ویلنٹائن ڈے
•”ویلنٹائن ڈے“•
عیدُ الحُبّ، یومِ محبت یا یومِ عریانیت
┄┅════❁﷽❁════┅┄
══════•❁ا۩۩ا❁•══════
•”ویلنٹائن ڈے“•
عیدُ الحُبّ، یومِ محبت یا یومِ عریانیت
══════•○ ا۩۩ا ○•══════
🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
لے گئے تثلیث کے فرزند میراث خلیل
خشتِ بنیاد کلیسا بن گئی خاک حجاز
حکمت مغرب سے ملت کی یہ کیفیت ہوئی
ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کر دیتا ہے گاز
دین اسلام اس لحاظ سے دوسرے مذاہب سے منفرد حیثیت رکھتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اصل دین کی حفاظت کے دو طریقے اس اُمّت کو عنایت فرمائے ہیں۔ اولاً اللّٰہ نے خود قرآن پاک کی حفاظت کا ذمہ لیا (جس کے ضمن میں سنت رسول اللّٰہﷺ بھی ہے) اور دوّم ہر دور میں مومنین کے درمیان ایک ایسی جماعت کے قائم رہنے کی بشارت بھی دی جو ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور بدعات اور لغویات و عریانیت کی جڑیں کاٹ کر مسلم معاشرے کی اصلاح کا ذمہ اٹھانے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پرواہ بھی نہ کرے گی۔
آج باطل قوتیں جہاں عسکری لحاظ سے مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی سازشوں اور کوششوں میں مصروف ہیں وہیں روشن خیالی اور ترقی کے نام پر مسلمانوں کو ایمانی و اخلاقی طور پر تباہ کرنے پر بھی تلی ہوئی ہیں۔ کافروں کی چال ہی یہی ہے کہ مسلمانوں کو اپنی رنگ برنگی اور نت نئی حقیقت سے بعید تر خرافات میں الجھا کر اور انہیں بلندی افکار سے محروم کرکے بے مقصدیت اور بے راہ روی میں مبتلا کرکے ان کا رشتہ دین اسلام سے کاٹ ڈالا جائے۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں ربّ العزت کا ارشاد ہے۔
”اور چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر ہو جاؤ جیسے وہ کافر ہوئے تو پھر تم سب برابر ہو جاؤ۔“ (النساء: 89)
انگریزوں کی متعارف کردہ دیگر رسومات کی مانند ”یوم ویلنٹائن“ یا ”Valantine,s Day“ (جو کہ اسلامی نقطہ نگاہ سے ہر اعتبار سے یومِ اوباشی ہے) کے نام سے ایک اور وباء نے جنم لیا ہے۔ جس نے دنیا بھر کے لوگوں سمیت مسلم امّتہ اور بالخصوص مسلم نوجوانوں کو بھی پوری طرح لپیٹ میں لے لیا ہے۔
ویلنٹائن ڈے درحقیقت کیا ہے؟ انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا کے مطابق ہمیں تاریخ کا درج ذیل موقف معلوم ہوتا ہے۔
Valantine was a Roman Priest and patnoh & Lovers, who was martyred during the sack of Rome and Presecution of Christions by Cloudius II, and was buried in Rome.
A bishop & Terini (Italy) martyred in Rome and his remains were taken back to Tehihi.
یومِ ویلنٹائن، عیدُ الحُبّ (محبت کرنے والوں کی عید) یا ”Love Day“ کے آغاز کے بارے میں مختلف روایات مشہور ہیں۔ بعض کے نزدیک اس دن سینٹ ویلنٹائن نے روزہ رکھا تھا۔ لہٰذا لوگوں نے اس دن یعنی 14/ فروری کو اسی کے نام سے موسوم کردیا۔ کچھ لوگ اس دن کو ”کیوپڈ اور وینس“ (رومی تہذیب کے مطابق حسن کی دیوی اور محبت کا دیوتا) کے نام سے منسوب کرتے ہیں۔ ایک دوسری روایت کے مطابق ویلنٹائن ڈے رومن بادشاہ کلاڈیس (Claudius) کے دور میں سولی چڑھنے والے ایس ٹی ویلنٹائن کے حوالے سے منایا جاتا ہے۔ کلاڈیس نے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو اپنی فوج میں شمولیت پر آمادہ کرنے کے لئے یہ حل نکالا کہ ایک خاص عرصے کے لئے شادیوں پر پابندی عائد کردی تاکہ نوجوان اپنے گھر بار سے بے فکر ہوکر پوری یکسوئی سے اپنے عسکری جوہر دکھا سکیں۔ اس موقع پر St. Valantine نے خفیہ طور پر نوجوانوں کی شادیاں کروانے کا اہتمام کیا۔ کلاڈیس کو جب ویلنٹائن کی اس حرکت کا علم ہوا تو اس نے ویلنٹائن کو گرفتار کروا کے 14/فروری 269ء اور بعض کے نزدیک 270ء کو سولی چڑھا دیا۔
تیسری صدی عیسوی میں روم میں ویلنٹائن نام کا ایک پادری بھی تھا۔ 14/فروری کو اس St.Valantine سے بھی منسوب کیا جاتا ہے۔یہ ایک راہبہ کی محبت میں گرفتار ہوگیا تھا۔ جس کی پاداش میں اسے قتل کر دیا گیا۔ بعد میں عقیدت مندوں نے ویلنٹائن کو ”شہید محبت“ کے درجے پر فائز کرتے ہوئے اس کی یاد میں یہ دن منانا شروع کر دیا۔
سینٹ ویلنٹائن نام کا ایک شخص برطانیہ میں بھی تھا۔ یہ ”بشپ آف ٹیرنی“ تھا۔ اسے عیسائی مذہب اختیار کرنے کے جرم میں 14/فروری 269ء کو پھانسی دی گئی۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ دوران قید بشپ کو جیلر کی بیٹی سے محبت ہوگئی تھی اور وہ اسے محبت نامے لکھا کرتا تھا۔ لہٰذا رفتہ رفتہ اس دن کو بھی محبت کی یادگار کا درجہ حاصل ہوگیا۔
ڈبلیو لیرتھہ (W.Leeruth) نے اپنی کتاب ”اے ہسٹری آف ویلنٹائن ڈے“ (A history of Valantine Day)میں اسی طرح کے واقعات کا ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتا ہے”14/ فروری کو محبت کی یاد داشتیں ارسال کرنا اخیر وسطی زمانوں میں ظہور پذیر ہوا۔ گزرتے وقت کے ساتھ ویلنٹائن ڈے کارڈز کی اقسام اور اس کے خریداروں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ زیادہ تر کارڈز روایتی گہرے سرخ دل”محبت بھری گرہیں“(محبت کرنے والوں کے عہد و پیمان) پھولوں‘ جانوروں کے چہرے والے کارٹونز اور دیگر کرداروں کی تصویروں پر مشتمل ہوتے ہیں۔“
یوم ویلنٹائن یا Love Day منانے کی قباحت:
”یوم ویلنٹائن ڈے“ ہر سال چودہ فروری کو دنیا کے بیشتر حصوں میں محبت کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس کے آغاز کے بارے میں جو مختلف روایات مشہور ہیں۔ انہیں اگر جذباتیت یا نام نہاد روشن خیالی سے ہٹ کر حقیقت کی نظر سے پرکھا جائے تو یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ ان میں سے کسی ایک کا بھی اسلام یا مسلمانوں سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔
14/فروری مختلف عقائد کی بناء پر اہل روم کے معتبر و محترم ایام میں سے ہے۔ اسی طرح14/فروری269ء کو سینٹ ویلنٹائن نامی ایک برطانوی شخص (بشپ آف ٹیرنی) کو پھانسی دی گئی۔ لہٰذا رفتہ رفتہ برطانیہ میں بھی اس دن کو محبت کی یادگار کے طور پر منایا جانے لگا۔ برطانیہ سے رواج پانے والے اس دن کو بعد میں امریکہ اور جرمنی اور پھر دیگر مغربی ممالک سمیت مسلم ریاستوں میں بھی فروغ حاصل ہوا۔ اس دن دنیا بھر میں فحاشیت و عریانیت اور نام نہاد روشن خیالی کو فروغ دینے والے لوگ (خصوصاً نوجوان اور ان میں بھی کالجز اور یونیورسٹیز کے طالب علم) اپنے منتخب افراد کو محبت بھرے خطوط‘ پیغامات‘ دل کی شکل اور مختلف تصویروں والے کارڈز‘ سرخ گلاب اور چاکلیٹس بھیجتے ہیں۔
اگر امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں منائے جانے والے یوم ویلنٹائن کا جائزہ لیا جائے تو کسی بھی لحاظ سے اسے محض ”یوم محبت“ سمجھنا درست نہ ہوگا۔ ان ممالک میں اس دن محبت اور دوستی کے نام پر سب کچھ جائز ہو جاتا ہے۔ اس دن Pragnancy and abortion ratio اپنے عروج پر پہنچ جاتا ہے۔ لہٰذا غیروں کی پیروی میں ویلنٹائن ڈے منانے والوں کی عقل پر ماتم ہی کہاجا سکتا ہے۔ گذشتہ چند سالوں سے اس رسم کو جس مستعدی سے متعارف کرایا گیا اور الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے سرکاری سطح پر جس شان سے اس کی سرپرستی کی جارہی ہے یہ پہلو تشویش سے خالی نہیں ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے کافروں اور مشرکوں کی نقالی اور وہ بھی ایسے معاملے میں کہ جس کا مقصد ہر طرح سے بے حیائی و فحاشی کو فروغ دینا ہو کسی صورت بھی جائز نہیں۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے۔
”جوکسی قوم سے مشابہت کرے وہ انہی میں سے ہوگا۔“ (صحیح بخاری)
نیز ویلنٹائن ڈے اور اسی جیسے دوسرے ایام کے اثرات صرف فردِ واحد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے مسلم معاشرے کے بگاڑ کا سبب بنتے ہیں۔ لہٰذا ویسٹرن کلچر یا مغربی ثقافتی استعماریت سے مغلوب افراد کے لئے سورۃ النور کی درج ذیل آیت بطورِ تنبیہ کافی ہونی چاہئے۔
”بے شک جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بدکاری کا چرچا ہو۔ ان کے لئے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے۔“ (النور: 19)
اسی سورۃ میں ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ایسے نام نہاد ترقی پسند اور ملحدانہ سوچ رکھنے والوں کے انجام کے بارے میں یوں ارشاد فرماتا ہے:
”جو لوگ ان (رسول اللّٰہﷺ)کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہئے کہ (ایسا نہ ہو) ان پر کوئی آفت پڑ جائے یا ان پر تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو جائے۔“ (النور۔63)
اللّٰہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو کفر کی فکری و تہذیبی یلغار سے بچنے اور قرآن و سنّت کی روشنی میں اس کا بہترین سدّباب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
اپنی ملت کو قیاس اقوامِ مغرب پر نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیﷺ
🍁 مسعود محبوب خان 🍁
Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
○○○○○○○○○
Comments
Post a Comment