طَیِّب و خَبِیث غذا اور اسلام
••طَیِّب و خَبِیث غذا اور اسلام••
┄┅════❁﷽❁════┅┄
══════•❁ا۩۩ا❁•══════
⊱•طَیِّب و خَبِیث غذا اور اسلام•⊰
══════•○ ا۩۩ا ○•══════
🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
● قرآن و حدیث اور حلال و پاکیزہ غذا
● خَبِیث و حرام غذا شیطان کی عبادت
● طَیِّب و حلال غذا تقربِ الٰہی کا ذریعہ
● اے طائرِ لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
● لذتِ آشنائی کا نمونہ
● طَیِّب و حلال غذا کے روحانی، جسمانی و معاشرتی پہلو
● • روحانی پہلو • جسمانی پہلو • معاشرتی پہلو
حلال و حرام خوراک کے اثرات بچوں پر
● عبادت و دعاء کی مقبولیت کا اِسْتِحْقاق
● حلال و حرام غذاؤں کے انسانی صحت اور زندگی پر اثرات
● درآمدہ اَشیائے خورد و نوش (خوراک) میں ’حرام‘ اجزاء
● غذائی اَجْناس میں حرام اجزاء کی آمیزش
● • مینرل واٹر • دودھ • شکر • جیلاٹین • بیکنگ پروڈکٹس • پوڈنگز • چائنا گراس
• اجینو موٹو (چائنہ سالٹ) • اجینو موٹو کے مضر اثرات
● مشبوح/ مشتبہ غذا سے اجتناب
● بحیثیت مسلمان ہمارا فریضہ
● رزق حلال بھی عین عبادت ہے
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
● قرآن و حدیث اور حلال و پاکیزہ غذا:
ہر مسلمان کے لیے اپنے دنیوی و اخروی تمام معاملات میں شرعی احکام اور دینی تعلیمات کی پابندی از بس ضروری ہے۔ اللّٰہ ربّ العالمین! نے خورد و نوش کی اشیاء میں حلال ہونے کے ساتھ طَیِّب و پاکیزہ ہونے کی بھی شرط عائد کی ہے۔ کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "لوگو! زمین میں جتنی حلال اور طَیِّب (پاکیزہ) چیزیں ہیں، انہیں کھاؤ، پیو اور (دیکھو) شیطانی راہ پر نہ چلنا، (یاد رکھو) وہ تمہارا کھلا دشمن ہے"۔ (سورۃ البقرہ: 168)
اسی سورۃ البقرہ میں اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: اے ایمان والوں! ان طَیِّب چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطاء کی ہیں اور اللّٰہ کا شکر ادا کرو اگر تم صرف اسی کی بندگی بجا لاتے ہو۔ (سورۃ البقرہ: 172)
قرآن و حدیث سے حلال غذاؤں کی اہمیت اور حرام غذاوں سے بچنے کی تاکید کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: يٰۤـاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوۡا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعۡمَلُوْا صَالِحًـا ؕ اِنِّىۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِيۡمٌ۔ اے پیغمبرو! کھاؤ طَیِّب چیزیں اور عمل کرو صالح، تم جو کچھ بھی کرتے ہو، میں اس کو خُوب جانتا ہوں۔ (سورۃ المؤمنون: 51)
سورۃ المائدہ میں ارشادِ ربانی ہے: اور جو حلال پاکیزہ رزق اللّٰہ نے تمہیں عطاء فرمایا ہے اس میں سے کھایا کرو اور اللّٰہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ (سورۃ المائدہ: 88)
ایک اور جگہ فرمایا گیا: لہٰذا اللّٰہ نے جو حلال طَیِّب چیزیں تمہیں رزق کے طور پر دی ہیں، انہیں کھاؤ، اور اللّٰہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو، اگر تم واقعی اسی کی عبادت کرتے ہو۔ (سورۃ النحل: 114)
حضور اکرمﷺ نے بروایت عبداللّٰہ بن مسعودؓ فرمایا کہ "رزقِ حلال کا کَسْب فرض ہے"۔
رزق حلال و طَیِّب کو جہاد جیسی عظیم عبادت کے برابر لایا گیا ہے، کیونکہ پاکیزہ رزق حاصل کرنے کے لئے کافی تگ و دو، محنت و مشقت جانفشانی اور نفس کشی اختیار کرنا پڑتی ہیں۔
حضرت عمر فاروقؓ فرماتے ہیں: "راہ خدا ميں جہاد کے بعد اگر کسی حالت ميں جان دينا مجھے سب سے زيادہ محبوب ہے تو وہ يہ ہے کہ ميں اللّٰہ تعالیٰ کا فضل یعنی رزق حلال (بذریعہ تجارت) تلاش کرتے ہوئے کسی پہاڑی درے سے گذر رہا ہوں اور وہاں مجھ کو موت آجائے"۔ (بیہقی)
روح کی صحت کا دارومدار جسم کی صحت پر ہے، اور جسم کی صحت کا دارومدار خوراک اور صحت مند غذا پر ہے، لہٰذا روح کی صحت کا دارومدار خوراک اور صحت مند غذا پر ہے۔
حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں رسول اللّٰہﷺ نے ارشاد فرمایا: "اللّٰہ تعالیٰ نے بیت المقدس پر ایک فرشتہ کو معمور فرمایا جو ہر رات یہ ندا لگاتا ہے کہ: جس نے حرام میں سے کھایا اس کا نہ کوئی نفل قبول کیا جائے گا نہ ہی کوئی فرض"۔
امام غزالیؒ کیمیائے سعادت میں لکھتے ہیں کہ غذا سے بدن کا گوشت اور خون پیدا ہوتا ہے۔ پس اگر غذا حرام ہو تو اس سے قساوت، یعنی سختی پیدا ہوتی ہے۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ عبادت کے 10؍ جز ہیں۔ ان میں 9؍ کا تعلق رزقِ حلال سے ہے۔
● خَبِیث و حرام غذا شیطان کی عبادت:
اہل ایمان اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ؛ طَیِّب، پاکیزہ، حلال غذاؤں کا تناول فرمانا ایک مستقل عبادت ہے اور اللّٰہ ربّ العالمین! کو اِلٰہ ماننے کی ایک نشانی بھی ہے۔ اگر ہم اپنی غذا میں حلال و طَیِّب رزق کا پاس و لحاظ نہیں رکھتے تو یہ عمل اللّٰہ سے بغاوت کا مرتکب نہ بنا دے۔ یہ اِس لیے کہ خَبِیث و حرام غذا سے شیطان کی عبادت ہوتی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کے اِس حکم سے تجاوز کرنے سے اللّٰہ کا غضب نازل ہوتا ہے۔
حلال طَیِّب کھانا شیطان سے بچنے کی ڈھال ہے۔ شیطان کا ہتھیار حرام اور خَبِیث خوراک ہے۔ حرام اور خَبِیث کھانا گویا کہ شیطان کے خطوات کی اتباع ہے۔ اس طرح وہ دشمنی کرتا ہے۔
● طَیِّب و حلال غذا تقربِ الٰہی کا ذریعہ:
رزق طَیِّب کا اہتمام کرنا تقربِ الٰہی، تقویٰ، تزکیہ نفس اور تطہیر نفس کی بنیاد ہے، جس پر ابدی فلاح و کامیابی کا دار و مدار ہے۔
حلال کے معنی رسیاں کھول کر آزاد کر دینے کے ہیں اس لئے حرام کے معنی اس کے الٹ ہوئے، یعنی کسی کو کسی بات سے روک دنیا ، منع فرمانا یا اس پر مکمل پابندی لگا دینا۔ طَیِّب کی بہترین تعریف مفردات القرآن میں کی گئی ہے۔
مفردات القرآن میں علامہ راغب اصفہانی فرماتے ہیں، طَیِّب وہ چیز ہے جس سے حواس لذت اٹھائیں اور جی مزہ پائے۔ گویا اسلام ہمارے جمالیاتی ذوق کی بھی تسکین کرتا ہے۔ اس تعریف سے واضح ہوا کہ صرف پانی کا پیاس بجھا دینا اور کھانے کا پیٹ بھرنا کافی نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کھانے میں غذائیت کے ساتھ لذت بھی ہو۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق اللّٰہ تعالیٰ کی جانب سے عطاء کردہ جسم اللّٰہ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے یہ جسم اللّٰہ کی امانت بھی ہے اس کے استعمال کے حوالے سے اللّٰہ ربّ العالمین! نے جو احکام و ہدایات دیئے، ان ہی کے مطابق یہ جسم صحیح و سالم رہ سکتا ہے، ورنہ تباہی و بربادی انسان کا مقدر ہوسکتی ہے۔ اس لیے ہمیں جسم کے استعمال کے حوالے سے شرعی احکام کو ملحوظ رکھنا نہایت ضروری ہے۔ جسم کی نشوونما میں غذا ایک بڑا کردار ادا کرتی ہے۔
● اے طائرِ لاہوتی اس رزق سے موت اچھی:
فرمانِ نبویﷺ ہے: لا یومن احدکم حتی یکون ھواہ تبعا لما جئت بہ۔ (مشکوۃ المصابیح: 30، شرح السنۃ، کتاب الایمان: 104)
(تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہشات اس (شریعت) کے تابع نہ ہو جائیں جو میں لے کر آیا ہوں۔)
اس حدیث مبارکہ کی رو سے کوئی شخص اس وقت تک حقیقی ایمان کا دعویٰ نہیں کرسکتا جب تک وہ اپنی تمام خواہشات و معاملات زندگی کو ترک کرکے مکمل طور پر دین کو اختیار نہ کرلے۔ ہمیں بتایا کیا جا رہا ہے کہ تمہارے اندر اس وقت تک ایمان پختہ اور راسخ ہو ہی نہیں سکتا جب تک تمہاری خواہشیں، تمہاری آرزوئیں، تمہارے ارادے اور تمہاری پوری کی پوری زندگی دین کے قالب میں نہ ڈھل جائے اب یہ کتنا بڑا تضاد ہے کہ ہم مسلمان کہلاتے ہیں اور ایماندار ہونے کے بڑے بڑے دعوے بھی کرتے ہیں لیکن دنیا بھر میں ذلیل و رسوا بھی ہو رہے ہیں۔
کبھی ہم نے سوچا کہ ہم اتنی دعائیں مانگتے ہیں، مگر دعاؤں کا اثر آخر کیوں نظر نہیں آتا؟ باطل کے مقابلے میں ہمیں ہر محاذ پر شکست اور ہزیمت کا سامنا کیوں ہے؟ اگر ہم خود اپنا احتساب کریں اور اپنے اعمال پر تنقیدی نظر ڈالیں تو یہ حقیقت ہم پر منکشف ہو جائے گی کہ ہم اپنے کھوکھلے کردار اور بدباطنی کی وجہ سے عملًا اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑانے کا موجب بن رہے ہیں۔ اللّٰہ کی جانب سے نازل کردہ طَیِّب و حلال خوراک کا استعمال دن بہ دن ہمارے لئے کیوں مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔
➖➖➖➖➖➖➖
آج اگر دعائیں قبول نہیں ہو رہیں، اخلاص و یکسوئی کے باوجود عبادات میں ایسا لطف و سُرور محسوس نہیں ہوتا جو یاد الٰہی کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے۔ معاشرہ ذہنی، روحانی ابتری، فکری و اخلاقی تنزلی اور بے سکونی کا شکار ہے، تو اس کا ایک بنیادی سبب رزقِ طَیِّب میں محتاط رویہ نہ اپنانا ہے۔ کیونکہ رزقِ طَیِّب سے قلب و روح کو جِلا ملتی ہے۔ آج بھی اگر رزقِ طَیِّب یعنی حلال غذا کا اہتمام کیا جائے تو اسی سُرور و لذت سے قلوب آشنا ہوسکتے ہیں۔ جس کی عکاسی علامہ اقبالؒ نے اپنے شعر میں کی تھی ؎
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذتِ آشنائی
● لذتِ آشنائی کا نمونہ:
یہ اللّٰہ اور اللّٰہ کے رسول سے لذت آشنائی کا نمونہ میں نے ہمارے رفیقِ خاص ڈاکٹر محمد فاروق لوکھنڈے (نیورو سرجن، ممبئی) کی زندگی میں دیکھا۔ الحمد اللّٰہ! ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ایک طویل عرصے سے قریبی مراسم رہے ہیں، ان کے ہمراہ کئی اسفار کے مواقع فراہم ہوئے ہیں، ساتھ ہی ان کے مکان پر بارہا رہنے کا اعزاز بھی حاصل رہا۔ میں نے انہیں عبادات، معاملات اور راہِ عزیمت میں ہمیشہ بلند مقام پر ہی پایا۔ ان کی زندگی کے بہت سے پہلو قابلِ ذکر ہیں مگر آج یہاں میں ان کے زندگی کے ایک نمایاں پہلو کی گواہی دینا چاہوں گا کہ انہیں ہمیشہ اَشیائے خورد و نوش (خوراک) حلال و حرام کی تمیز کے ساتھ ہی نوش فرماتے ہوئے پایا۔ ہم لوگ بعض اوقات غیر شعوری طور پر رزق حرام کا لقمہ اپنے شکم کو سیر کرنے کی خاطر قبول فرماتے ہیں۔ مگر اس معاملے میں ڈاکٹر صاحب واقعی مختلف و منفرد انسان نظر آئے۔
ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ اللّٰہ ہماری دعاؤں کو آخر کیوں سنے گا، جب کہ ہم نے اپنی غذاؤں میں، اپنی خورد و نوش میں 'حرام' اجزاء شامل کرلئے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب خود بھی حرام خوری سے محفوظ رہتے ہیں اور اپنے مریضوں کو بھی اس گناہ سے بچانے کی حتیٰ الامکان کوشش کرتے ہیں۔ مریضوں کو دوا دیتے وقت بھی اس بات کا پاس و لحاظ رکھتے ہیں کہ اس دوا میں حرام اجزاء تو شامل نہیں ہیں۔ ادویات تحقیق کے بعد ہی دیتے ہیں۔ دنیا میں آج بھی ایسے لوگ ہیں جنہوں نے انفرادی زندگی سے اجتماعی زندگی تک شریعت کے احکام و ہدایات کو زندہ رکھا ہے۔ باریک سے باریک معاملات میں شریعت کو ترجیح دیتے رہے۔
قول و فعل کے تضاد اور اسلامی تعلیم سے دوری کی بناء پر ہم عملی طور پر عالمِ کفر کی اعانت اور مدد کر رہے ہیں۔ عالم کفر کا تو خیر کام ہی اسلام دشمنی ہے۔ لیکن منافقت اور تضاد پر مبنی اپنے اعمال کے باعث ہم اسلام کو کفر سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ایک قدم اسلام کی طرف بڑھتا ہے تو دوسرا کفر کی طرف۔
حضرت سید محمد گیسو درازؒ فرماتے ہیں: "اس زمانے میں لوگ لقمۂ حلال کی بالکل پروا نہیں کرتے، جو چیز نظر آتی ہے آنکھیں بند کرکے کھا جاتے ہیں اور پھر تاویل کرتے ہیں کہ یہ یوں ہے اور یوں نہیں ہے، شریعت ہمارے لیے کیا چیز حلال کرتی ہے اور ہم مسلمانوں کا کیا حال ہو گیا ہے، نہ حلال کی پروا کرتے ہیں نہ حرام کی، اور حرام کو مباح بنا کر کھا جاتے ہیں، اکثر یہ ہوتا ہے حلال اور حرام کے متعلق صریحی اور قطعی نصوص کو ترک کر دیا جاتا ہے اور بعض ظنی اور بعید از قیاس آیات و احادیث سے استدلال کرکے حرام کو حلال بنا دیا جاتا ہے"۔ (حوالہ: شرح جوامع الکلم)
اس صورت حال کو بدلنے کے لئے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کا مسلسل محاسبہ کرتے رہیں اور صرف اسلام کا نام لینے پر ہی اکتفا نہ کریں بلکہ قرآن و سنّت کے اتباع میں وہ حقیقی پاکیزہ و طیب اور ایماندارانہ زندگی بسر کریں، جس کا مکمل نمونہ سیرتِ نبویﷺ کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔
● طَیِّب و حلال غذا کے روحانی، جسمانی و معاشرتی پہلو:
• روحانی پہلو:-
روحانی پہلو میں سب سے اہم چیز رزق طَیِّب و حلال اور طَیِّب وحلال خوراک ہے۔ حلال خوراک جسم میں پاکیزہ و طَیِّب خون پیدا کرتی ہے جس سے اعصاب مضبوط ہوتے ہیں۔ چنانچہ حلال خوراک استعمال کرنے والوں کی قوت مدافعت مضبوط ہوتی ہے۔ روحانی پہلو کا سب سے اہم جزو اللّٰہ کی ذات پر توکل اور ایمان کی قوت ہے۔ ایمان کی قوت ہر مسلمان کی ذات کا جزوِ اعظم ہے اور یہی چیز مسلمانوں کو دوسری قوموں سے ممتاز کرتی ہے۔
مستجاب الدعوات:۔ دعاؤں اور عبادات کی قبولیت کے لیے بھی حلال کھانا شرط ہے، اسی لیے ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے آنحضرتﷺ سے درخواست کی کہ میرے لئے دعا فرمائیے کہ "اُدْعُ اللّٰہَ أَنْ یَّجْعَلَنِيْ مُسْتَجَابَ الدَّعْوَۃِ" میں مستجاب الدعوات ہو جاؤں (یعنی جو دعا کروں وہ قبول ہو جایا کرے)، آپﷺ نے فرمایا: "اے سعدؓ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ، حلال لقمہ کھایا کرو، مستجاب الدعوات ہو جاؤ گے۔
سورۃ المؤمنون کی تفسیر میں صاحب تفہیم القرآن مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ فرماتے ہیں، عمل صالح سے پہلے طَیِّبات کھانے کی ہدایت سے صاف اشارہ اس طرف نکلتا ہے کہ حرام خوری کے ساتھ عمل صالح کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ صلاح کے لیے شرط اول یہ ہے کہ آدمی رزق حلال کھائے۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ "لوگو! اللّٰہ خود پاک ہے اس لیے پاک ہی چیز کو پسند کرتا ہے"، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی اور اس کے بعد فرمایا، "ایک شخص لمبا سفر کرکے غبار آلود و پراگندہ حال آتا ہے اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعائیں مانگتا ہے، یا ربّ! یا ربّ!! مگر حال یہ ہوتا ہے کہ روٹی اس کی حرام، کپڑے اس کے حرام، اور جسم اس کا حرام کی روٹیوں سے پلا ہوا۔ اب کس طرح ایسے شخص کی دعا قبول ہو"۔ (مسلم، ترمذی، مشکوٰۃ المصابیح: 241)
حقیقت یہ ہے کہ جو آدمی اپنے پیٹ میں حرام کا لقمہ ڈالتا ہے تو چالیس دن تک اس کی عبادات و دعائیں قبول نہیں کی جاتیں۔ جس بندے کی نشوونما حرام اور سود کے مال سے ہوئی ہو، جہنم کی آگ اس کے زیادہ لائق ہے۔ (بروایت عبد اللّٰہ بن مسعودؓ، ابن کثیر: 1/267)
ابو ایوب انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: "جو شخص متعدد دنوں تک حلال رزق کھاتا ہے، اللّٰہ تعالیٰ اس کے دل کو نورانیت سے بھر دیتا ہے اور اس کے دل سے زبان کی طرف حکمت اور دانش مندی کے چشمے جاری کر دیتا ہے"۔
حرام یا مشتبہ رزق کھانے سے انسان میں بہت ساری روحانی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ جیسا کہ کام چوری، والدین اور بزرگوں کی نافرمانی، جھوٹ، بے ایمانی، چوری، دغا اور فریب وغیرہ۔ رزق حرام کھانے والا ہمیشہ دل میں ندامت و پشیمانی محسوس کرتا ہے۔ اور رزق حلال کھانے والا ہمیشہ طبیعت میں انشراح محسوس کرتا ہے۔
➖➖➖➖➖➖➖
• جسمانی پہلو:-
رسول اللّٰہﷺ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا: لایدخل الجنۃ جسد غذی بحرام۔
ایسا جسم جو حرام غذا سے پروان چڑھا ہو اس پر جنت حرام ہے۔
امام غزالیؒ لکھتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص متواتر حلال روزی کھاتا ہے جس میں حرام کی آمیزش نہ ہو، حق تعالیٰ اس کے دل کو پُرنور کر دیتا ہے اور حکمت کے چشمے اس کے قلب سے زبان پر جاری کر دیتا ہے۔
اس حدیث پاک میں تین بشارتیں دی گئی ہیں: (1) تنویر قلب (2) چشمہ حکمت اور (3) قلب کے راستے طہارت لسانی۔
ایک آدمی نے امام احمد بن حنبلؒ سے پوچھا: دل کیسے نرم ہوتا ہے؟ آپؒ نے فرمایا: "حلال کھانے سے"۔
ایک بزرگ کا قول ہے کہ ہر چیز کا تقویٰ ہے اور پیٹ کا تقویٰ رزقِ حلال ہے۔
حرام خوری کے نتیجے میں اعضاء انسانی میں سب سے پہلے دل پر اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔ غذا حرام و ناپاک ہوگی تو دل سیاہ ہوگا اس میں قساوت و ظلمت ہوگی۔ دل کی صفائی اور پاکی کے لیے یہ لازم ہے کہ انسان حلال پر اکتفاء کرنے والا بنے۔ حرام سے بھی اور مشتبہ چیزوں سے بھی اپنے آپ کو دور رکھے۔
جامع الترمذی میں حضرت عبداللّٰہ بن مسعودؓ کی ایک روایت میں پیٹ اور غذا کی حفاظت کو اللّٰہ سے حیاء کا حصّہ قرار دیا گیا ہے۔ الاستحياء من الله حق الحیاء ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان تحفظ البطن و ماحوی (جامع الترمذی، کتاب القيامتہ)
• معاشرتی پہلو:-
معاشرتی اعتبار سے کَسْب حلال کے نتیجہ میں آدمی کو معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اگر اسے خالصتاً دینی اور مذہبی نگاہ سے دیکھیں تو وہ مخلوق کے ساتھ ساتھ خالق کی نگاہ میں بھی محبوب ترین بندہ قرار پاتا ہے۔
● حلال و حرام خوراک کے اثرات بچوں پر:
رزق حلال و طیب بچوں کی جسمانی اور روحانی ہی نہیں بلکہ تربیت کے ہر زاویہ کو بہتر بنانے میں بنیادی کردار کا حامل ہے۔
تصور کریں تربیت کے باقی تمام پہلووں پر خوب عمل کیا لیکن بچوں کے لئے رزق حلال و طیب کو نذر انداز کیا گیا۔ حرام و حلال اور مشتبہات سے قطع نظر ان کو جو ہاتھ آیا سب کچھ کھلا دیا۔ تو اس کا نقصان یہ ہوگا کہ تربیت پر کی جانے والی باقی ساری محنت بھی ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔ والدین نے اپنے لئے اور بچوں کیلئے رزق حلال اور طیب کا اہتمام نہیں کیا تھا۔ بہرحال بچوں کی کردار سازی اور شخصیت سازی میں رزق حلال و طیب کا بہت زیادہ عمل دخل ہے۔
بچوں کو حلال غذا کھلانے کے حوالے سے والدین پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے۔ کہ وہ بچے کی پیدائش سے پہلے سے ہی اس کے لئے حلال و طیب غذا کا انتظام کریں۔ اس سے اولاد نیک اور صالح ہو جائے گی۔
ایک موقع پر نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ تم اپنی اولاد کی تربیت ماں کے پیٹ سے ہی شروع کردیا کرو۔ صحابہ نے پوچھا کہ یا رسول اللّٰہﷺ یہ کس طرح ممکن ہے کہ بچہ ابھی پیدا ہی نہیں ہوا۔ آپﷺ نے فرمایا اس کی ماں کو حلال غذا کھلاو۔ پس ماں باپ کے جس نطفے سے بچہ پیدا ہوا اگر وہ نطفہ خود حلال وطیب رزق سے بنا ہے۔ تو یقین رکھیے کہ بچہ نیک اور صالح ہوگا۔
ایک روایت میں ہے کہ نیک بخت انسان کی نیک بختی کی بنیاد شکم مادر میں ہی رکھی جاتی ہے۔ جبکہ بدبخت انسان کی بدبختی کی بنیاد بھی شکم مادر میں ہی رکھی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ نیک بخت انسان حلال وطیب رزق سے بننے والے نطفے سے جنم لیتا ہے۔ اور بدبخت انسان حرام رزق سے بننے والے نطفے سے جنم لیتا ہے۔
● عبادت و دعاء کی مقبولیت کا اِسْتِحْقاق:
جب غذا حلال نہ ہو تو عبادت اور دعاء کی مقبولیت کا بھی استحقاق نہیں رہتا۔ حرام غذا کے استعمال سے دعائیں اور عبادات رد ہونے کے علاؤہ انسان جنت میں داخلے کا مستحق بھی نہیں رہتا۔ حدیث میں یہ فرمایا گیا ہے کہ وہ جسم جنت میں داخلے کا حقدار نہیں جس کو حرام سے غذا دی گئی ہو۔
کسب حلال اور رزق طیب کی بے شمار برکات ہیں۔ جب لقمۂ حلال انسان کے پیٹ میں جاتا ہے تو اس سے خیر کے امور صادر ہوتے ہیں، بھلائیاں پھیلتی ہیں، وہ نیکیوں کی اشاعت کا سبب بنتا ہے۔ اس کے برعکس حرام غذا انسانی جسم کو معطل کر دیتی ہے۔جس شخص کی غذا حرام ہو تو اس کی دعاء کیسے قبول ہوسکتی ہے۔
تاہم ایک طرف اگر حلال و حرام کا یہ نازک مسئلہ ہے تو دوسری طرف اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ معاشی میدان سمیت زندگی کے ہر شعبے میں گلوبلائزیشن کے اس دور میں مکمل انقلاب برپا ہے۔ مغرب کی بے لگام تہذیب نے جو مسائل پیدا کر دئیے ہیں انہی میں سے ایک تشویشناک مسئلہ مسلمانوں کی دوا اور خوراک کا بھی ہے، ایک ایسی قوم اور ملت جو اللّٰہ کی حدود کو سرحد بھی پھلانگ نہیں سکتی ہو، جو صرف حلال پر اکتفا کرنے والی اور حرام سے مکمل طور پر پرہیز کرنے والی ہو، درآمدات کی فراوانی نے ان کی زندگی کو دشوار کن اور کٹھن کردیا ہے، کھانے پینے، علاج و دوا، لباس و پوشاک اور حسن و جمال کی افزائش کے لیے متعدد اشیاء اسلامی ممالک میں ان ممالک سے آرہی ہیں جن کے ہاں حلت و حرمت کے درمیان کوئی امتیازی دیوار نہیں ہے۔ ایسی اشیاء میں سے بہت سی تو مکمل حرام اجزاء ہیں اور ایسی تو لا تعداد ہیں جن میں حرام کی آمیزش ہے۔ ان اشیاء سے استعمال کے بے پناہ روحانی، جسمانی اور اخلاقی نقصانات ہیں۔
➖➖➖➖➖➖➖
● حلال و حرام غذاؤں کے انسانی صحت اور زندگی پر اثرات:
ایک مسلمان پر جہاں اور بہت سے شرعی احکام کا بجا لانا ضروری ہے، وہیں اس پر یہ بھی لازم ہے کہ حلال چیزیں کھانے کا اہتمام کرے اور حرام چیزوں کے کھانے سے مکمل اجتناب کرے۔ مندرجہ بالا تعلیمات سے پتا چلتا ہے کہ حلال و طیب پاکیزہ غذائیں اور حرام و نجس، ناپاک غذائیں انسانی زندگی اور اس کی صحت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ دین فطرت اسلام نے انسان کو حلال و پاکیزہ غذاؤں میں صحت و زندگی اور حرام و نجس غذاؤں میں وبائی امراض اور ہلاکت و بربادی کا سبب قرار دیا ہے۔ لہٰذا اس حوالے سے اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر ہی انسانیت فلاح و کامیابی کی راہ پر گامزن ہوسکتی ہے۔
اسلام نے انسانی غذا کے حوالے سے چند جانوروں کو حلال قرار دیا ہے اور باقی دیگر جانوروں کو اللّٰہ نے حرام و ممنوع قرار دیا ہے، کورونا وائرس جس نے عذاب کی شکل میں دنیا میں ایک وبائی صورت اختیار کرلی تھی، اس وبائی امراض کے پھیلنے میں جن جانوروں کا تذکرہ سامنے آیا، ان میں خنزیر، چمگاڈر، مگرمچھ، بھیڑیا، چوہا، لومڑی اور اس طرح کے دیگر مہلک و موذی جانور جن کے کھانے کی وجہ سے یہ مرض انسانوں میں منتقل ہوا، یہ تمام جانور شرعاً حرام ہیں، ان کی شریعت نے کھانے کی اجازت نہیں دی، یہ فطرت انسانی کے خلاف ہے، خلاف فطرت امور کی انجام دہی کی وجہ سے یہ موذی مرض انسان میں پھیلا اور انسانیت بدترین تباہی سے دو چار ہوئی۔ اسلام میں حلال و پاکیزہ غذاؤں کے استعمال اور حرام و ناجائز غذاؤں سے پرہیز کے پس پردہ جو بنیادی فلسفہ پوشیدہ ہے، وہ درحقیقت خالق کائنات اللّٰہ عزّوجل کا عطاء کردہ ہے۔ جس میں انسانیت کی فلاح و کامیابی پوشیدہ ہے۔
● درآمدہ اَشیائے خورد و نوش (خوراک) میں ’حرام‘ اجزاء:
موجودہ دور میں کثرت کے ساتھ خورد و نوش کی مصنوعات میں حرام اجزائے ترکیبی کی ملاوٹ ہونے لگی ہے۔ یہ ملاوٹ ایسے طریقے سے ہوتی ہے کہ تیار کردہ چیز میں حرام اجزاء کا پتہ چلانا ایک عام صارف کے لئے ممکن نہیں ہوتا ہے۔ کسی چیز کو بظاہر تر و تازہ رکھنے کے لئے، کسی چیز کو رنگ پیدا کرنے یا رنگ نکھارنے کے لئے اور کسی چیز کو ذائقہ میں بہتری پیدا کرنے کے لئے ایجاد کیا گیا۔ غرض جو بھی نئے اجزائے ترکیبی وجود میں آئے، ان میں دینِ اسلام کے بتائے ہوئے حلت اور حرمت کے ضوابط کو مدِنظر نہیں رکھا گیا۔
زندگی کے روزمرّہ کے معمولات میں بے شمار اشیائے خوردونوش ایسی ہیں جو حرام و مشکوک کے زمرے میں شامل ہوتی ہیں۔ جس سے اجتناب ایمان کے جز میں شامل ہے۔ درآمدہ اَشیائے خورد و نوش (خوراک) میں ’حرام‘ اجزاء شدت سے شامل ہوتے ہیں۔ ان اشیاء میں گوشت، ڈیری پراڈکٹس، تیل، گھی، چائنیز پروڈکٹس، سُوپ، چاکلیٹ، ٹافیاں اور پاستا وغیرہ شامل ہیں۔ ان اشیاء میں سے بعض میں سرخ اور سفید وائن، خنزیر سے بننے والا جیلاٹین اور جانوروں سے حاصل کیا گیا رنگ ای - اکیس (E 21) شامل ہے۔ بیرون ملک سے برآمد کیے جانے والی مختلف فوڈ آئٹمز میں اسلامی نقطۂ نظر سے ’حرام‘ اجزاء شامل ہوتے ہیں۔
ان اشیائے خورد و نوش میں مندرجہ ذیل کیمیائی مرکبات کا شامل ہونا ثابت شدہ رہا ہے۔ فیٹی ایسڈ یا کارباکسل ایسڈ (Carboxylic acid)، سیٹریک ایسیڈ (Citric Acid)، ٹیلو (Tallow)، جینیاتی طور پر تبدیل شدہ غذا (Genetically modified foods)، لارڈ (Lard)، کولاجن (Collagen)، الینٹوئن (Allantoin)، کارمائن (Carmine) وغیرہم کے استعمال سے پہلے بحیثیتِ مسلمان تحقیق ضروری ہے۔ بحیثیتِ مسلمان کیا بحیثیتِ انسان بھی ان کا جائزہ لینا اشد ضروری ہے۔ ان مرکبات نے انسانوں کو بھی تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کر دیا ہے۔
اولیک ایسڈ (Oleic Acid): یہ ایک بے رنگ اور بے بو تیل ہے، اگرچہ تجارتی نمونہ زرد رنگ کا ہوتا ہے۔ اس کا مالیکیولر فارمولا C18H3402 ہے۔ ڈبل باؤنڈیڈ مونو ان سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈ ہے۔ حلال و حرام جانوروں میں پایا جاتا ہے۔ لیکن چونکہ خنزیر سے تیار شدہ اس ایسڈ کی لاگت بہت کم ہوتی ہے۔ اسی لئے اس کا استعمال سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
پولی سربیٹ (Polysorbate): یہ ایک سیال تیل ہے جو ایمل سی فائر (Emulsifier) کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ انسانی خوراک، غذائی مقویات (Dietary supplements)، بیکری پروڈکٹس، کریمز و جمی ہوئی ڈیزرٹس، اچار، آئس کریم، مائیونیز، میڈیکل، کاسمیٹکس، فارماسیوٹیکل، شیمپو، کریمز و لوشنز، deodorant، بڑھاپے کے اثرات پر پردہ ڈالنے والے اینٹی ایجنگ کریمز کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
لائی پیس (Lipase): یہ ایسٹرز کی نچلی کلاس ہے۔ پنیر، enzyme modified cheese (EMC)، کافی وائٹنر میں کریمی ذائقہ پیدا کرنے، مرچیوں، چٹنیوں، سوپ، صابن، ڈٹرجنٹ، کاسمیٹکس، ادویات اور دیگر ڈیری مصنوعات میں استعمال ہوتا ہے۔ لائی پیس دودھ کی چربی کو ہائیڈرلائز (Hydrolyse) کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ بچوں کی خوراک میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے، لائی پیس کے اجزاء معصوم بچوں کی آنتوں کی دیواروں (walls of intestines) کے لئے بہت زیادہ خطرناک اور نقصاندہ ثابت ہوتے ہیں۔
غیر شرعی طریقے سے ذبح شدہ حلال و حرام جانوروں سے تیار ہوتا ہے تو کیا حرام و ممنوع نہیں ہوگا؟ اگر تبدیل ماہیت ثابت ہو جائے تو جائز ہوسکتا ہے مگر چونکہ اس کا ثابت کرنا انتہائی مشکل اور مختلف فیہ ہے اس لیے ایسے ذرائع سے ماخوذ لائی پیس کے استعمال سے اجتناب کرنا ہی بہتر ہے۔ ایسی خوراک جس میں انسانی ہڈی یا خنزیر کی ہڈی استعمال ہو، اس سے کوئی خوراک بناکر انسانوں کو نجس بنانا اور جانوروں کو کھلانا جائز نہیں ہے۔
➖➖➖➖➖➖➖
● غذائی اَجْناس میں حرام اجزاء کی آمیزش:
70٪ فیصد سے زیادہ سبزیوں اور غذاؤں میں جینیاتی تبدیلی کی جا چکی ہے۔ پھلوں کو جلد پکانے کی غرض سے’ایسی ٹائلین‘ استعمال کیاجاتا ہے۔
خنزیر کے اعضاء اور چکنائی کھانے کی پیداوار میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ خنزیر کی آفل مصنوعات میں مختلف حصے جیسے جگر، دل، گردے، پھیپھڑے، آنتیں اور کان شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ پرزے اکثر ساسیجز، پیٹس، بیکن اور دیگر قسم کے پراسیس شدہ گوشت کی مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں۔
بیکن: ناشتے کا ایک مشہور کھانا، بیکن علاج شدہ اور تمباکو نوشی شدہ سور کے پیٹ سے بنایا جاتا ہے۔
سور کی چربی: سور کی چربی کی ایک قسم ہے جو سور سے آتی ہے، اور یہ عام طور پر کھانا پکانے اور بیکنگ میں استعمال ہوتی ہے۔
جیلیٹن: جیلیٹن ایک پروٹین ہے جو جانوروں کی جلد اور ہڈیوں میں پائے جانے والے کولیجن سے حاصل ہوتا ہے، بشمول خنزیر کی ہڈیوں میں۔
چمڑا: سور کا چمڑا جو جوتوں سے لے کر جیکٹس تک فرنیچر تک مصنوعات کی ایک وسیع رینج بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
کاسمیٹکس اور ذاتی نگہداشت کی مصنوعات: کچھ کاسمیٹک اور ذاتی نگہداشت کی مصنوعات، جیسے صابن، شیمپو، اور موئسچرائزر، میں سوروں سے اخذ کردہ اجزاء شامل ہوتے ہیں، جیسے خنزیر کی چربی یا کولیجن۔
دواسازی: بعض ادویات اور طبی مصنوعات میں خنزیر سے اخذ کردہ اجزاء بھی شامل ہوتے ہیں، جیسے ہیپرین، جو خون کو پتلا کرنے والا ہے وغیرہم۔
بعض صحت کی حالتوں جیسے کہ ہائی بلڈ پریشر یا دل کی بیماری میں مبتلا افراد کو چٹنی اور سور کے اعضاء اور چربی کا استعمال محدود کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
• مینرل واٹر:
خنزیر کی ہڈیوں سے تیار شدہ کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی آمیزش کی مدد سے (RO) پیوریفکیشن پلانٹ میں منرلز واٹر تیار کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ منرل واٹر دیگر اقسام کے پانی کے مقابلے میں کم صحت بخش ہے کیونکہ اس میں منرلز ہوتے ہیں۔
منرل واٹر وہ پانی ہے جس میں معدنیات اور دیگر ٹریس عناصر ہوتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں۔ ان معدنیات میں کیلشیم، میگنیشیم، پوٹاشیم اور سوڈیم شامل ہو سکتے ہیں۔
پیوریفکیشن پلانٹ میں منرلز مصنوعی طریقے سے تیار کئے جاتے ہیں، جن میں کہاں نا کہاں حرام جانوروں کے اعضاء سے بنائے گئے کیمیائی مرکبات کا استعمال ہوتا ہے۔ جب کہ معدنیات عام طور پر قدرتی طور پر پانی میں پائے جاتے ہیں اور مٹی اور چٹانوں سے جذب ہوتے ہیں جن کے ذریعے پانی بہتا ہے۔ مزید برآں، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ معدنی پانی میں موجود معدنیات گردے کی پتھری جیسے صحت کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔
یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ خنزیر کے گوشت اور اعضاء و جوارح سے تیار کردہ مصنوعات کا استعمال صحت کے لیے ممکنہ خطرات کا باعث بنتا ہے، کیونکہ ان میں نقصان دہ بیکٹیریا اور وائرس ہو سکتے ہیں جو کھانے سے پیدا ہونے والی بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔ مزید برآں، خنزیر کے گوشت کے اعضاء کا استعمال ان لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث ہو سکتا ہے جو کچھ مذہبی یا غذائی پابندیوں کی پیروی کرتے ہیں۔ کیونکہ خنزیر کے گوشت کی مصنوعات کا استعمال صحت کے لیے ممکنہ خطرات کا باعث بنتا ہے۔
• دودھ:
دودھ کے حصول کے لیے آکسیٹوسن کا استعمال مضر صحت ہے، یہ بچوں کے لئے تو زیادہ خطرناک ہوتا ہے، کم عمری میں بلوغت یا میچور ہونا، چھوٹی چھوٹی عمروں میں بڑی بڑی بیماریوں کا ہونا، یہ سب آکسیٹوکسن کے زہریلے اثرات ہیں۔ یوریا، مردہ کو تازہ رکھنے والے پاؤڈر، زہریلے کیمیکل مواد سے بھی دودھ بنایا جاتا ہے۔ مزید برآں جینیٹکلی موڈیفائیڈ فوڈ اور کیڑے مار ادویات کے اثرات والی خوراک جب ناقص صفائی ستھرائی والی جگہوں پر پک کر تیار کی جاتی ہیں تو ان کے مضر اثرات دو آتشہ ہو جاتے ہیں۔ اتنی باتیں لکھنے کی جسارت اس لئے کررہا ہوں کیونکہ 5؍سال تک قریباً 80؍ بھینسوں کا طبیلہ چلانے کا تجربہ رہا ہے۔ بہت قریب سے اس زہریلی صنعت کو دیکھا ہوں۔ ہم پیسے دے کر زہر خریدتے ہیں۔ اس کاروبار میں حلال و حرام کی تمیز تو ناممکن ہے، کیونکہ اچھے خاصے نام نہاد مسلمانوں کو بھی حرام خوری کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
مویشیوں کو مختلف اغراض سے انجکشن لگائے جاتے ہیں جن میں ’پینی سیلین، ٹیٹرا سائیکلین وغیرہ شامل ہیں، انھیں خاص قسم کا چارہ جس میں جینیاتی تبدیلی ہوتی ہے، استعمال کرایا جاتا ہے، ایسے چارے میں اسٹیرائیڈز ہوتے ہیں تا کہ ان کی نشوونما جلد ہوسکے۔ دودھ دینے والے مویشیوں کو اسٹیرائیڈز والا چارہ نہ کھلائیں تو جانور بیمار ہوکر مرجاتے ہیں، ایسا چارہ کھلانے سے انسانی صحت متاثر ہورہی ہے اس لیے جانوروں کو صاف غذا فراہم کی جائے اور آلودگی سے پاک ماحول میں پالا جائے۔ جانور کو بغیر ضرورت انجکشن نہ لگوائیں، کیونکہ جیسا خون ہوگا ویسا ہی اس کا دودھ ہوگا۔
جس دودھ کو دوائی سمجھ کر پیا گیا ہو اور اسی دوائی میں زہر ملا ہوا ہو تو مریض کی صحت یاب ہونے کی کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ جس خوراک نے آپ کا جزو بدن بننا ہو اگر وہی کسی شریان میں جا کر لہو کا بہاؤ روکنے کا سبب بننے لگے تو ایسی خوش خوراک چہ معنی؟ بازار سے اپنی پسند کا ملک پروڈکٹس اور ملک شیکز پینے سے ذرا پہلے سوچ لیجیے کیا یہ میٹھا اور ٹھنڈا زہر تو نہیں؟ بازار سے غیر صحت بخش اور مہنگا اور گھٹیا پیزا و برگر خرید کر کھانے کے بجائے ہم گھر کا کباب پراٹھہ کیوں نہیں کھا سکتے؟
➖➖➖➖➖➖➖
• شکر (چینی):
شکر، روزمرہ زندگی کا ایک ایسا جزو ہے، جس کے بغیر عام افراد کا گزارا ممکن نہیں ہوتا۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ سفید شکر انسانی صحت کے لیے کس حد تک خطرناک ہے؟ سائنسدان سفید شکر کو میٹھا زہر اور تمباکو نوشی جتنا خطرناک قرار دیتے ہیں۔ اس زائد مقدار انسانی جسم کے لیے خطرناک اور بیماریوں کا پیشہ خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ شکر کی زیادہ مقدار دماغ کے ایک اہم حصّے پر اثر انداز ہوتی ہے جس کی وجہ سے دل کی دھڑکن میں تیزی اور فشار خون میں اضافہ ہوتا ہے۔
گنے سے حاصل ہونے والی چینی کو حلال و حرام جانوروں کی ہڈیوں کے ساتھ پروسیس کرکے مکمل سفید دانے دار میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ تاہم، اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مصنوعات کیمیکل طور پر چار سے پاک ہوتی ہے۔ سلفر ڈائی آکسائیڈ، فاسفورک ایسڈ، کیلشیم ہائیڈرو آکسائیڈ، اور ایکٹیویٹڈ کاربن جیسے کیمیکلز کے ساتھ بہتر کیا جاتا ہے، اور اس کی اصل میں موجود تمام قدرتی غذائیت کو چھین لیا جاتا ہے۔ اسے سوکروز پر صاف کرکے اور وٹامنز، معدنیات، پروٹین، انزائمز اور دیگر کو ختم کرکے فائدہ مند غذائی اجزاء، جو بچا ہے وہ ایک غیر فطری مادہ ہے جسے انسانی جسم سنبھالنے کے قابل نہیں ہے۔
چینی کے زیادہ استعمال سے ہمارا اندرونی نظام متاثر ہوتا ہے اور اس میں سوزش پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر طویل عرصے تک چینی کا زیادہ استعمال جاری رکھا جائے تو اس سے ہمارے جسم پر عمر بڑھنے کے اثرات کا عمل تیز ہو جاتا ہے اور انسان اپنی عمر سے بڑا دکھائی دینے لگتا ہے۔ چینی کے زیادہ استعمال سے ہماری جلد کا مدافعتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے اور اس پر جراثیم آسانی سے حملہ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی پیچیدہ امراض بھی ڈیرہ جما لیتے ہیں۔ ماہر امراض قلب ڈاکٹر جیمس ڈی نکولا نتونیو نے کہا کہ ہائی بلڈ پریشر کی اصل وجہ نمک نہیں بلکہ شوگر بھی ہوتی ہے۔
• جیلاٹین:
بعض ہوٹل والے پائے کے شوربے کو گاڑھا بنانے اور بعض دودھ فروش دودھ کو گاڑھا کرنے کے لیے اس میں جیلاٹین کے محلول کو ملاتے ہیں۔ اس جیلاٹین کو تیار کرنے میں امریکہ، جاپان، چائنا اور یورپی ممالک اپنا ثانی نہیں رکھتے لیکن وہ اس پراسیس میں حلال حرام جانوروں کی تمیز نہیں رکھتے اس بات کی گارنٹی کسی کے پاس نہیں ہوتی کہ جیلاٹین بنانے کے لیے حاصل کردہ ہڈی حلال طریقے سے ذبح کیے گئے جانوروں کی ہوتی ہے یا اس میں حرام جانور یا ایکسیڈنٹ کے ذریعے مر جانے والے گدھے، کتے اور خنزیر کی ہڈیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ جیلیٹن، جو کچھ کھانے اور دوا (کیپسول) میں پایا جاتا ہے، خنزیر کے گوشت سے بنا ہوا ھو سکتا ہے؟ حرام خوری سے محفوظ رہنے کے لئے لیبل ضرور چیک کریں۔ آپ کے بچے درآمد شدہ چاکلیٹ، جیلی، ٹافیاں، چیونگم اور مختلف کنفیکشنری کھا رہے ہیں یہ آپ کو پتا ھونا چاہئے، کہیں وہ حرام تو نہیں کھارہے، کیونکہ ان میں 80٪ فیصد خنزیر کی چربی یا دیگر اعضاء کا استعمال ہوتا ہے؟؟
بیکنگ پروڈکٹس:
بیکنگ پروڈکٹس اور خنزیر کے اعضاء اور چربی کا تعلق کچھ مختلف طریقوں سے ہوسکتا ہے۔ سب سے پہلے، خنزیر کی چربی بیکنگ میں دیگر چربی جیسے مکھن یا قصر کے متبادل کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ خنزیر کی چربی خاص طور پر پائی کرسٹس یا بسکٹ جیسی پیسٹری بنانے میں استعمال ہوتی ہے کیونکہ اس سے فلیکی ساخت بنتی ہے۔
دوم، کچھ بیکنگ مصنوعات میں خنزیر سے حاصل ہونے والے اجزاء جیسے جلیٹن یا سور کی چربی شامل ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، مارشمیلو کے کچھ برانڈز خنزیر کی کھال سے بنے جیلیٹن کا استعمال کرتے ہیں تاکہ انہیں اپنی خصوصیت کی ساخت مل سکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ مذہبی یا ثقافتی وجوہات کی بنا پر سور کے گوشت یا سور کی مصنوعات سے پرہیز کرتے ہیں انہیں بیکنگ کی مخصوص مصنوعات کا انتخاب کرتے وقت محتاط رہنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
آخر میں، خنزیر کے اعضاء جیسے خنزیر کا گوشت جگر کو کچھ سینکا ہوا سامان جیسے pâté یا Terine میں استعمال کیا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر، اگرچہ بیکنگ پروڈکٹس اور سور کے اعضاء اور چربی کے درمیان تعلق موجود ہیں، لیکن دونوں موروثی طور پر جڑے ہوئے نہیں ہیں۔
پوڈنگز:
پوڈنگ اور خنزیر کے اعضاء اور چربی کا تعلق کچھ مختلف طریقوں سے ہوتا ہے۔ پوڈنگز کی کچھ روایتی ترکیبیں خنزیر کے خون کو گاڑھا کرنے والے ایجنٹ کے طور پر استعمال کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں۔ یہ پوڈنگ عام طور پر خنزیر کے خون کو مختلف مصالحوں، اناج اور بعض اوقات خنزیر کے اعضاء جیسے جگر یا دل کے ساتھ ملا کر بنائے جاتے ہیں۔
پوڈنگ کی کچھ قسمیں خنزیر سے حاصل کردہ اجزاء جیسے جلیٹن یا خنزیر کی چربی پر مشتمل ہوسکتی ہیں۔ جیلیٹن کئی قسم کے پوڈنگ میں ایک عام جزو ہے اور اکثر خنزیر کی کھال سے بنایا جاتا ہے۔ اسی طرح، سور کی چربی کو کچھ پوڈنگ کی ترکیبوں میں چربی کے ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بیکنگ پروڈکٹس کی طرح، اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ مذہبی یا ثقافتی وجوہات کی بنا پر خنزیر کے گوشت یا خنزیر کی مصنوعات سے پرہیز کرتے ہیں انہیں پوڈنگ کی مخصوص اقسام کا انتخاب کرتے وقت محتاط رہنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
مجموعی طور پر، اگرچہ پوڈنگ اور خنزیر کے اعضاء اور چکنائی کے درمیان کچھ تعلق موجود ہیں، دونوں موروثی طور پر جڑے ہوئے نہیں ہیں اور پوڈنگ کے بہت سے اختیارات دستیاب ہیں جن میں خنزیر سے ماخوذ اجزاء شامل نہیں ہیں۔
➖➖➖➖➖➖➖
چائنا گراس:
چائنا گراس، جسے آگر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، جیلیٹن کی ایک قسم ہے جو عام طور پر کھیر اور جیلیوں سمیت میٹھوں میں گاڑھا کرنے والے ایجنٹ کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ اس میں جانوروں سے ماخوذ اجزاء شامل ہوتے ہیں۔ بعض اوقات چینی کھانوں میں خنزیر کے اعضاء اور چکنائی کا استعمال کیا جاتا ہے، جو اکثر پکوان میں خنزیر کے پاؤں، کان یا دم جیسے جلیٹن اجزاء کو شامل کرتے ہیں۔ ان اجزاء کو عام طور پر اس وقت تک پکایا جاتا ہے جب تک کہ کنیکٹیو ٹشوز ٹوٹ نہ جائیں، جس کے نتیجے میں ایک گاڑھا، بھرپور شوربہ بنتا ہے جو سوپ یا سٹو کی بنیاد کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
کسی بھی کھانے کی طرح، اجزاء کی فہرست اور مینوفیکچرنگ کے عمل کو چیک کرنا ضروری ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ ہماری مذہبی عقیدت کو پامال تو نہیں کررہے ہیں۔
• اجینو موٹو (چائنہ سالٹ):
ہوٹلز، ریسٹورینٹ، فروزن فوڈز اور دیگر تمام مصنوعات کھانے میں ذائقہ کو بڑھانے اور تادیر قائم رکھنے والا پاؤڈر ہے، جسے مونو سوڈیئم گلوٹامیٹ (MSG) کہا جاتا ہے۔ جو اپنی تیار کردہ کمپنی کے نام سے ہی معروف ہے۔ خنزیر کے اعضاء اور چکنائی کے حوالے سے، اجینوموٹو غذائی اجزاء اور مصنوعات کی ایک رینج تیار کرتا ہے جو ان اجزاء کو استعمال کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں کہا یہ جاتا ہے کے یہ ہڈی کا برادہ یا چربی سے بننے والا یہ نمک خنزیر کی ہڈی، چربی یا اس کے لبلبے سے تیار ہوتا ہے۔ اجینو موٹو کو بنانے کا سب سے سستا طریقہ خنزیر کی چربی سے بنانے کا ہے۔ مثال کے طور پر، وہ ایک قسم کا خنزیر کا گوشت نکالتے ہیں جسے "Pork Broth Extract" کہا جاتا ہے جو کہ کھانے کی مختلف مصنوعات کے ذائقے کو بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ وہ ایک قسم کی خنزیر کی چربی بھی تیار کرتے ہیں جسے "Kuramoto Lard" کہتے ہیں جو بیکنگ اور فرائی میں استعمال ہوتا ہے۔
اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ اشیائے تغذیہ کو مزیدار بنانے کے لئے استعمال کیا جانے والا اجینو موٹو صحت کے لئے بے انتہاء نقصاندہ ہے۔ اس کے کوئی فائدہ بخش اثرات نہیں ہیں بلکہ صحت پر اس کے منفی اثرات ہی مرتب ہوتے ہیں۔
مسلمانوں کے عقیدے میں، غذائی پابندیاں ہیں جو بعض قسم کے کھانے بشمول خنزیر کا گوشت اور الکحل کے استعمال پر پابندی عائد کرتی ہیں۔ چونکہ اجینوموٹو ایسی مصنوعات تیار کرتا ہے جو خنزیر کا گوشت اور خنزیر کے گوشت سے ماخوذ اجزاء استعمال کرتے ہیں، اس لیے ان کی مصنوعات ان مسلمانوں کے لیے موزوں نہیں ہو سکتی جو ان غذائی پابندیوں پر عمل کرتے ہیں۔
• اجینو موٹو کے مضر اثرات:
امراض قلب میں اضافہ، دماغی و اعصابی بیماریاں، ہائپر ٹینشن، کم عمر میں ذیابیطس، جلدی امراض، اعضاء شکنی، ہائی بلڈ پریشر، کمی، سر درد کا ہونا، پسینے کی زیادتی، چہرے پر چکناہٹ، حد سے زیادہ تھکن، ہارمونوں میں عدم توازن، سبزیوں سے الرجی، دمہ، لعاب بننے میں کمی، سرطان، خواتین میں بانجھ پن اور قے متلی۔ آخر اس میں ایسی کیا چیز ہے جو بہت ساری مضر و خطرناک بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔
ہر جگہ آسانی سے دستیاب بچوں کی مرغوب غذا، فرنچ فرایز اور ویفرز پر اجینو موٹو ملے چاٹ مصالحہ کا استعمال کیا جاتا ہے، مگر حقیقتاً ان معصوم بچوں کے لیے انتہائی مضر صحت ہے۔
افسوس اس بات پر ہوا کہ اجینو موٹو کے بارے میں علماء کی بھی کوئی ٹھوس و مدلل رائے نہیں پائی جارہی ہے۔ کم از کم اس پر حلال و حرام (ممنوع) کا یا پھر مشبوح (شبہ یا مشتبہ) کا سند جاری کیا جائے۔ ان حالات میں اسلام کہتا ہے جس چیز میں شک ہو تو وہ کام نہ کیا جائے تو بہتر ہے۔ عصر حاضر میں مسلمانوں کو اس بارے میں اور بھی زیادہ حساس رہنے کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ فوڈ ٹیکنالوجی اور سائنس کی ترقی کے ساتھ ساتھ ان سے بنی اشیاء ماکولات، مشروبات، ادویات، کاسمیٹکس وغیرہ پورے عالم اسلام میں اپنی شکل جدید کے ساتھ پھیل چکی ہیں اور روز افزوں ان میں اضافہ ہو رہا ہے، ان مصنوعات کی موجود شکل میں یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ ان اشیاء کو کس مادے سے کس طرح تیار کیا گیا ہے اور بسا اوقات یہ لاعلمی ایک اچھے خاصے دیندار مسلمان کو انجانے میں حرام میں مبتلا کر دیتی ہے۔
چند روز پہلے ایک سفر سے ممبئی واپسی کے وقت ایم پی' مہاراشٹر کی سرحد پر سیندھوا - شیرپور کے درمیان نمازِ مغرب و طعام کے لئے ایک چیلیا مسلم ہوٹل پر رکنے کا موقع ملا۔ ہم نے خیمہ یا کباب یا اس قبیل کے کھانوں کی فرمائش کی تو آرڈر لینے والے کے منہ سے ایک عجیب و غریب قسم کا نہیں کا تاثر نظر آیا، جیسے اس سے اس کی جان ہی مانگ لی ہو۔ حالانکہ قریب ہی میں ریڈ بل اور اس جیسے بےشمار اسلامی نقطۂ نظر سے حرام قسم کی خوراکی کے کارٹونز نظر آئے۔ افسوس ہے ایسی تجارت پر جو دینداری کا لبادہ اوڑھ کر کی جائے!!
➖➖➖➖➖➖➖
● مشبوح/ مشتبہ غذا سے اجتناب:
زیادہ تر بڑے برانڈز کی خوراک، ادویات و مرکبات میں الکوحل اور خنزیر اور دیگر جانوروں کے اجزاء کا کثرت سے استمعال ہوتا ہے جو حلال نہیں ہوتا۔ روز مرہ ضروریات کی مصنوعات تیاری اور فراہمی کے حوالے سے معروف عالمی سپلائی کمپنیوں کا طریقہ کار عام طور پر زیادہ پیچیدہ اور کم شفاف ہوتا ہے۔
"کوئی بندہ اس وقت تک متقی نہیں بن سکتا یہاں تک کہ چھوڑ دے ایسی چیزوں کو جس میں کوئی قباحت نہیں ہے، اس چیز سے بچنے کے لئے جس میں قباحت ہے"۔ (مشکوٰۃ، کتاب البیوع)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کامل پرہیز گاری اور تقویٰ کا مقام کسی بندہ کو اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک وہ مباح چیزوں کو بھی اس خوف کی وجہ سے نہیں چھوڑ دیتا کہ کہیں یہ مباح چیز کسی حرام یا مکروہ یا مشتبہ چیز تک پہنچنے کا ذریعہ نہ بن جائے؟ نیز یہ بھی جاننا چاہیے کہ حرام رزق کے ساتھ اللّٰہ کسی بندے کی کوئی بھی عبادت خواہ نماز ہو، دعاء ہو، صدقہ و خیرات ہو یا حج ہو، قبول نہیں کرتا۔
ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت عمر فاروقؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے حلال کے 10؍ حصّوں میں سے 9؍ کو اس لیے چھوڑ دیا کہ کہیں حرام میں مبتلا نہ ہو جائیں۔
مندرجہ بالا گفتگو کی روشنی میں یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ یہ سب باتیں اُن حلال چیزوں کے بارہ میں ہیں جن سے کسی درجہ میں انسان کے حرام تک پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ رہے وہ مشتبہ امور جن کے بارہ میں یہی واضح نہ ہو کہ وہ حلال ہیں یا حرام؟ تو تقویٰ کے حصول کے لئے اُن سے اجتناب تو بدرجہ اولیٰ ضروری ہوگا۔ مشتبہ چیزوں سے بھی احتراز اور اجتناب کرے۔
امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص مسلسل کئی؍ دنوں تک مشتبہ/شبہہ کا مال کھاتا ہے اس کا دل سیاہ ہو جاتا ہے اور اسے زنگ لگ جاتا ہے۔
رسول اللّٰہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: "وَبَیْنَہُمَا مُشْتَبِہَاتٌ لاَ یَعْلَمُہُنَّ کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ ، فَمَنِ اتَّقٰی الشُّبُہَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِیْنِہٖ وَعِرْضِہٖ وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُہَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ"۔
"حلال و حرام کے درمیان کچھ مشتبہات ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے، پس جو شخص شبہ میں ڈالنے والی چیز سے بچا، اپنے آپ کو محفوظ رکھا، اس نے اپنے دین اور عزت کو محفوظ کرلیا اور جو شبہ ڈالنے والی چیزوں میں پڑ گیا تو وہ حرام میں پڑ گیا"۔
یعنی کچھ چیزیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی حرمت یا حلت یعنی ان کے حلال و حرام ہونے کے بارے میں دلائل مختلف ہوتے ہیں اور دلائل کے تعارض کی وجہ سے کوئی واضح حکم معلوم نہیں ہوتا، بلکہ یہ اشتباہ رہتا ہے کہ آیا یہ چیزیں حرام ہیں یا حلال ہیں۔
اِس پُر فتن دَور میں جبکہ حلال و حرام کا اِمتیاز لوگ مٹاتے چلے جارہے ہیں۔ جو شخص حلال اور حرام کا اِمتیاز کرے اور مشتبہ چیزوں سے بچے وہ اپنا دین اور اپنی آبرو بچا لے گا۔ جو شبہات میں پڑے گا وہ حرام میں واقع ہو جائے گا۔ (بخاری، مسلم مشکوٰۃ، ابن ماجہ، السنن للبیہقی، دارمی)
بلکہ حضرت سفیان بن عیینہؓ کا قول ہے کہ "انسان اُس وقت تک ایمان کی حقیقت نہیں پا سکتا جب تک کہ اپنے اور حرام چیزوں کے درمیان بعض حلال چیزوں کی رکاوٹ نہ کھڑی کر دے اور جب تک کہ وہ گناہ کے ساتھ اُس چیز کو بھی نہ چھوڑ دے جو گناہ کے مشابہ ہو"۔
حضرت عبداللّٰہ ابن عمرؓ کا مقولہ ہے کہ "میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میرے اور حرام کے درمیان حلال چیزوں کا ایک ایسا پردہ ہو جسے میں پھاڑوں"۔
رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا کہ: جو شخص شبہ میں ڈالنے والی چیز سے بچا، اپنے آپ کو محفوظ رکھا، اس نے اپنے دین اور عزت کو محفوظ کرلیا اور جو شبہ ڈالنے والی چیزوں میں پڑ گیا تو وہ حرام میں پڑگیا۔
لہٰذا جو شخص مشتبہ چیزوں سے پرہیز کرتا ہے اسے نہ اپنے دین کے معاملہ میں کسی خرابی کا خوف رہے گا اور نہ کوئی اس پر طعن و تشنیع کرے گا۔ پھر رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: "اور جو شخص مشتبہ چیزوں میں مبتلا ہوا وہ حرام میں مبتلا ہوگیا اور اس کی مثال اس چرواہے کی سی ہے جو ممنوعہ چراگاہ کی مینڈ پر چراتا ہے اور ہر وقت اس کا امکان رہتا ہے کہ اس کے جانور اس ممنوعہ چراگاہ میں گھس کر چرنے لگیں"۔
زہر کی مقدار کم ہی کیوں نہ ہو بہرحال وہ زہر ہی رہتا ہے۔ پاک مال میں ناپاک مال کی آمیزش کی جائے تو کیا وہ پاک ہوگا۔ پاک و صاف پانی میں ناپاک قطرہ محلول کردیا جائے تو کیا وہ پاک رہے گا۔ اسی طرح حرام، خبیث شئے کی ملاوٹ طیب و پاکیزہ اشیاء میں کی جائے تو کیا وہ اسے برباد نہیں کرے گی۔
جو چیز صحت کے لئے مضر ثابت ہوتی ہو، جب کہ اس کے مقابل حلال چیز سے بھی کام ہوتا ہے مگر اس میں محنت و لاگت کچھ زیادہ ہوتی ہے، اسی لئے آج کا آرام پسند انسان زیادہ سے زیادہ مال کمانے کی دھن میں غیر اسلامی یا غیر انسانی عمل کے ذریعے پوری دنیا کو تباہی کے دھانے پر لاکر کھڑا کرتا ہے، ایسے میں ہمارا محض تماشائی بن کر معائنہ کرنا زیب نہیں دیتا۔ ہماری ایمانی غیرت و حمیت پر واقعی حیف ہے!!!
حضرت حسین ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللّٰہﷺ فرماتے سنا ہے کہ "جو چیز تم کو شک میں ڈال دے، اس کو چھوڑ دو، اس چیز کی طرف میلان رکھو جو تم کو شک میں نہ ڈالے"۔ ایسے مواقعوں پر انسان کا ضمیر غلط رہنمائی نہیں کرتا۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا، "نیکی وہ ہے جس سے انسان خود مطمئن ہو جائے۔ اور اس کے دل کو اطمینان ہو جائے۔ اور گناہ وہ ہے کہ جس سے انسان کا ضمیر خلش کرے اور جس سے اس کے سینے میں شک پیدا ہو جائے"۔
➖➖➖➖➖➖➖
● بحیثیت مسلمان ہمارا فریضہ:
ہمارا بحثیت مسلمان یہ فریضہ ہے کہ ہم جو چیز کھائیں پیئں اس کے متعلق تحقیق کریں۔ کہیں اس میں حرام، خبیث، ناپاک، ناجاٸز، ممنوع، مباح، مشبوح، مشتبہ، مشکوک چیزوں کے اجزاء کی آمیزش تو نہیں۔ خاص کر بند ڈبوں اور پیکیٹ پہ دی گئی معلومات کو پڑھیں اور اگر سمجھ نہ آئے تو آن لائن چیک کریں یا اس متعلق مستند فرد سے دریافت کرلیں۔
عالمی مسابقت میں حلال فوڈز زیادہ اہمیت اختیار کر چکے ہیں اور حلال فوڈز کی زیادہ صحت، حفاظت اور حفاظت کی وجہ سے نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی ایسے کھانوں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ غیر مسلموں کے ذریعہ حلال خوراک کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے کیونکہ بہت سے لوگ حلال کھانے کو زیادہ صحت مند اور حفظان صحت سمجھتے ہیں حلال سرٹیفیکیشن ایک مستند اور قابل اعتماد ڈاکیومینٹ ہے۔
مسلمانوں کو حلال خوراک کے لئے ایک اتھارٹی قائم کرنے کی ضرورت ہے جو تحقیق کے مراحل طے کرنے کے ساتھ بریفینگ پیش کرے، اور وہ اتھارٹی اندرون ملک تیار کی جانے والی اور بیرونی ممالک سے درآمد کی جانے والی اشیائے خورد و نوش کے حلال ہونے کو یقینی بنائے۔ مختلف اسلامی ممالک خصوصاً ملائیشیا کے تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے حلال فوڈ اتھارٹی جیسے اداروں کا قیام کیا جائے۔ اس حلال فوڈ اتھارٹی کے قیام کے بعد ملک میں فروخت کی جانے والی ڈبہ بند اشیاء کے لیے حلال سرٹیفیکیشن لازمی قرار دیا جائے۔
امت مسلمہ کے اہل علم، علمائے کرام، دانشوروں اور باشعور افراد کو چاہیے کہ حلال اشیاء کی درآمد و برآمد اور لوگوں کو حلال، طَیِّب، پاکیزہ اور صاف و شفاف غذا فراہم کروانے کے لئے ادارے قائم کئے جائیں۔ اس نوعیت کے اقدام کے نتیجے میں معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی اور ثمرآور نتائج دیکھنے ملینگے۔
مصنوعات کی سرمایہ کاری، منبع یا سرچشمہ، طریقۂ کار یا عمل، ذخیرۂ اندوزی اور خرید و فروخت میں کوئی حرام عنصر یا عمل شامل نہ ہو، اس کی باریکی سے تحقیق کے بعد ہی مصنوعات کو استعمال میں لایا جائے۔ اسٹیک ہولڈرز، علماء و مشائخ، غذائی ماہرین کو ہی حلال فوڈ اتھارٹی کی خدمات انجام دینے کے لئے مختص کیا جانا چاہیے۔ اس بات کا بھی خیال رکھا جانا چاہئے کہ ان لوگوں کی شہادت میں کوئی اختلاف نہ ہو۔ اس اہم عنوان پر مسلمانوں کو مؤثر حکمتِ عملی ترتیب دینا چاہیے۔
مختلف دکانوں، بازاروں، مارکیٹوں اور مالس میں حرام اجزاء سے تیار کردہ اشیاء خرید و فروخت کی جارہی ہیں، ہمیں باقاعدہ طور پر فروخت کرنے والوں کی تفصیلات کے ساتھ، حرام اشیاء کی فہرست بھی ترتیب دینا چاہیے۔ پروسسڈ اور پیکڈ فوڈز، مشروبات، فارماسیوٹیکز، پیکڈ پولیشڈ اناج، مینرل واٹر، پولٹری فارمز کی خوراک، پیکیٹ بند کھانے کی اشیاء یا مصالحہ جات وغیرہ وغیرہ کا استعمال کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کرلیں۔ آن لائن حلال فوڈ گائیڈ اتھارٹی یا سروس کا قیام ہو۔
جانوروں کی خوراک میں قصداً نجس اور حرام اجزاء شامل کرنا جائز نہیں۔ لہذا خوراک تیار کرنے والے اداروں کو اِس سے احتراز کرنا لازم ہے، چاہے وہ نام نہاد مسلم ہو یا غیر مسلم۔ الحمداللّٰہ! دنیا میں حلال فوڈز کی سالانہ تجارت کئی ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے جس میں مسلسل اضافہ ہی ہورہا ہے۔
● رزق حلال بھی عین عبادت ہے:
قرآن و حدیث میں حلال و حرام کا تعلق عبادات، اعتقادات، معاشرت، معاملات، معیشت و اقتصاد، فرد و اجتماعیت وغیرہم سے جڑا ہوا ہے۔ سورۃ المائدہ میں حلال و حرام جانورں کی ساری تفصیلات بیان کی گئی ہیں، کیا کھائیں کیا نہ کھائیں، مفید و غیر مفید چیزوں کا تذکرہ ہے، بلکہ یہاں تک کہا گیا ہے بغیر بسم اللّٰہ جو جانور ذبح کیا جائے، وہ بھی حلال نہیں ہوتا۔ حلال ایک اسلامی قدر ہے، اس کو بہتر انداز میں سمجھنے کے لئے بیداری کی تحریک شروع کرنی چاہیے۔ ہمیں ان آداب سے واقفیت ہونا چاہیے جن سے حضرتِ انسان کی غذا، زندگی کی بقاء، روح کی غذا اور روحانیت کے عروج کا سبب بنے۔
"حلال خوراک" ہمارا نشان امتیاز ہے، ہماری پہچان، ہماری شناخت ہے۔ ساتھ ہی یہ نشان امتیاز ہمارے دین و ایمان کے لئے موت و حیات کا انتخاب ہے۔ حلال کی دعوت دراصل اسلام کی نمائندگی ہے۔
ہمیں ان آداب سے واقفیت ہونا چاہئے جن سے حضرت اِنسان کی غذا، زندگی کی بقاء، روح کی غذا اور روحانیت کے عروج کا سبب بنے۔
صرف اور صرف طَیِّب و پاکیزہ غذا سے معاشرہ اصلاح کی طرف جاتا ہے، دعائیں قبول و برکات نصیب ہوتی ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں حرام کے لقمہ سے محفوظ اور حلال کی قدر و منزلت نصیب فرمائیں۔ مال حرام سے تہدید اور رزق حلال کے حصول اور ترغیب کا ذریعہ بنائے۔ (آمین)
•┅┄┈•※✤م✿خ✤※┅┄┈•
(14.02.2023)
🍁 مسعود محبوب خان 🍁
Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
○○○○○○○○○
Comments
Post a Comment