••کتاب سے رشتہ: فکری بقاء اور تہذیبی احیاء کی ناگزیر شرط••

*••کتاب سے رشتہ: فکری بقاء اور تہذیبی احیاء کی ناگزیر شرط••*
*The Relationship with Books: An Indispensable Condition for Intellectual Survival and Cultural Revival*
  ●🕯️༻حِکمتِ༺﷽༻نوری༺🕯️●

                    کتاب سے رشتہ
فکری بقاء اور تہذیبی احیاء کی ناگزیر شرط

         ✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
                    09422724040
            ┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

اسلام نے جس پہلی وحی کے ذریعے انسانیت کو شعور، علم اور فہم کی راہ دکھائی، اس کا پہلا ہی لفظ "اِقْرَأْ" تھا۔ یہ محض پڑھنے کا حکم نہ تھا بلکہ انسانی تاریخ کی سمت متعین کرنے والا ایک ہمہ گیر اعلان تھا کہ علم ہی انسان کی اصل پہچان، اس کی عزّت اور اس کی خلافتِ ارضی کی بنیاد ہے۔ قرآنِ مجید بار بار عقل کو جھنجھوڑتا، فکر کو بیدار کرتا اور علم کو ایمان کا لازمی تقاضا قرار دیتا ہے۔ رسولِ اکرمﷺ نے علم کو ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض قرار دے کر یہ واضح کر دیا کہ دینِ اسلام جہالت کے اندھیروں کا نہیں بلکہ کتاب و حکمت کے اجالوں کا دین ہے۔ کتاب، درحقیقت، اسی قرآنی فکر کی عملی علامت ہے۔ یہ وہ وسیلہ ہے جس کے ذریعے علم نسل در نسل منتقل ہوتا، تجربہ محفوظ رہتا اور انسانی شعور ارتقاء پاتا ہے۔ اسلامی تہذیب کی تاریخ اس حقیقت پر شاہد ہے کہ جب مسلمان کتاب سے وابستہ رہے تو وہ علم، تحقیق اور تہذیب کے امام بنے؛ اور جب کتاب سے رشتہ کمزور پڑا تو فکری زوال، اخلاقی انتشار اور اجتماعی کمزوری نے انہیں آ گھیرا۔ اس لیے کتاب سے تعلق محض ایک ثقافتی یا تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ دینی، فکری اور تہذیبی فریضہ ہے۔

کتاب انسان کو نہ صرف علم عطاء کرتی ہے بلکہ اسے تفکر فی الخلق، تدبر فی القرآن اور محاسبۂ نفس کی راہوں پر گامزن کرتی ہے۔ جبکہ علمی اعتبار سے کتاب تحقیق، تنقید، استدلال اور تخلیقی سوچ کو فروغ دیتی ہے۔ یہی وہ عناصر ہیں جو فرد کو پختہ، معاشرے کو متوازن اور قوم کو باوقار بناتے ہیں۔ کتاب انسان کو سطحیت سے نکال کر گہرائی، تعصب سے نکال کر بصیرت اور انتشار سے نکال کر فکری استحکام کی طرف لے جاتی ہے۔ زیرِ نظر مضمون اسی دینی و علمی پس منظر میں کتاب کی معنویت، اس کے تہذیبی کردار، اور انسانی و اجتماعی زندگی پر اس کے اثرات کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ تحریر محض کتاب کی تعریف نہیں بلکہ ایک فکری دعوت ہے؛ اس رشتے کی تجدید کی دعوت جو کبھی ہماری شناخت، ہماری قوت اور ہماری قیادت کا سرچشمہ تھا۔ اگر ہم نے کتاب سے اپنا تعلق پھر سے مضبوط کر لیا تو نہ صرف ہماری فکری سمت درست ہو سکتی ہے بلکہ ایک صحت مند، پُرامن اور باوقار معاشرے کی تشکیل بھی ممکن ہو سکتی ہے۔ یہی اس مضمون کا مقصد اور یہی اس کی روح ہے۔

کتاب محض کاغذ پر سیاہی کے چند نقش نہیں، بلکہ تہذیبوں کی حافظہ، قوموں کی فکری وراثت اور انسان کے شعور کی معراج ہے۔ یہی وہ خاموش استاد ہے جو نہ وقت کی قید مانتا ہے اور نہ حالات کی سختی سے گھبراتا ہے۔ کتاب انسان کو تہذیب و ثقافت کے لطیف رموز، دینی بصیرت کی گہرائی، معاشی فہم کی باریکی اور سائنسی علوم کی وسعت سے آشنا کرتی ہے۔ وہ فکر کے افق کو کشادہ کرتی، سوال اٹھانے کا سلیقہ سکھاتی اور جواب تک پہنچنے کی جستجو کو مہمیز دیتی ہے۔ اسی لیے کتاب انسان کی بہترین دوست کہلانے کی حق دار ہے، کہ کتابوں سے رشتہ رکھنے والا شخص کبھی تنہاء نہیں ہوتا؛ ہجوم میں بھی اس کے ساتھ ایک دنیا آباد رہتی ہے۔

کتاب کی رفاقت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ مفاد، موسم اور مزاج کی تبدیلی سے بے نیاز رہتی ہے۔ جب وقت کی گرد دوستوں کو جدا کر دیتی ہے اور حالات کے نشیب و فراز عزیزوں کو دور لے جاتے ہیں، تب بھی کتاب خاموشی سے انسان کے پاس بیٹھی رہتی ہے، اس کا ہاتھ تھامے رکھتی ہے اور اسے ٹوٹنے نہیں دیتی۔ وہ غم کے لمحوں میں تسلی بنتی ہے، تنہائی میں ہم نشین اور اضطراب میں رہنما ثابت ہوتی ہے۔ اگرچہ عصرِ حاضر میں ٹی وی، انٹرنیٹ، موبائل فون اور سوشل میڈیا نے انسانی توجہ کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے اور لمحہ بہ لمحہ بدلتے مناظر نے ذہنوں کو منتشر کر دیا ہے، مگر اس شور و غوغا کے باوجود کتاب کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ کتاب آج بھی یکسوئی، گہرائی اور فکری استحکام کی علامت ہے۔ اس کا مطالعہ سطحی معلومات کے انبار کے بجائے سوچنے، سمجھنے اور نتیجہ اخذ کرنے کی تربیت دیتا ہے؛ وہ صلاحیت جو کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔

یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ نئی نسل میں کتب بینی کا رجحان بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے۔ بچّوں کو مطالعے کی طرف مائل کرنا والدین اور اساتذہ دونوں کے لیے ایک مشکل چیلنج بن چکا ہے۔ حالانکہ نفسیات کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ مطالعہ بچّوں کی ذہنی صحت کے لیے ناگزیر ہے۔ اچھی کتابیں نہ صرف ذہنی دباؤ، بے چینی اور احساسِ تنہائی سے بچاتی ہیں بلکہ تخیل کو وسعت دیتی، جذبات کو توازن عطاء کرتی اور شخصیت کو نکھارتی ہیں۔ کتاب بچّوں کو فضول اور نقصان دہ مشاغل سے دور رکھ کر انہیں تعمیری سوچ، اخلاقی قدروں اور مثبت طرزِ فکر کی طرف لے جاتی ہے۔ وہ انہیں لفظوں سے محبت، خیال سے رفاقت اور علم سے وابستگی سکھاتی ہے۔ درحقیقت کتاب سے دوستی کا مطلب ایک روشن مستقبل سے دوستی ہے؛ ایسا مستقبل جو شعور، تہذیب اور انسان دوستی کی بنیادوں پر استوار ہو۔ اسی لیے قوموں کی زندگی میں کتاب کا چراغ جلتا رہے تو زوال کی تاریکی کبھی مستقل نہیں ہو سکتی۔

آج کا نوجوان جب مطالعے سے پہلو تہی اختیار کرتا ہے تو دراصل وہ اپنے ماضی کی جڑوں سے کٹتا اور مستقبل کی سمت سے محروم ہوتا چلا جاتا ہے۔ جو نسل اپنی فکری تاریخ سے ناواقف ہو، اس کے خواب بھی کھوکھلے اور منصوبے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ کتاب محض دل بہلانے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان کی بہترین دوست، خاموش رفیق اور علم و آگہی کا ایسا خزانہ ہے جو جتنا لٹایا جائے اتنا ہی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ کتاب انسان کو صرف معلومات ہی فراہم نہیں کرتی بلکہ اسے سوچنے کا سلیقہ، سوال اٹھانے کی جرأت اور سچ تک پہنچنے کی لگن عطا کرتی ہے۔

اکثر لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ مطالعے کا شوق تو دل میں موجود ہے، مگر کتاب اب عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہے۔ یہ شکایت اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے، مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کتاب اور انسان کا رشتہ صدیوں پر محیط ہے۔ یہ وہ رشتہ ہے جس نے انسان کے علم و ہنر کو جِلا بخشی، اس کی ذہنی استعداد کو وسعت دی اور اسے خود آگاہی کے نور سے منور کیا۔ کتاب نے انسان کو اپنے باطن سے مکالمہ کرنے اور اپنے گرد و پیش کے حالات و واقعات کو سمجھنے کا شعور عطاء کیا۔ کتاب سے دوستی کا مطلب محض الفاظ پڑھنا نہیں بلکہ شعور کی نئی منزلوں، فکر کے نئے زاویوں اور بصیرت کے تازہ دریچوں سے آشنا ہونا ہے۔

جس طرح ہوا اور پانی کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں، اسی طرح کتاب کے بغیر انسانی بقاء اور ارتقاء کا خواب ادھورا ہے۔ کتاب نے نہ صرف علم کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کیا بلکہ انسانی سوچ کو وسعت اور گہرائی عطاء کی۔ جب دنیا تحریر کے فن سے واقف ہوئی تو انسان نے اظہار کے لیے ہر ممکن وسیلہ آزمایا۔ اس نے چٹانوں پر نقش و نگار تراشے، درختوں کی چھال، جانوروں کی ہڈیاں اور کھالیں، کھجور کے پتے، ہاتھی دانت اور کاغذ غرض ہر وہ شے استعمال کی جس پر دل کی بات رقم کی جا سکتی تھی۔ یہی تحریریں وقت کے سینے میں محفوظ ہو کر کتابوں کی صورت ڈھل گئیں اور نسل در نسل منتقل ہوتی رہیں۔

کتابوں کی داستان بھی عجیب اور دردناک ہے۔ کبھی جہالت کے خوف سے انہیں نذرِ آتش کیا گیا، کبھی تعصب کے ہاتھوں دریا برد کر دیا گیا، کبھی لوٹ لیا گیا اور کبھی زمین میں دفنا دیا گیا۔ مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کتاب ہر دور میں زندہ رہی۔ طاقت کے ایوان بدل گئے، سلطنتیں مٹ گئیں، مگر کتاب نے انسانی حافظے میں اپنی جگہ قائم رکھی۔ یہی اس کی قوت ہے اور یہی اس کی عظمت۔ دراصل کتاب کو مٹانے کی ہر کوشش نے اسے مزید طاقت ور بنا دیا، کیونکہ علم کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو دوبارہ کتاب سے جوڑا جائے، اسے یہ احساس دلایا جائے کہ مطالعہ محض شوق نہیں بلکہ فکری بقاء کی شرط ہے۔ کتاب سے رشتہ مضبوط ہو جائے تو انسان نہ ماضی سے کٹتا ہے، نہ حال میں بھٹکتا ہے اور نہ مستقبل کے اندھیروں سے خوف زدہ ہوتا ہے۔ کتاب انسان کو انسان بناتی ہے، اور یہی اس کی سب سے بڑی معنویت ہے۔

کتاب کی تقدیر بھی انسانی تاریخ کی طرح عجیب نشیب و فراز سے گزری ہے۔ کبھی یہ شاہی درباروں کی زینت بنی، سونے کے ورق میں لپٹی ہوئی اہلِ اقتدار کے ہاتھوں میں گردش کرتی رہی، اور کبھی یہی کتابیں فٹ پاتھوں پر کوڑیوں کے دام فروخت ہوئیں، بے قدری اور بے توجہی کی گرد میں اَٹتی رہیں۔ مگر حالات کی اس تبدیلی کے باوجود ایک حقیقت اٹل رہی کہ کتاب اور علم سے دوستی ہی معاشی خوشحالی، فکری بالیدگی اور معاشرتی امن کی سب سے مضبوط ضمانت ہے۔ تاریخ کا بے لاگ فیصلہ یہی ہے کہ جس قوم نے علم و تحقیق سے منہ موڑا، وہ رفتہ رفتہ پستی، غلامی اور انتشار کے گڑھے میں جا گری۔

مسلم اُمّہ کا زوال اس تاریخی صداقت کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ ساتویں صدی سے تیرہویں صدی تک بغداد علم و حکمت کا عالمی مرکز رہا۔ بیت الحکمتہ جیسے عظیم علمی ادارے نے فلسفہ، طب، ریاضی، فلکیات اور دیگر علوم کو نئی جہتیں عطاء کیں۔ مگر جب سقوطِ بغداد کا المیہ پیش آیا تو صرف ایک شہر نہیں گرا، بلکہ صدیوں پر محیط علمی وراثت بھی خاک و خون میں لت پت ہو گئی۔ مسلمانوں کے عظیم کتب خانے دریائے فرات میں بہا دیے گئے۔ یہ ذخیرہ اس قدر وسیع اور قیمتی تھا کہ روایات کے مطابق دریا کا پانی کتابوں کی سیاہی سے سیاہ ہو گیا۔ یہ محض ایک شہر کی تباہی نہیں تھی بلکہ علم دشمنی کی ایک ایسی داستان تھی جس کے اثرات صدیوں تک محسوس کیے گئے۔

اسی طرح اندلس، جو علم و تہذیب کا روشن مینار تھا، پندرہویں صدی کے اواخر میں جب اسلامی حکومت کے خاتمے سے دوچار ہوا تو غرناطہ کی عظیم لائبریری بھی تعصب کی آگ کی نذر کر دی گئی۔ ملکہ ازابیلا کے حکم پر جلائی جانے والی وہ کتابیں صرف کاغذ کے اوراق نہ تھیں، بلکہ انسانی فکر، تحقیق اور تہذیبی ارتقاء کی زندہ شہادتیں تھیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مسلمان کتابیں پڑھتے تھے، انہیں محفوظ کرتے تھے اور علم کو عبادت کا درجہ دیتے تھے۔ مگر آہستہ آہستہ جب علم سے دوری اختیار کی گئی تو عزّت کی جگہ ذلت اور قیادت کی جگہ محکومی نے لے لی۔

آج کی دنیا کا منظرنامہ اس حقیقت کو مزید واضح کر دیتا ہے۔ دنیا کے اٹھائیس ایسے ممالک ہیں جہاں سب سے زیادہ کتابیں فروخت ہوتی ہیں، مگر افسوس کہ ان میں ایک بھی مسلمان ملک شامل نہیں۔ یہ اعداد و شمار محض معاشی یا تجارتی حقیقت نہیں بلکہ فکری زوال کا آئینہ دار ہیں۔ مسلمان اپنی علمی شان بھلا بیٹھے، اور اہلِ یورپ نے مسلمانوں کے علمی مراکز بالخصوص ہسپانیہ کے مدارس اور کتب خانوں سے استفادہ کر کے تحقیق، سائنس اور فلسفے کی نئی دنیا آباد کی۔ ہمارے آباؤ اجداد کی علمی محنت آج بھی یورپ کی عظیم لائبریریوں میں محفوظ ہے۔ لندن کی ایک لائبریری میں تقریباً چھ لاکھ کے قریب وہ کتابیں موجود ہیں جو عربی، فارسی، ترکی اور اردو جیسی مشرقی زبانوں میں لکھی گئیں۔ اسی طرح پیرس کی لائبریریوں میں بھی مشرقی علوم کا ایک قیمتی ذخیرہ محفوظ ہے۔ یہ کتابیں گواہی دیتی ہیں کہ مسلمان کبھی علم کے معمار تھے، مگر اب اپنی ہی میراث سے غافل ہو چکے ہیں۔

بلاشبہ کتاب انسانی زندگی پر گہرے اور مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ ادب انسان کے مزاج میں نرمی، برداشت اور توازن پیدا کرتا ہے۔ مطالعہ سوچ کو گہرائی، زبان کو شائستگی اور رویوں کو اعتدال عطاء کرتا ہے۔ آج اگر بچّوں اور نوجوان نسل میں مطالعے کا شوق پیدا کیا جائے، کتاب کو پھر سے زندگی کا حصّہ بنایا جائے اور علم کو محض نصاب تک محدود نہ رکھا جائے تو معاشرے میں پھیلتی ہوئی شدّت پسندی، عدم برداشت اور فکری تنگ نظری میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ درحقیقت کتاب صرف فرد کو نہیں سنوارتی، بلکہ قوموں کی تقدیر بدلتی ہے۔ جس دن ہم نے کتاب سے اپنا رشتہ دوبارہ جوڑ لیا، اسی دن زوال کی شب ختم اور احیاء کی سحر کا آغاز ہو جائے گا۔

آخر میں یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہے کہ کتاب سے رشتہ محض ذوقِ مطالعہ یا علمی شغل کا نام نہیں، بلکہ یہ ایمان، شعور اور تہذیب کی بقاء کا سوال ہے۔ قرآنِ حکیم نے جن لوگوں کو اہلِ علم قرار دیا، انہیں خشیتِ الٰہی، بصیرتِ قلب اور ذمّہ دارانہ کردار کا حامل بتایا۔ رسولِ اکرمﷺ کی سنّت اور صحابۂ کرامؓ کی عملی زندگی اس بات کی شاہد ہے کہ علم اور عمل، کتاب اور کردار، فکر اور اخلاق جب یکجا ہو جائیں تو انسان فرد نہیں رہتا، ایک زندہ پیغام بن جاتا ہے۔ اس لیے کتاب سے دوری دراصل اس فکری و روحانی وراثت سے دوری ہے جس نے ہمیں انسانیت کی رہنمائی کا منصب عطا کیا تھا۔

آج اُمّتِ مسلمہ اور بالخصوص ہماری نئی نسل ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف معلومات کا سیلاب ہے مگر بصیرت کی قلت، اور دوسری طرف سہولتیں بے شمار ہیں مگر فکری گہرائی ناپید۔ اس صورتِ حال میں کتاب ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو علم کو حکمت میں، معلومات کو شعور میں اور طاقت کو ذمّہ داری میں بدل سکتی ہے۔ دینی اعتبار سے مطالعہ تدبر، تفکر اور محاسبے کی بنیاد ہے، جب کہ علمی نقطۂ نظر سے یہی مطالعہ تحقیق، اجتہاد اور تخلیقی عمل کا دروازہ کھولتا ہے۔ اگر ہم نے اس نعمت سے غفلت برتی تو ہم نہ صرف دنیا میں پیچھے رہ جائیں گے بلکہ اپنی دینی ذمّہ داریوں سے بھی کوتاہی کے مرتکب ہوں گے۔

یہ تذکیر محض ایک نصیحت نہیں بلکہ ایک اجتماعی دعوت ہے۔ والدین کے لیے کہ وہ گھروں میں کتاب کو عزّت دیں، اساتذہ کے لیے کہ نصاب کے ساتھ ذوقِ مطالعہ بھی پیدا کریں، اور نوجوانوں کے لیے کہ وہ اسکرین کی عارضی چمک کے بجائے کتاب کی دائمی روشنی کا انتخاب کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ذہنی انتشار کو فکری استحکام، جذباتی شدت کو اعتدال اور سماجی بے چینی کو امن میں بدل سکتا ہے۔ اگر ہم واقعی اپنی کھوئی ہوئی علمی عظمت، تہذیبی وقار اور اخلاقی قیادت کو واپس دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کا آغاز کسی نعرے یا جذباتی دعوے سے نہیں، بلکہ کتاب کے ساتھ ازسرِ نو رشتہ استوار کرنے سے ہو گا۔ یہی کتاب ہمیں ماضی کی جڑوں سے جوڑتی، حال کی سمت درست کرتی اور مستقبل کے لیے ایک روشن افق فراہم کرتی ہے۔ جس دن کتاب ہماری ترجیح بن گئی، اسی دن فکری زوال کی زنجیریں ٹوٹنا شروع ہو جائیں گی۔ یہی اس مضمون کی آخری صدا، یہی اس کی فکری امانت اور یہی اس کی تذکیری روح ہے۔

🗓 (07.01.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
                      ○○○○○○○○○

*کتاب سے رشتہ فکری بقاء*
*اور تہذیبی احیاء کی ناگزیر شرط*

*ازقلم:۔مسعود محبوب خان (ممبئی)*
09422724040 

https://alhilalmedia.com/archives/27324

https://tolurdunews.com/کتاب-سے-رشتہ-فکری-بقاء-اور-تہذیبی-احیاء/

https://www.urduaction.com/daily-urdu-action-bhopal-07-01-2026-3-3/

https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjC86b14VYNZas83qfTgwDekaUob6m5Ezdwr8CToxPTKPcfXcGiPa1kcIzXrmTaFlPGAjL5UwzIU6aZXenF04Fx7FfxLL6xXumY582LoHlJf12NSywyDZ7wN0SFZAMZJ9hnJUg8QxUOiZW4fyeC-3-GRNVECmupPKUw-vYZr7FgXGQVoL5OMmND4kMrL3I/s3613/Page%2003.jpg

NANDED TIMES: NANDED TIMES URDU DAILY 10 JAN 2026 Page 3 https://share.google/0C3ydVEu8vIVCPMA7

10-12-2026 (3).jpg (1745×2800) https://share.google/r8Tb4Ps7RuXbLFpMs

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam