"جاری النكبة" حق و باطل کا معرکہ

                     "جاری النكبة"
                حق و باطل کا معرکہ

              بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

                 ✍۔مسعود محبوب خان
             +919422724040

     آج ایک گولم صہیونیت نواز کی ویڈیو دیکھی جو حالات کے خوف و دہشت سے اسرائیل چھوڑ کر دوبارہ بھارت آگیا اور ہمارے مہاراشٹر کی مقامی زبان مراٹھی میں صہیونیت نواز اسرائیل کے گمراہ کن نظریے اور پروپیگنڈہ کو رٹے مارے ہوئے طوطے کی مانند بیان کرنا شروع کردیا۔ اس کی گفتگو ہی بتاتی ہے کہ آج صہیونیت نواز یہود کتنا خائف ہے اور وہ شخص خود کتنا حقیقت حال سے ناواقف ہے۔ پوری دنیا جب یہودیوں کا قتل عام کررہی تھی ٹھیک اسی وقت فلسطینی مسلمانوں نے انہیں سہارا دیا، اور آج یہی شاطر و مکار قوم اپنے محسنوں کے قتل و بربادی کے درپے ہیں۔
     دنیا میں ٹیکنالوجی کے معاملے میں اتنا بڑا ملک جس کے پاس well advanced ، ماڈرن ٹیکنالوجی سے آراستہ، well sophisticated ہتھیار arms and ammunition موجود ہے۔ جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ہر پانچ سے سات سال میں اپنے ہتھیاروں کی تجدید (advance) کرنے پر فکر مند رہتا ہے۔ ابھی ہم نے دیکھا کہ کیسے قیمتی آئرن ڈوم ایئر راکٹس اس کے پاس ہیں، مگر اس کے باوجود وہ حماس کے دیسی راکٹوں سے اپنی مقبوضہ راجدھانی کی بھی حفاظت نہیں کرپایا۔
      آخر ایسا بار بار کیوں ہوتا کہ صہیونیت اپنے عزائم کو بڑھانے کے لئے پے درپے نہتے اور بے بس فلسطینیوں کی آبادیوں کو برباد کرنے پر تلی ہیں، اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جب ان شاطر اور مکاروں کو شکست ہونے لگتی ہے تو اپنے امن کے پیغامبروں کو آگے کرکے جنگ بندی کی بھیک مانگی جاتی ہیں۔ شیطانوں کی دم چھلہ قوم، مغضوب علیہ قوم، نبیوں اور رسولوں کی قاتل قوم، پوری دنیا کا امن و سکون غارت کرنے والی قوم، دنیا میں فحش و عریانیت کا ننگا کھیل کھیلنے والی قوم، شاطر و مکار اور ظالم و جابر قوم کی قسمت میں خاک میں ملنا ہی ان صیہونیوں کا مقدر ہے۔ جس کی گواہی قرآن دیتا ہے۔
     حق و باطل کی معرکہ آرائیاں تو تا قیامت دجال کی سرکوبی تک جاری و ساری رہے گی۔ ہمارا یہ بھی عقیدہ ہے کہ درخت و پتھر تک ان کے کئے ہوئے ظلم کی وجہ سے ان کے چھپے ہونے کی گواہی دے کر اللّٰه کے بندوں کو دعوت دیں گے کہ آؤ مرے پیچھے صہیونیت نواز یہودی چھپا ہے۔ اسے اس کے انجام تک پہنچا دو۔
     یہ تمام چیزیں تو آثار قیامت کی پیشنگوئیاں ہیں مگر اب کیا ایسی صورتحال ہوئی کہ آج غزہ کی قلیل مسلمانوں کی اجتماعیت سے، کثیر تعداد کی صہیونیت اور ان کے ہمنواؤں کی اجتماعیت خائف ہیں۔ صہیونیت کی نوآبادیاتی بستیاں بڑھانے کی حوس نے دوبارہ اس محاذ کو جنم دیا ہے۔ حالانکہ اگر اسرائیل  1967ء سے قبل والی اپنی سرحدوں پر لوٹ جائے، جو اسے بھیک کے ٹوکرے میں ملی تھی، تو وہ سرحدیں قدس کے درمیان سے ہوکر تل ابیب تک کا فاصلہ صرف 9 کلومیٹر کی حد تک منحصر رہ جاتا ہے۔ اب دنیا میں کون سی ایسی ریاست ہے جس کا اتنا کم رقبہ ہو۔ تو کیا اس صورتحال میں صہیونیت نواز اسرائیل کسی لمحہ امن و سکون کے احساس کے ساتھ اپنا وجود باقی رکھ پائے گا۔ جب کہ اسرائیل کے لیڈروں نے اس بات کا اعلان کر دیا ہے کہ پورا فلسطین اسرائیل کی سرزمین ہے اور وہ جہاں چاہیں اپنی بستیاں آباد کرسکتے ہیں۔ اسی لئے وہ وقتاً فوقتاً اپنی بستیوں کو بڑھانے کے لئے آئے دن مسلمانوں کی بستیوں کو برباد کرکے وہاں اپنی بستیاں قائم کررہا ہے اور مسلمانوں کو جلاوطن کررہا ہے۔
     فلسطینی 1948 کی جبری بے دخلی کو ’جاری نکبہ‘ (عربی میں النكبة) کا نام دیتے ہیں کیونکہ 1947 سے 1949 کے درمیان فلسطین کی 80 فیصد مقامی آبادی کو ہٹانے اور جبری طور پر جلاوطن کرنے کا عمل شروع ہوا تھا۔ نکبہ کا مطلب تباہی ہے۔
     کئی مرحلوں میں اسرائیل نے اپنی نوآبادیاتی بستیاں مقبوضہ علاقوں میں ظلم وجبر کی بنیاد پر تعمیر کی اور اسے دفاعی اسٹریٹیجی اور سیاسی اعتبار سے ضروری قرار دیا۔ پہلے مرحلے (1967-1977) میں وادئ اردن کے ساحلی علاقوں میں یہودی بستی بسائی گئیں۔
     دوسرے مرحلے میں 1948ء سے قائم قدس کی سڑک کو توسیع دینے کا پروگرام تھا، اس لیے شہر کے مضافات میں بیت لحم اور بیت خلیل کے یہودیوں سے لگ کر بستیاں قائم کی گئی تاکہ ان سے ربط قائم ہوجائے۔ اور عربوں کا جنوبی کنارے جانے کا راستہ بند ہوجائے۔
     تیسرے مرحلے میں یعنی ستر کی دہائی کے وسط سے شروع ہوئی۔ اس منصوبے کو "طور غوش ایمونیم" کے نام سے مشہور کیا گیا۔ اس تحریک نے 1978 میں 125 میں سے 60 بستیاں اپنی نگرانی میں آباد کروائی۔ اس تحریک نے "کریات رابع" بستی کو اپنا اہم مرکز بنا کر مہاجرین و پناہ گزینوں کا استقبال کرکے انہیں well planned لاکر بسایا گیا۔
     چوتھا مرحلے کا آغاز 80 کی دہائی میں شروع ہوتا ہے۔ اس منصوبے کو نام دیا گیا "طور الضواحی"۔ ان علاقوں میں 80 فیصد یہودیوں کو آباد کروایا گیا۔ اس طرح کےمرحلے اور واقعات و منصوبے بنتے رہے اور دھیرے دھیرے فلسطین کی سرزمین میں یہودیوں کو دنیا کے کونے کونے سے لاکر بسایا گیا۔ اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔

      جب کہ صیہونیوں کے ہی بنائے گئے اقوام متحدہ کی امن کونسل نے دسمبر 1992ء میں ایک قرارداد منظور کی جس میں اسرائیل سے اس بات کا مطالبہ پورا کیا گیا کہ وہ تمام ہی جلاوطن فلسطینیوں کو پورے امن امان کے ساتھ فوری طور پر مقبوضہ علاقوں میں واپس بلائے۔ لیکن واضح رہے کہ اس کے برعکس صیہونی درندے مظلوم فلسطینیوں پر ہر طرح کے مظالم روا رکھے ہوئے ہیں یہاں تک کہ خواتین اور بچوں کو بھی گرفتار کرکے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ جس کی تصویریں اور ویڈیوز ہمیں بیچین رکھتے ہیں۔
     پورے رمضان میں شاید ہی کوئی ایسا دن گیا ہوگا جس میں ظالموں نے ظلم نہیں کیا!! قبلہ اول مسجد اقصٰی میں افطار و سحر کے وقت، نمازوں میں مشغول عبادت گذاروں پر، ہماری ماں و بہنوں کی عزت و عصمتوں پر، حتی کہ چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو بھی نہیں بخشا، ان کم ظرف ظالموں نے۔ ہمارے تیسرے متبرک مقام قبلہ اول مسجد اقصٰی اور نبی کریمؐ کے مقام معراج پر بموں کی بارش کی گئی۔
     صیہونیوں کے ان ہی گناہوں کی پاداش میں حماس کے رہنما اسمعیل ہانیہ نے اعلان کیا کہ " مسجد اقصیٰ ہمارا قبلہ اوّل، ہماری شناخت اور ہمارا ایمان ہے۔ ہم نے دشمن کو بارہا اپنے ناپاک ہاتھ مسجد اقصیٰ سے دُور رکھنے کی تنبیہ کی ہے"۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت ہماری اسٹریٹجک ترجیح ہے۔ موجودہ جدوجہد بیت المقدس، مسجد اقصیٰ، شیخ جراح اور مہاجرین کی واپسی کے حق کے لئے کی جا رہی ہے۔ القدس اور مسجد اقصیٰ صیہونیت کے خلاف جدوجہد کی بنیاد ہیں۔"
     آخر اسمعیل ہانیہ نے شیخ جراح اور مہاجرین کا تزکرہ کیوں کیا؟ یہ شیخ جراح کیا ہے؟ کبھی ہم نے معلوم کرنے کی زحمت گوارا کی؟ موجودہ فلسطینی تنازعے میں شیخ جراح اتنی اہمیت کا حامل کیوں ہے؟
     ہمیں معلوم کہ مشرقی بیت المقدس (یروشلم) کا عرب اکثریتی علاقہ الشیخ جراح یا شیخ جراح آج کل فلسطینوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے درمیان جاری کشیدگی میں محاذ جنگ بنا ہوا ہے۔ یہ علاقہ صیہونیوں کے توسیع پسندانہ، نوآبادیاتی صہیونی کالونیاں قائم کرنے کے منصوبے کا تازہ ترین نُقطہ اِشتعال بن گیا ہے۔ صہیونی آباد کاری اپنی غاصبانہ کاروائیوں کا ایک جاری عمل اور نیا مرحلہ ہے، جس کے ذریعے فلسطینیوں کو جلاوطن کرکے وہاں صیہونیوں کو لاکر آباد کیا جائے۔

     شیخ جراح کا یہ علاقہ جبل المشارف نامی پہاڑی پر آباد کیا گیا تھا۔ اس پہاڑی سے بیت المقدس کا نظارہ بخوبی کیا جاسکتا ہے، لہذا عسکری اعتبار سے بھی یہ کافی اہم سمجھا جاتا تھا۔ شیخ جراح کے باشندوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے آبا واجداد کی زمین اور املاک صہیونیوں کو نہیں دیں‌ گے۔ اس کالونی کے ساتھ ان کی میراث وابستہ ہے۔
اسرائیلی قوم پرست 1967 سے اس علاقے میں فلسطینی آبادی کی جگہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پانچ دہائیوں کے دوران شیخ جراح کے اندر اور اس سے متصل متعدد اسرائیلی بستیاں تعمیر کی گئی ہیں۔

یہی بنیادی وجوہات ہیں۔ جس کی وجہ سے فلسطین میں حق و باطل کی کشمکش و معرکہ آرائی کا دوبارہ آغاز ہوگیا ہے۔ جس کے نتیجے میں حماس جیسی چھوٹی سی اجتماعات نے اتنا بڑا فیصلہ لیا ہے اور ظالم و جابر اکثریت سے نبردآزما ہے۔ اللّٰه انہیں کامیابیوں اور کامرانیوں سے ہمکنار کرے، فتح و نصرت ان کا مقدر ہو۔ کیونکہ قرآن کہتا ہے: فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ۠ (بیشک اللّٰه ہی کا گروہ غالب ہوگا)۔
(17.05.2021)
©K•••══ ༻م✿خ༺══ •••M©
#SaveMasjideAqsa
#SavePhelistine
#SaveGaza
#SaveDomeOfTheRock
#SaveSheikhJarrah

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam