••جب سیاست فتنہ بن جائے: تاریخ کے کٹہرے میں سیاست اور اُمّت••
*••جب سیاست فتنہ بن جائے: تاریخ کے کٹہرے میں سیاست اور اُمّت••*
When Politics Turns into Discord: Politics and the Ummah in the Court of History*
●🕯️༻حِکمتِ༺﷽༻نوری༺🕯️●
جب سیاست فتنہ بن جائے
تاریخ کے کٹہرے میں سیاست اور اُمّت
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
اسلام نے فرد اور قوم دونوں کو محض جذبات کے سہارے نہیں، بلکہ شعور، بصیرت اور اخلاقی ذمّہ داری کے ساتھ جینے کی تعلیم دی ہے۔ قرآنِ مجید بار بار انسان کو غور و فکر، عدل و انصاف اور اجتماعی ذمّہ داری کا احساس دلاتا ہے، اور یہی اصول ایک زندہ اور باوقار ملّت کی بنیاد ہوتے ہیں۔ تاریخِ اُمّت گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے حالات کو آنکھیں بند کر کے قبول کیا، یا وقتی مفاد کے لیے اپنی اجتماعی بصیرت قربان کی، تو اس کا انجام کمزوری، انتشار اور زوال کی صورت میں سامنے آیا۔
آج ہم ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں سیاست نے خدمت کے بجائے مفاد، اصول کے بجائے موقع پرستی، اور تعمیر کے بجائے تفریق کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ ملّتِ اسلامیہ کے محلّوں، بستیوں اور دلوں میں پھیلتی ہوئی بے چینی محض اتفاقی نہیں، بلکہ ایک گہری فکری اور اخلاقی آزمائش کی علامت ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں خاموشی جرم بن جاتی ہے اور بے شعوری اجتماعی نقصان کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ دیکھا جائے تو ظلم پر خاموش رہنا، فتنہ انگیزی کو نظر انداز کرنا اور باطل کے ہاتھ مضبوط کرنا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ یہ حقیقت اور زیادہ واضح ہو جاتی ہے کہ جب قومیں اپنے داخلی اتحاد کو کھو دیتی ہیں، تو بیرونی طاقتوں کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی۔ اسی لیے اسلام اخوت، اتحاد اور اجتماعی حکمت پر زور دیتا ہے، تاکہ اُمّت محض تعداد کا ہجوم نہ رہے بلکہ شعور اور مقصد رکھنے والی قوت بن سکے۔
یہ مضمون اسی احساسِ ذمّہ داری کے تحت پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد نہ مایوسی پھیلانا ہے، نہ محض شکوہ و شکایت، بلکہ ضمیر کو جھنجھوڑنا، فکر کو بیدار کرنا اور ملّت کو یہ یاد دلانا ہے کہ اس کی اصل طاقت اس کے اتحاد، بصیرت اور خودداری میں ہے۔ اگر ہم نے اس لمحے کو سنجیدگی سے لیا، تو یہی بیداری مستقبل کی اصلاح کا پیش خیمہ بن سکتی ہے؛ اور اگر ہم نے اسے بھی نظر انداز کر دیا، تو تاریخ ہمیں ایک اور کھوئے ہوئے موقع کے طور پر یاد رکھے گی۔ یہ محض چند جملے نہیں، بلکہ ایک سلگتے ہوئے ضمیر کی فریاد اور ایک بیدار دل کی پکار ہیں۔ وہ سیاسی پارٹیاں جنہوں نے اقتدار کی ہوس میں مسلم محلّوں کو مستقل کشمکش، خوف اور فساد کی آماجگاہ بنا دیا، دراصل وہ خود تاریخ کے کٹہرے میں کھڑی ہیں۔ ان کی سیاست نہ تعمیری ہے، نہ فلاحی؛ وہ صرف نفرت کے شعلوں کو ہوا دیتی ہیں تاکہ اپنی سرد ہوتی بساط کو گرم رکھ سکیں۔
افسوسناک سوال یہ ہے کہ ہم کب تک ان کے ہاتھوں کا مہرہ بنے رہیں گے؟ کب تک ہمارے جذبات، ہماری غیرت اور ہماری مظلومیت کو ووٹوں کی منڈی میں نیلام کیا جاتا رہے گا؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کی زبان پر ترقی کے نعرے ہیں، مگر زمین پر ان کے وعدوں کا کوئی نشان نہیں۔ نہ تعلیم میں کوئی انقلابی قدم، نہ صحت میں کوئی بنیادی اصلاح، نہ روزگار کے میدان میں کوئی ٹھوس پیش رفت بس شور، اشتعال اور کھوکھلے دعوے۔ مزید المیہ یہ ہے کہ انہی کے مفاد کے لیے ہم آپس میں دست و گریباں ہو جاتے ہیں۔ وہ ہمیں ناموں، مسلکوں، علاقوں اور معمولی اختلافات میں الجھا دیتے ہیں، اور ہم بے خبری میں اپنی اجتماعی قوت کو خود ہی پارہ پارہ کر لیتے ہیں۔ دشمن باہر کمزور نہیں، ہم اندر سے کمزور کیے جا رہے ہیں اور اس کمزوری کی قیمت ہمارے بچّے، ہمارے محلے اور ہمارا مستقبل ادا کر رہا ہے۔
یہ محض وقتی سیاسی چالیں نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا اور منظم طریقۂ کار ہے جسے جدید سیاسی اصطلاح میں سیاسی استحصال (Political Instrumentalization) کہا جاتا ہے۔ اس حکمتِ عملی کے تحت بعض سیاسی قوتیں دانستہ طور پر شناختی سیاست (Identity Politics) کو فروغ دیتی ہیں، تاکہ شہری مسائل، معاشی ناکامیوں اور حکمرانی کی کوتاہیوں سے عوام کی توجہ ہٹا کر انہیں مذہب، شناخت اور خوف کے دائروں میں الجھائے رکھا جائے۔
اقلیتوں کے محلّوں میں کشیدگی پیدا کرنا دراصل محض اتفاقی عمل نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پیچھے واضح سیاسی مقاصد کارفرما ہوتے ہیں۔ ایک طرف ایسے حالات پیدا کیے جاتے ہیں جن سے اکثریتی طبقہ عدمِ تحفّظ کے احساس میں مبتلا ہو اور یوں اسے ایک مخصوص سیاسی بیانیے کے تحت متحد کیا جا سکے؛ دوسری طرف انہی حالات کو بنیاد بنا کر سکیورٹی، قانون اور نظم و ضبط کے نام پر ریاستی کنٹرول کو مزید سخت کرنے کا جواز پیدا کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً شہری آزادیوں میں کمی، پولیس اور انتظامیہ کے اختیارات میں غیر معمولی اضافہ، اور مخصوص آبادیوں کی مستقل نگرانی ایک معمول بن جاتی ہے۔
اس پورے عمل کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جھگڑے و فساد کے بعد نہ تو مستقل امن کے قیام کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر آتی ہے، نہ متاثرہ علاقوں کی باز آبادکاری کا کوئی واضح اور شفاف روڈ میپ سامنے آتا ہے۔ جلتے گھروں، اجڑتے کاروبار اور زخمی معاشرتی رشتوں کا بوجھ عوام خود اٹھاتے ہیں، جب کہ سیاسی فائدہ وہی قوتیں سمیٹ لیتی ہیں جنہوں نے اس فضاء کو جنم دیا ہوتا ہے۔ یہ تمام حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایسے فسادات کو محض حادثہ یا اچانک بھڑک اٹھنے والا ردِّ عمل سمجھنا سادہ لوحی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر مواقع پر یہ انتشار ایک منظم سیاسی حکمتِ عملی کا حصّہ ہوتا ہے، جس کا مقصد معاشرے کو تقسیم رکھنا، خوف کو زندہ رکھنا اور اقتدار کی بساط کو قائم و دائم رکھنا ہوتا ہے۔
شعوری سیاست کا تقاضا یہ ہے کہ سیاست کو محض ووٹ ڈالنے کی حد تک محدود نہ کیا جائے، بلکہ اسے ایک مسلسل اخلاقی اور سماجی ذمّہ داری کے طور پر سمجھا جائے۔ ووٹ یقیناً انتظامی عمل کا اہم ترین مرحلہ ہے، مگر یہ آخری قدم نہیں، بلکہ آغاز ہے۔ اصل سیاست اس کے بعد شروع ہوتی ہے، جب عوام اقتدار میں آنے والوں سے سوال پوچھتے ہیں، ان کے وعدوں کا حساب مانگتے ہیں اور ان کی کارکردگی کو کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔ ایک باشعور شہری کا کردار یہی ہے کہ وہ نمائندوں کو یہ احساس دلاتا رہے کہ اقتدار امانت ہے، اختیار بے لگام حق نہیں۔ مقامی سطح پر منتخب نمائندوں پر دباؤ ڈالنا، ان سے ملاقات کرنا، تحریری مطالبات پیش کرنا اور عوامی مسائل کو منظم انداز میں اٹھانا دراصل اس نظام کو زندہ رکھنے کے طریقے ہیں۔
جب یہ عمل رک جاتا ہے تو سیاست محض طاقتوروں کا کھیل بن کر رہ جاتی ہے۔ اس تناظر میں خاموشی ایک بے ضرر رویہ نہیں رہتی۔ بہت سے مواقع پر خاموش رہنا ناانصافی کے ساتھ سمجھوتہ اور ظلم کی بالواسطہ تائید بن جاتا ہے۔ سوال نہ پوچھنا، غلطی پر آنکھ بند کر لینا اور وعدہ خلافی کو نظر انداز کرنا دراصل ظالم کو مزید جری کر دیتا ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو نوجوان نسل کے لیے خاص طور پر اہم ہے۔ نوجوان اگر سیاست کو صرف جذباتی نعروں یا انتخابی جوش تک محدود رکھیں گے تو وہ بھی استحصال کے اسی چکر کا حصّہ بن جائیں گے۔ لیکن اگر وہ شعور، سوال اور جواب دہی کو اپنا شعار بنا لیں، تو یہی نسل سیاست کے رخ کو بدلنے اور معاشرے کو انصاف اور وقار کی سمت لے جانے کی حقیقی طاقت بن سکتی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم محض جذبات سے نہیں، شعور سے سوچیں؛ محض نعروں سے نہیں، نتائج سے فیصلے کریں۔ خدارا! اپنی فکر کو بدلیں، اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کریں۔ اُمّت ہونے کا عملی مظاہرہ کریں، محض دعویٰ نہیں۔ اتحاد کو شعار بنائیں، اختلاف کو دانش کے دائرے میں رکھیں، اور اپنے مسائل کو باہم مشورے، اجتماعی حکمت اور منظم جدوجہد کے ذریعے حل کریں۔ یاد رکھئے! جب قومیں سوچ بدل لیتی ہیں تو تاریخ کا رخ بدل جاتا ہے۔ اگر ہم نے آج غور و فکر نہ کیا تو کل صرف پچھتاوا ہمارے حصّے میں آئے گا۔ مگر اگر ہم نے شعوری بیداری، باہمی اتحاد اور خودداری کا راستہ اختیار کر لیا، تو کوئی طاقت ہمیں اپنے ہی گھروں میں اجنبی نہیں بنا سکتی۔
اسلام محض عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر ضابطۂ حیات ہے جو فرد کے ضمیر سے لے کر قوم کے اجتماعی فیصلوں تک رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآن ہمیں یہ اصول سکھاتا ہے کہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتی جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کا ارادہ نہ کرے۔ یہی آیتِ قرآنی ملّت کے لیے آئینہ بھی ہے اور پیغام بھی کہ زوال کا شکوہ کرنے سے پہلے خود احتسابی ناگزیر ہے، اور اصلاح کی ابتداء اپنی سوچ، اپنے رویّے اور اپنی ترجیحات کی درستی سے ہوتی ہے۔ دینی اعتبار سے یہ لمحہ ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم حق و باطل کے فرق کو پہچانیں، فتنہ کو فتنہ سمجھیں اور ظلم کے خلاف واضح موقف اختیار کریں۔ خاموشی، مصلحت اور وقتی فائدہ اگر حق کی قربانی کا سبب بن جائے تو وہ دانائی نہیں بلکہ کمزوری بن جاتی ہے۔ اسی طرح ملّی نقطۂ نظر سے یہ حقیقت اور بھی نمایاں ہے کہ جس قوم میں اتحاد کی روح کمزور پڑ جائے، وہاں اجتماعی وقار باقی نہیں رہتا، اور جس ملّت کے افراد ایک دوسرے کے دکھ درد سے بے خبر ہو جائیں، وہ تاریخ کے رحم و کرم پر چھوڑ دی جاتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سیاست کو عبادت کا درجہ نہ دیں، مگر اپنے سیاسی شعور کو دینی اخلاق سے جدا بھی نہ کریں۔ ہم ووٹ ضرور دیں، مگر ضمیر کے ساتھ؛ ہم اختلاف رکھیں، مگر دشمنی کے بغیر؛ ہم سوال اٹھائیں، مگر فساد کے بجائے اصلاح کے لیے۔ یہی وہ توازن ہے جس کی تعلیم ہمیں اسلام دیتا ہے اور جس کے بغیر نہ فرد سنورتا ہے، نہ معاشرہ۔ یہ تحریر ہمیں اس عہد کی یاد دہانی کراتی ہے کہ ہم صرف ایک منتشر ہجوم نہیں، بلکہ ایک نظریہ، ایک تاریخ اور ایک ذمّہ داری کے وارث ہیں۔ اگر ہم نے اس ذمّہ داری کو پہچان لیا، تو کمزور حالات بھی ہمارے حوصلے کو شکست نہیں دے سکیں گے؛ اور اگر ہم نے اسے فراموش کر دیا، تو سازگار مواقع بھی ہمارے کام نہ آئیں گے۔
آئیے! ہم اپنے ربّ کے حضور، اپنی تاریخ کے سامنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے یہ عہد کریں کہ ہم شعور کو جذبات پر، اصول کو مفاد پر اور اتحاد کو انتشار پر ترجیح دیں گے۔ ہم اپنی سیاست کو اخلاق کی میزان پر پرکھیں گے، اپنے فیصلوں کو عدل و دیانت کے تابع رکھیں گے اور کسی بھی ایسی قوت کا آلۂ کار بننے سے انکار کریں گے جو ہمیں باہم لڑا کر اپنے مفاد کی آگ تاپنا چاہتی ہو۔ ہم اختلاف کو فتنہ نہیں بنائیں گے، بلکہ مشاورت اور اصلاح کا ذریعہ بنائیں گے، اور اپنی اجتماعی طاقت کو تعمیری مقاصد کے لیے بروئے کار لائیں گے۔
یہی دینی وفاداری ہے کہ ہم حق کے ساتھ کھڑے رہیں، خواہ اس کی قیمت وقتی نقصان ہی کیوں نہ ہو؛ یہی ملّی بیداری ہے کہ ہم اپنے حال اور مستقبل دونوں کی ذمّہ داری قبول کریں؛ اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں عزّت، امن اور باوقار مستقبل کی طرف لے جاتا ہے؛ ایسا مستقبل جہاں ہماری پہچان خوف یا فساد نہیں، بلکہ علم، کردار، انصاف اور باہمی احترام ہو؛ جہاں ہماری آنے والی نسلیں شرمندگی نہیں، بلکہ فخر کے ساتھ یہ کہہ سکیں کہ ہم نے ایک مشکل دور میں درست سمت کا انتخاب کیا تھا۔
🗓 (08.01.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○
https://epaper.tahalkatimes.com/epaper/m/49671/695fefa054f71
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiR0to7pUDFUmMOT
Comments
Post a Comment