Zameer faroshi ki siyasat urooj par

 ضمیر فروشی کی سِیاسَت عروج پر
        ┄┅════❁﷽❁════┅┄
╗══════•❁ا۩۝۩ا❁•═══════╔
       ضمیر فروشی کی سِیاسَت عروج پر
╝══════•○ ا۩۝۩ا ○•═══════╚
      🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
               📱09422724040
         •┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•

       سِیاسَت ملکی و عالمی سطح پر اخلاقی دیوالیہ اور تنزلی کا شکار ہوکر رہ گئی ہے۔ سِیاسَتدانوں نے سِیاسَت کو ایک کھیل اور بازیچۂ اطفال بنا دیا ہے۔ بچے ساحل پر ریت کے گھروندے بناتے ہیں اور اسے توڑ بھی دیتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح ہمارے سِیاسَتدان اپنے ہابی یا مشغلے کے طور پر سِیاسَی بساط پر ریت سے گھروندے بناتے ہیں اور اپنے ذاتی مفادات کے پیشِ نظر اسے برباد بھی کر دیتے ہیں۔ سِیاسَت کا کوئی دین و مذہب نہیں‘ اصول و نظریہ نہیں‘ یہ وہ لیلائے اقتدار ہے جسے پانے کے لئے سبھی شیخ و برہمن دیوانے ہو رہے۔ سردار عبدالرب نشتر نے اپنے وقت کی سِیاسَت کے رنگ ڈھنگ دیکھ کر کہا تھا۔   ؎

ہمارے عہد کی سِیاسَت کا حال مت پوچھ
گھری ہوئی طوائف تماش بینوں میں

       جائزہ لیا جائے تو سِیاسَت کثیر المعنیٰ لفظ ہے جس کے معنیٰ ہیں، کسی مُلک کا نظام حکومت، مُلکی تدبیر و انتظام، طریقۂ حکمرانی، احتساب حکومت کا قیام، حکومت کرنے کی حکمت عملی۔ اس کے علاؤہ کسی جُرم کی سزا، ظُلم، پاداش، خوف، ریشہ دوانی، فریب، دھوکہ، مکاری اور سیاسی جوڑ توڑ کے بھی ہیں۔

      یاد رہے کہ جوڑ توڑ کی سِیاسَت کی بساط خفیہ راہ داریوں اور ڈرائنگ روم کے بند کمروں میں بچھائی جاتی ہے۔ اس کی بہترین مثال ریاست مہاراشٹر ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ جوڑ توڑ کی سِیاسَت کا بنیادی وصف ہی معاملہ فہمی، خاموشی اور مکمل رازداری میں پنہاں ہے۔ سادہ الفاظ میں یوں جان لیجیے کہ جوڑ توڑ کی سِیاسَت میں حکومت کرنے کے اُصول چند زیرک اور گھاگ سِیاسَتدان آپس میں مل جل کر باآسانی طے کر سکتے ہیں۔

       ہمارے ملک کی چانکیائی نیتیوں پر عمل کرنے والی سیاسی پارٹی اتنی ماہرِ سِیاسَت ہے کہ وہ ریاستی حکومتوں کو توڑ جوڑ کرکے، ای ڈی کی سی ڈی کا خوف دلا کر ملکی پارٹیوں کے بڑے بڑے سِیاسَتدانوں کو اپنی پارٹی میں شامل کرکے بدعنوانیوں کے پاپ سے پرائسچت کروا دیتی ہیں۔ ویسے انتخاب کے قریب جوڑ توڑ کا کھیل کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سِیاسَت کی ’بساط‘ پر ’پیادوں‘ کی تبدیل ہوتی وفاداریاں ہندوستان کو بہتر مستقبل فراہم کرسکتی ہیں؟

      ہندوستان کی ہر لمحہ بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال اپنے نقطۂ عروج کی جانب بڑھ رہی ہے جوڑ توڑ کی سِیاسَت عروج پر ہے۔ سیاسی ملاقاتیں اور رابطے جاری ہیں عام طور پر ایسی صورتحال میں پورے ملک کی نظریں مہاراشٹر پر مرکوز ہوتی رہیں ہیں۔ لیکن بار بار کی طرح اس بار مہاراشٹر پھر توڑ جوڑ کی سِیاسَت کا تھیٹر بنا ہوا ہے۔ ملک میں کسی ایک سیاسی پارٹی کا واضح اکثریت سے حکومت بنانے کا سلسلہ اب قصۂ پارینہ بن چکا ہے۔

       ملک میں سیاسی پارٹیوں نے انتخابی جوڑ توڑ کی تلاش شروع کر دی۔ تنہاء فضاؤں میں رہنے والے بڑے بڑے لیڈران کو شیوسینا اور این سی پی کے اراکین میں گن نظر آنے لگے ہیں۔ چند روز قبل تو ان کی برائیاں نظر آرہی تھیں، آج وہ دونوں پارٹیوں کے سِیاسَتدانوں کے ساتھ ایک ہی کشتی کے سوار بن گئے۔ ڈبل انجن والی مہاراشٹر کی مخلوط سرکار اب ٹریپل انجن کی سرکار ہوگئی ہے۔ تین انجن تین ڈرائیورز کسی ایک کی بھی نااتفاقی ریاست کو بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے۔ غیر فطری اور غیر حقیقی بندوبست زیادہ دیر برقرار نہیں رہتے۔ جلد یا بدیر ان میں دراڑ ضرور آتی ہے۔

       ان کی ہی پارٹی کے بڑے سِیاسَتدان انتخابات کے وقت کہتے تھے کہ ہم لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے، بینکوں سے دولت نکال کر عوام کے بینک اکاؤنٹس میں ڈپازٹ کئے جائیں گے۔ مگر حکومت و اقتدار میں آکر سارے وعدے بھول گئے۔ گویا جھوٹ، مکر و فریب ان کے رگ و پے میں سرایت کر چکا ہے۔ اگر کوئی پوچھ لے تو جواب ملتا ہے "یہ محض سیاسی بیان تھا‘ سِیاسَت میں سب کچھ جائز ہے‘ سِیاسَت میں کوئی بات حتمی اور آخری نہیں ہوتی"۔ ہم اس بات سے واقف ہیں کہ سِیاسَت امکانات کا کھیل ہے اور اس میں کوئی بھی چیز حرفِ آخر نہیں ہوتی اور ہم اس بات سے بھی واقف ہیں کہ سِیاسَت کے سینے میں نہ ہی دل ہوتا ہے۔

       مہاراشٹر میں 2019ء میں توڑ جوڑ والی سِیاسَت کی کوشش ناکام ثابت ہوئی، 80؍ گھنٹوں میں حکومت گرگئی۔ اس کے بعد مہاراشٹر کی مضبوط ریاستی سیاسی پارٹی شیوسینا میں پھوٹ دلوا کر ایک دھڑے کو علیحدہ کروا کر مہاراشٹر کی آواز کو خاموش کردیا گیا۔ اور آج 2023ء میں اسی نوعیت کا تجربہ دہرایا جا رہا ہے۔ ملک میں سیاسی جوڑ توڑ کی بی جے پی کی اس گندی پالیسی سے عوام سخت تذبذب کا شکار ہیں۔ عوام اب ان سیاسی کھیلوں کو پہچان بھی چکے ہیں اور اس سب سے متنفر بھی ہوچکے ہیں۔ 

      جوڑ توڑ اور خوف و ہراس کی اس سِیاسَت کو دیکھ کر جنگ عظیم دوئم کا ایک قصّہ جو کہیں پڑھا تھا یاد آرہا ہے، جنگ کے دوران کچھ افسران ایک گاؤں میں چلے گئے اور بھرتی شروع کردی گاؤں کا سربراہ ایک مراثی تھا اس نے فوجی افسران کے ہاتھ ملکہ کے نام پیغام بھیجا کہ ملکہ صاحبہ اگر نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ مراثیوں کے بچوں کو بھرتی کیا جارہا ہے اس سے بہتر ہے کہ آپ ہٹلر سے صلح کرلیں۔

       ریاست میں سیاسی ہلچل تو 2019ء کی 80؍ گھنٹے کی حکومت تبدیل ہونے کے بعد سے جاری تھی، لیکن چند روز پہلے مدھیہ پردیش میں مودی کے دھمکی آمیز و جارحانہ بیانات کے بعد اس میں تیزی آئی ہے۔ این سی پی اور شیوسینا کے خلاف مختلف کیسوں میں اہم پیش رفت ہو رہی ہے اور ان کے خلاف گھیرا تنگ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں این سی پی کے اراکین بی جے پی میں شمولیت اختیار کرتے نظر آرہے ہیں۔

       شیوسینا اور این سی پی کے رہنماؤں اور متحرک کارکنوں کی مرکزی سرکار کی تشکیل کردہ ای ڈی کے چھاپوں اور پکڑ دھکڑ شروع کر دی گئی۔ جس کی وجہ سے بڑی بڑی ملکی پارٹیوں کی قیادت نے سرگرمیاں محدود کر دی ہیں۔ کئی رہنما سِیاسَت سے روپوش ہیں اور کئی رہنما اپنے بیانات میں اپنی گرفتاری کے خدشات اور جان کو لاحق خطرات کے بارے میں بیان دیتے رہتے ہیں۔

       اب جب کہ ریاست مہاراشٹر میں 2024ء کے سیاسی دنگل کا فائنل راؤنڈ شروع ہوگیا ہے۔ ریاست میں سیاسی طوفان کی تیز ہوائیں عوام کو اس کھوکھلے سیاسی نظام سے بدظن کررہی ہے۔ ای ڈی کی سی ڈی کے ذریعے خوف و ہراس کا ماحول، عوامی نمائندوں و کرپٹ وزراء اور سِیاسَتدانوں کی خرید و فروخت، ہارس ٹریڈنگ اور ضمیر فروشی کی سیاسی سازشیں عوام کے سامنے عیاں ہورہی ہے۔

       مہاراشٹر کا حالیہ سیاسی منظرنامہ مکمل طور پر دھندلا دیکھائی دے رہا ہے۔ ہر سِیاسَتدان اپنا سیاسی کیرئیر محفوظ کرنے کے چکروں میں ہے جس کے باعث پارٹیوں میں جوڑ توڑ زوروں پر ہے۔ حریف، حلیف بن رہے ہیں تو وہیں ماضی میں ایک دوسرے کا ساتھ نبھانے کا دم بھرنے والے سِیاسَتدان بھی خم ٹھونک کر سامنے آگئے ہیں۔ تاہم یہ سیاسی اتحاد مختلف نوعیت کے ہوں رہے ہیں۔ مثلاً اگر دو جماعتیں مرکز میں اتحادی ہوں گی تو عین ممکن ہے کہ ریاستی سطح پر دونوں ایک دوسرے کی مخالفت کریں۔ موجودہ سیاسی مناظر دیکھ کر مرحوم راحت اندوری کے اشعار یاد آگئے؛۔  ؎

بن کے حادثہ بازار میں آ جائے گا
جو نہیں ہوگا وہ اخبار میں آ جائے گا

چور اچکوں کی کرو قدر' کہ معلوم نہیں
کون کب کونسی سرکاری میں آ جائے گا

 توڑ جوڑ کی فضاء میں کئی سِیاسَتدان فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ انہیں کس پارٹی میں شامل ہونا چاہیے۔ حکومت مہاراشٹر کے لیے آئندہ چند روز میں مزید مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔ آنے والے دنوں میں پارٹیوں کے درمیان سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کو لے کر ایک بڑا وواد کھڑا ہوگا۔

       این سی پی کے سربراہ شرد پوار جو کہ سِیاسَت کی بساط کے منجھے ہوئے کھلاڑی سمجھے جاتے ہیں، انہوں نے کئی مرتبہ اپنے ارادوں کا اظہار بھی کیا ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ این سی پی، کانگریس اور شیوسینا (ادھو ٹھاکرے) میں اتحاد قائم رہے اور آئندہ انتخابات میں بطور اتحادی حصّہ لیں۔ انتہائی تند و تیز سیاسی ماحول میں دیکھتے ہیں کہ گھاگ سیاسی لیڈر شرد پوار کون سا نیا کارڈ کھیلتے ہیں، توقع بھی ہے کہ مہاراشٹر میں ان کی زیرِ قیادت سیاسی پارٹیاں یا گروہ عنقریب ایک سیاسی گروپ بن کر ابھرے گا۔

      آئندہ آنے والے ایام مہاراشٹر میں سیاسی لحاظ سے زیادہ فیصلہ کن ہوں گے۔ اب یہ آنے والا وقت طے کرے گا کہ کون کیا ہے اور کس کا پلڑا بھاری ہے۔ حکومت سازی اور اپوزیشن میں موجود تمام پارٹیاں کئی کئی باریاں لے چکی ہیں پچھلے کئی سالوں سے ایک ہی طرز کا چورن بیچا جارہا ہے۔ عوام کی بے چینی اور اضطرابی کیفیت میں دن بہ دن اضافہ ہی ہورہا ہے۔ 

      "لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام" کا منظر دنیا دوبارہ دیکھ رہی ہے۔ ریاست مہاراشٹر میں توڑ جوڑ کی سِیاسَت یا Political Rifts کی ابتداء بھی 45؍ سال قبل شرد پوار کے ذریعے ہوئی تھی، 1978ء میں شرد پوار نے ہی وسنت دادا پاٹل کے خلاف 40؍ ایم ایل اے توڑ کر بغاوت کا یہ نیا تجربہ کیا تھا اور آج ان کے ہی داؤ پیچ ان کی پارٹی اور گھر کے اہم ترین فرد استعمال کر رہے ہیں۔ اب یہ باہمی افہام و تفہیم (mutual understanding) ہے، ای ڈی کا خوف ہے یا کوئی اور طریقۂ کار یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

      آخر ایسا کیوں ہوا کہ ایک لمبے عرصے سے شرد پوار اور ان کی پارٹی کے ساتھ وفاداری نبھانے اور قربانیاں دینے والے امیدوار آج بغاوت کرکے منحرفین کی فہرست میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ پارٹی قیادت سونپنے کے معاملے پر بھی دونوں سیاسی گھرانے ایک دوسرے سے دُور ہوگئے۔ شیوسینا اور این سی پی کے قائدین خاندان کے اس سیاسی تسلط سے نجات حاصل کرنے کی بجائے، اپنے ہی خاندان کی قیادت کی تگ و دو میں سرگرداں ہیں، جس نے کئی سال سے پارٹی کے ارتقاء کو منجمد رکھا۔

       بی جے پی کا ریاست مہاراشٹر کہ بی جے پی نواز سرکار کو مضبوط کرنے کے فیصلے کے پیچھے شاید ایک اور عنصر بھی کارفرما نظر آتا ہے اور وہ ہے ملک کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں کا اتحاد، تحریکِ عدم اعتماد، ملک میں پیدا ہوتی نفرت و عداوت کی فضاء، بدعنوانیوں کا سیلاب، تجارتی گھرانوں کا ملک سے راہ فرار اختیار کرنا۔ جس کی وجہ سے ملک کا سیاسی درجۂ حرارت بڑھتا ہی نظر آرہا ہے، جس کے نتیجے میں جوڑ توڑ کی سیاست بھی اپنے عروج پر جارہی ہے۔ لیکن کیا بی جے پی اور اس کی اتحادی پارٹیاں اکھٹی چل سکیں گی؟

       مہاراشٹر کے بعد یوپی میں بھی جوڑ توڑ کی سِیاسَت کی شروعات ہورہی ہے۔ مہاراشٹر کی طرح یوپی کا سیاسی درجۂ حرارت بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اگر اس طرح کے سیاسی طریقۂ کار کا چلن چلتا رہا تو ملک کا مستقبل خطرہ میں پڑ جائے گا۔

       ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام سے کمزور معیشت بری طرح لڑکھڑا رہی ہے۔  ملک میں مہنگائی، بیروزگاری اور غربت عروج پر پہنچ چکی ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوتا جارہا ہے، بجلی کی قیمتیں بھی عوام کو جھٹکوں پر جھٹکے دے رہی ہیں، اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں کئی فیصد بڑھ چکی ہیں، جس کی وجہ سے عام آدمی کا جینا بہت مشکل ہوچکا ہے۔ اس سب کے باوجود جوڑ توڑ جاری رکھا جائے گا مگر اس کے نتائج صرف عوام ہی بھگتیں گے۔ ایسے میں سِیاسَتدانوں کی جوڑ توڑ والی کرتب بازیاں ہمیں کس بات کا اشارہ دے رہے ہیں؟

      علامہ محمد اقبالؒ نے اسی پس منظر میں کیا خوب شعر کہا تھا؛   ؎
جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جُدا ہو دِیں سِیاسَت سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
           •┅┄┈•※‌✤م✿خ✤‌※┅┄┈•
        🍁༻مسعود محبوب خان༺🍁      
                      (05.07.2023)
        Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
                      ○○○○○○○○○

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam