ایمان، کلمئہ شرک اور مسلمانانِ ہند

        ایمان، کلمئہ شرک اور مسلمانانِ ہند

              بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
            ✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
               +919422724040

بھارت کے اقتدار پر جب سے آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) کے تخریبی نظریہ والی بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی) کا قبضہ ہوا ہے تبھی سے ملک میں فرقہ پرستی کو فروغ دینے والے فیصلے، بل اور قانون منظر عام پر شدت سے  آ رہے ہیں۔ آر ایس ایس نازی ازم سے متاثر ایک انتہا پسند نظریہ ہے، یہ نظریہ نسلی تعصب پر مبنی ہے جو مسلمانوں کی نسل کُشی پر یقین رکھتے ہیں۔ بی جے پی کی ہر پالسی مسلم مخالف ہی نظر آتی ہے۔ جب سے بی جے پی برسر اقتدار آئی ہے بھارت کا منظر نامہ ایک ہندو غلبے کے زیر اثر معاشرہ بن چکا ہے جہاں مسلمانوں کو شب و روز جبر و ستم یا تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بھارت میں مودی سرکار کے مسلمانوں کے خلاف اقدامات پر عالمی میڈیا کی جانب سے مودی کے فیصلوں پر تنقید جاری ہے۔
برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں مودی سرکار کے مسلمان مخالف فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے بھارت میں شہریت سے متعلق متنازع قوانین کو وہاں بسنے والے مسلمانوں کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔جریدے نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ تنگ نظر اور متعصب بھارت میں نریندر مودی کے فیصلوں سے تقسیم گہری ہو رہی ہے۔
اسی سلسلے کی ایک اور کڑی متعصب، متنازع شہریت بل بھارتی صدر کے دستخط کے بعد باقاعدہ قانون بن گیا، متعصب بل پر بھارت بھر میں مظاہرے جاری ہیں، عالمی سطح پر بھی بھارتی شہریت ترمیمی بل کو امتیازی قرار دیا جارہا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ، امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ، ہیومن رائٹس واچ کا انکشاف اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم کی بھارت کی ویب سائٹ ’ہالٹ دی ہیٹ‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ بھارت میں سال 2016ء سے نفرت انگیزی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ یہ ہے موجودہ بھارت کا منظرنامہ۔

اسی منظرنامہ میں ایک منظر یہ بھی نظر آرہا ہے جسے دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ کبھی کبھی لگتا ایمان کی حفاظت میں اگر detention center جانا پڑے تو وہ منظور ہے مگر ایمان کا سودا چاہے وہ شعوری طور پر ہو یا غیر شعوری طور پر منظور نہیں۔ باطل قوتوں کی ساری تگ و دو اسی لئے تو ہے کی وہ اہل ایمان کو کفر و شرک کا مرتکب بنائے۔ جو کام آر ایس ایس جیسی ظالم و جابر تنظیم اپنے ظلم و جبر کی بنیاد پر نہیں کراسکی وہی کام دیگر تنظیمیں سر پر محبت و الفت کے ہاتھ پھیر کر کروا رہی ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ فتنہ ارتداد کا گروہ سرگرم ہوگیا ہے۔
کہیں شرکیہ اشعار والی نظمیں، تو کہیں کفریہ نظریات کے حامل نعرہ۔ یہ مناظر دیکھ کر اضطرابی کیفیت میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ دل پکار اٹھتا ہے کہ مسعود حیف ہے تمہارے ایمان پر۔

اسلام پسند تحریکوں، تنظیموں اور اداروں کو بھی اس غلاظت میں ڈوبتا دیکھ رہا ہوں۔ انہیں اسلامی نعروں اور ترانوں سے شاید الرجی سی ہوگئی ہے۔ اس سے اور آگے بڑھ کر نئے نئے بت تراش لئے گئے ہیں، ایسے بت جسے اسی امت مسلمہ نے پاش پاش کیا تھا۔ آج ہماری اجتماعیت کا ایک بڑا حصّہ ہمیں اسی بت کی عقیدت و احترام کی سمت ہانکے لے جارہا ہے۔ کیا حالیہ صورتحال کی سعی وجہد کی ابتداء ہماری شناخت سے نہیں ہوئی تھی۔ مگر آج اس تحرک کو ہائی جیک کرکے کبھی نیشنلزم، تو کبھی کمینیزم تو کبھی سیکولرزم کی جانب دھکیلا جارہا ہے۔ 
وہ نعرے جس سے باطل کے ایوان کانپ اٹھتے تھے، آج انہیں نعروں کو لگانے کے لئے امت کے افراد کو روکا جا رہا ہے۔ اس کے بلکل برعکس ایسے ایسے نعرے اور نظمیں پڑھتا ہوا دیکھ کر محض رواداری کا لیبل لگاکر آنکھیں اور کانوں کو بند کیا جارہاہے، جس سے بندہ مومن دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے۔
کیا ہم نہیں جانتے کہ شرک کی حقیقت رب تعالیٰ سے مساوات پر ہے یعنی جب تک کسی کو رب کے برابر نہ جانا جائے تب تک شرک نہ ہوگا۔
"أنا الحق" کا نعرہ لگا کر جب انسان اپنے آپ کو رب اعلیٰ کے برابر لاکر کھڑا کرتا ہے تو پھر وہ ایسے شرک کا ارتکاب کرتا ہے، جس کی معافی اللّٰہ رب العالمین کے پاس بھی نہیں ہوتی۔ علماء اہل حق نے اس طرح کے دعوے کو شان ربوبیت میں گستاخی قرار دیا ہے۔ آزمائش کے اس دور میں آج کل ہم جس ترانے سے محظوظ ہورہے ہیں کبھی اس کی حقیقت پر غور کیا کہ وہ کس پس منظر میں لکھے گئے، لکھنے والے کس نظریات کے حامل افراد ہیں، کس کی تاریخ کو ترغیب دلوانے کے لئے لکھے گئے ہیں۔ جب کہ الحمدللّٰہ! ہمارے پاس اس سے بہتر انداز میں نعرے و ترانے موجود ہیں۔ لیکن چونکہ وہ ایک بڑے انقلاب کی آمد کا پیش خیمہ ثابت نہ ہوجائے، اس کے ساتھ ہی ساتھ حکمت و مصلحت کے نام پر اجتناب کا رویہ اختیار کیا جارہا ہے۔

خیر بات کو طول نہ دیتے ہوئے اپنے اصل نکتہ کی طرف آتا ہوں، میرا ایک اشارہ فیض احمد فیض اور حبیب جالب کی نظموں یا ترانے کی جانب ہے۔ دونوں شعراء اپنے عقائد اور فکر و نظر کے معاملے میں کس نظریات کی عکاسی اپنی نظموں و ترانوں میں کرتے تھے یہ دنیا سے چھپا ہوا نہیں ہے۔فیض احمد فیض صاحب چونکہ ایک بہت بڑے athiest تھے۔ اسی لئے انہوں نے اتنی بڑی جسارت کی ہے۔ اپنی نظم "ہم دیکھیں گے" میں لکھتے ہیں:
"اٹھے گا أنا الحق کا نعرہ 
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو"
اس کلمئہ شرک "(أنا الحق)" کے معنی ہے میں ہی حق ہوں۔ اسی أنا الحق کے نعرہ کو لگانے کی پاداش میں اورنگ زیب نے صوفی سرمد اور علماءنے حسین بن منصور حلاج کو تختہ دار پر لٹکایا تھا، اور آج وہی نعرے ترانوں کی شکل میں ہم لگارہے ہیں۔

ایک کتاب "دلی کے بائیس خواجہ" میں ایک تحریر ہے کہ جامع مسجد سے متصل منصور ہند صوفی سرمد کی قبر ہے جن کاسر حضرت اورنگ زیبؒ نے ''أنا الحق'' کی صدا کے جرم کے پاداش کی شکل میں قلم کروایا تھا۔
وہ ایران کے یہودی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ پیشہ تھا تجارت، یہ رئیس تاجر گھوڑوں کی تجارت کرتا ہوا ہندوستان آیا۔
منصور حلاج بھی ''أنا الحق'' کا نعرہ لگاتے تھے ،سرمد بھی ''أنا الحق'' کا نعرہ لگاتے تھے ۔ ساتھ ہی وہ برہنہ بھی رہتے تھے ۔ جوکہ جذب کے عالم کو واضح کرتا ہے ۔ اور مجذوب کبھی اپنے اختیار میں نہیں رہتا ہے ۔
حسین بن منصور الحلاج نے بھی اسی قسم کا نعرہ لگانے کی جسارت کی تھی۔ ایک عام انسان جس کے سر میں خدا ہونے کا سودا سمایا اور اس نے ''أنا الحق'' کا نعرہ مارا۔ وہ مجذوب تھا، اس کا یہ دعویٰ جو کفر کی حدوں کو چھوتا تھا۔ اسے بھی تختہ دار پر چڑھا دیا گیا۔
عام مستشرقین ( وہ کافر جو مسلمانوں کا لبادہ اوڑھے ہوۓ ہیں ) کے ہاں یہ بہت مقبول ہے اوروہ اسے مظلوم سمجھتے ہيں کہ اسے قتل کردیاگیا ، اور اس کا سبب اس کا وہ عیسا‏ئی کلام اورتقریبا انہی کا عقیدہ ہے جس کا اعتقاد رکھتا تھا۔
جس کا ذکر پاکستان کے شاعر حبیب جالب نے بھی اپنے اشعار میں کیا ہے۔
میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے 
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے 
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے 
ظلم کی بات کو جہل کی رات کو 
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا.
(حبیب جالب جس نظریات کے حامل تھے اس کی عکاسی ان کی شاعری سے بھی جھلکتی ہے۔)
حلاج کے کئی ناقابل معافی گناہ تھے جن کی بنا پر وہ مرتد ہوکر واجب القتل ٹھہرا۔ اس وقت کے علماء نے اجماعا اس کے کفر اور زندیق ہونے کا فتوی صادر کیا، اور اسی فتوی کی وجہ سے اسے 309 ھـ میں بغداد میں قتل کردیا گيا، اسی لئے اکثر صوفی بھی اس کی مذمت کرتے اور یہ کہتے ہیں کہ وہ صوفیوں میں سے نہیں تھا۔
اسے قتل کرنے کی کوشش کرنے والوں میں قاضی ابوعمر محمد بن یوسف مالکی رحمتہ اللّہ علیہ شامل ہیں۔
ابن کثير رحمہ اللّٰہ علیہ نے البدایۃ والنھایۃ میں ابوعمرمالکی رحمہ اللّٰہ علیہ کی مدح سرائی کرتے ہوۓ کہا ہے کہ ان کے فیصلے بہت ہی زیادہ درست ہوتے اور انہوں نے ہی حسین بن منصورالحلاج کوقتل کیا۔ البدایۃ والنھایۃ ( 11 / 172 ) ۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیۃ رحمہ اللّٰہ علیہ کا کہنا ہے کہ :جس نے بھی حلاج کے ان مقالات جیسا عقیدہ رکھا جن پروہ قتل ہوا تووہ شخص بالاتفاق کافر اور مرتد ہے اس لیے کہ حلاج کو مسلمانوں نے حلول اور اتحاد وغیرہ کا عقیدہ رکھنے کی بنا پر قتل کیا تھا ۔
جس طرح کہ زندیق اوراتحادی لوگ یہ کہتے ہیں مثلاً حلاج یہ کہتا تھا کہ : میں اللّٰہ ہوں، اور اس کا یہ بھی قول ہے : ایک الہ آسمان میں ایک زمین میں ہے.

اورحلاج کچھ خارق عادت چیزوں اور جادو کی کئ ایک اقسام کا مالک تھا اوراس کی طرف منسوب کئ ایک جادو کی کتب بھی پائ جاتی ہیں ، تواجمالی طورتوامت مسلمہ میں اس کے اندر کوئ اختلاف نہيں کہ جس نے بھی یہ کہا کہ اللہ تعالی بشرمیں حلول کرجاتا اور اس میں متحد ہوجاتا ہے اوریا یہ کہ انسان الہ ہوسکتا ہے اوریہ معبودوں میں سے ہے تووہ کافر ہے اوراس کا قتل کرنا مباح ہے اوراسی بات پرحلاج کوبھی قتل کیاگیا تھا۔ (مجموع الفتاوی ( 2 / 480 ).

اور ایک جگہ پر شیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالی نے یہ کہا ہے کہ :ہم مسلمان علماء میں سے کسی ایک عالم اور نہ ہی مشائخ میں سے کسی ایک شیخ کوبھی نہیں جانتے جس نے حلاج کا ذکر خیر کیا ہو ، لیکن بعض لوگ اس کے متعلق خاموشی اختیار کرتے ہيں اس لیے کہ انہیں حلاج کے معاملے کا علم ہی نہیں۔ مجموع الفتاوی ( 2 / 483 )۔

موجودہ حالات میں ہمیں ایک مضبوط لائحہ عمل مرتب کرنا ہوگا ورنہ آنے والی نسلیں صرف اور صرف ہمارے نام کا مرثیہ ہی پڑھیں گی۔ ہمیں اپنی بنیادوں پر، اپنی شناخت کے ساتھ ان کرب ناک حالات کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ ورنہ داستانوں میں بھی داستان نہ ہوگی ہماری!!!
بہر حال وقت سے پہلے جو تیاری کرلیتے ہیں وہ عقل مند کہلانے کے ساتھ تکلیفوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ پروپیگنڈہ سے متاثر ہو کر خوفزدہ نہ ہوں بلکہ حالات سے نبٹنے کیلئے حکمت و عمل کا سہارا لیں۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ
نہ ہم سفر سے نہ ہم نشیں سے نکلے گا 
ہمارے پاؤں کا کانٹا ہمی سے  نکلے گا
اللّٰہ رب العالمین ہی سیدھے راہ کی راہنمائ کرنے والا ہے۔ واللّٰہ تعالی اعلم۔
                     (02.02.2020)
       ©M•••══ ༻م✿خ༺══ •••K©
                      ○○○○○○○○○

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam