بھٹکے ہوئے آہُو کو پھر سُوئے حَرَم لے چَل
••بھٹکے ہوئے آہُو کو پھر سُوئے حَرَم لے چَل••
┄┅════❁﷽❁════┅┄
══════•❁ا۩۩ا❁•══════
⊱بھٹکے ہوئے آہُو کو پھر سُوئے حَرَم لے چَل⊰
══════•○ ا۩۩ا ○•══════
🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
”قُوْا أَنْفُسَکُمْ وَأَھْلِیْکُمْ نَارًا وَّقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ“۔ (التحریم:6)
(اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔)
27/فروری 2008ء بروز بدھ صبح ایک رفیق نے مجھے فون پر گفتگو کے درمیان روح فرسا اور کربناک خبر سنائی کہ ’ایک اور ملّتِ اسلامیہ کی بیٹی نے ایک غیر مسلم کے ساتھ گھر سے فرار ہو کر شادی (زنا) کرکے فتنۂ ارتداد کا شکار ہوگئی ہے‘..... اس وقت یہ سن کر طبیعت کا عجیب حال ہوگیا تھا، دماغ ماؤف ہوگیا، افسردگی اور قنوطیت کی چادر نے اپنی آغوش میں لے لیا۔ کئی سوال ذہن میں موجیں مارنے لگے کہ کیا واقعی ہمارا معاشرہ اب پستی کے اس اندھیرے کنویں میں اُتر چکا ہے کہ ہمیں نہ اللّٰہ کے احکام نہ رسولﷺ کے ارشادات، نہ خاندانی عزّت و ناموس نہ اخلاقی قاعدوں اور ضابطوں کا پاس و لحاظ رہا؟؟ کیا واقعی ہمارا معاشرہ اتنا کھوکھلا، اتنا پست، اتنا فحش، اتنا عریاں اور اتنا بے حس ہوگیا ہے؟؟؟ کیا واقعی وقتی لذّت کا حصول اور عیش کوشی ہمارے معاشرے پر ایسی غالب آگئی ہے کہ اس میں ڈوب کر ہمیں کچھ بھی یاد نہیں رہتا؟؟؟؟
آج جب کہ گذشتہ کچھ دنوں سے دوبارہ مسلم بیٹیوں و بہنوں کی فتنۂ ارتداد کے شکار ہونے کی خبریں بڑی شدت سے تشہیر ہوتی نظر آرہی ہے۔ حالانکہ اس قسم کے فتنے کا آغاز تو بہت پرانا ہے۔ مگر چونکہ آج سوشل میڈیا کا دور ہے، کوئی بھی خبر برق رفتاری سے جنگل میں آگ کی طرح پھیل جاتی ہیں۔ اس سے انکار بالکل بھی نہیں ہے کہ ایسا نہیں ہورہا ہے۔ تمام خبروں میں کہاں نہ کہاں، کچھ نہ کچھ حقائق بھی پوشیدہ ہیں۔
لیکن کیا کبھی ہم نے اس مسئلہ کے بارے میں غور و خوض کیا کہ ایسا کیوں ہورہا ہے؟ لڑکیوں کے غیروں کے ساتھ افئیر کے معاملات کیوں ہورہے ہیں؟ آخر کیوں ایک اندھی محبت کے لئے حقیقی محبت و الفت سے پیش آنے والے والدین کو چھوڑ کر بچیاں گھر جیسی محفوظ مقام کو چھوڑ کر زنا (میں نکاح نہیں کہوں گا) کا ارتکاب کرتی ہیں؟ آخر اسلامی تہذیب و تمدّن کا کیوں مذاق بناتی ہیں؟ کیا ہم نے ان بچیوں کو اسلام سمجھانے کی کوشش کی ہیں؟ کیا انہیں نکاح کی غرض و غایت اور زنا جیسے بدفعلی والے عمل کے انجام بد سے آگاہ کیا؟
بہت ہی کم خاندان ہوں گے جہاں دینی تعلیم کا شعور و فہم زندہ ہے مگر بے شمار ایسے خاندان ہیں جہاں ملّت کی خواتین و مستورات کو تعلیم و تربیت اور درس و تدریس کے معقول نظم سے نکھارا جاتا ہو۔ اس پر یہ ظلم کہ مختلف اقسام کے دجّالی تہذیب کے فتنوں سے گھر کو آراستہ کردیا۔ بازاروں، شاپنگ سینٹرز، مالس، ہوٹلوں، تنہا لمبے لمبے سفر اور سیر و تفریح کے مقامات پر جانے کی کھلی چھوٹ دے دی جاتی ہے!! اور انہی والدین کو مسجدوں اور اسلامک سینٹرز میں فتنہ و فساد نظر آنے لگتا ہے!! اسلامی مراکز انہیں برائی برپا کرنے والے مقام نظر آنے لگتے ہیں۔ ملّت کی بیٹیاں جب کھیل کے میدانوں میں آکر اپنے آپ کو پیش کرتی ہیں، تو وہ قابلِ نمونہ اور appreciate کرنے کے لائق ہوجاتی ہیں، لیکن یہی بیٹیاں حجاب و برقعوں میں مساجد کا رخ کرتی ہیں، تو سارے فتنے و فساد رونما ہونے لگتے ہیں۔ میں نے جب ”عفّت مآب صنفِ نساء اور مساجد اللّٰہ“ کے عنوان سے ایک مضمون تحریر کیا تھا تو مجھے ایک تاثر یہ بھی دیا گیا کہ ''اس جن کو بوتل میں ہی قید رہنے دیا جائے''۔ اس وقت جن لوگوں نے مخالفت کی تھی آج وہی لوگ اپنی زیرِ نگرانی مساجد میں خواتین کی تعلیم و تربیت کا نظم قائم کئے ہوئے ہیں۔ اللّٰہ ہم سب کو ہدایت کی توفیق عطاء کرے۔ (آمین)
خواتین ہی کسی قوم کے مستقبل کو سنوارتی ہیں یا اسے بگاڑتی ہیں! میں یہ سمجھتا ہوں کہ بچوں کی سب پہلی تربیت گاہ رحم مادر ہوتی ہے! ماں کے حرکات و سکنات، اس کی غذائیں اور اس کے عادات و خصائل ان تمام کے اثرات رحم مادر میں پرورش پانے والے بچوں پر ضرور پڑھتے ہیں۔ رحم مادر میں ہی بہت سی باتیں اولاد کے خون میں دھیرے دھیرے سرایت کرتی ہیں۔ اگر والدہ کی تربیت اچھے نہج پر ہو تو ان شاء اللّٰہ! ہمارا مستقبل بھی روشن ہوگا۔ اس کا احساس مجھے اپنی شریکِ سفر سے ہوا، واقعتاً میں نے اسے نکاح سے لے کر آج تک اسلامی اصولوں پر قائم و دائم پایا۔ بچوں کی تربیت میں بھی اس کا عملی رول واقعی قابلِ ستائش ہے۔ اس بات کا اظہار کرنے کی وجہ ترغیب ہے، اگر آج یہاں اس کا ذکر نہ کروں تو یہ واقعی خیانت ہوگی۔
دوسری تربیت گاہ ماں کی گود ہوتی ہیں، اولاد جو یہاں سے حاصل کرتی ہیں وہی معاشرے کو دیتی ہے۔ جب ماؤں کی گود ہی دین سے ناآشنا ہوگی تو نئی نسل کی تربیت کیسے ہوگی؟ کیا ہم نے ان کے مذہبی تعلیمات و احکامات، دینی اقدار و روایات، معاشرتی و سماجی پہلو کے متعلق غور و تدبر کیا؟ نہیں جناب اس کا جواب نا ہی ہوگا کیونکہ اگر ایسا کرتے تو شاید یہ سیاہ دن دیکھنے ہی نہیں پڑتے۔
نیک اولاد کسی بھی انسان کے لئے بیش بہا قیمتی سرمایہ اور اللّٰہ تعالیٰ کی جانب سے گراں قدر عطیّہ ہوتا ہے، اس لئے والدین کی یہ ذمّہ داری بنتی ہے کہ وہ جہاں اپنی اولاد کی بہتر پرورش و پرداخت کے لئے صحیح نگہداشت و تربیت کا سوچتے ہیں وہیں ان کو چاہئے کہ وہ اولاد کی درست خطوط پر تعلیم و تربیت کے سلسلہ میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کریں، کیونکہ اگر آج ان پیاری اور لاڈلی اولاد کو پاکیزہ اخلاق اور نیک خصال سے آراستہ کردیا جائے گا تو یقیناً آج کی یہ معصوم کلیاں مستقبل میں گلستانِ حیات کی خوبصورتی اور اس کی رونق کو دوبالا کرنے کا باعث ہوں گی اور اگر خدانخواستہ اپنے عیش و مصروفیات کی دنیا کی فکر میں بدمست ہوکر ان کی تربیت کا معاملہ لااُبالی پن کی نذر ہوگیا تو آنے والا دن یقیناً والدین کے لئے بڑا اذیّت ناک اور سوہانِ روح ہوگا۔
بچپن کی تربیت نقش علی الحجر کی طرح ہوتی ہے، بچپن میں ہی اگر بچہ کی صحیح دینی و اخلاقی تربیت اور اصلاح کی جائے تو بڑے ہونے کے بعد بھی وہ ان پر عمل پیرا رہے گا۔ اس کے برخلاف اگر درست طریقہ سے ان کی تربیت نہ کی گئی تو بلوغت کے بعد ان سے بھلائی کی زیادہ توقع نہیں کی جاسکتی، نیز بلوغت کے بعد وہ جن برے اخلاق و اعمال کا مرتکب ہوگا، اس کے ذمّہ دار اور قصور وار والدین ہی ہوں گے، جنہوں نے ابتداء سے ہی ان کی صحیح رہنمائی نہیں کی۔ نیز! اولاد کی اچھی اور دینی تربیت دنیا میں والدین کے لیے نیک نامی کا باعث اور آخرت میں کامیابی کا سبب ہے؛ جب کہ نافرمان و بے تربیت اولاد دنیا میں بھی والدین کے لیے وبالِ جان ہوگی اور آخرت میں بھی رسوائی کا سبب بنے گی۔
دانائی اور حکمت تربیت و تدریس کے اہم امور میں سے ایک ہیں والدین کی ادنیٰ سی لاپرواہی سے بچوں اور والدین دونوں کی دنیا و آخرت تباہ ہوسکتی ہے۔ اسی لئے اولاد کی تربیت میں کوئی کمی نہیں چھوڑنی چاہیے کہ بعد میں والدین کو پچھتانا پڑے۔ اولاد کو نکھارنے، سنوارنے اور بگاڑنے میں والدین کا ہی کردار ہوتا ہے۔ اپنے بچوں کو اللّٰہ اور رسول اللّٰہﷺ، اسلام، والدین سے محبت کی ترغیب دیں۔ بچوں کو دور حاضر کی تعلیم ضرور دیں لیکن ان کو مغربیت اور مشرکیت سے باز رہنے کی تلقین کریں۔ ان کا کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا غرض یہ کہ ہر عمل اسلام کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیئے۔ اولاد والدین کے لئے سکون و آنکھوں کی ٹھنڈک کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ والدین کے لئے نیک و صالح اور فرمابردار اولاد اللّٰہ ربّ العزّت کی جانب سے عظیم نعمتوں کا سرچشمہ ہوتی ہیں۔ والدین جو اپنی اولاد کی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اور اس کو اچھا انسان بناتے ہیں، ان کا مستقبل سنوارنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ انسان کامیاب ہو جاتا ہے جو انسان والدین کی اچھی تعلیم و تربیت سے محروم رہا ان کی نافرمانی کرتا رہا تو وہ راہ راست سے بھٹک گیا۔
حضرت عبد اللّٰہ بن عمرؓ کا ارشاد ہے: ”اپنی اولاد کو ادب سکھلاؤ، قیامت والے دن تم سے تمہاری اولاد کے بارے میں پوچھا جائے گاکہ تم نے اسے کیا ادب سکھلایا؟ اور کس علم کی تعلیم دی؟“۔ اسلام نے تربیت اولاد کے سلسلے میں جو زرّیں اصول و ضوابط پیش کئے ہیں اور والدین کو کتاب و سنّت میں اسلامی تربیت کے سلسلے میں جو رہنمائی پیش کی گئی ہے وہ کسی بھی مذہب میں موجود نہیں ہے، یہ الگ بات ہے کہ ہم ان اسلامی اصول وضوابط،اور ارشادات کو تربیتِ اولاد کے سلسلے میں اپنانے میں کہاں تک کامیاب ہیں اور کہاں تک ناکام ہیں۔
اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی ایک پوری سورہ جسے سورۃ النساء کہتے ہیں اس میں مرد اور عورت کی ازدواجی زندگی کے احکام بتلائے۔ سلف صالحین کا یہ معمول تھا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو نکاح سے پہلے سورۃ النساء اور سورۃ النور کا ترجمہ پڑھا دیا کرتے تھے ہمیں بھی چاہیے جن کے ہاں بیٹی ہو وہ اس کو اگر پورا قرآن پاک ترجمہ کے ساتھ نہیں پڑھا سکتے تو کم از کم سورۃ النساء اور سورۃ النور ترجمہ کے ساتھ پڑھا دیا کریں تا کہ لڑکی اچھی ازدواجی زندگی گزار سکے۔
بعض سلف صالحین کا تو عجیب معمول تھا کہ جب بچی پڑھ لکھ جاتی اور ابھی شادی کا کوئی انتظام نہیں ہوتا تھا۔ (اس وقت پرنٹنگ پریس نہیں ہوتے تھے) تو یہ بیٹی کے ذمّہ لگاتے کم اپنے لئے ایک قرآن پاک لکھ لو تو یہ بچی روزانہ باوضو ہو کر خوش نویسی سے قرآن پاک لکھتی تھی اور جب قرآن پاک مکمل ہو جا تا تو سنہری جلد باندھ کر باپ اپنی بیٹی کو جہیز میں دیا کرتا تھا یہ پہلے وقتوں کا جہیز ہوا کرتا تھا گویا اس کے خاوند کو پیغام مل رہا ہوتا تھا کہ میری بیٹی نے میرے گھر میں جو زندگی گزاری ہے اس کا فارغ وقت اس قرآن پاک کو لکھنے میں گزرا ہے۔
یہ تحریر قوم کی ان ناقص العقل، نادان، ناسمجھ بیٹیوں اور ناتجربہ کار نو عمر بہنوں اور بیٹیوں کے لئے ہے جو محبت کے نام پر عفّت و عصمت، جان اور حتیٰ کہ ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ جو عشق کے گہرے دلدل میں اُتر کر تمام چیز کو بالائے طاق رکھ دیتی ہیں؟ مذہبی تعلیمات و احکامات.....اسلامی، معاشرتی و خاندانی اقدار.....اخلاقی نزاکتیں..... عفّت و عصمت کے تقاضے..... والدین کی محبت اور چھوٹی بہن کے ناموس، جان چھڑکنے والے بھائی سب کچھ ہی بھول جاتی ہیں۔ خوبصورت اور پُر کشش جملوں سے بُنے گئے عشق و محبت کے جال میں پھنس جاتی ہیں، صرف خوبصورتی یا تعلیم یا پیسوں کو معیار بنا لیتی ہیں اور سیرت و اخلاق کو نظر انداز کر دیتی ہیں۔ نہ ماضی کو دیکھتی ہیں نہ مستقبل کو، نہ خاندانی روایات کو نہ اسلامی تعلیمات کو، نہ بوڑھے والدین کو نہ معصوم بھائی بہنوں کو، ان کی نظر اپنی شیطانی خواہشات پر ہوتی ہیں اور حقیقتِ حال سے دور صرف موجودہ دیکھاوے کے خوش کُن منظر پر وہ عجلت میں کئے گئے فیصلے کے تحت گھر کی چوکھٹ سے باہر قدم رکھ دیتی ہیں۔
یہ ناقص عقل بیٹی ماں کے پیٹ میں ہونے والے اس درد کو بھول جاتی جو اس کی وجہ سے اس کی ماں نے کم از کم نو مہینہ برداشت کرتے ہوئے ایسی نالائق بیٹی کے وجود سے دنیا میں رسوائی کا ذریعہ ہوئی۔ وہ ماں بھی یاد نہیں رہتی جس نے معصوم جان کو درد کے ساتھ جنا، پھر اسے پال پوس کر جوانی کی دہلیز تک پہنچایا۔ حسبِ استطاعت تعلیم و تربیت کے زیور سے آشنا کیا، اپنے قیمتی زیورات کو بیٹی کے لئے محفوظ کر دیئے تاکہ اس کے بڑے ہونے پر اس کے نکاح کے وقت کام آجائیں گے۔
اس شریف النفس اور ضعیف باپ سے نظر پھیر دیتی، جس کی نظریں اسے دنیا کے فتنہ و فساد سے بچاتے آئے ہیں، جس نے اپنی پوری جوانی اولاد کے مستقبل کے لئے داؤ پر لگادی، اس کی نیندیں اپنی جوان ہوتی بیٹی کی فکر میں کوسوں دور ہو جاتی ہیں۔ نیند بھی آتی ہے تو اس میں اضطراب و بے چینی کی کیفیت ہوتی ہے، بار بار نیند سے بیدار ہو جاتا ہے۔ ذرا سی آہٹ پر اس کی آنکھ کھل جاتی ہے، وہ نہیں چاہتا کہ اس کی بیٹی کے اُجلے دامن پر ناخن کے برابر بھی کوئی دھبا لگے۔
کیا ان کم ظرف بیٹیوں کو اپنا یہ باپ بھی یاد نہیں رہتا جو بیٹیوں کی خوشیوں کے لئے اپنا سب کچھ نچھاور کر دیتا ہے؟ وہ اپنی بیٹی کے لئے بہترین شریکِ سفر کی تلاش میں ہمیشہ فکر مند رہتا ہے۔ اس نے خاموشی میں نا معلوم کتنے خاندانوں کی تحقیق کروائی ہوگی۔ لیکن جب اس لختِ جگر کی کربناک خبر برق بن کر والدین کے جذبات و احساسات پر گرتی ہے کہ بیٹی نے گھر سے راہِ فرار اختیار کرکے ایک غیر مسلم کے ساتھ ”لومیرج“، ”لیو ان ریلیشن شپ“ یا ”کورٹ میرج“ کرلی ہے۔
والدین اس کی حرکت پر اپنے آپ کو دنیا کے سامنے منھ دکھلانے کے قابل نہیں سمجھتے، احساس کمتری کا شکار ہو کر ڈیپریشن میں چلے جاتے ہیں، بعض اوقات تو خودکشی جیسے حرام عمل کو بھی گلے لگاتے ہیں۔ ان کا دل کہتا ہے کہ تربیت میں ضرور کوئی کمی رہ گئی ہوگی ورنہ یہ سیاہ دن نہ دیکھنا پڑتا اور یہ المناک خبر نہ سننا پڑتی۔ تنہائیوں میں ہمیشہ منھ چھپا کر اپنی تربیت اور بیٹی کی عفّت و عصمت کی محافظت کے لئے روتے ہیں۔ اس کی عزت خاک میں مل کر رہ گئی ہے، اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اس کی کوکھ سے ایسی بیٹی جنم لے گی جو فسق و فجور اور کفر و شرک کے اندھے کنویں میں چھلانگ لگا کر اپنے ایمان کا سودا کر دے گی۔ چھوٹے چھوٹے بہن بھائیوں پر مایوسی کی فضاء طاری ہوجاتی ہے، وہ محلے اور اسکول میں طعنے اور لوگوں کے طنز کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بہن کے اس انتہائی اخلاق سوز عمل کے جارح اقدام کی انہیں امید نہیں تھی۔
ہونا تو یہ چاہئے کہ ایسی ناعاقبت اندیش بہنوں اور بیٹیوں کو سرزنش کی جائے، انہیں سمجھایا جائے، اس مذموم حرکت کے عواقب اور نتائجِ بد ان کے سامنے بیان کئے جائیں۔ انہیں اس بات کا احساس دلایا جائے کہ مسلمان بیٹی گھر سے راہِ فرار اختیار نہیں کرتیں، بلکہ باعزّت طور پر رخصت ہوا کرتیں ہیں۔ یہ تو غیروں کے اطوار و تہذیب ہیں، یہ تو اس دجّالی تہذیب کی پروردہ حیاباختہ دوشیزاؤں کے انداز ہیں جہاں بلوغت کے بعد بیٹی کو ناقابلِ برداشت بوجھ سمجھتے ہوئے گھر کے باہر کے راستے دکھائے جاتے ہیں۔ گھر کی دہلیز سے باہر وہ وہ بوئے فرینڈ اور جھوٹے عاشق کی تلاش میں نامعلوم کتنی بار اپنی عصمت کا سودا کرتی اور کتنے ہوس پرست بھنوروں کے ہاتھوں دھوکہ کھاتی ہے لیکن بار بار لُٹنے اور دھوکہ کھانے کے باوجود اکثر وہ ”اپنا گھر“ بسانے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ اسلام میں مرد کو ”قوام“ کہا گیا ہے۔ گھر کے ہر چھوٹے بڑے معاملات میں مرد کو ذمّہ دار بنایا گیا ہے۔
(جاری)
(قسط دوم)
ملّت کی بیٹیوں! تمہیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ تمہارا رشتہ مسلمان تہذیب و تمدن کے ساتھ جوڑا ہوا ہے، عصرِ حاضر میں وہ معاشرہ دیمک زدہ و شکست خوردہ ہی سہی مگر بہرِ حال اس کی اپنی تہذیب و ثقافت ہے، اپنی پہچان اور مخصوص روایات ہیں۔ بیٹیوں کو وداع کرنے کا اپنا ایک مہذب و محفوظ قرینہ اور طریقہ ہے۔ بے شک شریکِ سفر کے انتخاب میں بیٹیوں کی پسند اور نا پسند کو ملحوظِ خاطر لانا چاہئے، لیکن ساتھ ہی ساتھ تمہیں خوش و خرم، تمہارے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنے والے نرم و سخت، چَشِیدَہ و سمجھدار والدین کا تجربہ، ان کی محبت اور ان کی رائے بھی تو کوئی وزن رکھتی ہے۔ پوری دنیا میں صرف اور صرف وہی تمہارے لئے خیر خواہ ہوسکتے ہیں اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ وہیں ہیں جو تمہیں روتا بلکتا، تڑپتا آنسو بہتا نہیں دیکھ سکتے، ان کی خوشیاں تم سے جڑی ہوتی ہیں۔ والدین ذرا سی دھوپ کی تمازت سے اپنی اولاد کو بچانے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دیتے ہیں بھلا وہ کس طرح گوارا کریں گے کہ ان کی اولاد دائمی آتش کی نذر ہو جائے۔خدارا! اپنا نہیں تو ان بے بسوں کی تو لاج رکھ لو۔ کم علم بیٹیوں و بہنوں! تمہیں معلوم ہے تم نے جس راہ کا انتخاب کیا ہے یہ عزّت کی راہ نہیں ہے بلکہ ذلت و رسوائی اور ناکامی کی راہ ہے۔ یہ تمہارے مستقبل کی تعمیر کا ذریعہ نہیں بلکہ تباہی کا سبب بنے گی۔
میڈیا چاہے وہ پرنٹ، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کیوں نہ ہو اس نے ہماری بہنوں اور بیٹیوں کے دل و دماغ میں جو فتور بھرا ہے اس نے انہیں آئیڈیل ازم کی بیماری میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان میں سے کئی ایک سڑکوں، بازاروں، پارکوں، کلبوں، پارٹیوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آئیڈیل کی تلاش میں ماری ماری پھرتی ہیں اور پھر وہ خاندانی پس منظر، عملی اور اخلاقی کمزوریوں کو پرکھے بغیر ظاہری چمک دمک سے متاثر ہوکر اور دوچار ملاقاتوں کے بعد ”جیون ساتھی“ کا انتخاب کر لیتی ہیں۔
دیکھا جائے تو اس عبث اور فحش و عریاں، فسق و فجور، اور ارتداد کے پیچھے چند والدین بھی ذمّہ دار ہوتے ہیں، جو مخلوط نظامِ تعلیم کے دلدادہ ہوتے ہیں، جو بیٹی کی آزادی، بے حجابی، عریانیت، غیر مردوں سے اختلاط، تنہا پارٹیوں میں جانے، بچیوں کو تعلیمی نوٹس لانے اور پہنچانے کے چکر میں اور بلا امتیاز جنس حلقہ احباب بڑھانے پر کبھی معترض نہیں ہوتے لیکن جب شرم و حیاء کا جنازہ ان کے گھر سے اٹھتا ہے تو رورو کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔
ذمّہ دار وہ مصلحین بھی ہیں جو غیر ضروری مسائل کے پیچھے پڑ کر یا تن آسانی، خویش پروری اور زر اندوزی کی ہوس میں مبتلا ہوکر معاشرتی اصلاح کے فریضہ سے غافل ہوگئے ہیں۔ یہ ان کی غفلت ہی کا نتیجہ ہے کہ ایمان و عقیدہ، شرم و حیاء جیسے الفاظ بے معنی ہوکر رہ گئے ہیں، زنا آسان اور نکاح مشکل ہوگیا ہے، جہیز اور اس جیسی دوسری بہت ساری لایعنی رسوم نے نبی اکرم ﷺ کی آسان ترین سنّت کو مشکل ترین بنا دیا ہے۔
جب تک مرد و زن کے بے حجابانہ اختلاط پر قدغن نہیں لگائی جائے گی، عفّت و عصمت کی اہمیت دلوں میں نہیں بیٹھائی جائے گی، علماء کرام، ائمہ کرام، داعیانِ دین، دانشورانِ ملّت، ہمدردانِ قوم، معاشرتی مصلح اور مبلغ اپنا کردار ادا نہیں کریں گے، نکاح کو جاہلی اور خود ساختہ خاندانی رسوم کی زنجیروں سے آزاد نہیں کروایا جائے گا، جذباتیت کا شکار کئی بہنیں، بیٹیاں خاندان سے، مذہبی اقدار سے بغاوت کرتی رہیں گی، عارضی بندھن قائم ہوتے رہیں گے، خول اترتے رہیں گے، تلخیاں سر اٹھاتی رہیں گی، شہوات کے گھروندے ٹوٹتے رہیں گے، نوخیز کلیاں جرمِ بے گناہی کی آگ میں جلتی رہیں گی۔
اسلام میں نکاح بہت آسان ہے مگر ہم مسلمانوں نے اسے مشکل سے مشکل بنا دیاہے۔ عصرِ حاضر ہمیں نکاح کو آسان سے آسان تر بنانا ہوگا، نکاح کو آسان بنائے بغیر بدکاری کا راستہ روکنا ناممکن ہے، کیونکہ جب فطرت کے تقاضوں کی تکمیل کے جائز راستے بند کئے جائیں گے تو ناجائز راستوں کے فروغ کو کوئی نہیں روک سکے گا۔
جہاں چار سوں عریانیت اور فحاشیت کا ننگا ناچ ہو، سڑکوں پر حیاء باختہ حسن اور بے حجاب بجلیاں ہوں۔ جو خود بھی جلتی ہے اور اپنی دینی و خاندانی روایات کو بھی جلا دیتی ہیں۔ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے نیوز پیپرز، میگزینز اور periodicals میں جہان نیم برہنہ بلکہ عریاں تصویریں ہوں، جہاں اسکرین ٹائمینگز (Screen Timings) کا بڑا وقت ہیجان انگیز مناظر ہوں، شہوانی جذبات کو بھڑکانے ڈرامے و ویڈیوز ہوں۔ گھر، محلہ، اسکول، کالج، شاپنگ مالس اور ذریعے معاش کی مخلوط محفلیں ہوں (یہاں کہاں غائب ہوجاتے ہیں لڑکیوں کی تعلیم کا نعرہ دینے والے نام نہادلبرل مسلم ماہرِ تعلیم؟؟)۔ جب شرعی پردہ کو قدامت پرستی قرار دے کر ترک کر دیا جائے اور لعنتی دجّالی تہذیب کے طور طریقے اپنانے میں فخر محسوس کیا جائے، جب شادی جیسے بندھن کو مشکل سے مشکل تر بنا دیا جائے اور اس کی راہ میں جہیز، معیار اور رسوم و رواج کی بلند دیواریں کھڑی کر دی جائیں۔
نکاح کے رشتے کا معیار سیرت و اخلاق کی بجائے زر، زمین، فلیٹ، کار، Jobs اور خوبصورتی کو بنا لیا جائے۔ ہاں! جب شہوت کی آگ بھڑکانے اور اس کے شعلے بلند سے بلند تر کرنے میں ہر امکانی کوشش تو کی جائے، مگر اس کی تکمیل کی راہ میں ناجائز رکاوٹیں کھڑی کی جائیں تو پھر فحاشیت، عریانیت اور فتنۂ ارتداد سے بھرپور یہ مناظر ہمیں دیکھنے ہی پڑیں گے۔
ان حالات میں ہر حسّاس مسلمان پر عموماً اور اہلِ علم پر خصوصاً یہ ذمّہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہمیں اس مسئلہ کا حل دجّالی عینک لگا کر نہیں، اسلامی شریعت کا چراغ روشن کرکے سوچنا ہوگا۔ ہمیں ان مخلوط مجلسوں، تعلیم گاہوں، تفریح گاہوں اور پارکوں پر نظر رکھنی ہوگی جہاں گناہ کے جراثیم پنپتے اور بدکاری کے بیج نشوونما پاتے ہیں۔ ہمیں گھروں میں بھی بچیوں کے حرکات و سکنات، ان کے دوست و احباب، ان کے دجّالی تہذیب کے فتنہ یعنی موبائیل پر نظر رکھنی ہوگی، کیونکہ آج وہ دور رہا ہی نہیں کہ آپ انہیں موبائیل کے استعمال سے منع کرسکے۔ ان کی تنہائیوں کے اوقات، ان کے موبائیل استعمال (mobile access) کرنے کے طریقے وغیرہ وغیرہ پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔
ہمیں اپنے گھروں سے اس دجّالی تہذیب کے فتنہ کیبل کنیکشن، وائی فائی کنکشنز اور موبائیل کے استعمال جن کے ذریعے فحش اور عریاں فلموں اور ڈراموں کو گھر گھر پہنچا کر ذہنوں کو پراگندہ اور مقدس رشتوں کو پامال کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں، اس پر عقابی نگاہ پیدا کرکے اپنے قابو میں کرنا ہوگا، الحمداللّٰہ! یہ ناممکن نہیں ہے بس تھوڑی حساسیت اور اس کی معلومات ہو۔ والدین کو اعلیٰ و ارفع مقامات پر فائز کرنے کی وجہ نسل نو کی تربیت میں ان کا گراں قدر کردار اور اولاد کی فلاح و بہبود کے لیے اپنا آرام و سکون نثار کرنا ہے۔ حقیقتاً یہ ایسا فتنہ ہے جس کے مضر اثرات ہماری نسلوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔
سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا پر جس قسم کے مواد پیش کئے جاتے ہیں جن کی تفصیلات بعض ناظرین و والدین سے معلوم ہوتے ہیں، ان کی بناء پر خیال ہوتا ہے کہ جن والدین نے گھروں میں فحاشی اور عریانیت کے یہ اڈّے قائم کر رکھے ہیں، انہوں نے شاید اپنے ہاتھوں سے اپنی اولاد کے ایمان اور شرم و حیاء کا گلا گھونٹ دینے کا عزم کر رکھا ہے۔ایک حسّاس مسلمان کو چاہئے کہ وہ جیسے مال و متاع کے ڈاکوؤں کو دیکھ کر ”بچاؤ! بچاؤ!“ کی آوازیں بلند کرتا ہے یونہی ان غارت گرانِ ایمان و حیاء سے بھی ”الحذر، الحذر“ کہتا ہوا دور سے دور بھاگ جائے۔
ہمیں چاہئے کہ گھر سے خاندان تک، محلّے سے بازار تک اور شہری سطح سے ملکی سطح تک اس امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضہ کو زندہ کریں، اس فریضہ کا احیاء فر د اور معاشرہ کی نیک بختی کا ضامن ہے، ا س کے احیاء سے امّت میں خیر اور صلاح کے جذبات پرورش پائیں گے اور شر و فساد کے عوامل کا ازالہ ہوگا اور ایسی صالح فضا بنے گی جس میں فضائل و آداب کے پھولوں کا کھلنا آسان ہوگا، اس امّت کے افضل الامم ہونے کا راز اسی فریضہ کی ادائیگی میں مضمر ہے۔
سورۃ النساء میں ہے: ”تم بہترین امّت ہو جسے لوگوں کے لئے برپا کیا گیا ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو“۔ سورۃ التوبہ میں ایسے مخلص اور مجاہد مؤمنوں کے نو اوصاف بیان کئے گئے ہیں، جن کی جانیں اور اموال اللّٰہ نے جنّت کے بدلے خرید لئے ہیں، ان نو اوصاف میں سے دو وصف یہ ہیں: ”وہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے ہیں“۔ انسانیت کے عظیم خیر خواہ اور ہمارے آقا حضرت محمد ﷺ نے متعدد احادیث میں امّت کو اس فریضہ کی ادائیگی کرتے رہنے کی تاکید فرمائی ہے، یہاں تک فرمایا کہ اگر تم نیکی کا حکم نہیں دو گے اور برائی سے نہیں روکو گے تو تمہاری دعائیں قبول نہیں ہوں گی۔ (ابنِ ماجہ)
آپﷺ نے بنی اسرائیل کی ہلاکت اور ان پر اللّٰہ کی لعنت کی پہلی وجہ بھی یہی بیان فرمائی ہے کہ وہ منکرات کا ارتکاب ہوتے دیکھتے تھے لیکن ان سے منع نہیں کرتے تھے۔ اس میں شک نہیں کہ اللّٰہ کے کچھ مخلص بندے آج بھی حالات اور مفادات سے متاثر ہوئے بغیر اس فریضہ کو زندہ رکھے ہوئے ہیں لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ جیسے منکرات کی اشاعت کرنے والوں نے اپنے سارے وسائل جھونک دیئے ہیں اسی طرح اہلِ حق بھی ان کے سدِّباب کے لئے وہ سب کچھ کر گزریں جو ان کے بس میں ہے۔ اگر علماء اور دیندار طبقے نے اس فریضہ کے احیاء کی سنجیدہ اور اجتماعی کوشش نہ کی تو فواحش اور فتنۂ ارتداد کی آگ ان کے دامن کو بھی جلا ڈالے گی، ایمان کے لٹیرے ان پر بھی حملہ آور ہوں گے اور گناہوں کی بیماریاں ان کے اہل و عیال کو بھی ادھ مرا کردیں گی اور اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ ایسا ہوچکا ہے تو ہم اس دعویٰ کی کلّی تردید ہر گز نہیں کر سکتے......!!!! دیکھئے جب کچرا گھر کے باہر ہوتا ہے تو جلد سے جلد اسے ہٹا نے کی کوشش ہونی چاہئے ورنہ اس کی بدبو کبھی نہ کبھی ہمارے گھر کو بھی بدبودار بنا دیتی ہے۔
قوم و ملّت کے باشعور و حسّاس لوگوں کو آگے بڑھنا ہوگا۔ ہمیں اپنی بیٹیوں کی تعلیم و تدریس کے لئے اداروں کو کھولنا ہوگا، یہ موجودہ پرفتن دور کی اشد ضرورت ہے۔ جس طرح اسکول سے چھوٹے بچوں کو لانے لیجانے کے لئے فکرمندی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے ٹھیک اسی طرح عفت و حیا اور پاکدامنی کے لئے ہمیں یہ قربانی بھی دینی ہوگی۔ ارتداد کے فتنوں کی بڑی وجہ تعلیمی ادارے بھی ہیں۔ میں نے اورنگ آباد شہر میں اس کی مثال بھی دیکھی ہے، واقعی قابلِ مبارکباد ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنی سی کوشش شروع کردی۔ میں بات کررہا ہوں نوکھنڈا گرلز کالج کی جہاں کالج کی بیٹیوں کو لانے لے جانے کے لئے گھر سے کالج تک بسوں کا نیٹ ورک قائم کیا ہوا ہے۔ کالج کے مین گیٹ کے بھی سخت اصول ضوابط ہیں۔
حیدرآباد کے علاقے سعیدآباد میں بھی اس کی مثال آپ کو جامعہ البنات میں نظر آئے گی جہاں ملّت کی بیٹیاں عفت و حیاء کی چادر میں دینی علوم کے ساتھ عصری تعلیم وہ بھیhigher education بھی حاصل کررہی ہیں۔ اُمّتِ مسلمہ کے پاس وقف کی بڑی بڑی ملکیت ہیں وہاں ہم اپنے پیسوں پر اُمّت کی ان بیٹیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرسکتے ہیں۔ اس طرح کی بہت سی مثالیں اور بھی ہوں گی، ہمیں مخلصانہ طور پر خلوص و للّہیت کے ساتھ اس اہم مسئلے پر سر جوڑ کر ایک تعمیری لائحہ عمل مرتب کرنا ہوگا۔ اور اگر یہ نہ کر سکے تو قوم کی بیٹیوں کو بنیادی تعلیم ہی دیجئے اس میں اس کی عزّت و عصمت اور آخرت تو محفوظ رہے گی۔
برائی کے سدِّباب کے لیے ہمیں اگر قوت کا بھی استعمال کرنا پڑے تو اس سے گریز نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ بدی، برائی، شر، فساد و فتنہ کے خلاف جہاد ایمان کا تقاضا ہے۔کیونکہ ہمارے آقا محمدﷺ نے فرمایا ”تم میں سے جو شخص برائی کو دیکھے تو اسے طاقت سے بدل ڈالے۔ اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو پھر زبان سے (اس کے خلاف) جہاد کرے اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو کم از کم پھر اپنے دل میں ہی اس سے نفرت کرے اور یہ آخری کیفیت نہایت کمزور ایمان (کی نشانی) ہے“۔ (مسلم، ترمذی و ابوداؤد)
الحمد اللّٰہ! ملّت کے غیور اور غیرت مند افراد (خواتین و مرد) ان شیطانی فتنوں میں ملوث بیٹیوں و بہنوں کو ان کے گھر جاکر واعظ و نصیحت، نرم و سخت گفتگو کے ذریعے سمجھانے کی حتیٰ الامکان کوشش کر رہے ہیں۔ ممبئی جیسے مادہ پرست شہر میں بہنیں بھی خلوص کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ہم کچھ نہیں تو ان کے اس کام کی سرہانہ تو ضرور کرسکتے ہیں، تاکہ انہیں کام کرنے کا حوصلہ ملے۔ اللّٰہ ان کے عزائم مزید بلند کرے، انہیں صبر و استقامت عطاء فرمائے۔
ہمیں اس بات کا علم ہے کہ یہ نحیف سی آواز ”صدا بصحرا“ ثابت ہوگی، اس صحرا میں جہاں لاکھوں آوازیں پہلے سے موجود ہونگی، ایک آواز اور ہی سہی....... شاید یہی آواز مغفرت کا سامان بن جائے۔ کل روزِ محشر اللّٰہ کے حضور جب آوازوں کے صحرا سے ساری آوازوں کو جمع کیا جائے گا تو ہم خوش نصیب ہوں گے کہ کئی سنائی دینے والی آوازوں میں ایک آواز ہماری بھی شامل ہوگی۔ ان شاء اللّٰہ! آئندہ اس موضوع پر مزید اہم نکات کے ساتھ ہم کلامی کا شرف حاصل ہوگا۔ اللّٰہ سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا والا بنائے۔ ملّت کی ان نادان بیٹیوں کو دین کا صحیح شعور و فہم، عقل و دانائی عطاء فرمائے۔ اللّٰہ سے دعا گو ہوں کہ وہ ان بھٹکے ہوئے آہُوؤں کو پھر سُوئے حَرَم لوٹ آنے کی سبیل نکالے۔ انہیں شیطان کے چنگل سے محفوظ رکھے۔ (آمین)
(ختم شدہ)
•┅┄┈•※✤م✿خ✤※┅┄┈•
(18.04.2023)
🍁༻مسعود محبوب خان༺🍁 (masood.media4040@gmail.com)
Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
○○○○○○○○○
Comments
Post a Comment