••جادو ٹونہ — ایک فکری انحراف اور روحانی زوال (غیر مرئی طاقتوں کا فریب اور ربّ واحد کا یقین)••

*••جادو ٹونہ — ایک فکری انحراف اور روحانی زوال (غیر مرئی طاقتوں کا فریب اور ربّ واحد کا یقین)••

*
*Witchcraft and Sorcery — An Intellectual Deviation and Spiritual Decline*
  ●🕯️༻حِکمتِ༺﷽༻نوری༺🕯️●

                         جادو ٹونہ
       ایک فکری انحراف اور روحانی زوال
(غیر مرئی طاقتوں کا فریب اور ربّ واحد کا یقین)

         ✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
                    09422724040
            ┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

انسانی تاریخ کا مطالعہ یہ حقیقت آشکار کرتا ہے کہ جب بھی انسان نے عقل، فطرت اور وحی کی روشنی سے منہ موڑا، تو اس کے قدم وہم، خوف اور باطل تصوّرات کی تاریکیوں میں جا پڑے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان محنت، صبر اور توکل جیسے فطری و اخلاقی اصولوں کو چھوڑ کر شارٹ کٹ، غیر مرئی طاقتوں اور خفیہ تدبیروں کا سہارا لینے لگتا ہے۔ جادو ٹونہ اسی فکری انحراف اور روحانی کمزوری کی ایک نمایاں اور خطرناک صورت ہے، جو ہر دور میں مختلف شکلوں کے ساتھ انسانی معاشروں میں سر اٹھاتی رہی ہے۔

اسلام، جو انسان کو عزّت، وقار اور شعوری بندگی کا درس دیتا ہے، اس طرزِ فکر کو نہ صرف مسترد کرتا ہے بلکہ اسے ایمان، اخلاق اور انسانی شرافت کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیتا ہے۔ جادو ٹونہ محض ایک توہم پرستانہ عمل نہیں، بلکہ وہ فکری و اعتقادی زہر ہے جو انسان کو اللّٰہ پر اعتماد کے بجائے خوف، وہم اور شیطانی وابستگیوں کا اسیر بنا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و سنّت نے اس موضوع پر محض خاموشی اختیار نہیں کی بلکہ واضح، دو ٹوک اور اصلاحی رہنمائی فراہم کی ہے۔

آج کے سائنسی اور ٹیکنالوجی کے دعوؤں سے بھرپور دور میں بھی جادو، ٹونے اور عاملوں کی دکانوں کا آباد رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ صرف جہالت کا نہیں بلکہ روحانی خلا، اخلاقی کمزوری اور دینی شعور کی کمی کا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جادو ٹونہ کو محض کہانی یا توہم سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے، بلکہ اس کے فکری، دینی اور انسانی مضمرات کو سنجیدگی سے سمجھا جائے۔

زیرِ نظر مضمون اسی ضرورت کے پیشِ نظر تحریر کیا گیا ہے، جس میں جادو ٹونہ کی حقیقت، اسلام میں اس کا مقام، اس کے مرتکبین کی انجام کاریاں، اور ایک مومن کے لیے اصلاح و حفاظت کے راستے کو علمی، ادبی اور اصلاحی انداز میں واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ تحریر محض معلومات فراہم کرنے کے لیے نہیں، بلکہ قاری کے شعور کو بیدار کرنے، ایمان کو مضبوط کرنے اور اسے خوف و وہم کے بجائے یقین، توکل اور حق پر ثابت قدمی کی راہ دکھانے کے لیے ہے۔

جادو ٹونہ کیا ہے؟ — ایک تعارف

جادو ٹونہ انسانی تاریخ کا وہ سیاہ اور پُراسرار باب ہے جس میں علم کی آڑ میں فریب، قوت کے نام پر کمزوری، اور روحانیت کے لبادے میں شیطانی اغراض پنہاں ہوتی ہیں۔ یہ وہ راستہ ہے جہاں عقل کی روشنی مدھم، فطرت کی آواز دب جاتی ہے، اور انسان حقیقت سے زیادہ وہم پر یقین کرنے لگتا ہے۔ لغوی اعتبار سے جادو اس عمل کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعے کسی شے کی اصل حقیقت کو چھپا کر یا آنکھوں اور ذہنوں پر اثر ڈال کر حقیقت کے برعکس منظر پیش کیا جائے، تاکہ دیکھنے والا حقیقت کو پہچان نہ سکے اور فریب کا شکار ہو جائے۔

اصطلاحی طور پر جادو اُن غیر فطری، خفیہ اور پیچیدہ اعمال کا مجموعہ ہے جن کے ذریعے انسانوں کے دل و دماغ، جذبات و احساسات، صحت و عافیت، باہمی تعلقات اور حتیٰ کہ تقدیر کے دھارے کو بھی ناجائز طور پر موڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ وہ عمل ہے جس میں انسان اپنی محدود عقل اور کمزور ارادے کے باوجود ایسی قوتوں سے رشتہ جوڑنے کا دعویٰ کرتا ہے جو نہ صرف اس کے اختیار سے باہر ہیں بلکہ اسے فکری اور روحانی تباہی کی طرف لے جاتی ہیں۔

جادو ٹونہ عموماً لاعلمی، خوف، مایوسی اور توہم پرستی کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ کمزور ایمان اور غیر مستحکم فکری بنیاد رکھنے والے افراد اسے وقتی فائدے، ذاتی مفاد، انتقام یا دوسروں پر تسلّط حاصل کرنے کا آسان ذریعہ سمجھ لیتے ہیں۔ مگر یہ سہل پسندی دراصل ایک خطرناک فریب ہے، کیونکہ جادو کسی حقیقی قوت یا پائیدار حل کا نام نہیں، بلکہ فریبِ نظر، نفسیاتی دباؤ، ذہنی کمزوری اور شیطانی وسوسوں کا ایسا جال ہے جو انسان کو آہستہ آہستہ حقیقت کی روشنی سے دور اور گمراہی کے گھپ اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے۔

جادو انسان کو اپنی ذمّہ داریوں، محنت اور توکل کے راستے سے ہٹا کر شارٹ کٹ اور غیر اخلاقی طریقوں کا عادی بنا دیتا ہے۔ یوں وہ اسباب اختیار کرنے کے بجائے وہم، اندیشے اور غیر مرئی طاقتوں پر بھروسہ کرنے لگتا ہے، جس کا انجام فکری زوال، اخلاقی پستی اور روحانی کھوکھلا پن کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اس لیے جادو ٹونہ نہ صرف ایک سماجی و اخلاقی خرابی ہے بلکہ انسانی وقار، دینی شعور اور فطری توازن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بھی ہے۔

اسلام میں جادو ٹونہ کا مقام

اسلام ایک ایسا جامع اور ہمہ گیر دین ہے جو عقلِ سلیم، فطرتِ انسانی اور وحیِ الٰہی کے حسین امتزاج سے انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ وہ انسان کو نہ تو اندھی تقلید کا اسیر بناتا ہے اور نہ ہی توہم پرستی کے اندھیروں میں بھٹکنے کی اجازت دیتا ہے، بلکہ اسے شعور، بصیرت اور ذمّہ دارانہ طرزِ فکر کی طرف بلاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام ہر اس فکر، عمل اور رویّے کی صریح نفی کرتا ہے جو انسان کو خالص توحید کے راستے سے ہٹا کر غیر اللّٰہ کے سہاروں، فرضی قوتوں اور باطل تصورات کی طرف مائل کرے۔

جادو ٹونہ اسی انحرافِ فکری اور اعتقادی گمراہی کی نمایاں شکل ہے۔ اس میں براہِ راست شیطانی قوتوں سے وابستگی، جنّات و شیاطین سے مدد طلبی، اور اللّٰہ تعالیٰ کی مطلق قدرت و حکمت پر عدم اعتماد جھلکتا ہے۔ یوں یہ عمل نہ صرف ایک اخلاقی جرم بلکہ توحید کے بنیادی تصور پر کاری ضرب ہے۔ اسی بنا پر اسلام نے جادو ٹونہ کو نہایت سختی کے ساتھ حرام قرار دیا ہے اور اسے ایمان کے لیے مہلک خطرہ بتایا ہے۔

قرآنِ مجید نے جادو کا تذکرہ کسی فخر یا ترغیب کے انداز میں نہیں بلکہ عبرت، تنبیہ اور آزمائش کے پیرائے میں کیا ہے۔ بالخصوص سورۃ البقرہ میں ہاروت و ماروت کا واقعہ اس حقیقت کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کرتا ہے کہ جادو بذاتِ خود کوئی علمِ ہدایت نہیں تھا بلکہ ایک امتحان تھا، جس کے ذریعے انسان کے ایمان، نیت اور فکری پختگی کو پرکھا گیا۔ وہاں دو ٹوک انداز میں یہ اعلان کر دیا گیا کہ جو لوگ جادو سیکھتے اور اسے اختیار کرتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں کسی خیر، کامیابی یا نجات کی کوئی ضمانت نہیں۔

احادیثِ نبویہﷺ میں بھی جادو کی قباحت اور سنگینی کو غیر معمولی شدت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے جادو کو اُن ہلاک کرنے والے گناہوں میں شمار فرمایا جو انسان کے دین اور دنیا دونوں کو برباد کر دیتے ہیں۔ یہ دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ جادو صرف ظاہری نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ انسان کے ایمان، توکل اور روحانی اساس کو کھوکھلا کر دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ حق و باطل میں امتیاز کی صلاحیت بھی کھو بیٹھتا ہے۔

اسلام کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ انسان اسباب اختیار کرے، محنت کرے، تدبیر سے کام لے، مگر اس کا دل اور یقین مکمل طور پر اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ وابستہ رہے۔ توکل کا یہی معتدل اور متوازن تصور اسلامی فکر کی بنیاد ہے۔ جادو ٹونہ اس توازن کو درہم برہم کر دیتا ہے، کیونکہ اس میں انسان اسباب کے خالق کو چھوڑ کر خود ساختہ اور وہمی طاقتوں پر اعتماد کرنے لگتا ہے۔ اسی لیے جادو ایمان، توحید اور اسلامی طرزِ حیات کے صریح منافی ہے اور ایک صالح معاشرے کے لیے زہرِ قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔

جادو ٹونہ کرنے والوں کی بخشش نہیں

جادو ٹونہ محض چند خفیہ اعمال یا توہم پرستانہ حرکات کا نام نہیں، بلکہ یہ دراصل ایک گہری فکری اور اعتقادی بغاوت ہے جو انسان کو بندگی کے مقام سے گرا کر سرکشی اور انحراف کے راستے پر ڈال دیتی ہے۔ اس عمل میں انسان آہستہ آہستہ اللّٰہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ سے بدظن ہو جاتا ہے اور اپنے مسائل کے حل کے لیے اس ذاتِ واحد کے بجائے شیطان اور اس کے آلۂ کاروں کی دہلیز پر سر جھکانے لگتا ہے۔ یوں وہ نادانستہ طور پر شیطان کے دربار کا وفادار بن جاتا ہے، جہاں بندگی نہیں بلکہ غلامی اور ذلت مقدر ہوتی ہے۔

اسی خطرناک انحراف کے پیش نظر قرآنِ مجید نے جادو کرنے والوں کے بارے میں نہایت سخت اور دو ٹوک لہجہ اختیار کیا ہے۔ وہاں واضح الفاظ میں یہ حقیقت بیان کر دی گئی ہے کہ جادو اختیار کرنے والے لوگ آخرت میں سخت خسارے سے دوچار ہوں گے، ان کے لیے نہ کوئی اجر ہے اور نہ ہی نجات کی کوئی سبیل۔ یہ سختی دراصل اس بات کی دلیل ہے کہ جادو صرف ایک اخلاقی لغزش نہیں بلکہ ایمان کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والا عمل ہے۔

علمائے اُمت کی اکثریت اس امر پر متفق ہے کہ اگر جادو کا عمل اس حد تک پہنچ جائے کہ اس میں غیر اللّٰہ سے مدد طلب کی جائے، جنّات یا شیاطین کے سامنے جھکا جائے، یا ایسے اقوال و افعال اختیار کیے جائیں جو صریحاً شرک و کفر پر منتج ہوں، تو ایسا شخص دائرۂ ایمان سے خارج ہو جاتا ہے۔ ایسی حالت میں، اگر وہ بغیر توبہ کے دنیا سے رخصت ہو جائے تو اس کے لیے بخشش کی کوئی امید باقی نہیں رہتی۔ درحقیقت یہ رویّہ انسان کی خود ساختہ خدائی کا اعلان بن جاتا ہے، جس میں وہ تقدیر بدلنے، نفع و نقصان پر کامل اختیار رکھنے اور غیب کے رازوں میں مداخلت کا دعویٰ کرتا ہے، جو صرف اللّٰہ تعالیٰ کا حق ہے۔

تاہم اسلام محض وعید اور سختی کا دین نہیں بلکہ وہ عدل کے ساتھ ساتھ رحمت کا بھی علمبردار ہے۔ اس لیے توبہ کا دروازہ اس وقت تک بند نہیں ہوتا جب تک انسان میں رجوع الی اللّٰہ کی رمق باقی ہو۔ اگر جادو کرنے والا خلوصِ دل کے ساتھ سچی توبہ کرے، اپنے باطل عقائد اور اعمال سے مکمل برأت کا اعلان کرے، اور آئندہ زندگی کو ایمان، توکل اور اطاعتِ الٰہی کے سانچے میں ڈھال لے، تو اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت اس کے استقبال کے لیے آمادہ ہو جاتی ہے۔ یہی اسلام کی اصلاحی حکمت ہے کہ وہ گناہ سے نفرت سکھاتا ہے، مگر گناہگار کے لیے واپسی کا راستہ بھی کھلا رکھتا ہے۔

جادو ٹونہ کرنے والوں کا انجام

جادو ٹونہ اختیار کرنے والے افراد بظاہر وقتی طور پر کچھ فائدے سمیٹ لیتے ہیں۔ کبھی وہ دوسروں پر نفسیاتی تسلّط قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، کبھی انتقام کی آگ بجھا لینے کا گمان کرتے ہیں، اور کبھی مال یا شہرت کے چند لمحاتی ثمرات حاصل کر لیتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام کامیابیاں سراب کی مانند ہوتی ہیں، جن کے بدلے وہ اپنی روح کا سکون، قلبی اطمینان اور آخرت کی ابدی کامیابی کا سودا کر بیٹھتے ہیں۔ جو شخص غیر فطری اور غیر اخلاقی راستے سے فائدہ حاصل کرتا ہے، وہ دراصل اپنے باطن کو کھوکھلا اور اپنی انسانیت کو مجروح کر لیتا ہے۔

دنیا میں جادو کرنے والوں کا انجام اکثر ذلت، خوف اور بےچینی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ وہ ہمہ وقت اندیشوں میں مبتلا رہتے ہیں، اس خوف کے ساتھ جیتے ہیں کہ کہیں ان کا فریب بےنقاب نہ ہو جائے یا وہی شیاطین، جن سے انہوں نے مدد لی ہے، ان کے دشمن نہ بن جائیں۔ معاشرہ ان پر اعتماد نہیں کرتا، رشتے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں، اور ان کی زندگی نفسیاتی اضطراب اور داخلی انتشار کا نمونہ بن جاتی ہے۔ یوں وہ خود بھی سکون سے محروم رہتے ہیں اور اپنے گرد و پیش میں فساد، بدگمانی اور نفرت کے بیج بوتے چلے جاتے ہیں۔

آخرت میں ان کا انجام دنیا سے کہیں زیادہ ہولناک اور دردناک ہوگا۔ قرآنِ مجید کی واضح تنبیہ کے مطابق ایسے لوگوں کے لیے نہ کوئی حصّہ ہے، نہ کوئی نصیب، اور نہ ہی کامیابی کی کوئی امید۔ وہ اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کر دیے جائیں گے، شیطان کی رفاقت ان کا مقدر ہوگی، اور دائمی خسارہ ان کی پہچان بن جائے گا۔ یہ وہ انجام ہے جس میں نہ ندامت کام آئے گی اور نہ ہی دنیا کی عارضی چالاکیاں کسی نجات کا ذریعہ بن سکیں گی۔

حقیقت یہ ہے کہ جادو انسان کے اخلاقی زوال کا تیز ترین راستہ ہے۔ یہ اسے اخلاقی بلندی اور انسانی شرافت سے گرا کر پہلے حیوانی خواہشات کا اسیر بناتا ہے، جہاں نفع و نقصان ہی سب کچھ بن جاتا ہے، اور پھر رفتہ رفتہ شیطنت کے درجے تک پہنچا دیتا ہے، جہاں ظلم، فریب اور فساد زندگی کا معمول بن جاتے ہیں۔ اس مرحلے پر انسان نہ صرف دوسروں کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے بلکہ خود اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو برباد کر لیتا ہے۔ اصلاح کا پیغام یہ ہے کہ وقتی فائدے اور ناجائز تسلّط کے یہ تمام راستے بالآخر تباہی کی طرف ہی لے جاتے ہیں۔ حقیقی کامیابی نہ جادو میں ہے، نہ فریب میں، بلکہ ایمان کی پختگی، اخلاق کی بلندی، صبر، دعا اور اللّٰہ تعالیٰ پر کامل توکل میں ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو دنیا میں بھی سکون اور آخرت میں بھی نجات عطاء کرتا ہے۔

اسلام انسان کو عزّت، وقار اور روحانی آزادی عطا کرنے والا دین ہے۔ وہ انسان کو خوف، وہم اور بےنام طاقتوں کے سامنے جھکنے کے بجائے ایک ربِ واحد کے حضور سرِ تسلیم خم کرنا سکھاتا ہے، جس کے قبضۂ قدرت میں کائنات کی ہر شے ہے۔ اسلام انسان کی خودی کو بیدار کرتا ہے، اسے یہ شعور دیتا ہے کہ وہ مخلوق ضرور ہے مگر مجبور نہیں، کمزور ضرور ہے مگر بے سہارا نہیں۔ اسی شعور کے ذریعے انسان ہر طرح کی باطنی غلامی اور فکری زنجیروں سے آزاد ہو جاتا ہے۔

اس کے برعکس جادو ٹونہ انسان کو آہستہ آہستہ خوف، وہم اور غیر مرئی قوتوں کے تصوّرات میں اس طرح جکڑ لیتا ہے کہ وہ اپنے فیصلے، جذبات اور حتیٰ کہ اپنی امیدیں بھی انہی خیالی طاقتوں کے حوالے کر دیتا ہے۔ یوں وہ اللّٰہ پر اعتماد کرنے کے بجائے فریب اور اندیشوں کا اسیر بن جاتا ہے، اور اس کی روحانی آزادی ایک خاموش قید میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ جادو کا سب سے بڑا نقصان یہی ہے کہ وہ انسان کے اندر سے یقین، حوصلہ اور توکل کی روشنی چھین لیتا ہے۔

لہٰذا ایک باشعور اور صاحبِ ایمان مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ جادو کے وجود کا انکار نہ کرے، کیونکہ شریعت نے اس کی حقیقت اور آزمائشی حیثیت کو واضح کیا ہے، مگر اس سے مرعوب بھی نہ ہو۔ وہ یہ یقین رکھے کہ کوئی طاقت اللّٰہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ جادو کے منفی اثرات سے حفاظت کا راستہ کسی عامل یا ٹونے ٹوٹکے میں نہیں، بلکہ ایمان کی مضبوطی، خلوص کے ساتھ دعا، دل کی حاضری کے ساتھ ذکرِ الٰہی، اور اللّٰہ پر غیر متزلزل توکل میں پوشیدہ ہے۔ یہی وہ روحانی حصار ہے جو انسان کو باطنی اضطراب اور فکری انتشار سے محفوظ رکھتا ہے۔

یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ حقیقی طاقت نہ جادو میں ہے، نہ فریب میں، اور نہ ہی وقتی تسلّط میں۔ اصل قوت اللّٰہ تعالیٰ پر کامل یقین، آزمائشوں میں صبر، اور ہر حال میں حق پر ثابت قدمی اختیار کرنے میں ہے۔ یہی صفات انسان کو دنیا میں عزّت، سکون اور استقامت عطاء کرتی ہیں، اور آخرت میں سرخروئی اور نجات کا ذریعہ بنتی ہیں۔ یہی اسلام کا پیغام ہے اور یہی انسانیت کی حقیقی فلاح کا راستہ۔

یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ ہمارے سامنے رہنی چاہیے کہ جادو ٹونہ محض ایک باطل عمل یا وقتی گمراہی نہیں، بلکہ یہ ایمان، اخلاق اور انسانی وقار کے خلاف ایک خاموش مگر مہلک جنگ ہے۔ یہ انسان کو اللّٰہ تعالیٰ کی بندگی کے شرف سے محروم کر کے خوف، وہم اور شیطانی وابستگیوں کی غلامی میں دھکیل دیتا ہے، جہاں نہ دل کو سکون میسر آتا ہے اور نہ ہی زندگی کو کوئی واضح سمت حاصل ہوتی ہے۔ جادو کا راستہ بظاہر آسان اور پُرکشش دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے اختتام پر صرف پشیمانی، خسارہ اور روحانی و اخلاقی تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

ایک مومن کے لیے سب سے بڑی طاقت اس کا ایمان ہے، اور سب سے بڑا سہارا اس کا ربّ۔ جو دل اللّٰہ تعالیٰ سے جڑ جاتا ہے، اس پر نہ جادو کا وار کارگر ہوتا ہے اور نہ ہی شیطانی وسوسے اس کی بنیادیں ہلا سکتے ہیں۔ قرآنِ مجید اور سنّتِ نبویﷺ نے ہمیں یہ یقین عطاء کیا ہے کہ نفع و نقصان، عزّت و ذلّت اور خیر و شر سب اللّٰہ کے اذن سے ہے۔ اس یقین کے ہوتے ہوئے کسی عامل، ٹونے ٹوٹکے یا غیر مرئی طاقت کے سامنے جھکنا دراصل اپنی روحانی خود مختاری سے دستبردار ہونے کے مترادف ہے۔ یہ مضمون محض جادو ٹونہ کی قباحت بیان کرنے کے لیے نہیں، بلکہ ایک بیداری کی صدا ہے۔ یہ یاد دہانی ہے کہ ہمیں اپنے معاشرے کو خوف اور توہم پرستی سے پاک کر کے علم، شعور اور ایمان کی روشنی سے آراستہ کرنا ہے۔ ہمیں اپنے گھروں، مسجدوں اور تعلیمی اداروں میں یہ یقین راسخ کرنا ہوگا کہ مسائل کا حل جادو میں نہیں، بلکہ دعا، محنت، صبر اور اللّٰہ پر کامل توکل میں پوشیدہ ہے۔

آئیے ہم سب اس عہد کی تجدید کریں کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ہر اس راستے سے دور رہیں گے جو ہمیں توحید سے ہٹا کر وہم اور فریب کی طرف لے جائے۔ ہم اپنے دلوں کو ذکرِ الٰہی سے زندہ رکھیں گے، اپنے اعمال کو شریعت کی روشنی میں سنواریں گے، اور ہر حال میں حق پر ثابت قدم رہیں گے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا میں عزّت، سکون اور استقامت عطا کرتا ہے، اور آخرت میں اللّٰہ تعالیٰ کی رضا اور ابدی نجات کا ذریعہ بنتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں باطل کے ہر فتنہ سے محفوظ رکھے، ایمان کو ہمارے دلوں کی سب سے قیمتی متاع بنائے، اور ہمیں خوف و وہم کے بجائے یقین، توکل اور ہدایت کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

🗓 (12.01.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
                      ○○○○○○○○○

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam