••ختنہ: وحی اور عقل کی مشترکہ شہادت••
*••ختنہ: وحی اور عقل کی مشترکہ شہادت••*
*Circumcision: A Shared Testimony of Revelation and Reason*
●🕯️༻حِکمتِ༺﷽༻نوری༺🕯️●
ختنہ
وحی اور عقل کی مشترکہ شہادت
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
اسلام ایک ایسا ہمہ گیر دین ہے جو انسان کی زندگی کے کسی ایک گوشے تک محدود نہیں، بلکہ اس کی روح، جسم، عقل، معاشرت اور تہذیب سب کی یکساں رہنمائی کرتا ہے۔ یہ دین انسان کو محض عبادات کا پابند نہیں بناتا بلکہ اسے فطرت کے مطابق جینے، جسم و روح کی پاکیزگی اختیار کرنے اور اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو توازن اور اعتدال کے ساتھ سنوارنے کا سلیقہ عطاء کرتا ہے۔ اسلام کی تعلیمات میں طہارت کو جو مرکزی مقام حاصل ہے، وہ اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ یہ دین انسانی صحت اور فلاح سے بے نیاز نہیں بلکہ اس کا حقیقی محافظ ہے۔ ان ہی فطری اور ہمہ گیر تعلیمات میں ختنہ کو ایک نمایاں اور بامعنی مقام حاصل ہے۔ ختنہ کوئی وقتی رسم، علاقائی رواج یا محض مذہبی شعار نہیں، بلکہ انسانی فطرت کے ساتھ جڑا ہوا وہ عمل ہے جسے شریعتِ اسلامیہ نے پاکیزگی، اعتدال اور طہارت کے مستقل اصول کے طور پر اختیار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ رسولِ اکرمﷺ نے اسے خصالِ فطرت میں شامل فرمایا، یعنی وہ اعمال جو انسان کی فطری ساخت، اس کی جسمانی صحت اور اخلاقی توازن کو برقرار رکھتے ہیں۔
بدقسمتی سے جدید دور میں بعض حلقوں نے ختنہ جیسے فطری اور مفید عمل کو محض تعصب، سطحی فکر یا نام نہاد روشن خیالی کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کہیں اسے غیر ضروری جراحی عمل کہا گیا، کہیں مذہبی جبر قرار دیا گیا، اور کہیں اسے جدید انسانی اقدار کے منافی ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ حالانکہ یہ تمام اعتراضات اس وقت اپنی حیثیت کھو دیتے ہیں جب ختنہ کو اس کے دینی، تاریخی، سائنسی اور انسانی تناظر میں دیکھا جائے۔ یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام نے جس عمل کو وحی کی روشنی میں فطرت کا تقاضا قرار دیا، جدید سائنس نے اسی عمل کو تحقیق، تجربہ اور اعداد و شمار کی بنیاد پر انسانی صحت کے لیے مفید تسلیم کیا۔ یوں ختنہ ان نادر موضوعات میں شامل ہو جاتا ہے جہاں وحی اور عقل، دین اور سائنس، روایت اور تحقیق ایک دوسرے کی نفی نہیں بلکہ تائید کرتے نظر آتے ہیں۔
زیرِ نظر مضمون کا مقصد ختنہ کے اسی ہمہ گیر تصور کو واضح کرنا ہے۔ ایک ایسا تصور جو تعصب کے غبار سے پاک، تحقیق کی بنیاد پر مضبوط اور فہمِ انسانی کے لیے قابلِ قبول ہو۔ اس تحریر میں ختنہ کو نہ صرف اسلامی تعلیمات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے بلکہ جدید طب، عالمی تحقیق اور مختلف تہذیبوں کے تجربات کو بھی سامنے رکھا گیا ہے، تاکہ قاری کے سامنے ختنہ کی ایک متوازن، جامع اور مدلل تصویر ابھر کر سامنے آئے۔ یہ مضمون دراصل اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ اسلام کی فطری تعلیمات وقت کے ساتھ متروک نہیں ہوتیں، بلکہ تحقیق کی ہر نئی منزل پر مزید روشن ہو کر سامنے آتی ہیں۔ ختنہ اسی فطری حکمت کی ایک روشن مثال ہے۔ ایک ایسا عمل جو انسان کو پاکیزگی، صحت اور تہذیب کے راستے پر گامزن رکھتا ہے، اور جس میں انسانی بھلائی کا ایک ہمہ گیر پیغام پوشیدہ ہے۔
✦ ختنہ کیا ہے؟
ختنہ (Circumcision) اس جراحی عمل کو کہا جاتا ہے جس میں مرد کے عضوِ تناسل کے اگلے حصے پر موجود زائد کھال (Foreskin) کو مخصوص طریقے سے کاٹ کر الگ کر دیا جاتا ہے۔ یہ عمل صرف جسمانی اصلاح نہیں بلکہ تہذیبی، مذہبی اور طبی حکمتوں کا حامل ایک قدیم انسانی عمل ہے، جو تاریخِ انسانی کے آغاز سے مختلف معاشروں میں رائج رہا ہے۔
✦ ختنہ کے مذہبی فوائد
◉ اسلامی نقطۂ نظر
اسلام میں ختنہ کو محض ایک طبی یا جسمانی عمل نہیں سمجھا گیا، بلکہ اسے انسانی فطرت سے ہم آہنگ اُن بنیادی اعمال میں شامل کیا گیا ہے جو انسان کی ظاہری و باطنی پاکیزگی کو برقرار رکھنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ رسولِ اکرم حضرت محمدﷺ نے جن امور کو خصالِ فطرت قرار دیا، ان میں ختنہ کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ حدیثِ نبویﷺ میں فرمایا گیا "پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں: ختنہ، مونچھیں پست کرنا، ناخن کاٹنا، بغل کے بال صاف کرنا اور زیرِ ناف کے بال مونڈنا"۔ یہ ارشاد اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ ختنہ اسلام میں ایک اختیاری سماجی رسم نہیں، بلکہ وہ فطری اصول ہے جو انسانی جسم کی صفائی، اعتدال اور توازن کو برقرار رکھنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔
اسلامی شریعت میں طہارت کو عبادت کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ نماز، طواف، تلاوتِ قرآن اور دیگر عبادات کی صحت و قبولیت کا انحصار جسمانی اور ظاہری پاکیزگی پر ہے۔ چونکہ غیر مختون حالت میں عضوِ تناسل کے بعض حصوں میں نجاست کے باقی رہ جانے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے، اس لیے ختنہ اس پہلو سے عبادت کی صحت میں ایک معاون اور محافظ کردار ادا کرتا ہے۔ یوں یہ عمل صرف جسمانی صفائی تک محدود نہیں رہتا بلکہ بندۂ مومن کے روحانی ارتقا اور عبادتی زندگی سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔
مزید برآں، ختنہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنّت ہونے کی وجہ سے ملتِ ابراہیمی کی ایک نمایاں علامت بھی ہے۔ اسلام نے اسے نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اس کی دینی حیثیت کو مزید واضح کیا، تاکہ مسلمان اپنی عملی زندگی میں توحید، طہارت اور اطاعتِ الٰہی کی اس قدیم روایت سے جڑے رہیں۔ اس اعتبار سے ختنہ، نسل در نسل منتقل ہونے والا وہ دینی شعار ہے جو امتِ مسلمہ کو اپنے روحانی اور تاریخی تسلسل سے وابستہ رکھتا ہے۔
◉ یہودیت اور بین المذاہب
"یہودیت" میں ختنہ کو ایک منفرد مذہبی تقدس حاصل ہے۔ یہودی عقیدے کے مطابق ختنہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور خدا کے درمیان قائم ہونے والے عہدِ الٰہی (Covenant) کی علامت ہے۔ یہ عمل آٹھویں دن انجام دیا جاتا ہے اور اسے یہودی قوم کی مذہبی شناخت اور روحانی وابستگی کا لازمی جز سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح ختنہ وہاں محض جسمانی تبدیلی نہیں بلکہ خدا سے وفاداری اور مذہبی عہد کی تجدید کی علامت بن جاتا ہے۔ "عیسائیت" کے ابتدائی دور میں بھی ختنہ ایک مدت تک زیرِ بحث رہا، اگرچہ بعد ازاں اسے زیادہ تر روحانی مفہوم میں لے لیا گیا۔ اس کے باوجود دنیا کے بعض عیسائی گروہوں، خصوصاً افریقہ اور مشرقی علاقوں میں، ختنہ آج بھی مذہبی یا تہذیبی روایت کے طور پر جاری ہے۔
اسی طرح کئی قدیم اقوام اور تہذیبوں میں ختنہ بلوغت، پاکیزگی، یا اجتماعی شناخت کی علامت کے طور پر رائج رہا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ عمل انسانی تاریخ میں مذہب اور تہذیب دونوں کے ساتھ گہرا رشتہ رکھتا ہے۔ مذہبی نقطۂ نظر سے ختنہ ایک ایسا عمل ہے جو فطرت، طہارت، عبادت اور مذہبی شناخت کو یکجا کرتا ہے۔ اسلام میں یہ عبادتی زندگی کی تطہیر کا ذریعہ ہے، یہودیت میں عہدِ الٰہی کی علامت، اور دیگر مذاہب و تہذیبوں میں روحانی یا ثقافتی تشخص کا نشان۔ اس طرح ختنہ ایک ایسا مشترکہ انسانی عمل بن کر سامنے آتا ہے جس میں مذہبی فکر، تاریخی روایت اور اخلاقی اقدار باہم پیوست دکھائی دیتی ہیں۔
✦ ختنہ کے سائنسی فوائد
عصرِ حاضر کی جدید طب اور حیاتیاتی علوم نے ان حقائق کی بارہا تصدیق کی ہے جن کی طرف مذاہب، بالخصوص اسلام، صدیوں قبل انسانیت کی رہنمائی کر چکے تھے۔ ختنہ، جو بظاہر ایک سادہ جراحی عمل نظر آتا ہے، درحقیقت انسانی صحت، صفائی اور تحفّظ کے حوالے سے گہری سائنسی حکمتوں کا حامل ہے۔ جدید میڈیکل ریسرچ اس بات پر متفق ہے کہ ختنہ شدہ مردوں میں متعدد جسمانی اور صحتی فوائد نمایاں طور پر پائے جاتے ہیں۔
سائنسی اعتبار سے دیکھا جائے تو غیر مختون حالت میں عضوِ تناسل کے اگلے حصّے پر موجود زائد کھال کے نیچے نمی اور حرارت کی وجہ سے جراثیم، فنگس اور مضر بیکٹیریا کے جمع ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ختنہ کے بعد چونکہ یہ جگہ کھلی اور صاف رہتی ہے، اس لیے جراثیم کی افزائش کے اسباب نمایاں حد تک کم ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ختنہ شدہ مردوں میں مقامی سوزش، خارش اور انفیکشن کے واقعات کم دیکھے گئے ہیں۔
طبی تحقیقات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ ختنہ پیشاب کی نالی کے انفیکشن (Urinary Tract Infections – UTI) کے خطرے کو خاص طور پر کم کرتا ہے، بالخصوص بچپن میں۔ ایسے انفیکشن جو بعد کی زندگی میں گردوں یا دیگر نظامی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتے ہیں، ختنہ کے ذریعے بڑی حد تک روکے جا سکتے ہیں۔
اسی طرح متعدد عالمی مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ختنہ شدہ مردوں میں بعض جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں، مثلاً HIV، HPV اور دیگر وائرل و بیکٹیریل انفیکشنز، کے امکانات نسبتاً کم پائے جاتے ہیں۔ اس کی ایک سائنسی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ فورسکن کے اندرونی حصّے کی نازک جلد بعض وائرسز کے لیے داخلے کا آسان راستہ فراہم کرتی ہے، جو ختنہ کے بعد باقی نہیں رہتا۔
مزید برآں، جدید آنکولوجی (Cancer Research) کے مطابق عضوِ تناسل کے سرطان (Penile Cancer) کے واقعات ختنہ شدہ افراد میں نہایت کم ہیں۔ اگرچہ یہ سرطان مجموعی طور پر نایاب ہے، تاہم ختنہ اسے مزید کم کرنے میں ایک حفاظتی کردار ادا کرتا ہے۔ اسی طرح خواتین میں سروائیکل کینسر کے خطرات میں کمی کا ایک پہلو مرد ساتھی کے ختنہ شدہ ہونے سے بھی جوڑا گیا ہے، جو ختنہ کے بالواسطہ سماجی فوائد کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
صفائی اور حفظانِ صحت کے اعتبار سے بھی ختنہ ایک عملی سہولت فراہم کرتا ہے۔ عضوِ تناسل کی صفائی آسان ہو جاتی ہے، بدبو، سوزش اور جراثیمی آلودگی کے امکانات کم ہوتے ہیں، اور مجموعی طور پر جسمانی طہارت کے معیارات بہتر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں ختنہ کو محض مذہبی عمل نہیں بلکہ Preventive Healthcare یعنی حفاظتی صحت کے اقدامات میں شامل کیا جاتا ہے۔
یہ تمام طبی و سائنسی شواہد اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ ختنہ محض ایک مذہبی یا تہذیبی رسم نہیں، بلکہ انسانی جسم کی ساخت اور صحت کے عین مطابق ایک حیاتیاتی حکمت ہے۔ یہ وہ مثال ہے جہاں مذہبی ہدایت اور سائنسی تحقیق ایک دوسرے کی تائید کرتی دکھائی دیتی ہیں، اور یہ ثابت ہوتا ہے کہ فطرت کے مطابق اختیار کیے گئے اعمال انسانی صحت اور بقا کے لیے دیرپا فوائد رکھتے ہیں۔
✦ صحت پر ختنہ کے اثرات
ختنہ کے اثرات کو اگر مجموعی صحت کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ عمل انسانی جسم پر متعدد مثبت، دیرپا اور ہمہ جہتی اثرات مرتب کرتا ہے۔ جدید طب ختنہ کو محض ایک جراحی اقدام نہیں بلکہ صحتِ عامہ (Public Health) کے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر دیکھتی ہے، جس کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی پہلو نمایاں ہیں۔
◉ مثبت اثرات
سب سے پہلا اور نمایاں اثر بہتر ذاتی صفائی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ ختنہ کے بعد عضوِ تناسل کی صفائی نسبتاً آسان ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں جراثیم، پسینے اور دیگر مضر مادّوں کے جمع ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ یہی بہتر صفائی آگے چل کر متعدد بیماریوں سے بچاؤ کا سبب بنتی ہے۔
ختنہ سوزش، خارش اور جلدی امراض سے بھی مؤثر تحفّظ فراہم کرتا ہے۔ غیر مختون حالت میں فورسکن کے نیچے نمی اور حرارت کے باعث فنگل یا بیکٹیریائی انفیکشن کا امکان بڑھ جاتا ہے، جب کہ ختنہ کے بعد یہ خطرات نمایاں حد تک کم ہو جاتے ہیں۔ اسی بنا پر طبّی ماہرین ختنہ کو بعض التہابی مسائل سے بچاؤ کا ایک اہم ذریعہ قرار دیتے ہیں۔
جنسی صحت کے حوالے سے بھی ختنہ کے مثبت اثرات مشاہدے میں آئے ہیں۔ ختنہ شدہ افراد میں بعض جنسی امراض کے امکانات کم ہونے کے ساتھ ساتھ صفائی اور تحفّظ کے باعث جنسی عمل سے متعلق طبی پیچیدگیاں بھی نسبتاً کم ہوتی ہیں۔ یہ پہلو فرد کی مجموعی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ازدواجی زندگی کے استحکام میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔
نفسیاتی سطح پر، خصوصاً مذہبی وابستگی رکھنے والے افراد میں، ختنہ اطمینانِ قلب اور ذہنی سکون کا ذریعہ بنتا ہے۔ دینی احکام کی تعمیل کا احساس فرد کو روحانی تسکین فراہم کرتا ہے، جو بالواسطہ طور پر ذہنی صحت اور اعتماد میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ یوں ختنہ جسم اور ذہن، دونوں کی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔
◉ احتیاطی پہلو
اگرچہ ختنہ کے فوائد مسلمہ ہیں، تاہم طبی تحقیق اس امر پر بھی زور دیتی ہے کہ یہ عمل غیر ماہر افراد یا غیر سائنسی طریقوں سے انجام دیا جائے تو عارضی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جیسے درد، سوزش، انفیکشن یا خون بہنے کا خطرہ۔ یہ پیچیدگیاں ختنہ کے عمل کی نوعیت سے نہیں بلکہ اس کے غیر معیاری یا غیر محفوظ طریقۂ کار سے متعلق ہوتی ہیں۔
اسی لیے جدید دور میں اس بات پر خاص زور دیا جاتا ہے کہ ختنہ تربیت یافتہ طبی ماہرین کے ذریعے، جراثیم سے پاک ماحول اور مستند طبی اصولوں کے مطابق کیا جائے۔ جدید جراحی سہولیات نے ان ممکنہ خطرات کو نہایت کم کر دیا ہے اور ختنہ کو ایک محفوظ اور معمول کا طبی عمل بنا دیا ہے۔
طبی ماہرین اور عالمی ادارۂ صحت سمیت متعدد تحقیقی ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ ختنہ کے صحتی فوائد اس کے ممکنہ نقصانات کے مقابلے میں کہیں زیادہ اور دیرپا ہیں۔ جب یہ عمل درست طبی اصولوں کے مطابق انجام دیا جائے تو یہ انسانی صحت، صفائی اور نفسیاتی اطمینان کے فروغ میں ایک مثبت اور مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔
یوں ختنہ، احتیاط کے ساتھ اختیار کیا گیا، انسانی فلاح و بہبود کا ایک قابلِ اعتماد ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔
✦ دنیا میں کون سی قومیں ختنہ کرتی ہیں؟
ختنہ ایک ایسا انسانی عمل ہے جو جغرافیائی سرحدوں، تہذیبی فرقوں اور مذہبی تقسیمات سے بالاتر ہو کر دنیا کے مختلف معاشروں میں رائج رہا ہے۔ اس کی بنیاد کہیں مذہبی عقیدے پر ہے، کہیں تہذیبی روایت پر، اور کہیں جدید طبی تحقیق اور صحتِ عامہ کے تقاضوں پر۔ یہی وجہ ہے کہ ختنہ کو ایک عالمگیر انسانی رویّہ قرار دیا جا سکتا ہے، جو مختلف معاشروں میں مختلف معانی کے ساتھ موجود ہے۔
◉ مذہبی بنیاد پر ختنہ کرنے والی اقوام
مسلمان:
دنیا بھر کے مسلمان ختنہ کو ایک لازمی دینی عمل کے طور پر انجام دیتے ہیں۔ اسلامی شریعت میں ختنہ طہارت، پاکیزگی اور فطرت کے تقاضوں سے جڑا ہوا ہے، اس لیے یہ عمل عرب دنیا سے لے کر ایشیا، افریقہ، یورپ اور امریکا تک تمام مسلم معاشروں میں یکساں طور پر رائج ہے۔ مسلمان اسے محض سماجی رسم نہیں بلکہ دینی شعائر میں شمار کرتے ہیں۔
یہودی:
یہودی قوم میں ختنہ کو نہایت مرکزی مذہبی حیثیت حاصل ہے۔ یہ عمل آٹھویں دن انجام دیا جاتا ہے اور اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ خدا کے عہد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح ختنہ یہودی شناخت، مذہبی وابستگی اور نسلی تسلسل کی ایک مضبوط علامت بن جاتا ہے۔
بعض عیسائی فرقے:
اگرچہ عمومی عیسائی تعلیمات میں ختنہ کو لازمی مذہبی فریضہ نہیں مانا جاتا، تاہم افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے بعض عیسائی فرقوں میں ختنہ آج بھی مذہبی یا روایت پر مبنی عمل کے طور پر موجود ہے۔ ان علاقوں میں یہ عمل اکثر مذہب اور مقامی ثقافت کے امتزاج کے طور پر سامنے آتا ہے۔
◉ تہذیبی و طبی بنیاد پر ختنہ کرنے والی اقوام
افریقہ کی قدیم اقوام:
افریقہ کی کئی قدیم اور قبائلی اقوام، جیسے ماسائی، زولو اور دیگر قبائل، ختنہ کو بلوغت، سماجی شمولیت اور مردانگی کی علامت سمجھتی ہیں۔ ان معاشروں میں ختنہ فرد کی سماجی شناخت اور قبائلی روایت کا اہم مرحلہ ہوتا ہے، جو مذہب سے زیادہ تہذیبی ورثے سے جڑا ہوتا ہے۔
مغربی ممالک (امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا):
ان ممالک میں ختنہ بڑی حد تک طبی اور صحتی بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔ بیسویں صدی میں طبی تحقیق اور صحتِ عامہ کے تصورات کے فروغ کے بعد یہاں ختنہ کو حفظانِ صحت، بیماریوں سے بچاؤ اور ذاتی صفائی کے تناظر میں اپنایا گیا۔ اگرچہ یہ مذہبی فریضہ نہیں، مگر اب بھی بڑی تعداد میں خاندان اسے صحت کے نقطۂ نظر سے اختیار کرتے ہیں۔
جنوبی کوریا:
جنوبی کوریا ایک منفرد مثال ہے جہاں ختنہ مغربی طبی اثرات اور جدید صحتی نظریات کے زیرِ اثر عام ہوا۔ یہاں مذہبی روایت کے بجائے طبی تعلیم اور سماجی رجحان نے اس عمل کو فروغ دیا، اور آج یہ وہاں کے معاشرتی معمولات کا حصّہ بن چکا ہے۔
اس عالمی جائزے سے واضح ہوتا ہے کہ ختنہ کسی ایک مذہب، قوم یا تہذیب تک محدود نہیں۔ یہ کہیں دینی شعار ہے، کہیں تہذیبی شناخت، اور کہیں طبی ضرورت۔ یوں ختنہ ایک ایسا جامع انسانی عمل بن کر سامنے آتا ہے جہاں مذہب، ثقافت اور سائنس ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ باہم پیوست نظر آتے ہیں۔ یہی ہم آہنگی اس عمل کو تاریخِ انسانی میں دوام اور عالمگیریت عطاء کرتی ہے۔
✦ ختنہ پر اعتراضات
ختنہ پر اعتراض کرنے والے متعصب یا یک رُخے ناقدین عموماً اسے محض ایک مذہبی رسم، غیر ضروری جراحی عمل یا شخصی آزادی کے خلاف اقدام قرار دیتے ہیں۔ لیکن یہ اعتراضات زیادہ تر تاریخی ناواقفیت، سائنسی حقائق سے لاعلمی یا فکری تعصب پر مبنی ہوتے ہیں، نہ کہ غیر جانبدار تحقیق پر۔ ختنہ کو "محض مذہبی رسم" کہنا، ایک سطحی اعتراض ہے۔ یہ کہنا کہ ختنہ صرف مذہبی روایت ہے، تاریخی اور سائنسی دونوں حوالوں سے غلط ہے۔ ختنہ مذاہب کے ظہور سے پہلے بھی مختلف تہذیبوں میں موجود تھا۔ آج بھی دنیا کے کئی غیر مذہبی معاشروں میں طبی بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔ جدید میڈیکل سائنس نے اس کے صحتی فوائد کو تسلیم کیا ہے۔ لہٰذا ختنہ کو صرف مذہب تک محدود کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔
"یہ جسمانی آزادی کے خلاف ہے"، ایک غیر متوازن دعویٰ ہے۔ یہ اعتراض اس وقت غیر معتبر ہو جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ویکسینیشن، بچّوں کی جراحی اصلاحات، طبی حفاظتی اقدامات سب والدین بچّوں کے بہتر مستقبل کے لیے کرتے ہیں، اور انہیں جسمانی آزادی کی خلاف ورزی نہیں کہا جاتا۔ اگر صحت، تحفّظ اور مستقبل کی بھلائی مقصد ہو تو یہ ذمّہ دارانہ فیصلہ کہلاتا ہے، جبر نہیں۔ "ختنہ غیر سائنسی یا نقصان دہ ہے" تحقیق کے منافی الزام، یہ اعتراض جدید طبی تحقیق سے براہِ راست متصادم ہے۔ عالمی سطح پر تسلیم شدہ سائنسی حقائق کے مطابق ختنہ انفیکشنز، سرطان اور بعض مہلک بیماریوں کے خطرات کم کرتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) اسے بعض خطّوں میں صحتِ عامہ کا مؤثر ذریعہ مانتا ہے۔ مغربی ممالک میں لاکھوں غیر مذہبی خاندان اسے صحتی بنیادوں پر اختیار کرتے ہیں۔ لہٰذا اسے "غیر سائنسی" کہنا دراصل سائنس سے انکار کے مترادف ہے۔
"یہ قدیم روایت ہے، جدید دور سے غیر متعلق" تاریخ سے ناواقفیت کا ثبوت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بہت سی قدیم روایات (مثلاً صفائی، پرہیز، ورزش) آج جدید سائنس کی بنیاد بن چکی ہیں۔ قدامت کسی عمل کے باطل ہونے کی دلیل نہیں، بلکہ جو روایت فطرت سے ہم آہنگ ہو، وہ وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوتی ہے۔ ختنہ اسی اصول کی عملی مثال ہے۔
اکثر ختنہ پر اعتراض سائنسی تشویش نہیں بلکہ مذہبی تعصب، تہذیبی برتری کا احساس، یا مخصوص اقوام کے خلاف ذہنی نفرت کا شاخسانہ ہوتے ہیں۔ اگر اعتراض واقعی انسان دوستی پر مبنی ہوتا تو وہ سائنسی شواہد کو تسلیم کرتا، عالمی طبی اداروں کی آراء کو نظر انداز نہ کرتا اور مختلف ثقافتوں کے حقِ انتخاب کا احترام کرتا۔ ختنہ نہ اندھی مذہبی رسم ہے، نہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی، نہ سائنسی طور پر بے بنیاد، بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جہاں فطرت، مذہب، سائنس اور انسانی تجربہ ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس پر اعتراض دراصل ختنہ پر نہیں، بلکہ اس تہذیبی و فکری ہم آہنگی پر ہوتا ہے جسے بعض متعصب ذہن قبول کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ علم کا تقاضا اعتراض نہیں، فہم ہے؛ تحقیق کا مقصد انکار نہیں، ادراک ہے۔
ختنہ انسانی فطرت کے عین مطابق وہ عمل ہے جس میں جسم، روح اور معاشرہ تینوں کی ضروریات ایک مربوط اور ہم آہنگ نظام میں سمٹ آتی ہیں۔ یہ ایسا انسانی رویّہ ہے جو محض جسمانی اصلاح تک محدود نہیں رہتا بلکہ روحانی پاکیزگی، جسمانی صحت اور سماجی تہذیب کے مابین ایک بامعنی ربط قائم کرتا ہے۔ فرد کی ذاتی طہارت سے لے کر اجتماعی صحت اور اخلاقی نظم تک، ختنہ انسانی زندگی کے مختلف دائروں میں مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ تحقیقی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ختنہ ان نادر اعمال میں شامل ہے جہاں وحی اور عقل ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں بلکہ ہم سفر نظر آتے ہیں۔ مذاہب نے جس عمل کو فطرت، طہارت اور اطاعتِ الٰہی کے اصولوں سے جوڑا، جدید سائنس نے اسی عمل کو صحت، حفظانِ صحت اور بیماریوں سے بچاؤ کے مؤثر وسیلے کے طور پر تسلیم کیا۔ یوں دین اور سائنس کے درمیان بظاہر پائی جانے والی خلیج یہاں سمٹتی دکھائی دیتی ہے اور دونوں ایک ہی حقیقت کی مختلف جہتوں کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں۔
اسی طرح ختنہ کی روایت محض ماضی کی یادگار نہیں بلکہ تحقیق کی کسوٹی پر پرکھا ہوا عمل ہے۔ صدیوں پرانی دینی اور تہذیبی روایت کو جدید طبی تجربات اور شماریاتی مطالعات نے تقویت بخشی ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ روایت اگر فطرت سے ہم آہنگ ہو تو تحقیق اس کی نفی نہیں بلکہ توثیق کرتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں روایت اور تحقیق ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون بن جاتے ہیں۔ اسی جامع تناظر میں ختنہ کو محض ایک رسم یا ثقافتی علامت کہنا اس کی معنوی وسعت کو محدود کر دینا ہوگا۔ درحقیقت یہ انسانی بھلائی کا ایک ہمہ گیر ضابطہ ہے، جو فرد کی صحت، معاشرے کی تہذیب اور انسان کی روحانی زندگی!!! تینوں کو یکجا کر کے انسانی فلاح کے ایک متوازن تصور کو جنم دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ختنہ زمانوں کی تبدیلی کے باوجود اپنی افادیت، معنویت اور علمی وقعت برقرار رکھے ہوئے ہے اور آج بھی انسانیت کے لیے ایک زندہ، مربوط اور قابلِ اعتماد اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔
ختنہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اسلام میں عبادت اور صحت، روحانیت اور صفائی، ایمان اور فطرت ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ جو دین وضو، غسل، طہارت اور پاکیزگی کو عبادت کا دروازہ قرار دے، وہ انسانی جسم کے تقاضوں سے کیسے بے خبر ہو سکتا ہے؟ ختنہ اسی طہارتی نظام کی ایک مضبوط کڑی ہے جو انسان کو ظاہری نجاست سے بھی بچاتی ہے اور باطنی اطمینان بھی عطاء کرتی ہے۔ یہ وہ عمل ہے جو بندۂ مومن کو اس کی فطری ساخت کے مطابق سنوارتا ہے اور اسے عبادت کے لیے زیادہ موزوں بناتا ہے۔ یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ آج جب جدید انسان عقل، سائنس اور تحقیق پر فخر کرتا ہے، تو وہی تحقیق بار بار ان اعمال کی تصدیق کرتی دکھائی دیتی ہے جنہیں اسلام نے صدیوں پہلے فطرت کا تقاضا قرار دیا تھا۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ اس امر کی دلیل ہے کہ وحی الٰہی اور صحیح انسانی عقل میں کوئی تصادم نہیں۔ اختلاف وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں تعصب، انا یا فکری تنگ نظری علم پر غالب آ جائے۔
ختنہ پر اٹھنے والے اعتراضات دراصل ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ ہر وہ آواز جو جدیدیت کے نام پر بلند ہو، ضروری نہیں کہ علم پر مبنی ہو، اور ہر قدیم روایت لازماً فرسودہ نہیں ہوتی۔ اسلام نے انسان کو اندھی تقلید سے بھی بچایا ہے اور اندھے انکار سے بھی۔ اس نے "سنو، سمجھو، پرکھو اور پھر اختیار کرو" کا مزاج پیدا کیا۔ ختنہ اسی متوازن اسلامی مزاج کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہاں اہلِ ایمان کے لیے بھی ایک خاموش تذکیر ہے کہ وہ اسلامی احکام کو محض وراثتی رسوم نہ سمجھیں بلکہ ان کے پیچھے کار فرما حکمت، رحمت اور انسانی خیر خواہی کو پہچانیں۔ جب ایک مسلمان شعور کے ساتھ یہ سمجھے کہ ختنہ اس کی طہارت، صحت اور فطرت کی حفاظت کرتا ہے، تو اس کا دینی عمل محض تقلید نہیں رہتا بلکہ معرفت بن جاتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ختنہ انسان کے لیے اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ایک رحمت آمیز رہنمائی ہے۔ ایسی رہنمائی جو زمانوں کے بدلنے سے فرسودہ نہیں ہوتی، بلکہ ہر دور میں نئی معنویت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ یہ عمل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی ترقی وہی ہے جو فطرت سے ہم آہنگ ہو، اور حقیقی تہذیب وہی ہے جو جسم، روح اور عقل تینوں کا حق ادا کرے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنی فطرت کے مطابق جینے، اپنی شریعت کی حکمتوں کو سمجھنے، اور دین و عقل کے اس حسین امتزاج کو اپنی زندگیوں میں عملی صورت دینے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین یا ربّ العالمین۔
🗓 (06.01.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○
Comments
Post a Comment