••شریکِ حیات یا گھریلو ملازمہ؟ اسلامی تصورِ نکاح اور جدید عدالتی موقف••

*••شریکِ حیات یا گھریلو ملازمہ؟ اسلامی تصورِ نکاح اور جدید عدالتی موقف••*
*Life Partner or Domestic Servant?
The Islamic Concept of Marriage and the Modern Judicial Perspective*
  ●🕯️༻حِکمتِ༺﷽༻نوری༺🕯️●

         شریکِ حیات یا گھریلو ملازمہ؟
اسلامی تصورِ نکاح اور جدید عدالتی موقف

         ✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
                    09422724040
            ┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

تلنگانہ ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے نے ازدواجی زندگی کے ایک نہایت حساس مگر اہم پہلو کو عدل و فہم کی روشنی میں واضح کر دیا ہے۔ عدالت نے صاف لفظوں میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایسے حالات میں جہاں شوہر اور بیوی دونوں عملی زندگی میں برابر کے شریک اور ملازمت پیشہ ہوں، محض اس بنیاد پر کہ بیوی شوہر کے لیے کھانا نہیں پکاتی یا گھریلو امور میں پہلے جیسی ذمّہ داری ادا نہیں کر پاتی، اسے ذہنی ظلم کے زمرے میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ مزید یہ کہ ایسے اسباب کو طلاق یا ازدواجی رشتے کے خاتمے کے لیے قانونی جواز بنانا بھی درست نہیں۔

یہ فیصلہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ازدواجی رشتہ جامد رسموں کا نہیں بلکہ بدلتے ہوئے حالات، مشترکہ ذمّہ داریوں اور باہمی فہم و احترام کا نام ہے۔ جہاں دونوں شریکِ حیات اپنی توانائیاں معاشی جدوجہد میں صرف کر رہے ہوں، وہاں گھریلو زندگی کا نظام محض یک طرفہ توقعات پر نہیں بلکہ تعاون، تقسیمِ کار اور انسانی قدروں پر استوار ہونا چاہیے۔ عدالت کا یہ فیصلہ دراصل عورت کو گھریلو فرائض کی علامت تک محدود کرنے کے بجائے اسے ایک باوقار، خودمختار اور برابر کے شریک کے طور پر تسلیم کرنے کی آئینی اور اخلاقی توثیق ہے، اور اسی میں جدید معاشرے کے لیے انصاف اور توازن کا پیغام مضمر ہے۔

تلنگانہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کا تعلق سماجی انصاف، بدلتے ہوئے خاندانی ڈھانچے اور صنفی توازن سے ہے۔ اگر اس کو اسلامی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو چند بنیادی اصولوں کی روشنی میں معاملہ بالکل واضح ہو جاتا ہے:

●- اسلامی تصورِ نکاح محض دو افراد کے درمیان طے پانے والا ایک قانونی معاہدہ نہیں، بلکہ یہ دلوں کے اتصال، روحوں کی ہم آہنگی اور زندگی کے سفر میں باہمی رفاقت کا ایک مقدّس عہد ہے۔ قرآنِ حکیم نے سورۃ الروم آیت نمبر21 میں ازدواجی رشتے کی حقیقت کو نہایت جامع اور بلیغ انداز میں بیان کرتے ہوئے فرمایا: "وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَوَدَّةً وَرَحْمَةً" (اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی)۔ یہ مختصر مگر معنی خیز آیت نکاح کے پورے فلسفے کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہاں مودّت محض وقتی کشش یا جذباتی وابستگی کا نام نہیں، بلکہ وہ شعوری محبت ہے جو احترام، وفاداری اور دل کی گہرائیوں سے اُٹھنے والے خلوص پر قائم ہوتی ہے۔ اسی طرح رحمت اس کیفیت کا نام ہے جو کمزوریوں پر پردہ ڈالنے، لغزشوں کو درگزر کرنے اور ایک دوسرے کے بوجھ کو اپنے کندھوں پر اٹھانے کا حوصلہ عطاء کرتی ہے۔

اسلام ازدواجی زندگی کو حقوق اور فرائض کی خشک فہرست میں مقید نہیں کرتا، بلکہ اسے سکونِ قلب، ذہنی آسودگی اور اخلاقی سہارے کا ذریعہ بناتا ہے۔ نکاح کا مقصد یہ نہیں کہ میاں بیوی ایک دوسرے سے حساب لیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے راحت، سہارا اور امن کا سبب بنیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے ازدواجی رشتے کو سکون سے تعبیر کیا ہے، یعنی وہ فضا جہاں انسان دنیا کی تھکن، فکری اضطراب اور زندگی کی سختیوں سے پناہ پاتا ہے۔ یوں اسلام کے نزدیک کامیاب ازدواجی زندگی کی بنیاد محض کاموں کی تقسیم یا ذمّہ داریوں کی فہرست نہیں، بلکہ محبت کی حرارت اور رحمت کی وسعت ہے۔ جب رشتہ اس روح کے ساتھ قائم ہوتا ہے تو حقوق خود بخود ادا ہوتے ہیں اور فرائض بوجھ نہیں بلکہ عبادت بن جاتے ہیں۔ یہی نکاح کا وہ متوازن، انسانی اور فطری تصور ہے جو ہر دور اور ہر معاشرے کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

●- اسلامی فقہ نے ازدواجی زندگی کو عدل، وقار اور فطری توازن کے اصولوں پر قائم کیا ہے، اسی لیے اس نے شوہر اور بیوی کے حقوق و فرائض کو نہایت واضح مگر انسانی انداز میں متعین کیا ہے۔ فقہائے اسلام کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ بیوی پر شرعاً یہ لازم نہیں کہ وہ شوہر کے لیے کھانا پکائے، اس کے کپڑے دھوئے یا گھر کے تمام امور کو ایک مستقل ذمّہ داری کے طور پر انجام دے۔ یہ امور اخلاقی تعاون اور حسنِ معاشرت کے دائرے میں تو آتے ہیں، مگر شریعت نے انہیں فرض یا لازم کی حیثیت نہیں دی۔ اسلام نے شوہر پر یہ واضح ذمّہ داری عائد کی ہے کہ وہ بیوی کا نفقہ فراہم کرے، یعنی اس کی خوراک، لباس اور رہائش کا مناسب انتظام کرے، خواہ بیوی مالدار ہو یا خود ملازمت پیشہ اور صاحبِ آمدنی ہو۔ بیوی کی ذاتی کمائی پر شوہر کا کوئی شرعی حق نہیں، اور نہ ہی اس کی مالی خودمختاری اس کے نان و نفقہ کے حق کو ختم کرتی ہے۔ یہ اصول اس بات کا اظہار ہے کہ اسلام عورت کو معاشی بوجھ یا گھریلو خدمت کی علامت نہیں بناتا، بلکہ اسے ایک باوقار اور محفوظ شریکِ حیات تسلیم کرتا ہے۔

امام ابنِ حزمؒ، علامہ شوکانیؒ اور دیگر جلیل القدر فقہاء نے صراحت کے ساتھ اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ بیوی کی اصل ذمّہ داری ازدواجی رفاقت ہے، یعنی شوہر کے ساتھ زندگی کے سفر میں ذہنی، اخلاقی اور جذباتی شراکت۔ وہ شوہر کی شریکِ حیات ہے، اس کی خادمہ یا ملازمہ نہیں۔ اگر وہ محبت، ایثار اور باہمی رضامندی کے تحت گھریلو امور میں ہاتھ بٹاتی ہے تو یہ اس کا حسنِ اخلاق ہے، کوئی شرعی تقاضا نہیں۔ یہ فقہی موقف دراصل اسلامی تصورِ خاندان کی روح کو اجاگر کرتا ہے، جہاں رشتہ جبر اور حکم پر نہیں بلکہ تعاون، احترام اور رحمت پر قائم ہوتا ہے۔ جب گھریلو زندگی کو خدمت اور فرض کی سخت تقسیم سے آزاد کر کے رفاقت اور محبت کے دائرے میں رکھا جائے تو ازدواجی تعلق بوجھ نہیں رہتا، بلکہ سکون اور اطمینان کا سر چشمہ بن جاتا ہے۔

●- اسلام نے جس معاشرتی عدل اور خاندانی توازن کی تعلیم دی ہے، اس کا سب سے روشن اور زندہ نمونہ ذاتِ اقدس رسولِ اکرمﷺ کی سیرتِ طیبہ میں جلوہ گر ہے۔ نبی کریمﷺ کی گھریلو زندگی محض وعظ یا نظری اصولوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا عملی نمونہ ہے جو ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ خصوصاً گھریلو معاملات میں آپﷺ کا طرزِ عمل اس تصور کو بنیاد سے منہدم کر دیتا ہے کہ گھر کے کام صرف عورت کے حصّے میں آتے ہیں۔

امّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے جب دریافت کیا گیا کہ نبی اکرمﷺ گھر میں کیا مصروفیت اختیار فرمایا کرتے تھے، تو انہوں نے نہایت سادہ مگر معنی خیز الفاظ میں جواب دیا: "وہ اپنے گھر والوں کی خدمت کرتے تھے"  (صحیح بخاری)

یہ مختصر سا جملہ دراصل ایک مکمل معاشرتی انقلاب کی بنیاد رکھتا ہے۔ رسول اللّٰہﷺ، جو اللّٰہ کے آخری نبی، پوری انسانیت کے قائد اور عظیم ترین رہنما تھے، گھر کی چار دیواری میں داخل ہوتے ہی خادم بن جاتے تھے نہ حکم چلانے والے، نہ فوقیت جتانے والے، بلکہ محبت، تواضع اور شراکت کے ساتھ زندگی گزارنے والے شریکِ حیات۔ آپﷺ اپنے کام خود انجام دیتے، اہلِ خانہ کا ہاتھ بٹاتے اور گھریلو ذمّہ داریوں کو کسی پر بوجھ سمجھنے کے بجائے خدمت اور قربت کا ذریعہ بناتے تھے۔

یہ سنّت اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ اسلام میں عظمت کا معیار اقتدار یا اختیار نہیں، بلکہ اخلاق، انکساری اور انسانیت ہے۔ گھریلو کاموں کو عورت کی فطری یا لازمی ذمہ داری قرار دینا نہ قرآن کا مزاج ہے اور نہ سنّتِ نبویﷺ کا۔ بلکہ نبی کریمﷺ کا اسوہ یہ بتاتا ہے کہ ازدواجی زندگی باہمی تعاون، محبت اور عملی شراکت سے پروان چڑھتی ہے۔ یوں حضورﷺ کی سیرتِ خانگی ایک خاموش مگر گہرا پیغام دیتی ہے؛ جو شخص اپنے گھر میں خدمت گزار بن جاتا ہے، وہی دراصل خاندان کو سکون، محبت اور رحمت کی حقیقی دولت عطا کرتا ہے۔ یہی سنّت، یہی توازن اور یہی وہ عملی نمونہ ہے جو اسلامی معاشرت کی اصل روح کی ترجمانی کرتا ہے۔

●- اسلام نے عورت کو محض گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں کیا، بلکہ اسے عزّت، اختیار اور خودمختاری کے ساتھ معاشرتی زندگی میں حصّہ لینے کا حق عطاء کیا ہے۔ اگر عورت ملازمت اختیار کرتی ہے یا کسی پیشے سے وابستہ ہوتی ہے تو شریعتِ اسلامیہ کی رو سے وہ اپنی کمائی کی مکمل طور پر خود مالک ہوتی ہے۔ اس کی محنت سے حاصل ہونے والی آمدنی پر نہ شوہر کا حق قائم ہوتا ہے اور نہ ہی اس سے یہ مطالبہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی معاشی سرگرمیوں کے باوجود گھریلو ذمّہ داریوں کا پورا بوجھ بھی تنِ تنہا اٹھائے۔ اسلامی تصورِ خاندان اس جبر کی اجازت نہیں دیتا کہ عورت ایک ہی وقت میں روزگار کی مشقت بھی برداشت کرے اور گھر کے تمام کاموں کی جواب دہ بھی ٹھہرائی جائے۔ شوہر پر لازم ہے کہ وہ بیوی کی جسمانی، ذہنی اور عملی استطاعت کو پیشِ نظر رکھے، کیونکہ شریعت کسی کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتی۔ یہی وہ اصول ہے جو ازدواجی زندگی کو سختی کے بجائے سہولت، اور مطالبے کے بجائے ہم آہنگی عطاء کرتا ہے۔

ایسے حالات میں اسلام جس رویّے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، وہ باہمی رضامندی، تقسیمِ کار اور عملی تعاون ہے۔ میاں بیوی کا رشتہ مقابلے یا حساب کتاب کا نہیں، بلکہ شراکت اور رفاقت کا نام ہے۔ اگر دونوں اپنی اپنی ذمّہ داریوں کو حالات کے مطابق بانٹ لیں، ایک دوسرے کی مشقت کا احساس کریں اور سہارا بنیں، تو یہی طرزِ عمل اسلامی مزاج کے عین مطابق ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ ازدواجی زندگی میں کوئی فریق مغلوب یا مجبور نہ ہو، بلکہ دونوں شریکِ حیات عزّت، محبت اور تعاون کے ساتھ زندگی کے تقاضوں کو پورا کریں۔ جب گھر کا نظام جبر کے بجائے رضا پر، اور حکم کے بجائے مشاورت پر قائم ہوتا ہے تو وہ گھر محض رہائش گاہ نہیں رہتا، بلکہ سکون، رحمت اور اطمینان کا مرکز بن جاتا ہے۔ یہی وہ توازن ہے جسے اسلام عورت کی ملازمت اور خاندانی زندگی کے درمیان قائم کرتا ہے۔

●- اسلام نے ظلم کے مفہوم کو نہایت جامع اور گہرا بنایا ہے۔ شریعت کی نگاہ میں ظلم صرف وہ نہیں جو ہاتھ اٹھانے، جسمانی اذیت یا ظاہری جبر کی صورت میں نظر آئے، بلکہ وہ ہر رویّہ بھی ظلم کے دائرے میں آتا ہے جو انسان کے دل، ذہن اور وقار کو مجروح کر دے۔ اسی لیے اسلام ذہنی اذیت، نفسیاتی دباؤ اور احساسِ محرومی کو بھی ظلم ہی کی ایک صورت قرار دیتا ہے، خواہ وہ خاموشی کے پردے میں لپٹا ہوا کیوں نہ ہو۔ اسلامی اصولوں کے مطابق ناجائز مطالبات کرنا، ایسے تقاضے عائد کرنا جو انسان کی استطاعت سے باہر ہوں، یا محبت، احترام اور قدردانی سے محروم رکھنا؛ یہ سب وہ رویّے ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں انسانی شخصیت کو توڑ دیتے ہیں۔

قرآن کا مزاج یہ ہے کہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے، اور یہی اصول ازدواجی زندگی پر بھی پوری طرح منطبق ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں اگر ایک خاتون ملازمت پیشہ ہے، دن بھر اپنی توانائی اور وقت معاشی ذمّہ داریوں میں صرف کرتی ہے، تو اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ہر حال میں، شوہر کی سہولت اور تعاون کے بغیر، گھریلو خدمت کے تمام تقاضے بھی پورے کرے؛ اسلامی عدل کے سراسر خلاف ہے۔ ایسی توقع نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ وہ ذہنی دباؤ اور خاموش اذیت کو جنم دیتی ہے، جسے شریعت ظلم ہی قرار دیتی ہے۔

اسلام ازدواجی رشتے کو تسلّط اور مطالبات کے بجائے سکون اور رحمت پر قائم دیکھنا چاہتا ہے۔ میاں بیوی ایک دوسرے کے حاکم نہیں بلکہ رفیق ہیں؛ ایک دوسرے پر بوجھ نہیں بلکہ سہارا ہیں۔ جب ایک فریق کی مشقت کو نظر انداز کر کے اس پر اضافی ذمہ داریاں تھوپ دی جائیں تو یہ رشتہ عبادت کے بجائے آزمائش بن جاتا ہے، اور یہی وہ کیفیت ہے جس سے اسلام بچانا چاہتا ہے۔ یوں اسلامی تصورِ ذہنی ظلم ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ عدل صرف حقوق کی ادائیگی کا نام نہیں، بلکہ احساس، ہمدردی اور احترام کے ساتھ جینے کا شعور بھی ہے۔ جہاں یہ شعور زندہ ہو، وہاں ظلم کی گنجائش باقی نہیں رہتی، اور ازدواجی زندگی واقعی سکون اور رحمت کا مظہر بن جاتی ہے۔

●- اسلام نے خاندانی نظام کو انسانی معاشرے کی بنیاد قرار دیا ہے، اسی لیے اس کی حفاظت کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ نکاح کو سکون، رحمت اور دائمی رفاقت کا ذریعہ بنایا گیا، اور طلاق کو اگرچہ شرعاً جائز رکھا گیا مگر اسے آخری اور انتہائی ناپسندیدہ حل قرار دیا گیا۔ نبی اکرمﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "اللّٰہ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے ناپسندیدہ چیز طلاق ہے" (سننِ ابو داؤد)۔ یہ حدیث طلاق کے بارے میں اسلامی مزاج کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کر دیتی ہے۔ اسلام انسان کو اس بات کی اجازت تو دیتا ہے کہ ناقابلِ برداشت حالات میں نکاح کے بندھن کو کھول سکے، مگر وہ اس اجازت کو معمول، سہولت یا جذباتی ردِّعمل نہیں بناتا۔ طلاق وہ دروازہ ہے جو صرف اس وقت کھولا جاتا ہے جب تمام راستے بند ہو جائیں، صبر کی گنجائش باقی نہ رہے، اور اصلاح و مفاہمت کی ہر کوشش ناکام ہو جائے۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق معمولی گھریلو اختلافات، مزاج کی ناہمواری یا کام کی تقسیم جیسے مسائل وہ امور نہیں جن پر ایک پورا گھر، ایک رشتہ اور ایک خاندان قربان کر دیا جائے۔ یہ مسائل تو زندگی کے فطری تقاضوں میں شامل ہیں، جن کا حل برداشت، گفت و شنید اور باہمی تعاون میں پوشیدہ ہے، نہ کہ علیحدگی میں۔ طلاق کو ان چھوٹے اختلافات پر بنیاد بنانا دراصل نکاح کی روح سے غفلت اور اسلامی حکمت سے انحراف ہے۔

اسلام چاہتا ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کی کمزوریوں پر پردہ ڈالیں، لغزشوں کو درگزر کریں اور رشتے کو ٹوٹنے کے بجائے سنورنے کا موقع دیں۔ اسی لیے شریعت نے طلاق سے پہلے نصیحت، صلح، ثالثی اور مہلت جیسے مراحل مقرر کیے، تاکہ فیصلہ غصّے یا تھکن کے عالم میں نہیں بلکہ شعور اور عدل کے ساتھ ہو۔ یوں طلاق اسلام میں نفرت یا انتقام کا ذریعہ نہیں، بلکہ مجبوری کی حالت میں اختیار کیا جانے والا آخری راستہ ہے۔ جب اسے معمولی اختلافات یا گھریلو ذمّہ داریوں کے جھگڑوں پر استعمال کیا جائے تو یہ نہ صرف رشتے کی توہین ہے بلکہ اس رحمت آمیز نظام کے خلاف بھی ہے جس پر اسلامی خاندان کی عمارت قائم ہے۔

عدل، رحمت اور فہم وہ تین بنیادی ستون ہیں جن پر اسلامی معاشرت اور خاندانی نظام کی پوری عمارت استوار ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ، اگر اس زاویۂ نگاہ سے دیکھا جائے، تو اسلامی اصولِ عدل، توازن اور انسانی وقار سے ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے بشرطیکہ اس کی روح کو سمجھا جائے اور اسے محض قانونی نقطۂ نظر تک محدود نہ رکھا جائے۔ اسلام ازدواجی رشتے کو فریقین کے درمیان مقابلہ یا کشمکش نہیں بناتا، بلکہ اسے باہمی فہم اور ایک دوسرے کی مجبوریوں کے ادراک سے عبارت کرتا ہے۔ شوہر اور بیوی دونوں اگر ایک دوسرے کے حالات، ذہنی دباؤ اور عملی مصروفیات کو دل سے سمجھیں، تو اختلافات خود بخود نرم پڑ جاتے ہیں۔ اسلام اسی شعور کو فروغ دیتا ہے کہ رشتہ شکایتوں اور مطالبات کی فہرست پر نہیں، بلکہ ذمہ داریوں کی شراکت اور تعاون کی بنیاد پر قائم رہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلامی فکر میں محبت کو قانون سے بلند مقام دیا گیا ہے اور اخلاق کو جبر پر فوقیت حاصل ہے۔ جہاں قانون حدیں متعین کرتا ہے، وہاں محبت دلوں کو جوڑتی ہے؛ اور جہاں جبر اطاعت پیدا کرتا ہے، وہاں اخلاق رضامندی کو جنم دیتا ہے۔ اگر ازدواجی زندگی محض قانونی حقوق کے گرد گھومنے لگے تو وہ روح سے خالی ہو جاتی ہے، لیکن اگر اخلاقی احساس اور رحمت اس کا محور بن جائیں تو معمولی اختلافات بھی رشتے کو کمزور نہیں کر پاتے۔

اسلام عورت کو گھریلو ملازمہ نہیں بلکہ شریکِ حیات کا درجہ دیتا ہے۔ ایسی شریک جو عزّت، وقار اور رفاقت کے ساتھ زندگی کے سفر میں برابر کی ہم قدم ہو۔ اس تصور میں عورت کی قدر و قیمت اس کی خدمت سے نہیں بلکہ اس کی انسانیت، شعور اور شراکت سے متعین ہوتی ہے۔ یہی وہ فکری توازن ہے جو اسلامی تعلیمات کو محض مذہبی ہدایات نہیں بلکہ آفاقی انسانی اصول بنا دیتا ہے۔ یوں تلنگانہ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ، اگر باہمی فہم، اخلاقی شعور اور رحمت کے جذبے کے ساتھ برتا جائے، تو وہ نہ صرف جدید قانونی فکر کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ اسلامی خاندانی نظام کی روح سے بھی ہم آہنگ ثابت ہوتا ہے۔

🗓 (09.01.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
                      ○○○○○○○○○

https://www.urduaction.com/daily-urdu-action-bhopal-11-01-2026/

NANDED TIMES: NANDED TIMES URDU DAILY 11 JAN 2026 Page 3 https://share.google/NeDY2Pb8b3LZFsiGX

https://epaper.tahalkatimes.com/epaper/m/49725/6962b4c314427


Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam