Ghaziye guftar ka tilasmati nuskha

*••⊱غازِیِٔ گُفْتار کا طِلِسْماتی نُسخَہ⊰••*
          ┄┅════❁﷽❁════┅┄                
╗══════•❁ا۩۝۩ا❁•═══════╔
      ••⊱غازِیِٔ گُفْتار کا طِلِسْماتی نُسخَہ⊰••
╝══════•○ ا۩۝۩ا ○•═══════╚
     🍁✍۔مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
               📱09422724040
         •┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
                        (قسط اوّل)
            ┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
❍  موٹیویشنل اسپیکرز ایک تعارف
Introduction of Motivational speaker
❍  چرب زبانی اور غیر منطقی گفتگو کی مُلَمَّع سازی
Covering verbose and illogical conversation
❍  خواب فروشوں کی سوداگری
The trade of dream sellers
❍  جذباتی باتوں کا موہ جال
The trap of sentimentality
❍  موٹیویشنل صنعتوں کا سرمایہ دارانہ جال 
The capitalist network of Motivational Industries
❍  ذاتی مسائل اور موٹیویشنل اسپیکر
Personal issues and motivational speakers
❍  وقت کا ضیاع
Waste of time 
❍  مُلَمَّع سازی کا فن
The art of coating
❍  موٹیویشنل لیکچرز سے لٹریچرز کا سفر
A Journey from Motivational Lectures to Literature
❍  مثبت و امید افزاء رویہ
Positive and Optimistic attitude
❍  مغربی معاشرے میں موٹیویشنل اسپیکرز کی ضرورت
The need for motivational speakers in Western society
❍  علّامہ محمد اقبالؒ کے موٹیویشنل اشعار
Motivational Ash'aar of Allama Iqbal
❍  مذہبی نقطۂ نظر کے تناظر میں
A Religious point of Views
            ┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

     زمانے کی قسم۔ انسان درحقیقت بڑے خسارے میں ہے۔ سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے، اور نیک اعمال کرتے رہے، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔ (سورۃ العصر)

قرآن پاک انسان کو ہمت، طاقت، حوصلہ، مقصد اور امید دینے والی آیتوں سے بھرا ہوا ہے۔ یہ بات یاد رکھیے کہ انسان کو حوصلہ افزائی یا موٹیویشن کی کوئی ضرورت نہیں، جس چیز کی ضرورت ہے وہ عزم و یقین، بصیرت، نصب العین اور خود اعتمادی۔

موجودہ دور میں موٹیویشنل انڈسٹریز کا اربوں ڈالر سالانہ ٹرن آؤٹ ہورہا ہے۔ دنیا بھر میں موٹیویشنل اسپیکنگ کے لاکھوں مداحین ہیں، جو موٹیویشنل اسپیکرز کو زندگی بدلنے اور خوابوں کے حصول کا پروانہ سمجھتے ہیں۔ کیا یہ واقعی حقیقت ہے یا فسانہ!!! آخر یہ موٹیویشنل اسپیکرز کس بلا کا نام ہے۔ آئیے جانتے ہیں موٹیویشنل اسپیکرز کسے کہا جاتا ہے؟، ان کی سرگرمیاں کیا ہیں؟، معاشرے پر ان کے کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں!!، کیا واقعی ان گفتار کے غازیوں کی انسانی سوسائٹی کو ضرورت ہے؟، مذہبی نقطۂ نظر کے تناظر میں ان کی حیثیت کیا ہے؟

❍  موٹیویشنل اسپیکرز ایک تعارف:  (Introduction of Motivational speaker) 

انسانی زندگی میں سوشل میڈیا کے گہرے اثرات نے ''موٹیویشنل اسپیکنگ انڈسٹری'' کو راتوں رات مقبول کردیا ہے۔ 90/ کی دہائی کے آخر میں نفسیات اور پرسنل ڈیویلپمنٹ پر کام شروع کیا گیا۔ اس وقت موٹیویشنل اسپیکرز کا کسی نے نام بھی نہیں سنا ہوگا۔ عصرِ حاضر میں دنیا کی بہترین صنعتوں میں سے منافع بخش یا سود مند پیشہ حوصلہ مند خطابت ہے۔ اگر آپ نیٹ پر اسکرولینگ کے ذریعے موٹیویشن کا مطلب معلوم کرنے کی جستجو میں ہیں تو آپ کے ہاتھ صرف حوصلہ افزاء خطیب ہی لگے گا۔ جب کہ اگر باریک بینی سے مشاہدہ کریں تو موٹیویٹ کا مطلب ارادہ، مقصور اور نصب العین نظر آئے گا اور موٹیویشن اس مکمل عمل کے نام کے طور پر سمجھ میں آئے گی جو کسی بھی نصب العین یا مقصد کے حصول کے لیے عمل کا آغاز کرے، مسلسل اس عمل کی نگرانی کرے اور مقصد کے حصول تک فرد یا گروہ کی رہنمائی کرے۔

     عام فہم انداز میں سامعین کی حوصلہ افزائی یا حوصلہ افزائی کرنے کے مقصد سے متاثر کن تقریر کرنے والے فرد کو ''موٹیویشنل اسپیکرز'' (حوصلہ افزاء مقرر) کہا جاتا ہیں۔ میرے نزدیک موٹیویشنل اسپیکرز کو ''تحریکی خطیب'' کہنا بھی غلط نہ ہوگا، کیونکہ یہ تقریر کے ذریعے سامعین کی فکر و نظر میں حرکت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سامعین کو زیادہ پرجوش و پر عزم احساس دلا کر ڈیزائن کردہ تقاریر کے ذریعے تحریک دینا موٹیویشنل اسپیکرز کا پیشہ ہوتا ہے۔

وہ اپنے سامعین کے فکر و نظر کو حوصلہ افزاء خیالات و تجربات سے تبدیل کرنے کی مہارت رکھتے ہیں۔ یہ افراد سامعین کو قائل کرنے کے فن میں بڑی ہنر مندی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ اپنے خیالات کو مثبت انداز میں پیش کرتے ہیں اور دوسروں کو ان کے طرزِ فکر پر چلنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ موٹیویشنل اسپیکرز کے متعلق لوگوں میں عام تاثر یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی خامیوں، کمزوریوں سے آگاہ کرتے ہیں اور ان پر قابو پانے کے طریقوں سے واقفیت پیدا کرتے ہیں۔

    عام طور پر سامعین کا جوش و جذبہ ابھار کر انھیں کسی کام کرنے کی طرف مائل کر لینا "موٹیویشنل اسپیکنگ" تصور کیا جاتا ہے۔ ایک مؤثر موٹیویشنل اسپیکر ہونے کے لیے وسیع مطالعہ اور سوچ کی گہرائی کا ہونا اشد ضروری ہوتا ہے۔ میری نظر میں موٹیویشنل اسپیکرز کو سامعین کی دلچسپی کا اندازہ اور انہیں موصول شدہ تاثرات کے مطابق سانچے میں ڈھالنے کے فن سے گہری مہارت ہونی چاہیے۔ وہ اپنی پیش کش، ترسیل اور واقعات سنانے کی صلاحیتوں میں زیادہ پر اعتماد ہونے کا مظاہرہ کریں۔ انہیں اپنے پیغامات کو مختصر رکھ کر اسٹیج پر دیئے گئے وقت کا خصوصی خیال رکھنا چاہیے۔ ایسے مقررین زندگی کے تجربات سے کامیاب کیریئر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سامعین ان تجربات سے حاصل ہونے والی حکمت سے مستفید ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے اثر انگیز طاقتور پیغامات سامعین کے ساتھ بانٹنے چاہئے۔

موٹیویشنل اسپیکر سامعین کو اپنی بہترین زندگی گزارنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ جو لوگ جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل سے نبردآزما ہوتے ہیں وہ ایسے افراد کو سن کر سکون پاتے ہیں جنہوں نے چیلنجز پر قابو پا لیا ہے۔ اس سے انہیں امید ملتی ہے کہ وہ بھی زندگی میں خوشی اور کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ محنت کے بل بوتے پر کھڑے ہونے والے ہر قسم کے بزنس کی اندرونی کہانی کو بھی لوازمات کے ساتھ عام انسانوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ یہ سب اور بھی بہت کچھ موٹیویشنل اسپیکنگ اور موٹیویشنل اسپیکرز کی بدولت ہی ممکن ہو پایا ہے۔

کامیاب موٹیویشنل اسپیکر بننے کے لئے وقت، مشق اور زندگی کے تجربات درکار ہوتے ہیں۔ ان کے پاس مندرجہ ذیل مہارتیں ہوتی جو انہیں کامیابیوں سے ہمکنار کرتی ہیں۔

•  قیادت •  مواصلات •  اعتماد •  واضح بیان •  دلکش پیشکش •  واقعات سنانا •  موافقت •  جذبہ •  صداقت •  ہمدردی •  وقت کا انتظام

❍  چرب زبانی اور غیر منطقی گفتگو کی مُلَمَّع سازی:
(Covering verbose and illogical conversation)

دیکھنے میں یہ آیا ہے کے موٹیویشنل اسپیکرز کی اکثریت صرف دوسروں کی کامیابی کے واقعات سنانے کا جنون رکھتے ہیں۔ اپنی ذاتی یا کاروباری زندگی کے تجربات سے متاثر ہو کر، ایک منفرد کہانی یا خیال کو کل وقتی کیریئر میں بدلنے کی مہارت رکھتی ہیں۔ ایسے مقررین بہت سے مختلف پس منظر، جماعتوں، تحریکوں، اداروں اور پیشہ ورانہ کاروباری صنعتوں سے آتے ہیں۔ میرے خیال میں بعض مقریرین کی باتیں صرف تحریری، تصنیفی یا کتابی ہوتی ہیں، جب کے عملی زندگی بہت مختلف اور غیر متوقع ہوتی ہے۔ سامعین کی زندگی کے حالات، تجربات مقررین سے کتنے بھی مختلف ہوں، وہ اسی بات پر بضد نظر آتے ہیں کہ ہمارے ہی نسخے پر عمل کرو، جس کی وجہ سے میں یا کوئی اور نے کامیابی کے زینہ چڑھے ہیں۔ ان تقاریر کا خلاصہ غیر حقیقی، دیرینہ خوابوں پر مبنی ہوتا ہے، جن کے مستند ہونے کا کوئی ریکارڈ عموماً موجود ہی نہیں ہوتا۔

بڑے مجمع کے سامنے غیر منطقی گفتگو کے سہارے، اپنی زندگی کے تجربات کی بجائے دوسروں کی گفتگو اور تحریروں کے سہارے، عزت، شہرت اور دادِ تحسین حاصل کرنے کے ساتھ معاوضہ کی شکل میں بڑی بڑی رقمیں وصول کی جاتی ہیں۔ ایک نامور موٹیویشنل اسپیکر کو نجی، سرکاری، غیر سرکاری اور تعلیمی اداروں میں مدعو کیا جاتا ہے اور کسی ایک موضوع پر چند گھنٹے بول کر وہ ایک معقول ڈاکٹر، انجینئر اور دیگر پروفیشنلز کی پورے مہینے کی تنخواہ سے زائد پیسے کما لیتا ہے۔ میری رائے میں موٹیویشنل اسپیکر کی اکثریت دھوکہ باز ہوتی ہیں کیونکہ وہ آپ کو ایسا کام کرنے کی ترغیب دیتے ہیں جو انہوں نے زندگی میں کبھی کیا ہی نہ ہو!

آج کاروباری پیشہ ور موٹیویشنل اسپیکرز کی بھرمار ہے۔ جو جتنی چرب زبانی کا استعمال کرے گا وہ اتنا ہی کامیاب موٹیویشنل اسپیکر کہلاتا ہے۔ بیشتر اسپیکرز سچ اور جھوٹ کا ملغوبہ تیار کرکے اپنی چرب زبانی سے اپنی زندگی کے عام واقعات میں وزن بھرنے کی کوشش کے ساتھ غیر ضروری سوچ پیدا کرتے ہیں۔ عام لوگوں کی سوچ یہ بنتی جا رہی ہے کہ انہیں نئے نئے خواب دکھا کر متحرک رکھا جائے۔ 

بیرونی ممالک میں اسپیکرز اس سلسلے میں باقاعدہ تعلیم اور ٹریننگ لے کر میدان میں اترتے ہیں۔ لیکن کئی علاقوں میں اسپیکرز کی اکثریت گفتار کے غازی اور شیخی بگارنے کے علاؤہ اور کچھ نہیں کرتے۔ اسی لئے آج کل خودنما موٹیویشنل اسپیکرز کی بڑی مانگ ہے۔ اگر آپ باتیں بنانے کا ہنر جانتے ہیں اور آپ کو بہت سے کامیاب لوگوں کے قصّے ازبر ہیں تو گھبرائیے نہیں آپ ایک با روزگار موٹیویشنل اسپیکر بن سکتے ہیں۔

  نام نہاد موٹیویشنل اسپیکرز کی ساری باتیں صرف اپنے نفس کو موٹا کرنے اور اپنی ذات کے گرد گھومتی ہیں، اسی لئے بیشتر افراد موٹیویشنل اسپیکر بننے کی دوڑ میں شامل ہیں، کیونکہ انہیں چند گھنٹوں میں اپنے بارے میں بات کرنے کا موقع ملتا ہے، بعد میں اختتام پر تالیوں کی سوغات پیش کی جاتی ہے، اور اس کے معاوضہ کی شکل میں بڑی رقوم کے نذرانے پیش کئے جاتے ہیں۔

❍  خواب فروشوں کی سوداگری: (The trade of dream sellers) 

کچھ اور نہیں وعدہ تعبیر کے بدلے
ہم خواب فروشوں سے کوئی خواب خریدے

مصنوعی فعل، ظاہری زیب و زینت، مکر و فریب، تصنوع، والدین کی غربت کا اظہار، ان باتیں عوام کو بتانا جس کا تاثر یہ پیش ہو کہ زندگی ہماری تھی لیکن  فیصلہ سازی کا اختیار والدین کو تھا۔ ہر اعلیٰ و ادنیٰ مصیبتوں کو دشواریوں کا کوہِ گراں ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانا اس طرح کے کچھ ٹولز کا اگر سہارا لیں تو شاید آپ اچھے موٹیویشنل اسپیکر کی فہرست میں اپنا نام درج کروا سکتے ہیں۔ دل کو فریفتہ کرنے والی حرکات، عمل کے بغیر عبس قول' میٹھی میٹھی باتیں کرکے آپ بھی موٹیویشنل اسپیکر بن سکتے ہیں، گفتگو کے درمیان مذہبی باتوں کا بگھار، چنندہ جذباتی محاورے، منقول واقعات، چند افراد کی سوانح حیات، غیروں کے قصّے و کہانی، چرب زبانی کی مہارت، باتوں کو گھمانے کا فن، شیخی یا ڈینگ کی بات جو اصل مقصد کی بات میں کچھ نمک مرچ کی آمیزش کرکے کہی جائے وغیرہ سیکھنا چاہیے۔

   دنیا میں کچھ بننے کے لئے خواب دیکھنا لازمی ہے لیکن اس خواب کو خواب کی حد تک رکھنے سے انسان منزل پر نہیں پہنچ جاتا اس کے لئے اس کو عزم کرنا پڑتا ہے، کوشش کرنی پڑتی ہے، محنت کرنا پڑتی ہے۔ جو لوگ خواب دیکھتے ہیں، پھر اپنے آرام دہ گوشوں میں بیٹھ کر وقت ضائع کرتے ہیں وہ درحقیقت اپنے خوابوں کو رسوا کرنے کے ساتھ خود سے متعلق شکوک و شبہات سے اپنے اعتماد کو مار رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں خواب ضرور دیکھنے چاہئیں مگر کسی کے دِکھائے خوابوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔ موٹیویشن تب آتی ہے جب آپ کے سامنے مقاصد ہوں اور آپ کے پاس خواب ہوں۔ اسی لئے خواب دیکھانا اور خوابوں کی سوداگری ان اسپیکرز کی فطرت ثانیہ ہے۔

  دنیا میں شاید بنی اسرائیل کے بعد ایک یہی طبقہ ہے جس پر ''من و سلویٰ'' کا نزول ہوتا ہو۔ اللّٰہ کے واسطے! ان کی تقریروں، ان کے دکھائے خوابوں، ان کے کیے وعدوں پر یقین اور ان سے بہتری کی امید کے بجائے خود کی آنکھوں خواب دیکھیں پھر اس کی تعبیر کے لیے خود محنت و جستجو کریں تاکہ آپ کی اور آپ کی نسلوں کی زندگی سنورتی جائے۔ یاد رہے خوابوں کی تعبیر انہی کو ملتی ہے جو صادق خواب دیکھتے اور تعبیر پانے کے لیے محنت میں جٹ جاتے ہیں۔

کرتے ہوں گے دواؤں سے علاج طبیب
ہم تو باتوں سی بیماروں کو شفا دیتے ہیں 

جس طرح ماہر طبیب مختلف امراض میں یا مخصوص مرض میں مبتلا مریضوں کے لئے الگ الگ نسخے یا مختلف طریقۂ علاج کے ذریعے مریضوں کو شفاء یاب کرنے کی حتیٰ الامکان کوشش کرتا ہے۔ لیکن موٹیویشنل اسپیکرز اپنی چرب زبانی سے کیسے لوگوں کے مسائل اور دکھوں کا مداوا چند گھنٹوں کی تقاریر میں کرسکتا ہے۔ ہر انسان مختلف ہے، اس کے حالات و واقعات مختلف ہیں لیکن موٹیویشنل اسپیکرز آپ کے اپنے معاشی، سماجی اور سیاسی درد کو بھلا کر آپ کو غیر حقیقی خوابوں کی سیر پر لے جا کر یکساں خواب بیچ کر نکل جاتے ہیں۔ میں نے انٹرنیشنل موٹیویشنل اسپیکرز سے لے کر برصغیر ہند و پاک کے موٹیویشنل اسپیکرز تک کافی لوگوں کو سنا ایک بنیادی بات جو محسوس ہوئی وہ یہ کہ یہ لوگ جذبات کا استحصال کرتے ہوئے صرف خواب بیچنا جانتے ہیں۔

❍  جذباتی باتوں کا موہ جال:  (The trap of sentimentality)

''غریب پیدا ہونا جرم نہیں ہے، اصل جرم غریب مرجانا ہے''، ''انسان جیسا گمان رکھتا ہے جس چیز کی خواہش رکھتا ہے، وہ کام ہو جاتا ہے، وہ چیز حاصل کر لیتا ہے''، "ہمیشہ بڑا سوچو چاہے وہ سوچ پوری نہ ہو لیکن سوچو بڑا"۔ موٹیویشنل اسپیکرز کی تقریروں میں اس طرح کے خیالات ایک عام آدمی کو شدید ذہنی اذیت سے دو چار کر دیتے ہیں، جو نفسیاتی الجھاؤ کا سبب پیدا کرتے ہیں، معاشرے کی درست سمت پر آپ نظر نہیں ڈال سکتے، ایسے قصّے/ کہانیاں سناتے ہیں جو لوگوں کو مزید احساس کمتری میں مبتلا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ موٹیویشنل اسپیکر آپ کی شَہ رَگ کے قریب نہیں رہتا اور وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ آپ کی مالی حالت کیا ہے، آپ کے مسائل کیا ہیں، آپ کے ڈپریشن کا سبب کیا ہے یا آپ کتنے دباؤ میں ہیں۔

پھر خدا کے تصور کے چھوٹ جانے سے پیدا ہونے والے روحانی خلا کو پُر کرنے کے لیے ان ''سیلف ڈویلپمنٹ کی کتابوں '' self development اور ''موٹیویشنل اسپیکرز'' کا سہارا لیا گیا جو کہ آگے چل کے ایک فتنے کی شکل اس وقت اختیار کرگئے جب تقریباً ہر مذہب کے لوگوں نے اپنے مذہبی عقائد، بیانات اور تعلیمات کو ان نظریات کی بنیاد پر جانچنا شروع کردیا جو کہ سیڈو سائنس ''Pseudoscience'' یعنی ''مفروضوں پر مبنی سائنس'' کی ان کتابوں اور موٹیویشنل اسپیکرز کی تقریروں کے ذریعے سے ان تک پہنچے تھے۔

آج کے دور کے موٹیویشنل اسپیکرز کا روح رواں والیس ڈی واٹلز (1860ء-1911ء) کو سمجھا جاتا ہے۔ 1902ء میں جیمز ایلن نے بطور مین تھنکتھ شائع کیا، 1936ء میں، ڈیل کار نیگی نے مزید اس صنف کو تیار کیا جس میں دوستوں کو کیسے متاثر کیا جائے اور لوگوں کو متاثر کیا جائے۔ اس کے بعد مثبت ذہنی رویہ Positive mental attitude (PMA) کا تصور سب سے پہلے 1937ء میں نیپولین ہل (Napoleon Hill) نے اپنی کتاب تھنک اینڈ گرو رچ (Think and Grow Rich) میں متعارف کرایا تھا۔ ٹونی رابنز (Tony Robbins)نے جدید موٹیویشنل اسپیکنگ بزنس ماڈل کو تقویت دی۔ 

اسٹیفن رچرڈز کووی (1932ء-2012ء) کی کتاب ''انتہائی مؤثر لوگوں کی 7 عادات'' (The 7 Habits of Highly Effective People) پر۔ یہاں اس کتاب اور اس کے کچھ پس منظر کا ذکر اس لیے کر رہے ہیں کہ برِصغیر پاک و ہند کے اکثر موٹیویشنل اسپیکر صرف اس پر ہی گزارہ کر لیتے ہیں۔ اکثر موٹیویشنل اسپیکر اس کتاب کی تعلیمات اپنی تقریروں میں ذکر کرتے ہیں اور عوام ان کی باتوں کو حکمت سے بھرپور سمجھ کر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حکمت کی باتیں جو یہ لوگ کر رہے ہیں شاید ان موٹیویشنل اسپیکرز کی اپنی ہیں، جب کہ وہ نہیں جانتے کہ یہ اُنہی کتابوں کے نظریات پر مبنی باتیں ہیں جنہوں نے کہ یورپ اور امریکہ میں دہریت کو عام کیا اور لوگوں کو خدا کے تصور سے دورکر ے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ''Stephen Richards Covey'' کی سوچ اور فکر پر انہی سیلف ہیلپ کی کتابوں کا جو انہوں نے پہلے سے پڑھ رکھی تھیں (جن کا ذکر اوپر ہوا) اور کارل رینسم راجرز (1902ء - 1987ء) کی تعلیمات کا زیادہ اثر نظر آتا ہے، لیکن اگرچہ موٹیویشنل اسپیکنگ انڈسٹری میں اسٹیفن رچرڈز کووی کی اس کتاب کی اہمیت کے پیشِ نظر یہ ایک چھوٹا سا نقطہ جو کارل رینسم راجرز کے نظریات سے متاثر ہونے کا ہے، دراصل انتہائی خطرناک نقطہ ہے۔

❍  موٹیویشنل صنعتوں کا سرمایہ دارانہ جال:
(The capitalist network of Motivational Industries)

موٹیویشنل اسپیکرز کی اکثریت سرمایہ دارانہ نظام کی پیداوار ہیں، چاہے وہ قومی سطح کے ہوں یا بین الاقوامی سطح کے ہوں۔ بڑے بڑے مذاکرات، مباحثوں، اجتماع و اجلاس پر سرمایہ لگا کر موٹیویشنل اسپیکرز کے ذریعے خوب اِنفرادیت کا درس دیا جاتا ہے جو ملکی نظام کے حالات اور واقعات سے کاٹ کر صرف اتنی سوچ پیدا کرتے ہیں کہ آپ نے ایک کامیاب آدمی اور اچھا بزنس مین اور سرمایہ دار کیسے بننا ہے۔ یہی موٹیویشنل اسپیکر ہیں جو بھوک، بدحالی اور مایوسی کی وَجہ خود اس بندے کو قرار دیتے ہیں اور نظامِ ظلم کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھتے تک نہیں۔ حقیقی طور پر ہمیں موٹیویشن کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ضرورت ہے تو ایک بہترین نظام کی۔ دیدہ زیب چوغوں تلے چھپے ا ن مداریوں اور تماشہ کرنے والے مسخروں سے بچیں جو سامعین کی مجبوریوں کا تمسخر اڑانے کا بہترین فن جا تے ہیں۔

اسپیکرز کے تجربے، پوزیشن اور نام کی شناخت کے لحاظ سے معاوضہ طے ہوتا ہے۔ بہت سے مقررین ابتداء میں مفت تقریر کرتے ہیں، تجربہ کار ہونے پر عالمی سطح پر تقریباً $3,500/ رقم فی تقریر چارج کرتے ہیں اور اگر وہ سابق صدر یا قومی سیاست دان ہیں تو $100,000 یا اس سے زیادہ چارج کر سکتے ہیں۔ نوآموز موٹیویشنل اسپیکر $2,000-4,000/ (اخراجات الگ) سے کہیں بھی فیس وصول کر سکتا ہے۔ ہندوستان میں 2/ ہزار سے زیادہ متحرک موٹیویشنل اسپیکرز ہیں۔ ہندوستان میں، موٹیویشنل اسپیکرز کی قیمت 25 /ہزار سے لے کر 35 /لاکھ تک ہوتی ہے۔

ایک ایسی صنعت جس کی مالیت اب صرف امریکہ میں $2 /بلین سے زیادہ ہے، اور عالمی سطح پر 2022ء تک تقریباً 43.77بلین ڈالرتک جاپہنچی ہے۔ اس انڈسٹریز کا بین الاقوامی تخمینہ 2027ء-2020ء میں 56/ ارب ڈالرز سالانہ لگایا گیا ہے۔ یہ صنعت اتنی منافع بخش ہوتی جارہی ہے کہ بعض تعلیمی اداروں میں موٹیویشنل اسپیکرز کی باقاعدہ مصنوعی کھیپ تیار کی جارہی ہے۔ ان کے بنیادی مقاصد میں یہ لکھا ہوا ملتا ہے کہ ہمارے مقاصد میں سے اولین مقصد موٹیویشنل اسپیکر پیدا کرنا ہے یقینا یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ نابغہ روزگار لوگ ایک وقت میں بولنے کا بھاری معاوضہ وصول کرتے ہیں۔ نامور موٹیویشنل اسپیکر اس بزنس کو امریکہ سمیت پوری دنیا میں فروغ دیتے رہے۔

یاد رکھیں! نہ تو کسی فرد یا مجموعے کی فکر و نظر کو لمحوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی زندگی کو چند دنوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ تجربہ یہ ہے کہ آپ جتنے بڑے ہجوم سے مخاطب ہوتے ہیں، اس قدر آپ لوگوں کے مسائل حل کرنے یا ان کی تربیت کرنے میں ناکام ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک ہی شخص کامیاب ہوتا ہے اور وہ ہے موٹیویشنل اسپیکر بذات خود۔

موٹیویشنل اسپیکرز کو ''اسٹیرائیڈ گولیاں'' Steroid کہنا غلط نہ ہوگا۔ اسٹیرائیڈ کے استعمال سے جلد لیکن عارضی طور پر جسم میں نمایاں تبدیلی نظر آتی ہے۔ شدید بھوک محسوس ہوتی ہے، جسم فربہ ہوتا ہے۔ لیکن جوں ہی ان ادویات کا اثر ختم ہوتا ہے تو پھر وہی پہلے جیسا جسم دبلا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ بھوک بھی کم ہو جاتی ہے۔ اس طرح اسٹیرائیڈ کی عادت سی لگ جاتی ہے۔موٹیویشنل اسپیکرز اور مساج کرنے والوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ دونوں وقتی طور پر شل اعصاب کو سکون دیتے ہیں۔

❍  ذاتی مسائل اور موٹیویشنل اسپیکر:  (Personal issues and motivational speakers)

اگر آپ خاندانی یا ذاتی مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں تو براہِ کرم اپنے گھر والوں سے بات کریں اور ان کو سمجھیں اور انہیں آپ کو سمجھنے دیں اور اگر آپ کو اپنا رویہ بدلنا ہے یا اپنی انا کو نیکی کے لیے مارنا ہے تو براہِ کرم ایسا کریں۔ کسی بھی خاندانی معاملے کے بارے میں اپنے گھر والوں سے بات کرنا کسی بھی خاندانی مسئلے کا بہترین حل ہے کیونکہ اس طرح ایک فرد اپنے معاملات کو خاندان کے سامنے بیان کر سکتا ہے اور خاندان کے مسائل بھی سن سکتا ہے۔ یہ دو طرفہ مواصلات ہے اور آپ کو خاندانی بحران سے لڑنے کے لیے اسے اپنانے کی ضرورت ہے۔ موٹیویشنل اسپیکر آپ کے خاندانی پس منظر یا آپ کے خاندان کے افراد کے بارے میں نہیں جانتا ہے۔ وہ اس سے بھی واقف نہیں کہ آپ کس قسم کے ماحول میں رہ رہے ہیں یا آپ کے ارد گرد کس قسم کے لوگ ہیں؟

کوئی شخص اگر انتہائی ذاتی نوعیت کی پریشانی میں مبتلا ہے، اسے چاہیے گھر میں کسی سمجھدار شخص کے سامنے اپنے مسائل رکھیں یا قریبی بااعتماد ساتھی کو مسئلہ و مسائل سے آگاہ کریں۔ کوئی اسپیکر آپ کے مسائل کو حل نہیں کرسکتا، اور نہ ہی آپ کے حوصلوں کو بلند کرسکتا ہے۔ یہ سب شہد کی گولیاں ہیں جو وقتی طور پر آپ کو میٹھی لگتی ہیں۔ آگے بڑھیں، محنت کریں۔ آپ کی زندگی ہے اور اسے سب سے بہتر صرف آپ ہی سمجھتے ہیں کہ آپ خود ایک موٹیویشنل اسپیکر ہیں۔

اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو کئی مثالوں کے ذریعے سمجھایا ہے کہ اگر آپ ایک جگہ سے ناکام ہوگئے ہیں تو وہیں اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ایک نیا راستہ نکال دیا ہے۔ آپ نے صرف اس نئے راستے کی تلاش کرنی ہے۔ ایسا کبھی مت سوچیے کہ آپ کی قسمت ہی خراب ہے۔ یا آپ بہت بدبخت ہیں ہمیشہ ایک کے بعد دوسری کوشش کیجیے نہ کہ مایوسی کا شکار ہو جائیں۔ کیونکہ ہر شر میں خیر کا پہلو پنہاں ہوتا ہے۔ زندگی آج بھی آپ کے لیے مواقع فراہم کر رہی ہے اور کل بھی مواقع فراہم کرے گی۔ ان شاء اللّٰہ!

موٹیویشنل اسپیکرز ہمیشہ کامیاب افراد کے واقعات سناتے ہیں، جب کے بے شمار ناکام افراد کے بعد ایک کامیاب فرد پیدا ہوتا ہے اور ذرا باریک بینی سے دیکھیں تو وہ بے چارہ بھی حادثاتی طور پر اس میدان میں قدم رکھا ہوا ہوتا ہے۔

❍  وقت کا ضیاع: (Waste of time)

یاد رکھیں! آپ اپنی موٹیویشن خود ہیں جب تک خود کو اہمیت نہیں دیں گے دنیا آپ کو چنداں اہمیت نہیں دینے والی۔ کامیاب ہونے والے لوگ اس لیے کامیاب ہوئے کہ انہوں نے عمل کیا، وقت کی قدر کی اور زندگی میں بہتر فیصلے کیے۔ نہ کہ وہ اسپیکرز کو سن کر زندگی کے فیصلے لیتے تھے۔ کہ انسان اس وقت بھی کامیاب ہوتے تھے جب یہ موٹیویشنل اسپیکرز نہیں ہوتے تھے۔ یقیناً ایک اچھی بات آدمی کو موٹیویٹ کرسکتی ہے۔ موٹیویٹ کرنا ایک بہترین کاروبار بن چکا ہے۔

یہ دیکھنے اور سننے میں تو ہمارے ہمدرد لگتے ہیں، لیکن عموماً ان کی سوچ اور فکر بھی مادیت کے حصار میں قید ہوتی ہے۔ یہ بھی کامیابی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ا فرادیت کے نظریات کو ہی مختلف ا نداز سے بیان کرتے نظر آتے ہیں۔ اور ساتھ میں یہ قرآن اور حدیث کا سہارا لے کر سننے والوں کو دھوکے میں ڈال دیتے ہیں۔ فکر کی بات یہ ہے کہ اب یہ لوگ مختلف شکلوں میں دینی مدارس، مساجد، سرکاری و غیر سرکاری اداروں، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں یہاں تک کہ حساس اداروں تک بھی رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ ہر شعبے میں یہ ان نظریات کو بڑے خوبصورت انداز میں بیان کر رہے ہیں جو کہ آگے چل کے خود پسندی، مادہ پرستی اور لادینیت کے فروغ کا ذریعہ بنیں گے۔

نامور موٹیویشنل اسپیکر، سوشل میڈیا انفلوئنسر وویک بندرا پر بیوی کی جانب سے شادی کے چند گھنٹوں بعد ہی گھریلو جسمانی اذیت و تشدد کا الزام لگایا گیا تھا۔ معروف بھارتی موٹیویشنل اسپیکر اور یوٹیوبر سندیپ مہیشوری نے یوٹیوب چینل پر ''بگ سکیم ایکسپوز'' کے عنوان سے ایک ویڈیو اپلوڈ کرکے وویک بندرا پر لوگوں کے ساتھ آن لائن دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا تھا۔ موٹیویشن دینے والے مادّہ پرست مقررین بدترین سکیمرز/ گمراہ کن طریقہ کار اپنائیں تو پھر انسان کس سے مدد کی آس لگائے۔سامعین کو موٹیویٹ کرنے والے اپنی ذاتی زندگی میں جسمانی تشدد اور دھوکہ دہی کرنے لگیں تو اندازہ لگائیں کے ان کے سامعین پر کیا اثرات پڑتے ہونگے۔ اگر لوگ ان کی غلط کاریوں سے موٹیویٹ ہوں تو معاشرہ کن کن تباہیوں کا شکار ہوگا اس کا اندازہ لگا نا بہت مشکل ہوگا۔

❍  مُلَمَّع سازی کا فن:  (The art of coating)

اس مضمون کو لکھتے وقت مطالعے میں ایک واقعہ نظروں سے گذرا، جس نے موٹیویشنل اسپیکرز کی قلعی کھول دی۔ ڈسٹن ایرون موسکووٹز ایک امریکی ارب پتی انٹرنیٹ کاروباری ہے جس نے فیس بک کی مشترکہ بنیاد رکھی، ڈسٹن سے ایک انٹرویو میں سوال کیا گیا ''بتائیے کیسا لگا آپ کو راتوں رات کامیاب ارب پتی آدمی بننا؟ ڈسٹن نے جواب دیا ''راتوں رات سے اگر آپ کی مراد سات سال تک ہر رات ساری رات گھنٹوں کام کرنا ہے تو یقین مانیے بہت مشکل اور دماغی طور پر تھکا دینے والا کام تھا ارب پتی بننا''۔ ڈسٹن اس بات ناواقف تھا کہ اس سات سال کی محنت کے بعد وہ ارب پتی بن جائے گا، وہ بس اپنا کام کررہا تھا بِنا کسی نتیجے کی پرواہ کیے۔ اور آج کے موٹیویشنل اسپیکر راتوں رات امیر بننے کے خواب دیکھاتے ہیں۔ جو شخص یہ نہیں جانتا کہ حقیقت اور خواب میں بڑا فرق ہوتا ہے، آخر وہ کیسے کسی فرد کو موٹیویٹ کرسکتا ہے۔

❍  موٹیویشنل لیکچرز سے لٹریچرز کا سفر: 
(A Journey from Motivational Lectures to Literature)

موجودہ دنیا بھر میں کچھ لاجواب مقررین ہیں جنہوں نے حیرت انگیز کارنامے انجام دیئے۔ ان میں سے ایک ڈیوڈ ہرسٹ جیسے لوگ، جو ماؤنٹ بلا ک پر چڑھنے والا پہلا نابینا شخص تھا۔ خواتین میں منیبا مظاہری بلوچ، ویرالی مودی، مالویکا ائیر، جیسیکا کوکس وہ نام ہیں جنہوں نے نمایاں کارنامے انجام دیے ہیں۔ اپنی سبق آموز زندگی کی آپ بیتیاں انہیں ایک کامیاب موٹیویشنل اسپیکرز کے زمرے میں لاکر کھڑا کرتی ہیں۔

وہ کتاب جو زندگی کے ہر مرحلے میں ہماری رہنمائی کرتی ہے وہ ہے کتاب اللّٰہ یعنی قرآنِ مجید۔ قرآن ہی وہ واحد کتاب ہے جو اصل موٹیویشنل کتاب کا حق ادا کرتی ہے۔ آخر ہم سے بڑھ کر کون بڑا بدقسمت ہوسکتا ہے کہ قرآن کریم کی موجودگی میں موٹیویشنل اسپیکرز کے پیچھے بھاگتے ہیں، ہم اتنے بدقسمت ہیں کہ حضرت محمدﷺ کی حیاتِ طیبہ کا مطالعہ اور اس پر عمل پیرا ہونے کی بجائے موٹیویشنل اسپیکرز کی کہانیوں پر گھنٹوں صرف کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآنِ کریم اور نبی کریمﷺ سے بڑھ کر کوئی موٹیویشن نہیں ہے۔

موٹیویشنل اسپیکنگ کے حوالے سے بیشمار کتابیں بھی لکھی گئیں ہیں، جن کا اردو سمیت دنیا بھر میں 50/ سے زائد زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ مسلم معاشرے کے تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے سیلف ہیلپ کے موضوعات پر اردو میں بھی کتابیں لکھیں گئیں، جس میں زمبابوی عالم دین و مفتی اسماعیل بن موسیٰ مینک المعروف مفتی مینک انہوں نے اپنے اقوال کا مجموعہ موٹیویشنل مومینٹس کے عنوان سے کتاب شائع کی، اس کے علاؤہ ڈاکٹر عائض القرنی کی ''غم نہ کریں''، ڈاکٹر محمد عبد الرحمٰن العریفی کی ''ز ندگی سے لطف اٹھائیے''، بشیر جمعہ کی کتاب ''آج نہیں تو کبھی نہیں''، فیض سیال کی ''بدلو سوچ بدلو''، ''شاہراہِ زندگی پر کامیابی کا سفر''، میاں عبد الرشید کی ''اسلام اور تعمیر شخصیت''، ڈاکٹر حسن صہیب مراد کی ''علم، عمل، زندگی''، ابو یحییٰ کی کتابیں، وغیرہم۔ کئی بہترین کالم نگاروں نے بھی اس میدان میں قدم جمائے رکھا ہے۔
 
❍  مثبت و امید افزاء رویہ:  (Positive and Optimistic attitude)

زندگی میں فتح یابی یا کامرانی اجتماعی کوششوں کا ثمرہ ہوتیں ہیں، تکبّر یہ ہے کہ انسان اپنی کامیابیوں کو انفرادی یا فرد واحد کی کوششوں کا نتیجہ سمجھنے لگے۔ زندگی میں ہم خسارہ کسی بھی کام میں ناکام ہونے کی وجہ سے نہیں اٹھاتے بلکہ ایک اچھا منصوبہ بھی نہ ہونے کی وجہ سے اٹھاتے ہیں۔ ہمیشہ اپنے مفاد میں سوچنے والے اور منفی راستے اختیار کر ے والوں کو کامیابی نہیں ملتی اور نہ ہی دل کا سکون۔

مثبت خیال، مثبت فکر و نظر اور احسن عمل اسلامی تعلیمات کے نمایاں پہلو ہیں اور ایک مسلمان کا طرز زندگی بھی اور قرآن سے بہتر کوئی موٹیویشنل کتاب نہیں نبیٔ اکرمﷺ سے بڑھ کر کسی کی بات موٹیویشنل نہیں۔ مغرب میں مثبت سوچ کے موضوع پر جو کچھ ابھی تک کہا یا لکھا گیا ہے ہمارے پاس قرآن و سنّت اور سلفِ صالحین کی تعلیمات میں اس سے کہیں زیادہ مواد موجود ہے۔ ہمارے پاس عوامی موٹیویشن کے لئے خطباتِ جمعہ، درس قرآن، واعظ و نصیحت کے عمدہ اور قابلِ قدر طریقے موجود ہیں۔

نا ہو نو امید نو امیدی زوال علم و عرفاں ہے
امید مردِ مومن ہے خدا کے راز دانوں میں 

ایک صحابیؓ کی کسی نے غیبت کی اور جب انہیں پتہ چلا تو ٹوکری بھر کر کھجور بھیجوائی کہ اچھا کیا کہ اپنی نیکیاں میرے نام کیں۔ کس قدر منفرد اور مثبت رویہ تھا جو آپ نے غیبت کرنے والے کو بتایا۔ اسلامی تاریخ میں بے شمار واقعات ہیں جو مثبت فکرو نظر کی جانب انسان کی رہنمائی کرتی ہیں، مزید ایک واقعہ یاد آرہا ہے کہ طلحہ بن عبد الرحمن بن عوفؓ اپنے زمانے میں قریش کے سب سے سخی اور فیاض انسان تھے، ایک دن ان کی بیوی نے کہا میں نے آپ کے بھائیوں سے بڑھ کر کمظرف اور احسان فراموش کوئی نہیں دیکھا! انہوں نے پوچھا وہ کیسے؟ کہنے لگی جب خوشحالی اور آسانی کا وقت ہوتا ہے تو ہر وقت آپ سے چمٹے رہتے ہیں لیکن جب تنگی اور برا وقت آجائے تو چھوڑ جاتے ہیں!! طلحہؓ نے کہا اللّٰہ کی قسم! یہ رویہ تو ان کے اچھے اخلاق کی دلیل ہے…!!! کہ جب میں ان کی عزت افزائی اور حق ادائیگی کے قابل ہوتا ہوں تو مجھے ملتے ہیں اور جب میں اس قابل نہیں ہوتا تو وہ خواہ مخواہ آکر مجھے تنگ اور شرمندہ نہیں کرتے…!!!

1960ء میں نیپولین ہل نے ''مثبت ذہنی رویہ کے ذریعے کامیابی'' (Success Through a Positive Mental Attitude) نامی کتاب میں مثبت ذہنی رویہ کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا۔ نیپولین ہل نے ''لامحدود ذہانت'' کو ٹیپ کرکے خوشی اور دولت کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے بار بار مثبت خیالات کے استعمال کو بیان کیا۔

ڈاکٹر ہیڈی گرانٹ کولمبیا یونیورسٹی امریکہ کے شعبہ موٹیویشن سائنس کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ہیں اور موٹیویشن کی نفسیات پر تحقیق کی وجہ سے دنیا بھر میں کافی مشہور ہیں۔ وہ اپنی ایک تحریر میں موٹیویشنل اسپیکرز کے بارے میں لکھتی ہیں کے اکثر موٹیویشنل اسپیکرز کی تقریریں سنیں تو ایک مشترکہ ''ٹیک ہوم میسیج'' سننے کو ملتا ہے کہ آپ محنت کریں آپ کامیاب ہو جائیں گے۔ وہ اس پیغام سے اختلاف کرتی ہیں اور اسے ایک طرح سے سامعین کے لیے ایک ادھورہ اور نا مکمل پیغام سمجھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ کسی بھی قسم کی ترغیب اس وقت تک مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی جب تک سننے والے کے اندر کامیابی کے حصول کے لئے کوشش کے ساتھ ساتھ اپنے مقصد کے حصول کے لئے راستے کی رکاوٹوں اور مصائب کو عبور کرنے کے لیے قربانی دینے کا جذبہ موجود نہ ہو۔ مطلوبہ ہدف کے حصول کے لئے محض کوشش ناکافی اور ایک طرح سے سننے والے کے لئے ناکامی کی ترکیب ہے۔

یہ درست ہے کہ اپنے ہدف کو پانے کی جستجو میں کسی بھی فرد کے لیے موٹیویشن اور اس موٹیویشن سے ملنے والے اعتماد کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اور ایک فطری بات یہ بھی ہے کہ کسی بھی قسم کی موٹیویشنل تقریر سن کر انسان کے اندر نفسیاتی طور پر دو طرح کی سوچیں آسکتی ہیں، ایک حقیقت پسندانہ پُر امیدی اور دوسری غیر حقیقت پسند پُر امیدی۔ اوّل الذکر وہ سوچ ہے جس میں انسان اپنے آپ کو مقصد کے حصول میں کوشش کے ساتھ ساتھ اس راستے میں در پیش رکاوٹوں اور مصائب کے لئے بھی ذہنی طور پر پہلے ہی سے تیار کر لیتا ہے۔ اور اس کے لئے ایک مناسب اور سنجیدہ منصوبہ بندی کے بعد ہی میدان میں اترتا ہے جس سے وہ اپنے آپ کو زیادہ پُر اعتماد اور پُر امید محسوس کرتا ہے۔

اس کے بر عکس غیر حقیقت پسندانہ پُر امیدی وہ سوچ ہے جو آج کل کے موٹیویشنل اسپیکرز جگہ جگہ بانٹ رہے ہیں۔ یعنی کامیابی کے حصول کے لئے صرف آپ کی محنت اور کوشش ہی کافی ہے۔اس طرح کی سوچ کے حامل افراد کامیابی کو ایک طرح سے اپنا حق سمجھنے لگتے ہیں اور کامیابی کی کہکشاں کے راستے میں آنے والے پتھروں کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس لیے وہ کہتی ہیں کہ آپ کامیابی کے حصول کے لئے ہمیشہ مثبت اور سنجیدہ رویہ اپنائیں اور اپنے اندر حقیقت پسندانہ پُر امیدی والی سوچ کو فروغ دیں تا کہ آپ کو مقصد کے حصول میں ناکامی نہ ہو۔

خدائے لم یزل کا دستِ قُدرت تُو، زباں تُو ہے
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوبِ گُماں تو ہے

متحرک و مصروف انسان روشن آب رواں ہوتا ہے، اس کے برعکس سست الوجود انسان منجمد پانی، جو گدلا ہو جاتا ہے۔ قطرۂ آب کسی مخصوص مقام پر مسلسل گرنے کے نتیجے میں چٹانوں میں بھی بڑا سوراخ کر دیتا ہے، لیکن عجلت پسند و بے صبری لہریں اپنی آب و تاب کے ساتھ چٹانوں سے گذر جاتی ہیں اور ان کا کوئی نشان نظر نہیں آتا۔ کامیابی کے حصول کے لئے ہمیشہ مثبت اور سنجیدہ رویہ اپنائیں اور اپنے اندر حقیقت پسندانہ پُر امیدی والی سوچ کو فروغ دیں تا کہ آپ کو مقصد کے حصول میں ناکامی نہ ہو۔

آپ کو معلوم ہے ایک صحت مند مرد کے عورت سے جماع کرنے کے بعد جو منی خارج ہوتی ہے اس میں 400/ ملین نطفے (sperms) موجود ہوتے ہیں۔ منطق کے مطابق اگر اس مقدار میں نطفوں کو رحم مادر میں جگہ مل جاتی ہے تو 400/ ملین بچے پیدا ہو جاتے! جب کہ یہ 4/ سو ملین نطفے ماں کی بچہ دانی کی طرف پاگلوں کی طرح بھاگتے ہیں اور اس دوڑ میں صرف 3/ سو یا 5/ سو نطفے ہی بچ پاتے ہیں۔ بقیہ راستے میں ہی کمزوری یا شکست سے دم توڑ دیتے ہیں۔ 300 - 500 نطفے بیضہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ان میں سے صرف ایک، جی ہاں صرف ایک بہت ہی مضبوط نطفہ ہوتا ہے، جو بیضہ میں داخل ہوکر فرٹیلائز ہوتا ہے، یا بیضہ میں پہنچ کر اپنی نشست بنا لیتا ہے۔

وہ خوش نصیب، فاتح اور مضبوط ترین نطفہ ہم لوگ ہیں؟ کیا آپ نے زندگی کی اس عظیم جنگ کے بارے میں سوچا ہے؟ جب آپ دوڑے جسم کے کوئی بھی اعضاء، کوئی بھی قسم کے تعلیم یافتہ مہارت اور سرٹیفکیٹ نہیں تھے، کسی نے آپ کی مدد نہیں کی، پھر بھی آپ جیت گئے! آپ کے وجدان کی نظر میں صرف منزل تھی جب آپ بھاگے اور آپ ایک ہی ذہن کے ساتھ بھاگے تھے، آپ کا عزم صرف وہ منزل تھی اور آپ آخر میں جیت گئے۔ اس کے بعد، بہت سے بچے ماں کے پیٹ میں کھو گئے۔ لیکن آپ موجود رہے، آپ نے اپنے 9/ مہینے پورے کیے۔

اور آج! آپ گھبراتے ہیں جب کچھ ہوتا ہے تو آپ مایوس ہو جاتے ہیں، لیکن کیوں؟ آپ کو کیوں لگتا ہے کہ آپ ہار گئے؟ آپ نے اعتماد کیوں کھو دیا ہے؟ اب آپ کے پاس دوست، بہن بھائی، سرٹیفکیٹس، سب کچھ ہے۔ یہاں ہاتھ پاؤں ہیں، تعلیم ہے، منصوبہ بندی کرنے کے لیے بہترین دماغ ہے، مدد کرنے کے لئے لوگ موجود ہیں، پھر بھی آپ نے امید ختم کردی ہے۔ جب کچھ ہوتا ہے تو آپ کیوں ٹوٹ جاتے ہیں؟ آپ کیوں کہتے ہیں کہ میں زندہ نہیں رہنا چاہتا؟ آپ نے کیوں کہا کہ میں ہار گیا؟ ایسی ہزاروں چیزوں کو اجاگر کرنا ممکن ہے، لیکن آپ مایوس کیوں ہوگئے؟ آپ ناامید و نامراد کیوں ہوئے؟ آپ شروع میں جیتے، آپ آخر میں جیتے، آپ بیچ میں جیت جاتے ہیں۔

❍  مغربی معاشرے میں موٹیویشنل اسپیکرز کی ضرورت: 
(The need for motivational speakers in Western society)

بچپن سے جوانی تک ہمارے گھروں میں والدین' دادا دادی' نانا نانی' پھوپھو و خالہ اور اساتذہ ہی موٹیویشنل اسپیکرز کا کردار ادا کرتے ہوئے نظر آئے ہیں۔ اللّٰہ نے انہیں مختلف اقسام کی موٹیویشنل تھراپی سے مالامال کیا تھا۔ اپنی زندگی میں پیش آئے واقعات، خاندان کی اعلیٰ روایات، اسلامی تعلیمات سے اپنی نئی پود کو آگاہ کرتے تھے جس سے نئی نسل راہنمائی حاصل کرکے اپنی عملی زندگی میں پیش آنے والے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے کمر بستہ ہوتی تھی۔ ان کی عاجزانہ و مخلصانہ تجربات سے پُر مؤثر طریقۂ تربیت، واعظ و نصیحتیں، محبت و ناراضگی کا بہترین و عمدہ اظہار، موٹیویٹ نہ ہونے پر چھڑی کی مار اور تھپڑوں کی سوغات، ہمیں زندگی کے ہر مرحلے میں موٹیویٹ کرتا تھا۔

مغربی معاشروں میں موٹیویشنل اسپیکرز کی ضرورت اس لئے ہوتی ہے کہ وہاں اولاد کی تربیت کے لئے تادیبی اقدامات بھی ممنوع فعل اور قابلِ سزا گناہ کے زمرہ میں آتا ہے۔ جہاں اولاد اور والدین پر ڈپریشن، اینگزائیٹی، قُنوطِیَت، مایوسی، افسردگی اور عدم برداشت کی کیفیات میں روز افزوں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ دینِ اسلام چونکہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے اس لئے اولاد کی تربیت میں مناسب مار پیٹ کی حمایت، ترغیب اور اجازت دیتا ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: 'مُرُوْا اوْلَادَکُمْ بِالصَّلَاۃِ وَھُمْ اَبْنَاءُ سَبْع سِنِینَ وَاضْرِبُوھُمْ عَلَیہَا وَھُم اَبْنَاءُ عَشْرِسِنین۔َ''۔ (جب تمہاری اولاد 7 سال کی عمر کو پہنچ جائے تو انہیں نماز کا حکم دو اور جب وہ 10 سال کے ہو جائیں تو (نماز میں کوتاہی کرنے پر) انہیں سزا دو)۔ (سنن ابی داؤد: 495)

امام شافعیؒ فرماتے ہیں: ''والدین کی ذمّہ داری ہے کہ وہ اپنی اولادوں کو ادب سکھلائیں۔ طہارت اور نماز کی تعلیم دیں اور باشعور ہونے کے بعد (کوتاہی کی صورت میں) ان کی پٹائی کریں ''۔ (شرح السنۃ: 2/407)

حدیثِ مبارک میں ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے سیّدنا معاذؓ سے فرمایا: ''علق سوطک حیث یراہ اہلک'' (اپنے گھر میں ایک چھڑی/ کوڑا لٹکائے رکھ، جہاں سے وہ گھر والوں کو نظر آئے، کیوں کہ یہ ان کی تادیب کا ذریعہ ہے۔) (الطبرانی، المعجم الکبیر، رقم: 10672، 10/285)

مغربی معاشرہ جہاں بچوں کی تادیب کے لئے تنبیہ اور پٹائی کو ایک سنگین گناہ جو قابلِ سزا ہو اور فعلِ ممنوعہ بنا دینے کے بعد وہاں کا خاندانی نظام مکمل تباہی و بربادی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ نئی نسل شتر بے مہار ہوگئی ہے ہر طرح کی بندش اور قدغن ہٹا دینے کے بعد اب وہاں نہ کوئی شرم و حیاء باقی ہے نہ اخلاقیات اور نہ ہی کوئی کردار۔

ایک مسلم معاشرے میں علماء و مشائخ، مربّی و دانشوران کی زیرِ نگرانی کسی بھی موٹیویشنل اسپیکر کی کوئی بھی جگہ نظر نہیں آتی، کیونکہ قرآن و حدیث سے بڑھ کر ایک مسلمان کے لئے کوئی موٹیویشن اور ترغیب نہیں جسے درست طریقے سے عوام الناس تک پہنچانا یعنی کتاب و سنّت کے بتائے ہوئے طریقہ پر مسلمان کے نفس لوامہ کو تحریک دے کر اسے نیکی اور خیر پر ابھارنا اور آمادہ کرنا، اس کی کردار سازی کرنا اور اسے معاشرے کا ایک مفید فرد بنانا علماء کا کام ہے جسے وہ بخوبی اور احسن انداز سے سر انجام دے رہے ہیں۔

❍  علّامہ محمد اقبالؒ کے موٹیویشنل اشعار:  (Motivational Ash'aar of Allama Iqbal)

کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

اس شعر میں علّامہ اقبالؒ نوجوانانِ مسلم کو تاریخی عظمت کا احساس دلا کر اسے اپنی حقیقت سے آشنا کروا رہے ہیں۔

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں 
نظر آتی ہے اس کو منزل اپنی آسمانوں میں 

اس شعر میں علّامہ بلند پروازی اور اعلیٰ مقصد کے حصول کی ترغیب دے رہے ہیں۔

ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا
حیات ذوقِ سفر کے سوا کچھ اور نہیں 

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے 
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زِندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں 

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں 
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں 

غم جوانی کو جگا دیتا ہے لطفِ خواب سے
ساز یہ بیدار ہوتا ہے اسی مضراب سے

❍  مذہبی نقطۂ نظر کے تناظر میں:  (A Religious point of Views)

حقیقی موٹیویشن وہ ہوتی ہے جو عارضی اور وقتی نہ ہو بلکہ دائم بالذات ہو۔ جو الفاظ تک محدود نہ ہو بلکہ الفاظ کے ساتھ جڑی ہوئی ایسی تحریک ہو جو قلب و جگر میں فکر و عمل کا طوفان بپا کردے۔ موٹیویشن کی اصل ترجمانی اسلام ہی کرسکتا ہے، کیونکہ اسلام ہی مکمل نظامِ حیات ہے۔

اللّٰہ تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین رکھیں کیوں کہ اللّٰہ وہ ہے جو حضرت یوسفؑ کو تاریک و ویران کنویں سے نکال کر عظیم سلطنت کا بادشاہ بنا سکتا ہے۔ اللّٰہ وہ ہے جو مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونسؑ کو 40/ روز تک زندہ رکھ سکتا ہے۔ ہمیں قرآن میں آخرت کی زندگی یعنی ہمیشگی کی جنّت کا تذکرہ بار بار ملتا ہے۔ کہیں ہمیں ڈرایا جاتا ہے کہیں ہمیں خوشخبری دی جاتی ہے تو سارے کا سارا قرآن موٹیویشن سے بھرا پڑا ہے۔ جنّت اور جہنم کا تذکرہ ہمیں عمل کی طرف ابھارنے کے لیے ہے۔ بعض اوقات ہم دوسروں کی آپ بیتیاں پڑھنے یا سننے سے بھی ہم موٹیویٹ ہوتے ہیں۔

ماہرِ نفسیات نبیٔ رحمتﷺ کی احادیث مبارکہ اور سوانح حیات دیکھیں تو پائیں گے کہ وہاں زبردست موٹیویشن اور حوصلہ ہے۔ آپﷺ نے زمانہ جاہلیت کے لوگوں کو موٹیویٹ کیا، انہیں مسائل سے نجات حاصل کرنے کا طریقہ بتایا، یہی وجہ تھی کہ لوگ جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہوتے گئے۔ ایک غزوہ کے دوران مجاہدین نے بھوک کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھ رکھا تھا۔ جب وہ آپﷺ کے پاس آئے تو آپﷺ کے پیٹ پر بندھے ہوئے دو پتھر دیکھے۔ موٹیویشن تھی، جس کے بعد سب نے دوبارہ اپنا کام سنبھال لیا۔ رسول پاکﷺ کی زندگی محض گفتار کے ذریعے لوگوں کو موٹیویٹ کرنے یا انہیں تحریک دینے کا ذریعہ نہ تھی بلکہ آپﷺ عملاً لوگوں کے لیے آگے بڑھے اور خود کو متحرک کرنے کا ذریعہ بن جاتی تھی۔

اس کائنات میں اگر کسی نے کامیاب معلم انسا یت اور موٹیویٹر کا حق ادا کیا ہے تو وہ محمد رسول اللّٰہﷺ کی ذاتِ اقدس ہے۔ آپ کی ذات شمع شبستانِ ازل، فخرِ بنی آدم، جنہوں نے کائنات کے ہر ذی روح کو زندگی کا راز سمجھایا، جنہوں نے بےکسوں کی دستگیری کی، بادشاہی میں فقیری کی۔ اللّٰہ تعالیٰ نے آپﷺ سے بہتر معلم و موٹیویٹر پیدا ہی نہیں کیا۔ رسول اللّٰہﷺ کی حیاتِ طیبہ موٹیویشن کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ آپﷺ پر قرآن مجید کی وحی کا آغاز ہی اقراء کی موٹیویشنل لفظ سے ہوتا ہے اور خود نبیﷺ نے اپنی حیثیت معلم انسانیت کی گردانی ہے۔

نسلِ نو کے لیے امید کا واحد نور، اگر کوئی ہے تو وہ قرآن اور محمد رسول اللّٰہﷺ کی سیرتِ طیبہ ہے۔ وہ تعلیمات جو بے مقصدیت کا گلا گھونٹ کر نئے افق کے خواب دکھا کر انسانوں کو ستاروں پہ کمند ڈالنے پہ اکساتے ہیں۔ شاہنواز عالم جس نے نیٹ کوالیفائڈ کیا اور نمایاں نمبرات سے کامیابی حاصل کیا اس کا کہنا ہے کہ مجھے سب سے زیادہ موٹیویشن نماز اور قرآن کے ذریعے ملا۔

ہندو ازم کا پرچار کرنیوالی موٹیویشنل اسپیکر نے خود قرآن سے موٹیویٹ ہوکر اسلام قبول کیا۔ تامل موٹیویشنل اسپیکر اور ٹیچر فاطمہ سبریمالا (Fatima Sabarimala) پرانا نام سبریمالا جیاکانتھن کا قبول اسلام کا واقعہ اس کا ثبوت ہے۔ فاطمہ نے اپنے پہلے مکّہ کے دورے پر کہا کہ میں نے اپنے آپ سے پوچھا کہ دنیا میں مسلمانوں کے خلاف اتنی نفرت کیوں ہے؟ میں نے ایک غیر جانبدار شخص کے طور پر قرآن پڑھنا شروع کیا۔ تب مجھے حقیقت معلوم ہوئی۔ اب میں اسلام سے اپنے سے زیادہ پیار کرتی ہوں۔

عصرِ رواں میں مختلف شعبوں میں اوج کمال تک پہنچنے والے افراد بھی ایک کارآمد موٹیویشنل اسپیکر کا کردار بخوبی نبھا رہے ہیں۔ جن میں دین، تعلیم، بزنس این جی اوز اور انٹرٹینمنٹ سے تعلق رکھنے والے بااثر لوگ بھی شامل ہیں۔ آج اسلامی تحریکوں، جماعتوں اور اداروں سے وابستہ ہزاروں نوجوان شب و روز بلا معاوضہ یہ فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ جن کا مجموعی معاوضہ سالانہ لاکھوں ڈالر بنتا ہے، مگر وہ نہ صرف یہ کہ معاوضہ نہیں لیتے بلکہ سفری اخراجات تک خود برداشت کرتے ہیں۔ ان کے ایک ایک منٹ کا معاوضہ واقعی قابلِ قدر ہوتا اور ان کا معاوضہ اُمّت کی بیداری کی صورت میں ان کو مل رہا ہے۔ کس چیز کو کہاں تک تجارت بنانا ہے، اس کا فیصلہ ہمیں سوچ کر کرنا ہوگا۔ ایک کارپوریٹ کلچر ہے، جس نے ہم سب کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔ تجارتی بازار ہے، جہاں ہر چیز کی نرخ طئے شدہ ہے۔ دانائی اور بینائی و دانش مندی، ہر چیز یہاں فروخت ہونے والا مال ہے۔

گفتار کے غازیوں کی باتوں کے گہرے سمندر میں ڈوبنے سے بہتر ہے کہ خود تیر کر اپنے سفینے کو منجدھار سے نکالیں۔ کیونکہ موجودہ دور کا موٹیویشنل اسپیکر اپنی غیر علمی خرافات سے صرف انہی کو متاثر کر سکتا ہے جنہیں علم سے لگن نہ ہو۔ مذکورہ بالا تحریر کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہر اسپیکر دھوکے باز یا جعلی ہوتا ہے۔ بعض خرد مند حضرات بھی ہیں جو مذہب اور معاشرے کو اپنی تقاریر تصانیف کا حصّہ بناتے ہیں، ان کی فہم و ادراک سے پُر بیشتر باتیں سامعین کے لئے سوچ و فکر کئی دروں کو وا کرتی ہیں۔ مذکورہ بالا عنوان کا مقصدِ تحریر یہ ہے ایک یا دو گھنٹے کی تقریر سننے سے زندگی نہیں بدلتی۔ زندگی عمل سے بدلتی ہے اور عمل سوچ و فکر سے۔ مگر یہ تبدیلیاں لمحاتی نہیں ہوتیں۔ اس کے لیے قوت اور غور و فکر درکار ہے، تجربات سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ ہر انسان کے روحانی ارتقاء کے لیے ضروری ہے۔

(نوٹ :۔ اس مضمون کو ضبط تحریر میں لانے تک دو بار مائینر اٹیک کے نتیجے میں طبیعت شدید ناساز ہوگئی ہے جس کی وجہ سے مضمون کی اصلاح یا املا نہ ہو پائی ہے، غلطیوں اور لغزشوں پر صاحب تحریر کو معاف کریں۔ ساتھ ہی ساتھ رہنمائی فرمائیں، اللّٰہ معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (جزاکم اللّٰہ خیراً کثیرا)
           •┅┄┈•※‌✤م✿خ✤‌※┅┄┈•
                     (12.01.2024)
       🍁مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
🏠 ال افشان، 7/4، شیلیش نگر، ممبرا،
       تھانہ- 400612، مہاراشٹر، الہند۔
📧masood.media4040@gmail.com
        Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
                      ○○○○○○○○○

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam