نظامِ زَر اور عالَم اسلام
نظامِ زَر اور عالَم اسلام
(Money system and Islamic World)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
﴿وَلَا تَاۡكُلُوۡٓا اَمۡوَالَـكُمۡ بَيۡنَكُمۡ بِالۡبَاطِلِ﴾
اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دُوسرے کے مال ناروا طریقہ سے کھاؤ۔ (البقرة: 188)
"نظامِ زَر اور عالَم اسلام" اس موضوع پر لکھنے کی جسارت اس لئے ہوئی کہ میں نے بمبئی کی جس اسکول سے تعلیم حاصل کی وہاں 8ویں سے 10ویں تک کامرس کے نام سے مختص کلاس تھی، وہاں کامرس کے عنوان کے تحت اسباق پڑھائے اور سکھائے جاتے تھے۔ اس کے بعد کالج میں کامرس فیکلٹی میں داخلہ ہوا، جہاں بارٹر سسٹم اور رائج دنیاوی اقتصادی و معاشی نظام پر کافی بڑے کینوس پر مطالعہ ہوا۔ اس موضوع کو تحریر میں لاتے وقت اپنی کم علمی کا اعتراف بھی شدت سے محسوس ہوا۔ لیکن اللّٰہ گواہ ہے کہ میں نے طالب علم کی حیثیت سے اس موضوع پر اپنے خیالات و احساسات اور جذبات کو حاصل مطالعہ کی حیثیت سے آپ کے ساتھ بانٹنے کی کوشش کی ہے۔
اس مضمون میں کوشش کیا ہوں کہ گفتگو کا مرکز صرف زَر، کرنسی اور موجودہ mode of payments and transactions ہی رہیں۔ فائنانس، تجارت، بینکنگ سسٹم، سودی نظام معیشت، نہ ہوں، کیونکہ الحمدُللّٰہ! ان موضوعات پر کافی کچھ لکھا اور کہا جارہا ہے۔ قدیم اور جدید ادوار میں رائج medium of money exchange کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ جس میں مندرجہ ذیل نکات پر سیر حاصل گفتگو کرنے کی کوشش کی گئی ہیں۔
• زَر" کی حیثیت، • زَر" کی تعریف، • اِفْراطِ زَر کا معاملہ، • کرنسیوں کا ارتقاء، • نظامِ مقایضہ، • قیمتی دھاتی اشرفیاں یا سکّہ، • کاغذی کرنسی یا رسیپٹ، • فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے، • کاغذی کرنسی کے منفی اثرات، • پلاسٹک کرنسی، • ای کرنسی، • کرپٹو کرنسی یا ورچوئل کرنسی، • بلاکچین سسٹم کیا ہے؟، • کرپٹو کرنسی کا تعارف، • بِٹکوئن یا کرپٹو کوئن کی تیاری، • کرپٹو کرنسیز کی مختلف اقسام، • کرپٹو کرنسی کے نقصانات و منفی اثرات، • کرپٹو کرنسی اور عالم اسلام، • اسلام اور نظام زَر
✿ "زَر" کی حیثیت:
قرآن کریم نے مال و زَر کو قیام للناس کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ تجارت و معیشت کو پسندیدہ اور اللّٰہ کا فضل کہا ہے، اور مال کو خیر کے لفظ سے ماخوذ کیا ہے۔ دولت و زَر، مال و متاع انسانی معاشرے میں بہت ہی اہمیت کے حامل ہوتے رہے ہیں۔ مال و زَر بنی نوع انسانی کے حیات کا سبب بھی ہے، زندگی کو برقرار رکھنے کا بڑا ذریعہ اور اہم وسیلہ مال و زَر ہیں۔
اسلامی معیشت و تجارت کا اصل فطری اور کامیاب ترین طریقہ یہی ہے کہ وہ زَر کی بنیاد پر ہو۔ زَر کی حیثیت و شرح ایک ایسے معیاری ذریعۂ تبادلہ کی ہو جس پر تمام بنی نوع انسانی متفق ہوں۔
✿ "زَر" کی تعریف:
"زَر" اصل میں فارسی زبان کا لفظ ہے، جس کے حقیقی معنی سونا ہے اور مجازاً اس کا اطلاق چاندی و قیمتی دھات یا معدنیات اور دور حاضر کی کرنسیوں، روپیہ، پیسہ و دولت پر بھی ہوتا ہے۔ اور دنیا بھر میں اسی سونے و چاندی کے سکوّں کے ذریعے "زَرِ مُبادَلَہ" کا طریقہ، عام و خواص دونوں کے لئے آسان و معروف تھا۔
معاشیات میں زَر سے مراد ایک ایسا وسیلۂ مبادلہ (medium of exchange) ہے۔ پیسہ یا زَر (money) ایک ایسی شے ہے جسے اجناس (goods) اور خدمات (services) وغیرہ کے تبادلے میں دیا جاتا ہے۔
اسلام کی تاریخ میں"زَر" یا "کرنسی" ہمیشہ سونے اور چاندی سے بنے سکّے ہی ہوا کرتے تھے۔ اللّٰہ ربّ العالمین نے قرآنِ کریم میں جب کرنسی کا ذکر کیا ہے تو سونے کے دینار (سورہ آل عمران: 75) اور چاندی سے بنے دراہم (سورہ یوسف: 20) کے سکّوں کا ذکر کرکے بنی نوع انسانی کو اس بات کا علم دیا کہ کرنسی کی شکل اللّٰہ کے نزدیک سکّے ہی ہیں۔
سونے کے دینار اور چاندی کے دراہم کو "شرعی زَر" اس لیے کہا جاتا ہے کہ شریعت نے اس کے ساتھ دین کے کئی معاملوں کا تعلق جوڑ دیا ہے۔ مثلاً زکوٰۃ، مہر اور حدود وغیرہ میں۔ لہٰذا سونے اور چاندی کا ہر سکّہ دینار و درہم نہیں کھلائے گا بلکہ وہ سکّہ جو کم از کم بائیس (22k) قرات سونے سے بنا ہو اور اس کا وزن 4.25 گرام ہو تو اُسے ہم ایک دینار کہیں گے۔ چاندی کا سکّہ جو کم از کم 99% خالص چاندی سے تیار کیا گیا ہو، جس کا وزن تقریباً 2.975 گرام ہو اُسے ہم ایک درہم کہیں گے۔ دینار و درہم ان دونوں کو شریعت نے "ثَمَن" قرار دیا ہے۔ اس لیے اسلامی معاشی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کو معلومات کی جلد رسائی کے لیے استعمال کیا جائے گا ناکہ بطورِ "زَر"۔ بقول علامہ اقبال:
یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوند
بتان وھم و گماں لا الہ الا اللّٰہ
✿ اِفْراطِ زَر کا معاملہ:
محفوظ سونے سے زیادہ کاغذی کرنسی یا نوٹوں کا اجرا جس سے روپیہ کی قدر و قیمت گھٹ جاتی اور اشیا کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ اِفْراطِ زَر کے مسائل کو حل کرنے کی غرض سے کاغذی، پلاسٹک، ڈیجیٹل اور ورچوئل یا کرپٹو کرنسیوں کا بڑا مسئلہ انسانیت کے سامنے پیش کیا گیا۔ جو مسائل کا حل کم اور اسے بڑھانے کا بڑا ذریعہ ثابت ہورہا ہے۔ عصر حاضر میں نظامِ معیشت کے سامنے جو اہم مسئلہ درپیش ہے وہ ہے اِفْراطِ زَر کا معاملہ۔ دنیا کے اکثر ممالک اس پریشانی کا شکار ہیں، اِفْراطِ زَر کی شرح اور رفتار بہت تیز ہے۔ بہت سے مسلم ممالک میں اِفْراطِ زَر کی شدید بہتات ہے۔ جس کے پس پشت سودی نظام معیشت کا بڑا دار و مدار ہے۔ جہاں سودی معیشت ہوگی وہاں اِفْراطِ زَر کسی نہ کسی صورت میں موجود ہوگا۔
اِفْراطِ زَر کی ایک سب سے بنیادی اور اہم وجہ حکومت کا اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے زیادہ نوٹ چھاپنا بھی ہے۔ ماہرینِ معاشیات کہ نزدیک اِفْراطِ زَر کی بحرانی کیفیت کو دور کرنے کا حل یہ ہے کہ سود و قرضوں کا کاروبار کرنے کے بجائے حقیقی تجارت ہو۔ حقیقی خدمات یا حقیقی اصول یعنی اثاثۂ جات کی بنیاد پر کاروبار کو فروغ دیا جائے۔ سودی معیشت کے بجائے مشارکانہ معیشت کی ابتداء کی جائے۔ کاغذی زَر کی بنیاد حقیقی زَر پر مشتمل ہو۔ اور زَر حقیقی کی بنیاد حقیقی موجودات یا حقیقی اثاثۂ جات real assets کی بنیاد پر ہو۔
✿ کرنسیوں کا ارتقاء: The Evolution of Currencies
ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی ملک و معاشرے کی معیشت میں کرنسی کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ کرنسی (عُمْلَة یا عُمُلاَت) سے مراد ایسی چیز ہوتی ہے جس کے بدلے دوسری چیزیں خریدی یا بیچی جا سکیں۔ سونے کے دینار، چاندی کے درہم، روپیہ، پیسہ، نقدی، رقم سکّہ یا کرنسی سے مراد ایک ایسی چیز ہوتی ہے جس کے بدلے دوسری چیز خریدی یا بیچی جاسکے۔
تین ہزار قبل مسیح میں میسوپوٹیمیا میں شیکل سکہ بہ طور کرنسی استعمال ہونا شروع ہوا، جب کہ جاپان میں ایک خاص مقدار میں چاول کو 'کوکو‘ قرار دے کر جنسِ تبادلہ کے لیے استعمال کیا گیا۔ کہیں سمندری سیپیوں اور کوڑیوں کو کرنسی کی قدر مانا گیا۔
کرنسی وہ چیز ہونی چاہیے جس کی تخلیق انسان کے ہاتھ میں نا ہو اس لیے گولڈ زیادہ اہم سمجھا گیا۔ ٹائم ویلیو آف منی کو بھی دیکھنا ہے کرنسی وقت گزرنے کے ساتھ اپنی قدر کم کرتی ہے اور دھاتی کرنسی وقت کے ساتھ اپنی قدر بڑھاتی ہے۔ اس کے بمقابل کاغذی کرنسی دھوکہ ہے اور معیشت کو چند ہاتھوں میں دینے کے مترادف۔
بنک آف انگلینڈ کے گورنر نے 2014ء میں ایک بہت اہم تقریر کی ہے، جس میں یہ کہا ہے کہ ہمارا banking system پانچ سال سے شدید بحران کا شکار ہے، لیکن ہم نے اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ یعنی ۲۰۰۷ء سے یہ بحران شروع ہوا ہے۔ اُس نے یہ بھی کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں اپنے پورے بنکاری طور طریقوں (banking culture) کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر ہم بحران سے نہیں نکل سکتے۔
ڈیجیٹل کرنسیوں کی طرح کرپٹو کرنسی یا ورچوئل کرنسی کا وجود محض انٹرنیٹ تک محدود ہے، خارجی طور پر اس کا کوئی جسمانی وجود نہیں۔ عصر حاضر میں متعارف کی گئی کرپٹو کرنسیز ایک decentralised system سے ٹریڈ اور ٹرانزیکشن کرتی ہے، جسے بلاکچین بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے لئے کافی زیادہ کمپیوٹر پاور کی ضرورت ہوتی ہے۔ بلاکچین اور ڈیجیٹل کرنسی مستقبل کی تجارت اور لین دین کے خدوخال مرتب کر رہی ہے۔
ایک وہ سکّوں کا دور تھا جب پیسہ کانوں (mines) میں پایا جاتا تھا اور لوگ اس کی تلاش کے لئے کان کنی (mining) کیا کرتے اور آج ایک یہ کرپٹو کرنسی کا موجودہ دور ہے کہ لوگ الگورتھم اور بلاکچین ٹیکنالوجی کے ذریعے کمپیوٹر سسٹم میں mining کرکے بِٹکوئن وہیل کا روپ دھارن کرتے ہیں۔
کرپٹو کرنسیوں کو کسی ایک مرکزی نظام کے تحت نہیں چلایا جاسکتا اور نہ ہی اس کی مدد سے کسی انسان کی ذاتی معلومات مل سکتی ہیں۔ اور نہ ہی یہ کہ اس نے وہ رقم ماضی میں کہاں اور کن مقاصد کے لیے استعمال کی کا پتا چل سکتا ہے۔ کرپٹو کرنسی کسی حکومتی پالیسی کے بغیر چلنے والا نیٹورک ہے۔ اسی لئے ہمارے ملک بھارت میں بھی کرپٹو یا ورچوئل کرنسی کے لین دین پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
فنانشئیل کیپٹلزم کے نام پہ دنیا میں تبدیلی تو آئی مگر اس سے دنیا کی بیشتر دولت صرف چند ہاتھوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ چیز لانگ رن میں مسائل کھڑے کر رہی ہے یعنی لامحالہ طور پہ ہم انسان معاشی لحاظ سے صرف چند ہاتھوں میں کٹپتلی بن کر رہے گئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں آج کا انسان گریٹ ڈپریشن سے نکل کر گریٹسٹ ڈپریشن میں پہنچ گیا ہے۔ اس کی وجہ سودی نظام اور موجودہ کرنسیوں کا نیٹورک ہی ہے۔ اسلام ہمیں حکم دیتا ہے اور یہ اسلامی معاشی پالیسی کا اہم نکتہ بھی ہے کہ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْؕ-
وہ دولت تمہارے مالداروں کے درمیان (ہی) گردش کرنے والی نہ ہوجائے۔ (سورۃ الحشر: 7)
آج انسان ٹیکنالوجی و ترقی کے سہارے مواصلاتی ٹیکنالوجی میں 4جی (4G) کی صورت میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولیات سے ہوتے ہوئے "کلاؤڈ کمپیوٹنگ" (یعنی کسی بھی کونے میں بیٹھ کر کام کرنے اور معلومات تک رسائی) جیسے کام کو آسان سے آسان بنا کر ارتقائی سفر کی جانب گامزن ہے۔ فائیو جی ٹیکنالوجی کی سب سے اہم پارٹنر ٹیکنالوجی "انٹرنیٹ آف تھنگز- IoT" ہے۔ یہ مختلف طرح کے الیکٹرانک ڈیوائسز کے مابین خود کار اور منظم طریقے سے چلتا ہوا نیٹ ورک ہے۔ اسی نیٹورکینگ کے سسٹم سے مزید آگے بڑھتے ہوئے انٹرنیٹ، چین بلاکینگ ٹیکنالوجی اور ایلگوریدم کے ذریعے کرپٹو یا ورچوئل کرنسی کا وجود بنی نوع انسانی کے لئے کہیں تباہی کا باعث نہ بن جائے۔
•••••••••••••••••••
✿ نظامِ مقایضہ: Barter system
زمانۂ قدیم میں جب کرنسی کا تصور تک نہیں تھا، تب زَرعی معاشرے کا قیام عمل میں تھا۔ اس کے بعد لین دین کے لئے اشیاء کے بدلے اشیاء کا نظام رائج تھا، بھاری بھر کم اناج، دھاتی اشیاء اور دیگر بھاری اور زیادہ حجم والی اشیاء ٹرانزیکشن کے لئے رائج تھی۔ اس نظام کو نظامِ مقایضہ ’’بارٹر سسٹم‘‘ کہتے ہیں۔ آسان الفاظ میں زَر کے استعمال کے بغیر کسی شخص کی اشیاء اور خدمات کا دوسرے لوگوں کی اشیا اور خدمات کے براہ راست تبادلہ بارٹر سسٹم ہوتا ہے۔
آج بھی دنیا کے چند ممالک بارٹر سسٹم کو دوبارہ دنیا میں رائج کرانے کے لئے کوشاں ہیں۔ بارٹر سسٹم پھر سے تقویت پکڑ رہا ہے۔ ستمبر 2018ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ پانچوں عالمی طاقتوں اور ایران نے تیل سمیت ایرانی برآمدات کے عوض ادائیگیوں کے متبادل نظام سے متعلق پیش کی جانے والی تجاویز کا خیر مقدم کیا ہے۔ یورپی سفارت کاروں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ متبادل نظام کے طور پر اشیا کے لین دین (بارٹر سسٹم) پر غور کیا جارہا ہے۔ جس کے تحت ایران کو تیل کی قیمت یورپی اشیاء کی صورت میں ادا کی جاسکے گی۔
'رائٹرز' کی خبر کے مطابق سربراہ کانفرنس کوالالمپور 2019ء میں وزیر اعظم ملائیشیا مہاتیر محمد کا کہنا ہے کہ ایران، ملائیشیا، ترکی اور قطر مستقبل میں اقتصادی پابندیوں کا راستہ روکنے کے لیے باہمی تجارت ڈالر، پاؤنڈ یا یورو کے بجائے سونے، درہم اور چیزوں کی لین دین (بارٹر سسٹم) کی صورت میں کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
عالم اسلام اور کمزور ممالک کو امریکی اور صہیونیت نواز یہودی مالیاتی اداروں کے چنگل سے نکلنے کے لیے ادائیگیوں کا اپنا علیحدہ نظام بنانا ہوگا، صرف اسی صورت میں مسلم ممالک اپنی خودی برقرار رکھتے ہوئے باقی دنیا کے ساتھ برابری کی سطح پر اپنی تجارت کرسکتے ہیں۔ کیونکہ اسلام نے جزوی معاشیات Micro Economics اور کلی معاشیات Macro Economics کے اصول و مسائل سکھائے ہیں۔ جس کو ہم نظامِ معیشت یا نظامِ تجارت کا نام دیتے ہیں۔ جس کے لئے پوری معیشت کی اسلامائزیشن (Islamization of Economy) ناگزیر ہے۔ فلحال وقتی طور پر پرانا بارٹر سسٹم رائج کیا جاسکتا ہے اور بعد میں کسی ایک مشترکہ کرنسی پر اتفاق کیا جاسکتا ہے۔
حضرت عمرؓ نے اپنے دور اقتدار میں حکم جاری فرمایا کہ ہمارے بازار میں صرف وہ شخص تجارت کرے جس کو دین میں تفقہ حاصل ہو۔ امام غزالی تجارت کی اہمیت کو اجاگر کرکے لکھتے ہیں کہ کھانے کے بغیر دنیا میں رہنا ناممکن ہے، اس لیے طلب معاش کے طریقۂ کار کو سیکھنا بھی لازم ہے۔ تجارت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مسلمان جب مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کرکے آئے اس وقت مدینہ میں یہود کی بازاریں اور ان کے تجارت زوروں پر تھی۔ آپﷺ نے مسلمانوں کے لیے الگ بازار قائم کرنے کی فکر فرمائی۔ آپﷺ نے مدینہ منورہ میں مختلف جگہوں کا خود سے معائنہ فرمایا۔ ایک جگہ کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ جگہ مسلمانوں کے بازار کے لیے مناسب نہیں۔ اس طرح دوسری جگہ کا معائنہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ جگہ بھی مناسب نہیں۔ اس کے بعد تیسری جگہ کا جب معائنہ فرمایا اور اس کا چکر لگا کر جائزہ لیا اور فرمایا کہ یہ جگہ تجارت کے لئے مناسب ہے۔ اس میں کمی بھی نہیں ہوگی اور اس میں ٹیکس بھی نہیں لگایا جائے گا۔ (مسند ابن ماجہ)
✿ قیمتی دھاتی اشرفیاں یا سکّہ:
Precious metal nobility or coin.
اس کے بعد پرانے زمانوں میں قیمتی دھاتوں کو عموماً سونے، چاندی اور تانبے کو خریداری کے لیے متبادل کے طور پر استعمال کیا جانے لگا، کیونکہ ان دھاتوں پر ہر ممالک میں آسانی سے دسترس حاصل تھا اور یہ متبادل قابلِ قبول اور آسان ذریعہ ثابت ہونے لگا۔
سونے چاندی یا دوسری دھاتوں کے ذریعہ کی جانے والی لین دین، نظامِ مقایضہ ہی کی ایک شکل ہوتی تھی۔ اُس کے لئے بیعِ صرف (Exchange of money) کے لئے کسی ایکسچینج سینٹر کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ اس مربوط رائج نظام کے ذریعے تجارت و معیشت میں بدعنوانیوں کا دور دور تک واسطہ نہ تھا۔ شریعت اسلامی میں سونا، چاندی حقیقی "ثَمَن" (قیمت، نرخ، نقد مال یا سامان جو باہمی رضامندی سے دوسری شے کے عوض دیا جائے) عصر حاضر کی کرنسیاں عرفی و اعتباری "اثَمَان" (Agreed Price) ہیں اور ان کی پشت پر دراصل سونا، چاندی اور ملک کی اقتصادیات ہوتی ہیں۔
حضرت عبد اللّٰہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں مقامِ بقیع میں اونٹ بیچا کرتا تھا۔ کبھی تو میں دیناروں کے ذریعے اونٹ فروخت کرتا اور خریدار سے دینار کی بجائے دراہم وصول کرتا اور کبھی دراہم میں اونٹ فروخت کرتا اور اس کے بدلے میں دینار وصول کرتا۔ ایک روز میں آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس روز آپﷺ حضرت حفصہ ؓ کے گھر تشریف فرما تھے۔ میں نے استفسار فرمایا یا رسول اللّٰہﷺ! میں مقامِ بقیع میں اونٹ فروخت کرتا ہوں تو کبھی دیناروں کے ذریعے فروخت کرتا ہوں تو وصولی دراہم میں کرتا ہوں اور کبھی دراہم میں فروخت کرتا ہوں تو دیناروں میں رقم وصول کرتا ہوں۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے اس طرح معاملہ کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرط یہ کہ تم اسی روز (فروخت والے دن) کے نرخ کے مطابق برابر لو اور تم اس حالت میں ایک دوسرے سے جدا ہو کہ کسی کے ذمے کوئی دَین باقی نہ ہو۔
سب سے پہلے 600 قبل مسیح میں ترکی کے صوبے مانیسہ کے ایک کاروباری شہر لیڈیا میں سونے اور چاندی کے ٹکڑوں پر مہر لگا کر سکّے بنانے کا آغاز کیا گیا تھا۔ جس سے دھاتوں کو بار بار تولنے کی ضرورت ختم ہوگئی۔ دھاتوں کی کرنسی کو قانونی شکل اور اس کی قیمت کو یکساں رکھنے کے لیے سونے، چاندی اور دیگر قیمتی دھاتوں سے بنے سکّوں کو کئی صدیوں تک خرید و فروخت یا لین دین کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ اس طرح یہ دنیا کے امیر ترین علاقوں میں سے ایک بن گیا۔ شاید یہ دولت ہی تھی کہ سلطنت فارس نے لیڈیا پر حملہ کرکے اسے فتح کر لیا۔
سات سو سے پانچ سو قبل مسیح میں یونان سے ہندوستان اور چین تک سکّے رائج ہو چکے تھے۔ ہندوستان اور چین میں سکّوں میں چھد کے ذریعے ان کی قدر کا تعیّن کیا جاتا تھا۔
ابتدا میں سکّوں کی کوئی خاص شکل نہیں ہوتی تھی اور دھات کی صنف اور وزن سے ہی سکّے کی قدر و قیمت کا تعیّن ہوتا۔ البتہ وقت کے ساتھ ساتھ دھاتی سکّوں میں نفاست آتی گئی اور مختلف حجم اور شکلوں کے سکّے جاری ہونے لگے تاکہ سکّوں کی قدر (intrinsic value) کا آزادانہ طور پر تعین کیا جاسکے۔
تخت ہندوستان پر شیر شاہ سوری 1540ء میں متمکن ہوا۔ اِس سال ہی اُس نے دام، روپیہ اور طلائی مہر جاری کیے جو ہندوستان کی تاریخ میں نئی مثال رقم کرگئے۔ عہدِ سلطنت سور میں جاری کردہ سکّوں میں متعدد آج بھی عجائب گھروں کی زینت ہیں۔ 1556ء میں دوبارہ مغلیہ سلطنت کی بحالی کے بعد سکّوں کے اعشاری نظام کو بحال رکھا گیا جو 1947ء تک اپنی کم و بیش اِسی شکل میں قائم رہا۔
ایک زمانہ تھا جب آج کی طرح کرنسی نوٹوں کا رواج نہ تھا اور دھاتی سکّوں سے پہلے لین دین اور تجارت کے لیے کوڑی، دام، پھوٹی کوڑی، دمڑی، آنے، پائی کا بھی رواج تھا۔ کرنسی کی انہی پرانی شکلوں اور ان کے ناموں کی مناسبت سے اردو زبان میں محاورے بھی مشہور تھے۔ آج بھی یہ محاورے زبان و بیان کی چاشنی اور تحریر و گفتگو کا حسن اور لطف ہیں، لیکن ان کا استعمال اب بہت کم ہوگیا ہے۔ چند ایسے ہی محاورے اور ان کا برتاؤ دیکھیے جو یقینا آپ کی دل چسپی اور توجہ کا باعث بنے گا۔ اسی کے اثرات آج بھی ہمارے معاشرے میں نظر آتے رہے ہیں۔
مثلاً •'سکّہ رائج الوقت'، •'کوڑی تو دور کی بات میں تو اس پر پھوٹی کوڑی بھی خرچ نہ کروں'، •'بھئی خان صاحب کیا بات ہے بڑی دور کی کوڑی لائے ہو !'، •'فلاں شخص نے اپنا مکان کوڑیوں کے مول بیچ دیا۔'، •'پائی پائی جوڑ کر گھر بنایا ہوں'، •'چمڑی جائے مگر دمڑی نہ جائے'، •'آپ کی بات سولہ آنے سچ ہے'، •'وہ تو دھیلے کا کام نہیں کرتا'، •'جناب میں آپ کا بندۂ بے دام ہوں۔'، •'سکّے بٹھا دئیے ہیں دل کی کتاب سے' وغیرہ وغیرہ۔
عربی کا یہی درہم، فارسی میں بیچ سے ایک حرف گرا کے درم کی صورت اختیار کرگیا اور ہندوستانی میں ایک حرف گراکر، اس کی جگہ ایک لمبی آواز بڑھا کر دام ہوگیا۔
قدیم دور میں معاشی نظام کے محاذ دو ہی تھے، زراعت اور تجارت۔ صنعتی انقلاب کا معاملہ تو بہت قریب کا ہے، دست کاریوں کا معاملہ بھی رائج تھا مگر اس کاروبار کو عروج و ترقی بعد میں حاصل ہوئی۔ مشترکہ و اجتماعی تجارتی سرمایہ داری اور لین دین کے معاملات تو ماضی قریب کے ہی ہیں۔
•••••••••••••••••••
✿ کاغذی کرنسی یا رسیپٹ: (Paper Currency)
پھر یہ پائیدار معاشی نظام ردی کے موجودہ نام نہاد کرنسی کاغذوں سے کیوں بدل دیا گیا؟ اس کی وجہ یہ رہی کہ بینک جیسے پرفریب نعروں کے ذریعے لوگوں کی سونے والی اشرفیوں اور سکّوں کو حفاظت کے نام پر وصول کیا گیا اور اس کے بدلے ردی کے کاغذ کی رسیپٹ یا کرنسی تھما کر انہیں اس نظام میں پھنسایا گیا۔ 650ء میں چینی تہذیب "تنگ" نے سب سے پہلے کاغذی رسیپٹ کی ابتداء کی اور مکمل کرنسی کی شکل چینی تہذیب "سونگ" نے اپنے دور میں مکمل کی۔ کاغذی کرنسی کو 'اُڑنے والا پیسہ' کا نام سے بھی دیا گیا تھا۔
یورپین ممالک میں درخت کی چھال سے بنے کاغذ سے مشابہہ ٹکڑوں کو لین دین کے لیے بطور پیسہ استعمال کیا جاتا تھا۔ بعد میں مختلف ناموں سے عوام کے سرمایہ حیات کو 1794ء میں ڈالرز، کہیں یورو، تو کہیں پاؤنڈز وغیرہ وغیرہ کے نام سے کاروبار شروع کیا گیا، جسے Gold Backed کرنسی کا نام دیا گیا۔ 1960ء کے بعد سے جب امریکہ نے ڈالر کے بدلے سونا دینے سے صاف انکار کر دیا تو رسیدیں ہی مستقل مال اور کرنسی بن گئیں۔ موجودہ کاغذی کرنسی جمع شدہ یا حفاظت کے لئے رکھے گئے سونے اور چاندی کے سکّوں کی رسیدیں ہوا کرتی تھیں۔
عالمی سطح پر "فیڈرل ریزرو" کے نام سے امریکہ میں کچھ پرائیویٹ بینکوں نے مل کر ایک مشترکہ بینکنگ نیٹورک بنایا جس کے ذریعے کرنسی جاری کی گئی، جس میں یہودیوں کا بہت بڑا عمل دخل ہے۔ ایک جریدہ وسہل بلور کے ایک مضمون کا عنوان ہے کہ ڈالر جاری کرنے والا امریکی سینٹرل بینک "فیڈرل ریزرو اس صدی کا سب سے بڑا دھوکا ہے۔" عالمی سطح پر کاغذی کرنسی کے بڑے نیٹورک کو جاری و ساری کرنے میں انہیں کا نام ابھرا ہوا نظر آتا ہے۔
کاغذی کرنسی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس میں ہم ادائیگی نہیں کرتے بلکہ آئندہ ادائیگی کا وعدہ دیتے ہیں کیونکہ ہم اسے کسی کو بھی اصل مال زر یا کرنسی تو دیتے نہیں بلکہ ایک ضامنی نوٹ یا رسید دیتے ہوئے قرض منتقل کر دیتے ہیں، اب وہ نوٹ سنٹرل بنک کا چھپا ہوا ہوتا ہے۔ دنیا کے تمام موجودہ ممالک کے آئین اور دستور میں یہ بات درج ہے کہ کاغذی نوٹ "زَر" ہے اور اِسے چھاپنے والے صرف "مرکزی بینک" ہوں گے، جس "زَر" کے پیچھے حکومت کا قانون کار فرما ہو اُسے "زَرِ قانونی" Legal Tender کہا جاتا ہے۔ جب آپ اس سے نوٹ کے بدلے اصل کرنسی گولڈ یا سلور کا مطالبہ کرینگے تو آپ کی تو شامت آجائیگی، کیونکہ بنک کے پاس تو اصل زر یا دولت تو ہے ہی نہیں اتنی۔
اسی لئے کاغذی کرنسیوں پر ایک نوٹ تحریر کی جاتی ہے کہ "میں اقرار کرتا ہوں کہ عندالمطالبہ حامل ہذا کو خزانۂ عامرۂ سرکار عالی سے ادا کرونگا"۔ موجودہ ملکی کرنسی پر گورنر کی دستخط کے ساتھ یہ تحریر ہوتی ہے کہ " I promise to pay the bearer
the some of one thousand rupees."
کاغذی کرنسی ایک شئے ہے۔ کاغذی کرنسی کو کسی بنیاد کے بغیر جاری کرنا اور چیز ہے۔ اگر وہ ذریعہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن جب وہ خود پیسے کی تخلیق کا ذریعہ بن جائے تب اس سے خرابی پیدا ہوتی ہے۔
دراصل انہیں بنیادی وجوہات کی بنا پر اسلامی معاشی نظام میں کاغذی کرنسی، پلاسٹک کرنسی، برقی کرنسی (Digital Currency) مکمل طور پر حرام قرار دی جاتی ہیں۔ کیونکہ اس کے استعمال سے "غرر" لازمی آتا ہیں، جس کی اسلام میں ممانعت ہیں۔ "غرر" کہتے ہیں کسی ایسی چیز کی خرید و فروخت کو جو اس وقت معلوم اور متعین نہ ہو۔ یا جس کی فراہمی فروخت کنندہ کے، بائع کے اختیار میں نہ ہو۔ غرر کی چونکہ ممانعت ہے اس لئے غرر پر مبنی تمام کاروبار کو بھی رسول اللّٰہﷺ نے حرام قرار دیا ہے۔
رسید اگر دو فریق کے درمیان نجی معاملہ ہو تو وہاں تو حلال ہیں، لیکن اس کو تیسرے اور چوتھے فریق پر منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ جب تک اس مال پر قبضہ نہ کیا جائے، جس کی یہ رسید نمائندگی کرتی ہے۔ کیونکہ رسول اللّٰہﷺ نے ایسی تمام چیزوں کے کاروبار کی بھی ممانعت فرمائی ہے جو آپ نے خرید تو لی ہے لیکن ابھی آپ کے قبضے میں نہیں آئی ہے۔ آپ نے قبضہ میں نہ لیتے ہوئے اسے آگے بیچ دی، اپنا نفع رکھ لیا، جس نے خریدی ہے اس نے مزید نفع رکھ کر اور آگے بیچ دی، آگےبھی اسی طرح کا عمل جاری رہا، قبضے میں ابھی کسی کے بھی نہیں آئی، اس طرح کی خرید و فروخت اسلام میں جائز نہیں!!! کیا یہ اصول کرنسی، کارڈز اور ورچوئل کرنسیز پر واقع نہیں ہوتا؟؟
کاغذی کرنسی کی اس بحث سے شرعی طور پر یہ بات واضح ہے کہ اب ان کی حیثیت سند، حوالہ یا دستاویز کی بجائے محض ایک زَرِ اعتبار یا زَرِمبادلہ کی ہے۔ اس حیثیت میں یہ امر واضح رہنا چاہئے کہ کاغذی کرنسی کو کھلے بندوں نہ تو عروض کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی اعلانیہ "اَثمان" قرار دیا جاسکتا ہے۔
✿ فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے:
ہم دیکھتے ہیں کہ جب بینکوں اور بینک نما دیگر اداروں کے پاس جب قیمتی دھاتوں کی فراوانی بڑھ گئی، تب صہیونیت نواز سرمایہ دارانہ نظام نے آکٹوپسی سودی نظام کی داغ بیل ڈالی اور لوگوں کو اس میں جکڑ کر خون چوسنا شروع کیا گیا۔ ہٹلر کے نزدیک پہلی عالمی جنگ کے بعد جرمنی کی معاشی تباہی اور ذلت کا سبب جرمنی کی فوجی مہم جوئی نہ تھی بلکہ اس کی وجہ یہودی اور ان کے آلۂ کار ایجنٹ تھے، یعنی بینکرز، ڈیموکریٹس۔ آج پوری دنیا کا معاشی نیٹ ورک دیکھ لیں تو اندازہ ہوگا کہ اس وقت امریکہ جیسی سپر پاور سمیت تقریبا تمام دنیا کے معاشی و اقتصادی نیٹورک پر یہودیوں کا قبضہ ہے۔ تمام ملٹینیشنل کمپنیز، عالمی میڈیا یہودیوں کے پاس ہے۔
وَأَخْذِهِمُ الرِّبَا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا۔ (القرآن: سورۃ النساء 4: 161)
اور اس وجہ سے کہ وہ (یہود) سود لیتے تھے حالانکہ اس سے ان کو منع کیا گیا تھا اور اس وجہ سے کہ وہ لوگوں کا ناحق مال کھاتے تھے اور ہم نے کافروں کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
اللّٰہ ربّ العالمین نے قرآن میں ایک چھوٹے سے جملے کے ذریعہ معیشت و اقتصادی نظام کے پورے انقلابی اصول کو بیان کردیا کہ:
وَاَحَلَّ اللّٰهُ الۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا ؕ
حالانکہ اللّٰہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سُود کو حرام۔ (القرآن: سورۃ البقرة: 275)
رِبا یہ ہے کہ مالیات سے مالیات پیدا ہوں، بلا لحاظ اس کے کہ یہ مالیات پیداواری عمل میں کوئی کردار ادا کریں۔ اور بیع یہ ہے کہ مالیات استعمال ہوں شے کو خریدنے، اسے پیدا کرنے، بنانے، اُسے فروخت کرنے میں۔ اس طرح گویا اشیاء اور خدمات کو جنم دینے سے مالیات اپنا اصل کردار ادا کرتی ہیں اور اس طرح سوسائٹی کے اندر value added ہوتا ہے۔ یہ ہے بنیادی نظام۔ مغربی معیشت اور معاشیات دونوں نے آہستہ آہستہ زَر اور مالیات کا تعلق، حقیقی معیشت، حقیقی پیداوار اور معاشرے میں اشیائے صرف اور خدمات کے فروغ اور فراوانی سے توڑ دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ اس سودی نظام سے خیر و فلاح کی کوئی اُمید لگانا الٰہی و تکوینی قانون سے جان بوجھ کر نظریں چرانے کے مترادف ہے۔ سود کی خرابی صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ بنی نوع انسان کے لئے ہے۔جب داڑھی سے مونچھ بڑھ جائے تو استحکام کہاں سے آئے گا؟ یعنی کاغذی کرنسی کی پرنٹنگ قیمتی معدنیات سے زیادہ ہوجائے تو بحران تو آئے گا ہی!!!
آئی ایم ایف IMF اور ورلڈ بینک کے شکنجے میں ایک دفعہ پھنسنے کے بعد کسی ملک کا وہی حال ہوتا ہے جو ہائوسینگ لون لینے والے فرد کا ہوتا ہے کہ بالآخر اسے وہ مکان ہی واپس کرنا پڑتا ہے یا خودکشی کرنی پڑتی ہے۔
✿ کاغذی کرنسی کے منفی اثرات:
ہمیں معلوم ہے کہ اگر آج کسی بھی بینک سے ایک ساتھ تمام صارفین کی رقم نکالنے کا تقاضہ ہو تو وہ بینکس اپنا دیوالیہ ڈیکلیئر کرکے فرار ہوجاتے ہیں۔ عوام بھیک کا کشکول لے کر مختلف دروں پر ناک رگڑتی رہ جاتی ہے۔ آج دنیا میں بینکوں کی بڑی تعداد دیوالیہ کا شکار ہورہی ہیں۔ اس کے پیچھے وجہ وہی ہوتی کہ سونے کے سکّوں سے کئی گناہ زیادہ پرنٹیڈ کاغذی ردی کی نوٹس یا کرنسی!!
بغیر محنت و اجرت کرنسی تخلیق کرنے کا حق صرف بینکوں کے پاس ہے۔ جب کہ محنت مشقت کرکے قرض ادا کرنے کی ذمّہ داری صرف عوام کے کندھوں پر ہوتی ہے۔ اگر عوام قرض نہ لیں تو بھی انہیں حکومت کا لیا ہوا قرضہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ حکومتی قرض وہ واحد قرض ہے جسے لینے والا کوئی اور ہوتا ہے اور بھرنے والا کوئی اور۔ حکومتی قرضوں نے اُن بچوں کو بھی مقروض بنا دیا ہے جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے۔
ملٹی ٹاسکنگ کے ماہر نریندر مودی نے نومبر 2016ء میں اچانک پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹ فوراً ختم کرنے کا اعلان کیا اور پلک جھپکتے ہی ملک 'کیش لیس' سوسائٹی میں تبدیل ہوگیا۔ بینکوں کے سامنے صارفین کا اپنا ذاتی مال لینے کے لئے افراتفری کا ماحول، لمبی لمبی قطاروں کے ساتھ مجبور و پریشان انسان کا سیلاب بڑھتا رہا، لیکن کیش بینکوں سے غائب رہی۔ جیسے پرانے زمانے میں (بارٹر سسٹم) کے وقت لوگ اشیاء سے اشیاء بدلتے تھے، ٹھیک اسی طرح ملک کے طول و عرض اور دور دراز علاقوں سے خبریں آنا شروع ہوگئیں کہ لوگ اشیاء کے بدلے اشیاء دے کر اپنی ضروریات پوری کر رہے ہیں، دھان کے بدلے مچھلی وغیرہ خرید رہے ہیں۔ عوام اپنی ہی محنت کی کمائی بھیک کے ٹکڑے میں لینے کے لئے مجبور ہوگئی۔ کئی لوگوں کو تو جانیں بھی گنوانی پڑی۔ لیکن شاید سرمایہ دارانہ نظام میں اس سے کسی کو فرق نہیں پڑتا ہے!!!
شاید مشہور برطانوی ماہر معاشیات نے بالکل درست کہا تھا کہ مسلسل نوٹ چھاپ کر حکومت نہایت خاموشی اور رازداری سے اپنے عوام کی دولت کے ایک بڑے حصے پر قبضہ جما لیتی ہے۔ اس طرح کے طریقۂ کار اکثریت کو غریب بنا دیتا ہے مگر چند لوگ امیر ہو جاتے ہیں۔
بینک آف انگلینڈ کے گورنر (1927ء)، جنہیں انگلینڈ کا دوسرا امیر شخص ہونے کا شرف حاصل رہا، اس کا کہنا تھا کہ جدید بینکاری نظام بغیر کسی خرچ کے رقم (کرنسی) بناتا ہے۔ یہ غالباً آج تک بنائی گئی سب سے بڑی شعبدہ بازی ہے۔ بینک کے مالکان پوری دنیا کے مالک بن جاتے ہیں۔ اگر یہ دنیا ان سے چھن بھی جائے لیکن ان کے پاس کرنسی بنانے کا اختیار باقی رہے تو وہ ایک جنبش قلم سے اتنی کرنسی بنا لیں گے کہ دوبارہ دنیا خرید لیں۔ اگر تم چاہتے ہو کہ بینک مالکان کی غلامی کرتے رہو اور اپنی غلامی کی قیمت بھی ادا کرتے رہو تو بینک مالکان کو کرنسی بنانے دو اور قرضے کنٹرول کرنے دو۔
ایک یورپین ماہر اقتصادیات نے کہا تھا کہ یہ بڑی اچھی بات ہے کہ ملک کے عوام بینکاری اور مالیاتی نظام کے بارے میں کچھ نہیں جانتے کیونکہ اگر وہ یہ سب کچھ جانتے تو مجھے یقین ہے کہ کل صبح سے پہلے بغاوت ہو جاتی۔ ایک اور یورپی مفکر نے کہا تھا کہ مجھے کسی ملک کی کرنسی کنٹرول کرنے دو۔ پھر مجھے پروا نہیں کہ قانون کون بناتا ہے۔
ماہرین اور اکثریت کی رائے کے مطابق کاغذی کرنسی موجودہ دنیا کا سب سے بڑا دھوکا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک میں سینٹرل و اسٹیٹ بنک ہوتے ہیں جن کے پاس سونے کے ذخائر ہیں، جس کے بدلے کرنسی ایشو ہوتی ہے۔ لیکن اکثر ممالک اپنے موجودہ ذخائر سے زیادہ کاغذی نوٹ عوام یا صارفین میں ایشو کیے ہوئے ہیں۔ کیا اس سے افراط زر پیدا نہیں ہوا؟ افراط زر کی بنیادی وجہ اس طرح کے اسکینڈلز اور سرمایہ داروں سے حکومتی سطح کے خفیہ تعلقات و روابط ہی ہوتے ہیں۔
•••••••••••••••••••
✿ پلاسٹک کرنسی: (Plastic Currency)
موجودہ ٹیکنالوجی کے دور میں کریڈیٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے پلاسٹک کرنسی کو متعارف کروایا گیا۔ جس کے ذریعے دیگر اخراجات و خریداری کی ادائیگیاں کو آسان بنایا گیا۔ لیکن کریڈیٹ کارڈ کے سسٹم میں بہت سارے نقاص موجود تھے، جیسے اکاؤنٹ میں جمع شدہ رقم یا بیلنس کو ہیک کرکے صارفین کا دیوالیہ نکالنا۔ اس سسٹم کی وجہ سے سائبر کرائم میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔
کارڈ کی سرگرمیوں سے وابستہ مختلف اقسام کی فیسیں ہوتی ہیں۔ دھوکہ دہی کے استعمال پر تنازعہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کارڈ کو دھوکہ دہی کے لئے استعمال کرنا آسان ہوتا ہے۔ اگر کوئی کارڈ کی تفصیلات، خاص طور پر PIN اور CVV چوری کرتا ہے، تو دھوکہ دہی کے لین دین کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ بینک کے ساتھ اس طرح کے لین دین کا تنازعہ کرنا مشکل ثابت ہوتا ہے۔
✿ ای کرنسی: (E Currency)
موجودہ دور میں انٹرنیٹ اور آن لائن سسٹم کے تحت الیکٹرانک یا ڈیجیٹل کرنسی کی کئی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ آئن لائن اور ای کامرس کے ذریعے ادائیگی کا نظام بھی بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ انٹرنیٹ کی آمد کے بعد پیسوں کے لین دین کے لیے "ای کرنسی" وجود میں لائی گئی، جس نے صارفین کے لیے آسانی کے ساتھ انٹرنیٹ پر خریداری کو مزید سہل بنا دیا۔
الیکٹرانک کرنسی، الیکٹرانک شکل میں کرنسی کی ایک قسم جو خاص طور پر انٹرنیٹ پر خریدی گئی اشیا اور خدمات کی ادائیگی کے لیے بنائی گئی ہے۔ "ای کرنسی" بجلی کی رفتار سے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اعلیٰ سطح کی سیکیورٹی کے ساتھ انٹرنیٹ سامان اور خدمات کی خریداری کی اجازت دیتی ہے۔
ای کرنسیوں میں جسمانی خصوصیات نہیں ہوتی ہیں اور یہ صرف ڈیجیٹل شکل میں دستیاب ہیں۔ ڈیجیٹل کرنسیوں پر مشتمل ٹرانزیکشنز، کمپیوٹر یا انٹرنیٹ سے منسلک الیکٹرانک بٹوے یا نامزد نیٹ ورکس کا استعمال کرتے ہوئے کی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس، فزیکل کرنسیاں، جیسے کہ بینک نوٹ اور ٹکسال کے سکّے، ٹھوس ہوتے ہیں، یعنی ان کی مخصوص جسمانی صفات اور خصوصیات ہوتی ہیں۔ ایسی کرنسیوں پر مشتمل لین دین صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جب ان کے حاملین کے پاس ان کرنسیوں کا جسمانی قبضہ ہو۔
ای کرنسی میں وینچرز پر کام کرنے والے کاروباری افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔جیسا کہ زیادہ سے زیادہ کاروبار آن لائن کیا جاتا ہے، ای کرنسیاں یقیناً تیزی سے طاقتور ہوتی گئیں۔ ای سسٹم ہزاروں بہت چھوٹے سگنلز کی شکل میں معلومات کو ریکارڈ یا منتقل کرتے ہیں۔
ای کرنسی ایسی کرنسیاں ہیں جس تک صرف کمپیوٹر یا موبائل فون جیسے ڈیوائسیز کے ذریعے رسائی ممکن ہوتی ہیں، کیونکہ وہ صرف الیکٹرانک شکل و سگنلز میں موجود ہیں۔
ای کرنسیوں کے کچھ فائدے بتائے جاتے ہیں، کہ وہ قدر کی بغیر کسی رکاوٹ کی منتقلی کو قابل بناتی ہیں اور لین دین کے اخراجات کو سستا بنا سکتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ "ای کرنسی" تجارت کا سب سے سستا طریقہ ہے۔
ای کرنسیوں کے کچھ نقصانات یہ ہیں کہ وہ تجارت کے لیے اتار چڑھاؤ کا شکار ہو سکتی ہیں اور ہیک کے لیے حساس ہیں۔ یہ اسٹوریج اور انفراسٹرکچر کے تمام مسائل حل نہیں کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک انٹرنیٹ کنکشن ضروری ہے جیسا کہ اسمارٹ فونز اور خدمات ان کی فراہمی سے متعلق ہیں۔ مضبوط سیکورٹی والے آن لائن بٹوے ای کرنسیوں کو ذخیرہ کرنے کے لیے بھی ضروری ہیں۔
ای کرنسیاں ہیکنگ کے عمل کو حساس بناتی ہے۔ ہیکرز آن لائن بٹوے سے ڈیجیٹل کرنسی چوری کرسکتے ہیں یا ڈیجیٹل کرنسیوں کے پروٹوکول کو تبدیل کر سکتے ہیں، جس سے وہ ناقابل استعمال ہو سکتی ہیں۔ جیسا کہ کرپٹو کرنسیوں cryptocurrencies میں ہیک کے متعدد واقعات ثابت ہوچکے ہیں، ڈیجیٹل سسٹمز اور کرنسیوں کو محفوظ بنانا ایک کام ہے۔
ای کرنسیز قدر میں غیر مستحکم ہو سکتے ہیں۔ ٹریڈنگ کے لیے استعمال ہونے والی ای کرنسیوں کی قیمتوں میں سرمایہ کاروں کی خواہشات کی بنیاد اچانک غیر معمولی تبدیلی ہوسکتی ہے۔ دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں نے اپنے ابتدائی دنوں کے دوران اسی طرح کی قیمت کی رفتار کی پیروی کی ہے۔
✿ کرپٹو یا ورچوئل کرنسیز:
Cryptocurrencies or Virtual Currencies:
وال اسٹریٹ جرنل کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں بل گیٹس سے پوچھا گیا کہ دنیا میں ایسی کونسی ٹیکنالوجی ہے جس کے بغیر لوگ زندہ رہ سکتے ہیں اور جس کا جواب یہ دیا گیا کہ "کرپٹو کرنسی"۔
کرپٹو کرنسی ایک ڈیجیٹل کیش سسٹم ہے، جو کمپیوٹر ایلگوریدم computer algorithm پر بنا ہے۔ کرپٹو کرنسی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہوتی ہے۔ اس کا کوئی ریگولیٹر نہیں ہے اور کوئی کرپٹو کرنسی کو کنٹرول نہیں کرتا۔ یعنی دیگر کرنسیوں کی طرح کوئی سرکار اس کو آپریٹ نہیں کرتی ہے۔ اس کے استعمال کے لئے کرپٹوگرافی کا استعمال کیا جاتا ہے۔
کرپٹو کرنسی کا نظریہ 1998ء میں پہلی مرتبہ Wei Dai نے اپنی cypherpunks (ایسا فرد جو کمپیوٹر نیٹورک پر اپنی پرائیویسی کو خصوصاً حکومتی اتھارٹیز کی دسترس سے دور رکھتے ہوئے رسائی حاصل کرے) میلنگ لسٹ میں وضع کیا، جس میں اس نے پیسوں کو ایک ایسی نئی شکل میں ڈھالنے کی تجویز پیش کی۔ ایک عرصے بعد امریکی رمز نویس cryptographer نک سابو Nicholas "Nick" Szabo نے بِٹ گولڈ Bit Gold کے نام سے ایک کرنسی تخلیق کی۔ یہ ایک برقی کرنسی کا نظام تھا۔ دنیا کی پہلی ڈی سینٹر لائزڈ کرپٹو کرنسی کو جاپان کے ستوشی نکاموٹو Satoshi Nakamoto نے 2009ء میں ایک سافٹ ویئر Block chain ٹیکنالوجی کے ذریعے decentralized ڈیجیٹل الیکٹرانک کرنسی بِٹکوئن کو روایتی کرنسی کے متبادل کے طور پر متعارف کروایا۔
✿ بلاکچین سسٹم کیا ہے؟ Block chain system
بلاکچین سسٹم ⛓️ block chain system ایک نئی قسم کا انٹرنیٹ نیٹورکینگ سسٹم ہے، جس میں ڈیجیٹل معلومات ہر کوئی شیئر کرسکتا ہے، مگر اسے کاپی نہیں کیا جاسکتا۔ ہر 10منٹ میں ہونے والی لین دین (transaction) کا ریکارڈ چیک کرکے محفوظ کردیا جاتا ہے، جسے بلاک کہا جاتا ہے۔ سارا ڈیٹا نیٹورک پر ہوتا ہے، دوسرے صارفین اسے دیکھ سکتے ہیں۔
بلاکچین ایک تقسیم شدہ ڈیٹا بیس ہے جو کمپیوٹر نیٹ ورک کے نوڈس کے درمیان شیئر کیا جاتا ہے۔ ڈیٹا بیس کے طور پر، ایک بلاکچین معلومات کو الیکٹرانک طور پر ڈیجیٹل فارمیٹ میں اسٹور کرتا ہے۔ بلاک چینز کو کرپٹو کرنسی سسٹمز میں اپنے اہم کردار کے لیے جانا جاتا ہے، جیسا کہ بِٹکوئن، لین دین کے محفوظ اور غیر مرکزی ڈیسینٹرلائز विकेंद्रीकरण ریکارڈ کو برقرار رکھنے کے لیے۔ بلاکچین کے ساتھ اختراع یہ ہے کہ یہ ڈیٹا کے ریکارڈ کی وفاداری اور حفاظت کی ضمانت دیتا ہے اور کسی قابل اعتماد تیسرے فریق کی ضرورت کے بغیر اعتماد پیدا کرتا ہے۔
بلاکچین معلومات کو ریکارڈ کرنے کا ایک نظام ہے، جو سسٹم کو تبدیل کرنا، ہیک کرنا یا دھوکہ دینا مشکل یا ناممکن بنا دیتا ہے۔ سلسلہ کے ہر بلاک میں متعدد ٹرانزیکشنز ہوتے ہیں اور جب بھی بلاکچین پر کوئی نیا ٹرانزیکشن ہوتا ہے، اس ٹرانزیکشن کا ریکارڈ ہر شریک کے لیجر میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہ ایک بنیادی طور پر لین دین کا ایک ڈیجیٹل لیجر ہے جو بلاکچین پر کمپیوٹر سسٹمز کے پورے نیٹ ورک میں نقل اور تقسیم کیا جاتا ہے۔بلاک چین، Distributed Ledger Technology (DLT) کی ایک قسم ہے، جس میں ٹرانزیکشنز کو ایک ناقابل تبدیل کرپٹوگرافک دستخط کے ساتھ ریکارڈ کیا جاتا ہے جسے ہیش بھی کہتے ہیں۔
•••••••••••••••••••
✿ کرپٹو کرنسی کا تعارف:
"کرپٹو یا ورچوئل کرنسی" کو نئی قسم کی متبادل یا غیر مرئی کرنسی بھی کہا جاتا ہے۔ اس کو عام کرنسی کے 'متبادل' کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے، جس کا صرف الیکٹرونک آلات کے ذریعے آن لائن استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی اشاعت نہیں ہوتی ہے اور یہ بینکوں میں نہیں چلتا۔ اگرچہ دیگر کرنسیوں کی طرح اس کی قدر کا تعین بھی اسی طریقے سے ہوتا ہے کہ لوگ اسے کتنا استعمال کرتے ہیں۔
کرپٹو کرنسیز ایک ڈیجیٹل کرنسی اور پئیر ٹو پئیر پیمنٹ نیٹورک ہے۔ بِٹکوئن کمانے یا حاصل کرنے میں کسی شخص یا کسی بینک کا کوئی اختیار نہیں۔ یہ مکمل آزاد کرنسی ہے جس کو ہم اپنے کمپیوٹر کی مدد سے خود بھی بنا سکتے ہیں۔ کرپٹو کرنسی کا وجود محض انٹرنیٹ تک محدود ہے، خارجی طور پر اس کا کوئی جسمانی وجود نہیں۔ میرے نزدیک بِٹکوئن کو ایک 'متبادل سرمایہ کاری' قرار دیا جانا چاہئے۔
یہ کرنسی حسابی عمل ایلگوریدم کی بنیاد پر کام کرتی ہے جس کے لئے کمپیوٹر کو انٹرنیٹ سے منسلک کرکے، کمپیوٹر کے پروسیسر سے کام لیا جاسکتا ہے۔ جس کمپیوٹر کا پروسیسر جتنا تیز اور طاقتور ہوتا ہے، اتنی جلد وہ حسابی عمل ایلگوریدم کا سوال حل کرکے بِٹکوئن یا اس طرح کی کرپٹو کرنسیز جنیریٹ کرتی ہیں۔
✿ بِٹکوئن یا کرپٹو کوئن کی تیاری:
روزانہ 3600 بِٹکوئن تیار ہوتے ہیں اور ابھی ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ بِٹکوئن استعمال میں ہیں۔ بِٹکوئن کی منتقلی کے عمل کے لیے 'مائننگ' کا استعمال ہوتا ہے جس میں کمپیوٹر ایک مشکل حسابی طریقۂ کار سے گزرتا ہے اور تقریباً 64 ڈیجٹس کے ذریعے مسئلے کا حل نکالتا ہے۔ جس کو مائننگ Minig کہا جاتا ہے۔ اس کام کو انجام دینے والے لوگوں کو "مائنرز" miner's بھی کہا جاتا ہے۔ نئے کوئنز ایک decentralised پروسیس کے ذریعے "مائننگ" (mining) کے عمل سے انجام پاتے ہیں۔ اس طریقۂ کار میں نیٹ ورک کے لیے خدمات سر انجام والے افراد کو انعام کے طور پر 'کوائنز' دیے جاتے ہیں۔ یہ مائنرز ٹرانزیکشنز کو پروسیس کرنے اور اسپیشلائزڈ ہارڈ ویئرز استعمال کرتے ہوئے نیٹ ورک کو محفوظ بناتے ہوئے ایکسچینج میں نئی کرپٹو کرنسی کو جمع بھی کرتے ہیں۔
بِٹکوئن کے ناقِدِین کہتے ہیں کہ بِٹکوئن کی لین دین کا ریکارڈ کسی کو معلوم نہیں ہوسکتا، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہر لین دین ایک کوڈیڈ ایڈریس سے منسلک رہتی ہے اور ان ایڈریس کو دیکھنا مشکل نہیں ہوتا۔
ان ایڈریس کا ریکارڈ رکھنے والوں کا انکشاف یہ ہے کہ تقریباً 1/ ہزار لوگ ایسے ہیں جو دنیا بھر کی مارکیٹ کا 40٪ حصّہ کنٹرول کرتے ہیں۔ ان افراد کو "بِٹکوئن وہیل" (Bitcoin whale) کہا جاتا ہے۔ بِٹکوئن وہیل ایک کرپٹو کرنسی کی اصطلاح ہے جس سے مراد ایسے افراد یا ادارے ہیں، جن کے پاس بِٹکوئن کی بڑی مقدار ہوتی ہے۔ وہیل کے پاس اتنی کرپٹو کرنسی ہوتی ہے کہ وہ کرنسی کی قیمتوں میں ہیرا پھیری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ 4 ارب پتی بِٹکوئن مارکیٹ کے بڑے وہیل مانے جاتے ہیں،
• Matthew Roszak, •Tim Draper, •Mt. Gox اور •Michael Saylor۔
کرپٹو کوئنز کا پروٹوکول اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ نئے کوئن ایک فکسڈ ریٹ پر تخلیق ہوتے ہیں، جس نے کرپٹو کرنسی کو بہت مسابقت والا کاروبار بنا دیا ہے۔ جب زیادہ مائنرز نیٹ ورک میں شامل ہوجاتے ہیں تو پھر انفرادی طور پر ہر کسی کا منافع کم ہو جاتا ہے اور کسی ڈویلپر یا مائنر کے پاس منافع میں اضافے کے لیے سسٹم میں رد و بدل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ سسٹم کے معیار سے مطابقت نہ کرنے والے ڈیجیٹل کوئنز نوڈ کو دنیا بھر میں مسترد کردیا جاتا ہے۔ معاشیات کے قانون و ضابطے "طلب" (need) اور "رسد" (logistics) کے معیار پر ہی کرپٹو کرنسی کی قیمت کا انحصار کیا جاتا ہے۔
سرمایہ دارانہ اور صہیونی نظامِ معیشت کے ادارے، تجارتی مراکز (بینک و دفاتر)، صنعتی ترقی، ان کے تشہیری اشتہارات کی تگ و دو اسی بات پر منحصر ہوتی ہیں کہ انسانوں کے قلب و نظر اور دل و دماغ کو نت نئی مادی اور شہوانی خواہشات کی آماج گاہ بنایا جائے۔ جب کہ یہ تصور اسلام کی تعلیم کی رو سے غیر تسلیم شدہ اور ناقابلِ قبول ہے۔ حصول مال، حصول زر، حصول مادیت اور تکاثر فی الاموال کی دوڑ نے انہیں اتنا اندھا کردیا ہے کہ تباہی و بربادی ان کا مقدر بن گیا ہے۔
✿ کرپٹو کرنسیز کی مختلف اقسام: Different types of crypto or virtual currencies
مارکیٹ ریسرچ ویب سائٹ CoinMarketCap.com کے مطابق، 14,500 سے زیادہ مختلف کریپٹو کرنسیوں کا عوامی طور پر لین دین کیا جاتا ہے۔ جن میں سے 20 کرپٹو کرنسیز 90% مارکیٹ کور کررہی ہیں۔ سرفہرست مندرجہ ذیل ورچوئل یا کرپٹو کرنسی کمپنیاں دنیا بھر میں گردش کر رہی ہیں۔
Bitcoin (BTC), Ethereum (ETH), Binance Coin (BNB), Tether (USDT), Solana (SOL), Cardano (ADA), Ripple (XRP), Polkadot (DOT), USD Coin, Dogecoin (DOGE), Litecoin (LTC), Bitcoin Cash (BCH), Stellar lumens (XLM), ByteCoin (BCN), Monero (XMR), ZCash (ZEC), Decred (DCR), Horizen (ZEN), Secret (SCRT), Oasis Network (ROSE), Flux (FLUX), Verge Currency (XVG), iExec RLC (RLC), Status (SNT), DASH (DASH), Super Zero Protocol (SERO), Beam (BEAM), Firo (FIRO), Grin (GRIN), Bitcoin Classic, Bitcoin Gold, Augur, NXT,. وغیرہ وغیرہ۔
•••••••••••••••••••
✿ کرپٹو کرنسی کے نقصانات و منفی اثرات:
Disadvantages and negative effects of cryptocurrency:
اس میں کوئی شک نہیں کہ کرپٹو کرنسی کے باعث دنیا بھر میں بےشمار افراد مختصر عرصے میں ارب و کروڑ پتی بن چکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے نقصانات نہیں ہیں۔
🔸 کرپٹو کرنسی کا مادی وجود نہیں ہے، یہ صرف نیٹ کی دنیا میں ہے۔ اس کرنسی کے کبھی بھی اور کسی بھی وقت اچانک غائب ہونے کے بہت زیادہ امکانات ہیں۔ جس کے پاس پاس ورڈ ہو وہ ہی رقم استعمال کر سکتا ہے۔ اگر یہ کرنسی چوری ہو جائے یا غلط استعمال کیا جائے تو کسی عدالت سے رجوع نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ اس کو حکومتوں کی ضمانت حاصل نہیں ہے۔
🔸 کرپٹو کرنسی مکمل طور پر open source اور decentralised ہے، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی کسی بھی وقت مکمل source code پر قابض ہوکر دنیا بھر کے لاکھوں افراد کو ان کی مادی متاعِ حیات سے محروم کرسکتا ہے۔
🔸 کرپٹو کرنسی کے استعمال سے فراڈ اور دھوکہ دہی کا خطرہ بڑھ گیا ہے اور اس کے تیزی سے اتار چڑھاو سے افراد اور اقوام کو نقصان پہنچنے کے امکانات زیادہ ہوگئے ہیں۔
🔸 کرپٹو کرنسی ناقِدِین کا کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے نظام کی عمارت کمزور بنیاد پر کھڑی ہے اور مجرمانہ سرگرمیوں کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
🔸 کرپٹو کرنسیز کا کوئی بھی مالک نہیں ہے۔ اس mode of payment پر کسی ایک ملک کی اجارہ داری بھی نہیں ہے۔
🔸 کرپٹو کرنسی کو محفوظ ذریعہ بتانے والے لوگوں کے منہ پر طمانچہ مارا گیا، واقعہ یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی کی لین دین میں سہولت فراہم کرنے والے ڈی سینٹرلائز فنانس پلیٹ فارم ’پولی نیٹ ورک‘ سے 60 کروڑ ڈالر کی ہونے والی چوری اس بات کا ثبوت ہے کہ اس ڈیجیٹل نیٹ ورکنگ سسٹم میں غلط استعمال ہونے کی پوری گنجائش ہے۔ ہیکرز نے سسٹم میں ایک کمزوری کا فائدہ اٹھایا تھا۔ اس قسم کی چوریوں نے سسٹم میں غیر منظم سیکٹر کے خطرات کو واضح کیا اور ریگولیٹرز کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ہے۔
🔸 17 سالہ گراہم ایوان کلارک کا 2020ء کا معاملہ جو ٹوئٹر کے ملازمین کو دھوکہ دینے اور پلیٹ فارم پر کئی ہائی پروفائل اکاؤنٹس کو توڑنے میں کامیاب رہا، ٹارگٹڈ اکاؤنٹس کے اثر و رسوخ کا غلط استعمال کرتے ہوئے کرپٹو کرنسی میں $100,000 سے زیادہ کی درخواست کی۔
🔸 بِٹکوئن ہیکنگ معاملہ میں بنگلورو پولیس کو دیے گئے ایک 'رضاکارانہ بیان' میں 25 سالہ سری کرشنا رمیش عرف سریکی نے Bitfinex cryptocurrency exchange کو نشانہ بنانے کا اعتراف کیا، جہاں سے اس نے 2,000 بِٹکوئنز (تقریباً 800 کروڑ روپئے) چرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
🔸 بل گیٹس جیسے سافٹ ویئر نیٹورکینگ کے کنگ نے کرپٹو کرنسی کے ذریعے ہونے والی
معاشی بدحالی کے خطرے کی گھنٹی بھی بجائی، جب انھوں نے کہا کہ دنیا بھر کے معاشی نظام کی صحت اچھی نہیں ہے اور انھوں نے اپنے خیال کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم مستقبل میں دوبارہ ایسے معاشی بحران کا سامنا کرسکتے ہیں۔ بل گیٹس کے مطابق کرپٹو کرنسی کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حکام ان کی نگرانی نہیں کرسکتے اور انھوں نے اپنے خدشے کا اظہار کیا کہ اس کرنسی کے استعمال سے معاشرے میں منفی اثرات سامنے آئیں گے۔
🔸کرنسی کا مطلب ہوتا ہے سونے کا حکومتی متبادل۔ پہلے ہی عملاً کاغذی کرنسی کو سونے کا متبادل کے طور پر قبول نہ کیا جانا ایک سنگین مسئلہ تھا، اب کرپٹو کرنسی کو سونے کا غیر حکومتی متبادل تصور کروایا جارہا ہے۔ کرپٹو کرنسی بنیادی طور پر (جعلی) کرنسی ہے، جب کہ سونا بنیادی طور پر حقیقی سرمایہ ہے۔
🔸72 کروڑ ڈالر کے غبن میں BitClub کے 3 ارکان کو گرفتار کیا گیا۔ خرد برد کے نتیجے میں OneCoin کی ویب سائٹ بلاک ہوچکی ہے۔
🔸کینیڈا کا ایک کرپٹو ایکسچینج بنام QuadrigaCX اس وقت دیوالیہ ہوگیا جب اس کا مالک Gerry Cotten انڈیا میں ایک مرض میں مبتلا ہوکر مرگیا۔ اس ایکسچینج کو operate کرنے کا password یا keys اس کے ہی علم میں تھی۔ اس کے 76ہزار صارفین کے تقریباً 16 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری برباد ہوگئی۔
🔸آئرلینڈ میں 17 جون 2019ء کو کرپٹو کرنسی ایکسچینج، بٹ سین اچانک غائب ہوگیا، جس کے نتیجے میں اس کی ویب سائٹ ختم ہوگئی۔ صارفین کا دیوالیہ ہوگیا۔
🔸بلوم برگ کے مطابق 2020ء میں جنوبی افریقہ کے Mirror Trading International کے اچانک غائب ہونے کی وجہ سے 1 ارب 20 کروڑ ڈالر کا دیوالیہ ہوگیا، جو اس سال کا سب سے بڑا کرپٹو فراڈ تھا۔
مندرجہ بالا سارے واقعات اور اس طرح کے مزید آگے ہونے والے واقعات گواہی دے رہے ہیں، کرپٹو کرنسی کا مصنوعی اور جعلی جال دنیا کو ایک بڑی بدحالی اور بحرانی کیفیت میں مبتلا کرے گا۔ یہ نظامِ معیشت بھی غیر محفوظ اور ناقابلِ اعتماد ذریعہ ثابت ہورہا ہے۔
کرنسی کا ایک بنیادی استعمال تو خرید و فروخت یا اجرت دینا ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آپ کرپٹو کرنسی سے دکان پر جاکر کچھ خرید سکتے ہیں۔ فی الحال اس کے امکانات کم ہیں کیونکہ یہ بہت محدود جگہوں پر استعمال ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ وہ افراد جو کمپیوٹر اور چین بریکنگ سسٹم سے لاعلم ہو اس کے لئے تو کرپٹو کرنسی کا استعمال جوُئے شِیر لانے کے مترادف ہوگا۔
کرپٹو کرنسی کے انہیں نقصانات اور منفی اثرات اور شرعی حیثیت کی بنیاد پر علمائے کرام کی بڑی اجتماعیت نے اسے جائز قرار نہیں دیا ہے۔
•••••••••••••••••••
✿ کرپٹو کرنسی اور عالم اسلام:
Crypto currency and Islamic World
🔸مصر کے مفتئ اعظم نے رقوم کی منتقلی کے لیے کرپٹو اور ورچوئل کرنسی بِٹکوئن کے استعمال کے خلاف فتویٰ جاری کیا کرتے ہوئے سب سے مہنگی کرپٹو کرنسی بِٹکوئن کو حرام قرار دے دیا ہے۔ فتویٰ میں مفتئ اعظم شوقی ابراہیم عبدالکریم نے کہا ہے کہ "مسلمانوں کو خرید و فروخت کے لیے بِٹکوئن کے استعمال کی اجازت نہیں ہے۔ بِٹکوئن کا کاروبار جوئے کی مانند ہے کیونکہ اس میں ایک فریق یا گروہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور جوا کھیلنا اسلام میں حرام ہے۔" بِٹکوئن کو حرام قرار دیے جانے سے متعلق یہ تیسرا یا چوتھا فتویٰ ہے جو کسی بڑی مذہبی شخصیت کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ مصر کے مقامی اخبار احرام کے مطابق یہ فتویٰ بہت سے ماہرین اقتصادیات سے مشاورت کے بعد جاری کیا گیا ہے۔
🔸انڈونیشیا کے مذہبی لیڈروں کی کونسل نے کرپٹو کرنسی کو مسلمانوں کیلئے حرام قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسلامی ادارہ نے اس کو لے کر فتویٰ جاری کیا ہے۔ نیشنل علما کونسل نے کرپٹو کرنسی کو حرام یا ممنوع مانا ہے، کیونکہ اس میں غیر یقینی، داو اور نقصان کے عناصر موجود ہیں۔
🔸ترکی میں مذہبی امور کے ڈائریکٹریٹ کی جانب سے ورچوئل کرنسیز کو غیر اسلامی قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس کی قیمت فرضی ہوتی ہے اور یہ غیر قانونی سرگرمیوں جیسے منی لانڈرنگ میں استعمال ہوسکتی ہے اور یہ ریاست کے آڈٹ اور نگرانی میں نہیں آتی۔
🔸سعودی عرب میں معروف عالم دین عاصم الحکیم نے کرپٹو کرنسی کو اسلام میں حرام قرار دیا کیونکہ یہ مبہم ہیں اور منی لانڈرنگ اور دیگر سرگرمیوں کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
🔸بِٹکوئن کے متعلق دارالافتاء دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں: "بِٹکوئن یا کوئی بھی ڈیجیٹل کرنسی، محض فرضی کرنسی ہے، اس میں حقیقی کرنسی کے بنیادی اوصاف وشرائط بالکل نہیں پائی جاتیں۔ اور آج کل بِٹکوئن یا ڈیجیٹل کرنسی کی خرید و فروخت کے نام سے نیٹ پر جو کاروبار چل رہا ہے، وہ محض دھوکہ ہے، اس میں حقیقت میں کوئی مبیع وغیرہ نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کاروبار میں بیع کے جواز کی شرعی شرطیں پائی جاتی ہیں؛ بلکہ در حقیقت یہ فاریکس ٹریڈنگ کی طرح سود اور جوے کی شکل ہے؛ اس لیے بِٹکوئن یا کسی بھی ڈیجیٹل کرنسی کی خرید و فروخت کی شکل میں انٹرنیٹ پر چلنے والا کاروبار شرعاً حلال و جائز نہیں ہے؛ لہٰذا آپ بِٹکوئن یا کسی بھی ڈیجیٹل کرنسی کے نام نہاد کاروبار میں پیسے نہ لگائیں۔
(Fatwa: 1420-1399/N=1/1439)
🔸جامعہ بنوریہ عالمیه کے مطابق مذکور کرنسیوں کا کوئی حسی وجود نہیں بلکہ بعض ڈیوائس میں موجودگی اور ضمان کی حد تک اس کو کرنسی خیال کیا جاتا ہے، جبکہ ملکی قانون میں اس کو مبادلہ اور خرید و فروخت کیلئے استعمال کرنا ممنوع ہے، اس لئے شرعاً یہ کرنسی کے حکم میں نہیں ہے، جس سے احتراز کرنا لازم ہے۔
✿ اسلام اور نظام زر:
سرمایہ دارانہ نظام معیشت میں معاشی سرگرمیوں میں آزادی کا عنصر لا محدود جب کہ اسلامی نظام معیشت میں یہ آزادی محدود ہے، جس کی وجہ سے معیشت کے ساتھ ساتھ معاشرت بھی صحیح خطوط پر گامزن ہوتی ہے۔ اسلامی نظام معیشت میں زر کی حیثیت آلۂ مبادلہ کی ہے جس کے ذریعے خرید و فروخت عمل میں آتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام معیشت میں زر کو زمین، محنت کی طرح ایک مستقل عامل تسلیم کیا جاتا ہے اور سود کی صورت میں اس کا معاوضہ ادا کیا جاتا ہے جب کہ اسلامی نظام معیشت میں اس کی قطعاً اجازت نہیں۔
ہم دیکھتے ہیں کہ جدید معاشی نظام کے اصول "جو ہے" کی بنیاد پر بحث کرکے اپنے قوانین و ضوابط ترتیب دیتے ہیں، اس کے بلکل برعکس اسلامی نظامِ معیشت "جو ہونا چاہیے" کے قوانین و ضوابط کی بنیادوں پر اپنے اصولوں کو ترتیب دیتی ہے۔
انسان کی سوچ و فکر میں بھی کتنا فرق ہوتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب مغرب کے معاشی مفکرین نے انسان کی ان ضروریات کو متعین کیا تو انہوں نے تین نوعیتیں یا اقسام رکھیں۔ ضروریات، آسائشیں اور پرتعیش (Necessities, Comforts and Luxurious) یعنی وہ چیزیں جن کے اندر تعیش شامل ہے۔ مسلمان ماہر معاشیات اور مفکرین نے جب اس مسئلے پر غور کیا تو انہوں نے یہ کہا کہ کیا چیز ضرورت ہے، کیا چیز حاجت ہے اور کیا چیز تحسین ہے۔ یعنی کوئی تصور تعیشات کا اس کے اندر نہیں لایا گیا۔ یہی مادہ پرست ذہنیت اور ایک صالح فکر و نظر کا فرق منظر عام پہ آتا ہے۔
یہ بات ہمارے علم میں ہونا چاہیے کہ مادی وسائل اور اسباب کا حصول معاشی سرگرمیوں اور استحکام پر موقوف ہے۔ معاشی نظام میں اگر شرعی و آئینی اور اخلاقی حدود کو ملحوظ خاطر رکھا جائے، تو معاشی سرگرمی بہت جلد ان نتائج تک پہنچا دیتی ہیں جو بنی نوع انسانی کے لئے ناگزیر ہوتے ہیں۔
قرآن مجید، سیرتِ سرورِ کائناتﷺ اور اصحابِ رسول کی زندگیوں میں انسان کی معاشی و تجارتی زندگی کی بنیادیں تعلیمات و ہدایات بھی ہمیں ابھری ہوئی نظر آتی ہیں۔ حضرت محمد مصطفیٰﷺ کو اللّٰہ تعالیٰ نے جس علاقے و قبیلے اور خاندان میں مبعوث فرمایا وہاں کاروبار، تجارت و معیشت کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ قدیم معاشی نظام سے صحابۂ کرام کی بڑی تعداد کا گہرا تعلق تھا، خلفاء راشدین میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ، حضرت عثمانِ غنی ؓ، دیگر صحابہ میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ، حضرت زبیر بن عوام ؓ وغیرہم کے اسم گرامی سے ہم واقف ہیں۔ بقیہ صحابہ کی ایک بڑی اکثریت کا تجارت و معیشت سے بڑا گہرا تعلق رہا ہے۔
اسلام جہاد کے ساتھ ساتھ، تجارتی و صنعتی اور معاشی تعلقات کے طفیل عرب سے نکل کر سارے عالم میں پہنچا۔ یہ بات عیاں ہے کہ اسلام و تجارت اور اسلام و معیشت کا تعلق بہت گہرا ہے۔
وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ۔
اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور وہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ (سورة الذّٰرِیٰت: ۲۲)
اللّٰہ کے رسول محمدِ عربیﷺ نے فرمایا: اِنَّ الرِّزْقَ لَیَطْلُبُ الْعَبْدَ کَمَا یَطْلُبُہٗ اَجَلُہ۔
بندے کو رِزْق ایسے تلاش کرتا ہے جیسے بندے کی موت اس کو تلاش کرتی ہے۔
رزق کی تلاش موت کی تلاش سے زیادہ قَوی (یعنی مضبوط) ہے، کیونکہ موت پوری روزی کھا لینے کے بعد آتی ہے مگر رزق ہر وقت آتا رہتا ہے۔
"أن نفسا لن تموت حتى تستكمل رزقها۔۔۔"
حضرت عبداللّٰہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا کہ بلاشبہ کوئی شخص اس وقت تک نہیں مرتا جب تک کہ اپنا رزق پورا نہیں کر لیتا (یعنی جو شخص بھی اس دنیا میں آتا ہے وہ اپنے اس رزق کو پائے بغیر دنیا سے نہیں جاتا جو اس کی پیدائش کے ساتھ ہی اسے مقدر میں لکھ دیا جاتا ہے، پس جب یہ معاملہ ہے کہ جو رزق مقدر ہوگیا ہے وہ ہر حال میں ملے گا تو دیکھو، اللّٰہ کی نافرمانی سے ڈرتے رہو اور حصول معاش کی جدوجہد نیک روی اور اعتدال اختیار کرو تاکہ تمہارا رزق تم تک جائز و حلال وسائل و ذرائع اور مشروع طور طریقوں سے پہنچے نیز کہیں ایسا نہ ہو کہ رزق پہنچنے میں تاخیر تمہیں اس بات پر اکسا دے کہ تم گناہوں کے ارتکاب کے ذریعہ رزق حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگو، حقیقت یہ ہے کہ جو چیز اللّٰہ کے پاس ہے اس کو اس کی طاعت و خوشنودی ہی کے ذریعہ پایا جاسکتا ہے۔ (مشکوۃ شریف۔ جلد 4۔ حدیث 1228)
اس موضوع کے پس منظر میں مفتیانِ عظام، علمائے کِرام، فقہی مزاج اور شوق رکھنے والے طلبہ اور جدید مسائل سے شغف رکھنے والوں کی ذمّہ داری بنتی ہے کہ وہ اس حساس اور نازک موضوع پر اسلام کا موقوف پیش کریں۔ چونکہ مذکورہ بالا بحث کا موضوع فنی اعتبار سے بہت حساس اور نہایت ہی اہمیت کی حامل ہے۔ ان شاء اللّٰہ! قرآن و حدیث کا گہرا مطالعہ ہی اس موضوع پر اجتہاد کی وسعت کا دروازہ کھولے گا۔ اسی قرآن و حدیث کے گہرے علم کی روشنی میں جید اور اکابر علمائے کرام، مفکرین و دانشوران ملت اسلامیہ نے بہت گہرائی و تفصیل سے اسلامی معیشت و تجارت پر زخیم تحریریں مرتب کی ہیں۔ جس کے ذریعے عصری معیشت میں جو مادّی کثافتیں اور الحادی جہات پیدا ہورہی ہیں ان کا ازالہ کیا جاسکے۔ ان مسلم ماہرین معیشت نے اپنے دور کی معاشی نظام کا مکمل جائزہ لیا اور اس پر اسلامی احکامات مرتب کئے۔
دورِ حاضر کا یہ معاشی و مالی چیلنج امت مسلمہ کے دانشوران و مفکرین اور اہل علم و تحقیق کو مستقل اور مسلسل دعوتِ غور و فکر دے رہا ہے۔ ہمارے فقہاء اور ماہر معاشیات و اقتصادیات اس بات کا عزم کریں کہ وہ اس علم و فن کو عمیق گہرائی، تفصیل اور تعمیری و تنقیدی جائزہ لے کر امت مسلمہ کی اس موضوع پر رہنمائی فرمائیں گے۔ اے اللّٰه! دنیاوی وسائل اور اسباب کے ذریعے ہمارے دین کی مدد فرما۔
(30.11.2021)
©M•••══ ༻م✿خ༺══ •••K©
○○○○○○○○○
Comments
Post a Comment