عالمی منظر نامے (1):••پاکستان••

عالمی منظر نامے (1):
••پاکستان••
        ┄┅════❁﷽❁════┅┄
     ══════•❁ا۩۝۩ا❁•══════
  ⊱بستر مرگ پر سیاسی مفادات سے گھرا ملک⊰
     ══════•○ ا۩۝۩ا ○•══════
     🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
         •┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
       سیاستدانوں کے غلط طرزِ حکمرانی کی وجہ سے پڑوسی ملک پاکستان ایک سیاسی، معاشی، آئینی بحران اور پریشان کن بدترین صورتحال کا شکار ہوگیا ہے۔ وہاں کے سابق وزیر اعظم عمران خان اور وہاں کی موجودہ حکومت کے تنازعے کا عوامی مفاد اور ملکی مفاد سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ دو سیاسی شخصیات، اداروں یا جماعت کا ٹکراؤ ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ جمہوری نظام کا یہ شیوا رہا ہے کہ اس نظام کے منصوبہ ساز اصل معاملات کو ہر چند روز بعد گھما دیتے ہیں، اس نظام میں اصل مسائل سے دور کرکے ذاتی جھگڑے کھڑے کردیے جاتے ہیں۔ اس پوری صورتحال کا خمیازہ وہاں کی عوام کو بھگتنا پڑرہا ہے۔ جمہوری نظام میں اقتدار پر قابض ہر سیاسی حکمراں، سابق حکمراں اور اس کی جماعت کو صفحۂ ہستی سے مٹانے پر تلا ہوتا ہے۔

      وہاں کے چیف جسٹس سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ کسی ایک فریق کا اخلاقی معیار ہوتا تو دوسرے کو الزام دیتے ہیں۔ عوام کے حقوق کا تحفظ ہوگا تو لوگ خوش ہونگے، میں نے کل دیکھا موٹر وے خالی پڑے ہیں معیشت کی حالت خراب ہورہی ہے۔ جس انداز میں سیاسی قوتیں کام کر رہی ہیں یہ درست نہیں، لوگ جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں، ادارے خطرات اور دھمکیوں کی زد میں ہیں۔ لوگ آج دیواریں اور گیٹ پھلانگ رہے تھے، حکومت ناکام نظر آئی۔

      وہیں دوسری جانب آج 15؍مئی 23ء کو سپریم کورٹ کے باہر پاکستان ڈیموکریٹک موؤمنٹ، مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کے دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود سکیورٹی حصار توڑ کر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی پارٹی کے قائدین عدلیہ پر انگلیاں اٹھاتے نظر آئے۔ مظاہرین تمام رکاوٹیں عبور کرکے سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ مظاہرے میں کہا گیا کہ شاہراہ دستور تو موجود ہے لیکن شاہراہ انصاف کی کمی ہے کیوں کہ یہاں پر انصاف صرف منظور نظر لوگوں اور ایلیٹ کلاس کو ہی ملتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ یہ عدالتیں عمران خان کی عاشق ہوچکی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے کہا کہ پاکستان کی تباہی بھی ججوں کے فیصلوں سے ہوئی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسمبلی میں اظہارِ خیال پیش  کیا کہ عدلیہ میں ایک گروہ مسلط ہے وہ فیصلے نہیں سیاست کر رہا ہے۔

      سیاسی محاذ آرائیوں نے وہاں کی معیشت کو دن بدن تباہ و برباد کردیا ہے۔ جب تک وہاں سودی معیشت، کرپشن، مہنگائی اور غیر ضروری ترقیاتی اخراجات پر قدغن نہیں لگتا، تب تک عالمی بیرونی قرضوں سے نجات ملنا مشکل سے مشکل تر ہوگا۔ پاکستان کو مکمل طور پر آئی ایم ایف کے octopus نے اپنے دام فریب میں جکڑ لیا ہے، شرائط پر شرائط نے وہاں کی معیشت کے استحکام کے سارے راستے بند کردیے ہیں۔ جس کے ذمّہ دار وہاں کے نااہل سیاسی حکمران اور مفاد پرست قائدین ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اسٹیٹ بینک کے ذخائر 7؍کروڑ 40؍لاکھ ڈالر گر کر 4.38؍ارب ڈالر رہ گئے ہیں جو کہ بمشکل ایک ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔

      جہاں آئین، قانون اور عدالتی روایات کو پامال کیا جارہا ہے۔ عوام کا انصاف کے نظام سے یقین بھی اٹھتا جارہا ہے۔ حکمرانوں نے جج، جیوری اور executioner یعنی سزا پر عملدرآمد والا کردار بھی خود ہی سنبھال لیا ہے۔ جس کی وجہ سے عوام کا عدالتوں اور حکومتی اداروں پر اعتماد ختم ہوگیا ہے، جس کے نتیجے میں وہاں خانہ جنگی کی صورت حال پیدا ہوتی نظر آرہی ہے۔ سیاسی عدمِ استحکام، آئینی و عدالتی بحران کے بعد وہاں کے حالات اب خلفشار کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

      اصل صورتحال یہ تھی کہ عمران خان کی گرفتاری کرپشن کے مقدمے میں کی جانی تھی، اگر کرپشن کے واقعی معقول ثبوت اور ٹھوس شواہد تھے تو انہیں عمران خان کو گرفتار کرنے کے لئے قانونی تقاضوں مکمل کرکے گرفتار کیا جاتا۔ حکمراں جماعت کے اشارے اور ان کی جی حضوری کا تمغہ حاصل کرنے کے لئے جلدبازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومتی اداروں نے عدالت و قانون کی عزت و توقیر اور احترام کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عدالت کے وقار کو مجروح کرتے ہوئے عمران خان کو 9؍مئی 23ء کو رینجرز نے ہائیکورٹ کے احاطے سے تشدد کے ذریعے گرفتار کیا۔

      عمران خان نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ میری گرفتاری کے بعد جو پُرتشدد واقعات ہوئے انہیں اب بہانہ بنا کر بغاوت کا مقدمہ قائم کیا جائے گا تاکہ مجھے 10؍سال تک جیل میں ہی رکھا جا سکے۔ مزید کہا کہ اس پلان کے تحت ان کی اہلیہ بشریٰ بیگم کو جیل میں ڈال کر ان کی بے توقیری کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

      حکمراں جماعت کی وفاقی وزیرِ اطلاعات کہتی ہیں، عمران خان اور ان کی جماعت نے ہمیشہ تشدد اور انتشار کی سیاست کو فروغ دے کر ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ اپنے دور اقتدار میں اپوزیشن کی مقبول لیڈر شپ کو جیلوں میں ڈالا ہے۔

      نظام جمہوریت میں احتجاج، جلسے، جلوس ہر سیاسی پارٹی کا آئینی اور قانونی حق تسلیم کیا جاتا ہے۔ جس سے آج پاکستان گذر رہا ہے مگر انصاف کا پیمانہ مختلف نظر آرہا ہے۔ احتجاجیوں کے لئے سخت سے سخت قانون جب کہ عدالت و آئین کے وقار کو پامال کرنے والے اور پاکستان کو عالمی سطح پر رسوا کرنے والوں کے لئے الگ قانون!!

      مالی بدعنوانی (کرپشن) اور اختیارات کو ذاتی مفادات کیلئے استعمال کرنے کے مسئلہ کو چھوڑ کر عمران خان کی نااہلی، فوج کے خلاف اشتعال انگیزی اور عدالتوں کی کاروائیوں کا ذکر ہورہا ہے۔ یہ وہ عوامل ہیں جو پاکستان کو انتشار میں دھکیل چکے ہیں۔
تمام واقعات کی جیو فینسنگ، انٹیلی جنس اور ٹیکنیکل بنیادوں کے ذریعے 3200؍افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ تقریباً 7؍ہزار قائدین، کارکن اور خواتین کو جیلوں میں ٹھونس دیا گیا ہے۔ پاکستانی آرمی کے سیاست سے دور رہنے کے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود اس کے لاتعلق رہنے کے ثبوت تو آج تک نہیں مل پائے ہیں۔ موجودہ آرمی چیف نے بھی 9؍مئی 23ء کے منصوبہ سازوں کو کٹہرے میں لاکر کھڑا کرنے کا انکشاف کرکے اس عمل کو مضبوط تقویت فراہم کردی ہے۔ مگر اس پورے ہنگاموں کے پیچھے اصل مدعا جوں کا توں ہی نظر آتا ہے۔ یہ ہیں نظامِ جمہوری کے مضر اثرات!!!

       17؍سال قبل 14؍مئی کو میثاق جمہوریت پر دستخط کئے گئے تھے، واضح رہے کہ میثاق جمہوریت پر 2006ء میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف کے درمیان دستخط ہوئے تھے اور آج نواز شریف اور بلاول بھٹو اسی میثاق جمہوریت کی تجدید کررہے ہیں۔ کیا میثاق جمہوریت پر عملدرآمد کرنے سے کسی ملک کا وقار بلند اور جمہوریت مضبوط ہوگی، نہیں بلکل نہیں! جب تک نظام باطل پر نظام مصطفیٰ کو غالب نہیں کیا جائے گا ایسے منظر نامے اُمَّت مسلمہ کا مقدر بنتے رہیں گے!!!!

(ان شاء اللّٰہ! اگلا منظر نامہ ترکی کا ہوگا)
           •┅┄┈•※‌✤م✿خ✤‌※┅┄┈•
                     (15.05.2023)
        🍁༻مسعود محبوب خان༺🍁     
        Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
                      ○○○○○○○○○


*عالمی منظر نامے:*

*بستر مرگ پر سیاسی مفادات سے گھرا ملک*

 

*ازقم :مسعودمحبوب خان ممبئی)*



•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•

https://bit.ly/41TKcle


Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam