*••سیکولر سیاست، اسلامی اصطلاحات اور دینی اقدار••
*••سیکولر سیاست، اسلامی اصطلاحات اور دینی اقدار••*
*Secular Politics, Islamic Terminology, and Religious Values*
●🕯️༻حِکمتِ༺﷽༻نوری༺🕯️●
سیکولر سیاست، اسلامی اصطلاحات
اور دینی اقدار
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
یہ ہمارے عہد کا ایک نہایت افسوس ناک اور فکری طور پر تشویش ناک المیہ ہے کہ بعض ایسی سیکولر سیاسی جماعتیں، جو اپنے دستور، منشور اور عملی سیاست میں دین کو اجتماعی زندگی سے الگ رکھنے کی علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، عین انتخابی موسم میں اچانک مذہبی لبادہ اوڑھ لیتی ہیں۔ وہ جماعتیں جو عام دنوں میں مذہب کو "نجی معاملہ" قرار دیتی ہیں، ووٹ کی سیاست کے بازار میں داخل ہوتے ہی اسلامی اصطلاحات، قرآنی آیات، تکبیر، دعاؤں اور مذہبی شعائر کو ایک مؤثر انتخابی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے لگتی ہیں۔ یہ طرزِ عمل محض ایک سیاسی حکمتِ عملی نہیں بلکہ فکری تضاد (Intellectual Dishonesty) کی کھلی مثال ہے۔ ایک طرف دین کو اجتماعی نظم سے بے دخل کرنے کا اعلان، اور دوسری طرف اسی دین کے مقدس الفاظ اور شعائر کو عوامی جذبات بھڑکانے کے لیے استعمال کرنا۔ یہ رویّہ نہ دیانت کے دائرے میں آتا ہے اور نہ اصول پسندی کے۔ شرعی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ عمل شدید محلِ نظر بلکہ خطرناک نتائج کا حامل ہے، کیونکہ اس میں دین کو مقصد نہیں بلکہ ذریعہ بنا دیا جاتا ہے۔
قرآن مجید، جسے اللّٰہ تعالیٰ نے ہدایت، تزکیۂ نفس اور عدلِ اجتماعی کے قیام کے لیے نازل فرمایا، اسے محض انتخابی نعروں، پوسٹروں، جلسوں اور سوشل میڈیا کے مختصر کلپس تک محدود کر دینا، قرآن کے مقصدِ نزول کے ساتھ صریح ناانصافی ہے۔ قرآن کسی سیاسی منشور کا ضمیمہ نہیں، نہ ہی یہ کسی جماعت کی تشہیری مہم کا حصّہ بننے کے لیے آیا ہے۔ جب آیاتِ قرآنی کو ان کے سیاق و سباق سے کاٹ کر، ان کے مفہوم کو نظر انداز کر کے، صرف اس لیے دہرایا جائے کہ مجمع پر اثر پڑے یا مذہبی ووٹ بینک ہموار ہو جائے، تو یہ عمل درحقیقت کلامِ الٰہی کی روح سے کھلواڑ کے مترادف ہو جاتا ہے۔
مثال کے طور پر عدل، اخوت یا مظلوموں کی نصرت سے متعلق آیات کا حوالہ تو دیا جاتا ہے، مگر انہی جماعتوں کی عملی سیاست میں نہ عدل کی جھلک نظر آتی ہے، نہ اخلاقی جرأت اور نہ ہی مظلوم طبقات کے لیے مستقل اور مخلصانہ جدوجہد۔ یوں قرآن کے الفاظ تو زبان پر ہوتے ہیں، مگر قرآن کا مزاج، اس کی اقدار اور اس کا اخلاقی مطالبہ زندگی اور سیاست سے غائب رہتا ہے۔
فقہاء اور مفسرین نے صراحت کے ساتھ واضح کیا ہے کہ قرآن کا استعمال نیتِ صالح اور مقصدِ ہدایت کے بغیر کیا جائے تو وہ باعثِ اجر نہیں بلکہ بسا اوقات موجبِ مواخذہ بھی بن سکتا ہے۔ امام غزالیؒ اور دیگر اکابر اہلِ علم نے لکھا ہے کہ جو شخص دین کو دنیا کے حصول کا ذریعہ بنائے، وہ بظاہر کامیاب نظر آ سکتا ہے، مگر انجام کے اعتبار سے خسارے میں رہتا ہے۔ اس تناظر میں انتخابی فائدے کے لیے قرآن کا استعمال ایک ایسا عمل ہے جس میں وقتی سیاسی نفع تو ممکن ہے، مگر دینی اعتبار سے یہ روش شدید نقصان دہ ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ قرآن کا حوالہ دیا جا رہا ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا قرآن کو رہنمائی مانا جا رہا ہے، یا محض استعمال کیا جا رہا ہے؟ جب قرآن رہنمائی بن جائے تو سیاست میں عدل، شفافیت، دیانت اور جواب دہی خود بخود شامل ہو جاتی ہے؛ اور جب قرآن محض استعمال کی شے بن جائے تو وہ نعروں کی حد تک محدود ہو کر اپنی تاثیر کھو دیتا ہے۔ لہٰذا یہ طرزِ فکر نہ صرف دین کے تقدس کو مجروح کرتی ہے بلکہ عوام کو بھی فکری انتشار اور اخلاقی ابہام میں مبتلا کرتی ہے۔ ایک سنجیدہ، باشعور اور باوقار معاشرے میں اس رویّے پر خاموشی اختیار کرنا ممکن نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ دین کو یا تو پورے اخلاص کے ساتھ زندگی اور سیاست میں اصول و اقدار کے طور پر قبول کیا جائے، یا کم از کم اسے وقتی سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے سے باز رہا جائے کیونکہ قرآن کا مقام نعروں سے کہیں بلند اور مقدّس ہے۔
نام مسلمانوں کا، رنگ و رقص غیر اسلامی: تہذیبی خود سپردگی کا بحران
یہ ہمارے سماج کا ایک نہایت تشویش ناک پہلو ہے کہ بعض گروہ اور جماعتیں خود کو پوری اعتماد کے ساتھ مسلمانوں کی نمائندہ قرار دیتی ہیں، مگر جب ان کے طرزِ عمل، ترجیحات اور تہذیبی انتخاب کو پرکھا جائے تو وہاں اسلامی شناخت کی بجائے ایک واضح تہذیبی بے سمتی نظر آتی ہے۔ زبان پر مسلمانیت کا دعویٰ ہوتا ہے، مگر عمل میں ایسے مظاہر کو اپنایا جاتا ہے جو اسلام کے مزاج، اس کی اخلاقی روح اور اس کے تہذیبی وقار سے صریحاً متصادم ہیں۔ ناچ گانے، موسیقی و رقص کی محفلیں، ہولی کے گلال سے کھیلنا، مخلوط تقریبات میں بے تکلف شرکت اور غیر اسلامی رسوم کو فخر اور تشہیر کے ساتھ اختیار کرنا—ان سب کو جدید اصطلاحات میں "رواداری"، "ہم آہنگی" اور "ثقافتی اشتراک" کا خوش نما نام دے دیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ سوال اپنی پوری سنجیدگی کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ کیا تہذیبی سرحدوں کو مٹا دینا ہی رواداری ہے؟ یا اپنی شناخت پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کے حقوق اور جذبات کا احترام کرنا اصل ہم آہنگی ہے؟
اسلام نے کبھی تنگ نظری یا نفرت کی تعلیم نہیں دی، بلکہ اس نے مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے ساتھ حسنِ سلوک، عدل اور خیر خواہی کو بنیادی اصول قرار دیا ہے۔ سیرتِ نبویﷺ اس کی روشن مثال ہے؛ مدینہ کے یہودیوں اور دیگر غیر مسلم قبائل کے ساتھ معاہدات ہوئے، ان کے مذہبی حقوق محفوظ رکھے گئے، مگر اس پورے عمل میں اسلامی شناخت، عبادات اور تہذیبی امتیاز پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں اسلام احترام اور اختلاط کے درمیان واضح حد فاصل قائم کرتا ہے۔ قرآنِ کریم کا ارشاد
"لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ" محض ایک فقری اعلان نہیں، بلکہ تہذیبی شعور کا مکمل منشور ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دوسروں سے کٹ جائیں یا ان سے دشمنی مول لیں، بلکہ یہ ہے کہ ہر مذہب اور ہر تہذیب کی اپنی ایک شناخت اور حد ہوتی ہے، جس کا احترام اسی وقت ممکن ہے جب وہ حدیں واضح رہیں۔ جب یہ سرحدیں مٹنے لگتی ہیں تو نہ رواداری باقی رہتی ہے اور نہ ہی خودی بلکہ ایک ایسی فکری و تہذیبی دھند پیدا ہو جاتی ہے جس میں سچ اور شناخت دونوں گم ہو جاتے ہیں۔
مثال کے طور پر، اگر کوئی مسلمان رہنما یا جماعت کسی غیر مسلم تہوار میں تہذیبی شائستگی کے ساتھ شریک ہو کر ہمسایوں کے جذبات کا لحاظ کرے، مبارک باد دے یا سماجی خیر سگالی کا پیغام پہنچائے، تو یہ اسلام کی روح کے عین مطابق ہے۔ لیکن اگر وہی شرکت اس حد تک چلی جائے کہ مذہبی رسوم میں عملی شمولیت ہو، مخصوص مذہبی علامات کو فخر کے ساتھ اختیار کیا جائے، یا اسلامی شعائر کو پسِ پشت ڈال دیا جائے، تو یہ رواداری نہیں بلکہ تہذیبی خود سپردگی بن جاتی ہے۔ یہ رویّہ بالآخر ایک ایسی فکری غلامی کو جنم دیتا ہے جس میں اپنی تہذیب پسماندگی اور دوسروں کی تہذیب ترقی کی علامت سمجھ لی جاتی ہے۔ نتیجتاً نئی نسل کے سامنے ایک الجھا ہوا پیغام جاتا ہے: کہ مسلمان ہونا محض نام کا معاملہ ہے، اور تہذیبی وفاداری ایک قابلِ ترک شے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ایک زندہ تہذیب رفتہ رفتہ اپنے اندر سے کھوکھلی ہونے لگتی ہے۔
اسلام مسلمان سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ سماج سے کٹ کر رہے، بلکہ وہ یہ سکھاتا ہے کہ وہ اپنی شناخت کے ساتھ جئے، اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کے لیے خیر کا ذریعہ بنے۔ اصل ہم آہنگی اسی میں ہے کہ مختلف شناختیں باہم احترام کے ساتھ موجود رہیں، نہ یہ کہ سب رنگ ایک دوسرے میں گھل کر اپنی اصل کھو بیٹھیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے تہذیبی انتخاب پر سنجیدگی سے غور کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم رواداری کے نام پر وہ سب کچھ قربان کر بیٹھیں جو ہمیں ایک مستقل، باوقار اور صاحبِ شناخت امت بناتا ہے۔ کیونکہ جب شناخت مٹ جاتی ہے تو احترام بھی باقی نہیں رہتا، اور جب احترام ختم ہو جائے تو ہم آہنگی محض ایک خوش فہمی بن کر رہ جاتی ہے۔
علمائے کرام اور دانشورانِ ملت کی توہین: فکری افلاس کی نشانی
کسی بھی زندہ قوم کی پہچان اس کے بازاروں، عمارتوں یا سیاسی نعروں سے نہیں ہوتی، بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے اہلِ علم، فکری رہنماؤں اور درد مند دانشوروں کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے۔ یہ ایک نہایت تشویش ناک حقیقت ہے کہ ہمارے عہد میں ایسے افراد اور حلقے پیدا ہو گئے ہیں جو ملت کے سنجیدہ علماء اور باشعور دانشوروں کو محض اس لیے نشانہ بناتے ہیں کہ وہ وقتی جذبات کے بجائے اصولوں کی بات کرتے ہیں، اور مقبول نعروں کے بجائے حقائق کا سامنا کرنے کی جرأت رکھتے ہیں۔ یہ روش نہ اختلافِ رائے کی صحت مند روایت ہے اور نہ ہی فکری آزادی کا مظہر، بلکہ یہ کھلا ہوا فکری افلاس ہے۔
اسلام میں علم اور اہلِ علم کو جو مقام عطا کیا گیا ہے، وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ رسولِ اکرمﷺ کا یہ ارشاد کہ "العلماء ورثة الأنبياء"۔ محض ایک تعریفی جملہ نہیں بلکہ ایک ذمّہ داری کا اعلان ہے۔ انبیاء علیہم السلام نے جو میراث چھوڑی وہ اقتدار، دولت یا شہرت نہیں بلکہ ہدایت، بصیرت اور اخلاقی جرأت تھی۔ علما اسی میراث کے امین ہوتے ہیں، اس لیے ان کا احترام دراصل علم، حق اور امانتِ نبوت کا احترام ہے۔ یہ بات بجا ہے کہ علماء معصوم نہیں، ان کی آراء میں اختلاف ہو سکتا ہے، بلکہ اسلامی علمی روایت تو اختلافِ رائے کو فکری بالیدگی کی علامت سمجھتی ہے۔ ائمہ اربعہ کے درمیان فقہی اختلافات اس کی روشن مثال ہیں؛ مگر ان اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے لیے ادب، احترام اور حسنِ ظن کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑا گیا۔
امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے اختلافات نے امت کو تقسیم نہیں کیا بلکہ اس کی فکری وسعت میں اضافہ کیا۔ اس کے برعکس، آج کا المیہ یہ ہے کہ اختلاف کو دلیل کے بجائے تمسخر، طعن و تشنیع اور کردار کشی کے ہتھیار سے نمٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ہوں یا عوامی جلسے، سنجیدہ علمی نکات کو سطحی نعروں میں بدل دیا جاتا ہے، اور اہلِ علم کی نیت، ایمان اور وفاداری تک کو مشکوک بنا دیا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ دینی اخلاقیات سے ہم آہنگ ہے اور نہ ہی کسی مہذب معاشرے کی پہچان۔
مثال کے طور پر، جب کوئی عالمِ دین کسی سماجی یا سیاسی مسئلے پر شرعی اصولوں کی روشنی میں تنبیہ کرتا ہے، تو اس کے استدلال پر گفتگو کرنے کے بجائے اسے "فرسودہ"، "حکومتی ایجنٹ" یا "مفاد پرست" قرار دے دینا آج ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے دلائل سے مکالمہ کرنے کی صلاحیت کھو دی ہے اور شخصیات پر حملہ آور ہونے کو ہی فکری فتح سمجھنے لگے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب کسی قوم میں اہلِ علم کی توقیر باقی نہیں رہتی تو وہاں فکری انتشار جنم لیتا ہے۔ ہر شخص خود کو مرجعِ حق سمجھنے لگتا ہے، علمی نظم ٹوٹ جاتا ہے اور نتیجتاً اخلاقی زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن ہمیں بار بار اہلِ ذکر سے رجوع کی تلقین کرتا ہے، کیونکہ بغیر رہنماؤں کے قافلے راستہ بھٹک جایا کرتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ علماء اور دانشوروں کی خاموشی بعض اوقات بڑی قیمت پر حاصل ہوتی ہے، مگر ان کی بے توقیری اس سے بھی بڑا نقصان ہے۔ ایک عالم اگر غلطی کرے تو اس کی اصلاح ہونی چاہیے، مگر اصلاح کا راستہ ادب، دلیل اور خیر خواہی سے ہو کر گزرتا ہے، نہ کہ تضحیک اور تذلیل سے۔ آج ملت کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ شعور ہے کہ علم پر تنقید کی جا سکتی ہے، مگر اہلِ علم کی توہین نہیں؛ رائے سے اختلاف ہو سکتا ہے، مگر کردار کشی نہیں۔ جب تک یہ فرق زندہ رہے گا، تب تک امت میں فکری صحت، اخلاقی توازن اور اجتماعی وقار باقی رہے گا۔ اور جس دن ہم نے اپنے فکری رہنماؤں کا احترام کھو دیا، اس دن ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہم نے اپنی تہذیبی بنیادوں میں خود شگاف ڈال دیا ہے۔ جس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔
جیت کی خوشی یا اسلامی اقدار کی شکست؟
ہمارے زمانے کا ایک تلخ اور فکری طور پر چونکا دینے والا منظر یہ ہے کہ انتخابی کامیابی کے فوراً بعد موسیقی، گائیکی، رقص و سرور اور شور و ہنگامہ کو "جشنِ فتح" کا نام دے دیا جاتا ہے، گویا کامیابی کا اصل پیمانہ یہی ہے کہ انسان خود پر قابو کھو دے۔ یہ منظر بظاہر خوشی کا اظہار معلوم ہوتا ہے، مگر گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو یہ اس بات کا اعلان بن جاتا ہے کہ سیاسی معرکہ تو جیت لیا گیا، مگر اسلامی اقدار میدان میں پسپا ہو گئیں۔ اسلام کامیابی کو محض عددی برتری، اقتدار کے حصول یا وقتی غلبے سے تعبیر نہیں کرتا، بلکہ وہ اسے اخلاقی وقار، شکر گزاری اور ذمّہ داری کے احساس سے جوڑتا ہے۔ قرآنِ مجید کی تعلیم یہ ہے کہ نعمت ملنے پر سرکشی نہیں، بلکہ بندگی میں اضافہ ہونا چاہیے؛ فتح کے بعد غرور نہیں، بلکہ انکسار پیدا ہونا چاہیے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں اسلامی تصورِ کامیابی جدید سیاسی رویّوں سے یکسر مختلف نظر آتا ہے۔
سیرتِ نبویﷺ اس باب میں ہمارے لیے سب سے روشن اور ناقابلِ تردید مثال ہے۔ فتحِ مکّہ جیسا عظیم اور فیصلہ کن موقع آیا وہ دن جس پر صدیوں تک فخر کیا جا سکتا تھا۔ مگر اس لمحے نبی کریمﷺ کا سر اتنا جھکا ہوا تھا کہ آپ کی پیشانی اونٹنی کے کجاوے کو چھو رہی تھی۔ زبان پر تکبیر تھی، دل شکر سے لبریز تھا اور عمل میں عفو، رحمت اور ذمّہ داری کی عملی تصویر نمایاں تھی۔ نہ موسیقی تھی، نہ رقص، نہ شور؛ بلکہ خاموش عظمت، وقار اور اخلاقی فتح کا ایسا مظاہرہ تھا جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ اس کے برعکس، جب آج کسی انتخابی کامیابی کے بعد ناچ گانے، ڈھول تاشے، آتش بازی اور اخلاقی بے مہار پن کو فخر کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے، تو سوال صرف ذوق یا انداز کا نہیں رہتا، بلکہ اقدار کا بن جاتا ہے۔ اگر کامیابی ہمیں شکر گزار بنانے کے بجائے سرکش بنا دے، اگر اقتدار ہمیں جواب دہی کے بجائے خود نمائی سکھائے، تو پھر ایسی کامیابی درحقیقت اخلاقی شکست کے سوا کچھ نہیں۔
مثال کے طور پر، اگر کسی مسلم شناخت رکھنے والی جماعت یا قیادت کی فتح کے بعد اجتماعی دعا، شکرانے کے نوافل، عوامی خدمت کے عزم اور عدل و اصلاح کے وعدوں کا اعلان ہو، تو یہ اسلامی مزاج کے عین مطابق ہوگا۔ لیکن اگر اسی فتح کو موسیقی کی محفلوں، مخلوط رقص گاہوں اور غیر سنجیدہ تفریحات میں بدل دیا جائے، تو یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ یہ جشن کس تہذیب کا ہے اور اس میں اسلامی روح کہاں ہے؟ اسلام میں خوشی کے اظہار کی نفی نہیں، بلکہ اس کی تہذیب سکھائی گئی ہے۔ عیدین کے مواقع پر خوشی بھی ہے، مسرت بھی، مگر وہ خوشی پاکیزگی، وقار اور اخلاقی حدود کے اندر رہتی ہے۔ اسلامی خوشی دل کو زندہ کرتی ہے، حواس کو بے قابو نہیں بناتی؛ وہ انسان کو اللّٰہ سے قریب کرتی ہے، نہ کہ غفلت میں مبتلا۔
یہی وجہ ہے کہ یہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے: کیا ناچ گانا، شور و ہنگامہ اور اخلاقی بے راہ روی واقعی مسلمانیت کی علامت بن چکے ہیں؟ یا پھر ہم نے کامیابی کے نام پر وہ معیار اختیار کر لیے ہیں جو ہماری دینی روایت اور تہذیبی تاریخ سے میل نہیں کھاتے؟ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کامیابی کے مفہوم پر ازسرِنو غور کریں۔ اگر جیت کے بعد ہماری زبان پر شکر کے بجائے نعرے ہوں، دل میں ذمّہ داری کے بجائے سرور ہو اور عمل میں خدمت کے بجائے نمائش، تو یہ لمحہ جشن کا نہیں بلکہ خود احتسابی کا ہونا چاہیے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں جو فتح کے لمحے میں اپنی اقدار کھو دیتی ہیں، وہ زیادہ دیر تک اپنی فتوحات کو سنبھال نہیں پاتیں۔ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اصل جیت وہ ہے جو انسان کو اللّٰہ کے قریب، انسانوں کے لیے مفید اور اپنے ضمیر کے سامنے سرخرو بنا دے۔ اس کے سوا ہر جشن محض شور ہے اور شور ہمیشہ وقتی ہوتا ہے۔
سنجیدہ خود احتسابی کی ضرورت
یہ تمام مظاہر دین کے نام پر سیاست، تہذیبی خود سپردگی، اہلِ علم کی بے توقیری اور کامیابی کے نام پر اقدار کی پامالی اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مسلمان بحیثیتِ قوم ایک نازک فکری موڑ پر کھڑے ہیں۔ اب مسئلہ محض چند افراد یا جماعتوں کا نہیں رہا، بلکہ پوری امت کے دینی شعور، تہذیبی شناخت اور سیاسی ترجیحات ازسرِ نو جائزے کی طالب ہیں۔ یہ لمحہ جذباتی نعروں کا نہیں بلکہ سنجیدہ خود احتسابی کا ہے۔ اسلام کسی فرد یا جماعت کا محض شناختی لیبل نہیں، نہ ہی وہ چند مذہبی اصطلاحات یا انتخابی نعروں تک محدود ایک علامتی نظام ہے۔ اسلام ایک ہمہ گیر نظامِ حیات ہے جو انسان کے عقیدے سے لے کر اس کے کردار، اس کی نجی زندگی سے لے کر اس کے اجتماعی فیصلوں تک، ہر سطح پر اپنی رہنمائی پیش کرتا ہے۔ اگر اسلام ہمارے جلسوں کی زینت تو بنے، مگر ہمارے اخلاق، ہمارے فیصلوں اور ہماری سیاست میں نظر نہ آئے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے دین کو زندگی سے الگ کر دیا ہے—خواہ ہم اس کا اعتراف کریں یا نہ کریں۔
مثال کے طور پر، اگر کوئی مسلمان قیادت عدل و دیانت کی قرآنی تعلیمات کو زبان پر تو لائے، مگر اقتدار میں آ کر ناانصافی، اقربا پروری اور مصلحت پرستی کا شکار ہو جائے، تو یہ تضاد صرف سیاسی ناکامی نہیں بلکہ دینی بددیانتی بھی ہے۔ اسی طرح اگر ہم تہذیبی شناخت کے معاملے میں بار بار سمجھوتہ کریں اور اسے ترقی، ہم آہنگی یا مجبوری کا نام دے دیں، تو ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ سمجھوتے وقتی فائدے تو دے سکتے ہیں، مگر طویل مدّت میں ہماری اجتماعی روح کو کمزور کر دیتے ہیں۔ اسلام ہمیں یہ اصول بھی سکھاتا ہے کہ شکایت کا حق اسی کو ہے جو اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرے۔ اگر مسلمان خود اپنی اقدار سے دست بردار ہو جائیں، اگر ہم اپنے رویّوں میں وہی پیمانے اختیار کر لیں جن سے ہم دوسروں کو ناپتے ہیں، تو پھر حالات کی خرابی کا سارا ملبہ باہر والوں پر ڈال دینا نہ انصاف ہے اور نہ دیانت۔ قرآن کا اسلوب ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ اصلاح کا آغاز باہر سے نہیں، بلکہ اندر سے ہوتا ہے۔
آج سب سے بڑی ضرورت شعوری مسلمانیت کی ہے یعنی ایسا دین جو وراثت میں نہیں، شعور میں منتقل ہو؛ ایسا ایمان جو نعروں میں نہیں، کردار میں بولے؛ اور ایسی وابستگی جو مفاد کے موسم کے ساتھ بدل نہ جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ فکری دیانت بھی ناگزیر ہے، کہ ہم سچ کو تسلیم کرنے کی جرأت پیدا کریں، چاہے وہ سچ ہمارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اور ان سب کے اوپر دینی وقار کی بحالی ہے، کیونکہ وقار کے بغیر کوئی قوم نہ اپنا پیغام مؤثر انداز میں پیش کر سکتی ہے اور نہ ہی دوسروں کے دلوں میں احترام پیدا کر سکتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنی اقدار کو وقتی فتوحات کے بدلے قربان کیا، انہوں نے بالآخر نہ فتوحات سنبھال سکیں اور نہ ہی اپنی شناخت۔ آج اگر ہم جیت کے عارضی جشن میں مگن ہو کر ان بنیادی سوالات کو نظر انداز کر دیں، تو یہ جشن آنے والی نسلوں کے لیے مستقل خسارے کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ ایک ایسا خسارہ جس کی تلافی نہ نعروں سے ممکن ہوگی اور نہ ہی نئی سیاسی صف بندیوں سے۔ یہ وقت الزام تراشی کا نہیں، بلکہ آئینہ دیکھنے کا ہے۔ اگر ہم نے آج اپنی دینی بصیرت کو تازہ نہ کیا، اپنی تہذیبی حدود کو پہچاننے کی کوشش نہ کی اور اپنی سیاست کو اخلاقی اصولوں کے تابع نہ بنایا، تو کل تاریخ ہمیں ایک ایسی قوم کے طور پر یاد رکھے گی جس نے سب کچھ پایا، مگر خود کو کھو دیا۔ اسلام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی وہ نہیں جو وقتی شور کے ساتھ آئے، بلکہ وہ ہے جو ضمیر کے اطمینان، اللّٰہ کی رضا اور انسانیت کی خدمت کے ساتھ جڑی ہو۔ یہی خود احتسابی کی روح ہے، اور یہی اس دور میں ہماری سب سے بڑی ضرورت۔
🗓 (19.01.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○
Comments
Post a Comment