل ہوتا ہے جب کہ جدید تحقیق کے مطابق یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ٹاکسو پلازما نامی ایک جرثومے کی وجہ سے بھی یہ علت وقوع پذیر ہوتی ہے۔
✿ مذہبی پیشوائیت میں پیڈوفائل:
رومن کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس اول نے 9؍ سال پہلے کہا تھا کہ باوثوق ذرائع سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ کیتھولک فرقے کے ’دو فیصد پادری‘ پیڈو فائلز یعنی نابالغ بچوں سے جنسی تعلق رکھنے کی حمایت میں ہے۔ بچوں کی طرف راغب ہونے کی شرح ان کے مشیروں نے بتائی ہے۔ (جولائی؍ 2014ء)
ويٹيکن سٹی کا سفارت کار کارلو ايلبرٹو کپيلا کو وسيع پيمانے پر بچوں کا فحش مواد چائلڈ پورنوگرافی رکھنے کی سبب گرفتار بھی کیا گیا تھا۔
پاپائے روم نے فرانسیسی کیتھولک چرچ میں پادریوں کے ہاتھوں بچوں کے بہت وسیع پیمانے پر جنسی استحصال سے متعلق تازہ ترین انکشافات پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔ ان انکشافات نے دراصل رومن کیتھولک چرچ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ رپورٹ میں صرف فرانسیسی پادریوں کی طرف سے گزشتہ 70؍ برسوں کے دوران 3؍ لاکھ 30؍ ہزار سے زائد نابالغ بچوں کے جنسی استحصال کی تفصیلات شائع کی گئی ہیں۔ اس حساس معاملے میں ''چرچ نے منظم جنسی استحصال کے شکار بچوں کو تحفظ دینے کے بجائے خود اپنا دفاع کیا"۔
ایک رپورٹ کے مطابق جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں میں زیادہ تر لڑکے تھے، جن میں سے اکثر کی عمریں 10؍ تا 13؍ برس تھیں۔ فرنچ کیتھولک چرچ میں مبینہ طور پر 2900؍ سے لے کر 3200؍ تک ایسے پادری گزرے ہیں، جو نابالغ بچوں سے جنسی رغبت رکھنے والے یا پیڈو فائلز تھے۔ (اکتوبر؍ 2021ء)
8؍ نومبر 2022ء کی ایک رپورٹ کے مطابق فرانس کے 11؍ بشپس پر جنسی زیادتی کرنے کا سنگین الزام ثابت ہوا تھا۔ کارڈینل ژاں پیئر ریکار بھی ان لوگوں میں شامل ہیں، جنہوں نےجنسی زیادتی کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
آئی سی پی ایف کے مطابق گھروں تک محدود انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچوں کے لیے ایسے منفی رجحانات رکھنے والے افراد کی موجودگی بڑا خطرہ ہے، لاکھوں پیڈو فیلز کی آن لائن موجودگی کی وجہ سے انٹرنیٹ بچوں کے لئے انتہائی غیر محفوظ ہوگیا ہے۔
کلیسائی اہلکاروں کی طرف سے جنسی استحصال کے ان واقعات میں نصف متاثرین کی عمریں 15؍ برس سے کم تھیں۔ ان میں سے تقریباً نصف تعداد لڑکوں کی تھی جب کہ متاثرین کا دوسرا نصف حصّہ لڑکیوں پر مشتمل تھا۔ ایڈم ذاک نے مزید بتایا کہ چند واقعات میں تو ایسے جرائم کے مرتکب چرچ اہلکار متاثرہ بچوں کا ایک عشرے سے بھی زیادہ عرصے تک جنسی استحصال کرتے رہے۔ کئی سخت گیر پادریوں کے خلاف چائلڈ پورنوگرافی کے معاملات بھی درج ہوئے ہیں۔
فرانس کی جیل میں قید کاٹنے والے ایک پیڈو فائل سرجن سے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ اس نے 250 سے زائد بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
یہ حقائق تو صرف ایک ملک کے ہیں، پولینڈ، جرمنی و دیگر ممالک کے کلیساؤں کا جائزہ لیں تو صورتحال اس سے زیادہ تشویشناک نظر آتی ہیں۔
✿ ملکی معاشرہ پر غلیظ و قبیح فعل کے سائے:
ابھی حال میں ہی 23؍دسمبر 2022ء کو قومی راجدھانی دہلی میں چائلڈ پورنوگرافی اور پیڈو فیلیا نیٹورک کے خلاف آپریشن معصوم (MASOOM- Mitigation of Adolescent Sexually Offensive Online Material) کے ذریعے چھاپے مارے گئے، پولیس نے چائلڈ پورنوگرافی سے متعلق 105؍ کیس درج کیے اور 36؍ ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ ملزم بچوں کے جنسی استحصال کے مواد (Child Sexual Abuse Material) کو واٹس ایپ اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے شیئر کرتے ہوئے پائے گئے۔
اورنگ آباد سٹی پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف تین مقدمات جنسی جرائم سے بچوں کے سخت تحفظ Children from Sexual Offences (POCSO) ایکٹ کی دفعات کے تحت درج کیے۔ جنہوں نے سوشل میڈیا پر چائلڈ پورنوگرافی مواد اپ لوڈ کرنے کے لیے فیس بک پروفائلز کا استعمال کیا تھا۔
یوی ایشن کمپنی ایئر انڈیا کے ایک پائلٹ کو بچوں سے منسلک فحش مواد کو ڈاؤن لوڈ کرنے اور دیکھنے کے متعلق الزامات پر امریکہ کے قانون نافذ کرنے والے حکام نے گرفتار کیا۔
نوبل امن انعام یافتہ کیلاش ستیارتھی کی 'کیلاش ستیارتھی چلڈرن فاؤنڈیشن‘ (کے ایس سی ایف) نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ پولیس ہر سال بچوں کے خلاف جنسی استحصال کے درج 3؍ ہزار شکایات کے بارے میں کوئی ثبوت اکٹھا کرنے میں ناکام رہتی ہے اور یہ معاملات عدالت پہنچنے سے پہلے ہی بند کر دیے جاتے ہیں۔
تعلیمی ادارے بھی اس وباء سے اب محفوظ نہیں رہے ہیں، 12؍ فروری 2018ء کا ایک واقعہ ہے، یونیورسٹی کے ایک لیکچرر سنیل کو ایک 'کم عمر لڑکی' کو واضح پیغام بھیجتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔ جس پر ایک بچے کے ساتھ جنسی رابطے میں ملوث ہونے کی کوشش کرنے کا جرم بھی ثابت ہوا ہے۔ ایسے کئی واقعات ہیں جس نے استاد و شاگرد کے رشتوں میں دراڑ پیدا کردی ہے۔
یہ صنف ذہنی بیماریوں کو پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔ جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں بچوں کا جنسی استحصال بڑھ رہا ہے۔
لیورپول سے تعلق رکھنے والی ایک ٹرانس جینڈر خاتون کیتن شینڈے نے واٹس ایپ پر بچوں کی نازیبا و بے ہودہ تصاویر و ویڈیوز تقسیم کیں اور دعویٰ کیا کہ یہ "رول پلے" ہے۔
➖➖➖➖➖➖➖
انسانی اور اخلاقی اقتدار ہرگز اجازت نہیں دیتے کہ معصوم بچوں کا استحصال کیا جائے، جو لوگ ایسی دلچسپی رکھتے ہیں وہ پیڈو فیلیا کی نفسیاتی اور جنسی بیماری کا شکار ہیں جس کا باقاعدہ علاج کروانا ازحد ضروری ہے۔ بچوں کے ساتھ بدفعلی کی ویڈیوز بانٹی اور فروخت کی جاتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس صنف کے خریدار اور طلبگار کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ ایسی پورن سے یہ خوفناک اور غیر اخلاقی رجحان سرعت سے پھیل رہا ہے، ایک بچہ جو جنسی استحصال کا شکار ہوتا ہے اُس کی پوری زندگی پر اس کے بدترین نتائج نظر آتے ہیں یہ تو باقاعدہ ایک ہولناک صنعت ہے۔ حکومت کو ایمرجنسی بنیادوں پر ایسی لوکل ویڈیوز کے پھیلاؤ اور مقامی پیڈو فائل کے غیر ملکی جرائم پیشہ گروہوں سے تعلقات پر کڑی نظر اور اس کی روک تھام کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
لاک ڈاؤن کے دوران انٹرنیٹ پر 'چائلڈ پورن' (بچوں سے متعلق فحش مواد) دیکھنے کی شرح میں 95 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اخبار 'دا ہندو' کی آن لائن رپورٹ کے مطابق 24 تا 26 مارچ 2020ء تاریخ کے درمیان اوسط ٹریفک میں لاک ڈاؤن سے پہلے کے مقابلے میں 95 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
'چائلڈ پورنوگرافی پر مبنی مواد دیکھنے میں اتنے بڑے اضافے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پیڈو فائلز کی بڑی تعداد آن لائن منتقل ہو چکی ہے جو انٹرنیٹ کو بچوں کے لیے بہت غیر محفوظ بناتا ہے۔ اگر سخت ایکشن نہ لیا گیا تو اس کا مطلب بچوں کے خلاف جنسی جرائم میں بڑا اضافہ ہو سکتا ہے'۔
✿ گیمز کی ورچوئل دنیا اور بچوں کا شکار:
بچوں کی فحش فلموں کا گھناؤنا کاروبار کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا پلیٹ فارم 'بوائز ٹاؤن‘ تھا، اس کو استعمال کرنے والوں کی تعداد 4 لاکھ سے زائد تھی۔ یہ چائلڈ پورنو گرافی کے کاروبار میں ملوث افراد کو کم سن بچوں کے ساتھ کی جانے والی جنسی زیادتیوں کی ریکارڈنگ دوسرے ممبران کے ساتھ شیئر کرنے کی سہولت فراہم کرتا تھا۔ اس پلیٹ فارم کے رجسٹرڈ یُوزر کو 'بوائز ٹاؤن‘ کے ایڈمنسٹریٹرز استعمال کرنے کے نہایت محفوظ طریقوں سے بھی مطلع کرتے تھے تا کہ وہ فوجداری الزامات سے بچ سکیں۔
مائیکروسوفٹ، میٹا اور روبلوکس جیسی کمپنیاں بہت تیزی سے اپنی ورچوئل دنیا یا میٹاورسِز بنا رہی ہیں اور ایک دوسرے سے سبقت لیجانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ لیکن اس بات کے اشارے پہلے ہی نظر آ رہے ہیں کہ ان کمپنیوں کو اپنی ورچوئل دنیاؤں میں پہرہ لگانے میں شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔
روبلوکس پر موجود گیمز اس وقت دنیا بھر میں بچوں کی مقبول ترین آن لائن گیمز میں شامل ہیں۔ بی بی سی کی تحقیق کے مطابق بچوں کی اس مقبول آن لائن گیمز کے پلیٹ فارمز پر جنسی مواد پایا جاتا ہے جس پر قابو پانا کمپنیوں کے لیے مشکل ثابت ہو رہا ہے۔
روبلوکس کی سیکس گیمز کو عموماً ’کونڈوز‘ کہا جاتا ہے۔ اصل میں کونڈوز روبلوکس پر پائے جانے والے ان کونوں کھندروں کو کہا جاتا ہے جہاں پر صارفین کے مختلف گروپ اپنی پسند کی گیمز بناتے اور کھیلتے ہیں۔ ان جگہوں پر کھیل کھیلنے والے نہ صرف جنسی گفتگو کر سکتے ہیں بلکہ روبلوکس کے اصول و ضوابط کی پرواہ کیے بغیر، اپنے بنائے ہوئے کرداروں سے جنسی عمل بھی کروا سکتے ہیں۔
کونڈوز پر موجود صارفین کے درمیان گفتگو اور پیغامات کو دیکھیں تو ان میں سے بے شمار ایسے ہوتے ہیں جو بچوں کی ویب سائٹ تو درکنار، بالغوں کی ویب سائٹ پر بھی اشاعت کے قابل نہیں ہوتے۔
اس قسم کے پلیٹ فارمز کے حوالے سے جو چیز خاص طور پر پریشان کن ہے وہ یہ ہے کہ یہاں بالغ افراد بھی بچوں کے ساتھ گھل مِل سکتے ہیں۔ کونڈوز پر موجود صارفین کے درمیان گفتگو اور پیغامات کو دیکھیں تو ان میں سے بے شمار ایسے ہوتے ہیں جو بچوں کی ویب سائٹ تو درکنار، بالغوں کی ویب سائٹ پر بھی اشاعت کے قابل نہیں ہوتے۔
بچوں کے تحفظ کے ليے کام کرنے والی تنظيموں نے نابالغوں کے ساتھ جنسی عوامل پر مبنی تصاوير وغيرہ کا ايک ڈيٹا بيس تشکيل ديا ہے، جس کا عنوان (CSAM) ہے۔ ايپل کی مصنوعات پر سافٹ ويئر خود کار طريقے سے صارف کی موبائل ڈيوائس کا جائزہ لے گا اور اگر CSAM کے ڈيٹا بيس پر موجود کچھ مواد ملا، تو اس کا نوٹس ليا جائے گا۔ جيسے ہی صارف کی موبائل ڈيوائس متنازعہ مواد کو کلاؤڈ پر محفوظ کرے گی، خود کار ٹيکنالوجی متحرک ہو جائے گی۔
انسانیت کے سب سے نچلے درجہ سے گر جانے والے اس فعل کے مرتکب افراد پورنو گرافی ویڈیوز خرید کر دیکھنے کے بعد اس شیطانی فعل کو کرنے کی جسارت میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے، چائلڈ پورنوگرافی کا کاروبار کرنے والے افراد بچوں کی ویڈیو بنا کر بدنام زمانہ ڈارک ویب یا کسی دیگر ذرائع سے ویڈیو کے شوقین ذہنی مریض لوگوں کو فروخت کر کے لاکھوں نہیں کروڑوں روپے کما رہے ہیں جب کہ پورنو گرافی تک رسائی حاصل کرنے والی نوجوان نسل اخلاقی طور پر اس حد تک گر چکی ہے کہ بظاہر تو یہ انسان مگر اندر سے جنسی فاقہ کش درندے ہیں۔
بچوں کے جنسی استحصال یا ان سے کی جانے والی جنسی زیادتیوں کی روک تھام کے عمل میں یہ بات بھی مشکلات کا باعث بنتی ہے کہ ایسے مجرم اکثر دوہری شخصیت کے مالک اور بظاہر اتنے شفیق ہوتے ہیں کہ ان کا پتہ چلانا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔ جہاں تک متاثرہ بچوں کا تعلق ہے تو وہ انتہائی زیادہ سماجی اور نفسیاتی دباؤ کے باعث اکثر خاموش رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف کامیاب جنگ کے لیے ضروری ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کے لیے ایسے خطرات کا شروع سے ہی راستہ روک دیا جائے۔
➖➖➖➖➖➖➖
دنیا بھر میں بچوں کا جنسی استحصال بڑھ رہا ہے۔ ذاتی تحقیق و اطراف کے ماحول اور لوگوں سے اس موضوع پر گفتگو کے مطابق خاندان ٹوٹنے میں ایک اہم کردار "پورنو گرافی" کا ہے۔ کیونکہ لاشعوری طور پر اس وباء کا مریض اپنی شریک حیات سے اسی طور طریقے کی طلب کرتا ہے جو وہ کئی بار دیکھتا رہا ہے۔ اپنی اس غلیظ حرکت کی وجہ سے ایسے لوگ اپنی شریک حیات کو بھی ڈی گریڈ کرتے ہیں۔ خود بھی احساسِ محرومی و کمتری کا شکار ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس مرض میں مبتلا کرتے ہیں۔
دیکھنے میں یہی آرہا ہے کہ پورنوگرافی میں مبتلا فرد انجانے میں ایک نئے قسم کے نشے میں ملوث ہو جاتا ہے۔ اس نشے میں مست مریضوں سے چائلڈ سیکس و اینمل سیکس کا گناہ بھی سرزد ہوجاتا ہے۔ یہ اتنا خطرناک فعل ہے کہ اس سے ڈرگس، سیکسوئل ٹرانسمیٹیڈ ڈیزیز (sexual transmitted disease)، ایچ آئی وی اور ایڈز جیسی بھیانک بیماریاں لاحق ہورہی ہیں۔ اس میں ملوث لوگوں کے تعلقات معاشرے کے گندی ذہنیت کے لوگوں سے ہوتے ہیں۔
ترقی یافتہ ممالک میں جنسی تعلیم کو اس مسئلے کا حل قرار دیا جارہا ہے۔ یہ علاج ہے یا جرائم کے اصل سبب سے فرار کا راستہ؟ کیونکہ امریکہ سمیت مغرب میں جہاں جنسی تعلیم دی جاتی ہے، وہاں بھی بہت خوفناک صورت حال پیدا ہوتی جارہی ہے۔ حقیقت میں جہاں یہ تعلیم ہے، وہاں معصوم بچوں کا زیادہ استحصال ہے۔
ایسے واقعات کے پیچھے کافی حد تک ہمارے ذرائع ابلاغ، ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حیائی اور عریانی کا بہت بڑا کردار ہے۔
بچوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی زیادتی اور بد فعلی کے واقعات جہاں غور طلب ہیں وہیں حل طلب بھی ہیں، لیکن ہم ہر واقعے پر تشویش کا اظہار کرکے اپنی ذمّہ داریوں سے بری الزمہ ہونے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ اور اس وباء نما عذاب کا بہترین و پاکیزہ حل صرف اور صرف اسلامی تعلیمات و احکامات میں ہی پنہاں ہے۔
اپنے ڈی ایس ایل موڈیم میں پورن کو بلاک کروا دیں۔ اکثر نیٹ سروس پرووائیڈرز کے موڈیم کی کنفیگریشن میں انہوں نے آپشن دیا ہوتا ہے کہ اپ مخصوص "کی ورڈز" کو بلاک کر سکتے ہیں۔ آپ خود بھی، (بہتر ہوگا کہ کسی دوست یا کمپنی نمائندے سے یہ کام کروائیں تاکہ شیطان آپ کو اکسائے بھی تو بھی آپ کے پاس آپشن نہ ہو) موڈیم کنفیگریشن میں جاکر ان "کی ورڈز" یا "بلاک لسٹ" کو اس میں داخل کر دیں۔ اس طرح آپ جیسے ہی ان "کی ورڈز" کی ویب سائٹ پر پہنچیں گے، آپ کا موڈیم اس کو بلاک کر دے گا اور وہ کسی طور بھی کھل نہ پائیں گی۔ اس کی مدد سے آپ 90؍ فیصد پورن سائٹس بلاک کر سکتے ہیں
کمپیوٹر پر "پورن فلٹر سسٹم" انسٹال کرلیں۔ اس کی مدد سے آپ اپنے کمپیوٹر پر پورن کو دفع کر سکتے ہیں۔ جس حد تک ممکن ہو انٹرنیٹ سرفنگ یا سرچنگ سے گریز کریں۔ خود کو چند مخصوص سائٹس یا فورمز تک محدود رکھیں۔ "جتنا آپ آوارہ پھریں گے، اُتنا آپ خود کو حملوں کے رسک میں ڈالیں گے"۔
✿ اسلامی نقطۂ نظر اور تدارک:
ارشاد باری تعالیٰ ہے "اے لوگو! جو ایمان لائے ہو۔ شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ اس کی پیروی کوئی کرے گا تو وہ اسے فحش اور بدی ہی کا حکم دے گا"۔ (النور:21)
دین اسلام ایک پاکیزہ اور بامقصد زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے، اسلامی نظام حیات میں عریانیت، فحاشیت، لہو لعب، موسیقی، زنا اور گانے باجے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، یہ تمام چیزیں اسلام میں حرام و ممنوع ہے۔ اسلامی احکامات و تعلیمات میں پورنوگرافی جیسے اس فعل کو قبیح، غلیظ، متعفن و بدبودار مانا جاتا ہے۔ اس کے لئے اسلامی قوانین میں سخت سے سخت سزا دی جاتی ہیں۔
قرآن کریم میں اللّٰہ کا فرمان ہے، "اور بے شرمی کی باتوں کے قریب بھی نہ جاؤ۔ خواہ وہ کھلی ہوئی یا چھپی ہوئی"۔ (الانعام:151)
دینی و مذہبی معاشرہ اس عمل کی شدّت سے مخالفت کرتا ہے۔ اسی لیے آج بھی اس قبیح عمل کو شعوری یا لاشعوری طور پر گناہ سمجھا جاتا ہے۔ اس عمل کو ہم اگر گناہ سمجھیں گے تو ہی ہم عمل سے بچے رہینگے۔ اپنے اور معاشرے کے اندر اس غلیظ عمل کی نفرت پروان چڑھائیے۔ یہ بات طے ہے کہ معاشرے میں اخلاقی بگاڑ اور جنسی جرائم کو ختم کرنے کے لیے مذہب و ریاست دونوں کو اپنا کردار یکساں ادا کرنا ہوگا۔ یہ مذہبی و دینی، سماجی و اجتماعی ذمّہ داری ہے کہ ہم اپنی اخلاقی، ثقافتی اور مذہبی اقدار کی حفاظت کریں۔
مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ فرماتے ہیں کہ "بے ہودگی، شرمناک عریانی، شراب نوشی اور تمام شرمناک افعال وغیرہ اسی طرح کھل کر ہر برا کام نہ صرف کرنا بلکہ اس کو پھیلانا فحش کہلاتا ہے۔ مثلاً بدکاریوں پر ابھارنے والے افسانے، فحش عریاں تصویریں، عورتوں کا بن سنور کر منظر عام پر آنا، مردوں اور عورتوں کا اختلاط، اسٹیج پر عورتوں کا گانا ناچنا اور ناز و ادا کی نمائش کرنا فحاشی پھیلانے میں آتے ہیں"۔
اللّٰہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں: "جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں، اللّٰہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے"۔ (النور: 19)
اس قسم کی بے شمار ہدایات کے ذریعہ انسان کے تمام خیالات و جذبات پر خوف خدا اور فکر آخرت کے پہرے بٹھائے گئے ہیں اور پھر ان ہدایات کی انتہاء کوڑوں اور سنگساری کی اس لرزہ خیز اور عبرت ناک سزا پر ہوتی ہے جو اسلام نے بدکاروں کے لئے مقرر فرمائی ہے قرآن و سنّت کے ان ارشادات اور سرکار دو عالمﷺ کی تعلیم و تربیت کا اثر تھا کہ اسلامی معاشرہ عفت و عصمت اور جنسی جذبات کے اعتدال میں دنیا کا مثالی معاشرہ تھا۔
بد اخلاقی کی ترغیب دینے والے قصّے، اشعار، گانے، تصویریں، کلب، ہوٹل اور تفریح گاہیں جن میں مخلوط میل جول اور رقص و سرور کی محفلیں جمتی ہیں، حکومت پر ذمّہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اشاعت فحش کے تمام ذرائع کا سدّباب کرے اور منشائے ایذدی ہے کہ ان جرائم پر باقاعدہ سزا دی جائے۔ قانون الٰہی سے اگر انسان بغاوت کرے گا، تو نتیجتاً انسانی پاکیزہ معاشروں کی بربادی کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہ لگے گا۔
مقصد عیاشی کے دروازوں پر تالے ڈالنا اور بیہودگی کی راہوں کو مسدود کرنا ہے۔ جنسی آبرو ریزی کے اخلاق باختہ واقعات اور فحاشی و بے حیائی کے ہوش ربا سانحات سے معاشرۂ انسانی کو نجات اور تحفظ فراہم کرنا وقت کی اشد ضرورت بن گئی ہے۔
کمپیوٹر کے سٹارٹ اپ میں کوئی قرآنی تلاوت ڈال دیں۔ اسی طرح جب انٹرنیٹ استعمال کریں تو کوئی نعت وغیرہ سنتے رہیں۔ کمپیوٹر کا وال پیپیر کوئی اسلامی یا قرآنی استعمال کریں۔
میری رائے میں دنیا بھر میں اس گناہ و معاشرتی برائی سے بچنے کے حل یہی ہیں کہ نکاح آسان بنایا جائے، جہیز کے غیر قانونی ہونے والے قانون پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے، عریانی اور فحاشی پھیلاتے میڈیا پر مکمل پابندی عائد کی جائے، ایسے جرائم میں ملوث افراد کی سزاﺅں پر جلد سے جلد عملد ر آمد کروایا جائے اور انہیں معاشرے کیلئے عبرت بنایا جائے۔ محرم اور نا محرم کا جو فرق مثبت ذہنیت کی آڑ میں ختم کیا گیا ہے اسے بحال کیا جائے۔ کو ایجوکیشن سسٹم کا خاتمہ بھی اس کیلئے اہم ہے۔اس طرح آگاہی پروگراموں سے بچوں کو جو جنسی ہراسانی کی تعلیم دی جا رہی ہے یہ معاشرے میں اور بھی زیادہ برائی پھیلنے کا موجب بن رہی ہے، کیونکہ آگاہی کا نقصان بڑا ہوتا ہے۔ اس سے بہتر یہ ہے کہ پیڈو فیلیا کے بارے ماہرین نفسیات کی طرف سے آگاہی پھیلائی جائے اور لوگوں کو اس معاملے میں خود احتسابی کی طرف راغب کیا جائے۔
اللّٰہ ربّ العالمین! باطل قوتوں کے حربوں سے ہماری حفاظت فرمائے اور اسلامی تہذیب و تمدّن کو ہمارے دلوں میں تادمِ حیات باقی رکھے۔ ہمیں دنیا سے فتنہ و فساد کا خاتمہ کرنے والا بنا۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے والا بنا۔ (آمین)
•┅┄┈•※✤م✿خ✤※┅┄┈•
(20.02.2023)
🍁༻مسعود محبوب خان༺🍁
(masoodkhan4040@gmail.com)
Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
○○○○○○○○○
Comments
Post a Comment