Nasrum minallah wa fathun qareeb

07 *••⊱نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌؕ⊰••*
          ┄┅════❁﷽❁════┅┄               
╗══════•❁ا۩۝۩ا❁•═══════╔
        ••⊱نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌؕ⊰••
╝══════•○ ا۩۝۩ا ○•═══════╚
     🍁✍۔مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
               📱09422724040
         •┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
            ┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

     اہل فَلَسْطِين کی قلیل سی اجتماعیت کا اپنے سے کئی گنا بڑی اجتماعیت کو زمینی حملوں میں عالم کفر کے سرغنہ، غاصب اسرائیل اور اس کے حواریوں کو پسپا کرنا قرآن کی اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ
     کَمۡ مِّنۡ فِئَةٍ قَلِيۡلَةٍ غَلَبَتۡ فِئَةً کَثِيۡرَةً ۢ بِاِذۡنِ اللّٰهِ‌ؕ وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيۡنَ۔
     بار ہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللّٰہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے۔ اللّٰہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے۔ (القرآن: سورۃ البقرة: 249)

      اہل فَلَسْطِين سے اُمَّتِ مُسْلِمَہ کی قبلۂ اوّل اور مقدس مقامات کی وجہ سے مذہبی، نظریاتی اور جذباتی عقیدتوں کی وابستگیاں ہیں۔ اسلام میں اہل ایمان آپس میں بھائی بھائی ہیں، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی حصّے میں، کسی بھی رنگ و نسل اور وطن سے تعلق رکھتے ہوں، جو کلمہ طیبہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہو جاتا ہے وہ بحیثیتِ مسلمان ہمارا دینی بھائی ہے۔ لہٰذا اُمَّتِ مُسْلِمَہ ایک جسم کی مانند ہے، خواہ دنیا کے کسی بھی حصّے میں مسلمان کو تکلیف پہنچتی ہو، پورے دنیا کے مسلمانوں کو اس کا درد محسوس کرنا لازم ہے۔

      حدیث جس کے راوی نعمان بن بشیرؓ ہیں فرماتے ہیں، رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: "مومنوں کی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت و مودت اور باہمی ہمدردی کی مثال جسم کی طرح ہے کہ جب اس کا کوئی عُضْو تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے بایں طور کہ نیند اڑ جاتی ہے اور پورا جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے"۔

     ہمارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیں ان کے درد کا احساس ہونا چاہیے، مصیبت زدہ لمحات میں مسلمانوں کی تکلیف کا احساس ہونا اور اُن کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھنا یہ ہمارے ایمان کے زندہ ہونے کی علامت ہے۔

      آج جب کہ ارضِ فَلَسْطِين اور غاصب صَیہُونی اسرائیل کی اس جنگ نے "نیُو ورلڈ آرڈر" اور "گریٹر اسرائیل" کے دیرینہ خواب کو نست و نابود کردیا ہے۔ 7؍ اکتوبر کو علی الصبح حماس کی عسکری شاخ کے قریباً 1450؍ غازیوں نے اسرائیل پر غیر متوقع اور اچانک حملے میں 1400؍ اسرائیلیوں کو ہلاک کیا تھا، جب کہ 5؍ ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ حماس نے اس دوران 230؍ کے قریب اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا تھا جو اب بھی اس کی تحویل میں ہیں۔ جس میں سے چند لوگوں کو غاصب اسرائیل کی وحشیانہ بمباری نے ہلاک بھی کردیا ہے۔

     بزدلانہ اور وحشیانہ بمباری سے ارضِ فَلَسْطِين لہو لہان ہو تو گیا ہے، لیکن شہادتوں کے نذرانوں نے انہیں ہمیشہ کے لئے زندہ و جاوید کردیا ہے۔ سلام! اے ارضِ فَلَسْطِين سلام!! سلامتی ہو ان معصوم پیاری پیاری روحوں پر جنہوں نے بچپن میں جام شہادت نوش فرما کر ارضِ مقدس کی بازیابی اور حفاظت کے فریضے کے لئے اپنی ننھی منی سانسوں کے نذرانے پیش کئے۔ سلام صد سلام!!!!

ارضِ فَلَسْطِين لہو لہو:

      اہل غزہ پر قیامت کے المناک اور کربناک داستانِ ظلم و ستم بپا ہے۔ صَیہُونی غاصب ریاست نے غزہ کے شہری علاقوں میں فضائی حملے کئے ہیں، اس طرح کی کاروائیاں عام شہریوں کے خلاف جنگی جرم میں ملوث و مرتکب ہونے کا اعلان ہے۔

      غاصب صَیہُونی حکومت فَلَسْطِينی مجاہدوں سے اپنی شرمناک اور ناقابل تلافی شکست کا بدلہ نہتے اور مظلوم فَلَسْطِينی عوام سے لے رہی ہے۔ غزہ میں اب تک 9800؍ سے زیادہ فَلَسْطِينی شہید ہوئے ہیں، شہیدوں میں زیادہ تر تعداد خواتین اور تقریباً 4100؍ معصوم بچوں کی ہیں، جب کہ زخمیوں کی تعداد 24؍ ہزار سے زیادہ ہے۔ غاصب صَیہُونی حکومت تمام بین الاقوامی قوانین کو پامال کرتے ہوئے غزہ کی رہائشی عمارتوں، عبادت گاہوں، مساجد اور چرچوں، تعلیم گاہوں، اسپتالوں اور بے گھر ہونے والے فَلَسْطِينیوں کے کیمپوں پر وحشیانہ حملے کررہی ہے۔ ٹیلی فون، انٹرنیٹ اور دیگر ٹیلی کمیونی کیشن کے ذرائع منقطع کردئیے گئے ہیں۔ غزہ میں ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، ادویات، پانی، بجلی اور ایندھن کی منقطع سپلائی کے تناظر میں عالم اسلام کو آگے بڑھنا ہوگا۔

      غزہ میں عمارتوں کے ملبے کے ڈھیروں، انسانی لاشوں کے دل خراش مناظر اور عام شہریوں کی زبوں حالی کی تصاویر اور ویڈیوز غیرت مند انسانوں کو بے چینی و اضطرابی کیفیت میں مبتلا کررہے ہیں۔

      غاصب اسرائیلی حکومت کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال مظلوم فَلَسْطِينیوں کے قتل عام میں اپنے وحشیانہ جرائم کا ریکارڈ توڑنے کے لئے کر سکتی ہے اور یہ ایک تشویشناک مسئلہ ہے۔ کیمیاوی ہتھیاروں پر پابندی کے ادارے (OPCW) میں غزہ کے مظلوم فَلَسْطِينیوں پر اسرائيل کے ذریعہ کیمیاوی ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کی بابت کئی ملکوں نے خبردار کیا ہے۔ کیمیاوی مواد کا استعمال نہ صرف حقوقِ انسانی کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی جانوں، خطے کے ثبات اور عالمی امن و سلامتی کے لئے بھی سنگین خطرہ ہے۔

معاشی محاذ پر اسرائیل کی شکست:

     غاصب صَیہُونی اسرائیل اس وقت بدقسمتی سے جن محاذوں پر مسائل سے دوچار ہے ان میں اہم محاذ معیشت و اقتصاد بھی ہے۔ مقبوضہ فَلَسْطِين کے علاقے غزہ میں غاصب اسرائیل کی جانب سے مسلمانوں کی نسل کشی کے مضر اثرات اسرائیلی معیشت پر مرتب ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ایک تخمینے کے مطابق جنگ غزہ میں غاصب اسرائیل کو معاشی طور پر 200؍ ارب شیکل (51؍ ارب ڈالرز) کا خسارہ برداشت کرنا پڑے گا۔ بتایا یہ جارہا ہے کہ رقم اسرائیل کی جی ڈی پی کے 10؍ فیصد حصّے کے مساوی ہے۔ دوسری جانب ریزرو فوجی دستوں (جو کہ اسرائیلی فوج کا 65؍ فیصد ہے، فعال افواج 1.7؍ لاکھ ہے) کا حصّہ بننے والے 4.6؍ لاکھ اسرائیلیوں کو فوراً اپنے روزگار کی جانب لوٹنا ہوگا کیونکہ روزانہ ایک ارب شیکل کے دفاعی اخراجات غاصب اسرائیل کو برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ غاصب اسرائیل کے تجارتی اداروں میں افرادی قوت کی شدید قلّت بھی شدت سے محسوس ہورہی ہے۔

     غزہ کی نسل کشی کے دوران اسرائیل کو اقتصادی و معاشی بحران اور بڑے خسارے کا خمیازہ تو بھگتنا ہی ہوگا۔ جب کہ مزید 60؍ ارب شیکل کا نقصان مختلف تجارتی سرگرمیاں روکنے کے نتیجے میں غاصب اسرائیل کو ہو ہی رہا ہے۔ اسی طرح تقریباً 20؍ ارب شیکل کاروباری اداروں کو نقصان کی تلافی کے لیے ادا کیے جائیں گے۔ جب کہ 22؍ ارب شیکل بحالی نو کے لیے اس سے زیادہ کی رقم درکار ہوں گی۔ خود صَیہُونی مبصرین حکومت کو درپیش معاشی مشکلات کے بارے میں تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔

     حماس کے اسرائیل پر حیران کن حملے کے بعد سیاحت کے شعبوں کا متاثر ہونا، غیر ملکی پروازوں کا معطل ہونا، اقتصادی سرگرمیوں کا مفلوج ہونا، ریزرو فوجی دستوں کا اپنے روزگار سے غائب رہنا، دفاعی بجٹ کے خسارے میں روز بروز اضافہ ہونا، انشورنس کمپنیوں کو خسارے کا سامنا، اسٹاک مارکیٹ میں انڈیکس کا خطرناک حد تک نیچے آنا، اسرائیلی کرنسی شیکل کی قدر میں 4؍ فیصد کمی کا آنا وغیرہ ان شاء اللّٰہ! اسرائیل کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کرے گا۔

عالم اسلام، بے حس حکمراں اور اہل فَلَسْطِين:

     عالم اسلام کی ہمدردیاں مظلوم فَلَسْطِينیوں کے ساتھ ہیں۔ دنیا بھر کے انصاف پسند عوام کا صدائے احتجاج شدت سے جاری ہے اور اس کے بلمقابل مسلم ممالک کے بے حس حکمرانوں کی منافقت بھی اپنے عروج پر ہے۔ دراصل اسرائیل کے خلاف سب سے بڑی رکاوٹ مسلم حکمران اور ان کے پالتو حوارین ہیں۔ ایمانی غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یمن نے فَلَسْطِينیوں کے زیر قبضہ علاقوں کے مختلف مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد ڈرونز کے ساتھ بیلسٹک اور کروز میزائلوں کی ایک بڑی تعداد سے اہل فَلَسْطِين کی تائید و حمایت میں جنگ کا آغاز کیا ہے۔ لیکن بعض عرب ممالک اپنی منافقانہ روش کے پیشِ نظر یمن کے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کو فضاء میں ہی ضائع کردے رہیں ہیں۔

      مسلم ممالک اپنی مشترکہ افواج کو کب حرکت میں لائیں گے۔ مسلم ممالک میں فاتحین کے نام پر بنے میزائلوں کو کب کام میں لایا جائے گا؟ جب کے یہ حقیقت بھی ہے کہ دنیا بھر میں مضبوط اور طاقتور افواج کے معاملے میں مسلم ممالک کا شمار صف اوّل میں ہوتا ہے۔ لیکن آج انہیں بے غیرتی اور بے حسی کے سانپ نے سونگھ لیا ہے۔ جب کبھی مسلمانوں کے قبلۂ اوّل، ارضِ فَلَسْطِين اور بیت المقدس کا معاملہ آتا ہے تو بین الاقوامی قوانین کا سبق یاد کروایا جاتا ہے۔ ان قوانین کے سارے اسباق صرف اور صرف مسلمانوں کے لئے ہی ہوتے ہیں۔ کوئی ہمیں یہ بتائے تو سہی غاصب اسرائیل کون سے بین الاقوامی قانون کے تحت فَلَسْطِينیوں کی زمین پر قابض ہے، اور آج تک کہاں اس نے بین الاقوامی قوانین کا پاس و لحاظ رکھا ہے۔ وہ ان کے خلاف کارروائیوں میں کون سے بین الاقوامی قوانین کا پابند ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ پوری دنیا کو امریکہ کی طرح اپنی پسند کے مطابق کسی فریق کی حمایت کا حق حاصل ہے اور اُمَّتِ مُسْلِمَہ کے حکمرانوں کو یہ حق ہی نہیں ان کا فرض بھی ہے۔ یہ کب حرکت میں آئیں گے۔

      غاصب صَیہُونی حکومت، امریکہ اور بعض یورپی حکومتوں کی مدد سے غزہ کے مظلوم عوام پر ہزاروں ٹن بم برسا چکی ہے جن میں ممنوعہ فاسفورس بم بھی شامل ہیں۔ امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں فوج کی موجودگی کو بڑھاتے ہوئے ایک جوہری آب دوز بھی خطے میں بھیج دی ہے۔ یہ آبدوز میزائلوں سے لیس ہے جب کہ قبل ازیں امریکہ دو بحری بیڑے بھی خطے میں بھیج چکا ہے۔ امریکہ، فرانس، برطانیہ اور کئی مغربی ممالک کھل کر اپنے خیالات و تعاون کا اظہار کرکے غاصب اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں۔

      غاصب اسرائیل طاقت کے نشہ میں بدمست ہاتھی کی طرح جارحانہ انداز میں ارضِ فَلَسْطِين پر قبضہ کی کاروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں، عالمی ممالک کو اہل فَلَسْطِين کے انفرادی اور اجتماعی حقوق کی پامالی پر غاصب اسرائیل کا محاسبہ کرنے کی سخت ضرورت ہے ورنہ یہ بدمست ہاتھی دندناتے ہوئے انسانوں کو ہلاک کرتے ہوئے تباہی و بربادی کی نئی تاریخ رقم کر رہا ہے۔

اسلاموفوبیا کا جن بوتل سے باہر:

      فَلَسْطِين و غاصب اسرائیل تنازعہ اب محض اسرائیل۔عرب جنگ نہیں بلکہ اب یہ جنگ تہذیبوں اور مذاہب کی جنگ میں تبدیل ہوگئی ہے۔ جس کی جھلک آئے دن ہمارے سامنے عیاں ہورہی ہیں۔

      امریکہ کے وزیر خارجہ انٹنی بلنکن فَلَسْطِينی عسکریت پسند تنظیم حماس کو ختم کرنے کی کوشش کے لیے امریکی حمایت کا اعادہ کر چکے ہیں۔ یورپی ممالک کے وزیرِ اعظم جیسا حکمراں طبقہ اسلحہ و افواج کے جہازوں کے ساتھ غاصب اسرائیل آکر صَیہُونیوں کی پیٹھ تھپ تھپا رہے ہیں۔ بزدلوں اور ظالموں سے تو یہی توقعات کی جاسکتی ہیں۔ دراصل اس طرح کی حرکتیں  اسلاموفوبیا کے مرض میں مبتلا ہونے کی علامتوں کو منظر عام پر لاتے ہیں۔

      یہ حقیقت ہے کہ اسلاموفوبیا کا مرض انسان کی فکر و نظر کو ماؤف کر دیتا ہے۔ ہمارے ملک میں بھی اسلاموفوبیا کے مریض نیند سے بیدار ہورہے ہیں۔ ملک کی ایک فلاپ اور متنازعہ اداکارہ نے اپنی آنے والی فلم کی تشہیر کے لئے سستا طریقہ ایجاد کرتے ہوئے ظلم و جبر اور نسل کشی کا ارتکاب کرنے والی غاصب حکومت اسرائیل کے سفیر نور گیلن سے ملاقات کی۔ انسٹاگرام کی پوسٹ پر ملک کی اداکارہ کنگنا رناوت کا حماس کو موجودہ وقت کا 'راون' قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم بحیثتِ ہندو قوم اسرائیل کی حمایت میں کھڑے ہیں۔ اسرائیل فَلَسْطِين کی جنگ میں جیت اسرائیل کی ہوگی۔ کنگنا کا مزید کہنا تھا کہ 'میں اسرائیل اور یہودیوں کی حمایت کے بارے میں ہمیشہ آواز اٹھاتی رہی ہوں ایک ہندو قوم کے طور پر، ہندو نسل کشی جو صدیوں سے جاری ہے، ہم یہودیوں کے ساتھ بہت زیادہ شناخت کرتے ہیں اور ہم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ ہم ہندوؤں کے لیے وقف بھارت کے مستحق ہیں'۔

      اسلاموفوبیا کے سہارے جھوٹی و نفرتی شہرت حاصل کرنے کے وجہ سے کئی پیڈ اکاؤنٹس کو سوشل میڈیا پر نفرتی ٹویٹ یا اسکرول کرنے کی پاداش میں معطل بھی کیا جارہا ہے۔ اسی سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اہل ایمان سے کس درجے کی عداوت و نفرت دلوں میں گھر کرگئی ہے۔

      ہمارے ملک میں اسلاموفوبیا اپنی انتہاء کو چھو رہا ہے۔ جس کی مثال الیکٹرونک و سوشل میڈیا پر دیکھی جاسکتی ہے۔ الیکٹرانک و سوشل میڈیا پر انتہاء پسند متعصب گروہ غاصب اسرائیل کو مقبوضہ فَلَسْطِين میں مسلمانوں کے قتل عام اور نسل کشی کی ترغیب دے رہا ہے۔ ہمارے ملک میں گودی میڈیا کے بکاؤ صحافی بھی اپنا منفی کردار ادا کرتے ہوئے اسرائیل سے فریاد کررہے ہیں دنیا بھر سے مسلمانوں کو نیست و نابود کر دیں۔

     حکومت و میڈیا ظالم اور قابض اسرائیل کی حمایت کرتے ہوئے مقبوضہ فَلَسْطِين اور غاصب اسرائیل کی جنگ کو بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت و عداوت کے حربے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے یہ بتایا جارہا ہے کہ اسرائیل کی طرح بھارت بھی دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ دائیں بازو کے بھارتی شہری سوشل میڈیا پر اسرائیل کی کھل کر حمایت کر رہے ہیں۔

ایک نظر یہاں بھی!!!:

      اسرائیلی اور امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے آخر کیوں حماس کے خفیہ حملے کے بارے میں خبردار نہیں کیا؟ یہ فَلَسْطِينی مزاحمتی تحریک کی فتح ہے کہ غاصب اسرائیل کے وسیع انٹیلی جنس نیٹ ورک ہونے کے باوجود موساد کو 7؍ اکتوبر 2023ء کو حماس کے اچانک حملے کی خبر تک نہ ہوئی۔ اپنی ہزیمت و ناکامی پر پردہ ڈالتے ہوئے باطل قوتوں کا یہ کہنا کہ ہم نے  نائن الیون کے سانحہ کے بعد سے حماس تحریک کی جاسوسی بند کر دی تھی۔

      اسپینی اخبار کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ کیلئے اسرائیل نے فرانس اور دیگر ممالک کے کرائے کے پرائیوٹ فوجی بھرتی کر لیے ہیں۔ کرائے کے فوجیوں کو ماہانہ 12؍ ہزار ڈالر دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

      غزہ کا مشرقی علاقہ گنجان آباد محلوں پر مشتمل ہے۔ یہ علاقہ حماس کے فوجی انفرا سٹرکچر کا بھی مرکز ہے اور یہاں زیر زمین سرنگوں، بنکروں اور کمانڈ سینٹرز کا ایک وسیع نیٹ روک موجود ہے۔ فَلَسْطِينی مجاہدوں نے صَیہُونی حکومت کے ایڈوانس ٹینکوں کے لیے جال بنائے اور انہیں غزہ کی جنوبی سر زمین میں تھوڑے اندر داخل ہونے کے بعد گائیڈڈ میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ اہل فَلَسْطِين کی مزاحمت ثابت قدم ہے اور اپنی جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہے اور دشمن کے منصوبوں اور اہداف کو ناکام بنانے کا عزمِ مصمم ہے۔ حماس نے اسرائیلی فوج کے کئی ٹینکوں کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ صَیہُونیوں کو ٹینک شکن بارودی سرنگوں، اسنائپرز اور گھات لگا کر کیے جانے والے حملوں کے نتیجے میں بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

      جہاں تک اسرائیلی جانی نقصان کی تعداد کا تعلق ہے تو میڈیا کی اطلاعات کے مطابق غاصب اسرائیل اور غزہ کے درمیان جاری لڑائی کے دوران اسرائیلی جانوں کا جتنا نقصان ہوا ہے غاصب اسرائیل کو اتنا جانی تقصان 1967ء اور 1973ء کی جنگوں سمیت کسی بھی جنگ میں نہیں اٹھانا پڑا۔

      صَیہُونی حکومت کے ٹینکوں کو مزاحمتی گروپوں کی طرف سے گائیڈڈ میزائلوں سے نشانہ بنانے کے بعد صَیہُونی حکومت کے لڑاکا بمبار طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹرز نے غزہ کے بہت سے علاقوں پر شدید بمباری کی۔ بھاری بمباری کے نتیجے میں غزہ میں زیادہ تر عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔ بچے کچے کھنڈرات لڑائی میں ڈھال اور کھات لگا کر حملے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ جس کے پیش نظر غاصب اسرائیلی فوجی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک مشکل اور طویل جنگ ثابت ہو سکتی ہے۔

      دفاعی ماہرین یہ وارننگ دے رہے ہیں کہ اسرائیلی فوج کو غزہ اور اس کے دوسرے گنجان آباد شہروں میں عالمی جنگ کے بعد ایک خوفناک ترین جنگ لڑنا پڑ سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حماس کے ساتھ جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہ سکے گے بلکہ یہ اسرائیل کی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

     اُمَّتِ مُسْلِمَہ نے اگر اتحاد و اتفاق کا دامن نہیں تھاما تو آج جو صورتحال فَلَسْطِين کی ہے وہی صورتحال مستقبل قریب میں دیگر مسلم ممالک کی ہوگی۔ لہٰذا مسلم ممالک ہوش کے ناخن لیں اور عالمی استعماری قوتوں کا ہدف بننے سے پہلے ایک مضبوط لائحہ عمل ترتیب دیں۔

      ہمیں بحیثیتِ مسلمان ارضِ فَلَسْطِين اور مقبوضہ بیت المقدس کی آزادی و خودمختاری تک مجاہدینِ فَلَسْطِين کا حَسْبِ استطاعت حمایت و معاونت اور تعاون کرنا ہوگا۔ یہ ہماری ایمانی غیرت و حمیت کا مظاہرہ ہوگا۔ ورنہ انبیائے کرام کی اس مقدس و پاکیزہ سر زمین سے خیانت و بغاوت ہوگی۔ اللّٰہ تعالیٰ اہل غزہ اور ارضِ فَلَسْطِين کی حفاظت فرمائے۔ (آمین)

           •┅┄┈•※‌✤م✿خ✤‌※┅┄┈•
                     (09.11.2023)
       🍁مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
🏠 ال افشان، 7/4، شیلیش نگر، ممبرا،
       تھانہ- 400612، مہاراشٹر، الہند۔
📧masood.media4040@gmail.com
        Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
                      ○○○○○○○○○

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam