اَزْ مُکَافَاتِ عَمَلْ غَافِلْ مَشُو

اَزْ مُکَافَاتِ عَمَلْ غَافِلْ مَشُو
        ┄┅════❁﷽❁════┅┄
     ╗═════•❁ا۩۝۩ا❁•═════╔
              اَزْ مُکَافَاتِ عَمَلْ غَافِلْ مَشُو
     ╝═════•○ ا۩۝۩ا ○•═════╚

      🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
               📱09422724040

     چھوٹی سی عمر سے سنتے آئے ہیں کہ یہ دنیا بھی مُکَافَاتِ عَمَل کا مقام ہے!! چونکہ اس وقت ہماری سوچ و فکر ایک محدود زاویوں اور چیزوں پر غور و خوض کیا کرتی تھیں۔ ان ایام میں کبھی سوچا ہی نہیں کہ یہ مُکَافَاتِ عَمَل ہے کیا؟؟ آخر کیوں بار بار "یہ دنیا مُکَافَاتِ عَمَل ہے" کے جملے سماعت و بصارت میں دستک دیتے رہے؟؟؟ آج اسی تدبر و تفکر کے نکتہ نے اس موضوع پر اظہارِ خیال کی ترغیب دے دی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مُکَافَاتِ عَمَل کا عنوان آج ایک تحریک اور فہم و شعور کا مرکز و محور بن گیا۔

     "مُکَافَاتِ عَمَل" کہتے ہیں "عمل کے بدلے کو"۔ عام طور پر یہ لفظ گناہ کے بدلے کے لیے بولا جاتا ہے۔ محاوراتی طور پر ہم اس کے معنی میں کہہ سکتے ہیں جیسا بوؤ گے ویسا کاٹو گے۔ یعنی وہ اعمال جو ہم انجام دیتے ہیں اور اس نیک و بد اعمال کے عوض ہمیں جو جزا و سزا ملتی ہے اسے "مُکَافَاتِ عَمَل" کہا جاتا ہے۔ اچھا یا بُرا بدلہ ملنے کو اردو میں "جیسی کرنی ویسی بھرنی"، "جیسا کرو گے ویسا بھرو گے"، "جیسا بوؤ گے ویسا کاٹو گے" اور عربی زبان میں "کَمَا تَدِینُ تُدَان" کہا جاتا ہے۔ یعنی جیسا تم کام کرو گے ویسا تمہیں اس کا بدلہ ملے گا، جو تم کسی کے ساتھ کرو گے وہی تمہارے ساتھ ہوگا۔

   گَنْدَمْ اَزْ گَنْدَمْ بِرُوْید جَوْ اَزْ جَوْ!
   اَزْ مُکَافَاتِ عَمَلْ غَافِلْ مَشُو

  (گندم سے گندم اور جَو سے جَو اُگتے ہیں!کسی عمل کے بدلے سے غافل نہ رہو)

      ہم دنیا میں جو اچھا یا بُرا بیج بوئیں گے، اس کی ویسی ہی فصل کاٹیں گے۔ دینِ اسلام سے تعلق رکھنے والے ہر شخص کا مکمل عقیدہ و ایمان ہے اور پختہ یقین بھی کہ انسان دنیا میں جو کچھ بھی کرتا ہے۔ وہ بری نیت سے کرے یا نیک نیتی سے۔ بدی کر رہا ہو یا نیکی۔ اُسے اپنے نامۂ اعمال کے مطابق ہر حالت میں جزا و سزا کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ دنیا و آخرت میں وہ جتنی بھی سزا پاتا ہے وہی "مُکَافَاتِ عَمَل" ہے۔

     اس دنیا میں انسان جو کچھ کرتا ہے اس کا بدلہ اسے دنیا و آخرت میں ضرور اسے ملتا ہے، پھر چاہے وہ اچھا ہو یا برا۔ اچھائی کی جزا جس طرح ضرور ملتی ہے اسی طرح برائی کی سزا بھی ملتی ہے۔ آج اگر کسی کے دل آزاری کروگے تو کل ان لمحات کا سامنا  تمہیں بھی کرنا ہوگا۔ آج کسی کا حق مارو گے تو کل اپنے حق سے بھی محروم ہو جاؤ گے۔ کسی کو ناحق ذلیل و رسواء کرو گے تو کل تمہیں بھی ایسے ہی ایام کا سامنا ہوگا۔ آج کسی کو دھوکہ دو گے تو کل خود بھی دھوکا کھاؤ گے۔ آج کسی پر ظلم و زیادتی کروگے تو کل تمہیں بھی ان مراحل سے گزرنا ہوگا۔ کسی کے ساتھ ناانصافی کی ہوگی تو ناانصافی کا یہ عمل تم پر بھی لوٹ آئے گا۔

     درحقیقت یہ دنیا دارُالْعَمَل کا مقام ہے اور اس کی جزا و سزا تو آخرت میں ملنی ہی ہے مگر کچھ اعمال ایسے ہوتے ہیں جس سے دنیا میں بھی سابقہ پڑتا ہے اور آخرت میں بھی اس کا بدلہ چکانا ہوتا ہے۔ سچ پوچھیں تو اس دنیا میں بھی انسان کو آخرت  کا نظارہ دیکھنے کو مل ہی جاتا ہے، اللّٰہ تعالیٰ یہاں پر ہی آپ کے بعض کرموں کا پھل سود سمیت آپ کو لوٹا دیتا ہے۔ اسی دنیا میں آپ کا ہر عمل فلٹر ہو کر آپ کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ جب یہ طے ہے کہ اچھے یا برے سارے بگھتان بھگتنے پڑیں گے تو پھر کسی کا دل دکھا کر اپنا دل کیسے محفوظ رکھ سکو گے۔ کسی کا برا چاہ کر اپنا اچھا کیسے کرو گے۔ انسان جیسا بیج بوئے گا لازماً آخرت میں ویسا ہی پھل پائے گا۔  ؎
  بچا کوئی مُکافاتِ عمل سے
  وہی کاٹے گا جو بوتا رہے گا

     اسلام میں تو یوم الدین کے بے لاگ عدل اور مُکَافَاتِ عَمَل کا دائرہ کار انسان، حیوانات اور حشرات الارض تک پھیلا ہوا ہے، اسلام کہتا ہے اگر کسی جانور نے بھی دوسرے جانور پر ظلم کیا ہوگا تو اللّٰہ تعالیٰ مظلوم کی دادرسی کرے گا۔ حدیث میں آتا ہے۔

     حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: "تمھیں روزِ قیامت حق والوں کے حق ضرور ادا کرنے ہوں گے حتی کہ بغیر سینگ والی بکری کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلوایا جائے گا"۔ (مسلم شریف)

     جب کسی ایک سینگ کا بھی حساب کتاب ہوگا تو روح کو داغدار کرنے والے کیسے قابل معافی ہوسکتے ہیں۔ اس حدیث میں انسانوں کے لیے بہت بڑا درسِ عبرت ہے کہ جب غیر مکلف مخلوق جانوروں کو معاف نہیں کیا جائے گا تو مکلف مخلوق انسان کے ظلم کو کیونکر نظر انداز کیا جائے گا؟ اگر اس نے ظلم سے توبہ کرکے اس کی تلافی نہ کی ہوگی تو اسے یقینا اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

     آخرت میں مُکَافَاتِ عَمَل کی صَراحَت کتاب اللّٰہ اور سنت رسول اللّٰہﷺ سے ثابت ہے۔ قرآن میں سورۃ الزلزال کی آیت نمبر 6 تا 8 میں اللّٰہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں۔

     "اُس روز لوگ متفرق حالت میں پلٹیں گے تاکہ اُن کے اعمال اُن کو دکھائے جائیں۔ پھر جس نے ذرّہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرّہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔"

     جب یہ تحریر قلم بند کررہا تھا اس وقت میری شریکِ حیات نے اپنے حاصلِ مطالعے کی بنیاد ایک نکتے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا  ذرّہ سے مراد پہاڑ کے نیچے کسی چیونٹی نے انڈا دیا ہو اور اس انڈے میں سے اس کے بچے کا باریک سا حصہ باہر آیا ہو تو اس حصہ کو 'ذرّے' سے تشبیہ دی گئی ہے۔

     جن کے نامۂ اعمال داہنے ہاتھ میں ہوں گے ان کے لیے جنّت کی لازوال نعمتیں اور ہمیشہ کا عیش و آرام ہوگا۔ جن کے نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں ہوں گے ان کا ٹھکانا دوزخ ہوگا۔

     البتہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، ان کی میزبانی کے لیے فردوس  کے باغ ہوں گے۔ (سورۃ الكهف: 107)

     یقین رکھو، جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور کفر ہی کی حالت میں جان دی اُن میں سے کوئی اگر اپنے آپ کو سزا سے بچانے کے لیے روئے زمین بھر کر بھی سونا فدیہ میں دے تو اُسے قبول نہ کیا جائے گا ایسے لوگوں کے لیے دردناک سزا تیار ہے اور و ہ اپنا کوئی مددگار نہ پائیں گے۔ (سورۃ آل عمران: 91)

     یہ تو ہے اُن کا حال، اور جو کوئی بدلہ لے، ویسا ہی جیسا اُس کے ساتھ کیا گیا، اور پھر اس پر زیادتی بھی کی گئی ہو، تو اللّٰہ اس کی مدد ضرور کرے گا۔ اللّٰہ معاف کرنے والا اور درگزر کرنے والا ہے۔ (سورۃ الحج: 60)

     حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو چند باتوں کی جب نصیحت کی تو اس میں ایک بات یہ تھی کہ: "اے میرے بچے! اگر وہ (کوئی اچھا یا برا عمل) رائی کے دانے کے برابر بھی ہو پھر وہ ہو کسی چٹان میں یا آسمانوں میں یا زمین کے اندر اسے اللّٰہ لے آئے گا یقیناً اللّٰہ بہت باریک بین ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔" (سورۃ لقمان :16)

     ایک مرتبہ کا واقعہ ہے حضرت عبداللّٰہ بن مسعودؓ کسی بات پر اپنے غلام کو مار رہے تھے۔ حضور نے انہیں ایسا کرتے ہوئے دیکھ لیا تو فرمایا: جتنا تم کو اپنے غلام پر قابو ہے، اللّٰہ اس سے زیادہ تم پر قدرت رکھتا ہے۔حضرت عبداللّٰہ بن مسعودؓ کا بیان ہے کہ اس کے بعد میں نے اپنے اس غلام کو آزاد کردیا۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان)

     ہم دنیا میں آئے ہیں ایک دن جانا بھی ہے۔
یہ دنیا مُکَافَاتِ عَمَل ہے، یہاں ہر شخص کو اپنے کیے کا حساب دینا ہے، ہر جھوٹ، ہر دھوکے، ہر فریب، ہر تکلیف، ہر اذیت جو وہ کسی کو دیتا ہے، اُسے اپنی ذات پہ بھگتنا ہے۔ہر غلط ارادے، سوچ، عمل کا حساب دینا ہے۔

      دنیا میں بے شمار ایسے لوگ ہیں جو اپنے ہی جیسے انسانوں کو اذیتیں و تکالیف اور ظلم و زیادتی کے درد سے گذار کر، جب پشیمانی یا اپنی غلطی پر نادم ہوتے ہیں تو اللّٰہ کے حضور معافی تلافی کرنے کو عافیت سمجھتے ہیں۔ یہ مُکَافَاتِ عَمَل کا اصول ہے کہ ان مراحل سے اذیتیں و تکالیف دینے والوں کو بھی گذرنا پڑتا ہے۔ جب تک کہ معاف کرنے والا بندہ تمہیں معاف نہ کردے۔ اس وقت تک ربّ بھی معاف نہیں کرتا ہے۔ کتاب زندگی سے سب کچھ بھول جائیں لیکن مُکَافَاتِ عَمَل کا باب کبھی مت بھولیں، جو دیا جاتا وہ واپس بھی آتا ہے۔
(جاری)

     ایک بات تو صرف سمجھنے کی ہے۔ اگر کسی کے ساتھ برا کرو اور خود پر برا وقت آجائے تب بیٹھ کر یہ سوچو کہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور جواب نہ ملے، حقیقت جانتے ہوئے بھی اس بات کا اعتراف نہ کر سکو کہ یہ مُکَافَاتِ عَمَل ہے تو شاید ابھی ضمیر سو رہا ہے۔ ہر انسان کو یہ صلاحیت حاصل ہے کہ جب وہ کچھ برا کر رہا ہوتا ہے تو اس کا ضمیر اس کو ملامت ضرور کر رہا ہوتا ہے مگر یہ الگ بات ہے کہ اس آواز کو دبا دیا جاتا ہے اور اس کی سنی نہیں جاتی۔ برے وقت کی برائی سے ڈرنا چاہیے اور اس فانی دنیا میں کچھ بھی کرنے سے پہلے ایک بار مُکَافَاتِ عَمَل کے بارے میں ضرور سوچ لینا چاہیے۔

     مُکَافَاتِ عَمَل کے متعلق لوگوں نے ایک رائے یہ قائم کرلی ہے کہ تمہارے برے اعمال کے عوض یہ مسائل و مشکلات تم پر یا تمہارے افراد خاندان پر منڈلا رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو یہ بات بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ دنیا ایک امتحان گاہ بھی، زندگی میں مختلف مقامات پر کئی قسموں کے امتحانات و آزمائش کا سامنا بھی کرنا ہوتا ہے۔ زندگی عمل کے لیے ہے، اخلاص اچھے عمل کا سبب ہے اور ہمارا امتحان اس عمل میں ہے۔ اگر زندگی نہ ہوتی تو عمل کا موقع نہ ملتا اور اگر آخرت نہ ہوتی تو محاسبہ نہ ہوتا۔ لہٰذا امتحان کے بعد اس کا نتیجہ یا تو اس آزمائش میں کامیاب ہونا ہے یا ناکامی کا منہ دیکھنا ہے۔ دنیا کی زندگی "دَارُالْعَمَل" یعنی اعمال کی انجام دہی کا مقام ہے، اس کے برعکس آخرت کی زندگی "دَارُالبَدَل" ہے۔ دنیا "دَارُالفَناء" اور خاتمے کا گھر ہے اور آخرت "دَارُ الْبَقاء" ہے۔ دنیا دھوکے کا گھر ہے اور آخرت "دَارُالسُرور" یعنی خوشی کا گھر ہے۔

      اکثر لوگ گناہوں کا ملبہ کسی ایسے بے گناہ پر ڈال دیتے جس کا اس عمل سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ کہا یہ جاتا ہے کہ انسان زنا کی شکل میں جو گناہ کرتا ہے وہ اس کے قریبی خواتین سے وصول کیا جاتا ہے۔  یہ نہایت ہی عبث اور بے کار سوچ و فکر کی عکاسی ہے۔ مُکَافَاتِ عَمَل کے سلسلے میں یہ قول بھی بے انتہائی مشہور ہورہا ہے کہ 'زنا ایک قرض ہے' جسے بہن، بیوی یا بیٹی چکاتی ہے۔ یہ قول قرآن کی کسی آیت یا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ اس لئے اس جملے کو حدیث کہہ کر یا شرعی دلیل سمجھ کر بیان کرنا جائز نہیں۔ دراصل یہ امام شافعیؒ کا شعر ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ:
إن الزنا دین فإن أقرضتہ
کان الوفاء بأہل بیتک فأعلم
(زنا ایک قرض ہے، اگر تو یہ قرض لے گا تو اس کی ادائیگی تیرے گھر والوں سے ہوگی)

      یاد رکھیں کہ شرعی اعتبار سے ہر شخص اپنے نیک و بد اعمال کا خود ذمہ دار ہے اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ یعنی کسی کے زنا کا بدلہ کسی دوسرے (ماں، بہن یا بیٹی) سے نہیں لیا جائے گا۔ اس گناہ کا بوجھ اسی پر ہوگا جس نے کیا ہے۔ خطبۂ حجتہ الوداع جو خاتم النبیینﷺ نے حج کے موقع پر دیا وہاں آپ نے فرمایا "باپ کا بدلہ بیٹے سے نہیں لیا جائے گا" یعنی جس کا قصور ہے وہی سزا پائے گا۔
اسی بات کو اللّٰہ ربّ العزّت نے قرآن مجید میں یوں فرمائی ہے:

     أَن لّا تَزِرُ‌ وازِرَ‌ةٌ وِزرَ‌ أُخر‌یٰ۔
     (کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا) (سورة النجم: ٣٨)

     آخر دوسروں کے ناکردہ گناہوں کی سزا اللّٰہ تعالیٰ کسی اور کو کیوں دے۔ مُکَافَاتِ عَمَل ایک حقیقت ہے اور یہ ہو کے رہتی ہے، لیکن اس کا بدلہ یا کفارہ وہ کیوں ادا کرے گا جس کا اس سے کوئی تعلق ہی نہیں یہ کوئی معمولی چیز نہیں جس کا تذکرہ کتاب اللّٰہ اور سنت رسول اللّٰہﷺ میں موجود ہے۔

     اپنی ذات کو ندی کا آگے بڑھتا ہوا صاف و شفاف پانی بناؤ، زندگی حرکت کا نام ہے اور جمود موت کی علامت ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اپنے کارواں میں نئے لوگوں کو شامل کرتے رہو۔ زندگی میں کسی کی تذلیل کرکے آگے بڑھنے سے پرہیز کریں۔ کسی کے خلوص و محبت اور اعتماد کو حقارت کی نگاہوں سے نا دیکھیں۔ نیک اعمال کے نتیجے میں ہی ہم لوگوں کے دلوں میں محبت و عزت کی جڑوں کو مضبوط و مستحکم بنا سکیں گے۔

     آخر خار دار جھاڑیوں کے بیج بو کر پھولوں کی خوشبو کوئی کیسے وصول کرسکتا ہے۔ اس کے لیے عمدہ خوبیاں اپنی ذات میں شامل کرنی ہوگی۔ رشتوں کو اہمیت دینی ہوگی تب کہی جاکر ان رشتوں سے محبت کی خوشبو اور اپنائیت کا احساس پاسکتے ہیں۔ مُکَافَاتِ عَمَل یہی ہے کہ اگر اپکی ذات سے کسی کو دکھ پہنچے تو آپ بھی قہر خداوندی سے نہیں بچ سکتے۔ ہر انسان کو اپنے اعمال کا ایک حصّہ بطورِ قرض دنیا میں بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔

     جو حکمران برسرِ اقتدار آکر اپنے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر صرف زبانی جمع خرچ اور نہ پورے ہونے والے وعدوں تک محدود رہ جاتے ہیں اور عوام کے َسر غربت و افلاس اور طرح طرح کے مسائل کے ڈھیر چھوڑ جاتے ہیں، ان کا سورج بھی ایک دن اسی طرح تاریکی اور گمنانی کی دنیا میں ڈوب جاتا ہے۔ پھر ان کے مقدر میں صرف رسوائی ہی رسوائی لکھ دی جاتی ہے۔

     طاقت اور اقتدار کی سطح پر ہم دیکھتے ہیں کہ کیسے اہل خانہ اور بوڑھے کمزور والدین کے سامنے نوجوان بیٹوں کو گھسیٹتے ہوئے لے جاکر، انہیں جھوٹے الزامات لگا کر بے بنیاد مقدمات میں ملوث کردیا جاتا ہے۔ کچھ مظلوم و بے گناہوں پر اذیت کے ایسے پہاڑ توڑے جاتے ہیں کہ اس کی روح دنیا سے پرواز کر جاتی ہیں۔ جو آج طاقت و اقتدار کے نشے میں چور اور اندھے ہوئے پڑے ہیں، انہیں بھی جلد خوابِ غفلت سے بیدار ہوجانا چاہیے۔ کیونکہ وقت کی چکی تو گھوم رہی ہے۔

     آج کے بے رحم معاشرے میں خواتین اور چھوٹی چھوٹی بیٹیوں تک کو اغوا کرکے قتل کردیا جاتا ہے۔ کہیں آہنی بلڈوزرز کسی بے گناہ کے گھر پر قہر بن کر ٹوٹتا ہے اور پھر توڑ جوڑ نہ ہونے کی صورت میں جعلی مقابلوں میں ماؤں کے لختِ جگر کو مظلوم ہونے کی پاداش میں موت کے گھاٹ اتار دیتا، ان کی گود اور سہاگنوں کا سہاگ اجاڑ دیتا۔ نظام باطل حق کی آواز کو ظلم و استہزاء کے ذریعے دبانے کی پوری کوشش کرتا ہے۔

     اُن مظلوموں اور ان کے درد سے بلکتے بچوں، غم کے پہاڑ برداشت کرتی ماؤں، بہنوں، بیویوں، بیٹیوں کے لیے تو موجودہ جماعتوں اور ادارے کے سربراہ کبھی اپنے خول سے باہر نہیں نکلے، مگر باطل پرستوں کی حمایت و جی حضوری کے لئے اپنے خول سے باہر ضرور نظر آئے۔ آج انہیں نام نہاد قائدین کے دامن پر معصوم و بے گناہوں کے لہو کے گرم گرم چھینٹے پیوست ہیں، بلکہ ان کا پورے کا پورا لباس ہی بے گناہوں کے خون سے تر بہ تر ہے۔ اگر عزم و حوصلہ نہیں ہے تو کیوں اتنے بڑے بڑے منصوبوں پر ڈیرا ڈالے بیٹھے ہو۔ اگر یہاں بھی مُکَافَاتِ عَمَل کی چکی چل گئی تو کہیں کے نہ رہو گے۔

     ایسا یہاں کوئی پہلی بار تھوڑا ہی ہوا ہے۔ ظلم کی اس تاریک رات کی ایک طویل داستان ہے۔ اگر ہمارے علمائے کرام، دانشورانِ ملت، سیاسی قائدین نے مظلوموں کی داد رسی کی ہوتی، ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے ہوتے اور سب نے مل کر ظالموں کے بازو مروڑنے کے لئے کوئی ٹھوس لائحہ عمل اختیار کیا ہوتا، تو آج شاید انہیں یوں ذلیل و رسوا نہ ہونا پڑ رہا ہوتا۔ پھر "چوکیدار" اور اس کے حوارین بھی اپنے سائز اور اوقات میں رہتے۔ لہذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دنیا اس وقت بدترین مُکَافَاتِ عَمَل کے انتظار میں ہیں۔

     یہ مُکَافَاتِ عَمَل کی دنیا ہے، جو کچھ بویا جائے گا اسے ہی کاٹنا ہوگا۔ اسی طرح جو آج طاقت و اقتدار کے نشے میں چور اور اندھے ہوئے پڑے ہیں، انہیں بھی جلد خوابِ غفلت سے بیدار ہو جانا چاہیے، ہوش کے ناخن لینے چاہئیں، ورنہ کل کو ان کے ساتھ کیا ہوگا اسے تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ ان کے ساتھ وہی کچھ ہوگا، بلکہ شاید اس سے بڑھ کر بھی ہو۔ تب ان کے پاس سوائے رسوائی اور پچھتاوے کے علاؤہ کچھ نہیں ہوگا۔ اسی پس منظر میں مرحوم راحت اندوری نے کیا خوب شعر کہا تھا  ؎
جو آج صاحبِ مسند ہیں، کل نہیں ہوں گے

کرائے دار ہیں، ذاتی مکان تھوڑی ہے

     میانمار کی فوج نے برسر اقتدار جماعت نیشنل لیگ آف ڈیموکریسی (این ایل ڈی) کی رہنما آنگ سان سوچی اور دیگر رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد ملک کا کنٹرول سنبھالنے کی تصدیق کر دی ہے۔ آنگ سان سوچی کی حکومت نے مسلم کش فسادات کی نئی لہر کے ذریعے مسلمانوں کے متعدد مکانات اور دکانوں کو نذرِ آتش کر دیا ہے۔ مسلمانوں کو دہشت گرد بتا کر ظلم و جبر کے انسانیت سوز پہاڑ توڑے۔ مسلمانوں کا اجتماعی قتل عام کیا گیا۔ عورتوں کی عصمتوں کو لوٹا گیا۔ لیکن یہاں بھی مُکَافَاتِ عَمَل کا جن بوتل سے باہر آہی گیا۔ اور اس جن نے آنگ سان سوچی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔

      پڑوسی ملک پاکستان کے معاشی حالات بھی بد سے بدتر ہوتے چلے جا رہے ہیں، کاروبار غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ یہ معاشی حالات سماجی انحطاط کی علامتیں ہیں۔ اس وقت پاکستان کی صورتحال سیاسی و معاشی عدم استحکام کا شکار ہے۔ یہاں بھی باطل قوتوں کے ہمنواؤں کو حکمرانی کے مناصب پر فائز کیا جاتا رہا ہے۔ جس کا خمیازہ پوری عوام بھگتی آئی ہے۔ اس ملک میں بھی مُکَافَاتِ عَمَل کا پہیہ گھوم رہا ہے۔ حالیہ صورتحال سے ہم سب بخوبی آگاہ ہیں۔

      افراط زر کا شکار پڑوسی ملک سری لنکا کا ہم جائزہ لیں، وہاں کے اہل اقتدار طبقے نے کیسے عوام کو سیاسی، معاشی اور اقتصادی بحرانی کیفیت و تنزلی کے عمیق گہرے سمندر میں غرق کردیا ہے۔ آج وہی اندھ بھکت، بے بس و مظلوم عوام کیسے اہل اقتدار لوگوں سے اپنے ظلم کا بدلہ لے رہی ہیں۔ سری لنکا کی بپھری ہوئی عوام نے حکمران خاندان اور طبقات کے خلاف تمام ادب آداب کو پس پشت ڈال کر صدارتی محل کو نشانِ عبرت بنادیا ہے۔ اقتدار سنبھالنے والے طبقوں نے مذہبی قائدین کے اشارے پر مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کرنا شروع کر دیا تھا، وہاں بھی حکومتی شئے پر کبھی حجاب، تو کبھی مساجد کو ہدف بنا کر مسلمانوں کے خلاف نفرت کی فضاء کو گرمایا گیا، لیکن حکومت خاموش تماشائی بنی رہی، ان شرپسندوں پر لگام لگانے کے لیے وہاں کی حکومت نے کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

     آج جب کہ وہاں بدترین معاشی بحران جاری ہے کیا اس سے ہمارے حکمراں کوئی سبق لینے کے لیے تیار ہے؟ اسی نوعیت کی صورتحال ہمارے یہاں پنپ رہیں ہیں، عنقریب ہمارے یہاں کا منظرنامہ بھی کہیں ویسا نہ ہو۔ جس کے آثار بہت نمایاں نظر آرہے ہیں۔ مُکَافَاتِ عَمَل کی چکی میں ظالم و جابر ضرور پس کر رہتے ہیں، وہ چکی کسی کا انتظار نہیں کرتی!!! وقت آنے پر سارے بدلے اتار دیتی ہے۔

    حضرت شیخ سعدی شیرازیؒ کا فرمان ہے تم چاہے جتنی مرضی ترقی کر لو مگر یہ یاد رکھنا کہ تمہاری منزل کا راستہ دوسروں کے دلوں کو توڑتا اور روندتا ہوا نہ گزرےـ

     یہ کوئی ضروری تو نہیں کہ جس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے وہ بدلے میں نیک سلوک کرے۔ اپنے اعمال کا بدلا بندے سے نہیں اپنے ربّ سے مانگو جو بہترین صلہ دینے والا ہے نیکی کرکے آگے بڑھ جاؤ، اسے دل کے کسی گوشے بھی یاد نہ رکھو۔ یاد رکھنے سے دل میں غرور و آنا اور فخر و تکبر گھر کر جائے گا۔ جس کے نتیجے میں نیک اعمال اکارت ہونے کے خدشات بڑھ جائیں گے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جو لوگ چلتے پھرتے نیکیوں کا بیج بوتے ہیں ان کی مشکلیں ایسے حل کر دی جاتی ہیں کہ وہ خود حیران ہو جاتے ہیں کہ ہم اس مشکل سے کیسے آسانی سے نکل گئے۔
    
     عصرِ حاضر میں انسان اپنی انا، ہٹ دھرم فطرت، تکبر و غرور اور اقتدار کے نشے میں یہ بھول جاتا ہے کہ جو ظلم، زیادتی اور ناانصافی وہ اپنے ساتھ یا دوسرے انسانوں کے ساتھ کر رہا ہے اس کا جواب بھی آخرت میں دینا پڑے گا۔ لیکن آخرت سے پہلے بھی بعض اعمال حساب دنیا میں ہی دینا ہے۔ اعمال نیک ہوں یا بد انسان کو ہر عمل سے پہلے یہ بات ضرور سوچنی چاہیے کہ ہمارا ہر عمل آخرت کے لئے بویا جا رہا ہے جس کی کچھ کاشت زمین پر بھی کاٹنی ہوگی۔ اللّٰہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو عمل صالح کرنے والا بنائے۔ زندگی کے ہر مقام پر جائزہ لینا والا بنائے۔ مُکَافَاتِ عَمَل کی اس دنیا میں ہماری رہنمائی فرما۔ آمین

     علامہ اقبالؒ کے شعر پر اپنے اظہارِ خیال کا اختتام کرنا چاہوں گا  ؎

    تقدیر ہے اک نام مُکَافَاتِ عَمَل کا
    دیتے ہیں یہ پیغام خدایانِ ہمالہ

                     (15.07.2022)
           🍁 مسعود محبوب خان 🍁
        Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
                      ○○○○○○○○○


Comments

Popular posts from this blog

عُلَمَاءِ حق، عُلَمَاءِ اَلسَّوْءِ اور اہل اقتدار (دوم)

Main Bhi Hazir Tha Wahan

New World Order aur Alam e Islam