Pre & Post Marriage Course - The Islamic & General Perspective

*••⊱نِکاح سے پہلے اور بعد کا کورْس - اِسْلامی اور عُمُومی تَناظُر⊰••*
Pre & Post Marriage Course - The Islamic & General Perspective
          ┄┅════❁﷽❁════┅┄                
╗══════•❁ا۩۝۩ا❁•═══════╔
        نِکاح سے پہلے اور بعد کا کورْس
            اِسْلامی اور عُمُومی تَناظُر
╝══════•○ ا۩۝۩ا ○•═══════╚
     🍁✍۔مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
               📱09422724040
         •┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•

    بتاریخ 24؍ اپریل اورنگ آباد سے عزیز رفیق ڈاکٹر محمد ابراہیم صاحب کی فرمائش پر اس تحریر کو قلمبند کرنے کی جسارت کیا ہوں۔ واقعی اس عنوان پر لکھنا بھی وقت کی ضرورت محسوس ہوئی۔ کیونکہ لمبے وقت تک یتیم و یسیر اور مستحق بچیوں کے ایک ادارے کو ذمّہ دار کی حیثیت سے چلانے کا شرف حاصل رہا۔ اس وقت ادارے میں بچیوں کے والدین کے چپکلش، جھگڑے اور تنازعات کو قریب سے دیکھنے اور حل کروانے کی کوششوں کا موقع میسر ہوا۔ اس وقت اس بات کا شدت سے احساس ہوتا تھا کہ اَزدواجی جوڑوں کی کاؤنسلینگ بے حد ضروری ہے۔ آج جب کے محمد ابراہیم صاحب نے ایک فرمائش کی کہ "کیا آپ اس مسئلے پر لکھ سکتے ہیں؟ یہ آج کی ضرورت ہے"۔ قلب و دماغ نے بھی آمادگی کا اظہار کیا اور فوراً اس موضوع پر چند تجربات کو شیئر کرنے کے لئے synopsis تیار کرکے اس مضمون کو آپ لوگوں کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کیا ہوں۔

    میں سمجھتا ہوں نکاح سے پہلے اور بعد کے کورسز اسلامی اور عمومی دونوں حوالوں سے قابل قدر ہیں۔ اسلام میں، اس طرح کے کورسز اکثر بات چیت، باہمی احترام، اور شادی کے اندر کرداروں اور ذمّہ داریوں کو سمجھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ وہ نکاح، خاندان، اور باہمی تعلقات سے متعلق اسلامی اصولوں کا بھی احاطہ کرسکتے ہیں۔

    عام نقطۂ نظر سے، یہ کورسز نکاح کے لیے ایک مضبوط بنیاد بنانے، مؤثر مواصلت، تنازعات کے حل، مالیاتی انتظام، اور قربت جیسے موضوعات کو حل کرنے کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں۔ وہ جوڑوں کو چیلنجوں کو نیویگیٹ کرنے اور صحت مند تعلقات استوار کرنے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں۔

    نکاح کے بعد کے کورسز اسلامی اصولوں کی روشنی میں ایک کامیاب اور مستحکم اَزدواجی تعلقات کو فروغ دینے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں۔ سب سے پہلی ضرورت تو یہ ہے کہ شوہر اور بیوی کو اَزدواجی زندگی کے اسلامی احکام بتائے جائیں۔ ان کورسز میں عموماً مسئلے جیسے کہ اخلاقی اصول، رشتہ داروں کے ساتھ برتاؤ، احترام، اور متفقہ اخلاقی اور معاشرتی ضوابط پر زور دیا جانا چاہیے۔ ان معاملات کو سمجھنے اور عمل میں لانے کے لئے گائیڈنس فراہم کی جانی چاہیے۔ اس کے علاؤہ، ان کورسز میں محبت، تعلقات کی حفاظت، اور زندگی کے مختلف حل و ترکیبات پر بھی بات چیت ہونی چاہیے۔

    ان کورسز میں ان اسلامی تعلیمات کو بھی شامل کیا جانا چاہیے، جیسے کہ نکاح کے حقوق اور فرائض، خاندانی معاشرتی نظام وغیرہ۔ ان کورسز کا مقصد ایک مضبوط اور متعلقہ اَزدواجی زندگی کی بنیاد رکھنا ہونا چاہیے، جو اسلامی اصولوں اور عمومی اصولوں کی روشنی میں ممکن ہوتا ہے۔

    نکاح سے پہلے اور بعد کے کورسز، اسلامی اور عمومی دونوں نقطۂ نظر سے، جوڑوں کو نکاح کے سفر کے لیے تیار کرنے اور اس کے چیلنجوں سے نمٹنے میں ان کی مدد کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہاں ایک نظر یہ ہے کہ یہ کورس کس طرح افراد کو دونوں نقطۂ نظر سے فائدہ پہنچا سکتے ہیں:

  اسلامی نقطۂ نظر:

     نکاح سے پہلے اور بعد کا کورس اسلامی تناظر میں بہت اہم ہے۔ اَزدواجی زندگی کا خوشنما اور دل ربا خاکہ ان کے قلب و ذہن میں پیوست کیا جائے اور حقیقتاً یہ رشتہ ہے بھی بہت خوبصورت و مرغوب الطبع۔ زندگی کی بہار اور اس کی بے شمار مسرتیں، اس رشتے سے وابستہ ہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر سے نکاح سے پہلے کے کورسز میں اخلاقی اصول، نکاح کے اہمیت، نکاح کی تیاری، اور نکاح کے حقوق اور فرائض کی تعلیم، اسلامی تعلیمات کے مطابق شوہر بیوی کے اخلاقی اور شرعی  حقوق اور ذمّہ داریاں، نکاح میں بات چیت اور تنازعات کے حل کی اہمیت، اور ازدواجی رشتے میں مضبوط روحانی تعلق کو برقرار رکھنے کی اہمیت جیسے موضوعات کا احاطہ کیا جانا چاہیے۔

    نکاح کے بعد کورس میں اَزدواجی زندگی کی تربیت، اخلاقی اور معاشرتی مسائل، اور ان کا حل شامل ہونا چاہئے۔ اس میں محبت، احترام، اور صبر کی اہمیت پر بھی گفتگو ہونی چاہیے۔ اللّٰہ کا فرمان ہے:

"اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں"۔ (سورۃ الروم: 21)

    اسلامی تناظر میں، ان کورسز کا مقصد اَزدواجی زندگی میں اخلاقی، معاشرتی، اور دینی اصولوں کو اہمیت دینا اور مضبوط اور مستقل رشتے بنانے کی مدد کرنا ہونا چاہیے۔

    - یہ کورسز اسلامی عائلی قانون میں بھی شامل ہو سکتے ہیں، جس میں نکاح کے جائز معاہدے کی شرائط اور تقاضے، اسلام میں شوہر بیوی کے حقوق، اور خاندانی اکائی میں باہمی احترام اور تعاون کی اہمیت شامل ہیں۔

    - نکاح کے بعد کے کورسز اسلامی اصولوں کی بنیاد پر ایک کامیاب اَزدواجی تعلقات استوار کرنے، جوڑوں کو درپیش عام مسائل جیسے کہ مالی انتظام، بچّوں کی پرورش، اور مذہبی ذمّہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے صحت مند کام اور زندگی کا توازن برقرار رکھنے کے لیے رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔

    - اسلامی نقطۂ نظر مذہبی اسکالرز اور سرپرستوں سے علم اور رہنمائی حاصل کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیتا ہے جو ازدواجی سفر کے دوران مشورہ اور مدد فراہم کر سکتے ہیں۔

  عام نقطۂ نظر:

    - عام نقطۂ نظر سے نکاح سے پہلے کے کورسز تعلقات استوار کرنے کی مہارتوں، مواصلت کی مؤثر حکمت عملیوں، تنازعات کے حل کی تکنیکوں، اور جذباتی ذہانت پر توجہ مرکوز کر سکتے ہیں۔

    - یہ کورسز جوڑوں کو اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے اور چیلنجوں کو مؤثر طریقے سے نیویگیٹ کرنے کے لیے عملی اوزار اور وسائل فراہم کر سکتے ہیں، مذہبی وابستگی سے قطع نظر۔

    - نکاح کے بعد کے کورسز میں مالی منصوبہ بندی اور بجٹ سازی، والدین کی مہارت، تناؤ کا انتظام، اور نکاح میں قربت اور رومانس کو برقرار رکھنے جیسے موضوعات کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔

    - عمومی تناظر کے کورسز میں نفسیات، سماجیات، اور دیگر متعلقہ شعبوں کی بصیرت کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے تاکہ نکاح کی حرکیات کی ایک جامع تفہیم فراہم کی جا سکے اور جوڑوں کو اپنے تعلقات میں ترقی کرنے میں مدد ملے۔

    مجموعی طور پر، نکاح سے پہلے اور بعد کے کورسز، چاہے وہ اسلامی یا عمومی نقطۂ نظر سے ہوں، جوڑوں کے لیے قابل قدر رہنمائی اور مدد فراہم کر سکتے ہیں جب وہ نکاح کے سفر کا آغاز کرتے ہیں، ان کی مدد کرتے ہوئے ایک خوشگوار اور بھرپور ازدواجی زندگی کے لیے ایک مضبوط بنیاد قائم کرتے ہیں۔

    اسلامی تعلیمات میں شوہر بیوی کے حقوق اور ذمّہ داریوں کے بارے میں واضح اور مختصر احکام شامل ہیں۔ چند اہم حقوق اور ذمّہ داریاں مندرجہ ذیل ہیں:

   اسلامی تعلیمات میں محبت اور احترام کی اہمیت کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کا احترام کرنا اور محبت کرنا اسلامی اقدار کا بنیادی اصول ہے۔ ایک دوسرے کی خوشی اور خوشحالی کو مدِنظر نظر رکھنا اور ان کی زندگی کو آسان بنانا ان کی بنیادی ذمّہ داریاں ہیں۔ نکاح میں بات چیت اور تنازعات کے حل کے لئے احترام اور محبت کی روشنی میں بات کرنا اور ایک دوسرے کی بات سننا اور سمجھنا اہم ہوتا ہے۔

    شوہر کو اپنی بیوی کی نفقہ اور روزی کا خیال رکھنا اور ان کی معیشت کا خرچ اپنے ذمّہ میں لینا اسلامی ضوابط کے مطابق اہمیت کی حامل ہے۔

   شوہر کو اپنی بیوی کی حفاظت اور دیکھ بھال کرنے کا ذمّہ دار ہونا چاہیے۔ اسلامی تعلیمات میں زن کی حفاظت کو بہت بڑی اہمیت دی گئی ہے اور شوہر کو اپنی بیوی کی حفاظت کا ذمّہ دار مانا گیا ہے۔ اللّٰہ نے قرآن کریم میں مرد کو قوام قرار دیا ہے۔

    مرد عورتوں پر قوام ہیں‘ اس بنا پر کہ اللّٰہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے‘ اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللّٰہ کی حفاظت اور نگرانی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں۔ اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ خواب گاہوں میں ان سے علیحدہ رہو اور مارو‘ پھر اگر وہ تمہاری مطیع ہوجائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے لئے بہانے تلاش نہ کرو‘ یقین رکھو کہ اوپر اللّٰہ موجود ہے جو بڑا اور بالاتر ہے۔ اور تم لوگوں کو کہیں میاں اور بیوی کے تعلقات بگڑنے کا اندیشہ ہو تو ایک حکم مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو‘ وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللّٰہ ان کے درمیان موافقت کی صورت پیدا کر دے گا‘ اللّٰہ سب کچھ جانتا اور باخبر ہے۔ (سورۃ النساء: 34)

   شوہر کو اپنے خاندان کی دیکھ بھال اور معاشرتی ذمّہ داریاں بھی سنبھالنی ہوتی ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں خاندانی اور معاشرتی معاملات کو سمجھایا گیا ہے اور شوہر کو اپنے خاندان کے معاملات میں مدد کرنا اور ان کی ترقی اور تعمیر کا سہارا دینا ان کی ذمّہ داری ہوتی ہے۔

    اسلامی تعلیمات میں شوہر اور بیوی کے درمیان محبت، احترام، اور امن و  سکون کے مفہوم کو اہمیت دی گئی ہے، اور دونوں کو اپنے اختیار و قدرت کے مطابق دیکھ بھال کرنے کی سمجھ دی گئی ہے۔

    اسلامی تعلیمات میں نکاح میں بات چیت اور تنازعات کے حل کی اہمیت کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ چند اہم وجوہات پیشِ نظر ہیں:

   اسلامی تعلیمات میں رشتہ داروں کے ساتھ اچھے روابط کی اہمیت کو سمجھایا جاتا ہے۔ شادی میں بات چیت اور تنازعات کے حل میں رشتہ داروں کی مدد اور مشورہ لینا اہم ہوتا ہے۔

    اسی طرح نکاح کرنے والوں کو چاہیے کہ والدین اور گھر والوں کی رضامندی کے ساتھ نکاح کا فیصلہ لیں، ان کو ناراض کرکے ازخود نکاح پر اقدام نہ کریں، یہ مناسب نہیں۔

    اسلامی تعلیمات میں عدل و انصاف کی اہمیت کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ نکاح میں بات چیت اور تنازعات کے حل میں انصاف کی بنیاد پر مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے۔

   اسلامی تعلیمات میں تواضع اور تسلیم کی اہمیت کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ نکاح میں بات چیت اور تنازعات کے حل میں اپنی غلطیوں کو ماننا اور دوسرے کی باتوں کو سمجھنے کی روشنی میں مسائل کا حل کیا جا سکتا ہے۔

    اسلامی تعلیمات کے مطابق، نکاح میں بات چیت اور تنازعات کے حل کرنے کی روشنی میں ایمانداری، احترام، اور محبت کی بنیاد پر مسائل کا حل کیا جا سکتا ہے۔

    اسلامی تعلیمات میں اَزدواجی رشتے کی مضبوطی اور روحانی تعلقات کی اہمیت کو بہت اہم مانا جاتا ہے۔ رشتے میں محبت، احترام، سکون، اور ایمانداری کا موازنہ رکھنا اور دوسرے کی خواہشات اور ضروریات کو سمجھنا اہم ہے۔ اس سے نہ صرف زندگی میں خوشیاں آتی ہیں بلکہ دونوں افراد کی روحانی ترقی اور معاشرتی بنیادیں بھی مضبوط ہوتی ہیں۔

    نکاح سے پہلے کی تدابیر:

    ایک دوسرے کے متعلق علم و فہم کا حاصل کرنا، ایک دوسرے کو سمجھنا اور اپنی پسند و ناپسند کا اظہار کرنا اہم ہے۔ دونوں زندگی کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کریں اور آپس میں اپنی توقعات اور مواقع کو مشترک کریں۔ تعلیمی اور کیریئر کے موازنے کو شادی کے پہلے ہی انجام دیں۔

    اہم خاندانی معلومات اور حالات کا جائزہ لیں، جیسے کہ اعلی تعلیم، عادات، اور قیمتی رشتے۔ دونوں افراد کو اپنے روحانی اور دینی مواقع کا اظہار کرنا چاہئے اور اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی کا طریقۂ کار تبادلہ کرنا چاہئے۔

    دونوں ایک دوسرے کے احترام اور معاشرتی حقوق کا پاس و لحاظ رکھیں۔ شوہر اور بیوی دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا چاہئے، جیسے کہ احترام، محبت، اور خوشیاں دینا۔ دونوں کو اسلامی و شرعی علم حاصل کرنا اور اسلامی قوانین کو سمجھنا اہم ہے۔ اسلامی اقدار کے مطابق روحانی تربیت حاصل کرنا اہم ہے۔

     نکاح کے بعد کی تدابیر:

    نکاح کے معاہدے کی متعلقہ شرائط اور تقاضے کو پورا کرنا اہم ہے، جیسے مہر اور دیگر تعلیمات۔ دونوں افراد کے درمیان احترام اور محبت کی بنیادوں پر مشترکہ زندگی گزارنا، دونوں خاندانوں کے درمیان محترمانہ تعلقات کی بنیادوں کو مضبوط کرنا، مسائل اور مشکلات کو مشترکہ طور پر حل کرنا اور ایک دوسرے کی حمایت کرنا بھی اہم ہے۔

    شوہر کو اپنی بیوی کی معاشرتی حقوق کی ادائیگی کرنا اور ان کے حقوق کا احترام کرنا ہے۔ شوہر کو اپنی بیوی کے نفقات یعنی گزر بسر کے جائز اور ضروری اخراجات کی فراہمی کرنا اور ان کی دولت کا حساب رکھنا۔ شوہر کو اپنی بیوی کی حمایت اور محبت کرنا اور ان کی خوشیوں کا خیال رکھنا ہے۔ شوہر کو اپنی بیوی کے ساتھ عدل اور انصاف کا سلوک کرنا ہے۔

    یہ تدابیر دونوں اسلامی اور عمومی معاشرتی ماحول میں نکاح کے معاہدے کی شرائط اور تقاضے کی تعمیر میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اسلامی حالتِ زندگی میں، نکاح سے پہلے اور بعد کا کورس کا تعلق زندگی کے مختلف حلقوں کے ساتھ ہونا چاہیے۔ نکاح سے پہلے کورس عموماً انقطاعی علوم (مثلاً قرآنی تعلیم، اخلاقیات، نکاح کے حقوق اور فرائض وغیرہ) پر مشتمل ہونا چاہیے، جب کہ نکاح کے بعد کورس زندگی کے مختلف پہلوؤں (جنسیات، اطاعت، محبت وغیرہ) پر مرکوز ہونا چاہیے۔ یہ کورس زندگی کو ایک اسلامی روشنی دینے کے لئے کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔ نکاح سے پہلے اور بعد کے کورس میں عمومی طور پر فرق ہوتا ہے۔ عموماً نکاح سے پہلے کورس زیادہ اخلاقی اور شرعی روابط پر مرکوز ہونا چاہیے جب کہ نکاح کے بعد کورس زندگی کی مشکلات، خوشیاں، اور روابط کی مضبوطی پر مرکوز ہونا چاہیے۔

    اس کورس کی ترتیب کے لئے اسلام کی تعلیمات سے آراستہ ایک بہترین تربیت کار اور عصرِ رواں میں رہنمائی و مشاورت کی جدید تکنیکوں سے واقفیت رکھنے والے افراد، ان سب باتوں کا لحاظ کرتے ہوئے ایسا تربیتی کورس بنا سکتے ہیں، جو مفید بھی ہو اور نہایت دلچسپ بھی۔
 
           •┅┄┈•※‌✤م✿خ✤‌※┅┄┈•
                     (25.04.2024)
       🍁مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
🏠 ال افشان، 7/4، شیلیش نگر، ممبرا،
       تھانہ- 400612، مہاراشٹر، الہند۔
📧masood.media4040@gmail.com
        Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
                      ○○○○○○○○○

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam