صہیونیت

01 *••⊱صَیہُونیت⊰••*

Zionism

          ┄┅════❁﷽❁════┅┄                

╗══════•❁ا۩۝۩ا❁•═══════╔

                *••⊱صَیہُونیت⊰••*

╝══════•○ ا۩۝۩ا ○•═══════╚

     🍁✍۔مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁

               📱09422724040

         •┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•

            ┄─═✧═✧═✧═✧═─┄


یُرِیْدُونَ لِیُطْفِؤُوا نُورَ اللَّٰہِ بِأَفْوَاہِہِمْ وَاللَّٰہُ مُتِمُّ نُورِہِ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُونَ۰ ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ۰ (سورۃ الصّف: 8-9)


’’یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللّٰہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں، اور اللّٰہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کردے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔


’’لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِینَ اٰمَنْوا الیَہْودَ وَ الَّذِینَ اَشرَکْوا ‘‘۰ (سورۃ المائدہ۔ 82)


(تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے….۔)

 

1. تاریخِ صَیہُونیت

2۔صَیہُونیت کا تعارف

3۔صَیہُونیت کے عقائد

4۔صَیہُونیت کی شکلیں و نظریات

5۔صَیہُونی دانا بزرگوں کی دستاویزات

6۔وضاحتیں

7۔بین الاقوامی صَیہُونیت اور فری میسن تنظیم.

8۔موساد (خفیہ ایجنسی)

9۔صَیہُونیت کے حقیقی مقاصد و عزائم

10۔صَیہُونی سازشیں صَیہُونی منصوبہ بندیاں

11۔مغضوبِ الہٰیہ قوم، قومِ یہود کی احسان فراموشی

 


تاریخِ صَیہُونیت (History of Zionism):


عالمی فتنہ سازوں کی مرکزی ٹولی اور اس کے خدام کا لشکر جو اس کی ’ورک فورس‘ (work force) کے طور پر کام کررہاہے، وہ صَیہُونی یہودیوں پر مشتمل ہے۔ یہودیوں کی دو اقسام ہیں۔ ایک وہ جو مذہب یہودیت کو مانتے ہیں۔ دوسرے وہ جو صَیہُونیت (زائن ازم) کے پیروکار ہیں اور یہودیوں کی کل آبادی کی بھاری اکثریت صَیہُونیوں کی ہے۔ سود خوری‘ سفاکی‘ جاسوسی‘ فریب کاری‘ فتنہ انگیزی وغیرہ خصوصی طور پر صَیہُونی یہودیوں کے خصائل ہیں۔ یہ باتیں یہودیوں کی تاریخ اور بائبل میں ملتی ہیں لیکن ہمارے لئے ان کی اصل سند قرآن مجید ہے۔


قرآن مجید کے مطابق یہودیوں میں ایک چھوٹی سی اقلیت دیندار اور ایماندار افراد پر مشتمل ہے اور بھاری اکثریت دوسری قسم کے افراد کی پیروکار ہیں۔ حالانکہ قرآن حکیم کہیں بھی لفظ صَیہُونی استعمال نہیں کرتا۔ بلکہ انہیں اللّٰہ کے باغی اور منکر یہود‘ ربّانی کتابوں، پیغمبروں اور صالح افراد کے دشمن‘ جھوٹ بولنے اور عہد شکنی کرنے والے‘ دنیا میں فتنہ و فساد برپا کرنے والے‘ بے حد حرص و تکبر رکھنے والے‘ لوگوں کو فریب دینے اور گمراہ کرنے والے‘ اللّٰہ کے نظام کو درہم برہم کرنے والے اور طاغوت کے چیلے وغیرہ وغیرہ کہتا ہے۔


اللّٰہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان سے خبردار رہنے اور ان کا مقابلہ کرنے کی ہدایات بار بار دی ہے۔ یہ تمام خصائل آج کے صَیہُونیوں میں پہلے سے بھی بڑھ کر ہیں اور صَیہُونیت کا نظام زندگی۔۔۔۔۔ اس کے نظریات۔۔۔۔اقدار اور عزائم۔۔۔۔ انہیں خصائل پر مبنی ہیں۔ ’ہم جنسی شہوانیت‘، ۔۔۔’مرد کی مرد سے اور عورت کی عورت سے شادی‘۔۔۔ کھلی برہنگی اور فحاشیت‘۔۔۔ بدکاری کے افعال کی قانونی اجازت‘۔۔۔ اپنی نسلوں پہ کنٹرول سے والدین کی قانونی محرومی‘۔۔۔ تعلیمی اداروں میں اللّٰہ کی حاکمیت اور دین کی ضرورت کے متعلق سبق دینے کی اور لڑکیوں کے سر ڈھانپنے کی شدید ممانعت اور دیگر کئی عصر حاضر کی قباحتیں جو مغربی اقوام میں موجود ہیں‘ یہ تمام خصائل عیسائیت یا یہودیت کی اقدار اور رسوم نہیں‘ بلکہ صَیہُونیت کے ہتھیار ہیں۔ اور اب انہیں باقی دنیا میں بھی تیزی سے پھیلایا جا رہا ہے۔

صَیہُونیت کا تعارف جاننے سے پہلے ہمیں چند اہم یہودی اصطلاحات و نسبتوں کو ذہن نشین کر لینا ہوگا جس سے صَیہُونیت واضح انداز میں سمجھ آجائیگی۔


اسرائیلی: اسرائیلی نسبت کی حقیقت۔۔۔۔۔ حضرت اسحاق ؑ کے بیٹے حضرت یعقوب ؑ کا لقب ’’اسرائیل‘‘ تھا، اور پھر ان کی جتنی بھی اولاد یںہیں وہ ’’بنی اسرائیل‘‘ کہلاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ’’اسرائیلی‘‘ نسبت ایک ’’خاندانی‘‘ نسبت ہے۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ سرزمین فلسطین پر غاصبانہ طورپر ظلم و بربریت اور احسان فراموشی کرکے قائم کی گئی ریاست بنام ’’اسرائیل‘‘ کی nationality اور قومیت رکھنے والے ’’اسرائیلی‘‘ اور حضرت یعقوب ؑ کی اولاد والے ’’اسرائیلی‘‘ میں بہت فرق ہے۔


یہودی: یہودی حضرت یعقوبؑ کے ایک بیٹے کی طرف نسبت ہے، جن کا نام ’’یہوداہ‘‘ تھا۔جب حضرت موسیٰ ؑ کو نبوت و رسالت ملی اور انہیں بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے تورات بھی عطاء کی گئی تو اس وقت حضرت موسیٰ ؑ کے پیروکاروں کا مذہبی لقب ’’یہودی‘‘ بن گیا۔ اس سے واضح ہوگیا کہ ’’یہودی‘‘ ایک ’’مذہبی‘‘ نسبت ہے۔


صَیہُونی: یہ ایک ’’سیاسی، قوم پرستانہ اور متشدد تنظیم و تحریک‘‘ کی طرف نسبت ایک تحریک ہے اور اسی تحریک کو ’’صَیہُونیت‘‘ سے جانا جاتا ہے۔ اور آج مجھے اسی صَیہُونیت کا تعارف، مقاصد اور سازشیں پیش کرنا یہاں مقصود ہے۔ صَیہُونی خارجی یہودی ہیں جن سے عرب یہودی شدید نفرت کرتے ہیں۔


مندرجہ بالا اصطلاحات کی تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی ہوگی کہ اسرائیلی، یہودی اور صَیہُونی یہ تینوں نسبتیں ایک ہی مفہوم نہیں رکھتیں، بلکہ الگ الگ مفہوم رکھتی ہیں۔ اس میں سب سے پہلے ’’یہودیت (Judaism) ‘‘ اور ’’صَیہُونیت (Zionism)‘‘ کا فرق سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ یہودیت ایک مذہب اور صَیہُونیت ایک انتہا پسند سیاسی اور ریاستی ایجنڈہ ہے( جس طرح ہمارے پاس برہمنیت اور آر ایس ایس ہے)۔


 مختصر اور آسان الفاظ میں اگر اسے سمجھیں تو بنی اسرائیل کے افراد جو یہودیت پر یقین رکھتے ہیں اور تورات کی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں وہ ’’یہودی‘‘ ہیں۔ ان کا اعتقاد ہے کہ ان پر جو مشکلات و مصائب آتے ہیں وہ خدا کی جانب سے امتحان ہے اور یہ کہ مذہب کی بنیاد پر کوئی ریاستی یا سیاسی ایجنڈا اختیار کرنا تورات کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اسی لئے وہ یروشلم پر قبضہ یا اسرائیل کے زبردستی قیام کے بھی مخالف ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تورات کی تعلیمات کے مطابق ان کے ’’مسیحا‘‘ کے آنے اور Messianic Era کے آغاز سے قبل یہودیوں کے لئے اپنی الگ ریاست (اسرائیل) کا قیام ان کی اصل مذہبی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اسی لئے خود یہودیوں میں Zionism کے خلاف بھی کچھ تحریک چل رہی ہیں۔


ہمارے پاس اکثر رسائل و اخبارات اور عام بول چال میں صَیہُونی کو صَیہُونی لکھا جاتا ہے جو عربی لغت کے لحاظ سے غلط ہے– لفظ صَیہُونیت (Zionism) 1890ء میں پہلی مرتبہ ناتھان برن بوم (Nathan Birnbaum) نام کے یہودی نے ایجاد کیا۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ صَیہُون ( Zion) قدیم یروشلم کی ایک پہاڑی کا نام ہے- یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت داؤدؑ نے اس صَیہُون نامی پہاڑی پر ایک معبدخانہ؍ عبادت گاہ جسے آج کے یہودی ’کنیسہ‘ کہتے ہیں اس کی بنیاد رکھی‘ اسی لئے اس پہاڑی کو مقدس سمجھا جانے لگا – یہودیوں نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس پہاڑی کو اپنے ادنیٰ مقاصد کے حصول کے لئے علامت بنا لیا‘ اسی سے لفظ ’’ صَیہُونیت‘‘ بنا ہے- تاریخ کے مختلف بدلتے ہوئے ادوار میں جب بھی یہودی غلام بنائے گئے اور جلاوطن کئے جاتے رہے تو ہر بار اسی ’’صَیہُون‘‘ کے نام کی طرف منسوب ہوکر ہی کوئی نہ کوئی تحریک چلاتے رہے۔


صَیہُونی ٹولی 70 عیسوی میں فلسطین سے یہودیوں کے انخلاء سے بہت پہلے قائم اور منظم ہوچکی تھی۔ مشرق وسطیٰ‘ ایشیائے کوچک‘ مغربی ایشیا‘ شمالی افریقہ‘ جنوبی یورپ جہاں بھی یہودی بستیاں قائم ہوئیں یا پہلے سے موجود تھیں‘ ہر بستی میں صَیہُونی ٹولی کے نمائندوں کی ایک ٹیم ہوتی تھی۔ مصر شام‘ ترکی عراق‘ ایران‘ جزیرہ نمائے عرب‘ یمن میں صَیہُونی یہودیوں کے گڑھ تھے۔


صَیہُونی یہود‘ کفار مکہ سے بھی بڑھ کر رسول کریم ﷺ اور دین اسلام اور قرآن کے دشمن تھے۔ اس بات سے تقریباً سبھی مسلمان واقف ہیں کہ مدینہ کے گرد و نواح اور خیبر کے یہودی جو دشمنانہ کارروائیاں کر رہے تھے‘ ان کے پیچھے صَیہُونی ٹولی کی مدد‘ منصوبہ سازی اور ڈائریکشن یعنی راہنمائی بھی تھی۔ اپنے زمانے کا مہا فتنہ گر اور دہشت گرد عبداللّٰہ بن سبا اس وقت کی یہودی صَیہُونی ٹولی کا ایجنٹ تھا، جس طرح تقریباً 1300 سال بعد لارنس آف عربیہ کہلانے والا کرنل ٹی ایس لارنس تھا۔


موجودہ دور میں جب مجلسِ اقوام کے زیر سایہ ایک موت کا رقص رچایا گیا جو کہیں تھمتا نظر نہیں آتا– مجلسِ اقوام کے ذریعہ اسرائیل کی غاصب ریاست کو وجود عطاء کیا گیا۔ سب سے پہلے ان کے ہاں ایک تحریک شروع ہوئی کہ مختلف علاقوں سے یہودی ہجرت کرکے فلسطین میں جا کر آباد ہوں اور وہاں زمینیں خریدنی شروع کردیں- چنانچہ 1880ء؁ سے اس ہجرت کا سلسلہ شروع ہوا اور زیادہ تر مشرقی یورپ سے یہودی خاندان منتقل ہونے لگے- اس سلسلے میں اہم کردار ایک آسٹریلوی یہودی صحافی‘ تھیو ڈور ہرٹزل (Theodor Herzl) نے ادا کیا- جو نسل سے تو یہودی تھا لیکن سیکولر یعنی لادین تھا، اس نے صَیہُونیت کے نظریہ پر باقاعدہ عملی کام کا آغاز کیا۔ اس نے پہلے یورپ کے یہودیوں پر مظالم کو اپنی تحریک کی بنیاد بنایا۔ اس نے اپنی قوم کی حالت زار دیکھتے ہوئے ایک علیحدہ وطن کی تحریک کا آغاز کیا ‘ وہ اس وقت سوئیٹزر لینڈ میں رہائش پذیر تھا– صَیہُونی تحریک کا پہلا اجتماع روس میں 1882ء میں ہوا او راس وقت وہ لوگ ’’حب صَیہُون‘‘ کے نام سے جمع ہوئے۔


ابتداء میں اسے کوئی خاطر خواہ پذیرائی نہیں مل سکی۔ اس کے بعد یہودیوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے لئے ان کی عبرانی کتب میں موجود نظریے ’’The Return to Zion‘‘ کو بنیاد بنایا۔ اس نظریہ کو اتنی کامیابی ملی کہ اگلے ہی برس یعنی 1897ء میں بہت سے انتہاء پسند یہودی اس کے ساتھ مل گئے اور ان صَیہُونی یہودیوں نے باقاعدہ Zionist Movement کا آغاز کیا۔ 1897ء میں سوئیٹزر لینڈ میں ’’باسل‘‘ کے مقام پر ایک پہلی صَیہُونی کانگریس (First Zionist Congress) منعقد ہوئی جہاں باقاعدہ صَیہُونی تحریک ( Zionist Movement) کا باقاعدہ آغاز ہوا-

 

صَیہُونیت کا تعارف (Introduction of Zionism):


صَیہُونیت سے مراد وہ تحریک جس کا مقصد یہودیوں کی منتشر قوم کے لئے فلسطین میں ایک وطن کا قیام تھا- جدید صَیہُونیت انیسویں صدی کے اواخر میں وسطی اور مشرقی یورپ میں ایک یہودی قومی احیاء کی تحریک کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔ تقریباً دو ہزار سال تک بغیر ریاست اور دوسرے ممالک کے غیر یہودی علاقوں میں رہنے کے بعد صَیہُونی تحریک کا قیام انیسوی صدی کے اواخر میں پیش کیا گیا۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ غاصب ریاست اسرائیل میں یہودی آبادی کا تناسب اس تحریک کے ابھرنے کے بعد سے مسلسل بڑھ رہا ہے۔ صہیونیت کے اس کال کے بعد سے اکیسویں صدی کے آغاز سے تمام دنیا کے 40% سے زیادہ یہود اسرائیل میں رہ رہے ہیں جو کسی بھی ملک میں بسنے والے یہودیوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔ صَیہُونیت تحریک کے افکار و نظریات کے نتائج سے صَیہُونی تحریک کی کامیابی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، جس کی مثال پچھلے دو ہزار سال کی تاریخ میں نہیں ملتی۔


صَیہُونیت کا تعارف یہ ہے کہ صَیہُونیت اس سیاسی، قوم پرستانہ اور متشدد تنظیم و تحریک کو کہتے ہیں جو یہودیت کے لئے ایک خود مختار اور آزاد مملکت کے قیام کی جدوجہد کرے اور جب ایسی مملکت عالم وجود میں آجائے تو اس کے تحفّظ، بقاء اور پھیلاؤ کی کوشش کرے۔ صَیہُونیت ایک جامع اصطلاح ہے جس میں جارحانہ قسم کی تمام کارروائیاں آجاتی ہیں‘ جیسا کہ یہودیوں کے پروٹوکولز سے ظاہر ہوتا ہے (جس کا مختصر تعارف آگے آئے گا)- صَیہُونیت ایک قسم کی فوجی تحریک ہے جو غاصب ریاست اسرائیل کو روز بروز قوی و مستحکم بنانے کے لئے دہشت گردی ‘ تشدد اور ظلم و جبر کے تمام حربے جائز سمجھتی ہے–


صَیہُونیت کے نزدیک صَیہُونی یہود، کسی بھی ملک کا باشندہ ہو‘ دوسری تمام تر وفاداریاں اسی کے تحت آتی ہیں- یہ ایک نہایت خطرناک فلسفہ ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ تمام دنیا میں پھیلے ہوئے یہودی اپنے اپنے ملکوں کے غدار ہیں- جس کا ثبوت صَیہُونی رہنماؤں کے کھلے الفاظ ہیں- مثلاً  25؍اپریل 1950ء کو یروشلم میں ’’صَیہُونیت کا مستقبل‘‘ کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے بن گورین نے یہودیوں کے فرائض کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’’صَیہُونیت کی بنیاد نہ تو دوستی ہے اور نہ محض ہمدردی بلکہ اس کی بنیاد اسرائیلی ریاست کے لئے جذبہ محبت ہے اور یہ محبت بالکل غیر مشروط ہو گی- اسرائیل اور اس کے عوام کے ساتھ آپ کا مکمل اتحاد اور بھائی چارہ ہونا چاہئے-‘‘


صاف ظاہر ہوتا ہے کہ صَیہُونیت کا نصب العین یہودیوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں اسرائیل میں جمع کرنا ہے۔ اسرائیل کی ریاست قائم ہو جانے سے صَیہُونی تحریک کا مقصد پورا نہیں ہو جاتا بلکہ دنیا بھر کے صَیہُونیوں سے مزید یہ تقاضا کیا جاتا ہے کہ اب وہ اسرائیل کی تعمیر اور استحکام کے لئے ضرور ی وسائل مہیا کریں- صَیہُونی یہودیوں کے پاس سرمائے کی کوئی کمی نہیں ہے اس وجہ سے وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے مسلم ممالک کو فتح کرنے کے منصوبے بناتے رہتے ہیں- صَیہُونی یہود ’’عظیم تر اسرائیل‘‘ کے منصوبے میں تمام شام‘ لبنان‘ اردن‘ جنوبی ترکی‘ عراق‘ صحرائے سینا‘ مصر میں دریائے نیل کے ڈیلٹا کے تمام علاقے اور مدینہ سمیت حجاز اور نَجد کے شمالی خطہ کو شامل کرتے ہیں- یہ ہے صَیہُونیت کا مختصر سا تعارف جو انسانیت کے لئے بالعموم اور اسلام اور دنیائے اسلام کے لئے بالخصوص ایک عظیم خطرہ ہے–


صَیہُونیت کے عقائد (Beliefs of Zionism):


صَیہُونیوں کا عقیدہ تھا جب تک ان کا مسیحا یعنی دجّال نہیں آئے گا ان کے لئے اس دنیا میں الگ وطن حاصل کرنا ناممکن ہے۔ ہولوکاسٹ سے پہلے تک صَیہُونیوں کا یہی عقیدہ رہا لیکن بعد میں صَیہُونیوں کے دانا بزرگوں نے اس عقیدہ کی تھوڑی سی مختلف تشریح کی جس کے مطابق اپنے مسیحا کے انتظار سے پہلے ہمیں اپنی معاشی برتری حاصل کرنی چاہئے اور اس معاشی طاقت کے بل بوتے پر یہودیوں کو الگ وطن حاصل کرلینا چاہئے اور اس وطن میں اپنے مسیحا یعنی دجال کا تخت بنانا ہوگا جب ہی ہمارا مسیحا (دجال) آئے گا۔


صَیہُونیوں کا عقیدہ ہے کہ دنیا کے تمام یہودی ایک نسل اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں۔ دنیا پر حکمرانی صرف یہودیوں کا حق ہے، اس مقصد کا حصول اس طرح ممکن ہے کہ دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک کے علاقوں پر یہودی سلطنت قائم کی جائے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ یہودی اللّٰہ کی پسندیدہ قوم ہیں اور پوری نسل انسانیت ان کی خادم ہیں۔ صَیہُونیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ دنیا پر کنٹرول اورغلبہ حاصل کرنے کے لئے تشدد اور دہشت گردی اور ظلم کو روا رکھنا چاہیے۔ سیاست میں اخلاقی قدروں کے لئے کوئی گنجائش نہیں۔ سیاست میں مکر و فریب، خیانت و جھوٹ کو اختیار کرنا چاہئے۔


صَیہُونیت یہ عقیدہ بھی ہے کہ مقصد کے حصول کے لئے رشوت اور غداری کو بلا جھجک اختیار کرنا چاہئے۔ صَیہُونی پروٹوکول میں ذرائع ابلاغ کے بارے میں لکھا ہے ہم یہودی پوری دنیا پر کنٹرول پانے کے لئے سونے کا ذخائر پر قبضہ کو مرکزی اور بنیادی اہمیت دیتے ہیں تو ذرائع ابلاغ بھی ہمارے مقاصد کے حصول کے لئے دوسرا اہم درجہ رکھتا ہے۔ ہم میڈیا کو اپنے کنٹرول میں رکھیں گے۔


صَیہُونیت کا ایک منشاء یہ بھی ہے کہ دنیا کی تمام طاقتوں کے درمیان عداوت و عناد کو پیدا کریں اور ان کے درمیان کشمکش اور جنگ بھڑکائیں، تاکہ آپس میں لڑ کر ساری طاقتیں کمزور ہو جائیں اور حکومتیں بے بس ہوجائیں، کمزور قوموں اور ملکوں کو آمادہ کیا جائیں کہ وہ ہمارے ساتھ ہو جائیں۔ ان کی ضروریات کو پورا کرکے ان کی ہمدردی حاصل کی جائے اور پھر ان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے۔


صَیہُونیت کے پیرو کاروں کی تحریک کی بنیاد یہ ہے کہ تمام دنیا نے ان پر بے شمار ظلم کیے ہیں اور اب ان کا حق ہے کہ وہ تمام دنیا سے اپنے اوپر کئے جانے والے مبینہ مظالم کا بدلہ لیں۔ اس کے لئے تورات کی تعلیمات کے برخلاف ان کا نظریہ ہے کہ اپنی ریاست (Greater Israel) کے قیام کے لئے کسی بھی علاقے پر زبردستی قبضہ اور قتل و غارت کرنا ان کا حق ہے کیونکہ وہ تمام مذاہب اور تمام نسلوں سے اعلیٰ اور افضل ہیں۔

 


صَیہُونیت کی شکلیں و نظریات (Forms and Ideas of Zionism):


صَیہُونیت کوئی خاص یک ریخت و یک صورت نظریہ نہیں، بلکہ یہ بہت سے نظریات کے مباحثوں سے مرتب ہوا مثلاً عملی صَیہُونیت، سیاسی صَیہُونیت، مذہبی صَیہُونیت، عمالی صَیہُونیت، تصحیحی صَیہُونیت، ماحولیاتی صَیہُونیت، مصنوعی صَیہُونیت، ثقافتی صَیہُونیت، انقلابی صَیہُونیت اور اصلاحی صَیہُونیت وغیرہ۔


عملی صَیہُونیت (Practical Zionism):


جیسا کہ پہلے ذکر ہوا ہے کہ صَیہُونیت کا پہلا اجتماع روس میں 1882ءمیں ہوا اور اس وقت وہ لوگ ’’حب صَیہُون‘‘ کے نام سے جمع ہوئے۔ جس میں ایک جماعت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جماعت نے اپنا یہ ہدف بنایا کہ یہودیوں کو دوبارہ یہودی وطن یعنی ملک اسرائیل (جو کنعان، ارضِ مقدس اور فلسطین پر مشتمل ہے) کی طرف ہجرت کرنے پر ابھارا جائے اور اپنی مذہبی زبان ’’عبرانی‘‘ کو زندہ کیا جائے۔ حالانکہ اسی دور میں فلسطین واپسی کا نظریہ ربیوں کی شوریٰ نے شدت سے مخالفت کرتے ہوے ردّ کیا۔ یہودی ربیوں نے فرینکفرٹ میں منعقد مجلس میں ایسی تمام دعائیں اپنی کتابوں سے حذف کر دیں جو صَیہُون واپسی اور یہودی ریاست کی بحالی سے متعلق تھیں۔


سیاسی صَیہُونیت (Political Zionism):


سیاسی صَیہُونیت کا بانی اولاً ہرتزل نے عالمی صَیہُونی اجتماع 1897ءمیں منعقد کیا اور اس میں اعتراف کیا کہ میں نے یہودی ریاست کے قیام کی بنیاد ڈال دی ہے۔ فلسطین پرہرتزل کی توجہ صَیہُونی منشور جواس نے خود تحریر کیا، اپنی کتاب دیر جود نستات (Der Judenstaat) یعنی یہودی ریاست (The Jewish State) کی اشاعت کے بعد مرکوز ہوئی۔ مفکر صَیہُونیت اپنی کتاب میں تحریر فرما ہیں کہ ’’میرا ایمان ہے کہ ایک حیرت انگیز یہودی نسل وجود میں آئیگی۔ مکابیین پھر سے عروج حاصل کریں گے۔ میں اپنے الفاظ پھر سے دہراتا ہوں: وہ یہود جو ریاست کی آرزو کرتے ہیں، انہیں وہ ملے گی۔آخر کار ہم اپنی زمین پر بسیں گے اور ہم امن سے اپنے گھروں میں فوت ہوسکیں گے۔ ہماری آزادی دنیا کی آزادی ہوگی، ہماری دولت دنیا کی دولت ہوگی، ہماری بڑائی سے ان کی عزت ہوگی۔ اور وہاں ہم اپنی فلاح کے لئے جو بھی کوشش کرنا چاہیں گے، انسانیت کے لئے سود مند، مقوی اور طاقت بخش ہوگا۔‘‘ (کتاب: ’یہودی ریاست‘ کے اختتامی الفاظ،1896ء از: تھیوڈور ہرتزل)۔


مکابیین شفیلہ میں مودین کے ایک یہودی خاندان کا نام تھا۔ مکابیین نسل نے باری باری تحریک کی راہنمائی کی اور ان سب نے یہودی تاریخ کو نہایت گہرے انداز سے متاثر کیا۔ اسی تحریک کہ نتیجے میں یہودیوں کے بڑے بڑے لوگ اس ہدف کے لئے جمع ہوئے اور انہوں نے اپنے اہداف کے حصول کے لئے خفیہ طور پر کئی منصوبے شروع کئے، انہی منصوبوں میں ایک منصوبہ یہودی پروٹوکولز کا بھی ہے جس میں انہوں نے مقدّس کتابوں میں جو تحریفات کی تھیں انہیں مزید کئی تحریفات کے ساتھ جمع کرکے اپنی قوم کے لئے ایک اہم دستاویز بنا کر مرتب کردیا۔


مصنوعی صَیہُونیت (Synthetic Zionism):


اس کا طرز عمل پہلے دو صَیہُونیت کے اقسام کے مرکب کی حمایت کرنا ہے۔


عمالی صَیہُونیت (Labour Zionism):


مختلف نظریاتی اختلافات کے ساتھ تحریک صَیہُونیت میں ایک اور فکر پیدا ہوتی ہے جس کا صَیہُونیت کے ساتھ کوئی ضروری واسطہ نہیں، بلکہ مستقبل کی یہودی ریاست کے کردار کے بارے ان یہودی گروہ کے لوگوں کا جامع عالمی نقطۂ نظر ہے۔ عملی اور سیاسی صَیہُونیت کے برخلاف، عمالی صَیہُونیت کا مقصد ایک زراعت پسند یہودی نجی درمیانی طبقے کی اخلاقی مساوات کی بنیاد پر معاشرہ کا قیام تھا۔


تصحیحی صَیہُونیت (Correct Zionism):

تصحیحی صَیہُونیت کا مقصد یہودی قومیت کے رومانوی عناصر اور صہیونی قومی سوچ اور یہودی ریاست کی تشکیل میں ارض مقدسہ کے یہودی لوگوں کے تاریخی ورثے کے بنیادی جزو کے طور پر اہمیت اجاگر کرنا تھا۔


انقلابی صَیہُونیت (Revolutionary Zionism):


انقلابی صَیہُونیت نے صَیہُونیت کو یہودی جلاوطنوں کو جمع کرنے، عبرانی زبان کو بطور گفتاری زبان، احیاء اور یہودی مملکت دوبارہ بحالی کے لئے انقلابی جدوجہد کی حیثیت سے دیکھا۔ انقلابی صَیہُونیوں پر اکثر تصحیحی صَیہُونیوں کے ساتھ مغالطہ ہوجایا کرتا ہے درحقیقت یہ دونوں اقسام کئی پہلوؤں میں نظریاتی طور پر مختلف ہیں۔ حالانکہ تصحیحی زیادہ تر سیکولر (غیر مذہب) قوم پرست تھے، جن کی توقع تھی کہ برطانوی مملکت میں ہی ایک یہودی ریاست دولت مشترکہ کے طور پر حاصل کرلی جائے، انقلابی صَیہُونیوں نے قومی مسیحیت کی ایک شکل کی توثیق کی جو ایک وسیع یہودی بادشاہت اور بیت المقدس میں ہیکل کی تعمیر کے متمنی تھے۔ انقلابی صَیہُونیت عام طور پر سامراج مخالف نظریات کو اختیار کرتا ہے اور اس کے پیروؤں میں دونوں دائیں اور بائیں بازو کے قوم پرست عناصر شامل ہیں۔


مذہبی صَیہُونیت (Religious Zionism):

مذہبی صَیہُونیت نے اپنی یہ رائے برقرار رکھیںکہ یہودی قومیت اور قیام ریاستِ اسرائیل ، تورات کی رو سے مذہبی فرض ہے۔ ان کا نعرہ ہے ’’سرزمین اسرائیل، بنی اسرائیل کے لئے بمطابق شریعت اسرائیل‘‘۔


ثقافتی صَیہُونیت (Cultural Zionism):


ثقافتی صَیہُونیت کی رائے تھی کہ کیا یہود کی قومی احیاء کی تکمیل کو اسرائیل میں ایک ثقافتی مرکز اور دیارِ غیر میں یہودی تعلیمی مرکز بنا کر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ جس کے offer وہ بار بار خلافتِ عثمانیہ کو دیتے رہے۔


اصلاحی صَیہُونیت (Reform Zionism):


اصلاحی صَیہُونیت، جسے ترقی یافتہ صَیہُونیت بھی کہا جاتا ہے، یہودیت کی اصلاح یا ترقی پسند شاخ کے صَیہُونی بازوکا نظریہ ہے۔ یہ تحریک امریکہ میں بہت زیادہ سرگرم ہے۔

 


صَیہُونی دانا بزرگوں کی دستاویزات (Protocals of the Learned Elders of Zion):


پروٹوکولز سے مراد وہ خفیہ دستاویزات ہیں، جس میں صَیہُونی رہنماؤں نے دنیا کو فتح کرنے اور اس پر حکومت کرنے کا پروگرام پیش کیا ہے اور جس پران رہنماؤں کے دستخط موجود ہیں- اب تک اس دستاویز کے 85 سے زائد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں لیکن یہ صَیہُونی یہودیوں کی تنظیم اور دنیا بھر میں پھیلی ہوئی خفیہ سرگرمیوں کا ایک اہم کارنامہ ہے کہ یہ کتاب ہمیشہ نایاب رہی ہے اور اس کی ایک جلد کا حصول بھی آسان نہیں- اس میں بتایا گیا ہے کہ یہودیوں کو پوری دنیا پر قبضہ کرنے کے لئے کیا کیا کرنا ہے اور کون کون سے ہتھکنڈے اپنانے ہیں-


صَیہُونیوں کا ایک بڑا عزم ون ورلڈ گورنمنٹ یعنی ’’حکومت دنیا ئے واحدہ‘‘ قائم کرنے کا ہے جس میں ہر جگہ صَیہُونیت کا نظام زندگی نافذ ہوگا اور جس کی اصل قیادت صَیہُونی ٹولی کے ہاتھ میں ہوگی۔ اس کا مکمل بلیو پرنٹ اسی ’’زائنسٹ پروٹوکولز‘‘ یعنی صَیہُونی اکابرین کے عزائم کی دستاویزات میں‘ جن کا انکشاف 1904ء میں ہوا تھا‘ موجود ہے۔ مسلم دانشوروں اور لیڈروں کو چاہئے کہ اس چونکا دینے والی کتاب کا مطالعہ کریں‘ حالات حاضرہ پر نظر دوڑائیں اور خود دیکھیں کہ دنیا میں جو کچھ ہوا ہے اور ہو رہا ہے‘ اس بلیوپرنٹ کے عین مطابق ہے۔ اگرچہ یہ صَیہُونی پروٹوکولز مارکیٹ میںآسانی سے نہ ملے مگر اس موضوع میں دلچسپی رکھنے والوں سے حاصل کی جا سکتی ہے۔


’’پروٹوکولز‘‘ میں عالمی صَیہُونیت اور اب صَیہُونی غاصب ریاست ’اسرائیل‘ کے وسیع عزائم اور منصوبوں کے ساتھ ساتھ ان کی تکمیل کے لئے وسائل و ذرائع اور فتنہ گری کے طریقوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ پچھلی چند صدیوں میں صَیہُونی ٹولی نے اپنے منصوبے کے مطابق جو واقعات برپا کئے‘ ان کے حقائق کینیڈین کمانڈر گائی کار کی 1954ء کی لاجواب کتاب ’’پونز ان دی گیم‘‘ میں اسناد کے ساتھ درج ہیں۔ نپولین کو اوپر اٹھانے والے بھی صَیہُونی یہود تھے اور نیچے گرانے والے بھی۔ انقلاب فرانس ان کا شاہکار تھا۔


صَیہُونی دانا بزرگوں کی دستاویزات کو مختصراً ساری دنیا پر ایک خفیہ برادری کے تسلط کا خاکہ کہا جا سکتا ہے۔ ان کی تالیف کی حقیقت خواہ کچھ بھی کیوں نہ ہو، ان کے شائع ہونے کے بعد ان دستاویزات پر شدید بحثوں کا سلسلہ چل نکلا۔ اس میں بہرحال کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ عالمی معاشرہ جس کا قیام ان دستاویزات کا نصب العین ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ ساری دنیا کو ایک پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کر دیا جائے۔ ان دستاویزات میں جگہ جگہ ایک ’’سپر گورنمنٹ‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر چھٹی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ: ’’ہمیں ہر ممکنہ ذریعہ سے ایک ایسی ’’سپر گورنمنٹ‘‘ کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے جو رضاکارانہ طور پر اطاعت قبول کرنے والوں کو مکمل تحفظ کی ضمانت دے سکے‘‘۔


اس منصوبے کو بروئے کار لاتے ہوئے اول ’’لیگ آف نیشنز‘‘ قائم کی گئی اور بعد میں ’’اقوام متحدہ‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اقوامِ متحدہ پر ہمیشہ یہودیوں کا تسلط رہا۔دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ کا قیام بعینہ اسی رضاکارنہ اطاعت کے اصول کے تحت عمل میں لایا گیا۔ اسی طرح اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے مثلاً یونیسکو United Nations Educational, Scientific and Cultural Organization (UNESCO)، International Labour Organization (ILO)، World Health Organization (WHO)، Food Agriculture Organization (FAO) اور Human Rights Commission وغیرہ قائم کئے گئے۔ پچھلے چند سالوں میں ایک اور بین الاقوامی تنظیم جو خود کو پارلیمانی تنظیم برائے عالمی حکومت کہلواتی ہے قائم کی گئی ہے۔ اس تنظیم کے بھی وہی اغراض و مقاصد ہیں جو اس جیسی دوسری عالمی تنظیموں کے ہیں۔ یہ ادارہ برملا اعلان کرتا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے منشور میں معمولی رد و بدل کے بعد اسے فوری طور پر ایک عالمی حکومت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔


کافی عرصے سے ایک عالمی پولیس فورس قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اگر یہ قائم ہوگئی تو اقوامِ متحدہ کی سپر گورنمنٹ انتہائی طاقتور پولیس فورس کے ذریعہ ساری دنیا پر اقتدار قائم کر سکے گی۔ 1950ء کے عشرے کے آخری سالوں میں یہ پولیس فورس تقریباً قائم ہوتے ہوتے رہ گئی۔ 1956ء کے نہر سوئز کے بحران کے بعد اقوام متحدہ کی ایمرجنسی فورس کا قیام دراصل ایک تجرباتی منصوبہ تھا۔اگر اقوام متحدہ کے منشور میں معمولی رد وبدل کے بعد اسے ایک سپر گورنمنٹ بنا دیا جائے تو اس کے ذیلی ادارے خودبخود وزارتِ تعلیم، وزارتِ محنت، وزارتِ صحت، وزارتِ انصاف اور وزارتِ خوراک بن جائیں گے۔


کیا یہ کوئی اتفاقی حادثہ ہے کہ ان تمام امور کی ان صَیہُونی دستاویزات میں منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس وقت صرف ایک مکمل عالمی سپر گورنمنٹ کا ہی خطرہ یا فوری خطرہ نہیں ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ مشرقی یوروپ کے ممالک کو روس کے تسلط میں لایا جا رہا ہے لیکن ساتھ ہی مغربی یوروپ کے حالات بھی مختلف نہیں ہیں۔


      مغربی ممالک کو سیاسی، عسکری اور معاشی سطح پر بین الاقوامی تسلط میں لایا جا رہا ہے اور اسی طرح سماجی معاملات میں بھی انہیں تیزی کے ساتھ بین الاقوامیت کے زیر اثر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اور کہا یہ جاتا ہے کہ اپنی قومی خود مختاری قربان کر کے ہی وہ زندہ رہ سکتے ہیں۔ قومی اسمبلیوں کی جگہ یوروپین اسمبلی کو یا اطلانتک کونسل کو لے لینی چاہئے ملکوں کی عسکری قوت کو ناٹو، بغداد پیکٹ یا سیٹو جیسے اداروں میں ضم ہو جانا چاہئیے۔ یہ اس لئے کیا جا رہا ہے تاکہ کسی ملک کا بھی اپنی دفاعی قوت پر اقتدار باقی نہ رہ سکے۔ اسی طرح قومی معیثتیں بھی آرگنائزیشن آف یوروپین کمیونٹی (OEEC) یوروپین پیمنٹس یونین (EPU) اور ورلڈ بینک جیسے اداروں کی دست نگر کر دی جائیں تاکہ کوئی ملک بھی معاشی طور پر خود مختار نہ رہ سکی۔ ثقافتی سطح پر بھی قوموں کی تہذیبی انفرادیت کا خاتمہ ضروری سمجھا گیا۔ مثال کے طور پر کامن مارکٹ کے تحت وہ معاہدہ جو یوروپ کے چھ ملکوں کو معاشی طور پر منسلک کرتا ہے، اس میں ایک شق یہ بھی ہے کہ یہ ممالک ثقافتی ہم آہنگی کی پالیسی پر عمل کریں گے۔ یوروپ کے دوسرے ممالک کو بھی بشمول برطانیہ، فری ٹریڈ ایریا میں شامل کرنے کی سرتوڑ کوششیں ہو رہی ہیں۔


1957ء کے اختتام پر برطانوی حکومت نے ایک ایسے منصوبے کا سرکاری اعلان کیا جس کی پیشن گوئی ساٹھ سال قبل صَیہُونی دستاویزات میں کی گئی تھی۔ ۷؍ نومبر 1957ء کو برطانیہ کے دارالامرا میں اعلان ہوا کہ:’’مکہ معظمہ کی حکومت عالمی حکومت کے قیام کے منصوبے کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ ہم اسے اپنی منزلِ مقصود تصور کرتے ہیں اور اس منزل پر پہنچنے کے لئے، ہر امکانی کوشش جو ہمارے بس میں ہے، کریں گے‘‘۔


ساری دنیا۔ فیڈریشن، اتحاد، علاقائیت اور باہمی انحصار کی طرف جا رہی ہے۔ ان تمام منصوبوں کے بارے میں صَیہُونی دستاویزات پیشن گوئی کی شکل میں موجود ہے۔ ان دستاویزات کی بڑھتی ہوئی شہرت کی وجہ سے انہیں جعلی ثابت کرنے کی بیشمار کوششیں کی گئیں لیکن 1933ء میں جب تک یہودیوں نے قانونی چارہ جوئی نہیں کی یہ کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔ آج انہیں دستاویزات کے متعلق ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ یہ جعلی ہیں۔ کیا یہ سب اتفاقی حادثات ہو سکتے ہیں؟ کیا کسی جعلساز کے لئے اتنی بیش بینی ممکن تھی؟ یا ایسا ہے کہ یہ دستاویزات اس سازش کا خاکہ ہیں جو اسلامی تہذیب کو تباہ و برباد کر کے ساری دنیا پر ایک چھوٹے سے مخصوص ٹولے کی حکمرانی اور تسلط قائم کرنے کے لئے تیار کی گئی ہیں۔

 


وضاحتیں (Specifications):


ہم جب بھی ان صَیہُونی دستاویزات کا مطالعہ کریں گے اس وقت کچھ اصطلاحات نظروں سے گذریں گی، ہمیں انہیں بھی سمجھنا ہوگا۔


۱۔ ایجنٹر (AGENTUR) اور پولیٹیکل۔

صَیہُونی دستاویزات کے انگریزی ترجمے میں دو ایسے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں جن کے معنی غیر معروف ہیں۔ ایجنٹر اور پولیٹیکل کے الفاظ دراصل اسم ذات کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ ایجنٹر غالباً اصل مسودہ سے لیا گیا ہے اور اس سے مراد گماشتوں کی وہ پوری تنظیم ہے جو صَیہُونی دانا بزرگوں کے لئے کام کرتی ہے خواہ وہ اس گروہ کی رکن ہوں یا اس کے سربراہ ہوں۔ پولیٹیکل کے معنی مسٹر مارسڈن (صَیہُونی دستاویز کے انگریزی مترجم) کے خیال میں سیاسی ادارہ نہیں بلکہ سیاست کی پوری مشینری ہے۔


۲۔ سانپ۔ صَیہُونیت کا علامتی نشان۔

تیسری دستاویز صَیہُونیت کے علامتی نشان کے حوالے سے شروع ہوتی ہے۔ نائلس نے ان دستاویزات کی 1905ءکی اشاعت کی آخری صفحات میں اس علامتی نشان کو مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان کیا ہے:


’’صَیہُونیت کے خفیہ تاریخی شواہد کے مطابق حضرت سلیمان اور دوسرے یہودی بزرگوں نے ۹۲۹ قبل مسیح میں ہی تسخیر عالم کا ایک تصوراتی خاکہ مرتب کر لیا تھا۔ جوں جوں تاریخ کے اوراق پلٹتے گئے، اس منصوبے کی جزئیات واضح ہوتی گئیں اور آئندہ آنے والی نسلوں میں سے ان لوگوں نے جنہیں، ان رازوں میں شریک کیا گیا تھا اس منصوبے کے خدوخال واضح کر کے اسے پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ ان داناؤں نے سانپ کی روایتی عیاری اور مکاری کے ساتھ پر امن ذرائع استعمال کرتے ہوئے ساری دنیا پر صَیہُونی تسلط کا منصوبہ بنایا۔ اس روایتی سانپ کا سر وہ افراد ہیں جو صَیہُونی تنظیم کے باقاعدہ رکن ہیں اور اس کا جسم پوری یہودی قوم ہے۔ اس تنظیم کو ہمیشہ سے خفیہ رکھا گیا ہے۔ یہاں تک کہ عام یہودیوں کو بھی اس کی ہوا تک نہیں لگنے دی جاتی۔ جب یہ سانپ کسی قوم کے قلب میں داخل ہوتا ہے تو اس ملک کی تمام غیر یہودی قوتوں کو اپنی گرفت میں لے کر نگل جاتا ہے۔ پیش گوئی یہ ہے کہ سانپ اس منصوبے کی جزئیات کے عین مطابق اپنا کام اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک اس کا سر اس کی دم سے نہ مل جائے‘‘۔


اس طرح تمام ممکنہ ذرائع استعمال کرتے ہوئے، سانپ پورے یوروپ کے گرد اپنا حلقہ مکمل کرے گا اور اس طرح پورے یوروپ کو پا بہ زنجیر کرنے کے بعد یوروپ کے توسط سے ساری دنیا پر اپنا تسلط قائم کرے گا۔ ساری دنیا پر معاشی تسلط قائم کرنے کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔

سانپ کے سر کی صَیہُونیوں کو واپسی صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ معاشی بحران پیدا کئے جائیں، بڑے پیمانے پر تباہ کاری کی جائے اور اس کے لئے مذہب بیزاری اور اخلافی بدکرداری کی فضا قائم کی جائے۔ اس کام کے لئے خصوصیت سے یہودی عورتیں استعمال کی جائیں گی جو فرانسیسی اور اطالوی لڑکیوں کے روپ میں یہ کام کریں گی۔ یہ لڑکیاں ان ممالک کے اعلیٰ طبقوں میں بے لگام شہوت پرستی کی ہمت افزائی کر کے قابل تقلید مثالیں قائم کریں گی۔


اس سانپ کے راستے کا نقشہ حسب ذیل ہے۔


پہلا مرحلہ: یوروپ میں ۴۲۹ قبل مسیح کا یونان جہاں پریکلس کے زمانے میں سانپ نے سا ملک کی طاقت کو ہڑپ کرنا شروع کیا۔


دوسرا مرحلہ: آگٹس کے زمانے میں رومی سلطنت ۶۹ قبل مسیح۔


تیسرا مرحلہ: چارلس پنجم کے زمانے کا میڈرڈ 1552ء۔


چوتھا مرحلہ: پیرس 1790ء لوئی شش دہم کا زمانہ۔

پانچواں مرحلہ: لندن 1841ء کے بعد کا زمانہ۔ (نپولین کی شکست کے بعد)۔


چھٹا مرحلہ: برلن 1871ءفرانس اور پریشیا سے جنگ کے بعد کا زمانہ۔


ساتواں مرحلہ: سینٹ پیٹرز برگ جس کے اوپر سانپ کا منہ بنا ہوا ہے اور اس پر 1881ء کی تاریخ درج ہے۔


یہ تمام ممالک جن سے یہ سانپ گزرا ان ممالک کے دساتیر کی بنیادیں ہلاتا چلا گیا۔ جرمنی بھی باوجود اپنی عظیم الشان طاقت کے اس سے مستثنیٰ نہیں رہ سکا۔ حالانکہ انگلستان اور جرمنی بدحالی کا شکار نہیں ہوئے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ سانپ کا روس پر تسلط ہونے کے بعد کیا ہوتا ہے جس پر اس کی اس وقت 1905ء تمام توانائیاں مرکوز ہیں۔سانپ کا اگلا راستہ نہیں دکھایا گیا ہے لیکن تیر کے نشانوں سے اس کا رخ ماسکو، کیف اور اوڈیسہ کی طرف معلوم ہوتا ہے یہ بت سب کو معلوم ہے کہ مذکورہ شہر بنیاد پرست یہودیوں کے گڑھ ہیں۔


۳۔ گویم (GOYIM) /گولم (غلام) Golems کی اصطلاح


گویم کی اصطلاح جس کی معنی غیر یہودی کے ہیں دستاویزوں میں عام طور پر استعمال کی گئی ہے اور مسٹر مارسڈن نے اپنے ترجمے میں اسے جوں کا توں استعمال کیا ہے۔ اردو ترجمے میںگویم کے لئے غیر یہودی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔


کچھ سال قبل آؤٹ لک کی خبر کے حوالے سے یہ بات نظروں کے سامنے سے گذری تھی کہ یوپی کے ملیح آباد اور قائم گنج قصبوں کے آفریدی پٹھانوں پر اسرائیل کی نظر عنایت بڑھ رہی ہیں۔ صَیہُونی علمائے اسرائیل کا خیا ل ہے کہ یہ لوگ بھی ’اسرائیل کے گم شدہ قبائل‘ میں سے ہیں۔ لکھنؤ یونیورسٹی میں آفریدی پٹھانوں کے اسرائیلی رابطوں پر ریسرچ بھی ہورہی ہے اور یہودی وفود کئی بار ملیح آباد (لکھنؤ) اور قائم گنج (فرخ آباد) کا دورہ کر چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ اچانک ہندوستان کے عیسائیوں اور مسلمانوں سے اسرائیل کی محبت کا راز کیا ہے؟ یہ جاننے کے لئے بعض دوسری بنیادی چیزوں کا سمجھنا ضروری ہے۔ یہودیوں میں بھی دو طبقے ہی ایک بنی داؤد اور بنی اسحاق جو بنی اسرائیل کہلاتے ہیں اور دوسرے وہ یہودی جو نسلی اعتبار سے ’بنی اسرائیل‘ نہیں ہیں۔ یہودی Hirarchy میں یہ دوسرا گروہ کم تر درجے کا حامل ہے۔ اب ان بنی اسرائیل کے علاوہ دنیا میں جتنی انسانی نسلیں آباد ہیں وہ ان کے نزدیک عملاً غلام Golem ہیں جنہیں یہودی Gollum بھی کہتے ہیں۔ ہٹلر کے ذریعے یا 11؍ ستمبر 2001ء کو جن یہودیوں کا قتل عام ہوا وہ سب ’ادنیٰ درجے کے یہودی‘ تھے جنہیں ایک ’عظیم مقصد‘ یعنی قیام اسرائیل کی راہ ہموار کرنے کے لئے گولم (غلام) کی طرح قربان کر دیا گیا۔ شمال مشرقی ہندوستان کے ’بنی مناشح‘ اور ملیح آبادی و قائم گنجوی پٹھانوں پر اسرائیل کی نظر کرم اسی لئے تھی کہ انہیں اسرائیل پر قربان کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ غلاموں کی ضرورت ہے۔

 


بین الاقوامی صَیہُونیت اور فری میسن تنظیم (International Zionism & Free Mason Org.):


فری میسن ایک بین الاقوامی صَیہُونی یہودی تنظیم ہے۔ ہر ملک میں اس کے مراکز ہیں۔ جو لاج کہلاتے ہیں۔ اس کی رکنیت کے کئی مدارج ہیں جو ڈگری کہلاتے ہیں۔ ہر ڈگری کی رکنیت کے لئے کچھ شرائط ہیں اور ہر ڈگری کا رکن صرف اپنے برابر کی ڈگری والوں سے ربط ضبط رکھ سکتا ہے۔ اس درجہ بندی پر اس قدر سختی سے عمل کیا جاتا ہے کہ ایک ڈگری کا رکن دوسری ڈگری کے رکن کے مقاصد اور خفیہ منصوبوں سے کسی طرح آگاہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اونچے درجے کے اراکین کے مقاصد دوسرے اراکین سے، خواہ ان کی پوری زندگی فری میسن تنظیم کے رکن کی حیثیت میں گزری ہو انتہائی خفیہ اور رازداری میں رکھے جاتے ہیں۔ اس تنظیم کا طریقہ کار اتنا خفیہ ہے کہ اس کے بارے میں معلوم کر لینا تقریباً ناممکن ہے۔ لاجوں کی رودادیں غیر معمولی طور پر خفیہ اور انتہائی رازداری میں رکھی جاتی ہیں اور ان کے ارکین کے علاؤہ کسی اور کو اس کی ہوا تک نہیں لگنے دی جاتی۔


بہت چھان بین کرنے کے بعد مختلف ذرائع سے جو معلومات حاصل کر کے یکجا کی جا سکی ہیں ان کے مطابق لاج کے اراکین ایک دوسرے سے خفیہ کوڈ میں بات چیت کرتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کو اپنے خفیہ اشاروں اور الفاظ کے ذریعہ پہچانتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ اپنی برادری کے اراکین کے دروازوں پر دقل باب کرنے کا بھی ان کا ایک مخصوص انداز ہے اور یہ دنیا کے کسی حصّے میں بھی چلے جائیں ایک دوسرے کو بہ آسانی شناخت کر لیتے ہیں۔ اگر کوئی فری میسن بیرون ملک سفر کرے تو اسے اپنے آدمی پہچاننے کے لئے کسی تعارف کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سوشل اجتماعات جلسوں یا تقریبات میں، مختلف ملکوں میں بھی یہ لوگ ایک دوسرے کو بغیر کسی دشواری اور بغیر کوئی لفظ منہ سے نکالے صرف اپنے ہاتھ یا جسم کے خفیہ اشاروں کی زبان سے پہچان جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ان کا ایک عام اشارہ مثلث کا نشان ہے جسے آنکھ کہا جاتا ہے۔ اگر کسی اجنبی ماحول میں، کوئی فری میسن یہ معلوم کرنا چاہے کہ وہاں اس کی برادری کے اور کتنے افراد وہاں موج ہیں تو وہ صرف اپنے کوٹ یا واسکٹ کے بٹنوں کے درمیان رکھ کر ایک طرف اپنی انگلیوں سے ثلث بنائے اور دوسری طرف اپنے کوٹ کے دامن پر ایسا ہی مثلث بنائے تو برادری کے تمام اراکین جو اس جگہ موجود ہوں گے اسے فورًا شناخت کر لیں گے اور انہیں کوئی لفظ منہ سے نکالنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔


فری میسن عام طور پر ملک کے افسران کو اپنا رکن بناتے ہیں یا غیر ملکی بڑی بڑی کمپنیوں کے مالکان اور عہدیداروں کو۔ رکن بننے کے لئے کسی خاص رنگ، مذہب، نسل یا قومیت کی قید نہیں ہے بلکہ اس ملک کے شہریوں کو رکن بنانے کی ہمت افزائی کی جاتی ہے اور اس کے بعد منصوبے کے مطابق انہیں اپنے ڈھب پر لایا جاتا ہے۔ ان لوگوں کو اس طرح استعمال کیا جاتا ہے کہ انہیں یہ پتا بھی نہیں چلتا کہ انہیں کس مقصد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ برادری کے اراکین کی درمیان زبردست جذبہ محبت اور ہمدردی پیدا کر دیا جاتا ہے۔ محض لاج کی رکنیت کسی سرکاری افسر کے لئے اس کا حقدار بنا دیتی ہے کہ اسے دوسرے افسران کی مقابلے میں جلدی ترقی ملے۔ یہ عین ممکن ہے کہ لاج کے اراکین میں صرف ایک آدھ صَیہُونی یہودی ہو یا ممکن ہے کہ اس میں ایک بھی یہودی نہ ہو لیکن اس کی تنظیم اس طرز پر کی گئی ہے کہ یہ بالآخر عالمی صَیہُونیت کے مقاصد کی خدمت کرتی ہیں۔ یہودیوں کی اس تنظیم کا اصل مقصد مختلف ممالک میں سازش اور جاسوسی کرانا ہے۔ اور مشہور یہ کیا جاتا ہے کہ یہ سماجی اور تفریحی کلب ہیں اور اس کے ممبر آپس میں ایک دوسرے کی بے انتہاء مدد اور خیال کرتے ہیں۔ اور یہ بات کسی کے اس تنظیم کا ممبر بننے کے لئے اپنے اندر بہت بڑی کشش رکھتی ہے۔

 


موساد (Institute for Intelligence & Special Operations):


دیگر ممالک کے انٹیلی جنٹس اداروں جیسے امریکی ادارہ FIA اور CIA ، برطانوی ادارہ M16 اور M15 ، سابقہ روسی ادارہ KGB اور اس کی جگہ لینے والا موجودہ روسی ادارہ FSB اور فرانس کے انٹیلی جنٹس اداروں اور جرمنی کے سابقہ اور موجودہ انٹیلی جنٹس اداروں میں اور موساد کے قیام میں بڑا فرق ہے، موساد کا قیام صَیہُونی غاصب ریاست کے قیام کے پہلے عمل میں لایا گیا۔ موساد کا نام بھی ایسا رکھا گیا کہ کوئی بھی اس ادارے کے بارے یہ گمان نہ کرسکے کہ یہ سراغرسانی کا کوئی ادارہ ہے۔


صَیہُونی غاصب ریاست اسرائیل کا خفیہ جاسوسی ادارہ۔۔۔۔۔۔ موساد کا پورا نام ’’انسٹی ٹیوٹ فار انٹیلی جنس اینڈ اسپیشل آپریشنز‘‘ ہے یہ ایجنسی بہ ظاہر اپنے آپ کو سائنسی ادارہ کہتی ہے مگر یہ حیثیت صرف ان کی اصلیت چھپانے کے لئے ہے ورنہ اس کا اصل کام دشمن ممالک کو نقصان پہنچانا اور ان کی چھپی سرگرمیوں سے اپنی حکومت کو آگاہ کرنا ہے۔ موساد صَیہُونی تحریک کا جاسوسی نہیں بلکہ تخریب کاری کا ادارہ ہے۔ موساد کے agents نہ صرف یورپین ممالک بلکہ عالم اسلام کے تمام ممالک میں اسرائیل کے مفادات کے لئے سرگرم عمل ہیں۔صَیہُونی غاصب ریاست کے مفادات کے تحفظ و دفاع، اس کے لئے اطلاعات فراہم کرنے کے لئے جیوش ایجنسی، ہگانہ، شائی اور موساد جیسی خفیہ ایجنسیز کا قیام باضابطہ طور پر عمل میں لایا گیا۔


Directors of Mossad:

Reuven Shiloah-1949–53, Isser Harel-1953–63, Meir Amit-1963–68, Zvi Zamir-1968–73,

Yitzhak Hofi-1973–82, Nahum Admoni-1982–89, Shabtai Shavit-1989–96, Danny Yatom-1996–98, Efraim Halevy-1998–2002, Meir Dagan-2002–2011, Tamir Pardo-2011–2016, Yossi Cohen-2016–present.


صَیہُونیت کے حقیقی مقاصد و عزائم (The true aims and ambitions):


اگست 1897ء باسل (basle) کے مقام پر جو پہلی صَیہُونی کانگریس ہوئی وہ صَیہُونیت کی تاریخ میں بڑی اہمیت رکھتی ہے‘ اس میں مندرجہ ذیل مقاصد و عزائم طے کئے گئے–


-1 فلسطین میں یہودی کسانوں‘ مزدوروں اور کاریگروں کی آباد کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے-


-2 مقامی قوانین اور حالات کے تحت تمام ملکوں میں یہودیوں کی تنظیمیں قائم کی جائیں جو ایک عالمی تنظیم کے تحت ہوں گی –


-3 یہودیوں میں نسلی تفاخر کا احساس اور شعور بیدا رکیا جائے–


-4 ان مقاصد کے حصول کے لئے سرکاری منظوری حاصل کرنے کے سلسلے میں ابتدائی اقدامات کئے جائیں-


اس کے بعد 28 ویں صَیہُونی کانگریس نے 1968ء میں یروشلم میں ہونے والے اجلاس میں ’’یروشلم پروگرام‘‘ کے پانچ نکات کو صَیہُونیت کے مقاصد کے طور پر اپنایا وہ یہ ہیں:


1 – یہودی عوام میں اتحاد اور یہودی زندگی میں اسرائیل کا مرکزیت۔


2 – تمام مما لک سے تعلق رکھنے والے عالیہ کے ذریعہ یہودی عوام کو اپنے تاریخی آبائی وطن اریز اسرائیل میں جمع کرنا۔


3 – عدل و امن کے پیشن گوئی والے نظریہ پر مبنی ریاست اسرائیل کی مضبوطی۔


4 – ہر جگہ پر یہودیوں کے حقوق کا تحفّظ۔


5 – یہودی اور عبرانی تعلیم کو فروغ دینے اور یہودی روحانی اور ثقافتی اقدار کے ذریعہ یہودی لوگوں کی شناخت کا تحفّظ۔


مندرجہ بالا مقاصد کے حصول کے لئے یہودیوں نے جو اقدامات کئے اگر ان کا جائزہ لیا جائے تو ان کے جارہانہ عزائم بے نقاب ہوتے ہیں اور عربوں کو صَیہُونیت سے جو خطرہ درپیش ہے اس کا اظہار بھی ہوتا ہے–


صَیہُونی منصوبہ سازوں میں ہر قسم کے ماہرین اور مفکرین شامل ہیں۔ ایک طرف وہ اپنی سکیموں کے مطابق نت نئے واقعات اور حالات خود پیدا کرتے جاتے ہیں۔ دوسری طرف جو حالات اور کیفیات کسی معاشرہ میں پہلے سے مروج ہیں یا فطری تقاضوں کی بنا پر وجود میں آتی ہیں‘ وہ انہیں اپنے منصوبوں کی طرف موڑتے جاتے ہیں۔

صَیہُونی ٹولی نے 1897ءمیں اپنے مستقل فرنٹ کے طور پر ورلڈ زائنسٹ آرگنائزیشن WZO (World Zionist Organization) یعنی عالمی صَیہُونی تنظیم قائم کی۔ اس کی ہزاروں شاخیں ہیں اور دنیا میں مختلف ناموں سے کام کر رہی ہیں۔ اس کی اپنی سالانہ رپورٹ کے مطابق صرف امریکہ میں دو ہزار سے زائد شاخیں ہیں۔ ان میں ایک بڑی شاخ ’’امریکن۔ اسرائیل پبلک افیئزز کمیٹی‘‘ ہے۔


WZO کے صدور مندرجہ ذیل گزرے ہیں :

Theodor Herzl: (1897–1904), Max Nordau (de facto) (1904-1905), David Wolffsohn: (1905–1911),

Otto Warburg: (1911–1921), Chaim Weizmann (1st time): (1921–1931), Nahum Sokolow: (1931–1935), Chaim Weizmann (2nd time): (1935–1946), David Ben-Gurion (acting): (1946–1956), Nahum Goldmann: (1946-1948), David Ben-Gurion (acting): (1948-1956),

Nahum Goldmann: (1956-1968), Ehud Avriel: (1968–1972), Simon Greenberg (1963–1968),

Louis Arie Pincus (1968–Oct 1973), head WZO executive until 1972

Yitzhak Navon (1972–1978), only head of WZO Executive

Aryeh Dolchin (Oct 1973–1975), only chairman of Jewish Agency

Pinhas Sapir (1975–12 Aug 1975), only head of Jewish Agency

Aryeh Dolchin (12 Aug 1975–6 Jan 1976), only chairman of Jewish Agency

Yosef Almogi (6 Jan 1976–1978), only chairman of Jewish Agency, Aryeh Dolchin (1978–Dec 1987)

Simcha Dinitz (Dec 1987–14 Feb 1994), Yehiel Leket (Feb 1994–Feb 1995)

Avraham Burg (Feb 1995–Feb 1999), Sallai Meridor (25 Feb 1999–2005), "acting” until May 1999, then elected, Zeev Bielski (2005–2009), Avraham Duvdevani (2010–present)

Yaakov Hagoel, Vice Chairman, former Head of the Department for Activities in Israel & Countering Antisemitism. In 2009, Natan Sharansky was elected head of the Jewish Agency and Avraham Duvdevani was elected Chairman of the WZO at the 36th Zionist Congress on 15 June 2010.


صَیہُونی سازشیں منصوبہ بندیاں (Conspiracy and Plannings):


صَیہُونی یہود کی پہلی کامیابی 1898ء میں ہرٹزل نے جرمنی کے قیصر ولیم کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ ترکی ‘ شام اور فلسطین کے دورے کے دوران سلطان عبد الحمید سے یہودیوں کو فلسطین میں زمین خریدنے اور وہاں آباد ہونے کی اجازت لے کردے- اس کے عوض اس نے قیصر ولیم سے وعدہ کیا کہ دنیا بھر کے یہودی سلطنت عثمانیہ میں جرمنی کلچر کا پروپیگنڈہ کرنے کے لئے ہر ممکن سہولت بہم پہنچائیں گے- اس کے علاؤہ جرمنی کی تجارت کو فروغ دیں گے اور فلسطین کو برطانیہ کے لئے ایک مستقل درد سر بنادیں گے لیکن جب قیصر ولیم نے سلطان سے اس موضوع پر گفتگو کرنا چاہی تو سلطان ٹال گیا اور قیصر نے بھی اس خوف سے خاموشی اختیار کر لی کہ کہیں برلن کو بغداد سے ملانے والی ریلوے لائن جرمنی کے ہاتھ سے نہ جاتی رہے–


1901ء میں ہرٹزل نے سلطان کو باقاعدہ یہ پیغام بھجوایا کہ یہودی ترکی کے تمام قرضے ادا کرنے کو تیار ہیں‘ آپ فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنانے کی اجازت دے دیں–


 لیکن سلطان نے پیغام پر تھوک دیا اور صاف کہا ’’جب تک میں زندہ ہوں اور جب تک ترکی سلطنت موجود ہے- اس وقت تک اس کا کوئی امکان نہیں‘ میں تمہاری دولت پر تھوکتا ہوں-‘‘


ہرٹزل کی موت کے بعد صَیہُونی آلۂ کاروں نے ترکی مجلس اتحاد و ترقی (Turkish Society of Union Progress) میں اثر و نفوذ پیدا کرلیا– یہ جماعت خفیہ طور پر سلطان عبدالحمید کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کررہی تھی- ان میں فری میسن ‘ دو نمہ ( ایک یہودی جس نے ظاہری اسلام قبول کر رکھا تھا) اور وہ مسلمان نوجوان شریک تھے جو مغربی تعلیم کے زیر اثر آکر ’’ترکی قوم پرستی‘‘ کے علمبردار بن گئے تھے-


 ان لوگوں نے ترکی فوج میں اپنے اثرات پھیلانے اور سات سال کے اندر ان کی سازشیں پختہ ہو کر اپنی منزل کو پہنچ گئیں اور شوکت پاشا نے فوج کی مدد سے سلطان کی حکومت کا خاتمہ کردیا اور سلطان کو معزول کردیا گیا- اس موقع پر جو انتہائی ’’ دردناک واقعہ پیش آیا وہ یہ تھا کہ 1908ء میں جو تین آدمی سلطان کی معزولی کا پروانہ لے کر ان کے پاس گئے تھے ان میں دو ترک تھے ا ور تیسرا وہی حاخام قرہ صو آخذی تھا جس کے ہاتھ ہرٹزل نے فلسطین کو یہودیوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ سلطان کے پاس بھیجا تھا- ذرا تصور کیجئے کہ سلطان کے دل پر کیا گزری ہوگی جب وہی یہودی ان کی معزولی کا پروانہ لئے ان کے سامنے کھڑا تھا اور بھیجا بھی اسے مسلمانوں نے تھا–


 اس کے ساتھ ہی 1913ء میں بننے والی وزارت میں تین یہودی نژاد وزیر شامل کرلئے گئے جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں-


1- احباریہ آفندی … رومانیہ کا باشندہ اورا یک یہودی اخبار کا ایڈیٹر تھا– تعمیراتِ عامہ کا محکمہ اس کے سپرد کیا گیا–


2- نسیم مزلک … تجارت و زراعت کا محکمہ اس کے پاس تھا-

3- جاوید … محکمہ مالیات کا وزیر بنایا گیا–


مندرجہ بالا حالات سے یہ بات واضح ہو تی ہے کہ فلسطین میں عمل دخل حاصل کرنے کے لئے صَیہُونیوں کی یہ پہلی کامیابی تھی- اب ان یہودی وزراء نے اپنا رنگ روپ دکھانا شروع کیا- 1914ء میں انہوں نے ایک قانون پاس کروایا کہ یہودیوں کو فلسطین میں جائیداد بنانے کی اجازت دی جائے- اس طرح تاریخ میں پہلی مرتبہ یہودیوں کو فلسطین میں اپنی تنظیمیں اور ادارے قائم کرنے کا موقع ملا- ان وزیروں نے یہودیوں کے ہاتھ سلطان کی فلسطینی جاگیریں بیچنا شروع کردیں- جو کہ فلسطین میں سب سے زیادہ زرخیز تھیں- یہ زمینیں یہودی تنظیموں نے مشترکہ طور پر خرید لیں-


دوسری بڑی صَیہُونی سازش … مسلمانوں میں قوم پرستی کا بیج


اسی زمانے میں ایک دوسری سازش بھی زور شور سے چل رہی تھی جس کا مقصد ترکی سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا تھا اور اس سازش میں بھی مغربی سیاست کا روں کے ساتھ ساتھ یہودی دماغ شروع ہی سے کار فرما تھا– ایک طرف ترکوں میں یہ تحریک اٹھائی گئی کہ وہ سلطنت کی بنا، اسلامی اخوت کی بجائے ترکی قوم پرستی پر رکھیں– حالانکہ ترکی میں صرف ترک ہی آباد نہیں تھے بلکہ عرب اور کرد اور دوسری نسلوں کے مسلمان بھی تھے ایسی سلطنت کو صرف ترکی قوم کی سلطنت قرار دینے کے صاف معنی یہ تھے کہ تمام غیر ترک مسلمانوں کی ہمدردیاں اس کے ساتھ ختم ہو جائیں– دوسری طرف عربوں کو عربی قومیت کا سبق پڑھایا گیا اور ان کے دماغ میں یہ بات بٹھائی گئی کہ وہ ترکوں کی غلامی سے آزاد ہونے کی جدو جہد کریں–


 عربوں میں عرب قوم پرستی کا فتنہ اٹھانے والے عیسائی عرب تھے- بیروت اس کا مرکز تھا اور بیروت کی امریکن یونیورسٹی اس کے فروغ کا ذریعہ بنی ہوئی تھی- اس طرح ترکوں اور عربوں میں بیک وقت دو متضاد قسم کی قوم پرستیاں ابھاری گئیں اور ان کو یہاں تک بھڑکایا گیا کہ 1914ء میں جب پہلی جنگ عظیم برپا ہوئی تو ترک اور عرب ایک دوسرے کے دوست ہونے کی بجائے دشمن اور خون کے پیاسے بن کر سامنے آئے۔


قرار داد بالفور (1917ء) Balfour Declaration:


اب یہودیوں نے ایک طرف مسلمانوں میں بنیاد پرستی کا بیج بویا اور دوسری طرف جنگ عظیم اول کے اتحادی ملکوں بالخصوص برطانیہ اور امریکہ پرزور دینا شروع کیا کہ ان کے لئے فلسطین میں ایک یہودی ریاست قائم کی جائے– اس جنگ کے شروع میں تو یہودیوں نے جرمنی سے معاملہ کرنا چاہا لیکن قیصر ولیم پر اعتماد نہ ہونے کے باعث‘ یہودی قومی وطن کی تحریک کے علمبردار ڈاکٹر وزائز مین نے برطانیہ اور فرانس کو تمام دنیا کے یہودیوں کی مکمل حمایت دلا کر لارڈ بالفور سے وہ پروانہ حاصل کیا جو تاریخ میں اعلان بالفور کے نام سے مشہور ہے– یہ اعلان انگریزوں کی بددیانتی کا شاہکار ہے‘ ایک طرف انہوں نے عربوں کے لئے خود مختار ریاست کا یقین دلایا اور اسی وعدے کی بنیاد پر عربوں نے اپنے ترک مسلمان بھائیوں سے بغاوت کرکے فلسطین‘ عراق اور شام پر برطانیہ کا قبضہ کروایا- اور دوسری طرف وہی انگریز یہودیوں کو باقاعدہ تحریر دے رہے ہیں کہ ہم فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنائیں گے– یہ اتنی بڑی بے ایمانی تھی کہ انگریز قوم تا زندگی اپنی تاریخ پر سے اس کلنک کے ٹیکے کو نہ مٹا سکے گی پھر ذرا غور کیجئے کیا فلسطین کوئی خالی پڑی زمین تھی جس پر کسی قوم کو آباد کردینے کا وعدہ کیا جارہا تھا ؟… اعلان بالفور کے وقت وہاں یہودیوں کی آبادی 5؍فیصد بھی نہ تھی اور برطانیہ کا وزیر خارجہ تحریری وعدہ دے رہا تھا کہ ایک قوم کے وطن میں دوسری قوم کا وطن بنایا جائے گا- یہ ایک ایسا ظلم ہے جس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی– اس زخم پر مزید نمک پاشی لارڈ بالفور کے یہ الفاظ تھے-


’’ہمیں فلسطین کے متعلق کوئی فیصلہ کرتے ہوئے وہاں کے موجودہ باشندوں سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے– صَیہُونیت ہمارے لئے ان سات لاکھ عربوں کی خواہشات اور تعصبات سے بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے جو اس قدیم سر زمین میں اس وقت آباد ہیں -‘‘ لارڈ بالفور کی ڈائری کے یہ الفاظ آج بھی برطانوی پالیسی کی دستاویزات کی جلد سوم میں ثبت ہیں–


مجلس اقوام (League of Nations):


برطانیہ کے یہودی، صَیہُونیت کو مضبوط و مستحکم کرنے اور یہودی تہذیب وتمدن کے احیاء کے لئے پورے جوش وخروش سے سرگرم عمل رہے- اس سے یہودیوں کو فلسطین میں اپنی بستیاں بسانے کا موقع مل گیا‘ جن کا مقصد ارض مقدسہ میں یہودیوں کے مفادات کو آگے بڑھانا تھا- برطانوی سرمایہ داروں نے برطانوی یہودیوں کی عملی مدد کی– لارڈ ایشلے(Ashley) ‘ لارڈ شافٹسبری (Shaftesbury)‘ والٹر کرسبورن‘ جیمس فن اور لارنس اولی فنٹ جیسے برطانوی رہنماؤں نے صَیہُونیت اور یہودیوں کے قومی دعوؤں کی حمایت و وکالت کی- بڑے بڑے کاروباری اداروں نے صحافیوں کی خدمات حاصل کیں تاکہ فلسطین میں ایک یہودی وطن کے قیام کے لئے رائے عامہ کو ہموار کریں۔


میکس نوردو (MAX NORDAU) نامی ایک یہودی نے باسل (BASLE) میں صَیہُونی کانگریس میں یہ حیرت انگیز پیش گوئی کی تھی:


’’مجھے یہ الفاظ کہنے کی اجازت دیجئے کہ میں آپ کو وہ زینہ دکھاؤں جس کی سیڑھیاں صرف اوپر کی طرف اٹھتی چلی جا رہی ہیں۔ ہرٹزل صَیہُونی کانگریس منعقد ہو چکی ہے۔ اب برطانوی یوگنڈا کی تجویز پیش کی جائے گی، پھر جنگ عظیم ہو گی۔ اس کے بعد امن کانفرنس ہو گی جس میں انگلستان کی مدد سے فلسطین میں ایک آزاد یہودی ریاست وجود میں آئے گی‘‘۔


موجودہ دور میں اقوام متحدہ کے زیر سایہ ایک موت کا رقص رچایا گیا جو کہیں تھمتا نظر نہیں آتا– اقوام متحدہ کے ذریعہ اسرائیل کی غاصب ریاست کو وجود عطاء کیا گیا۔ سب سے پہلے ان کے ہاں ایک تحریک شروع ہوئی کہ مختلف علاقوں سے یہودی ہجرت کرکے فلسطین میں جا کر آباد ہوں اور وہاں زمینیں خریدنی شروع کردیں- چنانچہ 1880ء سے اس ہجرت کا سلسلہ شروع ہوا اور زیادہ تر مشرقی یورپ سے یہودی خاندان منتقل ہونے لگے–


خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد فلسطین کا علاقہ (بشمول یروشلم) برطانیہ کے تسلط میں چلا گیا۔ جس میں مجلس اقوام (League of Nation) اور بڑی طاقتیں‘ برطانیہ اور فرانس نے اس طرح کام کیا گویا وہ آزاد ریاستیں نہیں بلکہ صَیہُونی ایجنٹ ہیں- اب انہوں نے پہلا کام یہ کیا کہ فلسطین، برطانیہ کے انتداب میں دے دیا جائے- انتداب کا مطلب یہ ہے کہ مجلس اقوام کی طرف سے اس کے سپرد ہر کام کیا گیا ہے کہ وہ وہاں خاص شرائط کے تحت فرمانروائی کرے-


مجلسِ اقوام نے برطانیہ کو انتداب کا پروانہ دیتے ہوئے بڑی بے شرمی سے ہدایت کی کہ اس کی ذمّہ داری ہوگی کہ فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنانے کے لئے ہر طرح کی آسانیاں فراہم کرے‘ صَیہُونی تنظیم کو سرکاری طور پر باقاعدہ تسلیم کرکے نظم و نسق میں شریک کرے- اب فلسطین میں یہودیوں کی آباد کاری کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہو گیا- پہلا برطانوی ہائی کمشنر سر ہر برٹ سیمویل خود ایک یہودی تھا- صَیہُونی تنظیم کو عملاً حکومت کے نظم و نسق میں شریک کیا گیا اور اس کے سپرد نہ صرف تعلیم اور زراعت کے محکمے کئے گئے بلکہ بیرونی ممالک سے لوگوں کے داخلے‘ سفر اور قومیت کے معاملات بھی اس کے حوالے کردئیے گئے– ایسے قوانین بنائے گئے کہ یہودیوں کو فلسطین میں زمینیں حاصل کرنے میں سہولت ہو- عربوں پر بھاری ٹیکس لگائے گئے اور ہر بہانے سے ان کی زمینیں ضبط کی گئیں اور وہ یہودیوں کے ہاتھ فروخت کی گئیں- سرکاری زمینوں کے بڑے بڑے رقبے انہیں کہیں مفت اور کہیں برائے نام قیمت پر دے دی گئیں- ایک علاقے سے 8؍ہزار عرب کا شتکاروں اور زراعتی کارکنوں کو 50؍ہزار ایکٹر زمین سے حکماً بے دخل کردیا گیا–


ان تدبیروں سے 17؍سال کے اندر اندر یہودی آبادی چند ہزار سے ساڑھے چار لاکھ تک پہنچ گئی -اس سے صاف ظاہر ہے کہ انگریز فلسطین میں صرف صَیہُونیت کی خدمت سر انجام دیتے رہے‘ ان کے ضمیر نے ایک دن بھی ان کو یہ احساس نہ دلایا کہ کسی ملک پر ا س کے اصل باشندوں کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں– جن کی نگہداشت کرنا ان کی اخلاقی ذمّہ داری ہے- جنگ عظیم دوم کے زمانے میں ہٹلر کے preplanned مظالم سے بھاگنے والے یہودی ہر قانونی اور غیر قانونی طریقے سے بے تحاشا فلسطین میں داخل ہونے لگے- صَیہُونی ایجنسی نے ان کو ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں ملک کے اندر گھسانا شروع کیا اور مسلح تنظیمیں قائم کیں-


 جنہوں نے ہرطرف مار دھاڑ کرکے عربوں کو بھگانے اور یہودیوں کو بسانے میں سفاکی کی حد کردی– انگریزی انتداب کی ناک کے نیچے یہود یوں کو ہر طرح کے ہتھیار پہنچ رہے تھے اور عربوں کو ہتھیار رکھنے اور ظلم کا جواب دینے سے روکنے کیلئے قانون موجود تھا- البتہ برطانوی حکومت جان بچا کر بھاگنے والے عربوں کو نقل مکانی کی سہولتیں فراہم کرنے میں بڑی فراخ دل تھی– 1917ء؁ سے 1947ء؁ تک 30؍سال کے اندر یہودی منصوبے کا دوسرا مرحلہ مکمل ہو ا جس میں وہ اس قابل ہوگئے کہ فلسطین کو یہودیوں کا ’’قومی وطن‘‘ بنانے کی بجائے ان کی ’’قومی ریاست ‘‘ قائم کردیں-


صَیہُونیت کا پیدا کردہ معاشی بحران

صَیہُونی یہودیوں نے وطن کے نعرہ کو سیاسی ایشو بنایا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ دنیا بھر میں موجود یہودی ہجرت کرکے فلسطین آنے کو راضی نہیں ہورہے تھے اور اسی مقصد کے لئے صَیہُونیوں نے خود یہودیوں کا قتل عام شروع کروایا۔ صَیہُونیوں کا اصل پلان یہ تھا کہ پہلے پوری دنیا میں معاشی بحران پیدا کیا جائے جس کے نتیجے میں عام جنگ کروائی جائے اور جنگ کے اختتام پر ایک آزاد یہودی ریاست (اسرائیل) کا اعلان کیا جائے۔


ساتھ ساتھ دنیا بھر سے یہودیوں کو فلسطین منتقل کیا جائے۔ اس کے لئے چاہے شدید تشدد کے ذریعے یہودیوں کی ہی نسل کشی یا قتل کیوں نہ کرنا پڑے۔


یاد رہے دوسری عالمی جنگ سے پہلے صَیہُونی پلان کردہ عالمی معاشی بحران 1929ء میں پیدا کیا گیا جس کے نتیجے میں کئی ممالک ایک دوسرے پر چڑھ دوڑے اور وہ جنگ صَیہُونیوں کے عین منصوبے کے مطابق ایک عالمی جنگ کی شکل پیدا کرگیا۔ 1929ءکے عالمی معاشی بحران کے ٹھیک 10 سال بعد 1939ء میں عالمی جنگ شروع کروادی گئی، جو 1945ء تک جاری رہی۔ اس کے ٹھیک 3 سال بعد 14 مئی 1948ء کو امریکی اور برطانوی صَیہُونیوں کی مدد سے فلسطین پر قبضہ کرکے ’’اسرائیل‘‘ کا ناپاک وجود قائم کیا گیا۔


ہولوکاسٹ Holocaust (1941ءـ 1945ء)

1929ء میں عالمی معاشی بحران پیدا ہوتا ہے اس کے چند سال بعد جرمنی میں جہاں دنیا میں سب سے بڑی تعداد یہودیوں کی بستی تھی، وہاں 1933ء میں ہٹلر کی نازی پارٹی اقتدار میں آتی ہے۔ ہٹلر خود بھی صَیہُونی صفت سفاک قاتل اور ظالم صفت انسان تھا، اس نے صَیہُونیوں کی ہی مدد کی، ایک طرف اپنے ملک سے یہودیوں کو نکالنا چاہا تو دوسری طرف ان یہودیوں کو جرمنی چھوڑ کر فلسطین جانے کو کہا۔ بظاہر جرمنی سے نکالنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ وہ فلسطین جاکر آباد ہوں اور پھر وہاں ایک غاصب ریاست اسرائیل قائم کردیں۔


مطالعہ کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں کہ ہٹلر کی نازی پارٹی کے صَیہُونیوں سے خفیہ یارانے تھے۔ آپ گوگل پر نازی پارٹی کو سرچ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس پارٹی کا لوگو ہی صَیہُونی فری میسن والا ہے۔ ہٹلر خود بھی اند ر سے صَیہُونیوں سے ملا ہوا تھا۔ حقیقت میں باریک بینی سے کیا جانے والا مطالعہ ہمیں اس نتیجہ پر لے جاتا ہے کہ یورپ میں 1941ء سے 1945ء تک عام یہودیوں کی نسل کشی (genocide) کروانے کے پیچھے بھی انہیں صَیہُونیوں کا اپنا ہاتھ تھا۔ اس ظلم و بربریت سے پرُ نسل کشی کو آج ہم ’’ہالو کاسٹ‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ ہولوکاسٹ کو ’ شوہ Shoah‘ کے نام بھی جانا جاتا ہے تو ایک عبرانی یہودی اصطلاح ہے۔ ہولو کاسٹ دراصل یونانی لفظ سے بنا ہے، جس کے معنی ’’مکمل جلا دینے‘‘ کے ہیں جسے اردو میں مرگ انبوہ بھی کہا جاتا ہے۔


فریب کاری کا ابھرا ہوا عنصر

صَیہُونیوں کی وسائل کی طاقت کا راز ان کے خصائل خصوصاً سودکاری اور فریب کاری ان کی مرکزی قیادت اور مختلف ممالک میں بسنے والے یہودی ہیں جو مقامی لوگوں کے بھیس میں ان ممالک میں تمام اہم شعبوں میں فعال ہیں اور کئی کلیدی عہدوں پر فائز ہیں۔ صدر کلنٹن کے دور کی وزیر خارجہ میڈیلین البرائٹ نے جسے سب عیسائی سمجھتے تھے‘ جنوری 1997ء میں تقریباً 60 سال کی عمر میں تسلیم کیا کہ وہ یہودن ہے! کلنٹن کے گرد اسی طرح صَیہُونیوں کا جمگھٹا تھا جس طرح اب جارج بش کے گرد ہے۔ بش کے مدمقابل جان کیری کا ڈرامہ تو بالکل تازہ ہے۔ وہ بھی تقریبا 60 سال کا تھا اور کیتھولک بنا ہوا تھا۔ جب 2003ء میںایک اخبار میں انکشاف کے بعد اس نے اعتراف کیا کہ وہ یہودی ہے۔ اور ا س نے میڈلین کے الفاظ دہرائے۔ ’’مجھے معلوم نہیں تھا کہ میں یہودی ہوں!‘‘


فریب در فریب اور تہہ در تہہ! صَیہُونی ٹولی اور اسرائیلی ریاست کے چال چلن کا خاص وطیرہ ہے۔ ایک تہہ ظاہر ہو بھی جائے تو اگلی تہہ بھی فریب کی ہوتی ہے۔ صَیہُونی ٹولی خود پس پشت رہتی ہے۔ اس کی بیشمار ذیلی تنظیمیں اور کئی فرنٹ یعنی بناوٹی ڈھانچے ہیں۔ اولین فرنٹ‘ ’’پرائری آف زائن‘‘ یعنی ’’صَیہُون کی خانقاہی برادری‘‘ ہے جو صلیبی جنگوں کی اصل محرک تھی۔ اس نے مسلمانوں کے خلاف کیتھولک چرچ اور مسیحی یورپ کو اکسایا اور جنگ کے لئے ابھارا۔ یہ خود خفیہ رہی اور اب بھی ایسے ہے۔ اس کا ایک ’’بازو‘‘ جو سامنے لایا گیا Knights Templar یعنی ’’سلیمانی مندر کے محافظین‘‘ تھے۔ یہ سب عیسائیوں کے بھیس میں یہودی تھے۔


مئی؍ 1988ء میں روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والے مضمون ’’افغانستان پر سوویت حملے کے اصل اسباب‘‘ میں لکھا گیا تھا کہ یہ حملہ عالمی صَیہُونیت کے عزائم کا حصّہ ہے اور اس کا ایک مقصد سوویت یونین کی سلامتی کو نقصان پہنچانا ہے۔ سوویت یونین تو دنیا کا مستحکم ترین ملک ہے۔ دنیا نے دیکھا کہ دسمبر؍ 1991ء میں سوویت یونین ٹوٹ گیا۔ دنیا میں بین الاقوامی سطح پر اور مختلف خطوں اور ملکوں میں جو فتنے جاری ہیں‘ جن میں سے صرف چند درج ذیل ہیں‘ سب صہیونی/اسرائیلی منصوبوں کے مطابق ہیں۔


امریکہ نے عراق پر چڑھائی کیوں کی؟:


 اسرائیلی عزائم کے لئے اور یہ نام نہاد ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ جسے کورے ذہن کے لوگ بھی جان گئے ہیں کہ یہ عالم اسلام کے خلاف جنگ ہے‘ دراصل عالمی صَیہُونیت کے منصوبوں کی تکمیل کی ایک بڑی کڑی ہے۔ امریکی ملک و قوم تو خود اس جنگ میں صَیہُونی ہدف ہے۔


9/11 کی دہشت گردانہ کاروائی:


’’11؍ ستمبر کی دہشت گردی‘‘ جس نے پوری دنیا میں مسلمانوں اور دین اسلام کے خلاف ایک اور طوفان کھڑا کر دیا یہ سازش کس نے کی؟ واقعے کی ایک قابل تجزیہ نگار ٹھیئری مسیاں اپنی کتاب ’’دی بگ لائی‘‘ یعنی مہا جھوٹ میں لکھتی ہے ’’تمام میسر شہادتوں کو جانچ کر ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ 11؍ ستمبر کے حملوں کی مرکزی منصوبہ بندی اور راہنمائی امریکہ کے اپنے سٹیٹ اپریٹس یعنی حکومتی مشینری کے اندر سے ہوئی تھی‘‘۔ منصوبہ بندی اور راہنمائی کرنے والے کون تھے؟ صَیہُونی یہودی جو اسرائیل اور امریکہ کی دوہری شہریت رکھتے ہیں۔دوسرے کئی یورپی اور امریکی تجزیہ نگاروں نے صاف لکھا ہے کہ "11؍ ستمبر" اسرائیل کی کارروائی تھی جس کی خفیہ ایجنسی موساد کے کارندے امریکہ میں ہر شعبے میں اہم پوزیشنوں کے مالک ہیں۔


داعش ایک معمہ:


داعش کے بار ے میں عالمِ اسلام کے معروف اسکولرس کے تجزیہ و تاثرات یہ ہے کہ داعش تنظیم صہیونیت تحریک کی آلہ کار ہے۔ جسے امریکہ اور اسرائیل نے مضبوط کیا۔ داعش کا سیدھا فائدہ امریکہ اور اسرائیل کو ہی ہوتا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ داعش کی قیادت عراقی جیلوں میں پروان چڑھی۔ کچھ دفاعی ماہرین نے یہ رائے ظاہر کی کہ داعش کی کامیابی کے پیچھے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی خفیہ ایجنسیوں کی امداد کار فرما ہے۔ گو بعض حلقوں کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ داعش کے قائد ابراہیم البدری عرف خلیفہ ابوبکر بغدادی سی آئی اے اور صَیہُونی ریاست اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے تربیت یافتہ ہیں۔


اس دوران یہ خبر بھی آئی تھی کہ شام میں اسرئیل کے مقبوضہ علاقے جولان کی پہاڑیوں کے آس پاس داعش کے اتحادیوں کو اسرائیلی فوج مدد دے رہی ہیں اور ان تنظیموں کے زخمی فوجیوں کو اسرائیل کے ہسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔ پچھلے دنوں عراقی فوج نے انکشاف کیا تھا کہ اس نے موصل سے چار غیر ملکیوں کو گرفتار کیا ہے جو داعش کے فوجی مشیر ہیں ان میں تین امریکی اور اسرائیلی اور ایک عرب ہے۔ اس خبر کو مغربی میڈیا نے Blackwash کر دیا۔ یہ خاموشی نہایت معنی خیز ہے لیکن یہ عقدہ کھلتا جارہا ہے کہ داعش کے پیچھے کون سی قوتیں کار فرما ہیں۔ داعش جِسے آج ایک بڑے خطرے کے طور پر پیش کرکے مسلم ممالک کی گھیرا بندی کی جاتی رہی، اس کو بھی امریکہ نے 2006ء؁ میں بغداد میں تخلیق کیا تھا۔ داعش کو 2011ء میں شام میں لانچ کیا گیا تاکہ القاعدہ کو ختم کیا جاسکے۔

 


مغضوبِ الہٰیہ قوم۔۔۔ قومِ یہود کی احسان فراموشی:


امریکی نیوز چینل فوکس کے پروگرام میں یہودی مذہبی رہنما، ربی یا احبار (عربی میں اس کے لئے حاخام کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے)سے ایک انٹرویو لیا گیا،جسے عالمی تجزیہ نگار دنیا کا اہم ترین ’’صَیہُونیت مخالف‘‘ انٹرویو مانتے ہیں۔ دو وجوہات کی بنا پر یہ اہمیت کا حامل انٹرویو ہے۔


پہلی وجہ اس میں خود یہودیوں کے ایک مذہبی رہنما کی جانب سے ببانگِ دہل صَیہُونیت کے ٹکڑے ٹکرے ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے، مذہبی رہنما نے برملا اعلان کیا کہ صَیہُونیت ایک شیطانی جھوٹ ہے۔ صَیہُونیت عنقریب شکست و ریخت سے دوچار ہو جائے گی، اس لئے کہ تورات کی تعلیمات کی رو سے صَیہُونیت کا قیام حرام ہے۔ نیز صَیہُونی وجود سارے انسانوں حتیٰ کہ خود یہودیوں کے لئے فساد کی بنیاد ہے۔


 دوسری وجہ یہ ہے کہ اسے امریکہ کے نیوز چینل فوکس نے نشر کیا ہے، انٹرویو لینے والا اور نشر کرنے والا دونوں اسلام اور مسلمانوں کی عداوت کے لئے کافی مشہور ہے۔ اس لحاظ سے یہودی مذہبی رہنما کا یہ انٹرویو خود دشمنوں کی جانب سے اعتراف ہے۔

 


یہودی مذہبی رہنما ربی یسرویل ویسی (Yisroel Dovid Weiss) انٹرویو میں انکشاف کر رہے ہیں کہ یہودیوں میں غیر یہود صَیہُونی سازشوں کے نتیجے میں بگاڑ سرایت کر چکا ہے۔ یہ ایک ایسا نقطۂ نظر ہے جس پر گذشتہ سو سال سے اتفاق ہوتا رہا ہے۔ جب سے یہودیت کو ایک روحانی مذہب سے نکال کر قومی مفادات پر مبنی مادی فکر میں تبدیل کر دیا گیا ہے، اسی وقت سے اس نکتہ پر سب کا اتفاق ہے کہ صَیہُونیت سارے عالم انسانی کے فساد کی جڑ ہے۔


آرنلڈ ٹائن بی ان کے متعلق اپنی کتاب (A Study of History) میں کہتا ہے:

’’وہ کسی طرح بھی ان مظالم سے کم نہ تھے جو نازیوں نے خود یہودیوں پر ڈھائے تھے– اس کی ہلکی سی جھلک یہ ہے کہ دیر یاسین میں 9؍ اپریل 1948ء؁ کے ایک قتل عام میں عرب عورتوں‘ بچوں اور مردوں کو بے دریغ قتل کیا گیا– عرب عورتوں اور لڑکیوں کا برہنہ جلوس سڑکوں پر نکالا گیا اور یہودی موٹروں پر لاؤڈ سپیکر میں اعلان کرتے رہے کہ "ہم نے دیر یاسین کی عرب آبادی کے ساتھ یہ اور یہ سلوک کیا ہے اگر تم نہیں چاہتے کہ تمہارے ساتھ بھی یہی کچھ ہو تو یہاں سے نکل جاؤ"- ہر شخص سوچ سکتا ہے کہ کیا یہ کسی ایسی قوم کا کارنامہ ہو سکتا ہے– جس میں ذرّہ برابر بھی شرافت و انسانیت موجود ہو"- ان صَیہُونی بزدلوں نے یورپین ممالک میں کئے گئے صَیہُونی بچوں اور عورتوں پر ظلم و جبر کا بدلہ ان مسلمانوں سے لیا جنہوں نے انہیں امن و امان کے ساتھ اپنے یہاں پناہ دی۔ میرا دل یہ کہتا کہ دنیا نے جو کچھ ان ظالموں اور احسان فراموش قوم کے ساتھ کیا ہے وہ اسی عمل کے حق دار تھے۔ آپ کو net پر ساری تفصیلات مل جائے کی ہولوکاسٹ کے نام پر یورپ نے ان شیطانوں کی دم چھلّہ قوم کے ساتھ کیا۔



تاریخ شاہد ہے کہ پچھلی تیرہ چودہ صدیوں میں یہودیوں کو اگر کہیں امن نصیب ہوا ہے تو وہ صرف مسلمان ممالک میں ورنہ دنیا کے ہر حصے میں جہاں بھی عیسائیوں کی حکومت رہی وہاں وہ ظلم و ستم کا نشانہ ہی بنتے رہے- یہودیوں کے اپنے مؤرخین اعتراف کرتے ہیں کہ ان کی تاریخ کا سب سے شاندار دور وہ تھا جب وہ اندلس میں مسلمانوں کی رعایا کی حیثیت سے آباد تھے- یہ ’’دیوارِگریہ‘‘ جس کو آج یہودی اپنی سب سے بڑی مقدس یاد گار سمجھتے ہیں– یہ بھی مسلمانوں کی عنایت سے انہیں ملی تھی-


 بمبئی سے اسرائیل حکومت کا ایک سرکاری بلیٹن News From Israel شائع ہوتا تھا‘ اس کی یکم؍ جولائی1967ء کی اشاعت میں بیان تھا کہ ’’دیوارِ گریہ‘‘ پہلے ملبے اور کوڑے کرکٹ میں دبی ہوئی تھی– لوگوں کو اس کا نشان تک معلوم نہ تھا- سولہویں صدی عیسوی میں سلطان سلیم عثمانی کو اتفاقاً اس کے وجود کا علم ہوا- اس نے اس جگہ کو صاف کرا کے یہودیوں کو اس کی زیارت کی اجازت دی– لیکن یہودی ایک ایسی احسان فراموش قوم ہے کہ وہ مسلمانوں کے اس احسان‘ حسن سلوک اور فیاضی کا بدلہ اس انداز میں دیا کہ جب امریکہ اور برطانیہ کی مدد سے غاصب ریاست اسرائیل کا قیام عمل میں آیا تو ان کے مقاصد کی جزوی تکمیل کے لئے انہوں نے مار دھاڑ کرکے عربوں کو نکالنا اور ملک کے زیادہ سے زیادہ حصّے پر قبضہ کرنا شروع کردیا– اس سلسلے میں جو مظالم عربوں پر کئے گئے اس کو بیان کرنا بہت مشکل ہے-


حضرت عمر فاروقؓ کے پیٹ میں اترا ہوا خنجر ہو یا حضرت عثمانؓ کے خون سے تر اوراق قرآن ہوں– حضرت علیؓ کے سینہ کا گھاؤ ہو- حضرت حسنؓ کے لئے زہر کا پیالہ ہو یا حضرت حسینؓ کے حلق پر پھرتا ہوا خنجر براں ہو یا پھر نور الدین زنگیؒ کے وقت روضۂ رسولﷺ میں سرنگ بنانے کی ناپاک سازش ہوں، تمام سازشوں کے پیچھے ایک ہی ہاتھ اور ایک ہی اختراع پسند ذہن تھا۔


صَیہُونی ٹولی غیر مسلم قوموں سے ان کے نظریات معدوم کرکے انہیں زائنزم کے نظریہ زندگی کا اور اسی طرح اپنا غلام بنا چکی ہے۔ہاں ! مندرجہ بالا گفتگو و واقعات میں بہت بڑا عمل دخل‘ ’’صَیہُونی سازشوں‘‘ کا تھا۔سازش تو وہ کارروائی ہے جس کے عناصر‘ مقاصد اور عمل پوشیدہ ہوتے ہیں لیکن جو خطرناک کارروائیاں اس وقت بلکہ کافی عرصے سے اُمَّتِ مُسْلِمَہ کے خلاف اور اسرائیل کو چھوڑ کے باقی دنیا کے خلاف بھی ہو رہی ہیں‘ وہ لوگوں کی نظروں کے سامنے ہیں۔ ان کے کچھ اجزاء پوشیدہ ہوں گے لیکن ان کے کرتا دھرتا اور ان کے بیشتر مذموم مقاصد ہمارے سامنے ہیں۔ یہ صَیہُونیت کی چالاکی کا کمال ہے کہ انہوں نے لوگوں کی بڑی اکثریت کو نہ صرف فریب میں رکھا ہوا ہے بلکہ انہیں ان معاملات پر غور و فکر سے بھی روکا ہوا ہے۔



آج بھی اُمَّتِ مُسْلِمَہ اور دنیا کے دیگر تمام مذاہب کے اصل دشمن اور تمام اسلام دشمن قوتوں کی ڈوریاں دراصل صَیہُونیوں یعنی Zionists کے ہاتھ میں ہیں۔ یہ صَیہُونی میڈیا اور پروپیگنڈہ کا کمال ہے کہ مسلمان اپنے اصل دشمن کو اب تک پوری طرح پہچان ہی نہیں سکے، اس کے خلاف لڑنے کا سوال تو اسے مکمل طور پر پہچاننے کے بعد ہی پیدا ہوگا۔ یہ بھی حقیقت اب لوگو ں پر اب عیاں ہورہی ہیں کہ صَیہُونیت دراصل بہت سے خفیہ تنظیموں جیسے ’’الیومینائی‘‘ اور ’’فری میسنز‘‘ وغیرہ کے ذریعے تمام دنیا کو مختلف غیر محسوس ذرائع سے کنٹرول کر رہی ہے۔ اس طرح کی ٹولیاں ہمارے اپنے ملک میں بھی کام کر رہی ہیں۔ بس ہمیں اپنی نگاہیں کھلی رکھ کر دیکھنا ہوگا وہ کون کون لوگ ہیں جو اس تحریک کے آلۂ کار بنے ہوئے ہیں۔

اللّٰہ کے مغضوب لوگوں کی غلامی کی بات کرنااب زیادہ موزوں نہیں لگ رہا ہے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے ہمیں عمدہ ممالک اور آزادی کی نعمت دی ہے۔واقعات و حالات کو جنم دینے یا بدلنے میں سب سے بڑی قوت ’نظریئے کی قوت‘ ہے۔



اُمَّتِ مُسْلِمَہ میں عقائد، افکار و نظریات کو بدلنے کے لئے صَیہُونیت سرتوڑ کوشش میں مصروف ہیں۔ اُمّت کے ایک چھوٹے طبقے کو انہوں نے کسی حد تک ساتھ ملا لیا ہے لیکن اکثریت‘ خصوصاً کچھ اسلامی ممالک ان کے قابو میں نہیں آرہے ہیں۔ اب صَیہُونیت کے نظریہ زندگی کی ٹکر، اسلامی نظریہ حیات کی چٹان سے ہے۔ اُمَّتِ مُسْلِمَہ میںبڑی توانائیاں ہیں۔ ان شاء اللّٰہ! وہ وقت دور نہیں جب صَیہُونی فتنوں کے چکر سے اُمّت کو نکالنے کے لئے یہ توانائیاں پورے زور سے میدان عمل میں آجائیں گی۔

 


مسلم دانشوروں‘ صحافیوں‘ علماء اور اکابرین کے لئے اس وقت اہم ترین کام صَیہُونی/ اسرائیلی فتنوں کو پوری طرح سمجھنا ہوگا۔ خود کو اتنا حقیر گرداننے میں جلدی نہ کریں۔ چلو اُمَّتِ مُسْلِمَہ میں بہت خامیاں اور کمزوریاں ہیں مگر مغربی اقوام کا کیا معاملہ ہے! جرمن‘ فرانسیسی‘ اطالوی‘ روسی‘ برطانوی‘ امریکی تو بہت ہوشیار‘ چالاک‘ قابل‘ معاملہ فہم اور عقلمند اقوام سمجھی جاتی ہیں؟ لیکن وہ بہت عرصے سے اور ہماری نسبت کہیں زیادہ صَیہُونی یہود کے پنجوں میں مقید ہیں! وہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو صَیہُونی یہود کے جال سے خود کو آزاد کروانا چاہتے ہیں، لیکن وہ بھی بیرونی امدد کے بغیر بے بس ہیں۔ یہ اور ان جیسی دوسری اقوام صَیہُونی نرغے سے نہیں نکل سکتیں‘ لیکن ہم نکل سکتے ہیں اور ان شاء اللّٰہ! نکل آئیں گے۔

 


ہمیں اس اصل مرگ انبوہ کا انتظار جب ہم اپنے اوپر کئے گئے ظلم و جبر کا حساب لیں گے۔ وقت اور حالات کو کروٹ بدلتے دیر نہیں لگتی۔ اور وہ وقت قریب سے قریب تر ہوتا جارہا ہے۔ کیونکہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: ’’قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے فیصلہ کن جنگ نہ لڑلیں۔ اس جنگ میں مسلمان یہودیوں کو خوب قتل کریں گے، یہاں تک کہ اگر کوئی یہودی کسی پتھر یا درخت کی آڑ میں چھپے گا تو وہ پتھر اور درخت بول اٹھے گا؛ اے اللّٰہ کے بندے! میرے پیچھے یہودی چھپا بیٹھا ہے، تو ادھر آ اور اسے قتل کردے۔ سوائے غرقد نامی درخت کے، (وہ نہیں بولے گا) کیونکہ وہ یہودیوں کا درخت ہے۔‘‘ (صحیح مسلم: 7523)۔ فاعتبرو ا یا اولی الابصار۔


           •┅┄┈•※‌✤م✿خ✤‌※┅┄┈•

       🍁مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁

🏠 ال افشان، 7/4، شیلیش نگر، ممبرا،

       تھانہ- 400612، مہاراشٹر، الہند۔

📧masood.media4040@gmail.com

        Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️

                      ○○○○○○○○○


Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam