اسلامی فکر و نظر کا روشن ستارہ

        اسلامی فکر و نظر کا روشن ستارہ

             بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
 
             مسعود محبوب خان (ممبئی)

      آہ! سالم بھائی (بمبئی) نقیب وحدتِ اسلامی، مغربی مہاراشٹر بھی اب ہمارے درمیان نہیں رہے _دار فانی سے دار بقاء کی طرف رحلت فرما گئے۔

إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
لاریب یہ دنیا فانی ہے۔ بلاشبہ ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے، صرف اللّٰہ رب العالمین کی ہستی کو دوام ہے، اس کے سوا جو کچھ بھی ہے اسے فنا ہونا ہے۔ تاہم کچھ انسان دنیا میں رہ کر اپنی حیات اس ڈھب سے گذارتے ہیں کہ ان کے اثرات تادیر باقی رہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں میں ایک سادہ سی شخصیت تھی محمد سالم صدیقی۔
اسلامی تحریک کے لئے ملک کے کونے کونے سے جن ہستیوں کا انتخاب کرکے اللّٰہ تعالیٰ نے لوگوں کو جمع کروایا تھا بلاشبہ ان میں سے ہر ایک افکار و نظریات اور کردار و عمل کے لحاظ سے نابغہ روزگار اور مثالی شخصیت کے مالک تھے۔۔ موجودہ دور میں اگر چراغ لے کر بھی تلاش کریں تو ان کی مثال ڈھونڈنا محال ہے۔ دنیا تیزی سے ان ہستیوں سے خالی ہوتی جارہی ہیں اور کوئی نہیں جو ان کی جگہ لے سکے۔

جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں
کہیں سے آب بقائے دوام لے ساقی

نہایت متقی و پرہیز گار، خوش مزاج، خوش اخلاق، خوش گفتار، مہمان نواز، ہر ایک کے لیے دیدہ و دل فرشِ راہ کرنے والے، ملنسار اور زندہ دل انسان تھے۔ جنہوں نے راہ خدا میں صعوبتیں اور اذیتیں بھی برداشت کی ہیں۔ موجودہ تحریک اسلامی ہند کی اصل فکر و نظر کو قائم و دائم رکھنے کے لئے ہزاروں گمنام کارکنان اور معروف رہنماؤں کے ساتھ ایک ابھرا ہوا نام ان کا بھی ہے۔ جب سے ان کے دنیا سے کوچ کرجانے کی اطلاع ملی ہے، اضمحلال و اضطراب کی کیفیت دل پر طاری ہوگئی ہے۔ واقعی دل کی عجیب کیفیت ہے۔ حالانکہ طبیعت کے fluctuations کا معاملہ کافی دنوں سے چل رہا تھا، مگر ایک امید قائم تھی کہ ان شاء اللّٰہ! جلد از جلد انہیں شفاء یابی مقدر ہوگی۔ چند روز قبل انہیں سانس اور سینے کی تکلیف کے باعث شریک اسپتال کیا گیا، طبیعت زیادہ خراب ہونے اور سانس میں رکاوٹ کے بعد انہیں مصنوعی تنفس پر رکھا گیا۔۔مگر کسے پتہ تھا کہ وہ اپنے چاہنے والوں کو غمزدہ چھوڑ کر ابدی نیند سو جائیں گے۔ لیکن اللّٰہ کے فیصلوں اور حکمتوں کو وہ ہی بخوبی جانتا ہے۔ سالم بھائی تنظیم و تحریک کے دیرینہ کارکن ہی نہیں بلکہ وہ خود اس کی ایک زریں تاریخ رہے ہیں۔ ان شاء اللّٰہ! جب بھی تحریک اسلامی ہند کا ذکر ہوگا انہیں ہمیشہ یاد کیا جاتا رہے گا۔

سالم بھائی سے میری دیرینہ رفاقت تھی، بڑی پیاری شخصیت کے مالک تھے، ہمارے ساتھ ان کا تعلق بہت ہی مشفقانہ رہا۔  اور یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب ان کی ریڈی میڈ گارمنٹس کی ایک فیکٹری ماہم دھاراوی میں تھی، جب ہم لوگ طلبہ تنظیم سے وابستہ تھے۔ اکثر و بیشتر انجم علی باپے کے ساتھ سالم بھائی سے مشورہ کے لئے جانا ہوتا تھا، وہ بہت مصروف ہونے کے بعد بھی اپنا قیمتی وقت ہمیں دیتے، ہماری مہمان نوازی کا حق بھی ادا کرتے۔ اس وقت آفس کو ڈیمولش کرکے نئے کنسٹرکشن کا فیس بھی تھا، کئی اہل خیر حضرات سے ملاقاتیں کرواتے اور مالی امداد فراہم کرنے کے لئے ہمیشہ پیش پیش رہتے۔ ہم جانتے ہیں کہ بمبئی جیسے مصروف شہر میں اپنے کاروبار کو پس پشت ڈال کر اللّٰہ کے دین کے لئے وقت نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے مگر تنظیم سے سبکدوشی کے بعد بھی وہ ایمانداری سے ہمیں اپنا قیمتی وقت و آراء دیتے۔

اس وقت تربیت و تزکیہ کے لئے جب بھی سالم بھائی کو اجتماعات میں موضوع پر استفادے کی غرض سے بلایا جاتا کبھی بھی اتنے بڑے آدمی ہونے کے بعد بھی اپنی شخصیت کا لوہا نہیں منوایا، ہمیشہ چہرے پر مسکراہٹ و تبسم اور خندہ پیشانی سے اسے قبول کرتے اور اس کا بھرپور حق بھی ادا کرتے۔

ان کے مشورے بہت ہی بوسٹ آپ کرنے والے پریکٹیکل ہوتے۔ فکری طور پختگی اور استواری سالم بھائی کا شیوہ رہا۔ ان کی گفتگو علمی و تحقیقی ہوا کرتیں۔ اور میں نے ان کی شخصیت سے ایک چیز بہت ابھری ہوئی محسوس کی کہ تحریکی فکر کے ساتھ ساتھ اسلامی انقلابی و جہادی فکر کے بہت بڑے ہمنوا تھے۔ میں یہ بات بہت شعور کے ساتھ کہہ رہا ہوں، کیونکہ بمبئی جیسے بڑے شہروں میں مختلف قسم کے افراد وابستہ ہوتے ہیں اور ہوتے آئیں ہیں، ان میں اپنی صالح و اسلامی فکر کی ترجمانی کرنا یہ ہر ایک کا خاصہ نہیں ہوتا۔

علمی و فکری طور پر عملاً ان سے اس موضوع پر استفادے کے کئی مواقع فراہم ہوتے رہے۔ تنظیمی و تحریکی ذہن بہت پختہ تھا، اس کی ایک خاص وجہ تھی ان کا ٹھوس مطالعہ، ایسے ایسے نکات لاتے کہ بعض اوقات عقل دنگ رہ جاتی۔ انہوں نے آزمائش کے دور میں بھی بھرپور تعاون کیا، ہماری ہمتوں و حوصلوں کو بھی بلند کرنے کی کوششیں کی۔ اللّٰہ انہیں غریقِ رحمت کرے۔

وہ لوگ جن کے ہونے پہ نازاں تھی زندگی
وہ لوگ چل بسے ہیں خدا مغفرت کرے

اے موت کے فرشتوں! ذرا رم تو لو
کہ ہم کہہ کہہ کے تھک گئے ہیں خدا مغفرت کرے

اللّٰہ تعالیٰ! میرے اس مشفق مربی و مزکی رہنما سالم بھائی کی بھی بال بال مغفرت فرمائے ان کے حسنات کو قبول فرمائے ان کے سیئات کو حسنات سے مبدل فرمائے ان کے درجات کو بلند فرمائے ان کی قبر کی منزل آسان فرمائے۔ امت و وحدتِ اسلامی کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔ وحدت اسلامی اور پسماندگان و لواحقین کو اس ناقابلِ تلافی نقصان و صدمہ سے ابھرنے کی طاقت و حوصلہ عطا فرمائے۔
اللهم اغفر لها و ادخلها الجنة
🤲🏻 آمین ثم آمین یارب العالمین 🤲🏻

           ✍- مسعود محبوب خان
                   9422724040
            M🕊༻م✿خ༺🕊K

Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam