Fikr e Islami ki bunyadi tasanif ka tashil ya tehreef shuda version
•فکرِ اسلامی کی بنیادی تصانیف کا تسہیل یا تحریف شدہ ورژن•
┄┅════❁﷽❁════┅┄
══════•❁ا۩۩ا❁•══════
•فکرِ اسلامی کی بنیادی تصانیف
کا تسہیل یا تحریف شدہ ورژن•
══════•○ ا۩۩ا ○•══════
🍁✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)🍁
09422724040
•┈┈•┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈•┈┈•
عہد جاہلیت کے علماء کی عادت یہ تھی کہ وہ اپنی دینی کتابوں میں تحریف کرتے تھے جیسا کہ اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
حالانکہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللّٰہ کا کلام سنا اور پھر خُوب سمجھ بُوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی۔ (سورۃ البقرۃ: 75)
جب اللّٰہ کے کلام کا یہ معاملہ رہا ہے تو پھر اسلاف کی کتابوں کا کیا معاملہ ہوگا۔ آج اسی روش پر تحریک اسلامی کا ایک گروہ چل پڑا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ تورات و انجیل پر ہمارا یعنی مسلمانوں کا بطریق قرآن یہ عقیدہ اور یقین ہے کہ یہ دونوں کتابیں تحریف شدہ ہو چکی ہیں، اس کی اصل ساخت تبدیل یا بگڑ چکی ہیں، کیونکہ ان میں اس قدر تحریف ہوئی کہ یہ اپنی اصل صورت میں باقی نہیں رہیں۔ تو کیا فکر اسلامی کی اصل کتابوں کی تَسْہِیل و تَحْرِیفات ان نایاب و قیمتی کتابوں کے اصل وقار کو مجروح نہیں کریں گی؟
''اور بعض ان میں سے ان پڑھ ہیں کہ اپنے خیالات باطل کے سوا اللّٰہ کی کتاب سے واقف ہی نہیں اور وہ صرف ظن سے کام لیتے ہیں تو ان لوگوں پر افسوس جو اپنے ہاتھ سے تو کتاب لکھتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ اللّٰہ کے پاس سے آئی ہے تاکہ اس کے عوض تھوڑی سی قیمت حاصل کر لیں۔ ان پر افسوس ہے اس لیے کہ (بے اصل باتیں) اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں، ان پر افسوس ہے کہ ایسے کام کرتے ہیں ''۔ (البقرۃ: 78)
بے شک تحریف سے مراد باطل شبہات اور فاسد تاویلات کے ذریعے لفظ کو ان کے حقیقی معنوں سے بدل کر مختلف لفظی حیلوں کے ذریعے باطل معنی کی طرف لے جانا ہے جیسا کہ مندرجہ بالا آیات میں اہل جاہلیت کے علماء کا واضح طور پر شیوا بیان کیا گیا ہے۔
''یہ کلمات کو ان کی جگہوں کے مقرر ہونے کے بعد بگاڑ ڈالتے ہیں ''۔ (المائدہ) اور ''یہ اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھ لیتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ یہ اللّٰہ کی جانب سے ہے''۔ (البقرہ: 79)
''تحریف'' کے معنیٰ کسی چیز میں تبدیلی لانے اور اس کے اطراف اور گوشہ سے کچھ کم یا ضائع کرنے کو کہتے ہیں۔ 'تحریف' لغت کے اعتبار سے ہر چیز کی تبدیلی اور جا بجا ہونے کو کہا جاتا ہے۔ اکثر علمائے اسلام نے تحریف بمعنی لفظی تغییر، کو بھی تحریف کا ایک حصّہ گردانا ہے۔تحریف کی اقسام،تحریف کی دو قسمیں ہیں، (۱) تحریفِ لفظی (۲) تحریفِ معنوی
(۱) تحریفِ لفظی: الفاظ کو بگاڑ ڈالنا، کلمات کو بدل ڈالنا یعنی کسی بھی کتاب کے الفاظ کو بدل کر اپنے من مانی الفاظ بیان کرنا ''تحریفِ لفظی'' کہلاتا
ہے۔ تحریفِ لفظی کے تین طریقے ہیں: (۱) تبدیلی (۲) زیادہ (۳) نقصان۔ تحریفِ لفظی تینوں طریقوں سے تحریف شدہ کتابوں میں آپ کو نظر آئیں گے۔
(۲) تحریفِ معنوی: کسی بھی آسمانی کتاب کے الفاظ کو اس کے متعین معانی سے ہٹاکر بے جوڑ معانی پر زبردستی محمول کرنا ''تحریفِ معنوی'' کہلاتا ہے۔ حضرت یعقوب ؑ نے اپنی وفات کے وقت اپنے خاندان کو جمع فرما کر جو وصیت فرمائی کہ ایک خدا کی عبادت کرنا اور اس کے ساتھ شرک نہ ٹھہرانا تو اس وصیت کا مطلب تحریفِ معنوی کے ذریعے یہ نکالتے ہیں کہ آپؐ نے یہودیت پر جمے رہنے کی وصیت فرمائی۔مولانا رحمت اللّٰہ الکیرانوی المکیؒ ''اظہار الحق'' میں اس کی صراحت ان الفاظ کے ساتھ فرماتے ہیں کہ تحریفِ معنوی کہتے ہیں (اصل) الفاظ کی غلط تفسیر و تعبیر اور تاویل کرنا جیسا کہ آج کل کے کچھ گمراہ فرقے قرآن کریم میں تحریفِ معنوی کرتے ہیں۔
فکری انحراف اور تحریفِ کتاب کا یہ فنڈا تو بہت قدیم رہا ہے مگر اب یہ فنڈا اپنی برق رفتاری سے کام کررہا ہے۔ موجودہ دور میں اپنی فکر و نظر اور سیاسی مقاصد تک پہنچنے کا ایک آسان و خوش نما طریقہ فکر اسلامی اور تحریکی کتابوں میں تسہیل کے نام پر تحریف اور ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہے۔ چونکہ موجودہ نام نہاد اکابرین کا ٹولہ شاید خشک تعصب اور علمی و فکری جمود کا شکار ہیں۔ وہ اپنی فکری ذرّیت کے معاملات کی تسہیل کے لئے وحیدیت، غامدیت و سبحانیت جیسے افکار و نظریات کے در پر دستک دیتے رہے ہیں۔ اس لیے وہ اصل اسلامی فکری و نظریاتی واقعیت کو قبول نہیں کرسکتے لہذا وہ اس میں چھیڑ چھاڑ کرکے ان میں رد و بدل کرنے کے در پہ ہیں۔
ویسے بھی جہاں اسلامی تعلیمات و احکامات کی تسہیل کے ضمن میں اذان کو عام فہم مقامی تراجم میں دینے کی بات ہوتی ہو وہاں خیر کی کیا توقع کی جائے؟ تقلید نے امت مسلمہ میں جو جمود طاری کیا ہے اس کے بہت سارے نقصانات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ آج یہی حال تحریکِ اسلامی ہند کا ہوگیا ہے کچھ نام نہاد، self proclaimed اور socalled حضرات کی تقلید نے فرد سے آگے بڑھ کر بڑی بڑی اجتماعیتوں کو ضربیں لگانا شروع کر دیا ہے۔
کیا واقعی نئی نسل تحریکی لٹریچر پڑھنے سے بے رغبتی کی روش اختیار کر رہی ہے؟ یا اس کے نام پر پس پردہ اپنے اہداف کو حاصل کرنے کی کوشش ہورہی ہے؟ کیا یہ افسوس کا مقام نہیں ہے کہ تحریکِ اسلامی کے افراد اردو زبان سے نابلد ہوتے جارہے ہیں (جیسا کہ بتایا جارہا ہے)۔ اس کی وجوہات کیا ہیں اسے معلوم کرنا چاہیے۔ دراصل تحریکِ اسلامی کے افراد کی نئی نسل اردو تعلیمی اداروں کی بجائے دیگر زبانوں میں تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ کتابوں کی تسہیل و تحریف کرانے کی بجائے، اردو کے معیار اور اردو سے واقفیت کے درجات کو بلند کیا جانا چاہیے۔ جس کے نتیجے میں دور رس نتائج مرتب ہونگے۔ کل اگر احادیثِ رسولﷺ کی زبان میں بھی فصاحت و بلاغت نظر آنے لگ جائے تو کیا انہیں عام فہم زبان میں پیش کرنے کے لئے تسہیل و تحریفات سے کام لیا جائے گا؟
اللّٰہ ربّ العالمین کی کتاب قرآن مجید کے عام فہم تراجم کے نتیجے میں قرآن پاک کے معیار سے کھیلا گیا اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ کیا یہ مقام عبرت نہیں ہے؟اگر کوئی قرآن کو پڑھنے، سمجھنے اور سمجھانے کے لئے قرآن کے بلند معیار کو اپنے معیار پر لاتا ہے تو ایسے کم عقل و کم علم لوگوں کی فکر پر افسوس کے علاؤہ کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ مگر چونکہ یہ معاملہ فرد کا نہیں بلکہ اجتماعیت کا سے جڑا ہے اور ایسی اجتماعیت جس نے زندگی کا حقیقی نصب العین زندہ کیا ہے۔ کچھ نااہلوں کے ہاتھوں اسے لٹتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔ اسی لئے بڑے کرب کے ساتھ یہ تحریر لکھا ہوں۔
کئی سال پہلے ایک موقع سے مطالعہ قرآن میں محمد اشرف جعفری صاحب سے میں نے سوال کیا تھا، کہ قرآن کو عام فہم بنانے کے لئے کچھ نئے تراجم آسان اردو میں شائع ہورہے ہیں، لیکن میں یہ محسوس کررہا ہوں کہ اس سے قرآن کی اہمیت و افادیت اور اس کے معیار پر کہاں نہ کہاں ضرب لگ رہی ہے۔ تو محترم سے جواب دیا تھا کہ ”لوگوں معیار پر قرآن کے ترجمے مناسب نہیں ہیں، قرآن کا معیار نیچے کرنے کے بجائے قارئین کو چاہئے کہ وہ اپنا معیار بلند کریں“۔
تحریکِ اسلامی ہند کے لئے تحریر کردہ قدیم تصانیف و تالیفات کیا واقعی نئے نئے آسان ایڈیشن کی مکلف ہیں؟ کیا موجودہ تحریکِ اسلامی کے مطالعہ کا معیار اور اس کی سطح اتنی کمزور ہوگئی ہے کہ ایسے افراد کے لئے نئے ایڈیشن شائع کئے جائے؟ کیا لوگوں کو اپنا معیار بلند نہیں کرنا چاہئے؟
خدارا نئے نئے تجربے کرکے تحریکِ اسلامی کے علمی و فکری نظریہ پر ضرب نہ لگائیں۔ کتاب کے نئے ایڈیشن کے ذریعے تجربات و مشاہدات و تحقیقات کی روشنی میں لکھی گئی تصنیفات اور ان کے مصنفین کا مزاق نہ اڑائیں۔ آج آپ لوگ کچھ بھی ہیں، انہیں کے مرہونِ منّت ہیں۔ ان کے بلند معیار کو مجروح نہ کریں؟
آپ نئی نئی تصانیف و تالیفات کو قلم بند کریں، مگر خدارا قدیم تصانیف و تالیفات میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کریں؟ یہ آپ لوگوں کے حق میں مفید ثابت ہوگا؟ یہ تحریریں امت مسلمہ کا عظیم الشان سرمایہ ہے، اس پر امت مسلمہ کا ویسا ہی حق ہے جو تمام لوگوں کا ہے۔ اپنے فکری و نظریاتی اختلافات کو نئے ایڈیشن کے نام پر متعارف نہ کرائیں؟ آخر اتنی بڑی جسارت کیوں کی جارہی ہے؟
اسلاف کی کتابوں میں حاشیہ پر حاشیہ ترتیب دینا یہ شیوا تو کبھی بھی تحریکِ اسلامی کا نہیں رہا ہے، اچانک اتنی بڑی جسارتیں کس بات کا پیش خیمہ ہیں؟ کچھ عرصہ بعد ”عہدنامہ عتیق“ old testament و ”عہدنامہ جدید“ new testament کے نام سے کتابیں بھی مشہور ہوجائیں گی۔ اور مطالعہ کرنے والا بھی اس کتاب کی روح اور مقصد سے بے بحیرا ہوکر مطالعہ کرے گا۔
کیا حقیقتاً ہمارے لئے اتنا برا وقت آگیا ہے کہ اپنی فکر و عمل کے معیار کو مجروح کیا جائے؟ اس سے بہتر ہے کہ تحریکِ اسلامی کے فکری و علمی مواد کو مختلف زبانوں میں تراجم کروا کر شائع کیا جائے!!
آج المیہ یہ ہوگیا کتابوں کی تسہیل اور جدید ایڈیشن کے نام پر مطالب میں بھی تحریفات کر دی گئی ہیں۔ بعض کتابیں تو ایسی ہیں کہ جب اس کتاب کو دوبارہ چھپوایا گیا تو اس کی پوری فصل میں ہی تحریف کردی گئی۔ تحریر نقل کرنے والے 'راویوں ' (narrators) نے نہایت بے باکی کے ساتھ عہد جدید کی کتابوں کے فقروں کو دوسری کتاب میں داخل کر دیا۔ ساتھ ہی ساتھ حواشی کی عبارتوں کو متن میں بھی شامل کر دیا۔ کچھ کتابوں کے پورے مقدمے اور حاشیے کو حذف کر دیا ہے۔ بہت سے فریب کاروں نے اپنی فکری تحریروں کو اسلاف کی طرف منسوب کرکے اسے کتاب کا حصّہ بنا دیا۔ چند سالوں سے یہ بھی دیکھنے میں آرہا ہے کہ بڑے بڑے مصنفین کی کتابوں کی اشاعت میں معیار کا حوالہ دے کر ان کی اشاعت روک دی جاتی ہے، اور غیر ضروری کتابیں فوراً شائع کرکے اس کا انبار لگا دیا جاتا ہے۔
''فریضۂ اقامت دین'' یہ کتاب مولانا صدر الدین اصلاحیؒ نے 65 سال قبل بدلتے ہوئے زمانے کے اسلوب کو سامنے رکھتے ہوئے نظر ثانی کے بعد شائع کی۔ پھر اس کتاب کا دوبارہ آسان ایڈیشن سمجھ سے باہر ہے؟ مولانا کی تحریریں پورے concentration کے ساتھ پڑھنی ہوتی ہے، جب جاکر عقل و فہم میں پیوست ہوتی ہے۔ اگر مطالعے کی عیاشی اور آوارہ گردی کے لئے اس پڑھا جائے تو اس طرح کی کتابوں کو سمجھنا واقعی مشکل ہے۔ مطالعے کی آوارہ گردی کے لئے بہت سے اسلامک ناولوں کا انبار موجود ہے۔ اپنے مطالعے کے معیار مطلوب کو بڑھائیں تبھی یہ کتابیں کارگر ثابت ہوں گی۔
آخر کیوں ذمّہ داران نے اس ضمن میں وضاحت کو بھی ضروری سمجھا کہ اس کتاب کی حیثیت اصل کتاب کے آسان ایڈیشن کی ہے۔ علمی و اکیڈمی ضرورت کی تکمیل کے لیے نیز کتاب کے حوالے دینے کے لیے بہرحال اصل کتاب ہی ماخذ بنے گی۔ حالانکہ وضاحت وہاں پیش کی جاتی ہیں جہاں سوالات کھڑے ہوتے ہیں کتاب کی تمہید میں وضاحت اس بات کی علامت ہے کہ کتاب کی اشاعت کے پہلے ہی سوال کھڑے ہوچکے تھے۔
''فریضۂ اقامت دین'' اولڈ ایڈیشن سے نیو ایڈیشن کی طرف بھی اس فکری اشاعت و ترویج کا باعث بنی ہے۔ ماضی میں سید قطب شہیدؒ کی ''معلم فی الطریق'' کا بہترین ترجمہ ''جادہ و منزل'' ہونے کے بعد بھی نئے ترجمے کو پروجیکٹ کرنے کی کوشش کی گئی۔ مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی ''الجہاد فی الاسلام'' جیسی شہرہ آفاق کتاب اور اس جیسی بہترین کتابیں ہونے کے بعد بھی روح جہاد کو پیش کیا گیا اگر لکھنے کو بیٹھا جائے تو ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم اس سے اور آگے بڑھتے اور نئی نسل میں ان افکار و نظریات کو پروان چڑھانے کے لیے کچھ نیا لائحہ عمل اختیار کرتے۔ ہم نے تو کتابوں کو ہی سہل و آسان بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ چاہے ان میں تحریفات ہی کیوں نہ کرنا پڑے؟
ایک عرصے بعد یہ برق شاید ''امت مسلمہ کا نصب العین'' و ''اقامتِ دین فرض ہے''، اسلام و اجتماعیت، تحریک و جمود وغیرہ تصنیفات و تالیفات پر بھی پڑھیں۔ اس تحریر میں، تحریفات کے چند نمونوں کی جانب اشارہ کیا گیا ہے، فیصلہ قارئین کو کرنا ہے انہیں تسہیل و انحراف کا ڈوس دے کر کس قدر حقیقت اور واقعیت سے دور کیا جاتا رہا ہے۔ امت کے افراد کو قرآن و حدیث کی بنیاد پر تسہیل و تحریف کی آراء کا تجزیہ کرنا چاہیے۔ تحریکِ اسلامی کی فکری، علمی و عملی تنزلی کے کیا اسباب ہیں؟ مطالعہ کے فقدان کی وجوہات کیا ہیں؟ اس کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہیے۔
•┅┄┈•※✤م✿خ✤※┅┄┈•
(01.11.2022)
🍁 مسعود محبوب خان 🍁
Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
○○○○○○○○○
*فکرِ اسلامی کی بنیادی تصانیف*
*کا تسہیل یا تحریف شدہ ورژن*
*ازقلم:مسعود محبوب خان (ممبئی)*
09422724040
https://bit.ly/3WnS1y1
Comments
Post a Comment