ترکی زلزلے
•ترکی زلزلے __ قدرتی آفات یا انسانی سازش•
┄┅════❁﷽❁════┅┄
══════•❁ا۩۩ا❁•══════
•ترکی زلزلے __ قدرتی آفات یا انسانی سازش•
══════•○ ا۩۩ا ○•══════
🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
آج رات یعنی 20؍ فروری 2023ء ایک موضوع پر لکھنے کے لئے بیٹھا ہی تھا کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کی خبر گردش میں آگئی کہ ترکی- شام کی بارڈر پر ترکی کے صوبہ ہاتے کے انطاکیہ میں دوبارہ دو شدید اور تباہ کن زلزلوں کے جھٹکے محسوس ہوئے ہیں۔ گزشتہ دو ہفتے پہلے 6؍ فروری 2023ء کو 7.8؍ کی شدت کے زلزلوں نے شام اور ترکی میں شدید جانی و مالی نقصان پہنچایا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکی میں تقریباً 48؍ ہزار سے زائد اور شامی حکومت کی طرف سے اقوام متحدہ میں دئے گئے اعداد و شمار کے مطابق شام میں 5.8؍ ہزار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔وہاں کی گلی کوچوں میں خوف و ہراس کی فضا پائی رہی ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق ترکی کا یہ زلزلہ 7.8؍ (ریکٹر اسکیل) کی شدت کا تھا اور اس کی گہرائی 18؍ کلومیٹر تھی۔ زلزلے کی شدت اتنی تھی کہ میڈیٹیرینین سیسمولوجیکل سینٹر نے کہا کہ یونان، اردن، فلسطین، اسرائیل، عراق، جارجیا، آرمینیا، مصر اور رومانیہ میں جھٹکے محسوس کیے گئے۔ اس کے کچھ گھنٹوں بعد دن کی روشنی میں کم از کم 20؍ سے زائد آفٹر شاکس بھی آئے۔ جس کی نتیجے میں دنیا نے دیکھا کہ کس طرح پلکیں جھپکتے ہی عالیشان عمارتیں کھنڈرات میں تبدیل ہوگئیں۔ یہ عصرِ حاضر کی عظیم ترین قدرتی آفات میں سے ایک ہے۔ یہ خوفناک جان لیوا زلزلہ ترکی کی تاریخ میں 1939ء کے زلزلوں کے بعد کا سب سے بڑا زلزلہ مانا جارہا ہے۔ حالانکہ اس شدت کے زلزلے پہلے بھی کئی بار آچکے ہیں، ابھی حالیہ سالوں میں 30؍ اکتوبر 2020ء کو 7.5؍ (ریکٹر اسکیل) کے زلزلوں کے جھٹکے شدت سے محسوس کئے گئے۔
اس زلزلے نے دنیا کے لئے کئی سوالات کی بوچھاڑ کھڑی کردی ہے۔ ترکی اور شام میں زلزلہ کے بعد سے سوشل میڈیا اور میڈیا اداروں نے اس زلزلے کی مختلف وجوہات بیان کیں۔ ہم یہ بھی دیکھتے آئے ہیں کہ قدرتی آفات یا کسی بھی بحران کے دوران سوشل میڈیا اکثر غلط معلومات اور افواہوں کے لیے ایک افزائش گاہ بن جاتا ہے۔ لیکن ہاں چند سوالات یا وجوہات ایسے بھی ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ان سوالات کے حقائق کیا ہے، اس کا تحقیق طلب جواب اور اس پر غور و فکر ضروری ہے۔
عالمی سطح کے ماہرین کے نزدیک یہ ایک منصوبہ بند زلزلہ ہے؟ ان زلزلوں نے سوال کھڑے کردیے ہیں کہ یہ قدرت کی کارستانی ہے یا ترکی کو نشانہ بنانے کے لیے کسی جدید تکنیک کا استعمال کیا گیا ہے؟ اس زلزلے کے پیچھے کا مقصد ترکی کو کمزور کرنا ہے تاکہ وہ عالمی طاقت نہ بن سکے؟ ابتدائی طور پر لوگوں سے سمندر کی سطح میں اضافے کے خطرے کے تناظر میں احتیاط کے طور پر ساحلی پٹی سے دور رہنے کی تاکید بھی کی گئی تھی۔ اس کی کیا وجوہات تھیں اس پر بھی غور و خوض کیا جانا چاہیے؟
◆ سائنسی ترقی اور زلزلے کی پیشنگوئی:
سائنسی ترقی زلزلوں کا پیشگی پتہ چلانے میں ناکام کیوں ہوئی؟ آج ترقی یافتہ دنیا نے بہت مختلف قسم کے آلات تیار کردیے ہیں اس کے باوجود زلزلہ کب آئے گا یہ بتانے سے اب بھی قاصر ہے۔ تاریخی ریکارڈ اور ارضیاتی ریسرچ کی روشنی میں ہم زیر زمین فالٹ لائنز کا تجزیہ کرکے ان علاقوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں جہاں زلزلے کے امکانات ہو سکتے ہیں۔ مگر زلزلہ کب آئے آئیگا اس کو بتانا بہت مشکل کام ہے۔ زلزلے ایسی قدرتی آفت ہیں جن کی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔
زلزلے کے جھٹکے کیسے رونما ہوتے ہیں؟ اس کی وجوہات کے ضمن میں ارضیاتی امور کے ماہر رؤف نظامی نے کہا کہ زیر زمین پلیٹوں اور چٹانوں میں ہونے والی تبدیلیوں سے بعض پلیٹوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور کسی کمزور پلیٹ پر زیادہ دباؤ پڑنے سے انرجی پیدا ہوتی ہے، جو زلزلے کا باعث بنتی ہے۔ اگر زلزلے کا باعث بننے والی لہر کا مرکز زمین کے قریب ہو یا اس کا رخ افقی جانب ہو تو پھر اس سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ ہم صرف احتیاطی تدابیر ہی اپنا سکتے ہیں۔ اس ماہر ارضیات کے مطابق ہونا یہ چاہیے کہ فالٹ لائنز والے علاقوں میں ہونے والی تعمیرات میں بلڈنگ کوڈز کا خیال رکھا جائے اور ان علاقوں میں اربنائزیشن میں زیادہ اضافہ نہ ہونے دیا جائے۔
اکثر جو زلزلے آتے ہیں اس کی وجہ زیر زمین چٹانوں کا کھسکنا ہوتا ہے، جس سے زمین کی اوپری سطح پر موجود عمارتیں اور مکانات لرز اٹھتے ہیں۔ اگر ہم زلزلے کی نوعیت کو سمجھنے کی کوشش کریں تو معلوم چلتا ہے کہ ماہرین کے مطابق زلزلے کی دو اقسام ہیں اور جہاں تک زلزلے کی لہروں کا تعلق ہے۔ اس کی اچانک حرکت سے سائسمک لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ جب یہ لہریں زمینی چٹانوں سے گزرتی ہیں تو ان پر دباؤ بڑھاتی ہیں، جس سے سٹرین پیدا ہوتا ہے جب یہ لہر گزر جاتی ہے یعنی دباؤ ختم ہوجاتا ہے تو پھر سٹرین بھی غائب ہوجاتا ہے اور چٹانی سلسلہ اپنے حجم اور شکل میں واپس آجاتا ہے۔
زلزلے آنے کی وجوہات پر غور و خوض کرنا چاہئے اور اس کے بعد ہی اس سوال پر نظر ثانی کرنی چاہیے کہ "کیا واقعی ترکی میں ٹیکنالوجی کے ذریعہ زمین کی اندرونی پلیٹس میں رد و بدل کیا گیا؟"
نیدرلینڈ کے محقق فرینک ہوگربیٹس کی ایک ٹوئیٹ سوشل میڈیا پر گردش میں رہی، 3؍ فروری کی ٹوئیٹ میں کہا گیا کہ 7.5؍ شدت کا زلزلہ جنوبی و وسطی ترکی، اردن، شام، اور لبنان میں تباہی لائیگا۔ ایک شخص زلزلوں کے متعلق پیشنگوئی کر سکتا مگر زلزلوں کا یہ ڈپارٹمنٹ کیسے خاموش رہا؟ نیدرلینڈ کے اس شخص نے کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
◆ اردوغان کے اقتدار کا خاتمہ:
کیا ترکی میں آنے والا زلزلہ اردوغان کے 20؍ سالہ اقتدار کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے؟ کیونکہ کہا یہ جارہا ہے کہ کئی برسوں سے ترکوں کو خبردار کیا جاتا رہا ہے کہ انہیں بڑے زلزلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس کے باوجود صدر اردوغان نے ملک کو زلزلوں کیلئے تیار کیوں نہیں کیا۔ تاہم کچھ لوگ اس وارننگ کو صرف مشرقی اناطولین فالٹ سے منسوب کرتے رہے ہیں کیوں کہ زیادہ تر بڑے جھٹکے اسی فالٹ لائن پر محسوس کیے جاتے ہیں۔ ترکی میں سیاسی اختلاف بڑھتا جا رہا ہے۔ لیکن اس سے اردوغان کو کتنا نقصان ہوگا یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
ایک بڑے زلزلے کے نتیجے میں ہزاروں اموات، پورے شہر تباہ اور لاکھوں افراد کو فوری مدد کی ضرورت پڑی تو، ترکی پہلے ہی افراط زر سے نبرد آزما تھا۔ یہ زلزلہ سلطنت عثمانیہ کے بعد کی تاریخ کی بدترین تباہی ہے۔ تاہم اردوغان کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ ترکی کے پاس فنڈز بہت کم ہیں۔
حالیہ زلزلہ آئندہ صدارتی انتخابات پر ضرور اثر انداز ہوگا، اردوغان حکومت کو زلزلے سے ہونے والا ایک محتاط اندازے کے مطابق 84.1؍ ارب ڈالر نقصان کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
عالمی پس منظر میں نظریں دوڑائیں تو غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اردوغان کے غیر روایتی معاشی نظریات کی وجہ سے ترکی سے دوری اختیار کر لی ہے۔ ان نظریات میں شرح سود میں کمی کرکے افراط زر سے لڑنے کی کوشش بھی شامل ہے۔ جب زلزلہ آیا تو ترکی کی سالانہ افراط زر کی شرح دو دہائیوں کی بلند ترین سطح 85؍ فیصد سے کم ہو کر گذشتہ برس 58؍ فیصد ہو گئی تھی۔
ماہر معاشیات کی نظر میں، ’غیر یقینی صورتحال اور مختلف عوامل، جیسا کہ عالمی معاشی حالات اور داخلی سیاسی توقعات، کے باوجود ترک معیشت کے جمود کا شکار ہونے یا اپنی قدرتی شرح سے کم بڑھنے کا امکان ہے۔‘
◆ معاہدہ لوزان Treaty of Lausanne:
لوزان معاہدے کو زلزلے سے کیوں جوڑ کر دیکھا جارہا ہے؟ پوری دنیا اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اس سال 2023ء میں ترکی لوزان معاہدہ ختم ہونے کے بعد مزید طاقتور ملک ہونے جارہا ہے۔ ترکی 2023ء کے بعد ایک نئے دور میں داخل ہوگا کیونکہ ترقی پر لگی سوسالہ پابندیاں ختم ہو جائیں گی۔ معاہدہ لوزان (Treaty of Lausanne) 24؍ جولائی 1923ء کو سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں جنگ عظیم اول کے اتحادیوں اور ترکی کے درمیان طے پایا۔ معاہدے کے تحت یونان، بلغاریہ اور ترکی کی سرحدیں متعین کی گئیں اور قبرص، عراق اور شام پر ترکی کا دعویٰ ختم کرکے آخر الذکر دونوں ممالک کی سرحدوں کا تعین کیا گیا۔
اس نے جدید دور کے ترکی کی سرحد کی حد بندی کی۔ معاہدہ لوزان کے تحت ترکی نے سلطنت عثمانیہ کے باقی ماندہ تمام دعوے ترک کر دیے اور بدلے میں اتحادیوں نے اپنی نئی سرحدوں کے اندر ترکی کی خود مختاری کو تسلیم کر لیا۔ خلافت عثمانیہ کا نظام ختم کر دیا گیا۔ آخری خلیفہ کو اپنے خاندان کے ساتھ جلاوطن کر دیا گیا۔ ان کے اثاثے ضبط کر لیے گئے۔ مذہب اسلام پر پابندی لگا دی گئی اور ترکی کو سیکولر ریاست بنا دیا گیا۔ اس معاہدے کے مطابق ترکی کو اپنا تیل کھودنے اور تلاش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور طے پایا کہ اسے اپنی ضروریات کے لیے دوسرے ممالک سے تیل درآمد کرنا ہوگا۔یورپ اور ایشیاء میں قدرتی سرحد کے طور پر موجود آبنائے باسفورس کو بین الاقوامی گزرگاہ قرار دے دیا گیا جس کے بعد ترکی بحری جہازوں پر ٹیکس لگانے سے محروم کردیا گیا۔
سلطنت عثمانیہ اور مغربی اتحادی طاقتوں کے مابین طے ہونے والا معاہدہ، "معاہدہ سیورے" (Treaty of Sevres) کہلاتا ہے، جب کہ "معاہدہ لوازن" اتاترک کے جمہوریہ ترکی اور مغربی طاقتوں کے مابین ہوا۔ یعنی معاہدہ لوازن کا سرے سے سلطنت عثمانیہ سے کوئی لینا دینا ہی نہیں۔
ہمارا المیہ یہ ہوگیا ہے کہ کسی بھی مسئلہ یا مسائل کا ٹوکرا ہم دوسرے کے سر دینے کے عادی ہوتے جارہے ہیں۔ کبھی کچھ الزام اپنے سر بھی لینا ہوگا۔ غلطی کا اعتراف کرنا اور اس غلطی کی اصلاح کرنا بڑے ہونے کی علامت ہے۔
وقت کی کجروی سے بغاوت کرو
کچھ تو الزام لو اپنے سر دوستو
◆ ہارپ ٹیکنالوجی:
ہائی فریکونسی ایکٹیو آرورل ریسرچ پروگرام (ہارپ) ٹیکنالوجی کے حوالے سے بھی کچھ باتیں گردش کررہی ہیں۔ ترکی کے موجودہ زلزلے کو ہارپ ٹیکنالوجی کا شاخسانہ قرار دیا جارہا ہے۔ زلزلے کی وجوہات میں ایک وجہ یہ بھی بتائی جارہی ہے کہ ترکی اور شام میں زلزلہ آنے میں انسانی عمل دخل شامل تھا اور امریکہ نے "ہارپ" نامی آلے سے مہلک زلزلہ پیدا کیا۔ کیا واقعی امریکہ نے ہارپ ٹیکنالوجی کے ذریعے ترکی میں زلزلہ پیدا کیا؟
ہارپ ایک امریکی تحقیقی منصوبہ و مرکز ہے۔ جس کو امریکی ایئر فورس، امریکی نیوی، یونیورسٹی آف الاسکا فیئربینکس اور ڈیفینس ایڈوانسڈ ریسرچ پراجیکٹس کے اشتراک سے 1990ء کی دہائی کے اوائل میں الاسکا میں قائم کیا گیا تھا۔ جس کا مقصد ریڈیو کمینیکیشن ٹیکنالوجی کا تجزبہ اور نگرانی کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے ذریعے زمین کو اپنی مرضی سے ہلایا جاسکتا ہے، جس کا تجربہ دجالی قوتوں کی تجربہ گاہوں میں کیا جاچکا ہے اور اس کا عملی نمونہ ترکی اور شام میں بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ ہارپ ٹیکنالوجی کے معاملے میں کتنی حقیقت ہے کتنا فسانہ ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ مگر ہم کیوں باطل کی تشہیر و ترسیل کا ذریعہ بن رہے ہیں۔
انسانی عقل اس بات کو کیسے تسلیم کرسکتی ہے کہ دنیا میں آئے ہوئے زلزلے چاہے وہ ہائیتی یا دیگر زلزلے ہی کیوں نہ ہو انسانی ساختہ تھے، جسے ثابت بھی کیا جاچکا ہے۔ اس نظریہ کو پہلے بھی ایک تخیلی سائنس فکشن قرار دے کر مسترد بھی کیا جاچکا ہے۔
قدرتی آفات و بلیات، سیلاب و سونامی، موسموں کے رد و بدل اور اس طرح کی تمام چیزیں خدائی معاملات ہیں۔ جس طرح جاپان پر ایٹم بم حملے سے پہلے یہ پھیلایا گیا کہ امریکہ کے پاس ایسے کئی بم تیار کئے گئے ہیں، جب کہ حقیقت میں امریکہ کے پاس استعمال شدہ بموں کے علاؤہ کوئی ایٹم بم نہیں تھا۔ حوصلوں کو پست کرنے کے لئے یہ طریقہ کار استعمال کیا جاتا ہے، اور آج بھی اسی قسم کے طریقہ کار کو کام میں لایا جارہا ہے۔
◆ سازشی تھیوریز conspiracy theories:
دنیا میں آبادی کم کرنے کیلئے سازشی تھیوریاں کافی عرصے سے زیر گردش ہیں۔ کورونا کی وباء کو بھی ایک سازش سے جوڑا جاتا ہے۔ پاکستان میں آنے والا سیلاب بھی عالمی قوتوں کی کارستانی تھا اور اب چند روز بعد پاکستان و ہندوستان میں زلزلے کی تیاریاں بھی عالمی سازش کا حصّہ لگتی ہیں۔
عالمی قوتیں جب چاہتی ہیں بھارت کو بھی تختہ مشق بنالیتی ہیں۔
اب یہ کہا جارہا ہے کہ ترکی میں زلزلے امریکہ نے جدید خفیہ ٹیکنالوجی کے ذریعے پیدا کئے ہیں، ٹویٹر پر ایک بحث چھیڑی گئی کہ امریکی بحری جہاز لنگر انداز ہوا، امریکی سفارت خانہ بند ہوا، آسمان سے روشنی پیدا ہوئی اور زلزلہ آگیا۔ جب کہ امریکہ نے اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے انکار کردیا ہے۔
◆ 4؍ اگست 2020ء کو بیروت میں بم دھماکے ہوئے تو ان کے درمیان 11؍ سکنڈ کا وقفہ تھا۔ 6؍ دھماکے سطح زمین کے نیچے محسوس کئے گئے۔ لبنان کے وزیر داخلہ نوہد اموک نے الزام عائد کیا کہ بیروت لبنان کا دارالحکومت ہونے کی وجہ سے یہ دھماکے کئے گئے تھے ان کا یہ الزام اسرائیل کے ایشیا ٹائمس کی 13؍ اگست 2020ء کی اشاعت میں شامل کیا گیا۔
ایسی کئی زبانیں ہیں جو انسانی عقل و نظر کو اضطرابی کیفیت میں مبتلا کئے ہوئے ہیں۔ ان سوالات کے جوابات و حقائق اللّٰہ ربّ العزت! ضرور منظر عام پر لائے گا۔ لیکن ہمیں ایک مسلمان و انسان ہونے ناطے فلحال ان ملبوں میں دفن ہوئے لوگوں اور زندہ رہے گئے انسانوں کے لئے حتیٰ الامکان کوشش کرنی ہوگی، ان کے لئے دعائیں کرنی ہوگی۔
دنیا میں ہر جگہ قدرتی آفات میں ترکی نے ہمیشہ بلا تفریق بڑھ چڑھ کر مدد کی ہے۔ ترکی اور شام آج جس کربناک صورتحال سے گذر رہے ہیں اور عالمِ اسلام سمیت پوری دنیا کی مدد اور انسانی ہمدردی کے منتظر ہیں۔
وہاں سڑکوں میں بہت سی دراڑیں اور گہرے نشانات نمودار ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے ہنگامی خدمات کو جہاں ضرورت ہو وہاں پہنچنا مشکل ہوگیا ہے۔ اللّٰہ ان کی مشکلات کو آسان بنائے۔
شدید اور تباہ کن زلزلے پر اظہارتَاسف کرتے ہوئے اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ قدرتی آفات و بلیات ہمارے لئے نشان عبرت ہوتے ہیں۔ ہمیں خوآب غفلت سے بیدار ہو کر ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔ اپنے احتساب اور اصلاح کے دروازوں کو کھولنا ہوگا اک نئی زندگی کا آغاز کرنا ہوگا۔ اللّٰہ تعالیٰ نے جنہیں زلزلوں سے محفوظ رکھا ہے انہیں اپنے ربّ کے حضور سجدہ ریز ہوکر اظہارِ تشکر ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ زندگی کے بقیہ لمحات کی قدر کریں انہیں اللّٰہ کی رضاء کی خاطر وقف کر دیں۔ کیونکہ اس فانی دنیا کا کوئی بھروسہ نہیں زلزلے کے چند سیکنڈز کے جھٹکے اونچی اونچی مضبوط عمارتوں میں رہنے والوں کو زمین بوس کر دیتے ہیں۔
ترکی کے زلزلے میں ایسے مناظر بھی دیکھنے آئے ہیں، جہاں کئی ایسے مقامات تھے جو سیاحت و تفریح کے لئے بڑے بڑے عالیشان مراکز کے طور پر جانے جاتے تھے۔ جہاں کی دلفریب مناظر پر انسان فدا ہو جایا کرتے تھے۔ ایک ویڈیو نظروں سے گذری جس میں ایک شخص شاپنگ مال میں ایک خاتون کو رقص و سرور کے ساتھ آئس کریم فروخت کررہا تھا، لیکن زلزلے نے اسے پلک جھپکتے ہی اپنے آل و اولاد سے محروم کردیا۔ ملبے کے ڈھیر میں سب کچھ دفن ہوگیا۔ چند روز قبل تک جن کے پاس مال و متاع کی ریل پیل تھی، دنیا کی رعنائیوں میں مشغول تھے، پلک جھپکتے ریلیف کیمپوں میں پہنچ کر دوسروں سے فراہم کردہ غذا و خوراکی کھانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ واقعی یہ ہمارے لئے نشان عبرت ہے۔
ان مناظر میں ایسے بھی حوصلہ بخش منظر دیکھے کہ ایک عورت کو جان سے زیادہ عزیز اپنی عفت و پاکدامنی تھی، جس نے ملبے سے باہر آنے کے لیے پہلے حجاب مانگا اس کے بعد ہی وہ باہر آئیں۔ ایک ماں جو ملبوں کے ڈھیر میں دفن ہوگئی لیکن شکم مادر میں پرورش پانے والے بچے کو اللّٰہ کے اذن سے محفوظ رکھا۔ سلام ایسی عفت مآب ماؤں اور بہنوں کو سلام! سلام! سلام!
بحثیت مسلمان ہمارا عقیدہ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ مسبب الاسباب اللّٰہ ہی کی ذات ہے۔ سارے معاملات اللّٰہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ زندگی و موت اسی کے پاس ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہم تمام کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ (آمین)
•┅┄┈•※✤م✿خ✤※┅┄┈•
(21.02.2023)
🍁༻مسعود محبوب خان༺🍁
(masoodkhan4040@gmail.com)
Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
○○○○○○○○○
Comments
Post a Comment